Unt Ul Hayaat By Samreen Zahid readelle50029 Episode 08
Rate this Novel
Episode 08
حمزہ سب سے نظریں بچا کر کالج کے پیچھے کے دروازے سے کالج میں داخل ہوا تھا اور وہاں سے چلتے ہوئے وہ سائیڈوں پر پڑی لاشوں کو دیکھتا جا رہا تھا
گوڈ بہت اچھا کام کیا ہے آخر ٹیم کس کی ہے دی گریٹ کیپٹن حمزہ شاہ کی
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا اور نیچے ہال کی جانب بڑھنے لگا جہاں اسکے ساتھی دیوار کی اوٹ میں چھپے ہوئے تھے
کتنے آدمی ہیں اندر
حمزہ نے آتے ہی پوچھا تھا
سر نو آدمی ہیں اندر
اسکے ساتھیوں میں سے ایک نے بتایا تھا
کیا کہتے ہیں سر حملہ کر دیں
جابر نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے پرجوش انداز میں پوچھا
بڑی جلدی ہے تمہیں حملہ کرنے کی کیا گھر میں بیوی کو ٹائم دے کر آئے ہو جو تم لیٹ ہو گئے تو وہ تم سے گھر کے برتن دھلوائے گی
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو وہ خجل سا ہوا تھا
سر میں میریڈ نہیں ہوں
اس نے اسے بتاتے ہوئے کہا
اووو تو پھر گرلفرینڈ بے بی شونا ہرا دھنیا پودینا تو ہوگا نا تمہارا تبھی اتنی جلدی ہو رہی ہے تمہیں
حمزہ نے اسکی عزت افزائی کرتے ہوئے کہا تو شرم کے مارے سر جھکا گیا تھا اب کیا جواب دیتا وہ اسے
ہم ایسے حملہ نہیں کر سکتے گدھوں جوش میں ہوش نہیں کھونا چاہیے اس طرح کالج کے عملے کو نقصان ہو سکتا ہے جو کہ ہم افورڈ نہیں کر سکتے
حمزہ نے اپنے ساتھیوں کو دیکھتے ہوئے کہا تھا ایک طرف سے اسکی بجا بھی تھی
ویسے جابر تمہیں اپنی جان کتنی عزیز ہے
حمزہ نے کچھ سوچتے ہوئے اپنے ساتھی سے پوچھا تھا
سر وطن کے لئے تو جان بھی قربان ہے
جابر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا
چلو پھر تمہاری جان کا صدقہ دینے کا وقت ہے نکالو صدقہ اپنی جان کا
حمزہ نے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھے کہا
کیا مطلب سر میں کچھ سمجھا نہیں
جابر نے حیرت سے کہا تھا اور اسکے ساتھیوں نے بھی حمزہ کو سوالیہ نظروں سے دیکھا تھا
اف خدایا تمہیں آخر کس بےوقوف نے آرمی میں بھرتی کیا ہے
حمزہ نے افسوس سے کہا تھا
سسس۔۔۔۔سوری سر
اس نے سر جھکائے کہا تھا
اب سنو تم لوگوں نے کرنا کیا ہے
حمزہ نے انکے جھکے سر دیکھ کہا تو سب اسکی طرف متوجہ ہوئے تھے
تو کرنا یہ ہیکہ۔۔۔۔۔۔۔۔۔۔
حمزہ نے اپنا تیار کردہ پلین انھیں بتایا تھا اور جابر کو اشارہ کیا تو وہ گرتے بھاگتے ہوئے ہال میں پہنچا تھا
بببب۔۔۔۔۔۔۔بچاؤ مجھے
جابر نے بھاگ کر ہال میں آتے ہوئے کہا
یہ تو آرمی کا بندہ ہے پکڑو اسے
باس نے جابر کو دیکھتے ہی اپنے آدمیوں سے کہا تھا اور دو آدمیوں نے اسے پکڑا تھا
