Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode21

The Dark by Uzzai Zehan Episode21

آل رائٹ لیڈیز ! آئی ایم ڈن ، تم لوگ کھانا کھالو تو مجھے ایک میسج کر دینا میں یہیں ہو! وہ نیپکن سے ہاتھ پونچھ کر کرسی دھکیلتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
تو ہم جا رہے ہیں نا لیک؟ وہ پر امید نگاہوں سے اسے دیکھتی بولی ۔
اب وہ نا کیسے کر سکتا تھا ۔جیسے تم لوگ چاہو ! کہتے ہوئے باہر کی طرف چلا گیا ۔
ہُرررررررےےےےے ! اس نے چلاتے ہوئے ہاتھ اوپر کی جانب اٹھائے نعرہ لگایا ۔آس پاس کے لوگ عجب نگاہوں سے اس دیوانی کو دیکھنے لگے ۔ وہ انہیں دانت دکھاتی فورا ہاتھ نیچے کرنے لگی ۔ پیزا کی طرف متوجہ ہوئی جس میں آخری پیس بچا تھا ۔
میرا پیزا کہاں گیا ؟ اسے صدمہ ہوا ۔
وہیں جہاں اسے ہونا چاہیئے تھا !ولدان نیپکن سے ہاتھ صاف کرتی ہوئی بولی ۔
تم نے کھایا نا؟؟ وہ شکی نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
ولدان نے فرمانبرداری کے تمام ریکارڈ توڑتے ہوئے سر اثبات میں ہلایا بس پھر کیا تھا ۔ وہ آگے آگے اور ایمان پیزے کا آخری پیس کے نوالے لیتی اسکے پیچھے پیچھے۔ .
نبیشہ ارے ارے ! کرتی رہ گئی ۔ مگر مگر وہ ننگے پیروں سے پورے ہوٹل میں اسکے پیچھے دوڑنے لگی جب تک کہ اسے دبوچ نہ لیا ۔
*****************************************
It’s been a long day without you my friend
And I’ll tell you all about it when i see you again
We’ve come a long way
From where we began
And I’ll tell you all about it when i see you again
OH,OH,OH,OH,OH,OH
وہ سب یک زبان ہو کر ہاتھوں میں ہاتھ ڈالے تیز تیز چیختے سمندر کی لہروں پر گھومنے لگے۔
چھوڑو مجھے میں گر جائونگی ! نبیشہ ہنستے ہوئے چلائی ۔ اوووو اووو اووو ! ایمان سنی ان سنی کرتی اسکے کان کے قریب منہ لے جاتے ہوئے چلانے لگی ۔
ان سے کچھ دوری پر پڑے ٹیپ ریکاڈر میں ‘ وز خلیفہ کا سونگ اٹس بین آ لونگ ڈے چل رہا تھا ۔ جو اسکے کلاس فیلوز یہاں لائے تھے ۔ نبیشہ ان سے دوری بناتے ہوئے گھٹنوں پر ہاتھ رکھے گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔ وہ ہمیشہ پانی سے گھبراتی تھی ۔ مگر آج کا دن انکے لیئے بہت اسپشل اور یادگار تھا ۔ وہ ہمیشہ اس دن کو یاد کرکے افسردہ ہونے والی تھی ۔ وہ لوگ آج اتنا ہنسے تھے جتنا وہ اپنی پوری زندگی میں نہیں ہنسی تھی ۔
یا اللہ ! ہماری خوشیوں کو کسی کی نظر نہ لگے ! اس نے نظر اٹھا کر کھلکھلاتی ہوئی ایمان کو دیکھتے شدت دل سے دعا کی ۔ زندگی سے بھرپور مسکراہٹ تھی اسکے چہرے پر ۔ کیا ہوا ؟؟؟؟ برش اپنے بالوں کو ہاتھ سے جھٹکتا ہوا اسکے قریب آکھڑا ہوا ۔
تمہیں بھی ! وہ حیرانگی اسکے بھیگے کپڑوں کو دیکھ رہی تھی جو ان لوگوں کی شرارت کا شکار ہوکر آرہا تھا ۔
They are insane !
برش نے مسکراتے ہوِئے ناک بھوں چڑھاتے ہوئے ۔ ان لوگوں کی طرف اشارہ کیا ۔ جن میں ولدان اور ایمان بھی تھی ۔ جو دیوانوں کی طرح ناچتی گاتی ،کبھی کسی کو پانی میں دھکیل دیتی تو کبھی ریت میں ڈبکی دلواتی بلکل پاگل لگ رہی تھیں ۔ وہ لوگ اس وقت لیک پر موجود تھے ۔ رات کے تقریبا دس بجنے کے قریب تھے ۔
آئے تو وہ لوگ اکیلے ہی تھے اتفاق سے انہیں ایمان اور ولدان کے مشترکہ کلاس فیلوز مل گئے ۔ جو ابھی تک تماشے لگانے میں پیش پیش تھے ۔ وہ دونوں بھی انکی شرارتوں سے بچ نہیں پائے تھے ۔ اس نے کیمپ سے لکڑی کی بنی دو چیئریں باہر کھینچیں اور ریت پر رکھتے ہوئے بیٹھ گیا ۔ نبیشہ بھی اسکے قریب آ بیٹھی ۔
کتنی خوبصورت جگہ ہے نا ! دل کرتا ہے بس ،سب فکروں ،غموں ،دکھوں کو بھلائے یہاں بسیرا کر لیں ! وہ جذب سے غیر مرئی نقطے کو گھورتی ہوئی بولی ۔
واقعی ! سہی کہا تم نے ،یہ جگہ جادوئی ہے انسان کو ہپنوٹائیز کو لیتی ہے ! وہ مسکراتے ہوئے بولا ۔
اچھا ، وہ اس طرف کیا ہے ؟ وہ پہاڑوں کی اونچی چوٹی پر بنی عمارت سے پھوٹتی روشنی کی کرنوں کی جانب اشارہ کرتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
برش نے نظر اٹھا جزیرے کی جانب دیکھا ۔
وہ آئی لینڈ ہے ! طلسمی آئی لینڈ ، بہت خوبصورت ہے ! اسکی مسکراہٹ سمٹی ۔
چلیں وہاں دیکھنے ! اس نے انوکھی خواہش ظاہر کی ۔ آنہانہ ! ہم وہاں نہیں جا سکتے ! وہ مایوسی سے کندھے اچکا کر بولا ۔
پر کیوں ؟ وہ تعجب سے پوچھنے لگی ۔
کیونکہ ۔۔۔۔ وہ گہری سانس لیے کر بات ادھوری چھوڑتے ہوئے ناچتے گاتے ان لوگوں کو دیکھنے لگا ۔
کیا ہوا ؟ نبیشہ نے ایک نظر اسکے تعاقب میں ڈالی اور چونک کر پوچھنے لگی ۔
ہم وہاں ‘ دیکھنے ‘ بھی نہیں جا سکتے کیونکہ وہاں سزیلینس کا قبضہ ہے یعنی وہ اس جزیرے کے مالک ہیں ! وہ اسکی طرف جھکتے ہوئے زرا آہستگی سے بولا ۔
نبیشہ کے سر پر گویا آسمان آگرا ہو۔
س سزسز یلیں زز ! اسکا رنگ فق ہوا ۔
برش نے نا سمجھی نے بھنویں سکیڑیں ۔
سزیلین مافیا! اسکے گلے کی گلٹی ڈوب کر ابھری ۔
تمہیں کیسے پتا کہ میں ‘مافیا’ کی بات کر رہا ہو ؟
وہ قدرے حیرانی سے بولا ۔
نبیشہ کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے ۔ وہ لاجواب ہوئی۔اس کیسے پتا ؟
مجھے ۔۔۔ مجھے بھلا کیسے پتا ہوگا !ایسے ہی تکا لگایا
وہ بوکھلائی ۔
بائے دا وے آج صبح جن سے سامنا ہوا وہ بھی یہی لوگ تھے نا ؟؟؟ اس نے ڈرتے ڈرتے پوچھا ۔
برش نے ایک نگاہ اس پر ڈالی اور سر اثبات میں ہلایا ۔وہ کچھ تو چھپا رہی تھی ۔
نبیشہ کی آنکھوں میں خوف و ہراس پھیل گیا ۔
و وہ ‘بٙیچ’ جو اس شخص کے پاس تھا ! وہ !!؟؟؟
اسکے لفظ ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہونے لگے ۔ وہ خود بھی نہیں جانتی تھی وہ اتنا کس چیز سے خوفزدہ ہے ۔
وہ ‘بیچ انکی نشانی ہے ،وہ صرف انہی کے لوگوں کے پاس ہوتا ہے یعنی جو انکے لیئے خاص ہوں یا جو انکے لیئے کام کرتے ہو! برش گہرے سانس اندر کھنیچتا ہوا بولا ۔
وہ وہاں کیوں آئے تھے ؟؟؟ اسکے معصومانہ سوال پر برش بے اختیار مسکرایا ۔
یہ پورا شہر کا پھر یوں کہو کہ یہ پورا ملک انہی کا ہے ،
وہ جب چاہیں جہاں چاہیں آ جا سکتے ہیں !
وہ عام سے انداز میں بولا ۔
پھر بھی کوئی ایک مخصوص ٹھکانہ ؟
وہ نہ جانے کیا جاننا چاہتی تھی ۔
ہاں وہ لوگ روم میں رہتے ہیں !اب کون جانے سچ کیا ہے اور کیا جھوٹ ! ایٹ لیسٹ لوگوں سے تو یہی سنا ہے ! اس نے بے اختیار نگاہ اٹھا کر اس جزیرے کی جانب دیکھا ۔
صد شکر وہ میلان میں نہیں تھے ۔۔۔۔مگر وہ یہاں نہ ہوتے ہوئے بھی ہر جگہ تھے !
اور سنو ! اس آئی لینڈ کا زکر ان دونوں سے مت کرنا خوامخواہ جانے کی ضد کریں گی ! جو تقریبا ناممکن ہے ! وہ انہیں اپنی طرف آتا دیکھ کر نبیشہ سے بولا ۔
Sen iyyim missin abi???
(Are you okay bro?)
ولدان اسکے چہرے پر چھائی سنجیدگی نوٹ کرتی ہوئی پوچھنے لگی۔
iyyyim iyyim !
( good , good )
وہ اسکا گال تھپتھپاتا ہوا اپنی نشست چھوڑ کر اٹھ کھڑا ہوا۔
Ne oldu ??
(کیا ہوا ؟)
ایمان تعجب سے باری باری انکے سنجیدہ چہروں کو دیکھتی ہوئی ولدان سے پوچھنے لگی ۔
Bilmiyorum !
(پتا نہیں )
وہ لاعلمی سے کندھے اچکاتی اپنے کپڑوں سے ریت جھٹکنے لگی ۔ اچھا نبیشہ تم !
ایمان پلیز میں بہت تھک گئی ہوں ! وہ ہاتھ اٹھا کر ٹوکتی ہوئی اسکی بات پوری سنے بغیر کیمپ کی جانب بڑھ گئی ۔ اسے کیا ہوا ؟ ایمان ہاتھ اٹھا کر رہ گئی۔
رو م می ! رومی ! وہ کپکپاتے ہاتھوں سے رومی کا نمبر ڈائل کرنے لگی مگر ناکام رہی ۔ کیونکہ اسکا نمبر اب بھی بند جارہا تھا ۔
رومی کہاں ہو تم ؟؟؟ یا اللہ رحم کر ۔ انکی خوشیوں پر جیسے اوس پڑ گئی تھی اچانک سے ۔ اب کون جانتا تھا آگے کیا ہونے والا تھا۔ وہ جتنا ہنسے تھے قسمت انہیں دگنا رلانے والی تھی ؛
*****************************************
سر یہ دیکھیں ! ثنان تقریبا بھاگتے ہوئے آفس کا دروازہ دھکیل کر اندر داخل ہوا ۔
کیا ہوا اتنے بوکھلائے کیوں ہو ! اطہر کرسی دھیکلتا ہوا ٹیبل کے قریب ہوا ۔
یہ اسلام آباد کے کسی پرائیویٹ کمپنی کا ریکارڈ ہے ,اور کل ہی یہاں سے ہزاروں ویڈنگ کارڈ پرنٹ آئوٹ ہوئے ہیں !ROMESA WEDS REHMAN ! کے نام سے !
وہ ایک ہی سانس میں بولا ۔
اطہر چہرے کا رنگ اڑ گیا ۔
آ آر یو شیور ؟؟؟ وہ شاکڈ رہ گیا ۔
یس آفکورس سر ! ہمیں کوئی ایکشن لینا چاہیئے سر ، آئی ایم ہنڈرڈ پرنسٹ شیور وہ ذبردستی رومیصہ سے شادی کر رہا ہے !
اطہر نے اپنے بال مٹھیوں میں جکڑے ۔ اسکی آنکھیں جلنے لگیں تھی ۔
یہ شادی کسی قیمت پر نہیں ہونی چاہیئے ! وہ چیخا ۔
ثنان حیرت کے سمندر میں غوطا زن ہوا ۔ یہ ‘وہ ‘ چیف تو نہیں تھے ۔ یہ تو کوئی اور ہی تھے ۔ اسکے اندر کچھ کھٹکا ۔ کہیں وہ رومیصہ کو پسند تو نہیں کرنے لگے ؟ مگر ان کی تو انگیجمنٹ ہونے والی تھی!! !
تم یہاں کھڑے کھڑے کیا کر رہے ! جائو اور لوکیشن پتا کرو ! وہ اشتعال انگیزی سے چیخا ۔ اسکا ہمیشہ غصے پر کنٹرول رہتا تھا چاہے جیسے بھی حالات ہوں ۔ مگر نہ جانے اسے کیا ہوتا جا رہا تھا ۔ رومیصہ کے معاملے میں حد سے زیادہ کانشس ہورہا تھا ۔
وہ اسلام آباد میں ہیں سر ! یہ دیکھیں !
ثنان لیپ ٹاپ لیئے پھر سے حاضر تھا ۔
This marriage is going to be ‘official marriage ‘ سر مجھے لگتا ہے ہمیں پلین کے تحت وہاں جانا چاہیئے ، چونکے وہ لوگ آفیشلی یہ شادی کر رہے تو وہاں میڈیا بھی انوالو ہوگا ! اگر ہم نے کوئی ایکشن لیا تو یہ اپنے پیروں پر کلہاڑی مارنے کے مترادف ہوگا سر! وی نیڈ آ پلین !
اطہر پریشانی سے سر ہلاتا کرسی پر ڈھے گیا ۔
میٹنگ ارینج کرو ! جتنی جلدی ہوسکے ! کمشنر صاحب کے علم میں بھی بات ہونا ضروری ہے کہ ہم کیا کرنے جارہے ہیں ! وہ ٹیبل سے فون اٹھا کر باہر نکل گیا ۔
***********************************
21 : قسط
از قلم : اوزائے زِہان
وہ لوگ اسے بے ہوشی کی حالت میں پرائیویٹ پلین میں ڈال کر لاہور سے اسلام آباد لے آئے تھے اور اس کو علم بھی نہیں ہوا ۔ وسیع حال نما لائونج میں ڈیذائنر رنگ برنگے عروسی ملبوسات صوفوں پر پھیلائے ،
بقیا سامان بھی نمائشی انداذ میں پھیلائے
*ہونے والی دلہن کے انتظار میں تھے ۔ جو بد نصیب اس سے لاعلم تھی ۔
اسکی آنکھ شور کے تحت کھلی ۔ اس نے نظر گھما کر کمرے میں ڈالی تو خود کو ایک نئی جگہ پر پایا ۔ یہ وہ کمرہ نہیں تھا جہاں وہ کئی وقتوں سے قید تھی ۔ اُس کمرے کا تو چپہ چپہ اسے منہ زبانی حفظ ہو چکا تھا ۔ وہ ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اسی لمحے دروازہ کھلا اور رحمان مسکراتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔
ویلکم ٹو آر ہائوس مائی لو ! اسکی مسکراہٹ رومیصہ کو نفرت سے رخ موڑنے پر مجبور کر گئی ۔
کم آن ! تھوک بھی دو غصہ ! چلو برائڈل ڈریس کا انتخاب کرلو کل ہماری شادی ہے ! وہ اسکے پشت پر بندھے ہاتھ کھولنے لگا ۔
وہ تنزیہ انداز میں مسکرائی ۔ کیسی شادی کہاں کی شادی ؟؟
کوئی ہوشیاری نہیں ! وہ اسکے منہ سے کپڑا ہٹاتے ہوئے تنبہی انداز میں بولا اور جھک کر پیروں کی گرہیں کھولنے لگا ۔ اس نے سوچ لیا تھا چاہے اسے بھاگنے کا بھی موقع ملے یا نہ ملے ۔ مگر وہ شادی تو کسی صورت اس سے نہیں کرے گی ! البتہ اگر وہ مر گئی تو انہیں بھی ساتھ لے کر مرے گی ! یہ تو طے تھا ۔
چلیں ! وہ مسکرا کر اسکی طرف اپنا ہاتھ بڑھاتے ہوئے بولا ۔ اور وہ مسکرا بھی نہ سکی ۔ سفید اور گولڈن انٹیریئر کے ساتھ وہ حال نما کمرہ نہیں محل لگ رہا تھا ۔ہر طرف چہل قدمی تھی لوگ پھولوں سے صحن سجا رہے تھے ۔ اور کچھ لوگ لائونج میں پھیلاوہ پھیلائے کھڑے تھے ۔
لال رنگ کے عروسی لباس دیکھ کر اسکا حلق تک کڑوہ ہوگیا ۔
اگر کوئی ہوشیاری کی تو سوچ لینا میں تہمارا کیا حشر کرونگا ! سنا تم نے ؟ وہ اسکے کان میں سرگوشی کرتا ۔ مسکرا کر اسے ڈیزائنر کے حوالے کیئے حال نما کمرے سے نکلتا چلا گیا ۔وہ بے دلی سے ان رنگین جوڑوں کو دیکھتی جارہی تھی ! اسکا دل خون کے آنسو رونے لگا ۔ قسمت نے اسے یہ دن بھی دکھانا تھا ۔ اسے اندازہ نہیں تھا ۔ اور کتنا سہتی وہ پل پل مر رہی تھی ۔ اس سے تو اچھا ہوتا وہ لوگ اسکی فیملی کے ساتھ ساتھ اسے بھی ماردیتے ۔
کیا ہوا میم ! آپکو کوئی ڈریس پسند آیا ؟ وہ لڑکی گہری نظروں سے اسے دیکھتی پوچھنے لگی ۔
تمہارے پاس اسکے علاوہ اور کپڑے ہیں ؟ اس نے تیزی سے آنسو پوچھے اور پلٹ کر اسے بولی ۔
یس میم وی ہیو آ ہیوج کلیشن ! ویٹ آ منٹ !
وہ خوشدلی سے کہتی وہاں سے ہٹ گئی ۔ اس نے تیزی سے کپڑے ادھر ادھر کرتے ہوئے موبائل تلاشنا چاہا مگر بے سدھ ۔ وہاں ایسا کچھ موجود نہیں تھا ۔ سونے پر سہاگا سامنے گلاس وال کے اس پار لوگوں کی چہل پہل تھی ۔اور وہ وحشی وہیں موجود تھا ۔ جبکے نظریں اسی پر جمیں ہوئی تھی ۔
ڈیم اٹ ! اس نے رخ موڑتے ہوئے نارمل تاثراتوں سے کپڑوں کا جائزہ لینے لگی ۔بظاہر اسکی نگاہیں راہداریوں کی طرف تھی ۔ اس محل نما گھر کے راستے بھول بھلیاں سے کم نہیں تھے ۔ وہ پچھلے پانچ منٹ سے یہی سمجھ نہیں پائی کہ کونسا راستہ باہر کی جانب جاتا ہے ۔
یہ دیکھیں میم ! وہ کپڑوں کا ریک دھکیلتی ہوئی اسکے قریب لے آئی ۔ رومیصہ زبردستی مسکرائی ۔
یہ سارے بہت اچھے ہیں بس جو تمہارا دل چاہے وہی ڈن کرلو !
لیکن میم انکے ساتھ جیولری اور !
ہاں وہ بھی تم دیکھ لینا !
وہ کنی کتراتی تیزی سے کمرے کی جانب بڑھی ۔ اور دروازہ سرعت سے بند کیئے سائیڈ ٹیبل کھنگھالنے لگی ۔ پھر بک ریکس ، پھر واشروم ، پھر ڈیسنگ روم سب دیکھ لیا ۔ مگر اسے کوئی قابل استعمال چیز نہیں ملی ۔
یا اللہ ، کیا کروں میں، تو ہی میری مدد کر ! وہ شکستہ حال سی بیڈ پر گری ۔ سامنے ہلتے پردے دیکھ کر وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ۔ اسے لگا شاید وہاں کھڑکی سے باہر نکلنے کا راستے ہو ۔ مگر جونہی اس نے پردے دائیں بائیں سرکائے وہاں دیوار کی جگہ گلاس وال نسب تھا ۔ سامنے وہی چہل قدمی تھی اور وہیں رحمان خاور ۔ وہ اسے دیکھ کر زہر خندی سے مسکرایا ۔
اس نے نفرت سے پردے دوبارہ گرائے ۔اور بیڈ پر گرتی سسکنے لگی ۔
************************************
اسکے دبائو ڈالنے پر بھی اسے اسکے پلین پر کام نہیں کرنے دیا گیا ۔ اور فیصلہ سنا کر میٹنگ برخاست کردی گئی ۔ یہ مفروضہ وہ انکی ایلکشن کیمپئن کی کامیابی سے جاری ہونے کی بنا پر لیئے گئے تھے ۔ انکے مطابق طاقتور سیاسی شخصیت پر ہاتھ ڈالنا اپنی نوکریوں اور جانوں کو خطروں میں ڈالنے کے مترادف تھا ۔ اور پھر ایک لڑکی ہی تو تھی ۔ ملک میں نہ جانے کتنی لڑکیاں زبردستی بیاہی جاتی ہیں ۔ اب سب کی زمہ داری ٹھیکہ تو نہیں لے رکھا نا !
اسکے اکھٹے کیئے گئے ثبوت بھی اکارت گئے ۔ وہ زخمی شیر کی طرح اپنے آفس میں چکر لگا رہا تھا ۔ وہ ان کے کسی فیصلے کا پابند نہیں تھا ۔ اسکے پاس بھی اختیارات تھے ۔ پولیس فورس تھی ۔ مگر امید کا کوئی سرا اسکے ہاتھ نہیں آرہا تھا ۔
اگر رومیصہ نے اسکے ساتھ آنے سے انکار کردیا تو ؟
اگر اس نے کہہ دیا کہ وہ اپنی مرضی سے یہ شادی کر رہی ہے؟
یہ بھی تو ہوسکتا ہے وہ اسے پہچاننے سے بھی انکار کردے ؟؟؟ تو کس بنا پر وہ یہ قدم اٹھا رہا تھا ۔ اپنی کئی سالوں سے بنائی گئی عزت ،اپنی نوکری دائوں پر لگا رہا تھا ۔ سر آپ کیا سوچ رہے ہیں ؟ ہم کیا کریں گے ؟
ثنان اسے مضطرب انداز میں ٹہلتا دیکھ کر پوچھنے لگا ۔ مجھے خود کچھ سمجھ نہیں آرہا ! وہ تھکے تھکے انداذ میں کرسی پر ڈھے گیا ۔
سر پلیز ! اسے اکیلا مت چھوڑیں ،اسکی مدد کریں وہ واقعی بہت بڑی مصیبت میں پھنس گئی ہے !
ثنان نے استفسار کیا ۔
تم کتنے وقت سے جانتے ہو اسے ؟ اطہر نے تعجب سے پوچھا ۔
زیادہ نہیں بس دو چار مہینوں سے ، وہ میری بہت اچھی دوست ہے ،اور مجھے پورا یقین ہے اس نے جو جو مجھے اپنی فیملی کے بارے میں بتایا سب سچ ہے ! اگر ہمارے پاس وقت پوتا تو تو میں خود آپ کو تحقیق کے زریعے یقین دلاتا مگر ! پلیز سر! ہمیں اسکی مدد کرنی چاہیئے !
وہ ملتجی ہوا ۔ چاہتا تو اطہر بھی یہی تھا ۔ مگر وہ کسی فیصلے پر پہنچ نہیں پارہا تھا ۔
ٹیم تیار کرلو ! اس نے اثبات میں سرہلاتے ہوئے کہا اور تمام سوچوں کو پس پشت ڈال کر اٹھ کھڑا ہوا جو ہوگا دیکھا جائے گا ۔
یسسس ! ثنان نے جوش سے مکہ ہوا میں لہرایا اور اسکے لیئے دروزہ دھکیلا ۔
************************************
میلان سے اگلے دن ہی وہ واپس یونیورسٹی آگئے تھے۔ زندگی اپنی ڈگر پر چلنے لگی ۔ وہ معمول کے مطابق یونیورسٹی جاتی اور دوسرے کام انجام دیتیں ۔
البتہ نبیشہ کی پریشانی معمول سے بڑھ گئی تھی ۔
وہ رومیصہ سے رابطے کے لیئے کئی کوششیں کر چکی تھی۔ البتہ اس نے ہاسپٹل کے ذریعے مسز کاظمی کا نمبر بھی حاصل کرلیا تھا مگر اسے کوئی تسلی بخش جواب نہیں ملا ۔ اسے لگا جیسے وہ اس سے کچھ چھپا رہی ہیں ۔مگر پھر اس نے اپنا وہم سمجھ کر ٹال دیا ۔
وہ بھلا کیوں کچھ چھپانے لگیں اس سے؟ پریشانی دن بدن بڑھتی ہی جا رہی تھی ۔ انکے مڈز اسٹارٹ ہونے تھے وہ اسکی تیاری میں مصروف تھے ۔ پھر اس نے ارادہ باندھ لیا تھا کہ وہ پاکستان ضرور جائے گی رومیصہ سے ملنے ۔ مگر قسمت کو کچھ اور ہی منظور تھا !
کون جانتا تھا وہ اس سے پھر کبھی مل پائے گی یا نہیں ؟
************************************
وہ رات گئے گھر واپس لوٹا ۔ چابیاں ڈرار میں پھنکتے ہوئے بیڈ پر تھکے سے انداز میں بیٹھتے ہوئے ۔ شوزوں کے لیس کھولنے لگا ۔
تمہیں کتنی کالز کی میں نے ؟ تم نے میری ایک بھی کال رسیو نہیں کی اطہر ! وہ برہمی سے بولیں ۔
مام میں بزی تھا ! وہ اکتا گیا ۔
بزی تھا ؟ واقعی یا یوں کہو کہ تمہیں اب ماں بری لگنے لگی ہے ! وہ انتہائی لہجے میں بولی ۔
یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں مام آپ! وہ برہمی سے بولا ۔
بلکل ویسی ہی جیسا تم رویہ رکھنے لگے ہو میرے ساتھ ! وہ دلبرداشتہ ہوئیں ۔
ایسا کچھ نہیں ہے ! اس نے نگاہیں چرائیں ۔
ہاں انکے فیصلہ سے اسکا دل دکھا تھا ۔ مگر دل ہی تو تھا ! وہ تو اسکی جان تھیں اسکی کل کائنات ۔
آج سارہ آئی تھی تم سے ملنے ، کہہ رہی مل کر رِنگ پسند کریں گے ! مگر تم نے کال رسیو نہیں کی میری وہ بے چاری ویٹ کر کر کے واپس چلی گئی ! وہ افسوس سے سر جھٹکتی اسکے برابر میں ٹک گئیں.
میں ضروری میٹنگ میں تھا مام! اور اگلے کچھ دنو تک ایک کیس پر بزی رہونگا اسکے بعد کچھ سوچیں گے !
اسکے دل پر چھریاں چلانے لگی تھی منگنی کی بات
مگر وہ پی گیا تھا ۔ وہ اپنی ماں کا دل نہیں دکھا سکتا تھا۔اس نے یہ بات کیسے کہی تھی یہ وہی جانتا تھا ۔
کھانا کھائو گے ! وہ اسکے شانے پر محبت سے ہاتھ رکھتی ہوئی پوچھنے لگی۔
نہیں مجھے بھوک نہیں بس فریش ہونے کے بعد آرام کرونگا ! بہت تھک گیا ہوں ! اس نے نم آنکھیں چھپائیں ۔ اور اٹھ کھڑا ہوا ۔ کبڈ سے کپڑے نکال کر واشروم میں گھسا۔وہ جانتی تھیں انکا بیٹا دکھی ہے اس فیصلے سے ۔ مگر رومیصہ سے اطہر کا کوئی جوڑ نہیں تھا ۔ وہ ایک پڑھا لکھا مضبوط فیملی بیک گرائونڈ سے تعلق رکھنے والا شاندار انسان تھا ۔
اور کہاں رومیصہ ! معمولی سی جرنلسٹ ! انکا واقعی کوئی جوڑ نہیں تھا ! اور پھر بن ماں باپ کی بچیوں کو سماج اسی طرح کی الزام تراشیوں کے بعد کنارے کردیا کرتا تھا ۔یہہی زمانے کی رِیت تھی ۔ یہی کڑوا سچ تھا ۔
************************************
وہ جب سے آئی اسی کمرے میں نظر بند تھی ۔رات کا کھانا بھی اسکے کمرے تک پہنچا دیا گیا تھا ۔ سوچ سوچ کر اسکا سر درد سے پھٹنے لگا تھا۔ اور اعصاب شل ہونے لگے ۔مگر راستہ نہ سجھائی دے رہا تھا
گھڑی اس وقت صبح کے پانچ بجنے کا سندیسہ دے رہی تھی ۔ وہ رات بھر نہیں سوئی تھی ۔جیسے جیسے وقت گزرتا جارہا تھا اسے موت نزدیک آتی دکھائی دے رہی تھی ۔اس نے سوچ لیا تھا یا تو آر یا پار ! شادی وہ کسی صورت نہیں کرے گی چاہے اسکی جان ہی کیوں نہ چلی جائے ۔ وہ حتمی انداز میں اٹھی اور وضو کرنے کے بعد نماز ادا کی ۔ دعا کے لیئے ہاتھ اٹھائے تو آنسو بھل بھل اسکی آنسو سے بہنے لگے ۔
کیا تھا اسکے پاس ! کچھ بھی تو نہیں ، وہ کسکا ساتھ مانگتی ،کسکی خیرت ،کسکی سلامتی کی دعائیں مانگتی ! ہاں ؟ پھر اسے یاد آیا اسکی دو بہنیں تھیں بے شک وہ اسے ناراض کرکے گئیں تھیں مگر اسکے جگر کا ٹکڑا تھی وہ دونوں ! اگر مجھے کچھ ہوجائے نا آج تو انہیں کبھی پتا نہ چلنے دینا یا اللہ ! میں نہیں چاہتی وہ اس دلدل میں آکر پھنس جائیں ! بس انکی حفاظت کرنا وہی میرے لئے سب کچھ ہیں ! وہی میری زندگی ہیں !میرے میری ذات بعد میں ہے اور ہمیشہ سے تھی ، میں نے انکو اول پر رکھا ہے بس میں اور کچھ نہیں مانگتی تجھ یارب سوائے انکی خوشیوں کے ،انکی جھولی میں ہزاروں خوشیاں ہوں ، اس نے ڈھیر ساری دعائیں کیں انکے لیئے اور جائے نماز لپیٹ کر ایک طرف رکھ دیا ۔
اور سساتے کے لیئے لیٹ گئی ۔ نیند تو اسے بچپن میں آتی تھی ۔ اب تو وہ جب تک سلیپنگ پلز نہ لے لیتی اسے نیند نہیں آتی تھی ۔ وہ بے رونق نگاہوں سے چھت کو گھورنے لگی آنسو اسکی گالوں سے پھسلتے اسکے بالوں میں جذب ہونے لگے ۔ اس نے دھیرے سے پلکیں میچ لیں ۔۔۔۔
************************************
میم میم کی آواز پر اس نے کسما کر پلکیں وا کیں !
کوئی زور زور سے اسکا کندھا ہلا رہا تھا ۔ وہ جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ۔ سرخ لباس اسکے دائیں جانب بیڈ پر پڑا تھا ۔ اس نے نگاہ گھماتے اپنے سامنے کھڑی اجنبی لڑکی کو دیکھا۔ آپ یہ پہن لیں اسکے بعد ہمیں آپکو ریڈی بھی کرنا ہے سر نے ہمیں صرف آدھے گھنٹے کا ٹائم دیا ہے ! وہ لڑکی اسے ہونکوں کی طرح اپنی طرف دیکھتا پا کر بولی ۔
ٹائم ،ٹائم کیا ہورہا ہے ! وہ بوکھلائی ۔ دن کے دس بج رہے تھے ۔ گلاس وال کے پار سورج کی کرنیں اسکے کمرے کو روشن کر رہی تھیں ۔
وہ مضطرب سی لب کاٹتی کشمکش کا شکار تھی
کیا کرے؟ کیا نہ کرے ؟؟ بھاگنے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا ۔ راہداری کے ہر کونے پر لمبے تڑنگے جوان کھڑے تھے ۔
میم آپکا ناشتہ ! وہ شخص ٹرالی دھکیلتے ہوئے اندر لے آیا ۔ اس نے بے زاری سے نظر ناشتے پر ڈالی اور پیشانی مسلتی کمرے میں چکر کاٹنے لگی ۔
آپ ناشتہ کرلیں جلدی سے میں تب تک اپنی ہیلپر کو بلالوں پھر آپکا میک اپ اسٹارٹ کریں گے !
وہ لڑکی تاکید کرتی باہر نکل گئی۔
اس شخص نے جلدی سے دروازہ بند کیا اور اسکی جانب مڑا ۔ رومیصہ نے نہ سمجھی سے یہ منظر دیکھا
ہے گرل ؟؟؟ دیکھو اس بار مت کہنا کہ تم مجھے نہیں جانتی ! وہ شوخی سے بولا ۔
ہاہ ! ث ۔۔۔۔ثنان تم؟ خوشی اور غم کے ملے جلے تاثراتوں سے منہ پر ہاتھ رکھے حیرانگی سے بولی ۔
اس نے جوابا آنکھیں جھپکائیں ۔وہ بے اختیار آنسو بہانے لگی ۔ کوئی تو تھا ! جسکے لئے وہ معنی رکھتی تھی ۔
اوکے اوکے ! وہ بوکھلایا۔
تم ، تم میرے لیئے آئے ہو ! وہ اسکا ہاتھ تھام کر بے یقینی سے پوچھنے لگی۔
نہیں تمہاری شادی کرسیاں ٹیبل لگانے آیا ہوں ! اس نے برا مانتے ہوئے کہا تو وہ ہنس دی ۔
اس بے رونق چہرے پر زندگی سے بھری مسکراہٹ دیکھ کر ثنان بھی مسکرایا ۔
چلو اب جلدی سے میری بات سنو ! میرے پاس زیادہ ٹائم نہیں ہے ! وہ اسے دروازے سے پرے لے جاتے ہوئے سرگوشیوں میں بولا۔
تم بس عین وقت پر شادی سے انکار کردینا ! اسکے بعد چیف سب سنبھال لیں گے ! یاد رہے انہیں بھنک بھی نہیں لگنی چلنا چاہیئے کہ ہم نے تمہیں یہ کرنے کو کہا ہے ایسا ظاہر ہو کہ تم سے زبردستی کی جا رہی ہے !
ویسے یہ سچ ہے نا؟ وہ آخری جملہ تمسخرانہ انداز میں بولا ۔
ظاہر ہے ! وہ جھٹ سے بولی ۔
اور یہ چیف بیچ میں کہاں سے آ گئے ؟؟ اسے تعجب ہوا ۔
وہ کہاں ؟ بیچ میں تو تم آئی ہو میڈم کیا ہو رہا یہ سب! وہ شوخی سے کہنی مارتے ہوئے بولا ۔
کیا ؟ میں سمجھی نہیں ؟ اس نے نا سمجھی سے بھنویں سکیڑیں ۔ اس سے پہلے اسے کوئی جواب ملتا دروازہ بجا ۔اور رومیصہ کے قدموں تلے زمین نکل گئی ۔ وہ اسے خاموشی رہنے کا اشارہ کرتے ہوئے دروازے کے پیچھے جا کھڑا ہوا ۔اور اشارے سے اسے دروازہ کھولنے کا کہنے لگا ۔
اس نے سر ہلاتے ہوئے دروازہ کھولا ۔
آپ نے ناشتہ کر لیا ! وہ جیولری کے سرخ ڈبے لیئے اندر داخل ہوئی اور انہیں لئیے ڈریسنگ کی جانب بڑھی. ثنان نا محسوس طریقے سے دروازے کی اوٹ سے نکلا اور باہر کی طرف بڑھ گیا ۔ تو رومیصہ کی جان میں جان آئی ۔
یہ کیا آپ نے تو کچھ کھایا ہی نہیں !
ہا ہاں میں ،میں بس کھانے ہی والی تھی ! وہ بد حواسی سے بولتی ہوئی جلدی جلدی لقمے لینے لگی ۔
************************************
آج بھی خاور حسین کی خاص تاکید پر سکیورٹی اسکے زمے تھی۔ وہ مرتا کیا نہ کرتا اسے یہ کرنا پڑا ۔
اسکی ڈیوٹی تھی یہ البتہ وہ دوسرے لوگوں کی طرح انہیں خوش کرنے کے لیئے نہیں بلکے اپنا فرض سمجھ کر کرتا تھا۔ اور پھر اسے سینیئرز کے آرڈرز بھی موصول ہوئے تو اسے کرنا پڑا۔ وہ سفید کے اوپر بلٹ پروف جیکٹ پہنے ہوئے تھا ۔ وہ کئی راتوں بے سکونی کا شکار تھا ۔
اسکی آنکھیں اس دشمن جاں کو دیکھ کر ترس گئی تھی ۔وہ بھول چکا تھا ۔آج صبح اسکی ماں نے اسے دو دن بعد منعقد کی گئی منگنی کی خبر ‘خوش خبری’ کے طور پر سنائی تھی ۔جو اسکے دل پر قہر بن کر ٹوٹی تھی ۔ مگر اس نے ظاہر نہیں کیا تھا۔اسکے لیئے اس وقت رومیصہ سے ضروری کچھ نہیں تھا ۔
کیا چیف صاحب ؟؟ آج میری شادی ہے اور آپ لگتا ہے خوشی میں تیار ہوکر آنا بھول گئے
وہ اپنی ٹیم کو انسٹرکشنز دے رہا تھا ۔ جب شوخ آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی
رحمان اسے سر تا پا دیکھتا ہوا تمسخرانہ انداز میں بولا ۔۔ میں یہاں اپنے آفیشل کام سر انجام دینے آیا ہوں ! نہ کہ تمہاری سو کالڈ شادی میں شریک ہونے !
وہ سپاٹ لہجے کہتے ہوئے دوبارہ مڑا ۔
رحمان ڈھٹائی سے ہنس پڑا ۔
چلو پھر ،انجوائے کرو ! بظاہر وہ اطہر کو سنانے کی خاطر بولا تھا ۔
مگر اس نے سنی ان سنی کرتے ہوئے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔ وہ حیران تھا ۔اسے کیسے معلوم ؟ یا پھر ! ہو سکتا ہے وہ صرف اندازے لگا رہا ہو !
سب اوکے ہے سر میں نے اسے سمجھا دیا ہے !
ثنان اسکے بگل میں آ کھڑا ہوا ۔
آر شیور ثنان؟ وہ زیادہ پر امید نہیں تھا ۔
شیور سر ! دیکھنا آپ وہ ایسی ایکنٹنگ کرے گی ، ایسی ایکنٹنگ کرے گی نا آپ دنگ رہ جائو گے !میں بتا رہا ہوں میری دوست ملٹی ٹیلنٹڈ ہے آپ خوامخوا بے چاری پر شک کرتے ۔۔۔۔۔۔
کڑے تاثراتوں سے اطہر کو اپنی طرف دیکھتا پاکر اسکی کینچی کی طرح چلتی زبان کو بریک لگی ۔
میں معاذ سے رپورٹ لے کر آتا ہوں !
اس نے کھسکنا ضروری سمجھا ۔
آئی ہوپ سب پلین کے مطابق ہو ! اطہر نے دل سے دعا کی ۔ وہ اسے اب اور تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا تھا ۔ شاید اسی کو محبت کہتے تھے لوگ ۔
************************************
ایوارڈ سرمنی پہنچتے تک اس کے نفاست سے سیٹ کیئے گئے بال ماتھے پر آچکے تھے۔ ….
وجہ تھی اسکی بے سکونی وہ اس حلیے حد سے زیادہ بے زار تھا۔….. گاڑی جھٹکے سے رکی ۔ اس نے باہر نکل کر ہاتھ بڑھایا ۔ وہ اسکا ہاتھ تھامے باہر نکل آئی ۔۔۔۔
اسی لمحے کئی اسپورٹ لائٹس انکے چہروں کی چمک کو دوبالا کرنے لگیں ۔ یشم اندر ہی اندر اپنے فیصلے پر خود کوستا ہوا ۔بظاہر تاتیہ کا ہاتھ تھامتے ہوئے ان گنت کیمروں کی جانب منہ کیئے مسکرایا ۔
دوسری جانب لوگ اسے دیکھ کر پاگل ہونے لگے ۔ جنکے آگے ایک طرف ریلنگ لگا کر راستہ روکا گیا تھا ۔ مگر وہ دیوانے کہا ماننے والے تھے ۔ وہ چیخ چیخ کر اسکی توجہ اپنی طرف دلانے لگے ۔چار ونا چار اسے جانا پڑا ۔ وہ تاتیہ کے کان میں سرگوشی کرتے ہوئے آگے بڑھا اور پین تھام کر اپنے سامنے ابھرتے کاغذوں پر سطریں کھینچھنے لگا ۔۔۔۔
اور پھر کئی آوازوں کو ایک مسکرا کر کہے جانے والے ‘تھینک یو ‘ سے دباتے ہوئے آگے بڑھ گیا ۔
ایسا نہیں تھا کہ اسے اپنے مداحوں کی پرواہ نہیں تھی ۔ مگر وہ کبھی کبھی اس ‘ نیم اور فیم’ والی زندگی سے عاجز آجاتا تھا ۔ جہاں جاتا لوگ اسکے پیچھے پیچھے آتے ۔ اس نے تقریبا دنیا کا سارا نقشہ کھنگال ڈالا تھا کہیں تو کوئی ایسا ملک ہوگا جہاں لوگ اسے نہ جانتے ہوں ! مگر نا ممکن ۔یشم ؟؟؟؟ تاتیہ کی آواز پر وہ رکا ۔
یہ کیا ؟ نہیں ! پھر سے ۔۔۔۔
وہ ریڈ کارپٹ پر کھڑی تصویریں بنواتی تاتیہ کو دیکھ بولا ۔کم آن ؟؟ وہ بظاہر مسکراتے ہوئے نظروں گھورتی ہوئی بولی ۔۔۔۔ تو اسے آنا ہی پڑا ۔
وہ ایک منٹ ‘ کہتے ہوئے انگلیوں سے اسکے بال سنوارنے لگیں ۔ مگر کچھ دیوانوں نے کھچا کچھا ان لمحات کو کیمرے کی آنکھ میں قید کر لیا یہ جانے بغیر کہ کسی کے لیئے یہ تکلیف کا باعث بھی ہو سکتے ہیں ۔۔۔۔
یشم اس وقت ناراض بچے سے کم نہیں لگ رہا تھا ۔ مگر بظاہر وہ تمام کیمروں کی طرف مسکرا کر دیکھتا ۔ باقی آوازوں کو نظر انداز کیئے۔ ۔۔۔۔
ہاتھ ہلا کر اندر چلا گیا ۔ یہ بے نیازی بھی
اسکی ایک ‘ادا’ تھی۔ جو صرف اسی پر سوٹ کرتی تھی ۔کیونکہ وہ یشم تھا اپنے نام کا ایک نہ اسکے جیسا کوئی تھا نہ وہ کسی کے جیسا تھا۔ ۔
لوگ عش عش کر اٹھنے لگے۔۔۔۔ جن میں سرفہرست ریڈ کارپٹ پر پہلا قدم رکھتی ایپرل اونل بھی تھی ۔…
************************************

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *