Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Last Episode

The Dark by Uzzai Zehan Last Episode

آں آں آں ! لوک ہوز ہیئر تاتیہ!
یشم کاٹ دار لہجے میں اسکی پشت کو گھورتا ہو بولا ۔وہ اسے آتے ہوئے دیکھ چکا تھا۔مگر آنے کا سبب نہیں جان پایا تھا ۔ اتنے سالوں بعد اسکا سامنا یمان سے ہوا تھا ۔اور وہ ان سے ملے بغیر ہی وہاں سے جانے کے لئے تیار تھا ۔
یمان کے قدم وہیں منجمند ہوگئے
ہے مافیا مین ؟؟؟ وہ جواب نہ پاکر کاٹ دار لہجے میں قدم قدم چلتا ہوا اسکے سامنے آکھڑا ہوا ۔ ۔
یمان کے دل پر چھریاں سی چلنے لگیں ۔اس نے آہستگی سے رخ موڑ کر کسرتی بدن والے خوبصورت نوجوان کو دیکھا اسے دیکھا ۔۔۔ وہ کتنا بڑا ہوگیا تھا ۔۔
۔ کیا لینے آئے تھے تم یہاں ؟ اپنی تمام فوج کے ساتھ ؟ وہ اسکے پیچھے سیاہ فاموں پر نظر ڈالتا ہوا بولا ۔
یمان جواب دیئے بغیر ہی جانے کے لئے پلٹا ۔
ارے آئو تاتیہ، دیکھو تو زرا تمہارا بیٹا باس بن گیا ہے
‘باسسسسس۔۔۔ دیکھو کتنے لوگ طعینات کیئے فرمان عاطر نے اسکی حفاظت میں ! یشم کا لہجہ تمسخر اڑاتا ہوا تھا۔یمان کا صبر جواب دینے لگا ۔
تاتیہ پولیس اسٹیشن کی سیڑھیوں پر سپتھرائی آنکھوں سے اس مضبوط کندھوں والے جوان کو تکنے لگی ۔
وہ بہت چھوٹا تھا جب فرمان اسے تاتیہ سے چھین کر لے گیا تھا ۔ وہ مرتی کیا نہ کرتی اس نے ہار مان لی ۔کیونکہ وہ بہت طاقتور انسان تھا ۔تاتیہ اسکے آگے نہیں لڑ سکتی تھی ۔سو دوسرے بیٹے کے چھن جانے کے خوف سے اس نے کبھی مڑ نہیں دیکھا کہ اسکا پہلا بیٹا کیسا ہے ۔واقعتا اس نے زیادتی کی تھی مگر جو قسمت کو منظور ۔
برداشت نہیں ہوا نہ ۔۔۔تم سے میری کامیابی ، اور چلے آئے میری راہ میں کانٹے بچھانے
دو قدم آگے بڑھاتے ہوئے یمان کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے زہر خند لہجے میں بولا ۔
اس الزام تراشی پر یمان کی آنکھوں میں سرخ ڈورے چمکے
اسے تو لگا تھا اسکا چھوٹا بھائی اسے سینے سے لگائے گا ۔ اور کہے گا کہ میں نے تمہیں بہت یاد کیا بھائی ؟؟؟؟
مگر وہ شاید کچھ زیادہ ہی بڑا ہوگیا تھا ۔
وہ کوئی بھی جواب دیئے بغیر جانے کے لئے قدم بڑھانے لگا ۔ مگر یشم اسے بخشنے کے موڈ میں نہیں تھا ۔
وہ کسی کا غصہ کسی پر نکال رہا تھا ۔
مجھے بھڑکائو مت یشم ۔۔۔۔ وہ سرخ آنکھیں پھیرتا ہوا ضبط سے بولا ۔
اچھا ؟ کیا کرلوگے تم ، مجھے پٹاوائوں گے اپنے ان کتوں سے ! وہ بد لحاظی سے اکڑ کر بولا ۔
yashumm! Don’t exaggerate , come on let him go !
