Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode16

The Dark by Uzzai Zehan Episode16

بس بھی کرو ایمان !وہ یہاں ایز آ باکسنگ مینٹور اسٹوڈنٹ کو لیسنز دینے آ رہا ہے نہ کہ فیشن شو جج کرنے ! ولدان اسے تیسری بار آئینہ میں دیکھتا دیکھ کر برہمی سے بولی ۔تمہیں کیا ہے ؟ ہاں ،تم کیوں جل رہی ہو
وہ اسے گھور کر دوبارہ شیشے میں دیکھنے لگی ۔
ہونہہ خوش فہمیوں کی ملکہ ! وہ زہر لب بڑبڑائی ۔
کیا کہا تم نے ، وہ یک دم سیدھی ہوئی ۔
وہی جو تم نے سنا ! آبےےےےے!
اور رخ موڑ کر برش کو ہاتھ ہلایا جو ابھی ابھی آیا تھا ۔برش نے جوابا نے ہاتھ ہلایا اور اپنے دوستوں کے ساتھ مصروف نظر آنے لگا ۔ وہ اس وقت اسپورٹس ڈپارٹمنٹ کے پریکٹس روم میں بیٹھے تھے ۔ آئوٹ سائڈرز یعنی دوسرے ڈپارٹمنٹ کے اسٹوڈنٹس زرا دوری پر چیئروں پر براجمان تھے جبکے ان سے زرا آگے زمین پر مزے سے چوکڑی مارے اسپورٹس کے اسٹوڈنٹس براجمان تھے ۔ بڑا سا حال کسی اسٹیڈیم سے کم نہیں تھا ۔ عام دنوں میں یہاں اکا دکا لوگ نظر آتے جبکے آج یہ اسٹوڈنٹس سے کھچا کھچ بھرا ہوا تھا ۔ صرف اسپورٹس سیلیبرٹی کی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر ۔بھلا ہو اسٹوڈنٹس افیئر کے ڈاریکٹر سر جانس کا جس نے انہیں آج یہاں آنے کی اجازت دی تھی ۔
نبیشہ نہیں آئی ابھی تک ؟؟؟
اس نے کہا تھا کلاس کے بعد آجائے ! ایسی کونسی کلاس سے جو ختم ہونے کا نام نہیں لے رہی ،
وہ اضطراری کیفیت میں کھڑے ہوکر رش کے بیچ اسے تلاش کرنے لگی ۔
اففف اوہ بیٹھ جائو ، آجائے گی ولدان نے اکتا کر اسے دوبارہ بٹھایا ۔تبھی لوگوں کا شور سا اٹھا اور وہ جسکا انہیں بے صبری سے انتظار تھا ۔اسٹوڈنٹس اسکا نام چلا چلا کر پکارتے اپنی محبت کا اظہار کر رہے تھے ۔ سیاہ اونی شرٹ نے اسکی گردن تک ڈھکی ہوئی تھی ۔ اس پر سیاہ جیکٹ پہنے ،آنکھوں پر گوگلز سجائے ، وہ ایمان کو دنیا کا حسین ترین مرد لگ رہا تھا ۔
تم لوگ وہیں رہو اسٹوڈنٹس کو اتنی تو تمیز ہوگی کہ سلیبرٹی کو کیسے ہینڈل کیا جاتا ہے اور ویسے بھی یہ یونیورسٹی ہے کوئی اکھاڑہ نہیں ، حد ہوگئی چلو جائو اب ! شرائے گارڈز کو ڈپٹ کر بھاگتے ہوئے یشم کے ہم قدم ہوئی ۔واہ رے لڑے ، تم سیکھ رہی ہو دھیرے دھیرے ! وہ آنکھوں سے چشمہ ہٹاتے ہوئے متاثر کن نگاہوں سے اسے دیکھ کر بولا ۔
تھینک یو ،تھینک یو ! وہ جواباً ہاتھ اٹھا کر کہتے ہوئے مسکرایا بھی تھا ۔اور پروفیسر کی جانب متوجہ ہوا ۔
کتنا خوبصورت ہے یار ! اور ہنستے ہوئے تو ایسا لگتا ہے جسیے بہار آ گئی ہو فضا میں
وہ گال پر ہاتھ رکھے مبہوت سی اسے تکتے ہوئے بولی
انف از انف ! ولدان کو خوامخواہ غصہ آیا ۔
تم کیوں مرچی چبا رہی ہو ! وہ یک دم سنجیدہ ہوئی ۔ مجھے یہ بے وجہ تعریفیں پسند نہیں ہیں ! وہ ناک بھوں چڑھا کر بولی ۔
بلاوجہ کی تعریفیں ؟ ایمان کو صدمہ ہوا ۔
بندے کا Aura دیکھو زرا تم ، جب وہ مسکراتا ، ہائے
اور جب وہ بات کرتا ہے ایسا لگتا ہے !
ایمااان ، ولدان کے گھورنے پر اسکی زبان کو بریک لگی ۔وہ منہ چڑاتی پھر سے حسرت بھری نگاہوں یشم کو دیکھنے لگی ۔ جو کوٹ اتارتے ہوئے اپنی ساتھ آئی لڑکی سے کچھ کہہ رہا تھا ۔ جو اب سر ہلاتے ہوئے اسکا کوٹ اور چشمہ تھام کر خالی چیئر پر جا بیٹھی ۔
یہ کون ہے ؟ اسکی گرل فرینڈ ہوگی پکا ! وہ زیر لب بڑبڑاتی ہوئی کرسی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
اب کہاں جا رہی ہو؟ ولدان سوالیہ گویا ہوئی ۔
کہیں نہیں آتی ہوں ! وہ ان کے بیچ گزرتے ہوئے اس لڑکی کی پیچھے آ بیٹھی ۔ اور سوچنے لگی بات کیسے شروع کی جائے ۔جبکے ولدان کی نگاہ اسی پر تھی ۔
یہ نہیں سدھرے گی ۔وہ نفی میں سر ہلاتے ہوئے دوبارہ نظریں سامنے جما دیں ۔
ہائے ؟؟؟ اس نے تمہید باندھی ۔
شرائے آواز کے تعقب مڑ کر دیکھا تو کم عمر سی لڑکی کو اپنی طرف دیکھتے پایا ۔وائٹ شرٹ ،خاکی اسٹائلش پینٹس پر ہم رنگ لونگ کوٹ میں ملبوس سنہری بالوں کو کندھوں پر کھلا چھوڑے جو کوئی بھی تھی بہت پیاری تھی ۔
ہائے ! وہ جواباً بولی ۔
یو نو وٹ تم بہت پیاری ہو ،وہ بلکل تم جیسی گرل فرینڈ ڈیزرو کرتا ہے! ایمان سر جھکا کر رازداری سے اسکے کان میں بولی ۔
شرائے خوشگوار حیرت سے ایک نظر اس پر اور پھر مڑ کر یشم پر ڈالی ۔
ایکسکیوزمی ! میں انکی مینیجر ہوں ،
ہاں؟؟؟ ریئلی ! وہ ہکا بکا اسکی صورت دیکھنے لگی ۔کس قدر ہائی فائی شخص تھا ۔ جس کی مینیجر اتنی خوبصورت ہے اسکی گرلفرینڈ کیسی ہوگی ۔ اس نے حسرت سے سوچا ۔
ریئلی ! شرائے نے جوابا مسکراتی آنکھوں سے کہتے ہوئے رخ موڑ لیا ۔
*******************”””””******””*************
وہ ہاسپٹل کی عمارت کے سامنے کھڑی بھرپور ہمت جٹاتے ہوئے قدم آگے بڑھانے لگی ۔
ایکسکیوزمی ! انٹرنیشنل ڈاکٹر کے نام کی لسٹ دکھا سکتی ہیں ! وہ ریسپشن پر پہنچ کر بولی ۔
رسپشنسٹ نے مصروف انداز میں لسٹ ٹیبل پر دھری اور کمپیوٹر انگلیاں چلانے لگی ۔ اس نے ایک نظر اس پر ڈال کر لسٹ اٹھا لی ۔ لسٹ پر انگلی پھیرتی’ مسز یمنی کاظمی ‘ کے نام پر اسکا ہاتھ تھما ۔