بچاؤ مجھے پلیز
جابر نے باس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
کیا مطلب ہے تمہارا ہم تمہیں کیسے بچا سکتے ہیں
باس نے اسے دیکھتے ہوئے حیرت سے پوچھا تھا
ووو۔۔۔۔۔وہ سالہ کیپٹن حمزہ مجھے مارنا چاہتا ہے
جابر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا اور حمزہ کو سالہ جان کر بولا تھا آخر اپنی چند لمحوں پہلے کی بے عزتی کا بدلہ جو لینا تھا
ابے تو نے مجھے پاگل سمجھا ہے کیا وہ کیپٹن تجھے کیوں مارے گا تو آرمی میں ہے نا تو وہ آرمی کا ہو کہ آرمی کے بندے کو کیوں مارے گا
باس نے اسے دیکھتے ہوئے غصے سے کہا تھا
ہاں وہ مجھے نا مارتا اگر میں آرمی کے لئے کام کرتا مگر میں آرمی میں اس سالے کیپٹن حمزہ سے بدلہ لینے کے لیے آیا تھا کیونکہ اس نے میرے بھائی کا قتل کیا تھا اور میرا اسے پتا چل گیا تو وہ مجھے مارنے والا تھا کہ میں یہاں بھاگتے ہوئے آ گیا
جابر نے اسے اپنے جال میں پھنساتے ہوئے کہا
اور وہ سالہ کیپٹن مرنے والا تھا میرے ہاتھوں سے مگر بچ گیا
جابر نے اسے جال میں پھنستا دیکھ دوبارہ کہا تھا
بڑا کمینہ ہے یہ جابر اپنی بے عزتی کا بدلہ لے رہا ہے مجھے سالہ کہہ کر
حمزہ نے اسکی ایکٹنگ کو سراہتے ہوئے اپنے ساتھی کو کہا تھا جبکہ اسکی بات سن کر سب ہولے سے مسکرائے تھے
وہ اپنے ساتھیوں کو پیچھے کے دروازے سے لیکر آنے والا ہے اچھا موقع ہے میں تمہارے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اسے مارنا چاہتا ہوں
جابر نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تو باس کو اسکا آئیڈیا پسند آیا تھا کیونکہ وہ بھی اس سے اپنی بے عزتی کا بدلہ لینا چاہتا تھا
جاؤ اسکے ساتھ پیچھے کے دروازے سے اور اجمل تم رک جاؤ اس لڑکی کو لیکر یہاں کھڑے ہو جاؤ
باس نے اپنے ساتھیوں کو کہتے ہی ایک کو اپنے ساتھ رکنے کا کہا تھا اور وہ مائرہ کا ہاتھ تھامے اپنے باس کے پیچھے کھڑا ہوگیا تھا اور مائرہ باس کے چوڑے سینے کے پیچھے چھپ سی گئی تھی
جابر اسکے ساتھیوں کو لیکر باہر آیا تھا اور اسکے پیچھے کے دروازے کی جانب بڑھتے ہی حمزہ اپنے ساتھیوں کے ہمراہ انکے پیچھے آیا تھا اور انکو بھنک پڑے بغیر سب نے ایک ایک کو اس طرح پیچھے سے پکڑا تھا کہ وہ کوئی حرکت نا کر سکے اور انکی گنز نیچے گر گئی تھی اور سب نے ایک ساتھ ان دہشتگردوں کی گردنیں مروڑی تھی کہ سب ایک لمحے میں بے جان ہو کر نیچے گرے تھے
ارے مجھے تو چھوڑ دے میں کون سا دہشت گرد ہوں
جابر نے اپنی گردن اپنے ساتھی کے ہاتھ میں پکڑے کہا
او سوری سوری
اسکے ساتھی نے مسکراتے ہوئے جابر کی گردن کو چھوڑتے ہوئے کہا
