The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode06
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode06
The Dark by Uzzai Zehan Episode06
وہ ٹیبل پر سر گرائے بیٹھی تھی جب ثنان کمرے میں داخل ہوا ۔
رومی ؟؟؟ وہ اسکا کندھا ہلاتے ہوئے بولا۔
ہوں ! وہ بس اتنا ہی بولی پائی۔
تم ٹھیک، تو ہو نا؟؟؟ اسکی پریشانی میں ڈوبی آواز رومیصہ کے کانوں سے ٹکرائی ۔
تو اس نے دھیرے دھیرے پلکیں اٹھائیں ۔شاید صبح ہو چکی تھی ۔یا رات ہی تھی وہ کچھ سمجھ نہیں پائی اسکا دماغ جیسے تمام صلاحیتیں کھو چکا ہو۔
میں نے چیف سے بات کر لی ہے تم گھر جا سکتی ہو !
ثنان بغور اسے دیکھتا ہوا بولا۔اسے وہ حواسوں میں نہیں لگ رہی تھی ۔
میرا ، میرا فون ! وہ ہمت جٹاتی ہوئی بولی ۔
باہر ریسپشن تمہارا سارا سامان موجود ہے ! چلو میں تمہیں تمہارے گھر چھوڑ دوں ! وہ اسکی کہنی تھامتا ہوا بولا ۔
وہ ہمت جٹاتے ہوئے اٹھی ۔ وہ اسے تھامے باہر لے آیا ۔
پانی ملے گا !
اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا تھا۔
تم یہاں رکو میں لاتا ہوں ! وہ اسے ریسپشن کے قریب کھڑا کیئے کینٹین کی جانب بڑھا ۔
وہ قدم قدم چلتی ہوئی ریسپشن پر پہنچی ۔
میرا بیگ ؟ وہ وہاں موجود لڑکی سے پوچھنے لگی ۔
گلاس وال کے اس سوچوں میں غلطاں اطہر کی نگاہ اس پر پڑی ۔ رومیصہ نے بیگ سے فون نکال کر جیسے ہی انلاک کیا دھڑادھڑ نوٹیفیکشن موصول ہونے لگے اسکا ارادہ نبیشہ کو میسیج کرنے کا تھا۔ مگر سر بری طرح چکرا رہا تھا ۔
ہڑابڑاہٹ میں اسکے ہاتھوں سے کوئی وڈیو نوٹیفکیش کھل گیا۔
پ پ پانی ملے گا ! وہ ایک ہاتھ سے سر تھامے سامنے لڑکی سے بولی ۔ اسکی آواز اتنی مدھم تھی کہ وہ بمشکل سن پائی ۔وہ سر ہلاتی جھکی اور پانی کی بوتل اسکے سامنے رکھی۔ اس نے بوتل جھپٹتے ہی منہ لگالی ۔
اسکی یہ حرکت اطہر کی نظروں سے اوجھل نہ رہ سکی ۔اسکے ہاتھوں کی کپکپاہٹ واضع تھی ۔ وہ اتنی بھی دور نہ تھا کہ نوٹ نہ کر پاتا ۔ اطہر کو عجیب سا محسوس ہوا ۔ وہ فون ٹیبل سے فون اٹھائے آفس سے باہر نکلا۔
رومیصہ ہتھیلیاں جینز سے رگڑتی فون اٹھائے مڑی۔ کسی غیر شناسا نمبر سے سینڈ کی گئی وڈیو اسکے فون کی اسکرین پر چلنے لگی وہ نا سمجھی سے دیکھنے لگی
یہ اسکے گھر کا منظر تھا بلاشبہ ، اسے کچھ غلط ہونے کا احساس ہوا اسکے ہاتھ کپکپانے لگے۔ نبیشہ اور ایمان کے چیخنے کی آوازوں پر یک دم وڈیو سیاہ ہوگئی ، اور فون اسکے ہاتھوں سے چھوٹ کر زمین پر جا گرا ۔کہیں انہیں کچھ ہو تو نہیں گیا؟ اس سے آگے وہ کچھ سوچ ہی نہ سکی ۔ اسکی سانسیں اٹکنے لگیں
