The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode19
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode19
The Dark by Uzzai Zehan Episode19
مہینے ہفتوں اور ہفتے دنوں میں گزرنے لگے ۔ وہ شہر کی خاک تک چھان چکا تھا مگر اس لڑکی کا کچھ پتا نہیں چل پارہا تھا۔ وہ روز کسی انہوں کے احساس سے جلتا کڑھتا اوپر سے اسکی ماں کا منگنی کے متعلق دبائو بڑھتا ہی جارہا تھا وہ کیا کرتا ایسے میں اسکی سمجھ سے باہر تھا ۔
وہ رحمان خاور کی تمام چھوٹی بڑی رہائش گاہوں کا چپہ چپہ دیکھ آیا تھا مگر کہیں نہیں ملی اسے ۔
زمین کھاگئی اسے یا آسمان نگل گیا
وہ بری طرح ناکام ہوا تھا ۔ اسکی ناکامی اسکے کرییئر اور میڈلز پر سوالیہ نشان تھی ۔ وہ بڑے سے بڑا اور ڈفکلٹ کیس سولو کرتے دیر نہیں لگاتا تھا۔ مگر محبت کے معاملے میں وہ پیچھے رہ گیا تھا ۔ بہت پیچھے ۔
***************************************
آسمانی رنگت کا تاثر دیتی نشیلی آنکھیں ، ہلکی ہلکی شیو ، سرخ لب ، موتی کی طرح چمکتے دانت ! !سیاہ تھری پیس میں ملبوس ,بالوں کو جیل لگا کر اوپر کی طرف سیٹ کر رکھا تھا۔ وہ ایوارڈ سرمنی پر جانے کے لیئے اسکی فرمائش ملک کے مشہور اسٹلسٹ اور آرٹسٹ رابڑٹ اسٹون سے تیار ہوا تھا ۔
وہ خود ہی خود کو بگاڑے رکھتا تھا زرا سی توجہ سے سنورنے پر ہی اسکی پرسنالٹی کو چار چاند لگا دیئے تھے ۔شہزادوں سے کہیں شاندار تھا اسکا بیٹا ۔ ! تاتیہ نے تفصیلی نگاہ اس پر ڈالتے بلائیں لیں ۔
یسوع تمہیں بری نظر سے بچائے ! وہ محبت سے گال سے گال مس کرتی ہوئی بولی
شکر ہے تم آگئیں تاتیہ مجھے ،
اگر تم نے اب ایک بار بھی اور میرے منہ کو ہاتھ لگایا تو خدا کی قسم تمہارے ہاتھ توڑ دونگا میں ! وہ اپنی بات ادھوری چھوڑ کر ناگواری سے اپنے سر پر منڈلاتے اسٹائلسٹ کو بولا ۔
اس بے چارے نے مدد طلب نگاہوں سے تاتیہ کو دیکھا ۔
اسے اپنا کام کرنے دو یشم ! وہ نرمی سے بولی ۔
بس بہت ہوگیا ! اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوا ۔
تم جائو ! وہ اسے جانے کا کہتی ہوئی اس سے مخاطب ہوئی ۔
تم اکتا کیوں جاتے ہو اتنی جلدی ! دیکھو تو سہی !
چھوٹی سی ایوارڈ سرمنی ہے میری شادی نہیں ! وہ بے زارگی سے شیشے میں خود پر نظر ڈالتا ہوا بولا ۔
چھوٹی ؟ تمہاری نظر میں چھوٹی ہوگی یشم !
