Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode13

The Dark by Uzzai Zehan Episode13

صبح کے چار بجے رہے تھے ۔ جب اسکے فون پر لگا الارم بجا۔اس نے بند آنکھوں سے دائیں بائیں ہاتھ مارتے ہوئے الارم تلاش کیا۔ وہ بیڈ کو اپنا کمرہ تصور کر رہی تھی ۔
جیسے ہی اس نے پہلو بدلا اسکا ہاتھ ہوا میں لہرایا ۔
کسی احساس کے تحت وہ جھٹ سے اٹھ بیٹھی ۔ اور پھٹی پھٹی آنکھوں سے بیڈ سے نیچے جھانکے لگی ۔
مطلب وہ نیچے گرنے والی تھی!
اس کی آنکھیں خوف سے پھیل گئی ۔
حد ہے اس سے اچھا چٹائی ہی دے دہتے ہمیں کم از نیچے بچھا کر اس پر گدے ڈالتے اور سکون سے سو تو جاتے !
وہ انتظامیہ کو کوستی ہوئی کمفرٹر ہٹاکر اٹھ بیٹھی ۔ الارم اس نے مارننگ واک اور ایکسرسائز کرنے کے لئے لگایا ۔ مگر کھڑکی کے باہر سناٹا اور چھایا اندھیرا دیکھ کر وہ تذ بذ کا شکار ہوئی ۔
نبیشہ ؟؟؟ ہاں نبیشہ کو ساتھ لے جاتی ہوں !
سوچتے ہوئے بیڈ سے نیچے اتری ۔
ششششش؟؟؟؟؟ ، بیش ہیلو !
وہ رازدای سے اسکا بازو ہلانے لگی ۔
اٹھو یار واک پر چلتے ہیں! اس نے اسکے بال کھینچے ۔
کیا ہے ؟ کیا مصیبت آن پڑی ہے صبح صبح ؟
وہ کاٹ کھانے کو دوڑی ۔
صبح ہوئی نہیں لیکن ہونے والی ہے چلو مارننگ واک پر چلتے ہیں ! اسے مجبورا چٹکی کاٹنی پڑی اسکے ہاتھ پر ۔ پاگل عورت میری بلا سے جہنم میں جائو ، مگر میری نیند خراب مت کرو مجھے کہیں نہیں جانا ! وہ اسے پرے دھکیلتی کمفرٹر سر تک کھینچ کر سوتی بنی ۔
مرو ! وہ پیر پٹخ کر رہ گئی۔
ایک طرف سے ناکامی کے بعد اس نے ڈھٹائی سے ولدان کے بیڈ کی جانب رخ کیا ۔
سنو ولدان اٹھو صبح ہو گئی ! اس نے کمفرٹر کھنچتے ہو کہا ۔
buurakrakk
aneeeyyy ne kadar sabah sabah
چھوڑیںییییں ! امی کیوں صبح صبح ! وہ کمفرٹر سر تک کھینچتی ہوئی چیخی ۔
گویا اسکے گلے میں لائوڈ اسیپکر فٹ کیا گیا ہو ۔
پاگل عورت اٹھو! ایمان نے بڑھ کر زبردستی اسکے منہ پر ہاتھ دھرا ۔ ورنہ وہ پورے ہاسٹل کو اٹھا دیتی اور پھر ہاسٹل کے لوگ اسے دنیا سے ۔
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔
Niyë?? Ne oldu ?
Abim geldim?.??
(کیوں ؟ کیا ہوا؟ میرا بھائی آیا ہے ؟ )
وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔
no ,get up & get dressed quickly we have to go !
وہ حاکمانہ انداز میں کہتی اپنے کپڑے اٹھائے کمرے سے باہر نکل گئی ۔
Aptal yaaaaa
(احمق کہیں کی )
ولدان ناک بھوں چڑھاتی اسے برے برے القابات سے نوازتی نیچے اترنے لگی ۔
کچھ ہی پلوں میں وہ ٹریک سوٹ،پیروں میں جوگرز پہنے،سنہری بالوں کو اونچی پونی میں مقید کیئے بالکل تیار کھڑی تھی ۔ جبکے ولدان تھوڑی پر ہاتھ جمائے سوتی جاگتی کیفیت میں کرسی پر جوں کی توں بیٹھی ۔
ولدان کی بچی ! اسکی پکار کر وہ لڑکھڑا کر سیدھی ہوئی ۔اگر پانچ منٹ میں تم تیار ہوکر سیدھا نیچے نہیں آئی تو ود آئوٹ ٹکٹ تمہیں اوپر ضرور پہنچا دونگی سنا تم نے ! اس نے دانت پیسے ۔واٹر بوٹل اٹھائی اور سیل پاکٹ میں ٹھونستی یہ جا وہ جا ۔
Aneeeyyyy
(امیییییییییی)
ولدان برے برے منہ بناتی ٹیبل پر سر پٹخنے لگی ۔ مگر اب کوئی چارہ نہیں تھا ۔ وہ نیند کو خیر اباد کہتی اٹھی ٹریک سوٹ پہنتی اسکی پیچھے ہولی ۔
آگئی تم ! وہ ایمان نے پیروں پر اچھلتے ہوئے دور سے اسے ہاتھ ہلایا ۔
نہیں راستے میں ہوں ! ولدان اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتی ہوئی آرہی تھی ۔
Günaydin vildan anim
(گڈ مارننگ مس ولدان )
وہ لب دباتی آگے آگے بھاگنے لگی ۔
تم نہیں بچو گی آج میرے ہاتھوں سے ! وہ کہتی ہوئی تیز رفتاری سے اسکے پیچھے بھاگنے لگی ۔
******************************************
‘ UNIVERSITÀ GEGLI STUDI DE MILANO ‘
یونیورسٹی کی عمارت پر بڑا سا نقش کیا ہوا تھا
جس سے کچھ فاصلے پر (سبز،سفید,سرخ) رنگوں سے جڑا اٹلی کا جھنڈا پوری شان سے لہرا رہا تھا ۔
کتنا انتظار اور کتنی محنت کی اس نے یہاں تعلیم حاصل کرنے کے لیئے ۔
لبوں پر انگلیاں جماتے ہوئے اس نے فلائینگ کس اچھالی اور قدم آگے بڑھانے لگی ۔
یونیورسٹی کی عمارت ضرور تھی مگر اسکی خوبصورت آج بھی برقرار تھی ۔ یونیورسٹی آف ملان کی بنیاد 1924 میں رکھی گئی ۔ جو کہ سو سال ہوچکے تھے ۔ اس یونیورسٹی کے قیام کے آغاز میں یہاں صرف ایک ہزار طلبہ تھے ۔ جبکے 1929 میں طلبہ کی تعداد دو ہزار سے بھی کم تر تھی ۔
لیکن اس وقت ملان یونیورسٹی اٹلی کی چوتھی یونیورسٹی کا دارالحکومت بن چکی ہے۔ جو کہ پہلے روم ، نیپلس ،پڈوا کے بعد دوسرے نمبر پر تھی ۔
اب تک یو نیورسٹی کے نو اسکول تھے۔ اسکول آف ایگریکلچر ، اسکول آف فارمیسی ، اسکول آف لاء ، اسکول آف لیٹر اینڈ فلسفی
اسکول آف میڈیسن اینڈ سرجری ، اسکول آف وینٹرنری میڈیسن ، اسکول آف ریاضی ، اسکول آف فزکس اینڈ نیچرل سائنس ، اسکول آف اسپورٹ سائنس ، اسکول آف پولیٹیکل سائنس ۔مزید پچپن میجرز تھے ۔
