Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 23
Rate this Novel
Episode 23
کون ہے وہ لڑکی ؟
مائرہ نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
یار سچ میں کوئی نہیں ہے بھائی ویسے ہی بول رہے تھے
حمزہ نے خطرے کی گھنٹی اپنے قریب بجتے دیکھ فوراً کہا تھا
تمہارا مطلب ہے بھائی جھوٹ بول رہے تھے تم میرے بھائی کو جھوٹا بول رہے ہو
مائرہ نے لڑاکا عورتوں کی طرح کمر پر ہاتھ رکھے پوچھا تھا
نہیں یار میں کیوں بھائی کو جھوٹا بولوں گا مطلب کہ بھائی سچ بول رہے تھے لیکن میں نے ۔۔۔۔۔
بس پتہ تھا مجھے آوارہ، لوفر ، اور دوغلے بندے ہو تم لڑکیوں پر نظر رکھنے والے
مائرہ نے منہ پھلائے کہا تھا جبکہ حمزہ کو اسکا یہ روپ بہت پسند آیا تھا
ٹھیک ہے ہوں میں لوفر ، آوارہ اور دوغلہ بندہ لیکن ہوں تو تمہارا نا
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے ذو معنی انداز میں کہا تھا کہ مائرہ جھینپی تھی
مجھے سونا ہے
اس نے فوراً کہا اور وہاں سے نکلنے کی تھی اور حمزہ اسے جاتا ہوا دیکھ رہا تھا اسے آج ایک بات تو پتہ چل گئی تھی مائرہ بھی اس سے ویسی محبت کرنے لگی تھی جیسی وہ اس سے بچپن سے کرتا آ رہا تھا بنا اظہار کے رعب والی محبت وہ ایک دم سوچتے ہوئے مسکرایا تھا اور پھر سونے کے لئے اپنے روم کی راہ لی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
حیا انت کے جانے کے بعد یہی سوچ رہی تھی کہ وہ کیسے انت کو بتائے کہ وہ شرمندہ ہے بولنے میں تو انا آڑے آ رہی تھی اسی اثناء میں اسے وہ لوکٹ یاد آیا جو انت نے اسے دیا تھا اور ساتھ ہی اسے وہ بات بھی یاد آئی جو اس نے کی کہی تھی
اس نے فوراً وہ لوکٹ تلاشہ تھا اور تھوڑی ہی محنت کے بعد اسے وہ لوکٹ الماری میں کپڑوں کے نیچے پڑا دکھائی دیا اس نے شیشے کے سامنے کھڑے ہو کر وہ لوکٹ پہنا تھا اور بیڈ پر بیٹھی انت کا انتظار کرنے لگی تھی اور کچھ ہی دیر میں انت کمرے میں داخل ہوا تھا
سوئی نہیں تم
انت نے اسے بیڈ پر بیٹھا دیکھ پوچھا تھا
بس سونے لگی ہوں
حیا نے کنفیوز ہوتے کہا تھا
حیرت ہے ویسے سب دکھتا ہے اس انت کے بچے کو اور آج جب لوکٹ پہنا ہے تو وہ دکھا نہیں اسے
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے خود کلامی کی تھی جبکہ وہ الماری سے کپڑے نکالتا ہوا مسکرایا تھا
تم سو جاؤ میں کپڑے چینج کر کے آیا
انت نے واشروم کی طرف بڑھتے ہوئے کہا تھا اور حیا پاؤں پٹکتی اپنی جگہ آئی تھی اور انت مسکراتا ہوا واشروم چلا گیا تھا
وہ چینج کر کے آیا تو حیا سیدھی لیٹی ہوئی تھی اور لوکٹ صاف دکھ رہا تھا لیکن وہ بنا کچھ بولے شیشے کے سامنے کھڑا بال بنانے لگا تھا جبکہ چور نظروں سے حیا کو بھی دیکھ لیتا اور حیا مسلسل اسے دیکھ رہی تھی
سو کیوں نہیں رہی تم حیا
انت نے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا تھا
سونے لگی ہوں تم لائیٹس آف کر دو
حیا نے کروٹ لئیے کہا تھا اور آنکھیں بند کر لی تھی