میں جیسے فائر کروں گا تم لوگ اندر آ جانا
حمزہ سب کو حکم دیتا ہال کی جانب بڑھا تھا
ہیلو ڈئیر کتے
حمزہ نے نیچے ہال میں آتے ہی باس کو دیکھتے ہوئے کہا
تتتت۔۔۔۔۔تم یہاں کیسے میرے ساتھی
باس نے حمزہ کو دیکھتے ہی حیرت سے ہکلا کر پوچھا تھا
وہ سب تو مارے گئے ہیں
حمزہ نے اداسی سے کہا تھا اور پھر ہنس پڑا تھا
تمہیں پتا ہے مجھے ارتغل غازی کا یہ ڈائیلاگ بہت پسند ہے جب وہ دشمن کو مارنے والے ہوتے ہیں نا تو کہتے ہیں کہ ہم تمہیں جہنم واصل کر دیں گے تو اب تم بھی جہنم واصل ہونے کی تیاری پکڑو کیونکہ تمہارے ساتھی تمہاری جہنم میں راہ دیکھ رہے ہیں
حمزہ نے باس کو دیکھتے ہوئے دل جلا دینے والی مسکراہٹ لئے کہا تھا
یہ تم نے اچھا نہیں کیا کیپٹن
باس نے غصے سے دہاڑتے ہوئے کہا
میں کبھی اچھا نہیں کرتا ہوں کیونکہ میں اچھا ہوں ہی نہیں
حمزہ نے مسکراتے ہوئے کہا تھا
عجیب بندہ ہے بچانے آیا ہے تو بچائے فالتو میں ڈائیلاگ بازی کر رہا ہے ہنہہ
مائرہ نے سوچتے ہوئے کہا تھا
اسے ہمیشہ سے آرمی والے پسند تھے مگر آج اس آرمی والے کی باتیں اسے زہر لگ رہی تھیں
ٹھااااااا
فضا میں اچانک گولی کی آواز گونجی تھی کالج کا عملہ کانپ کر رہ گیا تھا ایک وجود بے جان ہو کر نیچے گرا تھا باس حیرت میں تھا جبکہ حمزہ نے مسکراتے ہوئے اپنی گن سے نکلتے دھویں کو پھونک ماری تھی
حمزہ کے ساتھی ہال میں پہنچ چکے تھے۔
کچھلمحےپہلے
حمزہ باس سے ابھی بات کر ہی رہا تھا کہ اجمل نے باس کے پیچھے سے نکلتے ہوئے خفیہ طور پر حمزہ پر گولی چلانی چاہی تھی جسے بھانپتے ہی حمزہ نے اس سے پہلے اجمل پر گولی چلا دی تھی اور وہ خون سے لت پت نیچے گر گیا تھا۔
حال
تمہارا کتا سمجھتا ہے کہ میں ابھی بچہ ہوں لیکن بھول ہے یہ تمہاری بھول ہے حمزہ تب سے یہ پینترے جانتا ہے جب سے وہ آرمی کا حصہ بھی نہیں بنا تھا میں بچپن سے ان سب سے کھیلتا آیا ہوں تو تم لوگ کیا چیز ہو
حمزہ نے باس کو دیکھتے ہوئے کہا اور اپنے ساتھیوں کو اشارہ کیا کہ وہ لوگوں کو لے جائے باہر
ٹھاااااااا
ایک اور فائر کی آواز گونجی تھی مائرہ نے خوف کے مارے آنکھیں میچ لیں تھی سارے نفوس اپنی جگہ جم گئے تھے
حمزہ بول ہی رہا تھا کہ باس نے غصے میں آ کر حمزہ پر فائر کرنا چاہا تھا چونکہ حمزہ کا دھیان اس پر تھا اس لئے اس نے فوراً اسکے ہاتھ پر فائر کیا تھا اور گن نیچے گر گئی تھی
سب جاؤ یہاں سے لیکر جاؤ سب کو
حمزہ نے اپنے ساتھیوں کو کہا تھا اور وہ انھیں باہر لے کر جا رہے تھے تقریباً سب چلے گئے تھے ایک دو لوگ بچے تھے جب باس نے گن کو اٹھاتے ہی اپنے پیچھے ڈری سہمی بیٹھی مائرہ کو بازو سے پکڑتے ہوئے اپنے آگے کیا تھا اور گن اسکی پیشانی پر رکھی تھی
مائرہ اس اچانک افتاد پر بوکھلا گئی تھی اور آنکھیں کھولے اردگرد دیکھ رہی تھی جہاں بہت کم لوگ موجود تھے
کیپٹن حمزہ
باس نے مائرہ پر بندوق تانے حمزہ کو آواز دی تھی جس پر کچھ سوچ رہے حمزہ نے فوراً اسکی طرف دیکھا تھا مگر اسکی آنکھوں نے باس کو دیکھنے سے پہلے مائرہ کو دیکھا تھا اور اسکی ڈری سہمی آنکھوں کو دیکھتے ہی سب بھول گیا تھا
وہ جو یہاں سب کو بچانے آیا تھا اس معصوم سرمئی آنکھوں میں مر کے رہ گیا تھا اسے سب بھول گیا تھا وہ جیسے ہر فکر سے آزاد ہو چکا تھا آج پہلی بار اسکے دل نے اپنی ڈیوٹی سے ہٹ کر اسکا چہرہ دیکھنے کی خواہش کی تھی پہلی بار اسکا دل الگ ترنگ میں دھڑکا تھا جسے سمجھنے سے وہ قاصر تھا
اگر تم نے کوئی ہوشیاری کرنے کی کوشش کی تو مار دوں گا میں اسے
باس نے غصے سے کہا تھا اور حمزہ لمحوں میں اسکی بات سن کر حال میں آیا تھا ہال تقریباً خالی ہوچکا تھا صرف وہ تینوں ہال میں موجود تھے
دہشت گرد کی بات سن کر حمزہ کو چبھن سی ہوئی تھی
اے لڑکی کو چھوڑ دے جو کہنا ہے مجھ سے کہو وہ بے قصور ہے
حمزہ نے باس کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
مجھے یہاں سے جانے دے کیپٹن ورنہ یہ ماری جائے گی
باس نے مائرہ کو پکڑے قدم اٹھاتے ہوئے کہا تھا
ٹھااااااا
فضا میں ایک بار پھر سے گولی کی آواز گونجی تھی مائرہ نے دھڑکتے دل کے ساتھ آنکھیں میچ لیں تھیں
وہ ابھی باہر جانے ہی والا تھا کہ حمزہ نے لمحے کے ہزارویں حصے میں اپنی گن سے اس دہشت گرد کے ماتھے کے بیچ و بیچ نشانہ لگایا تھا اور گولی چلا دی تھی اور گولی لگتے ہی وہ بے سدھ سا ہو کر نیچے گر پڑا تھا
مائرہ ہنوز آنکھیں بند کئے رو رہی تھی جب حمزہ اسکی طرف بڑھا تھا
سب ٹھیک ہے ریلیکس
حمزہ نے اسے دیکھتے ہوئے کہا تھا مگر اسکے رونے میں اور تیزی آ گئی تھی
سب ٹھیک ہو گیا ہے آپ روئے نہیں
حمزہ نے اسکے کندھے پر جھجکتے ہوئے ہاتھ رکھ کر کہا اسکے ہاتھ رکھتے ہی مائرہ روتے ہوئے خالی دماغ سے اسکے سینے سے آ لگی تھی اور اسکی شرٹ کو مضبوطی سے پکڑا تھا
حمزہ کی دھڑکنیں آج الگ ترنگ میں دھڑکی تھی اسکے دل نے شدت سے دعا کی تھی کہ یہ وقت تھم جائے وہ اسکی ہو جائے
ریلیکس مس سب ٹھیک ہے آپ سیو ہیں کوئی خطرہ نہیں ہے ششششش رونا بند کرو ڈئیر
حمزہ نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے اسکے آنسوں صاف کرتے ہیں کہا
مائرہ
مائرہ
وہ ابھی اسے چپ کروا رہا تھا کہ عقب سے مردانہ آواز گونجی تھی
مائرہ میری بچی ٹھیک تو ہے
شفاقت صاحب نے ہال میں آتے ہی مائرہ کو گلے لگانے ہوئے پوچھا تھا جبکہ مائرہ اب شفاقت صاحب کے گلے لگی تو رہی تھی خوف کے مارے وہ کہاں تھی کس کے ساتھ ہے اسے کچھ سمجھ نہیں آ رہا تھا
ڈونٹ وری سر شی از فائن بس تھوڑا ڈر گئی ہیں
حمزہ نے مسکراتے ہوئے شفاقت صاحب کو کہا تھا
تھینکس بیٹا تم جیسے جانباز سپاہی ہی ہمارے ملک کو میلی نظروں سے بچا کر رکھتے ہیں اور آج تم نے سب کو بچا کر بہت نیک کام کیا ہے اور بہت بہت شکریہ میری جان کو بچانے کے لئے میں بہت ڈر گیا تھا
شفاقت صاحب نے مائرہ کو دیکھ حمزہ کو مسکرا کہا تھا
یہ تو میرا فرض ہے سر
حمزہ نے انھیں دیکھتے ہوئے کہا
اچھا اب میں چلتا ہوں
شفاقت صاحب نے حمزہ کو دیکھتے ہوئے کہا تو وہ مسکرا دیا تھا اور شفاقت صاحب مائرہ کو لیکر وہاں سے چلے گئے تھے۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
انت اپنی گن لئے اس کالج میں آیا تھا جہاں سے لڑکیاں دوسرے ملک سمگل ہونے والی تھی
وہ کالے رنگ کے تھری پیس پہنے آنکھوں پر کالے رنگ کے سن گلاسس لگائے اپنے چہرے کو بلیک ہی ہڈی میں چھپائے کالج میں داخل ہوا تھا وہ سیدھا ہیڈ ماسٹر کے کیبن پہنچا تھا
ارے کون ہو تم ایسے کیسے گھسے آ رہے ہو
پیون اسے روکتے ہوئے ہلکان ہو گیا تھا مگر وہ اسکی ایک بھی سنے بغیر ہیڈ ماسٹر کے روم میں آیا تھا جہاں وہ بیٹھا کسی آدمی سے بات کر رہا تھا
کون ہے یہاں کیسے آیا
ہیڈ ماسٹر نے اس انت کو روم میں داخل ہوتے دیکھ پیون سے کہا تھا
سر کب سے روک رہا ہوں مگر کچھ سن ہی نہیں رہا یہ
پیون نے ہیڈ ماسٹر کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور اسی وقت انت نے اپنے سر سے ہاتھ کی مدد سے بلیک ہڈی کو اتارا تھا پیون اسے نہ دیکھ سکا کیونکہ اسکی پشت پیون کی جانب تھی
مگر ہیڈ ماسٹر سمیت اسے دیکھ اس آدمی کے ہوش اڑے تھے اور وہ فوراً کھڑا تھا
جاؤ تم
ہیڈ ماسٹر نے ماتھے سے پسینہ صاف کرتے ہوئے کہا تو پیون دروازے بند کر کے چلا گیا تھا
ااا۔۔۔۔۔۔آپ یہاں کچھ کام تھا تو مممم۔۔۔۔۔مجھے بتا دیتے آپ
ہیڈ ماسٹر نے ہکلاتے ہوئے انت کو دیکھتے ہوئے کہا تھا اور انت نے اسکے منہ پر ایک مکا جڑھا تھا وہ اوندھے منہ زمین پر گر تھا
واٹ دا ہیل تم لوگ کالج میں لڑکیوں کی سمگلنگ بھی کرنے لگے ہو ہاں شرم نہیں آئی تم لوگوں کو
انت نے زمین پر گرے ہیڈ ماسٹر کو دیکھتے ہوئے کہا تھا
لڑکیاں کہاں ہے بتاؤ مجھے
انت نے اس آدمی کے منہ پر تھپڑ مارتے ہوئے پوچھا تھا
ممممم۔۔۔۔۔۔مجھے چھوڑ دیں سر میں آپ کو س بتاتا ہوں
اس آدمی نے انت کے پیر پکڑتے ہوئے کہا تھا
چلو میرے ساتھ انت نے ہڈی پہنتے ہوئے کہا