یہی وجہ تھی کہ بڑی تعداد میں طلبہ یہاں آئے ،اور چلے گئے اور کئی اور آتے،یہاں رہتے ،بڑے ہوتے، علم حاصل کرتے،فنوں تقافت تہذیبیں سیکھتے اور کامیاب ہو کر لوٹتے اور پھر ان در و دیوار میں ایک کہانی چھوڑ جاتے ۔ استادوں کے بارے میں کہا جاتا تھا کہ یہاں کے استاد بہت مزاکیہ، دوستانہ نیچر کے استاد تھے جو اسٹوڈنٹس کے لیئے بہت مددگار ثابت ہوتے تھے ۔ ایک بہت انوکھی اور مزے دار بات یہ تھی انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کے لیئے انکے لیئے ایک اسکورز سیٹ کیئے گئے تھے ۔ جو انکے ایزام مارکس میں کائونٹ کیئے جاتے ۔ جو کچھ یو تھے کہ ، اگر آپ اچھے کپڑے پہنیتے ،ویل بی ہیو کرتے ،استادوں کو خوش کرنے کے لئے زیادہ محنت کرتے تو آپ کو اسکور دیئے جاتے ۔ اسی طرح اگر بد تمیزی ، یا کوئی اسٹوڈنٹ آپکی شکایت کرے ،جس کے نتیجے میں استاد آپ سے ناراض ہوں ،یا پھر ہاسٹل رولز توڑنا وغیرہ ۔ ایسی صورتوں میں گین کیئے گئے مارکس کٹ جانے کا بھی خدشہ رہتا ۔ خیر ۔
شششش ! کیا ہورہا ہے یہاں؟؟ ایمان بائیں جانب قطار میں لگی نبیشہ کے کندھے پر دو انگلیاں رکھتی ہوئی پوچھنے لگی ۔
میں بھی تمہارے ساتھ ہی آئی ہو بی بی ،اگر یاد ہو تو
وہ اسے گھورتی ہوئی بولی ۔
پروفیسر جوزف نے خوش آمید کہنے کے لیئے بلایا ہے ہم انٹر نیشنل اسٹوڈنٹس کو ! ولدان کی آواز پر اس نے مڑ کر دیکھا ۔ وہ شاید ابھی آئی تھی ۔ اب پتا نہیں اس نے تنز کیا تھا یا سچ کہا تھا وہ سمجھ نہیں پائی ۔
ایمان اکتائے ہوئے انداز میں قطاروں میں جھانکتی کا باقاعدہ اسٹوڈنٹس کا جائزہ لینے لگی۔
ہم اس طرح تمیز تحذیب سے قطار میں جبکے وہ لوگ طرف مکھیوں کے جھنڈ کی طرح ادھر کیا کر رہے ہیں ؟ اسے دوسری جانب کھڑے اسٹوڈنٹس کو دیکھ کر تعجب ہوا ۔
یہ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ سے ہیں بزنس کلاس اسٹوڈنٹس ! نبیشہ انکا لباس سے اندازہ لگا کر بولی ۔
بزنس کلاس ؟ تو ہم کیا بھیک اکٹھی کرکے آئے ہیں !
اسے صدمہ ہوئی۔ اسے یہ ‘فرق’ بلکل بھی پسند نہیں آیا ۔نہیں ، ہم اسکالر شپ پر آئے ہیں ،
نبیشہ ببل چباتی مطمئن انداز میں بولی ۔
یار یہاں بھی ! ایمان صدمے سے رو دینے کو تھی ۔
جی ہاں ،یہاں بھی ،اور بلکے پوری دنیا میں لوگ فرق کرتے ہیں ہائی کلاس ، اپر کلاس ،مڈل کلاس اور پتا نہیں کیا کیا نبیشہ ناک چڑھا کر بولی ۔
دل توڑ دیا یار ! افسوس زدہ چہرہ بناتے ہوئے اپنے آگے کھڑے اسٹوڈنٹ کے سر سے پیشانی جوڑی لی ۔یہ جانے بغیر کہ وہ کون تھا یا تھی ۔
پروفیسر جوزف کے آتے ہی سب ہوشیار ہوگئے ۔ انہوں نے تمام نئے آنے والے اسٹوڈنٹ کو خوش آمدید کہتے ہوئے خوب محنت کرنے کی تلقین کی خاص طور پر انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس کو کیونکہ انہیں صرف دو سال کی اسکالر شپ ملی تھی ۔ انکی اسی کارکردگی کی بنیاد پر فیصلہ ہونا تھا کہ وہ یہاں آگے جانے لائق ہیں یا نہیں ۔
ایمان اکتاہٹ بھرے لہجے میں یہاں وہاں دیکھنے لگی ۔
یوں کالی کالی زلفوں کے پھندے نہ ڈالو !