انت اسکی بات سن کر مسکرایا تھا اور اسکی جانب قدم بڑھائے تھا اسکے مقابل آتے ہی وہ جھکا تھا اور حیا کی پیشانی پر محبت کی مہر ثبت کی تھی اسکا لمس پاتے ہی حیا نے آنکھیں کھولیں تھیں
انت نے اسے کندھوں سے تھامتے بٹھایا تھا
میں جانتا ہوں تم شرمندہ ہو اور تمہیں اپنی اس میں غلطی تمہاری نہیں تھی کیونکہ اگر تمہاری جگہ میں ہوتا تو میں بھی شاید ایسا کرتا لیکن مجھے خوشی ہیکہ تم نے مجھے سمجھا بہت محبت کرتا ہوں تم سے حیا میری محبت میں کوئی کھوٹ نہیں تھی میری محبت آج بھی ویسی خالص اور سچی ہے جیسے آج سے پندرہ سال پہلے کی تھی
انت نے اسکے ماتھے سے ماتھا ٹکائے کہا تھا اور حیا نے اسکے گال پر ہاتھ رکھا تھا
آئی ایم سوری
حیا نے شرمندگی سے کہا تھا
کوئی بات نہیں حیا
انت نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
آج یہ دوریاں مٹا دیتے ہیں اپنی محبت کو ایک دوسرے میں اتار دیتے ہیں آج انت الحیاۃ کو مکمل کر دیتے ہیں محبت کی ایک نئی داستان لکھ دیتے ہیں حیا
انت نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جبکہ اسکی بات سن کر حیا نظریں جھکا گئی تھی اور انت نے اپنے لب اسکے لبوں پر رکھے تھے اور یوں آج دو پیار کرنے والے ایک ہوئے تھے چاندنی رات اور پرکشش اور خوشگوار ہو گئی تھی آج انت الحیاۃ مکمل ہو گئے تھے حیا نے انت کو اور انت نے حیا کو پا لیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
صبح کی کرنیں چھن چھن کرتی اسکی آنکھوں پر پڑی تھی اور اس نے آ نکھیں کھولی تھیں اور آنکھیں کھولتے ہی اسے حیا اپنے سینے پر سر رکھے سوئی نظر آئی
وہ بڑے غور سے محبت لئیے اسے دیکھ رہا تھا جب حیا کی آنکھ کھلی اور اسے خود کو گھورتا دیکھ وہ فوراً اٹھی تھی
تم ۔۔۔۔۔تم اٹھ جاؤ میں چینج کر کے ناشتہ بناتی ہوں
حیا نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور فوراً بیڈ سے اٹھی کھڑی ہوئی تھی انت اسے دیکھتے ہوئے مسکرا اٹھا
وہ چینج کر کے نیچے چلی گئی تھی اور انت کپڑے لئیے واشروم میں گھس گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
وہ چینج کر کے نیچے آیا تو سب بیٹھے نیچے ناشتہ کر رہے تھے
السلام علیکم!
اس نے آتے ہی سلام کیا تھا
وعلیکم السلام!
سب نے جواب دیا تھا اور وہ کرسی پر بیٹھ گیا تھا ابھی وہ ناشتہ ہی کر رہے تھے جب ملازم نے پولیس کے ساتھ آرمی کے کچھ افراد آنے کی اطلاع دی تھی
انت نے حمزہ کو حیرت سے دیکھا تھا اور پھر آنے کا بول دیا تھا
آپ لوگ ناشتہ کریں میں آتا ہوں چلو حمزہ
انت نے کرسی سے اٹھتے ہوئے کہا تھا اور حمزہ کو لئیے باہر لان میں آیا تھا
السلام علیکم! صبح صبح آپ لوگ یہاں سب خیریت
انت نے پولیس والے سے ہاتھ ملاتے ہوئے پوچھا تھا
خیریت ہی تو نہیں ہے سر تبھی تو صبح صبح آئے ہیں
کیپٹن منیب نے پریشانی سے کہا تھا
کیا ہوا ہے
انت نے حیرانگی سے پوچھا تھا
سر آپ کو اریسٹ کرنے کا وارنٹ جاری کیا گیا
منیب نے انت پر دھماکا کیا تھا جبکہ انت کے ساتھ ساتھ حمزہ بھی شوکڈ ہوا تھا ( آپ لوگ بھی ہو گئے نا 😁)
