Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 01
Rate this Novel
Episode 01
وہ سنسان سڑک پر اندھا دھند بھاگ رہی تھی اور پیچھے ایک آدمی کا قہقہہ بے ساختہ تھا وہ اپنی جان بچانے کے لیے اتنی تیز بھاگ رہی تھی کہ اسے اپنی ٹوٹتی ہیل کی بھی کوئی پرواہ نہیں تھی
ٹھااااااااا
اچانک اس سنسان سڑک پر گولی چلی تھی جو سیدھی اس بھاگتی ہوئی لڑکی کی کمر پر لگی تھی اور خون پریشر کے ساتھ اسکے جسم سے نکلا تھا اور وہ بے جان ہو کر سڑک پر گر گئی تھی
وہ اپنی مغرور چل چلتا ہوا اس لڑکی تک پہنچا تھا جس نے با مشکل بھاگتے ہوئے کچھ ہی فاصلہ طے کیا تھا اس انسان سے
کہا تھا میں نے وارننگ دی تھی دبے لفظوں میں کہ مجھ سے غداری کی قیمت صرف موت ہے صرف اور صرف موت پھر کیوں نہیں سمجھی تم میری بات کو کیوں گنوا دی اپنی جان مجھ نیک انسان کے ہاتھوں سے کر دیا نا مجھے گنہگار خود تو مری مری مجھے بھی گنہگار کر دیا چھھھ
اس نے گھٹنوں کے بل بیٹھ کر اسکے چہرے پر گن کا سرا پھیرتے ہوئے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ سجائے اس لڑکی کو دیکھتے ہوئے کہا تھا جو اب آنکھیں موندے انگلی دنیا کے سفر پر جا چکی تھی
ہاں تو اب زرا میرے جانبازوں اس خوبصورت لڑکی کے باس کو تو لیکر آؤ ہمیں بھی انکی خدمت کرنے کا موقعہ ملے
اس نے کھڑے ہوتے ہوئے گن کو جیب میں رکھتے ہوئے اپنے سامنے کھڑے باڈی گارڈز کو کہا تھا اور وہ سر کو ہاں میں جنبش دیتے گاڑی کی ڈگی کی طرف بڑھے تھے
باڈی گارڈز نے گاڑی کی ڈگی کھولی تھی جس میں ایک نوجوان لڑکا بن پانی کی مچھلی کی طرح مچل رہا تھا شاید خود کو آزاد کرنا چاہ رہا تھا کیونکہ اسکے دونوں ہاتھ اسکی کمر کے ساتھ باندھے گئے تھے اور منہ پر کپڑا باندھا گیا تھا
گارڈز نے اسے ہاتھوں سے پکڑ کر ڈگی سے نکالا تھا اور اسے اپنے ساتھ گھسیٹتے ہوئے اپنے باس کے پاس لائے تھے
سر
گارڈز نے اس نوجوان لڑکے کو اپنے باس کے سامنے کھڑا کرتے ہوئے ادب سے کہا تھا جو موبائل پر کچھ دیکھ رہا تھا
زرا انکی پر نور شکل کا دیدار تو کرواؤ
اس نے موبائل کو جیب میں رکھتے ہوئے اپنے گارڈز سے کہا تھا اور ایک گارڈ نے اس نوجوان کے چہرے سے کپڑا اتارا تھا
اووہوووووووو
مسٹر فارخ بلگرامی دا بزنس مین اینڈ مائے اینیمی
اس نے طنزیہ انداز میں دونوں ہاتھوں کو تالی کے انداز میں بجاتے ہوئے کہا تھا
تم اچھا نہیں کر رہے ہو چھوڑ دو مجھے ورنہ۔۔۔۔۔۔
کیا ورنہ ہاں کیا کرو گے مارو گے مجھے ہاہاہاہاہا کیسے مارو گے ایسے جیسے میں نے تمہاری اس خوبصورت لڑکی کو مارا جاسوس بنا کر بھیجا تھا اسے تم نے میرے پاس تمہیں کیا لگا مجھے کچھ پتا نہیں لگے گا میرے ناک کے نیچے سے یہ میری جاسوسی کرے گی اور مجھے انت شاہ کو پتا نہیں چلے گا ہاہاہاہا انت شاہ کوئی دودھ پیتا بچہ نہیں ہے دا گریٹ بزنس ٹائیکون اور سب سے چالاک دماغ کا مالک ہے
اسے کافی دفعہ دبے لفظوں میں وارن کیا تھا مگر وہ کہتے ہیں نا بھینس کے آگے بین بجانے کا کوئی فائدہ نہیں ہے تو بس ماری گئی اب تم بھی مرو گے لیکن سب سے پہلے مجھے وہ ویڈیو دو جو اس نے تمہیں چند گھنٹے پہلے بھیجی تھی
انت نے فارخ بلگرامی کو غصے سے دیکھتے ہوئے کہا تھا
میرے پاس کوئی ویڈیو نہیں ہے
فارخ بلگرامی نے اپنے خوف پر قابو پاتے ہوئے کہا تھا
اسکا موبائل نکالو