اچھا چلنا ہے یا نہیں ! وہ جھنجھلایا ۔
تم نے بتایا نہیں میں کیسے لگ رہی ہوں ! وہ شوخی سے بولی ۔ یشم کرسی پر جھولتا ہوا مڑا ۔
ہلکے سے میک اپ کے ساتھ ویوی بال دوسرے کندھے پر سیٹ کیئے ! کانوں میں ٹاپس اور گلے چمکتا ڈائمنڈ کا نیکلس جگمگا رہا تھا ، سیاہ سلیولیس میکسی میں اسکے لباس کا آدھے سے زیادہ حصہ زمین پر پڑا تھا ۔
تم جل پری لگ رہی ہو مجھے اس وقت،
ایک حسین جل پری ! وہ جوش سے اسکی جانب ہاتھ بڑھاتا ہوا بولا ۔
اونہہو ! وہ مسکراتی ہوئی اسکی توجہ اپنے ڈریس کی جانب دلانے لگی ۔
سوری سوری ! وہ جھٹ سے بولا ۔
چلیں میم ! وہ کہنی آگے بڑھاتا ہوا بولا۔ تاتیہ کھلکھلا کر ہنستے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما ۔
***************************************
نوٹس بورڈ پر ٹور کا نوٹیفیکیشن دیکھ کر ایمان خوشی سے اچھلی ۔ ولدان نے کہنی مار کر گھورتے ہوئے اسے آگے چلنے کا اشارہ کیا ۔ کیونکہ وہاں اسٹوڈنٹس بھرمار ہونے والی تھی ۔ چونکہ انہیں پہلے ہی خبر مل گئی تھی اسلیئے وہ یہاں صبح سے ہی موجود تھی ۔ نوٹیفکیشن لگائے جانے کے بعد بقیہ اسٹوڈنٹس بھی نظر مار رہے تھے ۔ چونکہ اکثریت یہاں اتالوی اسٹوڈنٹس کی تھی جنہوں پہلے سے ہی وینس کئی بار دیکھ رکھا تھا ۔ سو انکے کے لئے کوئی نئی بات نہیں تھی ۔
کیوں نہ آج شاپنگ پر چلیں ! وہ کینٹین کی بڑھتی ہوئی کھلکھلائی ۔ ولدان نے اچٹتی نگاہ اس پر ڈالی ۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو ، وہ سوالیہ گویا ہوئی ۔
اتنا کچھ تو ہے تمہارے پاس اب کیا پورا اٹلی خریدو گی ! وہ برہمی سے بولی ۔
اسی اثنا میں نبیشہ بھی کلاس سے فارغ ہوکر انکے ساتھ آ بیٹھی ۔ کیا باتیں ہورہی ہیں ؟؟
وہ باری باری دونوں پر نگاہ ڈالتے ہوئے بولی ۔
بی بی شاپنگ پر جانا چاہتی ہیں ! ولدان نے لقمہ دیا ۔
اتنا کہنا تھا کہ نبیشہ نگاہوں سے ایمان کو گھورنے لگی ۔
کیا ہے نا ! وہ خفت کا شکار ہوئی ۔
تم لوگ تو میرے پیچھے ہی پڑ گئی ہو یار ، اچھا بس تھوڑی سی شاپنگ کریں گے ! اتنی سی بس! وہ انگوٹھے اور انگلی کا گول دائرہ بناتے ہوئے منت بھرے انداز میں بولی تو ان دونوں کی بے اختیار ہنسی چھوٹی ۔
ٹھیک ہے ! لیکن ابھی کھانا کھا کر آرام کرتے ہیں ! شام کو چلیں گے !۔ وہ فورا سے مان گئیں ۔ ولدان سر ہلاتی ہوئی ۔ کھانا لانے کے لیئے اٹھی ۔
ویسے جانا کب ہے ؟ نبیشہ نے سرسری سا پوچھا ۔
کل شام کو ! وہ انگلیوں سے بال سنوارتے ہوئے بولی ۔
کل شام ؟ وہ کچھ پریشان ہوئی۔
ہاں کیوں ؟ کوئی مسلہ ہے ! وہ سیدھی ہو بیٹھی ۔
بہت امپورٹنٹ کلاس ہے میری یار ! وہ پیشانی مسلتی ہوئی بولی ۔
ہونہہ ! وینس سے امپورٹنٹ بھی کچھ ہو سکتا ہے بھلا ! ایمان نخوت سے بولی ۔
جی ہاں ! پڑھائی ۔
جس کے لئے ہم یہاں آئے ہیں ! نبیشہ نے جیسے اسے یاد دلایا۔
چلو بھی ، ایسا موقع بار بار نہیں ملتا ! وہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارتی ہوئی اسرار کرنے لگی ۔
نبیشہ نے نیم رضا مندی سے سر ہلایا ۔
آ اچھا سنو ! وہ آنکھیں گھماتی ہوئی بولی ۔
تمہاری رومی سے بات ہوئی ؟ وہ جھجک کر پوچھنے لگی ۔ نبیشہ نے سر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ جیسے ایمان سے اس سوال کی توقع نہیں کر رہی تھی ۔
اور پھر مایوسی سے سر نفی میں ہلایا ۔
ک کیا ؟ کیا وجہ ہو سکتی ہے ؟؟؟ ایمان کو اب سہی معینوں میں پریشانی لاحق ہونے لگی تھی ۔
نبیشہ نے لا علمی سے کندھے اچکائے ۔ اسے واقعی کوئی انداز نہیں تھا۔
اسی لمحے ولدان کھانا لے آئی ۔اور وہ خاموشی سے کھانا کھانے لگیں ۔
کیا ہوا ایک دم سے خاموشی کیوں چھا گئی ؟ ولدان نے حیرانی سے پوچھا ۔ کیونکہ وہ انہیں کھلکھلاتا چھوڑ کر گئی تھی ۔ مگر ؟؟؟
ایسے ہی ، ایمان نے لاپرواہی سے کندھے اچکائے ۔
رومی کہاں ہو تم ؟؟؟؟
نبیشہ بے دلی سے کھانے میں چمچ گھمانے لگی۔۔۔
***************************************
وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی جب اسے محسوس ہوا کوئی دروازہ سے اندر داخل ہوا ہو جیسے ۔ اس نے بمشکل آنکھیں کھولتے ہوئے دیکھا ۔ مگر منظر دھندلایا سا تھا ۔ شاید اطہر ہو؟؟ اک موہوم سی امید اسکے دل میں جاگی ۔پھر کوئی نفوس کرسی کھینچ کر اسکے سامنے بیٹھ گیا ۔اور پاس پڑا پانی کا جگ اٹھایا اور اسکے سر پر انڈیل دیا ۔ وہ ہڑابڑا کر سیدھی ہوئی۔ یکا یک اسکے تاثرات غصے اور نفرت میں تبدیل ہونے لگے ۔
تو کیا فیصلہ کیا تم نے ؟ تم میری بیٹر ہاف بننا چاہتی ہو یا ؟ رحمان نے معنی خیزی سے جملہ ادھورا چھوڑا ۔
اسکا دماغ تیزی سے چلنے لگا اگر اس خر دماغ سے ضد لگاتی تو عمر بھر شاید قید ہی اسکا مقدر بنتی
ٹھیک ہے مجھے منظور ہے ! وہ جھٹ سے بولی ۔
ہاں ؟ کیا کہا ؟ پھر سے کہنا زرا ! شاید میں نے غلط سنا ! وہ بے یقینی سے کان اسکے قریب لے جاتا ہوا بولا ۔
مجھے تمہاری شرط منظور ہے ! اس نے ناگواری سے رخ پھیرتے ہوئے کہا ۔
دیٹس لائیک مائی گرل ! وہ اسکا گال زور سے کھینچتا ہوا بولا ۔
تو چلو پھر شادی کی تیاریاں شورع کی جائیں ، کیونکہ اب مجھ سے اور انتظار نہیں ہوتا !