ہمیں زندہ رہنے دو اے حسن والو! وہ گنگناتے ہوئے اپنے سے آگے کھڑے اسٹوڈنٹ کے گھنگھریالے بالوں کو اٹھا اٹھا کر دیکھنے لگی۔ نبیشہ کی نظر غیر ارادی طور پر نظر اسکی طرف اٹھی ۔ اسکا کے چنگم چباتے منہ کو بریک لگی ۔ وہ زور سے منہ کے آگے ہاتھ رکھتے ہوئے ہنسی کو فوارے کو پھوٹنے سے روکا ۔
Ce faci???
(کیا کر رہی ہو تم ؟)
لڑکا مڑ کر غصے سے اسکو گھورتا ہوا پوچھنے لگا ۔
ایمان کی آنکھیں حیرت سے پھیلیں زبان تالو جا چپکی ۔
یہ لڑکا تھا؟ اسے لگا لڑکی ہے ! وہ کیا کیا نہیں کر رہی تھی اسکے ساتھ ؟؟؟ لعنت ہو تم پر ایمان ، بہت گھٹیا حرکت کی تم نے ، اس نے خود کو کوسا ۔
جبکے لڑکے نے جواب نہ پاکر اسے انہی نظروں سے گھورتے رخ موڑ لیا۔ تالیاں بجنے کی آواز پر نبیشہ نے کب سے روکی ہوئی ہنسی کو آزاد کردیا ۔ وہ بے اختیار پیٹ پر ہاتھ رکھتے ہنستی جا رہی تھی ۔
ہوننہ ! ایمان نے منہ چڑایا ۔
کیا ہوا ؟؟؟جبکے ولدان نا سمجھی سے پوچھنے لگی ۔
کچھ نہیں مزاق تھا ! ایمان تڑخ کر بولی ۔
یہ کیسا مزاق تھا مجھے تو ہنسی نہیں آئی ؟ وہ الجھی ۔ پاکستانی مزاق تھا کہ ! ایمان تپی۔
اچھا ؟ پاکستانی مزاق کیا الگ قسم کے ہوتے ہیں !
ولدان الجھی ۔
یار ولدان دماغ مت کھائو ! وہ پیر پٹختی جانے لگی ۔
جبکے نبیشہ کی ہنسی نہیں رک رہی تھی ۔ وہ ایک پھر سے کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
******************************************
باکسنگ شورٹس پر گائوں پہنے ہوڈ سر پر گرائے۔
بیک اسٹیج ہاتھوں پر گلفز چڑہاتے ہوئے وہ کڑے تاثراتوں سے اپنے کوچ کو سن رہا تھا ۔ اسی لمحے اسکا نام پکارا گیا ۔ ‘ kill it man ‘کوچ اسکا کندھا تھپتھانے لگا۔
اس گردن کو دائیں بائیں جھٹکا اور پیروں پر اچھلتا ہوا پردہ کو ہاتھ مار کر آگے بڑھ گیا ۔سرخ رنگ کی لائٹس اسکے سر پر تیرنے لگیں۔ لوگ پرجوش انداز میں شور مچانے لگے اسے دیکھ کر ۔ اس نے اکن اکھیںوں سے لوگوں کو دیکھا ، اور ایک نظر اپنے پیچھے لہراتے روسی پرچم پر ڈالی ۔اور ہاتھ مار کر سر سے ہوڈ گرادئی ۔ ہاتھوں کا زور رسیوں پر جماتے ہوئے رنگ میں کودا۔ گائون اتار کر اس نے بے نیازی سے مینٹور کی جانب اچھال دیا ۔
گردن کو جھٹکتے ہوئے تیز تیز اچھلنے لگا۔حریف کے آتے ہی قہر برساتی نگاہوں اسے اوپر سے لیکر نیچے تک دیکھنے لگا
ہم لائیو جارہے ہیں ! اسکے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے کوچ نے مصنوعی دانت اسکے منہ میں دیئے ۔
کیا فرق پڑتا ہے ! وہ ہنوز نظریں اُسی پر جمائے ہوئے تھا ۔
کوچ نفی سے سر جھٹکتا باہر نکل گیا ۔ بیل بجنے پر پہلا رائونڈ شروع ہوا ۔ جو کامیابی سے اسکے نام رہا ۔ دوسرا رائونڈ شروع ہوتے ہی اسکا دھیان بھٹک بھٹک کر ایپرل پر جانے لگا۔ حریف پے در پہ اس پر مکے برسانے لگا۔ اسکے خیالات اسکے دماغ پر حاوی ہونے لگے ۔ وہ چاہ کر بھی فوکس نہیں کر پا رہا تھا ۔جسکے نتیجے میں وہ دوسرا رائونڈ ہار گیا ۔ شرائے بیک اسٹیج اسکرین کو گھورتی پریشانی سے پہلو بدلنے لگی ۔
