52K
25

Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Episode 06

صبح صادق کے وقت انت کی آنکھ کھلی تھی اس نے آنکھیں کھولتے ہی اپنے برابر میں دیکھا تھا جہاں حیا اسکے سینے پر سر رکھے سوئی ہوئی تھی
انت اٹھا اور احتیاط کے ساتھ حیا کا سر سراہنے پر رکھ کر واشروم چلا گیا تھا
واشروم سے فریش ہو کر وضو بنا کر وہ باہر آیا تھا اور ایک نظر حیا پر ڈال کر وہ جائے نماز اسکی جگہ سے لیکر زمین پر بچھائی تھی اور خود اس پر کھڑا ہو کر تکبیر باندھ کر نماز ادا کرنے لگا تھا
کچھ ہی دیر میں اس نے نماز ادا کر لی تھی اور اب وہ دعا مانگنے لگا تھا
دعا کے لئے ہاتھ اٹھائے اس نے دعا مانگنی شروع کی تھی اور ہر بار کی طرح آج بھی دعا کرتے ہوئے اسکی آنکھوں سے آنسو کی لڑیاں بہہ رہی تھی لیکن آج کی دعا میں ایک چیز اور شامل ہوئی تھی اور وہ تھی حیا
” یا اللہ تو رحیم ہے تو کریم ہے دعاؤں کو قبول کرنے والا اور گناہوں کو معاف کرنے والا ہے تیری بارگاہ میں میں تیری رحمت کے لئے اور اپنی خطاؤں کی معافی کے لئے حاظر ہوا ہوں میرے سارے گناہوں کو معاف فرما میرے مولا اور آج میں تیرا شکر گزار بھی ہوں جو تو نے مجھے میری محبت میری زندگی اپنی شریکِ حیات کے روپ میں عطا کی بس اسکے دل میں میرے لئے پہلے والی محبت ڈال دے میرے مولا اسکی بے رخی جان لیتی ہے میری مگر دل پر پتھر رکھ کے میں سب برداشت کرتا ہوں مجھ پر رحم فرما میرے مولا رحم فرما ۔ “
انت ہاتھ دعا کے لئے اٹھائے روتے ہوئے دعا مانگ رہا تھا اور پھر دعا پوری کرتے ہی وہ اٹھ کھڑا ہوا تھا اور جائے نماز کو طے کر کے اسے اسکی جگہ پر رکھے خود اپنے سیکریٹ روم میں آ گیا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
صبح کے دس بجے حیا کی آنکھ کھلی تھی سر میں درد ابھی بھی تھا مگر وہ سر کو تھامے اٹھ بیٹھی تھی اور کل کا رونما ہوا واقعہ اسکے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا تھا اور وہ بے اختیار اپنے نصیب پر رو دی تھی
پھر کچھ دیر بعد وہ اٹھی اور مرے قدموں کے ساتھ اپنے کپڑے لئے واشروم چلی گئی تھی کچھ ہی دیر میں وہ فریش ہو کر باہر آئی تھی اور ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہو کر اپنے بال بنانے لگی تھی
سوجی آنکھیں مرجھایا چہرا خشک ہونٹ وہ کہیں سے بھی پہلے والی حیا نہیں لگ رہی تھی وہ یوں ہی شیشے میں کھوئی خود کی حالت پر افسوس کر رہی تھی کہ اسی وقت کمرے میں انت ناشتے کی ٹرے تھامے داخل ہوا تھا
اس نے ٹرے کو ٹیبل پر رکھا اور غور سے اسے دیکھنے لگا جو کہیں کھوئی ہوئی تھی اسکے چہرے پر مسکراہٹ آگئی تھی اور وہ جیب میں کچھ ٹٹولتا ہوا اسکی جانب بڑھا تھا
حیا ہنوز یوں ہی خیالوں میں کھوئی بالوں میں مرے ہاتھوں سے کنگھی پھیر رہی تھی کہ اسے اپنی گردن پر کسی کے ہاتھ کا لمس محسوس ہوا تھا اور وہ لمحے کے ہزارویں حصے میں خیالوں سے حال میں آئی تھی
جب اسکی نظر شیشے کے زریعے انت پر پڑی تھی
تتتت۔۔۔۔۔تم کیا کر رہے
اسکا ہاتھ اپنی گردن پر محسوس کرتے وہ بدک کر دو قدم دور ہوتے ہوئے ہکلا کر بولی تھی
ابھی پتا چل جائے گا یہاں کھڑی ہو
انت نے سنجیدگی سے کہتے ہوئے حیا کو کندھوں سے تھامتے ہوئے اسی جگہ کھڑا کیا تھا جہاں وہ پہلے کھڑی تھی
اسے کھڑا کرتے ہی انت نے حیا کی گردن سے نم بالوں کو ہٹایا تھا اور اسکا لمس پاتے ہی اسکے بدن میں کرنٹ دوڑا تھا اور اس نے اپنی آنکھیں بند کر لی تھی
انت نے بالوں کو سائیڈ پر کرتے ہوئے اپنی جیب سے ایک ڈبیہ نکالی تھی اور اس میں سے ایک نہایت ہی خوبصورت باریک سی چین نکالی تھی اور اسے حیا کی گردن پر پہنائی تھی
حیا کو اپنی گردن پر کسی باریک چیز کا احساس ہوا تھا اور اس نے آنکھیں کھول کے اپنی گردن پر دیکھا تھا جہاں وہ چین اسکی گردن کی زینت بنی ہوئی تھی
مجھے پتا ہے کہ لیٹ دی ہے مگر موقعہ پر اس سے اچھی تمہارے لحاظ سے میں منہ دکھائی دے دی تھی یہ میری خوشی کے لئے ہے ابھی میں پہنا دی ہے مگر ابھی اتار بھی رہا ہوں
انت نے وہی چین اسکے گلے سے اتارتے ہوئے کہا تو حیا نے حیرت سے اسے دیکھا تھا
یہ لو اسے سنبھال کے رکھنا یہ میری محبت کی نشانی ہے اور دیکھوں اس ڈائیمنڈ پر میں نے اسپیشلی باریک الفاظ میں #انتالحیاۃ لکھوایا ہے انت نے وہ ڈائیمنڈ اسکے سامنے کرتے ہوئے اسے دکھایا تھا جہاں واقعی وہ لکھا ہوا تھا جو بہت ہی خوبصورت طریقے سے لکھا گیا تھا اس چین کو سنبھال لو جب تمہیں لگے کہ میں تمہاری محبت کے قابل ہوں اور تم میرے لئے وہی محسوس کرتی ہو جو میں تمہارے لئے محسوس کرتا ہوں اور تمہیں اپنی محبت کا اظہار کرنا مشکل لگے تو تب اس چین کو پہن لینا میں سمجھ جاؤں گا کہ حیا انت کی ہو گئی ہے اور تب اس وقت اس دن اس لمحے #انتالحیاۃ ہمیشہ کے لئے ایک ہو جائیں گے
انت نے حیا کو آئینے سے دیکھتے ہوئے مسکرا کر کہا اور چین کو ڈبیہ میں ڈال کر چین والی ڈبیہ حیا کی صاف شفاف ہتھیلی پر رکھ دی تھی اور پھر اسے کندھوں سے تھامے اسکی پیشانی پر محبت سے بھرپور ایک لمس چھوڑا تھا
آؤ ناشتہ کر لو
انت نے صوفے پر بیٹھتے ہوئے حیا سے کہا تو حیا چپ چاپ ناشتہ کرنے بیٹھ گئی تھی کیونکہ اسے بھوک بہت سخت لگی ہوئی تھی
دونوں نے مل کر ناشتہ کیا تھا اور انت ٹرے اٹھائے باہر چلا گیا تھا جب کہ حیا اس ڈبیہ کو دیکھ رہی تھی۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
سر اس کالج میں ریٹ ڈالنی پڑے گی کیونکہ وہاں کچھ لڑکیوں کو بندی بنا کر رکھا گیا ہے ایسا ہمیں معلوم ہوا ہے اور ریٹ ڈالنے کے لیے آپ کی اجازت درکار ہے
ہمزہ نے موبائل کان کو لگائے کہا تھا
اوکے کیپٹن ہمزہ میں اوڈر دے رہا ہوں تم ریٹ ڈالو
مقابل سے آفیسر کی آواز آئی تھی اور ہمزہ نے ٹھینکس کہتے ہی کال رکھ دی تھی
ٹیم تیار کرو ایک کالج پر ریٹ ڈالنی ہے
ہمزہ نے کرسی سے کھڑے ہوتے ہوئے اپنے ایک ساتھی کو کہا تھا جو یس سر کہتے ہوئے کیبن سے باہر نکل گیا تھا
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺
مائرہ کالج پہنچ چکی تھی اور کلاسسز کے بعد وہ باہر گارڈن پر بیٹھی اپنی کچھ دوستوں کے ساتھ گپ شپ میں مصروف تھی
یار تجھے پتا ہے اوپر والا اپارٹمنٹ کتنا خوبصورت بنا ہے چل چل کر دیکھ کر آتے ہیں
مائرہ کی ایک دوست نے کل پورے ہوئے اپارٹمنٹ پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا تھا
اچھا چلو پھر
مائرہ نے اٹھتے ہوئے کہا اور تینوں دوستیں اوپر اپارٹمنٹ کی طرف چل دی تھی
واؤ یار کتنا خوبصورت بنایا ہے
مائرہ نے اپارٹمنٹ دیکھتے ہوئے خوشی سے کہا تھا
ہاں یار اٹس سو امیزنگ
اسکی دوست نے بھی مسکراتے ہوئے کہا تھا
ابھی وہ لوگ اپارٹمنٹ دیکھ رہے تھے جب کالج کی الرٹ بیل بجی تھی یعنی ضرور کچھ اہم بات یا مسئلہ ہوا تھا
جو جہاں بھی ہے وہیں رہے ورنہ مارا جائے گا
سپیکر سے ایک آدمی کی آواز ابھری تھی
یہ کیا ہو رہا ہے
مائرہ نے حیرت سے کہا تھا
اگر کسی نے ہوشیاری دکھانے کی کوشش کی یا پولیس کو بلانے کی غلطی کی تو مارا جائے گا
سپیکر سے کچھ لمحوں بعد پھر سے آواز ابھری تھی اور ساتھ ہی بڑی تعداد میں کالے کپڑے پہنے منہ پر ماسک چڑھائے ہاتھوں میں گن لئے پورے کالج میں پھیل گئے تھے سوائے اوپر والے اپارٹمنٹ کے کیوں کہ وہاں کوئی نا تھا ایسا ان لوگوں کو بتایا گیا تھا
او نو لگتا ہے کالج میں دہشت گرد گھس آئے ہیں
ماہرہ نے پریشانی سے کہا تھا
اب کیا ہوگا ہم پولیس کو بلائیں
مائرہ کی دوست نے مشورہ دیا تھا
نہیں اگر پولیس کو بلایا تو وہ اگلے سال ہی یہاں پہنچے گی ہم آرمی میں کال کرتے ہیں
مائرہ نے جھٹ سے کہا تھا
ہاں یہ سہی رہے گا میں کال ملاتی ہوں
مائر نے بیگ سے موبائل نکالتے ہوئے کہا
ٹھااااااااا
ابھی وہ کال ملانے ہی والی تھی کہ فضا میں بندوق سے فائر کی آواز گونجی تھی اور اسکے ہاتھ سے موبائل نیچے گر گیا تھا اور مائرہ سمیت دونوں گھبرا گئی تھی
اف یا اللہ اب کیا ہوگا
مائرہ نے ڈرتے ہوئے کہا تھا
اے لڑکی یہاں آؤ تم تینوں بڑا شوق ہے کال کرنے کا آؤ میں تم لوگوں سے کال ملاتا ہوں
اس نقاب پوش آدمی نے ہاتھ گن پکڑے انھیں دھمکایا تھا اور وہ تینوں ڈرتے ہوئے ایک ساتھ دیوار سے لگ گئی تھی
بھائی یہ کال ملا رہی تھی کیا کریں انکا
اس آدمی نے تینوں کو نیچے لاتے ہی اپنے باس سے کہا تھا جو پورے کالج کو ایک سائیڈ پر بٹھائے خود سب پر نگرانی رکھے ہوئے تھا
اس لڑکی کو اپنے ساتھ رکھ اور تم دونوں یہاں آؤ انکے ساتھ
انکے باس نے مائرہ کی دوستوں کو کالج والوں کے ساتھ بٹھاتے ہوئے مائرہ کو وہیں روک دیا تھا
مشکل میں ہمارے لئے سہارا بنے گی یہ لڑکی
انکے باس نے مسکراتے ہوئے کہا اور سب کی طرف متوجہ ہوئے انھیں دیکھنے لگا تھا۔
🌺🌺🌺🌺🌺🌺🌺