تاتیہ اسکا شانہ دبوچتی ہوئی بولی ۔
بہتر ہوتا تم اپنے سپوت کو تھوڑی اخلاقیات بھی سکھادیتی کہ بڑوں سے کیسے بات کی جاتی ہے ! تاتیہ میڈم یمان دانت پیستے ہوئے اس عورت سے مخاطب ہوا ۔جسے اسکی کی زندگی برباد کردینے کا اعزاز حاصل تھا ۔
یشم کو اسکی بات غصے دلانے کے لیئے کافی تھی ۔ اس نے طیش کے عالم میں ایک زوردار گھونسا یمان کے جبڑوں پر دے مارا ۔وہ
لڑکھڑاتے ہوائے دو قدم پیچھے ہوا ۔ کئی لمحوں سے یہ زیادتی دیکھتے مارشل کا صبر بھی جواب دے گیا ۔
وہ خونخوار نظروں سے یشم کو گھورتے ہوا بندوق تانی ۔یشمممممم ! تاتیہ کی جان ہوا ہونے لگی ۔
یشم کا خون کھولنے لگا ۔
یمان انگلیوں سے اپنا منہ دباتا ہوا سیدھا ہوا ۔اگر اسکی جگہ کوئی اور ہوتا تو وہ خود بھی نہیں جانتا تھا کہ اسکا کیا حال کرتا ۔
مارشل ! اس نے مارشل کا کندھا جھٹکا ۔
مگر موہ ہنوز اس پر بندوق تانے ہوئے تھا ۔
مارشششششل ! اب کی بار وہ دھاڑا ۔
مارشل نظروں سے اسے گھورتا ہوا یمان کے پیچھے جا کھڑا ہوا ۔ یشم نے تاسف بھری نگاہ اس پر ڈالی اور گاڑی کی جانب بڑھ گیا ۔
اس کے جاتے ہی یمان نے طیش میں آ کر ایک زور دار مکہ مارشل کے جبڑوں پر رسید کیا ۔ اور اسکا گریبان دبوچ کر اونچا کرتے ہوئے چلایا ۔
تم جانتے ہو نا کہ وہ میرا بھائی ہے ، پھر تمہاری ہمت کیسے ہوئی اس پر بندوق تاننے کی ۔۔۔۔۔وہ غصے سے گرجا ۔
میں صرف اتنا جانتا ہوں آپ میرے باس ہیں !
مارشل نے مضبوط انداز میں دلیل پیش کی ۔
اس نے ایک جھٹکے سے اسے دور دھکیلا۔
اس لڑکی کو ڈھونڈو ، میں اپنے ہاتھوں سے اسکی جان لونگا ،ایک بار اسے میرے سامنے لے آئو ! سخت طیش کے عالم میں گاڑی اڑاتا ہوا منظر سے غائب ہوگیا۔
مارشل نے اٹھ کر کپڑے جھاڑے اور فون ملانے لگا ۔
***********************************
وہ ایئرپورٹ کے احاطے میں سر پر اسکارف لپیٹے بے چینی سے رومیصہ کا انتظار کر رہی تھی ۔
جسکی فلائٹ بس لینڈ کرنے ہی والی تھی ۔کچھ آدھے گھنٹے کے قریب وقت گزرا ہوگا جب رومیصہ اسے آتی دکھائی دی ۔وہ ضبط کے سارے بندھن توڑے اسکے گلے میں بانہیں ڈالے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔
اٹس اوکے ، ۔۔۔۔ تم فکر مت کرو ! میں آگئی ہوں ناں
سب ٹھیک ہوجائے گا
وہ اسکا کندھا سہلاتے ہوئے ڈھارس بندھانے لگی ۔
کچھ بھی ٹھیک نہیں ہوگا ! کچھ بھی نہیں ! مجھ سے بہت بڑی غلطی ہوگئی رومی ، وہ۔۔۔وہہہ لوگ بہت ظاہم ہیں ایمان کو کچھ کر نا دیں پلیز کسی طریقے سے اسے بچا لو رومی پلیز ! وہ اسکے ہاتھوں میں منہ دیئے پھوٹ پھوٹ کر رو پڑی ۔
کیس ۔۔۔کیسی ؟ کیس غلطی ؟ میں سمجھی نہیں نبیشہ؟ وہ آنسو پیتے ہوئے اسے سیٹ پر بٹھانے لگی ۔
یہ سب بتانے کا وقت نہیں ہے رومی ہمیں ایمان کو ڈھونڈنا ہوگا ! وہ بے چینی سے بولی ۔
ٹھیک ہے میرے پاس اس جی پی ایس کی لاسٹ لوکیشن موجود ہے ، جو میں نے اس لاکٹ میں فٹ کیا تھا ، اس سے ہم آسانی سے ایمان کو ڈھونڈ لیں گے تم فکر مت کرو ! وہ اسکا کندھا سہلاتے ہوئے بولی۔
میں بھی تمہارے ساتھ جاِونگی رومی ! وہ اسکا ہاتھ تھام کر استزائیہ انداز میں بولی ۔
ہرگز نہیں ۔۔۔۔تم وہاں کیا کرو گی ! وہ بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
پلیز رومی لے چلو نا ، میں تمہیں اکیلے نہیں جانے دینا چاہتی نبیشہ استفسار کرنے لگی ۔
ٹھیک ہے چلو ! وہ اسکا ہاتھ تھامتے ہوئے ایئرپورٹ کے احاطے سے باہر نکلی اور ٹیکسی ڈرائیور کو ایڈریس سمجھانے لگی ۔
تمہیں پورا یقین ہے ایمان وہیں موجود ہوگی ! رومیصہ نے تکان بھرے انداز میں سیٹ کی پشت سے سر ٹکایا ۔
پتا نہیں رومی ، کچھ معلوم نہیں میرے جانے پہلے انہوں نے اسے وہیں رکھا تھا ، اسکے بعد کی مجھے کچھ خبر نہیں؛ نبیشہ پریشانی کے عالم میں انگلیاں چٹخانے لگی ۔ٹیکسی ڈرائیور انہیں سڑک پر اتار کر چلا گیا ۔ رومیصہ نے اطراف میں نظر گھما کر دیکھا ۔ بیاباں جنگل۔۔۔۔ ہر طرف جھاڑیاں ہی جھاڑیاں تھی ۔
یہاں تو کوئی نہیں ہے رومی! نبیشہ نظریں اطراف میں دوڑاتے ہوئے بولی ۔
یہیں ہونا چاہیئے نبیشہ ، چلو ڈھونڈتے ہیں ! وہ ٹریسر کی لوکیشن پر نظر ڈالتی اسکا ہاتھ مضبوطی سے تھام کر جھاڑیوں میں راستہ بناتی ہوئی آگے بڑھنے لگی ۔بیگ اتار کر اس نے نبیشہ کے حوالے کیا ۔اور چھوٹے سائز کے چاقو پر گرفت مضبوط کرتی ہوئی قدم قدم آگے بڑھنے لگی ۔ تبھی انہیں زرا فاصلے پر لکڑی کا ایک مکان نظر آیا ۔ وہ نظروں سے نبیشہ کو دیکھتی تصدیق چاہنے لگی ۔
ہا ہاں ،ہاں یہی ہے رومی یہی ہے وہ گھر جہاں وہ ہمیں لائے تھے ! وہ بے اختیار بولی ۔
رومیصہ لبوں پر انگلی رکھتے ہوئے اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا اور آواز پیدا کیئے بغیر آگے بڑھنے لگی ۔
تم یہیں رکو میں جا کر چیک کرکے آتی ہوں ! وہ اسکے کان میں بڑبڑاتی ہوئی آگے بڑھنے لگی ۔
پلیز رومی دھیان سے ! وہ دونوں ہاتھ سینے پر باندھے دعائیں مانگنے لگی ۔رومیصہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی دائیں جانب دیوار سے جا لگی۔ وہ کئی لمحے اندر ہونے والی حرکات کو محسوس کرنا چاہ رہی تھی مگر اندر شاید کوئی نہیں تھا ۔ اس زور سے دروازے کو لات مارتے ہوئے دروازہ کھولا ۔ خالی بوسیدہ کمرے میں کرسی اور اس سے لٹکتی رسی کے علاوہ کچھ نہیں تھا ۔ وہ اسے کسی اور جگہ شفٹ کر چکے تھے ۔
نبیشہ آجائو ؛ وہ دروازے کی چوکھٹ سے باہر جھانکتی ہوئی اسے اندر بلانے لگی ۔خالی کمرہ دیکھ کر نبیشہ کے اوسان خطا ہونے لگے ۔
کہاں ؟کہاں گئے وہ لوگ ، کہیں ایمان کو کچھ؟؟؟؟
وہ پریشانی کے عالم می روتے روتے لب کاٹتے لگی ۔
اللہ نہ کرے ،کیسی باتیں کر رہی ہو ! اندر سے وہ بھی جی جان سے لرزی ۔اگر وہی ہمت ہار جاتی تو ان دونوں کا کیا ہوتا ۔ سو اسے وہ حوصلہ اور ہمت بنائے رکھنی تھی ۔
چلو اٹھو ! آس پاس دیکھتے ہیں ، شاید ایسی کوئی اور جگہ ہو ! رومیصہ ناک رگڑتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
رومی میری وجہ سے اگر اسے کچھ ہوگیا تو میں خود کو کبھی معاف نہیں کر پائونگی ! وہ زمین پر بیٹھی پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔
شششش ، خاموش رہو ۔۔۔۔ ایسا کچھ نہیں ہوگا ، مجھ پر بھروسا رکھو میں سب ٹھیک کردونگی !