تم کیا کر رہے ہو یہ؟ کوچ برہم ہوا ۔
یہ وقت دوسری چیزیں سوچنے کا نہیں ہے ،کچھ بھی مت سوچو اس وقت ، اپنے دماغ کو ساری سوچوں اور فکروں سے آزاد کردو ، لڑائی پر دھیان دو ، اور کر دکھائو اس سال بھی ، یہ چیمپئن شپ بھی تمہاری ‘ہی’ ہے ! کوچ نے اسکی آنکھ کے کونے پر برف کا ٹکڑا رکھتے ہوئے سختی تاکید کی ۔ اس نے خالی خالی نگاہوں سے کوچ کو دیکھا اور دانت منہ میں رکھتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
اگلے اور آخری رائونڈ میں اسکی سچویشن کچھ مختلف نہ تھی ۔ ‘ تم جیسے وحشی انسان سے میں تو کیا کوئی بھی محبت لڑکی محبت نہیں کر سکتی ‘ ‘
‘ تمہاری محبت ، محبت نہیں قید ہے مجھے وحشت ہوتی ہے اس قید خانے سے ، تم وحشی ہو ‘
‘تم پاگل ہو ،
‘تم سے کوئی لڑکی محبت نہیں کر سکتی ‘ جیسی کئی آوازیں اسکا دماغ مائوف کرنے لگیں ۔ اسے علم نہیں ہوا کب زور سے مکہ اسکے جبڑے پر پڑا اور وہ لڑ کھڑایا ۔
خون سے لت پت کوئی چیز اسکے منہ سے نیچے جا گری ۔اس نے بند ہوتی آنکھوں سے نظر دائیں طرف گھمائی ۔ جالیوں میں انگلیاں پھنسائے کوچ چلا چلا کر کچھ کہہ رہا تھا ۔
مگر کیا؟ اسے تمام منظر دھندلاتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ یششششمممم ! ہوش کے ناخن لو ورنہ ،ہم ہار جائیں گے !
کوچ اسٹیل کیج پر مکے مارتا ہوا چلایا ۔
اور اس بار خوش قسمتی سے اسکے کانوں تک پہنچی ۔ وہ حیران رہ گیا اسکے ساتھ یہ سب کیا ہو رہا تھا؟؟؟ کیا یہ آخری رائونڈ تھا ؟ اسے اپنے منہ پر نمی ہی نمی محسوس ہورہی تھی ۔اسکے دل و دماغ میں طوفان سا برپہ ہونے لگا
وہ غصے سے خود کو چھڑاتے ہوئے اٹھا حریف پر سوچے سمجھے بغیر مکے برسانے شروع کر دیئے ۔ مقابل پلیئر آدھ مرا ہو چکا تھا ۔ اس نے غصے میں پوری قوت سے مکہ اسکی کنپٹی پر دے مارا ۔ وہ لڑکھڑا کر زمین بوس ہوگیا۔اور رائونڈ ختم ہونے پر بھی نہ اٹھا ۔ بیل کی آواز پر اسکی جیت کا اعلان کر دیا گیا مگر وہ حواسوں میں نہیں لگ رہا تھا ۔ وہ بھول چکا تھا کہ وہ کہاں ؟ اور کس لیئے ؟؟
ّوحشی ،جاہل ! جیسی آوازیں ہنوز اسکے کانوں میں گونج رہی تھیں ۔ وہ چاہ کر بھی ان سے پیچھے نہیں چھڑا پا رہا تھا ۔ اس نے طیش میں آکر گلفز اتار کر زمین پر پٹخے اور زمین پر گرے شخص پر لاتوں اور مکوں کی برسات کردی ۔ اسکے کوچ اور ریفری سمیت مقابل کی ٹیم کئی لوگ دفاع میں اتر آئے۔ مگر وہ قابو میں آکے نہیں دے رہا تھا وہ اسے جان سے مار دینے کے در پہ تھا ۔ شرائے گھبرا کر مس تاتیہ کو فون ملانے لگی ۔
ہے ہیلو ہیلو میم ! وہ سر اس افریقی کو چھوڑ ہی نہیں رہے بہت غصے میں ہیں ، کیا کروں میں ؟
اسکرین کو دیکھتے ہوئے اسکے ہاتھ پیر پھولنے لگے ۔
بے وقوف لڑکی ،تو جا کر اسے روکو مجھے کیوں فون کر رہی ہو ، میں کیا کر سکتی ہوں ! وہ اسے ڈپٹتی کال کاٹنے لگی ۔ ہا ہا ہاں ہاں !میں کچھ کرتی ہوں !
وہ بو کھلائی ہوئی اسٹیج پر بھاگی ۔
آپ لوگ کیا اسکے مرنے کا انتظار کر رہے ہیں جائیں بھی !
وہ اسکے مینیجر پر چلائی ۔میڈیکل ٹیمیں مقابل کھلاڑی کو اسٹریچر پر اسے لٹاتے ہوئے بیلٹ لاک کیئے اسے اٹھائے ایمبولینس میں ڈالنے لگے ۔ مقابل پلیئر کے مداح اسے کھا جانے والی نظروں سے گھور رہے تھے ۔ جبکے وہ بے نیازی سے سب کو نظر اندز کیئے ۔ رِنگ سے نکل کر بیک اسٹیج جانے لگا ۔ مداح اسے چھو کر خوش ہوتے تو کوئی اسکا کندھا تھپتھپا کر داد دینے لگے۔ اس نے گلے سے میڈل کسی بے کار چیز کی طرح نکال کر کائوچ پر اچھال دیا ۔اسے خوشی محسوس نہیں ہر رہی تھی ؟ وہ حیران تھا
اور تتھھووو! کی آواز کے ساتھ بیسن سے پانی کے چھینٹے منہ پر مارے ۔ اسکے منہ سے ابھی بھی خون جاری تھا ۔ انکھ کے قریب نیل پر چکا تھا جبکے نچلا لب خون کی لکیر نمایا تھی ۔ اس نے منہ پر زور زور سے پانی کے چھینٹے کے برسائے اور ٹاول کھینچ کر باہر نکل آیا ۔
سر سر سر پلیز ! منہ نہیں دھونا تھا پھر بھی آپ نے دھو لیا ، پلیز ڈاکٹر کو دیکھنے دیں پلیز پلیز ! وہ اسے ٹاول منہ کے قریب لے جاتا دیکھ کر چلا اٹھی ۔
یشم نے جواباً سرد نگاہ ان دونوں پر ڈالی اور جواب دیئے بغیر کائوچ پر گر سا گیا۔ ڈاکٹر بجلی کی تیزی سے مطلوبہ سامان لے کر کائوچ کے دوسری جانب پہنچا ۔ جہاں وہ سر گرائے پڑا تھا ۔
وہ زندہ ہے ؟ اس نے بند آنکھوں سے پوچھا۔
ایمرجنسی میں ہے ! وہ ہچکچائی ۔
پتا نہیں مجھے کیا ہوگیا تھا ! میں نے کسی اور کو تو نقصان نہیں پہنچایا ؟ وہ بڑبڑایا ۔
ن نہیں ! وہ بولی ۔ ساتھ ہی ڈاکٹر کو فلحال اسے کوئی بھی تاکید کرنے منع کیا ۔ کہیں غصے میں آ کر اسے ہی زمین پر نہ پٹخ دیتا ۔پلیئرز کے مقابلے میں اس میں جان ہی کتنی تھی وہ بے چارہ اسکے ایک ہاتھ کی مار تھا ۔
کچھ دنوں سے عجیب سا رویہ تھا اسکا ۔اسے پہلے والے خوفناک یشم کی جھلک دکھائی دی اس میں آج۔ شاید یہ ایپرل کے جانے کا غم تھا جو غصے میں تبدیل ہونے لگا تھا ۔ جب اسے مس تاتیہ نے جاب پر ہائیر کیا تھا اس وقت وہ اپنے تقریبا پرانے تمام مینیجرز کو پیٹ چکا تھا ۔