انت نے اپنے باڈی گارڈ کو حکم دیا تھا اور اس نے لمحہ نہیں لگایا تھا اور فارخ کی لاکھ کوششوں کے باوجود موبائل نکال کر انت کے حوالے کیا تھا
لاک کیا ہے اسکا
انت نے موبائل پر لاک لگا دیکھ غصے سے پوچھا تھا
نننن۔۔۔نہیں بتاؤں گا
فارخ بلگرامی نے ہکلاتے ہوئے ہٹ دھرمی سے کہا تھا
میں نے کہا لاک بتاؤ اسکا ورنہ مار دوں گا میں تمہیں
انت نے موبائل کو کار کے بونٹ پر رکھتے ہوئے پیچھے ہاتھ ڈال کر پینٹ سے گن نکالی تھی اور اسے فارخ کے سر پر رکھی تھی
لاک بتاؤ اسکا ورنہ
انت نے اسکی ٹانگ پر ٹانگ مار کر اسے گھٹنوں کے بل بیٹھاتے ہوئے غصے سے کہا تھا
آئی ول شوٹ یو
انت نے غصے سے دہاڑتے ہوئے کہا تھا
مجھے مت مارو
فارخ نے منت بھرے انداز میں کہا تھا
میں آخری بار کہہ رہا ہوں لاک بتاؤ
انت نے غصے سے دہاڑتے ہوئے ابھی ٹریگر پر انگلی رکھی ہی تھی کہ فارخ کا موبائل رنگ ہوا تھا اور انت نے موبائل دیکھا تھا جس کی سکرین پر باربی ڈول جگمگا رہا تھا اور اسکے نیچے لگی پک اسے دیکھ اسے کچھ یاد آیا تھا
کون ہے یہ اور تمہیں کال کیوں کر رہی ہے کیا لگتے ہو تم اس کے
انت نے موبائل کی سکرین فارخ کی طرف کرتے ہوئے ایک سانس میں کتنے سوال پوچھ لئیے تھے
بہن ہے یہ میری
فارخ نے ایک نظر موبائل فون کی سکرین پر ڈال کر جواب دیا تھا
آہاں بہن ہے یہ تمہاری پھر میرے کام کے ہو تم میں یوں ہی اپنی انرجی تم سے لاک پوچھنے میں ویسٹ کر رہا ہوں
انت نے پراسرار مسکراہٹ ہونٹوں پر سجائے فارخ کو کہا تھا جو ناسمجھی سے اسے دیکھ رہا تھا
گارڈز اسے میرے گھر لیکر چلو آگے کی بات چیت وہیں ہوگی
انت نے گارڈز کو حکم دیتے ہوئے فارخ سے کہا تھا اور انت کا حکم ملتے ہی گارڈز نے فارخ کے چہرے پر کپڑا ڈالا تھا اور اسے دوبارہ ڈگی میں دھکیل دیا تھا
اف میری پرنسس تم تو میرے دشمن کی بہن نکلی کب سے ڈھونڈ رہا تھا تمہیں میں خیر آج میری تلاش مکمل ہوئی
انت نے مسکراتے ہوئے فارخ کے موبائل کو دیکھتے ہوئے سوچا اور گاڑی میں آ کر بیٹھ گیا تھا اور ڈرائیور نے گاڑی زن سے اپنی منزل کی طرف بڑھا دی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
کیا ہوا کیوں پریشان ہو
جمیلا نے حیا سے پوچھا تھا
کچھ نہیں یار بھائی کو کال کی تھی پر بھائی ریسیو ہی نہیں کر رہے
حیا نے منہ لٹکائے کرسی پر بیٹھتے ہوئے کہا
بزی ہونگے
جمیلا نے مسکراتے ہوئے کہا
روز بزی ہوتے ہیں آج کونسا انوکھا بزی ہیں
حیا نے تلخی سے مسکراتے ہوئے کہا تھا
یار چھوڑ نا چل کر جب انھیں تیری نہیں ہے تو پھر تم بھی دفعہ کرو ایسے مطلبی لوگوں کو
جمیلا نے حیا کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور حیا منہ جھکا گئی تھی
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
ارسلان بلگرامی کے دو بیٹے تھے جاوید بلگرامی اور عارف بلگرامی جاوید بڑا جبکہ عارف اس سے تین سال چھوٹا تھا اور انکی والدہ کا انتقال عارف کے پیدا ہونے کے دو سال بعد ہارٹ اٹیک کی وجہ سے ہو گیا تھا
اور دونوں بھائیوں کی پرورش انکے باپ ارسلان بلگرامی نے اکیلے کی تھی ارسلان بلگرامی بزنس مین تھے اور انکے بعد انکے بزنس کو جاوید نے سنبھلا تھا عارف کو کوئی انٹرسٹ نا تھا سو اس نے کوئی توجہ نا دی لیکن باپ کے انتقال کے بعد انکی وصیت کے مطابق ساری جائیداد کا 80٪ جاوید جبکہ 20٪ پرسنٹ حصہ عارف کے حصے میں آیا تھا