وہ بمشکل آسنو پیتی ۔ بال اسکے کان کے پیچھے اڑستے ہوئی اسکا ہاتھوں کے پیالے میں لیئے ۔ مضبوط لہجے میں بولی ۔نبیشہ نے بے اختیار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ۔ وہ ہمیشہ کی طرح آج بھی اپنی ان کے لیئے اپنی جان دائو پر لگانے کے لیئے تیار تھی ۔ نبیشہ کو سختی سے اپنی خطائوں کا احساس ہونے لگا ۔۔
چلو اٹھو شاباش !! اسکا بازو تھام کر اسے اٹھایا اور
جنگل کھنگھالنے لگی ۔مگر اس جنگل میں کہیں کسی جگہ کا کوئی نام و نشان نہ تھا ۔
شششش؟؟؟تمہیں کسی کے بولنے کی آواز آرہی ہے
رومیصہ لبوں انگلی جماتے ہوئے رازداری سے بولی ۔
وہ غور سے کان لگا کر سننے لگی ۔ ہاں آ تو رہی ہے !
وہ شور پیدا کیِے بغیر آواز کا تعاقب کرنے لگیں ۔تبھی انہیں پانی کے جھرنے سے دو لوگ پانی بھرتے دکھاِئی دیئے ۔ رومیصہ نے نظر گھماکر دیکھا تو روڈ پر ایک گاڑی کھڑی تھی ۔ غالبا گاڑی میں ڈالنے کے لیئے پانی بھر رہے تھے ۔ ہم انکا پیچھا کرتے ہیں ، ہوسکتا ہے یہ وہی لوگ ہوں ، ورنہ معمولی انسان جنگل کے راستے سے کیوں جائے گا ! وہ نبیشہ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے بولی ۔ نبیشہ نے سر اثبات میں ہلایا اور بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔سڑک جنگل سے زرا ڈھلوان کی طرف تھی ۔سو وہ آسانی سے انکا تعاقب کرسکتی مگر مسلہ یہ تھا کہ وہ گاڑی پر تھے اور وہ دونوں پیدل ۔ مگر انہوں پھر بھی ہار نہیں مانی ۔وہ جی جان سے انکی پیچھے بھاگنے لگیں ۔ آخر کار نے انہیں ایک warehouse تک پہنچا دیا ۔ شام کے وقت تھا ۔ سورج ڈھل رہا تھا ۔ پنچھی اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے اور وہ دونوں گھر سے دربدر ہوکر جنگل میں اپنے بہن کی تلاش میں بھٹک رہی تھیں ۔
امید ہے یہی وہ جگہ ہو ! رومیصہ گھٹنوں پر ہاتھ رکھتی سانس بحال کرنے لگی۔
انشااللہ ! وہ اسکے نظروں کے تعقب میں اس گھر پر نظر ڈالتے ہوئے بولی ۔
اب میری بات دھیان سے سنو ! میں اندر جائونگی اور تم یہیں رک کر انتظار کرنا ، اور ایمان کو لے کر یہاں سے دور چلی جانا ، ان کیس اگر مجھے کچھ ہوجاتا ہے تو پاگل پن مت کرنا اپنی جان بچانا ! ٹھیک ہے ؟؟؟
اس نے اپنی بات مکمل کیئے نظر گھما کر نبیشہ کو دیکھا تو وہ آنسو سے تر چہرہ لیئے بے بسی اور بے یقینی سے اسے گھور رہی تھی ۔
تمہیں کچھ نہیں ہوگا! وہ روتے ہوئے اس سے لپٹی ۔رومیصہ نے مسکراتے ہوئے اسکے گرد بانہیں پھیلائیں ۔
یہ لو اسے پکڑو ، اور انتظار کرو! وہ چاقو اسکے ہاتھ میں دیتی ہوئی بولی ۔
ن ن نہیں اسے تم اپنے پاس رکھو ، رومی وہ لوگ بہت خطرناک ہیں ! وہ یہ بات کوئی چھتیس بار دہرا چکی تھی ۔ رومیصہ کو اب کچھ کچھ اندازہ ہونے لگا تھا ۔ اس نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے چاقو موڑ کر جیب میں ڈالا اور اسکی ماتھے پر لب رکھتی ہوئی آگے بڑھنے ۔
رومی؟؟؟ وہ بے بسی سے اسے پکار بیٹھی ۔ رومیصہ نے مڑ کر اسے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔
تمہیں کچھ نہیں ہوگا نا؟؟؟؟ ! نہ جانے وہ پوچھ رہی تھی یا بتا رہی ۔۔۔۔ ۔پتا نہیں اسے کیوں کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہو رہا تھا ۔ رومیصہ مسکرا کر سر ہلاتی ہوئی آگے بڑھنے لگی ۔وہ اس وقت ویرہائوس کی پچھلی جانب موجود تھیں ۔رومیصہ گارڈز کی نظر سے بچتی بچاتی ایک کمرے کا رخ کرنے لگی ۔ جو خوش قسمتی سے کنٹرول روم تھا ۔واشروم سے پانی گرنے کی آواز آرہی تھی ۔ اس نے آواز پیدا کیئے بغیر واشروم کے دروازے کی کنڈھی چڑھائی اور کرسی کھینچ کر سی سی ٹی وی فوٹیج کا جائزہ لینے لگی ۔ وہ باآسانی اس وقت پورے ویرہاِئوس کو دیکھ سکتی تھی ۔ ایک کمرے کی فوٹیج پر اسکی نظر ٹھہر سی گئی ۔وہ یقنا ایمان ہی تھی ۔ اس نے جلدی سے بیگ اٹھایا اور باہر کا رخ کرنے لگی ۔مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے رکی ۔ وہاں ایک لیپ ٹاپ پڑا تھا جہاں کسی پرجیکٹ کی فوٹیج چل رہی تھی ۔اس نے موقع جان کر بیگ سے پینڈرائیو نکالی اور سارا ڈیٹا اسمیں ٹرانسفر کرنے لگی ۔ اسکے لیئے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا ۔وہ ماہر تھی ۔ پینڈرائیو نکال کر اس نے لیپ ٹاپ بند کیا اور آواز پیدا کیئے بغیر باہر نکل کر کمرہ لاک کردیا ۔ایمان کا کمرہ تلاش کرنے میں اسے دقت نہیں ہوئی کیونکہ یہ اس ویر ہائوس کا پہلا حصہ تھا ۔
گھر کا پہلا پورشن جہاں زیادہ کمرے نہیں تھے ۔ وہ آہستگی سے لاک گھما کر اندر داخل ہوگئی ۔ ایمان گھٹنوں میں منہ دیئے سوئی جاگی کیفیت میں پڑی تھی ۔ اسکی حالت دیکھ رومیصہ کی آنکھوں میں آنسو جاری ہونے لگے ۔ کہاں وہ سجی سنوری ہشاش بشاش زندگی سے بھرپور ایمان ۔ اور کہاں یہ خستہ حال ڈری سہمی اسکی بہن ۔ایمان ؟ ایمان ؟ اس نے رازداری سے کہتے اسکا کندھا ہلایا ۔ایمان نے آہستگی سے پلکیں وا کیں ۔تو رومیصہ کا چہرہ اسکے نظروں سے ٹکرایا ۔ پہلے پہل تو اسے یقین نہیں آیا ۔ اس نے بے یقنی سے اسکے گالوں کو چھوا۔ ر ررر رومی ، رومی ! ی یہ یہ تم ہو؟؟؟؟ وہ بے یقنی سے اسکا ہاتھوں میں لیئے بولی ۔ رومیصہ نے مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔وہ اسے خود میں سموتی زارو قطار رو پڑی ۔
تم کہاں تھی رومی ، تمہیں پتا ہے ہم یہاں پھنس گِئے ہیں رومی وہ سسکتے ہوئے بولی ۔
میں آگئی ہوں نا ،چلو شاباش اٹھو جلدی ،ورنہ کوئی آجائے گا ! وہ اسکا کندھا تھام کر اٹھاتی ہوئی ۔ کھڑکی کے پٹ وا کرنے لگی ۔ایمان اسکی مدد سے کھڑکی کے اس جانب کودنے ہی والی تھی کہ دھڑا دھڑا دروازہ بجنے لگا ۔رومیصہ نے جلدی سے اسے باہر کی جانب دھکیلا اور بیگ اتار کر اسے تھمایا ۔
اس بیگ میں ایک پینڈرائیو بہت قیمتی ہے ، اس میں ان لوگوں کے خلاف تمام ثبوت ہیں یہاں سے جاتے ہی وہ پولیس کو دے دینا اب جائو یہاں سے ! وہ عجلت میں کہتی چیخی ۔دروازہ ہنوز بج رہا تھا ۔
ن نہیں نہیں میں تمہارے بغیر نہیں جائونگی رومی ! ایمان خوف سے نفی سر ہلاتی ہوئی وہیں جمی رہی ۔
پاگل مت بنو جائو یہاں سے ، نبیشہ کچھ دوری پر موجود ہے اسے جنگل کا راستہ بھی معلوم ہے اب جائو