تو میم میرا کیا ہوگا ؟؟ وہ گھبرا کر پوچھنے لگی ۔ تو مس تاتیہ ہنس دی ۔ کہ انکا بیٹا بگڑا ہوا ضرور ہے مگر بد تمیز نہیں ، وہ تم پر کیا کسی بھی عورت پر ہاتھ نہیں اٹھاتا ، وہ بہت عزت کرتا ہے ۔ اور اسکے لیئے فی میل مینیجر کو جاب پر رکھنے کی بڑی وجہ بھی یہی تھی ۔ اور انکا یہ دعوی بلکل سچ تھا ۔ وہ چاہے جتنا بھی غصے میں ہوتا اسے آج تک کوئی تکلیف یا نقصان نہیں پہنچائی تھی ۔ تبھی شرائے کو جاب سنبھالتے دو سال گزر چکے تھے ۔ہاں وہ تھوڑی بے وقوف تھی ۔ گھبراہٹ میں اسکے ہاتھ پیر پھول جاتے تو وہ مس تاتیہ کو فون کھٹکا دیتی ۔ جسکا وہ برا نہیں مناتی تھیں اور بعض اوقات منا بھی جاتی ۔ مگر اسکے ساتھ انکا دوستانہ رویہ مثالی تھا
******************************************
آج انکی پہلی کلاس تھی ۔ وہ بہت دل سے تیار ہو کر آئی تھی
گڈ مارننگ ایوری ون! وہ ولدان کے قریب آ بیٹھی ۔
مجھے ایسا لگ رہا ہے میں اسمبلی بیٹھی ہوں !
وہ ارد گرد نگاہ دوڑاتی ہوئی بولی ۔ کلاس روم نہیں بلکے ‘حال’ کافی بڑا تھا ۔انٹیریئر کچھ کچھ اسمبلی کے حال جیسا تھا ۔ یہ پیش گوئی اس نے نیوز چینل میں دیکھی گئی سندھ اسمبلی کو دیکھ کر کی تھی ۔ اب وہ واقعی سندھ اسمبلی تھی یا نیشنل اسے کچھ خبر نہیں تھی ۔ مقابل دیوار نما اسکرین تھی جبکے اسکے آگے پرفیسر کا ڈائس تھا ۔کچھ ہی دیر میں ہال اسٹوڈنٹس سے بھر گیا ۔ کھڑے ہو کر پروفیسر جوزف کا استقبال کیا ۔
اسٹوڈنٹس اتنے تھے کہ انٹرو میں پورا لیکچر کیا دن نکل جاتا ۔ اسلئے اسے اسکپ کرتے ہوئے پروفیسر نے لیکچر اسٹارٹ کیا تو حال میں سناٹا چھا گیا ۔ وہ بھی پورے دھیان سے انہیں سننے اور نوٹ کرنے لگی ۔
ایمان اور ولدان سائنس جبکے نبیشہ لاء کی اسٹوڈنٹ تھی ۔ لیکچر ختم ہوتے ہی تمام اسٹوڈنٹس کتابیں سمیٹتے باہر نکل گئے ۔
چلو ! کینٹین ،کچھ کھاتے ہیں میں نے صبح بریک فاسٹ نہیں کیا ! ولدان بیگ سمیٹتی باہر نکل گئی ۔
ہاں ،چلو اس نے تھکے تھکے انداز میں انگلیاں آپس میں جوڑتے ہوئے ہاتھ اکڑائے ۔ چلتے منہ کو بریک لگائی اور ببل نکال کر سامنے پھینک دی ۔ اسے اپنی غلطی کا احساس فورا ہی ہوا ۔
مگر ! بہت دیر ہوچکی تھی ۔ ببل اس سے اگلی نشست پر بیٹھے گھنگھریالے بالوں والے اسٹوڈنٹ کے سر پر صاف دکھائی دے رہی تھی ۔
یا اللہ ! کیا کروں اب ؟ مڑ کر دیکھا تو اکا دکا اسٹوڈنٹس بیٹھے تھے۔
نکال دیتی ہوں بے چارے کی خواہ مخواہ انسلٹ ہو جائے گی ! وہ اپنی غلطی ماننے کے بجائے اس پر ‘ترس’ کھانے لگی ۔ اس نے ہاتھ بڑھایا ہی تھا کہ وہ بیگ کندھے پر ڈالتا باہر نکل گیا ۔
اس نے بے بسی سے مٹھیاں بھینچیں ۔اور تیزی سے کتابیں بیگ میں گھساتی اسکے پیچھے ہوئی ۔ اسکے قدموں پر قدم رکھتے ہوئے موقع تلاش کرنے لگی ۔ چلتے چلتے اچانک وہ نوٹس بورڈ کے قریب رکا۔ اس نے ہاتھ بڑھا کر چنگم نکالنی چاہی مگر بد قسمتی سے وہ اسکے بالوں میں بری طرح چپک گئی تھی ۔ اس نے انگلیوں سے اسے نیچے دبایا اور اوپر سے بال سنوار کر اسے اچھے سے ڈھکنے لگی ۔ کارنامہ سر انجام دے کر وہ جیسے ہی مڑی ۔
لمبے چوڑے اسٹوڈنٹ کو سخت نگاہوں سے گھورتے پایا ۔ وہ یقینا اسکا کارنامہ ملاحظہ کر چکا تھا ۔
کہیں اس نے دیکھ تو نہیں لیا ؟؟ وہ دانت دکھاتی کان کے پیچھے بال اڑسنے لگی ۔
بہت غلط حرکت ہے ! وہ تنے نقوشوں سے بولا ۔
ن نہیں ،نہیں تو میں تو بس ہیلپ کر رہی تھی ! وہ گڑبڑائی ۔ وہ مڑ کر اپنی غلطی سدھارنے لگی ۔ مگر یہ صرف اسکی سوچ تھی ۔
تم ؟؟ وہ چیخا ۔ یہ وہی قطار والا لڑکا تھا جسے وہ لڑکی سمجھ بیٹھی تھی ۔
آگے کنواں تھا اور پیچھے کھائی وہ کیا کرتی !
ہہہ ہائے ! اس نے بتیسی دکھاتے ہوئے نزاکت سے انگلیاں ہلائیں ۔
کیا ہے ؟؟وہ لڑکا کھا جانے کو دوڑا ۔
یہ تمہارے بالوں کے ساتھ کچھ کر رہی تھی ! وہ لمبا چوڑا لڑکا اس میگی نما بالوں والے سے اسکی شکایت کرنے کے بعد یہ جا وہ جا ۔
کتا ، خبیس کہیں کا ، چوہے کی موت مرے گا تو ! وہ اسکی پشت پر غصے سے چلائی ۔ اب کسی کو کیا پتا وہ کس کی تعریفیں کر رہی تھی ۔ اردو زبان میں ۔
تم کیوں میرے پیچھے پڑی ہو !؟ وہ اکتایا ۔
نہیں میں تو بس ! اس سے جواز نہ بن پایا
دیکھو نہ تو میں خوبصورت ہوں ، نہ ٹول ، نہ ہی ہنڈسم ہوں دوسرے لڑکوں کی طرح اسلئے میرا پیچھا کرنا بند کرو ! وہ کھری کھری سنانے لگا ۔
ہاں ویسے کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو ! اس نے برا سا منہ بنا کر اسکا سر تا پا جائزہ لیا ۔ گھنگھرالے بالے ،چھوٹا قد ، گول مٹول سا وہ اتنا برا بھی نہیں تھا کیوٹ تھا ۔
میرا پیچھا کرنا بند کرو ! وہ غصے سے جھاڑتا ہوا وہاں سے جانے لگا ۔
حد ہے ، تمہارا پیچھا میں کیوں کرونگی ! ڈسٹرب چڑیل
وہ اسکے بالوں کو دیکھتی ہوئی برا سا منہ بنا کر بولی ۔
کیا کہا تم ؟ وہ طیش میں آیا
وہی جو تم نے سنا ! وہ ادا سے بالوں کو جھٹکتی بیگ کندھے پر درست کیئے آگے بڑھ گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *