Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 18
Rate this Novel
Episode 18
انت نے مائرہ کو لا کر احتیاط کے ساتھ بیڈ پر لٹایا تھا اور حمزہ بھی اسکے ساتھ تھا
بھائی یہ چوٹ کیسے لگی آپ کو
حمزہ نے انت کے زخمی ہاتھ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا ورنہ وہاں تو جناب کو طنز سوجھ رہے تھے
کچھ نہیں ہے بس معمولی سا زخم ہے
انت نے بات ٹالتے ہوئے کہا تھا
میں یہ تو نہیں پوچھا کہ زخم معمولی ہے یا خاص شاید آپ نے سہی سے سنا نہیں میں نے یہ پوچھا ہیکہ یہ چوٹ کیسے لگی آپ کو
حمزہ نے انت کو دیکھتے ہوئے سنجیدگی سے کہا
اچھا نا سائیڈ پر آ کر بات کرو ورنہ مائرہ جاگ گئی تو بہت روئے گی
انت نے حمزہ کو بازو سے پکڑ کر مائرہ سے دور کیا تھا کیونکہ موصوف نے اپنی چھپکلی کے بیڈ کے قریب کھڑے ہوتے ہی سوال شروع کر دئے تھے
جی اب بتائیں
حمزہ بیڈ سے فاصلے پر آتے ہی بول پڑا تھا
یار گر گیا تھا میں
انت نے ایک اور کوشش کی تھی بات ٹالنے کی اب وہ اسے کیا بتاتا کہ یہ چوٹ کس کو بچاتے ہوئے لگی ہے اور چوٹ تو لگی لگی جناب کا دل بھی اب انکا نہیں رہا اف
بھائی جھوٹ نہیں گرتے تو چوٹ پاؤں پر لگتی ہاتھ پر بھی لگتی مگر یہ چوٹ کچھ اور ہی ہونے کا بتا رہی ہے
حمزہ نے ترچھی نگاہوں سے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
اچھا نا بتاتا ہوں میں
آخر انت نے اسکے سوالوں سے تنگ آ کر اسے سچ بتانے کا فیصلہ کیا تھا
جی جی ارشاد ہم او سوری مطلب کے میں دی گریٹ حمزہ ہمہ تن گوش ہوں
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
یار وہ ہوا کچھ یوں ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
انت نے اسے پارک میں ہوئی ہر بات بتائی تھی ( سوائے دل کسی اور کو دینے کے کیونکہ حمزہ اس بات کی چٹنی بنا کر اسے بہت بلیک میل کرتا 😂😂)
اووو مطلب کے لڑکی کو بچانے کا سین تھا ویسے وہ لڑکی دکھنے میں کیسی تھی پیاری تھی
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
یہ کیسی باتیں کر رہے ہو تم
انت نے جھینپتے ہوئے کہا تھا
لو بھئی لڑکی کو بچاتے وقت آپ کو شرم نہیں آئی میں نے بس پوچھا ہی ہیکہ آپ شرمانے لگ گئے ویسے ایک بات تو بتاؤ یہ شرمانے کا ورژن نیا آیا ہے کیا لڑکوں میں یا یہ صرف آپ میں خصوصی اللہ نے انسٹال کیا ہے
حمزہ نے انت کو لڑکیوں کی طرح جھینپنے پر شرارت سے کہا تھا وہ تھا اس سے چھوٹا مگر اسکی باتیں اف انت بھی چکرا جاتا تھا
فالتو کا مت بولو حمزہ
انت نے سختی اپناتے ہوئے کہا تھا
لو اب فالتو ہو گیا کوئی نہیں کوئی نہیں خیر ہے
حمزہ نے ڈرامہ کرتے ہوئے کہا تھا
تم مجھے کبھی کبھی وہ عورت لگتے ہو جو محلے میں لڑائی دیکھتے ہوئے اسے رکواتی نہیں ہے بلکہ کہتی ہے ایسا ہی تھا ہاں ہاں
انت نے اسے دیکھتے ہوئے دانت پیس کر کہا تھا
دز از نوٹ فئیر بھائی اب آپ مجھے ان چالاک ، گھنی اور میسنی عورتوں سے مت ملائیں پلیز
حمزہ تو صدمے میں چلا گیا تھا اپنے لئے ایسا لقب سن کر
اب برا لگ گیا واہ جب مجھے لڑکیوں سے ملا رہے تھے اسکا کیا
انت نے بھی حساب برابر کیا تھا
وہ میں نہیں کہہ رہا تھا بھائی وہ تو بس یہ کمبخت زبان پھسل گئی ہڈی نہیں ہے نہ اس میں لئے کہیں بھی پھسل جاتی بولے تو سلیپ آف ٹنگ ہوگئی میری