رومیصہ نے نفرت اور غصے اسے گھورا ۔
مزے کی بات تو یہ ہے کہ ڈیڈ بھی اس شادی میں شامل ہونگے ! اور حیرت کی بات تو یہ کہ انہیں اب تم سے کوئی مسلہ نہیں ! انکا کہنا ہے کہ انکی الیکشن کیمپین پر بہت اچھا اثر پڑے گا جب لوگوں کو پتا چلے گا کہ میں ایک یتیم اور بے آسرا لڑکی کو اپنایا ہے یو نو !.ا
وہ اسکی طرف جھکتا ہوا خباست سے مسکرایا ۔
وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔ کس قدر بے حس لوگ تھے ۔
دفع ہو جائو یہاں سے ! وہ۔نفرت سے چیخی ۔
جیسے تم کہو ! وہ ہنستا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
رومیصہ بے بسی سے فرار کی راہ تلاشنے لگی ۔ اسکا اب یہاں سے نکلنا بہت ضروری ہوگیا تھا ۔ وہ مر تو سکتی تھی مگر ان قاتلوں کے بیچ ایک پل بھی اور رہنا اسے گوارہ نہیں تھا کجا کہ شادی ۔
*************************************
کلاس لینے کے بعد اس نے مین روڈ کا رخ کیا ۔ دماغ میں پکڑ دھکڑ چل رہی تھی ۔ کہیں اسکے ساتھ کچھ ہو نہ گیا ہو؟ کہیں وہ کسی مصیبت میں نہ پھنس گئی ہو !
عجیب سے خیالات اسکے دماغ میں آرہے تھے ۔
اس نے ٹیلی فون بوتھ کو دیکھ کر لمبی سانس لی اور قدم آگے بڑھاتے ہوئے کریڈل کان سے لگایا ۔ اور نمبر ڈائل کرنے لگی ۔ کچھ ہی پلوں میں اسے سخت مایوسی کا سامنا کرنا پڑا ۔ کیونکہ اسکا نمبر ابھی بھی بند جارہا تھا ۔
یا اللہ ! کیا کروں میں ؟ کیسے پتا لگائو ں ! وہ کریڈل بے بسی سے واپس پٹختی شکست خوردہ قدموں سے واپس مڑی ۔ وہ بارہا ہاسپٹل کے کئی چکر لگا چکی تھی ۔ تاکہ ڈاکٹر کاظمی کے زریعے سے کچھ چل سکے مگر ! وہاں سے بھی اسے مایوسی کا منہ دیکھنا پڑا ۔ انہیں سوچوں میں غلطاں وہ کب ہاسٹل پہچی اسے خبر نہ ہوئی
۔ کہاں سے آرہی ہو یار ! پتا بھی ہے اگر ہم لیٹ ہوگئے تو ہمیں چھوڑ کر چلیں جائیں گے وہ لوگ! ایمان اپنی ہی جون میں کہتی ہوئی اسے پانی کا گلاس تھما کر مڑی ۔
اور آئینہ کے سامنے کھڑی اپنا عکس دیکھنے لگی ۔
سرخ رنگ کے بزنس سوٹ میں ملبوس ، سیاہ گہری آنکھیں ،تراشیں ہوئی بھنویں ، گلابی گال پر اسکی چمکتی گلابی رنگت ،لبوں پر سرخ لپ اسٹک ، بالوں کو اسٹریٹ کیئے کندھے پر کھلا چھوڑ رکھا تھا ! وہ بہت حسین لگ رہی تھی ۔ نبیشہ نے بے اختیار نظریں ہٹالیں ۔ کہیں اسی کی نظر نہ لگ جائے اسے ۔
کیا ہوا ایسے ہونکوں کی طرح کیوں بیٹھی ہو ، تیار ہو جائو ایمان ناک پر آئ ویئر جماتی ہوئی اسے ڈپٹنے لگی ۔
دیکھو اب یہ مت کہنا کہ تم نہیں جا رہی ، کم آن یار بہانے بنانا بند کرو ! اسے بری سے شکل بناتے دیکھ کر وہ فورا بولی ۔