رومیصہ ؟ کیا ہوا تمہیں ،ثنان کو آتا دیکھ کر اطہر کے اسکی طرف بڑھتے قدم رکے۔
وہ خوف سے تھر تھر کا نپتی فون کی طرف اشارہ کرنے لگی ۔
یہ تو ٹوٹ چکا ہے ۔ وہ فون پر نظر ڈالتا ہوا مایوسی سے بولا ۔ ہوا کیا ہے ؟ وہ نا سمجھی سے اسکی اڑی رنگت کو دیکھتا پوچھنے لگا
مگر وہ بتانے سے قاصر تھی ۔
آ آئی آئی کانٹ بریتھ ! آئی کانٹ بریتھ ! وہ سینے پر ہاتھ جمائے بمشکل لفظ ادا کرنے لگی ۔
رومیصہ ، وہ گھبرا گیس
آئی کانٹ بریتھ ! وہ بمشکل لفظ ادا کرتی لڑکھڑا کر دھڑام سے زمین پر جاگری ۔
وہ حد سے زیادہ خوف زدہ ہو چکی تھی۔
اطہر تیزی سے اسکی طرف بڑھا اور اسکا بیگ کھنگالنے لگا۔ جس سے اسے ایک اسپرے کی بوتل ملی۔
تفصیل سے پڑھنے کا وقت اسکے پاس نہیں تھا ۔
ہٹو ! ثنان اسے دیکھ کر ایک طرف ہوگیا۔ وہ بوتل کو اپنے ہتھیلی پر اسپرے کرتے ہوئے اسکے ناک کے قریب کرنے لگا۔مگر اس پر کوئی اثر نہیں پڑا ۔
اسکی نبض دھیمی چل رہی ہے ! وہ اسکی ہتھیلی پر انگلیاں جماتا ہوا بولا ۔
غالبا کسی چیز سے خوفزدہ ہے ! تم اسے ہاسپٹل لے جائو ! وہ کچھ سوچتے ہوئے بولا۔
اور سنو ڈاکٹر یمنی کاظمی کے پاس لے جانا ، وہ اسکی ڈاکٹر ہیں اچھے سے ہینڈل کرلیں گی ! نہ جانے اس نے یہ سجھائو کیوں دیا تھا مگر کچھ تو تھا ۔اسکی حالت کا زمہ دار کہیں نہ کہیں وہ بھی تھا ۔
ثنان سر ہلاتا ہوا اسے اٹھائے باہر کی طرف بھاگا ۔
احمد کو میرے آفس بھیجو ! اطہر نے زمین پر گرا فون اٹھایا آفس کی جانب بڑھ گیا۔
کچھ ہی پلوں میں احمد اسکے سامنے حاضر تھا.
یہ سیل فون لو ، آدھے گھنٹے میں اصلی حالت میں میرے ٹیبل پر ہونا چاہیئے ، اس میں موجود ڈیٹا کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ! اگلا حکم حاضر تھا ۔احمد حکم کی تعمیل کرتا فون کے حصے سمیٹے باہر نکل گیا ۔
***********************************************
ڈاکٹر یمنی نے اسے ایڈمٹ کرلیا تھا ۔ مگر اسکی اچانک بگڑی حالت پر وہ سخت پریشان تھی ۔ اور رومیصہ سے نالاں بھی ۔ جس نے باقی دنوں سمیت اتوار کے دن بھی سیشن مس کر دیا تھا ۔ ثنان ڈیوٹی پر طعینات ہونے کے باعث اسے ہاسپٹل چھوڑ کر جا چکا تھا ۔اسکی بہنوں کو انفارم کرنے سے ڈاکٹر یمنی نے منع کر دیا تھا تو ثنان نے یہ معاملہ ان پر چھوڑ دیا ۔ وہ بہتر طریقے سے ہینڈل کر سکتی تھی ۔رومیصہ دوائوں کے زیر اثر غنودگی میں تھی ۔ مسز کاظمی اس پر ایک نظر ڈال کر اپنے آفس کی جانب بڑھی ۔
تم اس وقت! اطہر کو اپنے آفس پاکر وہ حیران ہوئی ۔
بلکل ! سوچا آج لنچ آپ کے ساتھ کیا جائے ! وہ مسکرایا ۔ مجھے یقین نہیں آرہا ! وہ جانچتی نگاہوں سے دیکھتی کرسی پر براجمان ہوئی !
اب ایسی بھی بات نہیں وہ ناراض ہوا ۔
چلیں پھر ، وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
جیسے آپ چاہیں آفیسر ، وہ شوخی سے کہتی اسکے ہمقدم ہوئی ۔تو اطہر بھی ہنس پڑی۔ وہ ہاسپٹل کے نزدیک ریسورنٹ میں چلے آئے ۔ کھانا آرڈر دینے کے بعد وہ یہاں وہاں کی باتیں چھیڑتا بات کا آغاز شروع کرنے لگا۔
ویسے یہ رپورٹ آپ کے ہاسپٹل کی ہے! اس نے فون کی اسکرین مسز کاظمی کی طرف گھمائی ۔
تو یہ بات تھی ؟ وہ خشمگین نگاہوں سے گھورنے لگیں ۔اطہر نے دانت دکھاتے ہوئے گردن کو جنبش دی ۔
ہاں ، ان فیکٹ میری بنائی گئی رپورٹ ہے ! کیا ہوا ؟کسی کی رپورٹ ہے یہ اور تم کیوں پوچھ رہے ہو وہ تعجب سے پوچھنے لگی ۔
رومیصہ عثمان نامی لڑکی آپ کی پیشنٹ ہے !وہ تجسس سے گویا لگا
ہاں بھئی ! لیکن تم کیوں پوچھ رہے ہو ! وہ نا سمجھی سے بولیں
کتنے سال سے ؟؟ اگلا سوال حاضر تھا
تقریبا دو سال سے ، وہ سوچ کر بولیں
ہممم مجھے بس کنفرم کرنا تھا کہ یہ رپورٹس جھوٹی ہیں یا پھر ! اس نے اطمینان سے کرسی کی پشت سے ٹیک لگائی
افکارس اصلی رپورٹس ہیں ! کیا بات ہے تم بتا کیوں نہیں رہے ؟ وہ الجھی ۔
آپ جانتی بھی ہیں وہ لڑکی کچھ دن پہلے آپ کے ہاسپٹل کے کنٹرول روم کی سی سی ٹی وی فوٹیج کے ساتھ چھیڑ چھاڑ کر رہی تھی !
اطہر کی پیش گوئی پر مسز کاظمی نے سختی سے پلکیں بھینچیں ۔ وہ اسکی شکی طبیعت سے سخت عاجز آچکی تھیں
آف کورس میں جانتی ہوں میری جان ! لیکن تم یہ سب کیسے جانتے ہو اطہر!؟
ریئلی مطلب آپ کے علم میں ہے یہ بات ! وہ چونک کر سیدھا ہوا
ہاں بیٹا! ان فیکٹ اس نے میرے کہنے پر ہی میری مدد کی تھی ، ہاسپٹل سے اچانک ایک پیشنٹ غائب ہوگیا تھا اور سی سی ٹی وی فوٹیج بھی کام نہیں کر رہی تھی ایسے میں کیا کرتی میں ، ہاسپٹل کی ریپوٹیشن کا سوال تھا اسلیئے میں نے پولیس کے بجائے اسکی مدد لی اور دیکھو میرا کام ہوگیا اور کسی علم بھی نہیں ہوا !
وہ رومیصہ سے متاثر نظر آتی تھیں
آپ مجھے بھی تو بتا سکتی تھی مما؟
اطہر نے نفی سے سر جھٹکا
تم اپنی جاب میں بزی تھے اسلئے تمہیں ڈسٹرب کرنا ضروری نہیں سمجھا اور،
تم کچھ چھپا رہے ہو مجھ سے وہ گہری نظروں سے گھورنے لگیں
شاید مجھ سے غلطی ہو گئی ہے ! اسکے لہجے سے پیشمانی جھلکی
پہلیاں کیوں بجھوا رہے ہو صاف صاف بتائو !
وہ تپ کر بولیں
میں نے اسے ایک پوری رات تحویل میں رکھا مجھے لگا وہ غیر ضروری سرگرمیوں میں ملوث ہے !
وہ قدرے آہستگی سے بولا
اطہر ! مسز کاظمی کو جیسے یقین نہ آیا
تو میں اور کیا کرتا بتائیں آپ ہی ، ایسے کوئی بھی اس پر شک کرتا جیسی اس نے حرکت کی ہے !
وہ خفگی سے آنکھیں پھیرتا ہوا بولا
تم نے بہت غلط کیا اطہر ، ایٹ لیسٹ مجھ سے پوچھ لیا ہوتا میرے ہاسپٹل کا معاملہ تھا میں خود ہی تمہیں بتا دیتی مسز کاظمی اسکی حرکت پر برہمی کا اظہار کرنے لگیں
سوری مام ! وہ واقعی شرمندہ تھا
تمہارا کیا ہوگا اطہر ، مانا کہ تمہاری جاب ایسی ہے لیکن تمہاری یہ شکی اور وہمی قسم کی عادتیں تمہیں آگے چل بہت بھاری پڑنے والی ہیں وہ نفی میں سر جھٹکنے لگیں
اچھا نا ! کھانا کھائیں !
وہ انکی توجہ کھانے کی طرف دلاتا ہوا بولا
خبردار تم نے دوبارہ میری پیشنٹ کو پریشان کیا تو ! وہ اسے ڈپٹتی ہوئی بولیں
سوری ڈاکٹر صاحبہ ! اس نے اطراف میں ایک نظر ڈال کر کان پکڑے
اس سے معافی مانگو جس کے لیئے تم تکلیف کا باعث بنے ! وہ دو ٹوک بول کر کھانے کی طرف متوجہ ہوئیں ۔ جبکے اطہر کو یہ دنیا کا مشکل ترین کام لگنے لگا ۔ بھلا معافی کیسے مانگتے ہیں؟ اس نے کبھی کسی سے معافی نہیں مانگی تھی !
اب کیا سوچنے لگے ! کھانا ٹھنڈا ہورہا ہے ! وہ اسکی بے توجہی نوٹ کرتی ہوئی بولیں ۔
آہہ !کچھ خاص نہیں،بس آپ سے اسکی ، یعنی آپ کی پیشنٹ کی بیماری کے بارے میں ڈیٹیل سے ڈسکس کرنا چاہتا تھا مگر ،میری میٹنگ کا وقت ہورہا ہے مجھے جانا پڑےگا ! وہ گھڑی دیکھتا کرسی دھکیلا کر اٹھ کھڑا ہوا۔ اطہر بس بھی کرو بیٹا ! مسز کاظمی نے سختی سے ٹوکا ۔ نہیں مام ، اس بار کنڈیشن ڈفرنٹ ہے ایسی بہت سی باتیں اور پتا چلی ہیں اس لڑکی کے بارے میں ،میں اگنور نہیں کرسکتا مام ،اوکے سی یو ! وہ تیزی سے کہتا انکا ہاتھ تھام کر لبوں سے لگاتے ہوئے فون اٹھایا اور ایگزٹ کی جانب بڑھ گیا ۔مسز کاظمی اسکی پشت کو گھور کر رہ گئی ۔
ہیلو آنٹی ؟ چہکتی آواز پر چونک کر پلٹی تو سارہ کو اپنی طرف دیکھتا پایا ۔
بیٹھ سکتی ہو؟؟؟ وہ اجازت طلب کرنے لگی ۔
ہاں ہاں پلیز ! وہ فورا بولیں ۔
وہ اطہر تھا نا ؟ سارہ نے ایگزٹ کی جانب اشارہ کیا جہاں سے وہ ابھی گزرا تھا ۔
ہاں ! مسز کاظمی حیران ہوئیں ۔ وہ کئی بار اطہر کے بارے میں اس سے پوچھ چکی تھی ۔ شاید وہ اسے پسند کرتی تھی یا مسز کاظمی کو ایسا محسوس ہوا۔
***********************************************
یش ، دروازہ کھولو یشم !
دھڑ دھڑ کی آواز سے کوئی دروازہ پیٹ رہا تھا مگر اندر موجود نفوس پر اسکا رتی برابر اثر نہیں ہوا ۔ وہ آنکھوں میں سرخ ڈورے لیئے پے در پے مکے باکسنگ بیگ پر برسائے جا رہا تھا۔ چہرے سے پسینہ ٹپک رہا تھا ،بھیگے بال ماتھے پھر پڑے تھے ۔مگر وہ غم و غصے کے عالم میں باکسنگ بیگ کے پیٹے جا رہا تھا ۔ جیسے وہ بے جان چیز نہ ہو کوئی انسان ہو جسے وہ جان سے مار دینا چاہتا ہو اسکا ابھی بھی ٹھنڈا نہیں ہوا تھا ۔
یشم میری جان ! تمہاری طبیعت بگڑ جائے گی ، تم نے صبح سے کچھ نہیں کھایا نہ ہی ٹیبلٹ لی خدارا دروازہ کھول دو ! تاتیانہ کی فکر مند سی آواز پھر سے اسکے کانوں سے ٹکرائی مگر اس بار وہ خاموش نہیں رہ سکا بلکہ پبھرے شیر کی طرح دھاڑا ۔
ہاں تو ٹھیک ہے نا ! مر جانے دو مجھے مس تاتیہ آپ کو بھی اپنی زندگی راحت ملے جائے گی ، نہ ہی دوسروں کو یقین دلانا پڑے گا کہ میرا بیٹا پاگل نہیں ہے !
ایسے مت کہو یشم ! میں ایسی دس لڑکیوں کی لائن لگادونگی تمہارے لیئے ، تم جانتے ہو نا
وہ دکھ سے بولی ۔
نہیں چاہیئے مجھے وہ دس لڑکیاں ، مجھے بس وہ چاہیئے ، ایپریل چاہیئے مجھے سنا آپ نے !
وہ دروازے کی طرف رخ موڑے چلایا ۔
یشم بس کردو بیٹا ، اسکی کل شادی ہے وہ تمہارے قابل نہیں تھی ، اس نے تمہارے ساتھ بیوفائی کی !
یشم کے مکے برساتے ہاتھ رکے ۔ کیا کہا؟ کس ! کسکی شادی ہے کل؟ وہ رکا
بس پھر کیا تھا شرائے کو لگا اگلے ہی پل اسکی موت واقع ہونے والی ہے ۔ یشم کے علم میں نہیں تھی یہ بات جبکہ اسے لاعلم رکھنا تھا تاکہ وہ اپنے حواس نہ کھو بیٹھے اسکا ANGER ISSUE دن بدن بڑھتا ہی جا رہا تھا۔ جبکے مس تاتیہ کی زبان نے یہ بھی کر دکھایا تھا ۔ اگلے ہی لمحے دروازہ کھلا اور وہ انکے سامنے تھا ۔ پسینے سے شرابور ، بکھرے بال ، شرٹ سے عریاں کسرتی بدن آنکھوں لہو ٹپکاتی آنکھیں شرائے پر ٹکائے وہ اسکی طرف بڑھا ۔ جبکے شرائے کو لگا یہ اسکے آخری لمحات ہیں ۔
بتایا نہیں تم نے مجھے؟ وہ بولا ۔ اتنا ہولے کہ شرائے بمشکل سن پائی ۔
وہ وہ مس تاتیہ ! وہ مدد طلب نگاہوں سے مس تاتیانہ کو دیکھنے لگی
بتانا چاہیئے تھا نا ! وہ چلایا۔
یشم کام ڈائون ہم نے صرف تمہارے خیال سے !
ہوگی نہیں یہ شادی ،
وہ انگلی اٹھا تنبہہ انداز میں بولا ۔ اور تاتیہ کو شدت سے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔
میں ہونے نہیں دوں گا یہ ! اس نے راہداری میں سجا واز اٹھایا اور زور سے لائونج کی دیوار میں نسب اسکرین پر دے مارا ۔ تاتییہ لبوں پر انگلیاں دبائے شاکڈ نظروں سے اپنے بیٹے کو دیکھنے لگی ۔ جسکی طبیعت پھر سے بگڑنے لگی تھی ۔جس کا اسے ڈر تھا وہی ہوا ۔
ہوگی نہیں یہ شادی ، میں یہ ہونے نہیں دونگا دیکھنا تم ! وہ انگلی اٹھا کر دھمکی بھرے انداز میں کہتے ہینڈ ریپ اتارتے ہوئے زمین پر پٹخنے لگا۔اور کمرے میں جا کر بندوق میں گولیاں بھرنے لگا ۔تاتیانہ سر پر گویا آسمان آگرا ۔
اسکے پاس گن کہاں سے آئی ؟؟؟ وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھیں ۔
یشم رک جائو ! مت کرو ، وہ منت بھرے لہجے میں بولی ۔
تو میں اور کیا کروں ؟ ہاں ؟ کیا کروں میں تم ہی بتائو ؟ سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ، ہم فیشن ویک سے اچھے خاصے واپس لوٹے تھے ، پھر ؟؟؟ وہ رکا
اسکی سرخ آنکھوں میں موتی چمکنے لگے ۔
کیا ہوا اسے اچانک ؟ کیوں شادی کر رہی ہے وہ ؟
وہ عاجزی اور بے بسی سے چیختا ہوا بیڈ پر گرا ۔
کام ڈائون ،
وہ اسے نرم پڑتا دیکھ کر اسکا کندھا سہلانے لگی
نو ، آئی ناٹ کام ڈائون ، آئی ۔۔ول ناٹ ۔۔۔ کام ڈائون ۔۔تاتیہ
وہ حلق کے بل دھاڑا۔ ٹھکرائے جانے کا دکھ غصے کی صورت اختیار کرنے لگا ۔ تاتیہ اسکے انداز پر گھبرا کر دور سرکی اور
آنسوئوں سے لبریز آنکھیں لیئے اسے گھورنے لگی
جو غصے میں صحیح غلط کی تمیز ہی بھول گیا تھا ۔
وہ بالوں کو مٹھیوں میں دبوچے گہرے گہرے سانس لینے لگا۔۔ ان کے بیچ گہرا سکوت چھا گیا ۔ کئی لمحے ایسے ہی گزر گئے ۔
تاتیہ نے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو گھورتی ہوئے بولنا شروع کیا
تمہیں پتا ہے نا ، تمہاری خاطر میں نے اپنی پوری جوانی صرف کردی میں صرف پچیس سال کی تھی جب تمہارے باپ نے مجھے طلاق دے دی ، میرے پاس دو راستے تھے یا میں تمہیں چھوڑ دوں ، یا اپنا کریئر !
یشم نے چونک کر سر اٹھایا
میں نے تمہیں چُنا یشم ، اپنا کریئر ،اپنے خواب ، خواہشیں سب سے منہ موڑ کر !
پتا ہے کیوں ؟ اس نے نرمی سے اسکے ہاتھ سے بندوق لے کر ایک طرف رکھ دی ۔
کیوں کہ میں تمہیں تمہارے باپ جیسا ظالم اور بے حس نہیں بننے دینا چاہتی تھی ، میں نے تمہاری اچھی تربیت کی ، تمہیں پڑھایا لکھایا تمہاری ہر جائز نا جائز خواہش کا خیال رکھا ،آج تمہارے پاس دولت ہے شہرت ہے ، تم اپنی زندگی کامیاب ہو ،تو تم اپنی ماں کو بھول گئے اسکی تربیت کو ،اسکی قربانیوں کو بھول گئے یشم،
اگر میں تمہیں نہ روکتی تو تم نہ جانے کیا کر بیٹھتے ، اسی راہ پر چل پڑتے جس پر تمہارا باپ ،تمہارے بھائی چل پڑے ہیں ، خون خرابا ،لوگوں کا دل دکھانا ،فساد، بربریت ! میں تمہیں اس سب سے دور رکھنا چاہتی تھی یشم ،مگر مجھے لگتا ہے!
وہ انتہائی دکھ اور بے یقینی سے بھیگے لہجے میں بولی ۔
آ آئی ایم سو سوری تاتیانہ، پتا نہیں مجھے کیا ہوجاتا ہے
یشم نفی میں سر ہلاتا اسکے قدموں میں آ بیٹھا ۔اور اسکے دونوں ہاتھ اپنے ہاتھوں میں لئے ۔ اسے آج بھی کچھ کچھ یاد تھا ۔ وہ پانچ سال کا تھا جب تاتیہ کے سر پر ‘ مس روس ‘ کا تاج سجا۔ وہ آئڈینس میں بیٹھا بڑے فخر سے تالیاں بجانے لگا تھا کہ اسکی ماں دنیا کی خوبصورت ترین عورت ہے ۔بلاشبہ تاتیہ کی قربانیاں اسکے لئے لازوال تھیں۔ اس نے اپنے ماڈلنگ کریئر کو خیر آباد کہہ کر بزنس شروع کیا ۔ جس میں وہ کامیاب بھی تھی ۔ اور آج وہ ‘سنگل مدرز’ کے لئے جیتی جاگتی مثال تھیں ۔
معافی مت مانگو , بس اپنی کمزوریوں کو پہچانو ! انہیں اپنے اوپر حاوی مت ہونے دو ! غصہ انسانی فطرت ہے یشم ، بس کچھ لوگ اس پر قابو پا لیتے ہیں اور کچھ پر یہ حاوی ہوجاتا ہے ! وہ اسے پیار سے سمجھانے لگیں ۔
یشم بے بسی سے سر جھٹکتا اسکے ہاتھ چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا ۔تاتیہ کچھ بھی کہتی مگر وہ جانتا تھا اس ‘ایشو ‘ سے کس قدر خوفزدہ تھا ۔ اسے ہر وقت یہی دھڑکا لگا رہتا تھا کہ وہ کسی کو نقصان نہ پہنچا دے غصے میں ۔
تم مجھے سے وعدہ کر رہے ہو نا یشم ؟ تم یہ دوبارہ نہیں کرو گے ؟
وہ اسکی پشت کو گھورتی ہوئی بولی ۔ اشارہ گن کی طرف تھا ۔
اففف تاتیہ ! وہ عاجز آچکا تھا ۔ ان روز روز کے وعدوں سے ۔ تاتیہ خفگی سے اسے دیکھتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
آ اچھا ،اچھا ! میں وعدہ کرتا ہوں ! وہ اسکی ناراضگی کے ڈر سے سرعت سے اسکے راستے میں آتے ہوئے بولا۔
پکی بات ؟؟ وہ اسکے انداز پر جی جان سے مسکرائی ۔
ہاں تمہاری قسم یار! وہ اسکی پیشانی پر ہتھیلی جماتے ہوئے بولا۔ وہ وعدے کا یقین دلانے کی خاطر اب قسمیں کھانے لگا تھا تو تاتیہ کو ماننا ہی پڑا ! اسکے انداز پر کھلکھلائی۔ تو اس نے بھی سکون کی سانس لی ۔
چھوڑوں گا نہیں تمہیں ایپرل! وہ مٹھیاں بھینچتا دل ہی دل میں اس بے وفا سے ہمکلام ہوا۔