انت کے حکم دیتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور اسے اس جگہ لے آیا تھا جہاں لڑکیاں رکھی ہوئی تھیں وہاں مشکل سے چار آدمی تھے
اے کسے منہ اٹھائے لیکر آ رہا ہے یہاں
ان آدمیوں میں سے ایک نے کہا تھا
جاؤ تم تم دونوں کو تو میں بعد میں دیکھتا ہوں
انت نے ساتھ آئے لڑکے کو سخت لہجے میں کہا تو وہ وہاں سے بوتل کے جن کی طرح غائب ہوا تھا
کیا ہے تجھے کیا لینے آیا ہے تو یہاں لڑکی چاہیے کیا
ان آدمیوں میں سے ایک نے ہنستے ہوئے کہا تھا
ابھی بتاتا ہوں کیا لینے آیا ہوں
انت نے کہتے ہی اسے مارنا شروع کیا تھا اور اسے مارتا دیکھ باقی کے آدمی بھی انت کو مارنے کے لئے بڑھے تھے جبکہ انت نے چاروں کی وہ درگت بنائی تھی کہ وہ بے جان وجود کی طرح زمین پر ڈھے گئے تھے
انکو مارنے کے بعد انت نے لڑکیوں کو آزاد کروایا تھا اور انھیں اپنے ساتھ لائی گئی گاڑی میں با حفاظت بٹھایا تھا
بات سنو جونی سب لڑکیوں سے انکی ڈیٹیل پوچھ کر انھیں انکے گھر با حفاظت پہنچا کر آؤ
انت نے اپنے ایک قابل بھروسے آدمی کو کہا تھا اور اس نے ہاں میں گردن ہلاتے ہی گاڑی میں بیٹھ کر گاڑی کو سڑک پر دوڑا دیا تھا
انت پھر سے ہیڈ ماسٹر کے روم میں آیا تھا جہاں وہ دونوں بیٹھے اپنی موت کا انتظار کر رہے تھے
بھاگنے کی غلطی وہ کر نہیں سکتے تھے کیونکہ انت کا انھیں اچھے پتا تھا اگر وہ وہاں سے بھاگ جاتے پھر شاید انکی لاش بھی انکے احباب کو نا ملتی
ہاں تو کیوں کر رہے تھے تم یہ کام
انت نے کمرے میں آکر کرسی پر بیٹھتے ہی پوچھا تھا
میں مجبور تھا سر میری بیٹی انکے قبضے میں تھی اگر میں ایسا نا کرتا وہ میری بیٹی کو مار دیتے
ہیڈ ماسٹر نے فوراً انت کے پاؤں پکڑتے ہوئے سچ بتایا تھا
مجھے بھی تو بتا سکتے تھے نا تم
انت نے اسے دیکھتے ہوئے کہا
میں بہت ڈر گیا تھا سر انھوں نے کسی کو بھی بتانے سے منع کیا تھا تبھی میں نے اسکے ہاتھوں ( اپنے ساتھ موجود لڑکے کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بتایا) آرمی کیپٹن کو پیغام پہنچایا تھا
ہیڈ ماسٹر نے اپنے منہ سے نکلتے خون کو صاف کرتے ہوئے کہا
تمہاری بیٹی کو آزاد کروا لیا ہے میں نے گھر پہنچ چکی ہوگی وہ تمہاری بیٹی کو مارنے والے نہیں تھے بلکہ اسے بھی دوسرے ملک سمگل کرنے والے تھے وہ تو بس ایک مہرا تھی تمہارے خلاف
انت نے کھڑے ہوتے ہوئے ہیڈ ماسٹر کو کہا تھا
مجھے معاف کر دیں سر
ہیڈ ماسٹر نے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا تھا
اسکی ضرورت نہیں ہے بس آئندہ جو بھی مسئلہ ہو پہلے مجھے بتانا
انت نے انکے ہاتھوں کو نیچے کرتے ہوئے کہا اور وہاں سے چلا گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