ولدان کہاں ہے ! اس نے تھکے تھکے انداز میں شوز اتارے ہوئے سرسری سا پوچھا ۔
چینج کرنے گئی ہے ، تم بھی اٹھو جلدی کرو ،ریڈی ہو جائو چھ بجے نکلنا ہے ہمیں ! وہ مصروف انداز میں اسے تاکید کرنے لگی ۔
نبیشہ نے بے دلی سے شوزوں کو پیر مار کر ایک طرف کرتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔فریش ہونے کے بعد اس نے لیمن کلر کے ٹرئوزر اور ہم رنگ لونگ کوٹ کے ساتھ سفید رنگ کی شرٹ پہنی اور بالوں کو کندھوں پر کھلا چھوڑ کر ہیلز پہننے لگی ۔ کیا مطلب تم میک اپ نہیں کر رہی ؟؟؟
ایمان حیرانگی سے پوچھنے لگی ۔
کہہ تو ایسے رہی جیسے تمہیں نہ پتا ہو پہلے سے کہ’ میں میک اپ نہیں کرتی’ ! نبیشہ نے اسے یاد دلایا ۔
ہاں مگر آج تو کرلو یار ، بہت خوبصورت لگو گی قسم سے ! وہ گلوز کاڈھکن کھولتی ملتجی ہوئی ۔
نو تھینکس ! اس نے ہاتھ سے اسکا پرے دھکیلا اور کوٹ اٹھا کر پہننے لگی ۔
مرضی ہے ! وہ اپنے میک اپ کو فائنل ٹچ دینے لگی ۔
شکر ہے تم بھی آ گئی ورنہ ایسا لگتا تھا کہ آج سارا دن تم نے وہیں گزارنا ہے
وہ ولدان کو دیکھ تنزیہ گویا ہوئی ۔ جو منہ پھاڑے حیرانگی اسے تک رہی تھی ۔
کیا ؟ ایمان نہ سمجھی سے پوچھنے لگی ۔
تم ، بہت خوبصورت لگ رہی ہو ! وہ بوکھلائی ۔
بس بھی کرو تم دونو ! وہ اسکی باتوں کا اثر نہ لیتی ہوئی ناک سے مکھی اڑانے کے انداز میں بولی ۔
اب بھلا دوستوں میں کیسی تعریف ؟ ہے نا! نہیں ، واقعی تم بہت خوبصورت ہو یار!
وہ مبہوت انداز سے کہتی ٹاول رکھ کر بال سنوارنے لگی ۔تمہیں آج پتا چلا ! ایمان نخوت سے بولی ۔
تو وہ بھی اپنی ٹون واپس آنے لگی ۔
اب اتنی بھی نہیں ! ایمان اسے پلٹتا دیکھ کر ہنس پڑی۔
بس کب آئے گی ؟ نبیشہ نے سرسری سا پوچھا ۔
آگئی سمجھو ! وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی ضروری سامان بیگ میں رکھنے لگی ۔
بس کے ہارن پر وہ تینوں اپنا سامان اٹھاتی باہر نکل گئیں ۔
*************************************
میلان سے وینس زیادہ دور نہیں تھا انہیں بمشکل آدھا گھنٹا لگا تھا یہاں پہنچنے میں۔
بس جیسے ہی سینٹ لوسیا اسٹیشن سے آگے نکلی ۔ اسکے اندر خوشی سے جذبات مچلنے لگے ۔ کچھ ہی دیر میں بس سے اتر کر انہوں نے میلان کو خیر باد کہا ۔ اور واٹر بس میں سوار گئے ۔ جسے یہاں کی زبان میں گنڈولا بھی کہا جاتا تھا ۔جونہی وہ آگے بڑھنے لگے ایک عجیب و غریب شہر نے انکا استقبال کیا ۔ یہ شہر سینکڑوں سال سے سمندر پر آباد تھا اور کتنی حیرت کی بات تھی کہ وینس ایک ایسا شہر تھا جس میں سڑکوں کی جگہ نہریں اور گاڑیوں کی جگہ کشتیاں چلتیں تھی ۔کیونکہ یہ سمندری کھاڑی کے بیچوں بیچ موجود تھا۔ اسکے مختلف علاقوں اور حصوں کو پُلوں کے زریعے ایک دوسرے سے منسلک کیا گیا تھا۔ اسی لیئے شہر کے مختلف علاقوں میں سفر کے لیئے کشتیوں ، بوٹس اور واٹر بسز کا استعمال کیا جاتا تھا۔ اس شہر میں سینکڑوں نہریں بہتیں تھی اور سڑکوں کا کوئی وجود ہی نہیں کیونکہ نہریں ہی سڑکوں کا کام کرتیں تھی ۔ ایڈریاٹک کی ملکہ ،پُلوں کا شہر ، پانیوں کا شہر ، روشنیوں کا شہر ،طلسمی جادوئی کئی ناموں سے جانا جانے والا شہر وینس دنیا کے خوبصورت ترین شہروں میں شمار کیا جاتا تھا ۔جو بھی وینس کا رخ کرتا اسکی خوبصورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہتا۔ ۔اس دیومالائی شہر کے قدرتی حسن اور انوکھے پن کی ایک دنیا دیوانی تھی ۔وہ تینوں مبہوتی سے چار و اور دیکھنے لگی ۔ شہر کی تمام عمارتیں ،بازار ،دفتر،مکانات سمندر میں شایان شان کھڑے تھے ۔شام کے وقت اس خوبصورت شہر میں موجود گرینڈ کنال سے ڈوبتے سورج کا منظر انتہائی دلکش لگ رہا تھا ۔
Ne kadar güzel
( کس قدر خوبصورت ہے یہ)
ولدان لبوں پر انگلیاں جمائے حیرانی سے کہنے لگی ۔ جبکے نبیشہ اس سے اتفاق کیا ۔
واقعی ! ایمان کو لگا جیسے وہ کوئی خواب دیکھ رہی ہو ۔سمندر کی ٹھنڈی ہوائیں اسکے بالوں کو چھو رہی تھی ۔ اس نے ہاتھ باہر نکال کر ان مناظر کو محسوس کرنے لگی ۔ جیسے وہ واقعی یقین کرلینا چاہتی ہو کہ یہ کوئی خواب نہیں حقیقت ہو
نبیشہ اسکی حرکت ہر بے اختیار مسکرائی ۔ بقیا اسٹوڈنٹس کوئی کیمرے کی آنکھ میں ان خوبصورت پلوں کو قید کرنے میں مصروف تھا تو کوئی انکو اپنے ہمسفر کے ساتھ یادگار بنانے میں ۔ جبکے ان سے زرا دور بیٹھے برش کی نگاہ سرخ لباس والی پر ہی جمی ہوئی تھی ۔ جسے اس بات کا احساس تک نہ تھا ۔
کچھ ہی دیر میں واٹر بس نے انہیں سان مارکو تک پہنچا دیا ۔ سان مارکو اس شہر کا مرکز اور دل تھا۔ اسٹیشن سے یہاں لوگ واٹر بوٹ میں بھی آتے تھے اور تنگ گلیوں سے گزر بھی ۔ ان گلیوں کے اندر تہہ در تہہ قدیم عمارتیں موجود تھیں ۔ جنکی کئی سو برس کی تاریخ ہے ۔ چپے چپے پر ریستورانت اور دکانیں تھی ۔دنیا شاید ہی کوئی ایسا بڑا اسٹور ہو جس کی چیزیں یہاں موجود نہ ہوں ۔ یہاں آ کر وہ لوگ گویا مبہوت ہو کر رہ گئے ۔ اس جگہ کے کرو فر اور فن تعمیر کی مکمل تصویر کشی کرنا ممکن ہی نہیں تھا۔ جو اثاثہ اس شہر کے پاس تھا وہ دنیا میں کسی کے پاس نہیں ۔ وہ دل ہی دل میں اسکی خوبصورتی سے متاثر ہوئے بغیر نہ رہ سکے۔ ریسٹورانٹ میں بیٹھ کر انہوں نے کھانے کا آرڈر دیا ۔ ایمان کرسی چھوڑ کر گلاس وال کے پاس آ کھڑی ہوئی۔ وہ جتنی بار دیکھتی اتنی بار ایک نئی سرے دیوانی ہوجاتی ۔ کھانا کھانے کے بعد انہوں نے شہر کے مختلف مقامات کا وزٹ کیا ۔ اور رات ڈھلے ہوٹل کا رخ کیا ۔جہاں انہیں اسٹے کرنا تھا ۔باقی کے اسٹوڈنٹس بھی اسی ہاٹل میں ٹھہرے تو کوئی سرے سے ہی غائب تھے ۔ جبکے ہیڈ کے مطابق وہ جہاں مرضی جائیں مگر دو دن بعد انہیں ٹھیک سان مارکو کے اسٹیشن پہچنا تھا جہاں سے وہ اکٹھے واپسی کا راستہ طے کرتے ۔ ہوٹل کا کمرہ کافی مہنگا تھا انہوں نے مینیج کرلیا تھا ۔ برش سمیت وہ چاروں ایک ہی روم میں ٹھہرے تھے ۔
نبیشہ تھک چکی تھی سو وہ سونے کے لیئے لیٹ گئی ۔ ولدان بھی اسکی تاکید میں اٹھی اور کمرے کا رخ کرنے لگی ۔ جبکے ‘کپلز’ ہوٹل کے حال میں گٹار اور پیانو بجا کر انکی شام کو یادگار اور رنگین بنانے کی سر توڑ محنت کر رہے تھے ۔ ایمان اپنے گرد مخمل کا شال نما اسکارف لپٹتی ہوئی ۔ انکے بیچ سے اٹھی ۔ اور ہوٹل سے باہر نکل گئی ۔داخلی دروازے کے آگے ایک لمبا سا روڈ نما پل بنا ہوا تھا ۔ وہ تقریبا کنارے پر آ کھڑی ہوئی ۔ اور پلکیں گرائے پانی کے شور کو محسوس کرنے لگی ۔یخ ٹھنڈی ہوا خون جمانے کے در پہ تھی ۔ اسکے باوجود اسے یہاں عجب سا سکون محسوس ہونے لگا ۔
یہاں کیا کر رہی ہو اس وقت لڑکی ؟؟ مردانہ آواز پر وہ گھبرا کر پلٹی ۔
تم ؟؟ ڈرا ہی دیا تھا ! برش کو دیکھ کو اس نے برہمی کہا ۔ تم بھی ڈرتی ہو ! اس نے مسکراتے ہوئے اسے چھیڑا ۔
ہاں تو ؟ میں انسان نہیں ہوں کیا ! اس نے برا مانا
۔ ہاں بلکل ہو ! مگر الگ قسم کی ! وہ جھٹ سے بولا ۔
کیا مطلب الگ قسم کی؟ اس نے بھنویں اچکائیں ۔
خیر چھوڑو ! یہ بتائو کہ تمہارا مشن کہاں تک پہنچا ؟
وہ شوخی سے بولا۔
کونسا مشن ؟ وہ پوچھنے لگی ۔
مجھے زچ کرنے کا مشن ! وہ اسکی آنکھوں میں جھانکنے لگا ۔ پل بھر کو نگاہیں ملیں اور ایمان نے رخ پھیر لیا ۔
ای ایسا تو کچھ نہیں ہے ! وہ گڑبڑائی ۔
اچھا ! وہ کہتے زرا نزدیک ہوا ۔
ہا ہاں بلکل ! اس نے بلاوجہ بال کان کے پیچھے اڑسے ۔
برش اسکے روشن چہرے کی جانب دیکھنے لگا۔
ایمان بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی ۔
اونہہ ! گر مت جانا ! وہ آہستگی سے بولا ۔
ک کیا مطلب؟ وہ گھبرا گئی ۔
مطلب یہ ہے کہ اگر تم نے ایک قدم بھی اور پیچھے کی جانب بڑھایا تو تم پانی میں بھی گر سکتی ہو !
وہ اسکے کان کے قریب سرگوشی کرنے لگا ۔
ایمان کرنٹ کھا کر اچھلی ۔ اور کنارے سے دس قدم دور ہوئی ۔ برش بے اختیار ہنسا ۔ وہ خفت کا شکار ہوئی ۔ اور بھاگتے ہوئے ہوٹل کی جانب چلی گئی ۔
ڈرپوک کہیں کی ! وہ ایک بار پھر سے ہنسنے لگا ۔
*****************************************
جاری ہے