حمزہ نے شرارت سے کہا تھا
تم نہیں سدھرو گے اب جاؤ آرام کرو میں دودھ گرم کر کے لاتا ہوں تمہارے لئے
انت نے اسکے سر پر چپیت لگاتے ہوئے کہا تھا
آپ کہاں چلے یہاں بیٹھیں اپنی چھپکلی کے پاس پہلے تو میں آپ کی مرہم پٹی کر دوں ہاتھ کی پھر ہلدی والا دودھ بنا لاتا ہوں پی لینا آپ کتنا کرتے ہیں ہمارے لئے مجھے بھی موقع دیں نا
حمزہ نے انت کو بیڈ پر بٹھاتے ہوئے کہا اور فرسٹ ایڈ باکس لیکر آیا تھا اور مرہم پٹی کرنے کے بعد وہ کچن میں انت کے لئے دودھ لینے گیا تھا اور انت اسے دیکھ مسکراتا رہ گیا تھا
وہ کتنا بھی باتونہ اگلے کی بولتی بند کر دینے والا ہو مگر اس میں بھی احساسِ زمہ داری تھا وہ اپنے اپنوں کی عزت کرنا انکا خیال رکھنا اچھے سے جانتا تھا آخر اسکی پرورش صابر ، میچور اور اپنی زمہ داریوں کو سمجھنے والے انت نے کی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
منٹ گھنٹوں میں اور گھنٹے دنوں میں بدلتے جا رہے تھے انت روز مائرہ اور حمزہ کو پارک لے جاتا تھا جہاں حیا پہلے سے اسکے انتظار میں پارک کے کچھ سائیڈ پر ہوتی تھی جہاں چند لوگ بیٹھے ہوتے تھے
دونوں میں دوستی ہوئی اور دوستی بڑھتی جا رہی تھی حمزہ اور مائرہ اپنے کھیل میں مگن رہتے تھے جبکہ انت حیا کے ساتھ باتوں میں اور کیسے یہ دو مہینے گزرے پتہ بھی نہ چلا تھا
حیا نے کبھی انت کے ساتھ حمزہ اور مائرہ کو نہیں دیکھا تھا وجہ یہ کہ جب وہ انت کو دیکھتی تھی اسے آس پاس کی خبر ہی کہاں ہوتی تھی اسے بس یہ پتہ تھا کہ انت کا ایک بھائی اور بہن ہے نام تک پوچھنا اس نے گوارہ نہ کیا تھا اور نہ ہی کبھی انت کو موقع ملا کہ وہ بتائے اس سے ان دونوں کو ملوائے بس دن گزرتے جا رہے تھے اور وہ دونوں قریب ہوتے جا رہے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہیلو مائے ڈئیر
بلال شاہ نے کال پک کرتے ہی گرم جوشی سے کہا تھا آخر بزنس کی ڈیل کا جو معاملہ تھا وہ بھی اربوں کی ڈیل جو اسے راتوں رات امیر سے امیر تر بنا سکتی تھی
ہیلو کیا خیال ہے پھر ڈیل کا ڈن کرنی ہے یا میں کوئی اور دیکھوں
مقابل نے سنجیدگی سے پوچھا تھا
ارے مسٹر جینیفر لارنس آپ اتنا سنجیدہ کیوں ہو گئے بس صبح کی فلائیٹ سے پاکستان آ جائیں آپ پھر ڈیل ڈن کرتے ہیں یا پھر ایسا کرتے ہیں میں پارٹی ارینج کرتا ہوں اپنے گھر انجوائے بھی ہو جائے گا اور کام بھی
بلال شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا اب وہ اتنا سنہری موقع گنوانے سے تو رہتا آخر پیسہ بھی کوئی اہمیت رکھتا بلال شاہ کے لئے
او کے میں صبح کی فلائیٹ سے پاکستان آتا ہوں
جینیفر لارنس نے انگریزی میں کہا تھا کیونکہ وہ امریکہ کے رہائشی تھے اور ایک کامیاب بزنس مین بھی جو بلال شاہ کے ساتھ ڈیل کرنے والا تھا اس لئے تمام گفتگو انگریزی میں جاری تھیں
بہت شکریہ
بلال شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور کال کاٹ دی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت
انت کہاں ہوں
بلال شاہ نے انت کو پکارہ تھا کیونکہ انہیں ابھی خبر ملی تھی کہ جینیفر لارنس پاکستان آ چکا ہے
جی کہیے
انت نے سیڑھیاں اترتے ہوئے کہا تھا
جلدی نہیں آ سکتے کیا
بلال شاہ غصے سے بولے تھے
کیا کام ہے