اور یہی بات عارف کو سلگا گئی تھی فل وقت تو اس نے کچھ نا کہا مگر اس نے آفس جانا شروع کر دیا تھا
جاوید کے ہاں ایک بیٹی ہوئی تھی جسکا نام حیا جاوید بلگرامی تھا اسکے پیدا ہوتے ہی کچھ وجوہات کی بنا پر حیا کی امی کا انتقال ہو گیا تھا اور اسکی پرورش جاوید نے کی تھی
دوسری طرف عارف کا ایک ہی بیٹا تھا فارخ بلگرامی جو حیا سے چند ماہ بڑا تھا عارف نے پلان کے تحت اسکے باپ اور اپنے بھائی جاوید بلگرامی کو مار دیا تھا جب حیا ایک سال کی تھی اور اسے ایسا بتایا تھا کہ عارف بلگرامی ہی اسکا اصل باپ ہے کیونکہ جاوید بلگرامی نے اپنی ساری جائیداد حیا کے پیدا ہوتے ہی اسکے نام کر دی تھی
اور کہا تھا کہ جب تک حیا بالغ نہیں ہوجاتی تب تک یہ جائیداد کسی اور کے نام نہیں ہوسکتی اور اسی وجہ سے عارف حیا کو اپنی بیٹی بنائے اسے باپ کی طرح ٹریٹ کرتا تھا لیکن حیا صرف اسکا موہرا تھی جائیداد حاصل کرنے کا ایک موہرا اسے حیا سے کوئی انسیت نہیں تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺
عارف بلگرامی اس وقت ہال میں بیٹھے دوپہر کی چائے سے لطف اندوز ہو رہے تھے جب انکا موبائل رنگ ہوا تھا
عارف نے موبائل فون کی سکرین پر ان نان نمبر دیکھ کال ڈسکنیکٹ کر دی تھی اور دوبارہ چائے کی سپ لینے لگے تھے کہ چند منٹ انکا موبائل دوبارہ رنگ ہوا تھا مگر اب میسیج تھا
عارف نے موبائل اٹھا کر میسج اوپن کیا تھا اور میسیج پڑھتے ہی انھوں نے چائے کا کپ ٹیبل پر رکھا تھا اور چہرے پر خوف اور غصہ پھیلا تھا
Agar ab Meri call receive na ki to apne bete ki moat or apni bewakofi par ansu bhate rah jao ge
میسیج پڑھتے ہی کچھ سیکینڈ بعد کال آئی تھی جسے ایک لمحے میں عارف نے اٹینڈ کی تھی
کون ہو تم میرے بیٹے کو کیسے کڈنیپ کیا تم نے مجھے تم جانتے نہیں عارف بلگرامی اس شہر کا مشہور بزنس مین ہوں میں مجھے لمحہ نہیں لگے گا تمہاری بوٹیاں چیل کوؤں کو کھلانے میں
کال اٹھاتے ہی عارف پھٹ پڑا تھا
زبان سنبھال کر بات کرو عارف بلگرامی تم جانتے نہیں کہ میں کون ہوں مجھ نا چیز کو انت شاہ کہا جاتا ہے دا ولن ( THE VILLAN )
انت نے غصے سے اپنا تعارف کروایا تھا جبکہ عارف کے ہاتھ سے موبائل گرتے گرتے بچا تھا
اااا۔۔۔۔۔۔۔انت شاہ ( THE VILLAN )
عارف نے خوف سے ہکلاتے ہوئے اس انسان کا نام لیا تھا
جو جانور کی طرح لوگوں کو مار دیتا تھا جس کے نزدیک انسان کی قیمت دو کوڑی کے برابر تھی لیکن آج تک اسے کوئی پکڑ نہیں پایا تھا کیونکہ وہ اپنے پیچھے کوئی ثبوت چھوڑتا ہی نہیں تھا
تمہارا بیٹا میرے قبضے میں ہے اگر اسکی جان چاہتے ہو تو مجھے کچھ دینا ہوگا تمہے
انت نے سنجیدگی سے کہا تھا
ککک۔۔۔۔۔۔کیا چاہیے آپ کو
عارف نے عزت سے پوچھا تھا
تمہاری بیٹی
تمہارے بیٹے کی جان کے بدلے میں تمہیں تمہاری بیٹی مجھے دینی ہوگی ہمیشہ ہمیشہ کے لیے ورنہ ۔۔۔۔۔۔
میں تیار ہوں مجھے منظور ہے
انت کی بات پوری ہونے سے پہلے ہی عارف نے جلدی سے کہا تھا جسے سن کر انت کے چہرے پر مسکراہٹ گہری ہوئی تھی
گوڈ مجھے لگا تھا تم بھی اپنے بیٹے کی طرح بےوقوف نکلو گے مگر تم ہوشیار نکلے کل آجانا اپنی بیٹی کو لیکر ورنہ تمہارے بیٹے کی کل لاش مل جائے گی تمہیں
انت نے کہتے ہی کال کاٹ دی تھی اور عارف نے اپنے چہرے پر آیا پسینہ صاف کیا تھا لیکن اس نے سوچ لیا تھا اسے کیا کرنا ہے۔