کیا کہہ رہے ہو تم ہوش میں تو ہو
حمزہ فوراً غصے سے بولا تھا
جی سر میں ہوش میں ہوں لگتا ہے آپ لوگوں نے نیوز نہیں دیکھی
منیب نے فوراً کہا تھا
نیوز میں کیا ہے
انت نے فوراً سوال کیا تھا
آپ خود دیکھ لیں سر میں کیا کہوں
منیب نے نظریں جھکائے کہا تھا اور انت گھر کے اندر داخل ہوا تھا پیچھے پیچھے حمزہ بھی آیا تھا انت نے فوراً ٹی وی آن کیا تھا اور نیوز چینل لگایا تھا لیکن جو نیوز پر دکھایا جا رہا تھا اسے دیکھ اور سن کر انت اور حمزہ دونوں ہی سکتے میں آ چکے تھے راتوں رات یہ سب کیسے ہو گیا ابھی چند گھنٹوں پہلے تو سب ٹھیک تھا پھر اچانک اتنی بڑی مصیبت
کیا ہوا صبح صبح ٹی وی کیوں ۔۔۔۔۔۔۔
ابھی اماں صاحب ٹی وی کی آواز سنتے وہاں آئی ہی تھیں کہ نیوز پر نظریں پڑتے ہی وہ چپ ہو گئیں تھی انکے پیچھے مائرہ اور حیا بھی آئیں تھیں وہ بھی چپ چاپ ٹی وی پر چلتی خبر کو دیکھ رہی تھیں۔
“جی ہاں ناظرین آپ کو بتاتے چلیں کے آرمی فورس کے معروف اور مقبول ترین کیپٹن حمزہ کے خلاف ثبوت ملیں ہیکہ وہ دوسرے ملک انڈیا کی آرمی ٹیم کے ساتھ ہیں وہ اپنے وطن کی جڑیں کھوکھلی کر رہے ہیں ایک بھاری رقم انہوں نے کیپٹن حمزہ کو دی تھیں بدلے میں پاکستان پر حملہ کرنے اور پاکستان آرمی کو حملہ نہ کروانے کی شرط رکھی تھی
کیپٹن حمزہ کے بینک اکاؤنٹ میں 1 کروڑ رقم ضبط کر لی گئی ہے جسکے ثبوت ہم آپ کو دکھا رہے ہیں آرمی چیف نے کیپٹن حمزہ کو ریزائن دینے کا اوڈر دیا ہے ساتھ ہی پولیس کو اس کام میں اسکے ساتھ ملوث اسکے بھائی انت شاہ کو بھی اریسٹ کرنے کے اوڈرز دے دئیے گئے ہیں۔ “
نیوز اینکر بار بار یہ لفظ دہرائے جا رہا تھا گھر میں سکوت چھا گیا تھا سب کی زبانیں گنگ ہو کر رہ گئیں تھیں کسی کو کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا کہ وہ کیا کرے
پلیز ہمارے ساتھ چلیں ورنہ ہمیں دوسرا طریقہ اپنانا ہوگا
پولیس انسپکٹر نے پروفیشنل انداز میں کہا تھا
اماں آپ لوگ فکر نہ کریں سب ٹھیک ہو جائے گا انشاء اللہ شفاقت انکل سب کا خیال رکھئیے گا
انت نے پہلے اماں صاحب اور پھر شفاقت صاحب کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
سب جھوٹ ہے بھائی ہے
حمزہ نے غصے سے کہا تھا
حمزہ چلو ابھی
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور پولیس کے ساتھ گھر سے باہر نکل گئے پیچھے اماں ، مائرہ اور حیا کی آنکھیں نم ہو چکی تھی
وہ ایسے نہیں ہیں شفاقت جھوٹا الزام ہے ان پر
اماں صاحب نے روتے ہوئے کہا تھا
میں جانتا ہوں اماں بھلہ کوئی محبوب اپنے محبوب کو بیچتا ہے یہ ملک آرمی کے نوجوانوں کو اسی طرح محبوب ہے جس طرح ایک ماں کو اپنے بچے محبوب ہوتے ہیں آرمی کے لوگ اپنے ملک سے کبھی غداری نہیں کر سکتے
شفاقت صاحب نے اماں کو دلاسہ دیتے ہوئے کہا تھا
آپ دیکھیے گا اماں اللہ تعالیٰ سب ٹھیک کر دیں گے ہم دعا کریں گے نا
مائرہ نے نم آنکھوں سے کہا تھا اور اماں صاحب نے ہاں میں سر ہلایا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