انت نے بلانے کی وجہ پوچھیں تھی
آج شام پارٹی ہے تم تیاریاں کرو فوراً گھر کو سجاؤ کوئی کمی رہنی نہیں چاہیے
بلال شاہ نے حکمیہ لہجے میں کہا تھا
مگر ابھی بارہ بج چکے ہیں شام تک سارے انتظامات کیسے کروں گا میں
انت نے شام کا نام سنتے ہی کہا تھا آج تو حیا سے ملنے جانا تھا اس نے
مجھے کچھ نہیں پتہ بس جو کرنا ہے کرو مگر شام تک ساری ارینجمینٹس ہو جانی چاہیے
بلال شاہ نے دو ٹوک انداز میں کہا تھا
جی بہتر
انت اتنا ہی کہہ پایا تھا اب وہ کچھ بھی بولتا تو کوئی فائدہ نہ ہوتا کیونکہ بلال شاہ حکم سنا چکا تھا
انت نے حکم ملتے ہی تیاریاں شروع کر دی تھیں اور حمزہ بھی اسکا پورا پورا ساتھ دے رہا تھا بلآخر شام تک ساری تیاریاں مکمل ہو چکی تھیں گھر چاند کا ٹکڑا لگنے لگا تھا اس قدر خوبصورتی سے تیاریاں کی گئی تھیں
تم ماہی کے پاس جاؤ میں آتا ہوں
انت نے حمزہ کو کہا تو وہ مائرہ کے پاس چلا گیا تھا جبکہ انت نے اب حیا سے ملنے کی راہ لی تھی
تم آ گئے کب سے ویٹ کر رہی تھی میں تمہارا
انت کے آتے ہی حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
سوری ایکچلی گھر میں اچانک پارٹی کا پروگرام بنا تو تیاریوں میں مصروف ہو گیا تھا
انت نے اسے وجہ بتائی تھی
او اچھا بیٹھو
حیا نے مسکراتے ہوئے اس سے کہا تھا اور وہ بیٹھ گیا تھا کچھ دیر باتیں کرنے کے بعد انت کھڑا ہو گیا تھا
کل شام کو لازمی آنا تم سے ضروری بات کرنی ہے
اسکے کھڑے ہوتے ہی حیا نے اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے کہا تھا
اچھا اب بتا دو
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
نہیں کل بتاؤں گی تم آ جانا بس ورنہ میں کبھی بات نہیں کروں گی تم سے
حیا نے اسکا ہاتھ چھوڑتے ہوئے کہا تھا
جو حکم ویسے ہاتھ چھوڑنے کے لئے پکڑا تھا
انت نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
تم نے ہلکی سی مزاحمت کی تو چھوڑ دیا
حیا نے اسکے ہاتھ کو ہلتا دیکھ اسکا ہاتھ چھوٹا تھا تبھی وہ بولی تھی
فکر نہیں کرو انت شاہ تمہارا ہاتھ کبھی نہیں چھوڑے گا
انت نے اسے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
اچھا میں چلتا ہوں خیال رکھنا اپنا
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
گھر میں لوگوں کا آنا شروع ہو گیا تھا ویٹر ہر فرد کے پاس جوس وغیرہ لئے جا رہے تھے ماحول میں ہنسنے باتیں کرنے کی آوازیں گونج رہی تھی
انت نے حمزہ کو تائید کی تھی کہ مائرہ کو روم سے نہ نکلنے دیا جائے کیونکہ ایک تو وہ موٹی سی تھی بلکل ٹیڈی بئیر کی طرح ، جھیل سے گہری موٹی آنکھیں ، گلابی رنگت اور چنچل شوخ سی تھی
اسے اچھے سے یاد تھا کہ کس طرح دو سال پہلے مائرہ کو اغواہ کرنے کی کوشش کی تھی وجہ اسکی خوبصورتی اور لڑکی ہونہ تھا بس کچھ لوگوں کی نیت خراب ہو گئی تھی اس لیے وہ مائرہ کو پارٹی وغیرہ میں اکیلے نہیں لاتا تھا کیونکہ کمبخت نظر جو لگ جاتی تھی اس چھپکلی کو پھر دو دو ہفتے بخار میں تپتی رہتی تھی جس کی وجہ سے انت کی جان سولی پر لٹکی رہتی تھی اسی لیے علاج سے بہتر احتیاط والا فارمولہ اپنایا تھا اس نے
پارٹی اپنے عروج پر تھی سب خوش گپیوں میں مصروف تھے مسٹر جینیفر لارنس بھی آ چکے تھے سب قہقہ لگا کر باتیں کر رہے تھے
مجھے بھی جانا ہے پارٹی میں مگر اس چھپکلی کی وجہ سے میں بھی رہ گیا
حمزہ نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
دا دوا ( کیا ہوا )
مائرہ نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
دودھ نہیں ( کچھ نہیں )
حمزہ نے اسی کی زبان پر اسے تپ کر جواب دیا تھا ایک تو پارٹی میں نہیں جا سکتا وہ اوپر سے محترمہ پوچھ رہی تھی کیا ہوا
ہاہاہا
اسکی بات سن کر مائرہ کھلکھلا کر ہنسی تھی اور وہ ایک بار پھر اسکی مسکراہٹ میں جکڑ گیا تھا
اسے مائرہ بچپن سے پیاری اور اچھی لگتی تھی مگر پھر بھی وہ اس سے لڑتا تھا کیونکہ جو اسکا دل چاہتا تھا وہ ہونا نا ممکن تھا وہ کیسے مائرہ کو پسند کر سکتا تھا انت کے احسانوں کا بدلہ وہ ایسے تو نہیں اتار سکتا تھا کیونکہ ایسے تو صرف حمزہ کی غرض ہی دیکھی جا سکتی تھی اس لیے وہ اپنے ہونٹوں پر تالے لگائے ہوئے تھا اپنے احساسات کو اپنے دل میں دفن کر چکا تھا
اچھا تم رکو میں زرا واشروم سے آیا
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور واشروم چلا گیا تھا جبکہ وہ حمزہ کے واشروم جاتے ہی دروازہ کھولے کمرے سے نکل گئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ہاں تو مسٹر جینیفر لارنس ڈیل کے بارے میں کیا خیال ہے آپ کا
بلال شاہ اپنے مدعے پر آیا تھا
ڈیل پکی کرتے ہیں پہلے واشروم ہو آؤں
جینیفر لارنس نے کہا تو بلال شاہ نے اسے واشروم کا راستہ بتایا تھا اور وہ واشروم چلا گیا تھا
وہ واشروم سے نکلا تو اسے مائرہ سیڑھیاں اترتے ہوئے دکھائی دی تھی
ہاؤ کیوٹ
اس کے منہ سے بے ساختہ نکلا تھا اور وہ اسکی جانب بڑھا تھا
ہیلو پرنسس
جینیفر لارنس نے مائرہ کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
دیلو ( ہیلو )
مائرہ نے ہاتھ کو ہائے کے انداز میں 👋 ہلاتے ہوئے کہا تھا
تمہارا نام کیا ہے ؟
جینیفر لارنس نے پوچھا تھا
مادرہ ( مائرہ )
مائرہ نے آگے پیچھے نظریں دوڑاتے ہوئے کہا تھا
مسٹر جینیفر آپ یہاں کیا کر رہے ہیں
بلال شاہ جو اسے دیکھتے ہوئے آیا تھا اسے مائرہ کے ساتھ بات کرتے دیکھ بولا تھا
کچھ نہیں
جینیفر لارنس نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور نیچے اتر گیا تھا
مائرہ چلو ہم ۔۔۔۔۔۔
حمزہ واشروم سے نکلتے ہی بول رہا تھا جب کمرہ خالی دیکھ وہ حیران ہوا تھا پھر دروازہ کھلا دیکھ وہ سب سمجھ گیا تھا اور کمرے سے باہر نکلا تھا
مائرہ
حمزہ نے سیڑھیاں اترتے ہوئے اسے پکارہ تھا اور نیچے اترتا گیا تھا
یہاں وہاں ڈھونڈنے کے بعد مائرہ اسے سیڑھیوں کے پاس نیچے بیٹھی کیک کھاتی دکھائی دی
اف یہ لڑکی کبھی نہیں سدھرے گی
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور اسے لیکر کمرے کی جانب بڑھا تھا
تو مسٹر جینیفر لارنس ڈیل ڈن کریں
بلال شاہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
جی بلکل مگر میری ایک شرط ہے
جینیفر لارنس نے کچھ سوچتے ہوئے کہا تھا
کیسی شرط
بلال شاہ نے حیرت سے پوچھا تھا
میں یہ ڈیل تبھی فکس کروں گا جب ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
جینیفر لارنس کی بات سنتے ہی بلال شاہ کا منہ حیرت کی زیادتی سے کھل گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