وہ مہینے کے آخری ہفتے میں یہاں آتی تھی صرف دو دن کے لئیے اور خوش قسمتی سے مہینے کا آخری ہفتہ چل رہا ۔ اسکے دل میں موہوم سی امید جاگی ۔ وہ رومیصہ کی ڈاکٹر تھیں ۔شاید وہ انکے زریعے رومیصہ سے رابطہ کر پاتی۔ یا اللہ بس وہ کسی مشکل میں نہ ہو ۔ اس نے شدت سے دعا کی ۔
یہ ڈاکٹر یمنی کاظمی کس دن یہاں آئیں گی ؟؟ اس نے لسٹ پر انگلی جمائے ریسپشنسٹ کو متوجہ کیا ۔
جو سپاٹ نظر لسٹ پر ڈال پھر سے مصروف ہوگئی ۔
وہ صرف متعدد سرجریز کی بنا پر ہی یہاں آتی ہیں ، چونکہ اس مہینے کوئی سرجری نہیں اس لیئے انکی آمد متوقع نہیں ، اگلے مہینے ہو سکتا ہے ! اسکی امید دم توڑ گئی ۔
آپ انکا نمبر دے سکتیں ہیں پلیز ! اسکی آواز بمشکل نکلی ۔ وہ کہاں لوگوں سے ڈیل کرنا جانتی تھی ۔ اس سے پہلے تو وہ کبھی اکیلے ہاسپٹل تک نہیں گئی تھی۔
سوری ! یہ ہاسپٹل کے فارمٹ میں نہیں ! وہ اکھڑے لہجے میں بولی ۔ جبکے نییشہ کی رہی سہی ہمت بھی جواب دینے لگی ۔ اس نے شکست خوردہ قدموں سے ایگزٹ کا رخ کیا ۔ ہاسپٹل کے پارینگ ایرکا تک آتے آتے آنسو جابجا اسکی گالوں پر تیرنے لگے۔ وہ بے بسی سے سنسان روڈ پر ایک طرف رکھی بینچ پر بیٹھ کر پھوٹ پھوٹ کر رودی ۔ یا اللہ ، میں کیا کروں ؟؟؟؟ کہاں جائوں ! انہونی کے ڈر سے وہ سوکھے پتے کی مانند لرزی ۔پلیز اسے ہمارے لیئے سلامت رکھنا اللہ میاں ! ہمارااور کون ہے اسکے سوا ، وہ ہاتھوں کو آپس میں جوڑ کر روتے ہوئے گڑگڑائی ۔
*******************”””””******””*************
کہاں تھی تم یار نبیشہ! پتا بھی ہے ہم کتنا پریشان ہو گئے تھے ! وہ رات گئے ہاسپٹل سے ہاسٹل لوٹی تو انہیں انتظار کرتا پایا ۔
مل گئی فرصت ! وہ بے رخی سے بولی ۔
کیسی باتیں کر رہی ہو ! اور تھی کہاں تم؟ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ بھی نہیں آئی ! وہ پانی گلاس تھماتی ہوئی بولی ۔ کہیں نہیں بس ذرا ہاسپٹل گئی تھی ! وہ بیگ اتار کر تھکے تھکے انداز میں کرسی پر براجمان ہوئی ۔
Hastane ? Niye? Ne oldu?
(ہاسپٹل کیوں ؟ کیا ہوا؟ )
ولدان کتاب ایک طرف رکھتے ہوئے اپنی ڈیسک چھوڑ کر فکر مندی سے کہتی ہوئی اسکی جانب آئی ۔
جبکے ایمان کے تاثرات بھی کچھ مختلف نہ تھے ۔
کچھ نہیں بس رومیصہ کی ڈاکٹر ہیں نا ! مسز کاظمی انکے بارے معلوم کرنے گئی تھی مگر !
اس نے شکستہ انداز میں بانہیں پھیلائیں ۔
ہو سکتا ہے وہ بزی ہو ، ٹیک اٹ ایزی کرلے گی کال !
ایمان نے کچھ کچھ سمجھتے ہوئے سر ہلایا ۔
جبکے اسکا منفی رویہ نبیشہ کے لیئے شاکڈ سے کم نہیں تھا ۔
کھانا کھالو! وہ گلاس واپس رکھ کر اپنی ڈیسک کا لیمپ آن کرتے ہوئے کتابوں میں مصروف نظر آنے لگی ۔نبیشہ نے فریش ہونے کے بعد لباس تبدیل کیا اور کھانے کا ڈبہ لیئے ٹیبل کے گرد کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی ۔
تو کیسا رہا تمہارا آجکا دن؟؟؟ بس پھر کیا تھا ایمان کرسی کھنچتی ہوئی اسکے قریب لے آئی ۔
پتا ہے یشم،
yatarrrrrrrrrrr !
( بسسسسسسسس )
ولدان جانتی تھی اب وہ یشم کی تعرفوں کے پل باندھنے والی ہے سو وہ ناگواری سے کانوں پر ہاتھ رکھتی چیخی ۔ ۔جبکے نبیشہ کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
تمہیں کیا تکلیف ہے ؟ ہاں ! تم کیوں جل رہی ہو میرے یشم سے ! وہ کرسی چھوڑ کر اٹھ اور بیڈ پر سے نیچے لٹکتے اسکے بال دبوچے ۔
تمہارا یشم؟ ولدان کہتی ہوئی صدمے سے اٹھ بیٹھی ۔
ہا ہاں تو ! ایمان سے گردن اکڑائی ۔ ولدان نے ہندی دباتے ایک نظر اسے اور پھر نبیشہ کو دیکھا ۔
وہ دونوں کھلکھلا کر ہنس پڑیں ۔
تمہیں پتا ہے نبیشہ اسکی مینیجر بھی ایمان سے زیادہ خوبصورت تھی ! ولدان کی بات پر وہ غم و غصے سے پاگل ہونے لگی ۔
بد تمیز ، بے وفا اور تکیے اٹھا اٹھا کر اس پر پھیکنے لگی ۔ جبکے ہاسٹل روم ان لوگوں کے قہقہوں سے گونج اٹھا ۔
*******************”””””******””*************
یہ تم کہاں جا رہے ہو اس وقت !
مسز کاظمی اطہر کو رات کے اس پہر باہر جاتا دیکھ کر پوچھنے لگی ۔
کام سے جا رہا ہوں مام بہت ضروری ہے آ کر بات کرتا ہوں ! وہ عجلت میں سامان سمیٹتے ہوئے بولا ۔
لیکن مجھے ابھی بات کرنی یے ! وہ مصر ہوئیں ۔
ابھی نہیں ماما !
اطہر ! ان کے سختی سے کہے جانے پر اطہر کے حرکت کرتے ہاتھ رکے ۔
یہ کیسا شیڈول ہے تمہارا ! نا رات کا پتا ہے نہ دن کی خبر ، جب دل کرتا ہے منہ اٹھا کر چلے جاتے ہو !
کیا کرتے رہتے ہو اطہر ؟ مجھے تو کچھ سمجھ نہیں آرہا ! وہ سر پکڑ کر بیٹھ گئیں ۔
کچھ نہیں کر رہا مام ! بس تھوڑا بزی ہو آجکل ! وہ نرمی سے بولتے ہوئے انکے قریب بیڈ پر ٹک گیا ۔
تھوڑے ؟ نہیں اطہر تم بہت زیادہ بزی ہو، سچ سچ بتائو مجھے کیا پریشانی ؟
وہ اسکے بے رونق چہرے پر نگاہ ڈالتے ہوئے بولی ۔
کچھ نہیں ہے مام ! وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
نہیں کچھ تو ہے ، تم کچھ تو چھپا رہے ہو مجھ سے ، بتائو کیا بات ہے؟ میں کئی دنوں سے نوٹ کر رہی ہوں !
اسکا ہاتھ پکڑتے ہوئے واپس بٹھایا ۔
وہ خاموشی سے بیٹھ گیا ۔ اب کوئی راہ فرار نہیں بچی تھی ۔ اسے چارو نہ چار بتانا پڑا.
رومیصہ سے ریلیٹڈ کچھ ہے ؟؟؟ انہوں نے اسکی مشکل آسان کردی ۔
آپ کو کیسے پتا ! وہ سیدھا ہو بیٹھا ۔
میں ماں ہو تمہاری بیٹا اور تم میرے بیٹے !
انہوں جیسے اسے یاد دلایا۔
تم نے مجھے کیوں نہیں بتایا ؟ میں آپکو بتانے ہی والا تھا مام ! مگر موقع ہی نہیں ملا !
وہ انکا ہاتھ تھامتے ہوئے بولا ۔
میں ۔۔ ۔۔ میں شاید اس سے محبت کرنے لگا ہوں ،اور
بس اطہر ! وہ ہاتھ چھڑا کر اٹھ کھڑی ہوئی۔اسکا شک درست تھا۔ کاش انہوں نے بہت پہلے پوچھ لیا ہوتا
کیا ہوا مام؟ اطہر کے اندر کچھ کھٹکا
مجھے مسز خان کی بیٹی پسند ہے اور تمہاری شادی اسی سے ہوگی !میں کسی رومیصہ کو نہیں جانتی سمجھے تم ! وہ کڑے تیوروں سے بولی ۔
اطہر ہکا بکا انکا منہ دیکھنے لگا ۔ یہ مام کو اچانک کیا ہوگیا ؟؟؟؟
مام مجھے رومیصہ پسند ہے ،آپکو بتایا تو ہے یہ مسز خان کی بیٹی بیچ میں کہاں سے آ گئی ! اسے حیرت ہوئی ۔
اس لڑکی کا کوئی فیوچر نہیں ، اور سونے پر سہاگا اسکے مینٹل ڈس آرڈر میں یہ سب افورڈ نہیں کر سکتی اطہر ، مجھے تمہارے لیئے ایک پرفیکٹ اور خوبصورت بیوی چاہیئے ! انکی باتیں سن کر اطہر کا سر چکرانے لگا ۔
اسکی ماں پڑھی لکھی ملک کی جانی مانی سرجن اور سوشل ورکر تھی وہ کب سے ان باتوں میں فرق کرنے لگیں؟
یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں مام آپ؟؟؟
وہ بے یقینی سے بولا ۔
سہی تو کہہ رہی ہو ! میں اس میں غلط کیا ہے ، یہ تم بھی جانتے اور پلیز اطہر مجھ سے بحث مت کرنا اب !
وہ کہہ کر رخ موڑ گئیں ۔
کیوں بحث نہ کروں مام ، آپ کب سے ان سب چیزوں پر دھیان دینے لگیں ، جہاں تک بات ہے اسکے فیوچر کی، تو میں ہوں اسکا فیوچر ! اطہر کو اسکا دفاح کرتے دیکھ مسز کاظمی کو کچھ بہت غلط ہونے کا احساس ہوا ۔
کب سے چل رہا ہے یہ سب؟ وہ بولیں ۔
کیا مطلب مام؟ اسکے لہجے میں بے یقینی ہی بے یقینی تھی ۔ یہ اسکی ماں تو نہیں تھی ۔ اگر تھی تو ! وہ ایسی کب سے تھیں؟
یہ جو تم اسکے دفاحی وکیل کا کام کر رہے ہو نا میں اچھے سے سمجھتی ہو اطہر ! انکی آواز بلند ہونے لگی ۔
یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آج آپ! میں کوئی ٹین ایجر لڑکا ہوں جو اپنا افیئر آپ سے چھپا رہا ہوگا، میں انتیس سالہ مرد ہوں ، اور مجھے آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے کہ میں کیا کر سکتا اور کیا نہیں
وہ شاکی نظروں سے اپنی ماں کی صورت دیکھتا ہوا بولا ۔مسز کاظمی نے بے اختیار نگاہیں چرائیں ۔
جو بھی ہے مجھے مسز خان کی سارہ پسند ہے وہی تمہاری دلہن بنے گی ! ورنہ تم سوچ لو تمہیں کیا کرنا ہے ! وہ حتمی انداز میں کہتی باہر نکل گئیں ۔
جبکے اطہر اس دھمکی پر شاکڈ رہ گیا ۔
یہ سب کیا تھا ؟ بے یقینی کی سی کیفیت میں انگلیاں بالوں میں پھنسائے بیڈ پر گرنے کے انداز میں بیٹھا ۔
**************************************
برًش کی ٹریننگ کا آج دوسرا دن تھا جبکے کل کی مقابلے میں آج انکی فزکل ٹریننگ تھی ۔ولدان اور ایمان کل طرح کلاس کے بعد وہ آج بھی یہیں آ گئیں ہمیشہ کی طرح بنی ٹھنی ایمان آج ساری کرسیاں چھوڑ کر ایک طرف بیٹھی تھی ۔ نبیشہ کا آج بھی آنے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔
ششش ؟؟؟ وہ اپنے آگے بیٹھی کل والی لڑکی سے مخاطب ہوئی ۔ ولدان اسکی حرکت پر گھور کر رہ گئی ۔
شرائے نے مڑ کر آواز کے تعاقب دیکھا تو وہی کل والی لڑکی موجود تھی ۔
ہائے ! وہ جوابا مسکرائی ۔
کیسی ہیں آپ ؟ ایمان نے تمہید باندھی ۔
جبکے ولدان تعجب سے سوچنے لگی کہ وہ اب کیا کرنے والی ہے ؟؟ ۔
فائن ! وٹس گوئنگ آن ؟؟ شرائے نے سر تا پا اسکا جائزہ لیا ۔ یا تو وہ سجنے سنورنے کی بہت شوقین تھی یا پھر کسی امیر باپ کی اولاد ۔
آپ بھی روسی ہیں ؟ ایمان نے تعجب سے پوچھا ۔
شرائے نے اثبات میں سر ہلایا ۔
نام کیا ہے آپکا ؟ ایک نیا سوال حاضر تھا ۔
شرائے !
ہاں؟؟؟ ایک پل تو اسے سمجھ ہی نہیں آئی ۔ شرائے !
اس نے دہرایا ۔
شرائے ، عجیب نام ہے ، ویسے کیا مطلب ہے اسکا ؟؟؟
Brave & beautiful !
واقعی ! تم بلکل اپنے نام کو جسٹیفائی کرتی ہو ! ایمان مسرت خیزی سے کہتی سے مسکرائی ۔
تھینک یو ! شرائے نے سر خم دیتے ہوئے تعریف وصول کی ۔کیا میں ایک وڈیو بنا سکتی ہوں ؟ وہ مطلب کی بات پر آئی
دراصل ہمیں یہ الائوڈ نہیں کیا گیا ! پھر بھی میں تم سے پوچھ رہی ہو تاکے کوئی مسلہ نہ ہو !
اوہ تو ان سب تعریفوں کے پیچھے یہ مطلب چھپا تھا ۔
اس سے پہلے وہ کچھ بولتی ۔
یشم کو اپنی طرف آتا دیکھ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
تھرماس کا ڈھکن کھول کر اسکے آگے کیا ۔اس نے پانی گھونٹ حلق میں اتار کر عادت سے مجبور ہمیشہ کی طرح بچا ہوا سر پر الٹ لیا ۔حال میں موجود لڑکیوں نے اسکی حرکت کو ‘ ادا گردان کر حسرت بھری نگاہوں دیکھا ۔
اور پھر سے لوٹتے ہوئے اسٹوڈنٹس کی رہنمائی کرنے لگا ۔ البتہ اس بار اس نے شرٹ اتار کر ایک طرف پھینک دی تھی ۔
اوہیہیییییہہ ! کی آوازیں گونجنے لگی
جبکے ایمان دونوں ہاتھ منہ پر جمائے حیرت سے یہ منظر دیکھا ۔ وہ واقف تھیں یہاں کے کھلے ماحول سے مگر !جہاں سے وہ آئیں تھی۔ انکا یہ ریایکشن تو بنتا ہی تھا ۔
ولدان نے جھٹ سے اسکی آنکھوں پر انگلیاں جمائیں ۔ اونہوںننہ! وہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے اپنی آنکھوں ہاتھ ہٹایا ۔جبکے ولدان نے پھر سے وہی عمل دہرایا ۔
کیا تکلیف ہے ؟ وہ بھڑکی ۔
تم یہ کیسے دیکھ سکتی ہو ایمان ! اس نے حیرانگی سے کہا ۔
ہاں تو تم بھی تو دیکھ رہی ہو ! وہ ڈھٹائی کے تمام ریکارڈ توڑتی ہوئی بولی ۔
حد ہے ! میں تو تمہیں دیکھ رہی ہوں ! وہ آنکھیں نکالتی ہوئی بولی ۔ ہائے اللہ !یہ تو میری سوچ سے بھی زیادہ ڈیشنگ ہے ! اسکا پاگل پن پھر سے شروع ہوچکا تھا ۔
بے شرمی کی بھی حد ہوتی ہے ایمان ! ولدان نے زور سے اسکے کندھے پر دھپ رسید کرتی ہوئی بولی ۔مگر وہ بھی ایمان تھی اپنے نام کی ایک ۔ ڈھٹائی میں اسکا کوئی ثانی نہیں تھا ۔ وہ اسکی باتوں اثر نہ لیتے ہوئے اسے بنا پلکے جھپکے دیکھنے نہیں نہیں ! گھورنے لگی ۔
تبھی ٹریننگ کے دورانیے میں اسٹوڈنٹ نے جوش آکر مکا زور سے یشم کے جبڑے پر دے مارا۔ وہ اسکی توقع نہیں کر رہا تھا اس لئے لڑکھڑاتے ہوئے پیچھے ہوا ۔
اٹس اوکے ! اسٹوڈنٹ کا منہ اترتا دیکھ کر وہ فوار بولا۔
نو اٹس ناٹ اوکے ! اتنی زور سے مارنے کی کیا ضرورت تھی گدھے کہیں کے ! ایمان نے طیش میں آ کر آئو دیکھا نہ تائو ۔ اور اسٹوڈنٹ پر چلا اٹھی۔ حال میں خاموشی چھا گئی سب دم سادھے مڑ مڑ کر اسے دیکھنے لگے۔
یشم نے بے اختیار قہقہہ لگا کر ہنس کر پڑا ۔ وہ اس جیسے کئی کریزی فینز’ کا عادی تھا
حال میں موجود اسٹوڈنٹس بھی ہنستا دیکھ کر ایمان شدت سے اپنی حرکت کا احساس ہوا۔ وہ فورا سے پہلے بیٹھی اور ولدان کے کندھوں پر پڑے بال ناک پر جما کر اپنا
چہرہ چھپایا
**************************************
اے اللہ ایسا حسین بندہ میرے نہیں تو کسی کے نصیب نہ ہو ! آآاامممممممممیییی !
استغفراللہ ! وہ ہاتھ منہ پر پھیرنے لگی ہی تھی کہ
‘ اس آواز پر مڑ کر کھاجانے والی نظروں ولدان کو دیکھا ۔ کیا بیہودگی تھی یہ؟ ایمان کرسی گھماتی ہوئی اسکے سر پر پہنچی ۔
وہی تو میری جان ؟؟؟وہی تو!
میں بھی جاننا چاہتی ہو؟ ولدان کمر پر ہاتھ رکھ کر بولی ۔ کپڑے اتارنا اتنا ضروری بھی نہیں تھا ، پھر بھی اس نے اتارے تو اسکا کیا مطلب ہوا ؟؟؟
ولدان آنکھیں چمکاتی ہوئی بولی ۔
کیا؟ ایمان نے نہ سمجھی سے پوچھا ۔
یہی تو اصل بیہودگی تھی ایمان تم سمجھی نہیں !
وہ ہاتھ پر ہاتھ مارتے ہوئے بولی ۔
بکو مت ! وہ اسے جھڑکتی پھر سے کرسی گھماتی اپنے ڈیکس پر لوٹی ۔
یہ تم لوگ کیسی نا زیبا گفتگو کر رہے ہو ! نبیشہ کتاب منہ سے ہٹاتی ہوئی ان دونوں کو گھورنے لگی ۔
انکے ‘سو کالڈ کرش’ نے آج کپڑے اتار دیئے تھے حال میں ! ولدان ایمان کے بولنے کا انتظار کیئے بغیر اسکی مشکل آسان کی ۔
کیا ؟؟؟ نبیشہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ۔
احمق کہیں کی ، اپنے الفاظ درست کرو پہلے !
کپڑے نہیں صرف شرٹ ! ایمان نے اسے درست کیا ۔
تو پھر ؟؟ نبیشہ شاکڈ ہوئی ۔
تو پھر کیا یار نبیشہ ! ایک شرٹ ہی تو اتاری تھی تم تو پیچھے ہی پڑ گئی ہو بے چارے کے ! اور ویسے بھی یہ اسکا پروفیشن ہے ! وہ آخری جملہ لہراتے ہوئے بولی ۔
کیا پروفیشن ہے ؟ کہ کہیں بھی کپڑے اتار کر پھینک دو
حد ہے ! ولدان کو اسکی بات زرا نہ بھائی ۔
تم اپنی زبان بند رکھو ! اس نے کتاب پھینک کر اسے ماری ۔ جو اس نے بر وقت کیچ کرلی ورنہ اسکا ناک ٹوٹ چکا ہوتا ۔توبہ توبہ ! جیسا سنا ویسا ہی پایا یورپی ممالک کے باسیوں کو !. نبیشہ کانوں کو ہاتھ لگانے لگی ۔
بس بھی کردو یار ! اینڈ یو نو وٹ ؟؟؟
اس پر سوٹ کرتا ہے ! وہ پین کی نب سر پر مار کر بند کرتی ہوئی خلائوں کو گھورنے لگی ۔
کیا ؟ ننگے ہوکر شریف لوگوں کو متوجہ کرنا!
ولدان کی آواز پھر سے آئی تھی ۔اور اس بار ایمان کے صبر کا پیمانہ چھلکا اور اسکے پیچھے بھاگی ۔
جبکے نبیشہ کتاب منہ پر رکھے بے اختیار قہقہہ لگا کر ہنس پڑی۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *