Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 02
Rate this Novel
Episode 02
اچھا اب منہ کیوں بنایا ہوا ہے ایک کام کرتے ہیں کلب چلتے ہیں موڈ اچھا ہو جائے گا اور تھوڑا انجوائے منٹ بھی ہو جائے گی
جمیلا نے حیا کے جھکائے چہرے کو دیکھ آئیڈیا دیا تھا
نہیں یار تمہیں جانا ہے تو جاؤ مجھے نہیں جانا تمہیں پتا ہے میں کلب وغیرہ نہیں جاتی
حیا نے جمیلا کو دیکھتے ہوئے انکار کر دیا تھا
دز از نوٹ فئیر حیا مجھے کوئی ایکسکیوز نہیں چاہیے تم چل رہی ہو مطلب چل رہی ہو بس
جمیلا نے حیا کو دیکھتے ہوئے ضدی انداز میں کہا تھا
یار یو نو نا کہ کلب کا ماحول کیسا ہوتا ہے
حیا نے بے چارگی سے اسے سمجھانا چاہا تھا
واٹ ایور آئی ڈونٹ کئیر جیسا بھی ہوتا ہے کم از کم تھوڑا بندہ ریلیکس ہو جاتا ہے وہاں اور ویسے بھی یہاں منہ لٹکائے رہنے سے کچھ نہیں ہونے والا
جمیلا نے حیا کو دیکھتے ہوئے کندھے آچکا کر کہا تھا
یار میرا کارڈ وغیرہ گھر میں ہے میں جلدی جلدی میں پرس لانا بھول گئی
حیا نے بہانا بناتے ہوئے کہا تھا کیونکہ اسکا موڈ نہیں تھا کلب جانے کا
اور وہ جاتی بھی نہیں تھی کیونکہ اسے یہ سب چیزیں اچھی نہیں لگتی تھی وہ امیر خاندان کی ہونے کے باوجود امیروں جیسا لائف سٹائل نہیں فولو کرتی تھی کلب جانا ، رات کو لیٹ گھر آنا ، لڑکوں سے دوستیاں کرنا اور ایسی ہی دوسری ایکٹیوٹیز حیا کو ناگوار لگتی تھی۔
کوئی بات نہیں تم گھر جاؤ ریڈی ہو میں بیس منٹ میں تمہیں پک کرتی ہوں اور اگر اب تم نے کوئی بہانا تراشا تو دیکھنا پھر
جمیلا نے حیا کو دیکھتے ہوئے تھوڑا سختی سے کہا تھا اور حیا اسے بے چارگی سے دیکھتی گھر جانے کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت اس وقت اپنے گھر میں موجود ہال میں ٹانگ پر ٹانگ رکھے سگریٹ کے کش لگا رہا تھا
اور فارخ کو تھوڑا فاصلے پر گھٹنوں کے بل بٹھایا ہوا تھا اسکے ہاتھ ہنوز پہلے کی طرح کمر سے بندھے ہوئے تھے اور چہرے پر کپڑا باندھا ہوا تھا
ابھی انت سگریٹ کے کش لگا ہی رہا تھا کہ اسکا موبائل رنگ ہوا تھا
انت نے موبائل دیکھا تو اسکے کسی آدمی کی کال تھی
ہیلو ہاں بولو کیا ہوا
انت نے کال ریسیو کرتے ہی پوچھا تھا
سر آج رات آٹھ بجے رائیل بلو کلب میں اصلحہ سپلائے ہونے والا ہے جو آج رات ہی امریکہ کی طرف بھیج دیا جائے جس سے بہت نقصان ہوگا ہمیں
مقابل نے رازدرانہ انداز میں بتایا تھا
ٹھیک ہے میں آتا ہوں
انت نے گھڑی میں ٹائم دیکھا تھا جہاں اس وقت سات بج رہے تھے اور اپنی بات کہتے ہی کال کاٹ دی تھی
گاڑی نکالو
انت نے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے گارڈ کو کہا تھا جو گاڑی نکالنے کے لیے باہر گیا تھا
اسکا خاص خیال رکھنا میں آتا ہوں ابھی
انت نے اپنے دوسرے باڈی گارڈز کو حکم دیا تھا اور کورٹ کا بٹن لگاتے باہر کی جانب چل دیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کہاں جا رہی ہو حیا
حیا کو تیار ہو کر نکلتا دیکھ عارف بلگرامی نے پوچھا تھا
کہیں نہیں ڈیڈ وہ دوست کے ساتھ باہر جا رہی ہوں ایک گھنٹے میں آ جاؤں گی
حیا نے عارف بلگرامی کو دیکھتے ہوئے کہا جو صوفے پر بیٹھے ہوئے تھے
اچھا یہاں آؤ میری بات سنو
عارف بلگرامی نے حیا کو اپنے پاس بلاتے ہوئے کہا
جی ڈیڈ کہیے
حیا نے عارف بلگرامی کے ساتھ بیٹھتے ہوئے پوچھا
مجھے تمہارے سائن چاہیے تھے بیٹا
عارف بلگرامی نے پیپرز حیا کی طرف کرتے ہوئے کہا
وہ کیوں ڈیڈ
حیا نے حیرت سے پوچھا تھا
بیٹا بزنس میں لاس ہوگیا ہے اور قرض داروں کا قرض ادا کرنا ہے تو تمہارے نام جو میں نے دبئی کا بنگلا کیا تھا اسے بیچنا پڑے گا تبھی قرض داروں کا قرض اتار پاؤں گا میں
عارف بلگرامی نے حیا کو دیکھتے ہوئے مصنوعی افسردگی سے کہا تھا
ٹننننننن۔۔۔۔۔
ابھی عارف بلگرامی بول ہی رہے تھے جب باہر سے کار کے ہارن کی آواز آئی تھی ایسے لگ رہا تھا جیسے کوئی ہارن پر ہاتھ رکھ کر اٹھانا بھول گیا ہو
لگتا ہے جمیلا آگئی ڈیڈ آپ بتائیں کہاں سائن کرنا ہے
حیا نے جلدی سے پن پکڑتے ہوئے عارف بلگرامی سے کہا تھا
یہاں بیٹا
عارف بلگرامی نے فوراً پیپرز کھول کر سائن کی جگہ انگلی رکھتے ہوئے کہا تھا اور جہاں وہ کہتے حیا سائن کرتی گئی تھی
ہو گیا شکریہ بیٹا سائن ہوتے ہی عارف بلگرامی نے حیا کو دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا تھا
کوئی بات نہیں ڈیڈ جو میرا ہے وہ آپ کا ہی تو ہے
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا اور باہر چلی گئی تھی جبکہ پیچھے عارف بلگرامی نے قہقہہ لگایا تھا
بے وقوف لڑکی کسی بھی پیپرز پر سائن کرنے سے سے پہلے اسے پڑھنے ضرور چاہیے اندھا اعتماد کبھی کبھی بہت گہری کھائی میں گرا دیتا ہے
عارف بلگرامی نے کہتے ہی قہقہ لگایا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حیا جمیلا کے ساتھ رائیل بلو کلب میں آئی تھی یہ کلب جمیلا کا من پسند کلب تھا
چلو وہاں چل کر بیٹھتے ہیں
جمیلا نے حیا کو ریسیپشن پر موجود کرسیوں کی طرف اشارہ کرتے ہوئے کہا
چلو
حیا نے جمیلا کو کہا اور دونوں کرسی پر بیٹھ گئی تھی
حیا کی نظروں کا رخ آس پاس لڑکھڑاتے ہوئے میوزک کی دھن پر ناچتے لڑکے اور لڑکیوں پر تھا
یہ لو یہ پیو
جمیلا نے وائن کا گلاس اسکے سامنے کرتے ہوئے کہا
تمہیں پتا ہے میں یہ نہیں پیتی
حیا نے جمیلا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
اچھا پی لو کچھ نہیں ہوگا ایک گلاس سے
جمیلا نے وائن کا گلاس لبوں سے لگاتے ہوئے دوسرا گلاس حیا کی طرف کرتے ہوئے کہا
نہیں یار
حیا نے صاف انکار کر دیا تھا
اچھا ٹھیک ہے اورنج جوس پیئو گی
جمیلا نے حیا سے پوچھا تھا
ہممم
حیا نے جمیلا کو دیکھتے ہوئے سر کو ہاں میں جنبش دیتے ہوئے کہا
سنو ایک گلاس اورنج جوس دینا
جمیلا نے ریسیپشن پر کھڑی لڑکے کو کہا تھا اور اس نے ہاں میں گردن ہلائی تھی اور اورنج جوس بنانے لگا تھا
مزا آ رہا ہے
جمیلا نے حیا کو اردگرد دیکھتے دیکھ پوچھا
ہممم
حیا نے ہممم کہنے پر اکتفا کیا تھا
میم
ریسیپشن پر موجود لڑکے نے جمیلا کو اورنج جوس کا گلاس دیا تھا اور جمیلا نے حیا کو ارد گرد دیکھتے دیکھ اسکے جوس میں شرارت کے طور پر ٹھوڑی وائن ملا دی تھی
حیا جوس پیئو
جمیلا نے مسکراتے ہوئے حیا کو گلاس پکڑایا تھا
ٹھینکس
حیا نے مسکراتے ہوئے کہا اور گلاس تھام کر اسے اپنے لبوں سے لگایا تھا
کچھ عجیب سا ذائقہ ہے
حیا نے جوس کا سیپ لیتے ہی جمیلا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
تمہیں لگ رہا ہے پی لو کوئی ذائقہ عجیب نہیں ہے
جمیلا نے حیا سے کہا تو حیا نے کندھے اچکاتے ہوئے پورا گلاس پی لیا تھا
اب میں بھی دیکھتی ہوں کیا ہوتا ہے تمہیں وائن پی کے
جمیلا نے حیا کو دیکھتے ہوئے شرارت سے کہا تھا۔
ہائے گرل کیا تم میرے ساتھ ڈانس کرو گی
جمیلا کے قریب ایک لڑکے نے آ کر اس سے پوچھا تھا
یا شور
جمیلا نے مسکراتے ہوئے کہا اور اٹھ کر اس لڑکے کے ساتھ ڈانس فلور پر چلی گئی تھی اور حیا ڈانس فلور پر یک ٹوک باندھے سب کو ڈانس کرتا دیکھ رہی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سر ابھی کچھ دیر میں ڈیلینگ شروع ہوگی وہ وہاں پر
انت کے آدمی نے انت کو بتایا تھا
ہمم اوکے تم جاؤ
انت نے اس آدمی کو جانے کا اشارہ کرتے ہوئے کہا تو وہ چلا گیا تھا
چلو تب تک بیٹھ کر جوس پی لیتا ہوں
انت نے خود کلامی کی اور ریسیپشن کی طرف چل دیا تھا
جیسے ہی انت ریسیپشن پر پہنچا تھا وہاں اپنی دشمن جاں کو دیکھ حیرت میں وہیں کھڑا ہو گیا تھا
یہ یہاں کیا کر رہی ہے
انت نے حیرت سے سوچا تھا اور خود اسکے قریب اس چئیر پر بیٹھا تھا جہاں تھوڑی دیر پہلے جمیلا بیٹھی تھی
ہائے
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے پیار سے کہا
یس
حیا نے انت کو دیکھ کر ناگواری سے کہا
تم یہاں کیا کر رہی ہو
انت نے اپنے دل کا سوال پوچھا تھا
کیوں یہ کلب تمہارا ہے جو میں یہاں نہیں آ سکتی
حیا نے کھڑے ہوتے ہوئے کہا تھا اور کھڑے ہوتے ہی لڑکھڑا کر گرنے لگی تھی کہ بروقت انت نے اسے سنبھالا تھا ورنہ وہ اب تک زمین بوس ہو جاتی
ایسے کیا دیکھ رہے کچا کھانا ہے کیا
حیا نے اسے خود کو یک ٹک دیکھتے دیکھ پوچھا
ارادہ تو ہے
انت نے اسے کھڑا کرتے ہوئے ذو معنی انداز میں کہا
ابھی وہ باتیں ہی کر رہے تھے کہ فلور پر گانا پلے ہوا تھا اور کچھ لڑکوں نے ڈانس فلور پر قبضہ جمایا تھا جن میں کچھ لڑکیاں بھی تھی اور سونگ پلے ہوا تھا
اور میوزک کے بجتے ہی سب لڑکے اور لڑکیوں نے فلور پر ڈانس کرنا شروع کیا تھا۔
انت سمجھ گیا تھا کہ اب ڈیلینگ کا وقت ہو گیا ہے کیونکہ ناچ گانے میں سب مصروف ہونگے تو انکی ڈیل آسانی سے ہو جائے گی اور کسی کو کچھ پتا بھی نہیں چلے گا۔
🌼🌼🌼🌼🌼
کڑی نشے سے چڑ گئی اوئے کڑی نشے سے چڑ گئی
پتنگ سے لڑ گئی اوئے کڑی پتنگ سے لڑ گئی
نشے سے چڑ گئی اوئے کڑی نشے سے چڑ گئی
پتنگ سے لڑ گئی اوئے کڑی پتنگ سے لڑ گئی
ایسے کھینچے دل کے پینچے گلے ہی پڑ گئی اوئے ہائے
نشے سے چڑ گئی اوئے کڑی نشے سے چڑ گئی
پتنگ سے لڑ گئی اوئے کڑی پتنگ سے لڑ گئی
🌼🌼🌼🌼🌼
فلور پر سب ڈانس دیکھ کر جھوم رہے تھے اور انت محبت پاش نظروں سے حیا کو دیکھ رہا تھا
ایسے کیا دیکھ رہے ہو
حیا نے انت کو خود کو دیکھتے دیکھ پوچھا
نہیں دیکھ سکتا کیا
انت نے ابرو آچکا کر پوچھا
پتا ہے کیا میں ہوں ہی اتنی پیاری کے لوگ خاص کر لڑکے جب مجھے دیکھتے ہیں نا تو یہی کہتے ہیں
حیا کہتے کہتے رکی تھی
کیا کہتے ہیں
انت نے حیرت اور غصے کے ملے جلے تاثرات لئیے پوچھا تھا
یہی نشے سے چڑ گئی اوئے کڑی نشے سے چڑ گئی
حیا نے اپنی بات کہتے ہی خود قہقہ لگایا تھا
انت کا دھیان اس وقت کلب میں آئی دو پارٹیز پر تھا جو بیٹھی کچھ باتیں کر رہی تھی یا شاید ڈیل فکس کر رہی تھی اور ایک نظر اس نے حیا پر ڈالی تھی جو بے ہوش ہونے کے قریب تھی کیونکہ جمیلا نے مذاق مذاق میں کچھ زیادہ وائن جوس میں ملا دی تھی جسکی وجہ سے اب حیا پر گنودگی طاری ہو رہی تھی
انت نے حیا کو بانہوں میں اٹھایا اور اسے لیکر اپنی کار کے پاس آیا جو پورچ میں پارک تھی اسے کار میں بٹھا کر کار لاک کر کے اب وہ دوبارہ کلب میں آیا تھا تاکہ ڈیل کے ممبرز کا کچھ کر سکے اور اصلحہ باہر نا بھیجا جا سکے۔