وہ غصے سے چلائی ۔ایمان بے بسی سے روتی اسکا بیگ اپنے سینے سے چمٹائے وہاں سے دور ہوتی چلی گئی ۔نبیشہ کو دیکھ کر اسکا رہا سہا ضبط جواب دے گیا ۔ وہ پھوٹ پھوٹ کر پڑی ۔نبیشہ اسے بمشکل سنبھالتی درخت کی اوٹ میں لے آئی ۔ یہاں سے سامنے کھڑکی کا منظر واضع دکھائی دے رہا تھا ۔تبھی دھاڑ کی آواز کے ساتھ دروازہ کھلا اور لمبا چوڑا شخص سیاہ پینٹ کوٹ میں ملبوس وہاں پر نمودار ہوا ۔ وہ قہم بھری نگاہوں سے رومیصہ کو گھورنے لگا ۔ رومیصہ کو اسکی آنکھوں سے خوف آنے لگا ۔ اور تو اور اسکے ہاتھ میں بندوق پہلے سے موجود تھی ۔ اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے چاقو پر گرفت مضبوط کی ۔ اس سے پہلے وہ کوئی کاروائی کرتی ۔اس ظالم شخص نے بندوق اسکی جانب پوائنٹ کرتے ہوئے سخت طیش کے عالم میں ٹریگر دبا دیا ۔ ٹھاہ کی آواز سنسان رات میں فضا میں گونجی ۔ رومیصہ کی آنکھوں میں خون اترنے لگا
۔ہاہہ۔ہہہہہ اس نے بے یقینی سے سسکتے ہوئے اپنے سینے پر ہاتھ جمایا ۔اسے تکلیف محسوس ہورہی تھی ۔۔۔۔۔اس نے سینے پر جما ہاتھ نظروں کے سامنے کیا تو اسے ہر طرف خون ہی خون نظر آنے لگا ۔ایک سسکی اسکے لبوں سے برآمد ہوئی ۔اور اسکے حواس جواب دے گئے ۔وہ لہرا کر اوندھے زمین پر جاگری ۔اسکی آنکھیں دھیرے دھیرے بند ہونے لگیں ۔زوہان تو کبھی اسکی ماں کا مسکراتا چہرہ اسکے سامنے گردش کرنے لگا اور پھر مکمل سیاہی چھاگئی ہر طرف ۔وہ دونوں سکتے کے عالم میں درخت کی اوٹ سے یہ منظر دیکھنے رہی تھی ۔
نبیشہ سختی سے انگلیاں اس کے منہ پر جماتے ہوئے چیخوں کا گھلا گھونٹا
کس قدر خود غرض تھی وہ دونوں ۔۔۔۔اپنی جان بچانے کی خاطر اپنی سرپرست کی جان سولی پر چڑھا دی ۔۔۔۔ وہ رات ان پر بہت بھاری تھی ۔یمان نامی بلا کے لوگ ہر طرف انہیں ڈھونڈ رہے تھے ۔وہ کسی طرح جنگل سے نکل کر میلان شہر میں داخل ہوچکی تھی ۔کیونکہ جنگل والا حصہ وینس شہر میں جا پڑتا تھا ۔ اپنا آپ وہ کہیں بہت پیچھے چھوڑ آئی تھی ۔ایمان ہنوز سکتے میں تھی ۔نبیشہ کو کچھ خبر نہیں تھی وہ کہاں ہیں ۔۔۔۔۔کہاں نہیں ؟
انہوں نے اسے مار دیا ، وہ ہماری وجہ سے مرگئی ، رومی ہماری وجہ مرگئی ایمان غیر مرئی نقطے کو گھورتی سرگوشیوں میں بولتی پاگل معلوم ہورہی تھی ۔
نبیشہ اسکے قریب ہوتے ہوئے اسکا سر اپنے کندھے پر ٹکایا ۔رو رو کر انکے آنسو سوکھ چکے تھے مگر صدمے تھا کہ کم ہونے کا نام نہیں لے رہا تھا ۔وہ دونوں زندہ لاشیں بن کر رہ گئیں تھی ۔۔۔ آنکھیں آج ہر قسم سے جذبات سے عاری ہوچکیں تھی ۔وہ لاوارثوں کی طرح سڑک کے کنارے بیٹھیں تھیں ۔مگر رات ابھی باقی تھیں ۔وہ یہاں نہیں گزار سکتیں تھی ۔
اٹھو ، ایمان چلو چلیں یہاں سے ،وہ خالی خالی آنکھوں سے اسے گھورتی ہوئی بولی جو ناخنوں سے زمین پر سے مٹی کھروچ رہی تھی ۔
میں رومی کے بغیر نہیں جائونگی ! تمہیں کتنی بار بتایا ہے ! وہ ہٹ دھرمی سے بولی ۔
چلو بھییی ! نبیشہ اسکا بازو کھنچتی ہوئی بولی ۔ ایمان نے سرخ نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔
مجھے تم پر یقین نہیں آرہا تم اتنی غرض کیسے ہوسکتی ہو وہ اسکا کندھا جھٹک کر آگے آگے چل دی ۔
وہ اسے مورد الزام ٹھہرانے لگی ۔۔نبیشہ خاموشی سے اسکے ہم قدم ہوئی ۔انہیں نہیں معلوم وہ کہاں جا رہی تھی ۔ بس راستہ تھا کہ ختم ہوکے نہیں دے رہا تھا ۔وہ دونوں مکمل بات چیت بند کیئے ۔ سنسان انجان راستوں پر چلتی جارہی تھی ۔اتنا کہ ایمان تھک کر زمین بیٹھ گئی ۔یہ کوئی پوش علاقہ تھا ۔رات کے وقت وہاں اکا دکا لوگ تھے ۔
مجھے پیاس لگی ہے ! وہ آہستگی سے بولی ۔نبیشہ نے نظر گھما کر دیکھا وہاں کوئی اسٹور بھی موجود نہیں تھا ۔ مطلب انہیں اب اور آگے چلنا تھا ۔وہ مایوسی سے اسکی کہنی تھامے اپنے ساتھ گھسیٹنے لگی ۔زرا دور ایک جانی پہچانی عمارت کے سامنے آکھڑی ہوئی ۔وہ میوزیم تھا ۔ وہ لوگ یہاں پہلے بھی ایک بار ٹور کر چکے تھے ۔ مگر آج یہاں معمول سے زیادہ رش تھا ۔ شاید کوئی تہوار منایا جارہا تھا ۔یہ انکے لیئے سیف جگہ تھی وہ یہاں رات گزار سکتی تھی ۔ مگر اندر کیسے داخل ہوتی انکے پاس تو اسٹوڈنٹ کارڈ بھی موجود نہیں تھا ۔ وہ عین سامنے کھڑی اجڑی حالت میں روشنیوں کو گھور رہی تھی ۔۔۔۔۔
نبییییشہہہ !ولدان کی چہکتی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا ۔وہ بھاگتی ہوئی اسکے سینے سے آلگی ۔
کہاں غاِئب ہوگئی تھی تم دونو، پتا ہے میں کتنا پریشان ہوگئی تھی ! اسٹڈی کا اتنا لاس ہوگیا اور تم لوگ ہو کہ سیر سپاٹے ہی ختم نہںیں ہورے تمہارے ! وہ نان اسٹاپ شروع ہوچکی تھی ۔اسکے تاثرات اور حلیے کا جائزہ لیئے بغیر ہی ۔اچھا یہ بتاِئو ایمان کہاں ہے ، میں پہلے بتا رہی ہو میں اسے معاف نہیں کرونگی ،چاہے جتنی بھی معافیاں مانگ لے بھلا ایسے بتائے بغیر بھی کوئی جاتا ہے کیا؟؟؟؟؟
یار ! بتاِو نا کہاں ہے ایمان؟ نببیشہ نے رخ موڑ کر بینچ پر بیٹھی ایمان کی جانب دیکھا ۔ ولدان اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتی ایمان کی جانب لپکی ۔
تو یہاں بیٹھی ہے میڈم ! کہاں غائب تھیں تم ، پتا ہے پروفیسر جانس نے تمہارے پانچ اسکور مائنس کردیئے ہیں اور تم ہوکہ کوئی پراوہ نہیں ! وہ ایمان سے اور بھی بہت کچھ کہہ رہی تھی مگر وہ غائب دماغی کے عالم میں بیٹھی رہی ۔
اور پتا ہے آج فائر فیسٹیول ہے ,ہم نے پلین کیا تھا ہم یہاں آئیں گے شکر ہے تم آگئی ورنہ میں تمہارے بغیر سخت بور ہوگئی تھی بھائی کے ساتھ , چلو آئو تمہیں دکھاتی ہوں اندر سے بہت خوبصورت ہے ! ولدان اسکا ہاتھ تھامے میوزیم کے اندر لے گئی ۔ ایمان وہاں ہوکر بھی وہاں نہیں تھی ۔ نبیشہ لٹے پٹے انداز میں بنچ پر ڈھے گئی ۔سب اسکا قصور تھا ۔ سب اسی کی غلطی تھی نہ وہ رومیصہ کو بلاتی نہ یہ سب ہوتا ۔مگر امتحان ختم نہیں ہوا تھا ۔ابھی بہت کچھ باقی تھا ۔۔۔۔
***********************************
وہ غصے میں پولیس اسٹیشن سے نکلنے کے بعد کئی گھنٹوں سے ساحل سمندر پر موجود تھا ۔یمان کی آنکھوں میں شناسائی کی رمق تک موجود نہیں تھی ۔مطلب اسکا چہیتا بھائی اسے بھلا چکا تھا ۔تو پھر وہی بے وقوف تھا جو ماضی میں گزرے پلوں کو یاد کرکے اپنا دل جلا رہا تھا۔اس نے ہاتھ پکڑا برسلیٹ مسلا ۔ایک پل کو اسکا دل چاہا اسے سمندر کی نظر کردے مگر کچھ سوچتے ہوئے اس نے دوبارہ جیب میں ڈالا اور کپڑے جھاڑتا اٹھ کھڑا ہوا ۔تبھی اسکے فون پر اسے نوٹیفکیشن موصول ہوا ۔جو کسی جگہ کی لوکیشن تھی شاید ۔۔۔۔اسکے دوستوں کی جانب سے سینڈ کی گئی تھی ۔ وہ اپنے آپ کو کام ڈائون کرنا چاہتا تھا سو گاڑی میں سوار ہوتے ہوئے لوکیشن پر آپہنچا ۔ مگر یہ تو کوئی میوزیم تھا ۔ اسے لگا وہ لوگ اسے کلب یا پارٹی وغیرہ میں بلا رہے ہیں ۔ میوزیم جیسی تاریخی جگہوں میں اسکا انٹرسٹ بلکل زیرو تھا ۔وہ گاڑی کی چابی گھماتے ہوئے واپس ہولیا۔ سنگی بنچ کے پاس سے گزرتے ہوئے اسکے نظر غیر معمولی طور کسی لڑکی پر پڑی وہ نظر انداز کرتا دو قدم آگے بڑھا ۔مگر کوئی تاثر سالہرایا اسکی نظروں کے سامنے وہ رک مڑا ۔ اور اس لڑکی کا چہرہ دیکھنے لگا ۔ بلا شبہ وہ وہی لڑکی تھی ۔جو اسے ماسکو میں ملی تھی ۔اس کی نظر پلٹنا بھول گئی ۔وہ کئی لمحے اس لڑکی کو اسی نظروں سے تکتا رہا ۔
تبھی اسے غیر معمولی شور سا سنائی دیا ۔میوزیم کی عمارت سے دھواں سا اٹھنے لگا ۔
What the hell is going on????
وہ بے یقینی سے عمارت سے اٹھتا دھواں دیکھتے ہوئے بڑبڑایا ۔ پھر ایک نظر گھما کر اس لڑکی پر ڈالی جو ہنوز اسٹیچو بنی وہاں بیٹھی ہوئی تھی ۔
لوگوں میں خوف ہراس پھیل گیا ۔ آگ آگ چلاتے ہوئے میوزیم سے باہر نکلنے لگے ۔ گویا قیامت برپا ہونے والی ہو ۔یشم تیزی سے نمبر ڈائل کرتے ہوئے فائربرگیڈ کو خبر کرنے لگا ۔ میوزیم کی عمارت لکڑی سے بنی تھی ۔ تبھی منٹوں میں اسے آگ نے لپیٹے میں لے لیا ۔فضا میں پولیس کی گاڑیوں کے سائرن بجنے لگے ۔نبیشہ حواسوں میں لوٹتی ہوئی اٹھی اور اس جانب چل دی ۔
ہے ہے ہے ، ویئر آر یو گوئنگ ؟ یشم اسے اندھا دھند جاتا دیکھ کر اسکی کہنی دبوچ کر روکا ۔
وہ ۔۔ وہاں ، وہاں میری بہن ہے ! وہ اسے حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی ۔
تم دیکھ نہیں رہی وہاں آگ لگی ہے ۔۔۔۔۔آگ!
یشم لفظوں پر زور دیتا ہوا بولا ۔
آ آ ۔آگ ؟ ن نہیں نہیں نہیں ! ایمان ؟ایمان اندر ہے ایمممممااااان ! وہ چلاتی ہوئی اپنا ہاتھ چھڑا کر بھاگی ۔ اے رکو کہاں جارہی ہو ! وہ بھوکھلا کر اسکے پیچھے بھاگا ! پولیس آفیسر نے DO NOT ENTER’ کا سلیش لگا کر سارا ایریا سیل کردیا تھا ۔
پلیز آفیسر مجھے اندر جانے دیں میری بہن اندر ہے
وہ منت بھرے اندر میں آفیسر پر چلائی جو اسے دبوچے ہوئے تھا ایماننننننن ۔۔۔۔ چھوڑو مجھے ۔۔۔ ۔وہ مزاحمت کرتی چیخی ۔۔اتنے میں زور دار دھماکہ ہوا اور عمارت زمین بوس ہوگئی ۔ہر طرف چیخ و پکار اور دھواں دھواں پھیل گیا ۔ نبیشہ صدمے کے عالم میں یہ منظر دیکھنے لگی ۔ یکا یک اسکی نظروں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔ وہ بے ہوش ہوکر گرتی یشم نے اسکے گرد گھیرا بناکر تھام لیا ۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *