Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode22

 

SAINT LOSCIA STATION | ITALY
نوجوان افریقی نے اپنے پیچھے آتے لوگوں کو اشارہ کیئے وہیں رہنے کا کہا ۔۔۔۔
اور اسٹریٹس پر رکھی بینچوں میں سے ایک پر آ بیٹھا جہاں پہلے سے ہی ایک شخص منہ کے آگے اخبار جمائے بیٹھا تھا ۔
سنا ہے تم مجھے مارنے والے ؟ اس کے بیٹھتے ہی وہ بول پڑا ! اور آنکھوں کے سامنے سے اخبار ہٹا کر ایک اچٹتی نظر اس پر ڈالی ۔
کیا کروں موقع بھی ہے دستور بھی !وہ شخص اخبار کے نیچے سے بندوق اسکی طرف سرکاتا ہوا بولا ۔
اچھا ! یعنی مجھ سے بھی نمک حرامی اب ! بحرام کے لب کا کونا ہلا ۔
اب کوئی اتنی رقم دے تو ایمان ڈول ہی جاتا ، اسکے لہجے سے لالچ کی بو آرہی تھی ۔۔
کتنے پیسوں سے ڈولنے لگا ہے تمہارا ؟؟؟؟
وہ اخبار ٹیبل پر پٹختا کرسی پر پھیلا۔
پچس لاکھ ۔۔ اس افریقی شخص نے کہتے رخ موڑ کر اپنے ساتھی کی جانب دیکھا جس نے ہاتھوں کی انگلیوں پر گنتی گنوائی۔
میں تمہیں اسکا ڈبل دونگا تم ایسا کرو یمان کو ماردو !
اس شخص کے چہرے کی ہوائیاں اڑنے لگیں ۔
لیکن یمان کیوں تمہارے لیئے کانٹریکٹ فارمان (فرمان)نے دیا ہے ! وہ شخص تذبذب کا شکار ہونے لگا ۔
کیا فرق پڑتا ہے ،
ہے تو ایک ہی پیداوار باپ مرے یا بیٹا ! وہ آرام دہ لہجے میں بولا ۔
تم مجھے مروائے گے ! اسکے چہرے پر پریشانی کے آثار نمایاں تھے ۔ یمان ایسا خطرناک شیر تھا جس کے منہ میں ہاتھ ڈالنا اپنی موت کو دعوت دینے کے برابر تھا ۔
اور اگر بحرام کی بات نہ مانتا تو وہ اسے مار دیتا .
اگر فرمان کی بات ٹھکراتا تب بھی اسکے ہاتھوں مارا جاتا ۔وہ بری طرح سے پھنس چکا تھا ۔
بہرام نے اسکے چہرے پر چھائے مایوسی کے آثار دیکھے اور دلکشی سے مسکرایا ۔
بھلا اور کوئی تھا ۔جو اس سے بہتر ‘گیم ‘پلے کر سکتا تھا ۔ وہ ‘وہی ‘ تھا اپنے نام کا ایک ۔۔۔
جہنم میں جائو تم جاہل بد تمیز انسان ! بحرام چونک کر مڑا اور آواز کے تعاقب میں دیکھنے لگا ۔۔۔۔ وہ کوئی لڑکی تھی سنہری بالوں والی ۔۔۔۔ بہرام اسکا چہرہ نہ دیکھ پایا ۔ نوجوان کی گرفت میں مچلتی کائونٹر کلرک پر جھپٹنے کو تیار تھی ۔ اس نے غیر دلچسپی سے رخ موڑا اور
آنکھوں پر سیاہ چشمے سجاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔اس شخص کو کشمکش میں مبتلا چھوڑ کر ٹیبل سے اپنی کافی اٹھائی اور دھیمی چال چلتا اسٹریٹ پار کرتے ہوئے مقابل عمارت میں اندر چلا گیا ۔
(NOTE:YA PREVIOUS EPI KA SEEN HAI JO DENA BHOL GAI THI ۔)
*************************************
کیسی لگ رہی ہے ! ان تینوں کی ٹور کے وقت لی گئی تصویر کو پرنٹ آئوٹ کیئے اپنے ٹیبل پر سجا لیا تھا ۔
ہممم ، اچھی ہے ! ولدان کھانے کا نوالہ لیتی ہوئی بولی۔ پڑھائی میں مصروفیت کے بعث وہ کھانا کئی دنوں سے کمرے میں ہی کھا رہی تھی ۔ نبیشہ انہیں کھانا دینے کے بعد لائبریری چلی گئی تھی اور وہ دونوں کتابیں سمیٹ کر سستانے کے لیئے تھوڑی دیر لیٹ گئیں ۔ویسے بھی رات کے دو بج رہے تھے دو گھنٹوں بعد انہیں واک پر نکلنا تھا اور پھر وہی روٹین ۔
ہے گرلز ؟؟؟ یہ انکی کلاس میٹ سلینا کی آواز تھی ۔وہ اندر داخل ہوتی دروازہ بند کرنے لگی.
ولدان کا حلق میں جاتا نوالہ اٹکا وہ آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی ۔
جبکے ایمان تیزی سے کھڑکی کے باہر جھانکنے لگی ۔
یہ آج چاند کہاں سے نکلا ہے ؟؟؟؟
ان دونوں اپنی جگہ حیران ہونا بنتا تھا ۔ یا تو وہ انہیں کمرے میں نظر نہیں آتی یا تو سوتی ہوئی پائی جاتی ۔ایسے میں آج کئی مہینوں بعد اسے *ہیلو ہائے’ کرنے فرست مل ہی گئی آخر ۔
یہ لو ! وہ سرخ لفافہ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔
یہ کیا ہے ؟ ولدان چمچ پلیٹ میں رکھتی ہوئی اسکے ہاتھ سے لفافے لیتی ہوئی بولی ۔
پارٹی کے ٹکٹس ! وہ پرخوش انداز میں بولی ۔
ہیں ہیں ؟ کس خوشی میں پارٹی بہن ؟
ایمان تیزی سے کرسی پر پیر اوپر کیئے بندر کر طرح براجمان ہوئی ۔
اور یہ تم ہمیں کیوں دے رہی ہو ! ہم کونسا تمہارے دوست ہیں ! وہ ولدان سے لفافہ جھپٹتی ہوئی ۔ صاف گوئی سے بولی ۔
مرضی ہے تمہاری ، میں نے ویسے ہی تمہیں آفر کی تم لوگ میرے روم میٹ ہو آفٹر آل ! وہ کندھے اچکا کر لا پراوہی سے بولی ۔
ہمم ٹھیک ہے ہم دیکھیں گے ! اس نے نخوت سے گردن اکڑا کر کہا ۔ تو وہ بھی مسکراتی اپنے بیڈ کی جانب بڑھی ۔ تمہیں کیا لگتا ہے ! وہ دبی دبی آواز میں ولدان کے کان میں بولی ۔
مجھے لگتا ہے کچھ گڑبڑ ہے ! وہ اسی کے انداز میں خفیہ لہجے میں بولی ۔
ایمان اسکی شرارت جان کر اسکی کمر میں دھپ رسید کرتی ہوئی بولی ۔
ہمارے لاسٹ پیپر والے دن ہے ، چل لیں گے تھوڑی آئوٹنگ ہوجائے گی! ولدان آخری نوالہ لیتی سرسری سا بولی ۔ اور پلیٹ ایک طرف کرتی ہوئی بید کی جانب بڑھی ۔
کہاں؟؟ ایمان نے پیچھے سے اسکی شرٹ دبوچی
سونے ! بہت نیند آرہی ہے قسم سے باقی کام کل کر لیں گے یار ! وہ ملتجی ہوئی ۔
نہیں ابھی کے ابھی ہوگا اسی وقت ہوگا سارا کام! وہ رعب دار آواز میں بولی ۔
Lütfen yaaaa !
(پلیززززز !)
وہ اپنی شرٹ چھڑاتی ہوئی بولی ۔
hayir ! Yokkkk
(نہیںں ,بلکل نہیں)
وہ اسی کے انداز میں کہتی شرٹ سے کھینچ کر اسے کرسی پر دھکیلنے لگی ۔وہ برے برے منہ بناتی ہوئی کتاب کھولنے لگی۔
تم کتنی کیوٹ لگ رہی ہو ایسے ! وہ تمسخرانہ انداز میں اسکا گال زور زور سے کھنچنے لگی ۔
Birakkkk !
(چھوڑووو)
وہ درد سے بلبلائی ۔
Askim benim askim
(my love )
وہ محبت سے اسکا سر زور زور سے دائیں بائیں ہلاتی ہوئی بولی ۔
ولدان جھکٹے کھا کر سیدھی ہوئی ۔ اسے کمرے میں چیزیں گھومتے ہوئے دکھائی دیں ۔
senden nefret ediyorum
(I hate you )
وہ برے برے منہ بناتی ناک بھوں چڑھاتی ہوئی بولی ۔
ben de !
(میں بھی)
وہ پھر سے زچ کرنے کی خاطر اسکی چوٹی کھینچی ہوئی بولی ۔
Buuuurrrriiikkkkk
ولدان حلق کے بل چلائی ۔ ایمان بے اختیار اسکے انداز پر کھلکھلا کر ہنس پڑی ۔
saçmalik !
(nonsense )
ولدان کھا جانے والی نظروں سے اسے گھورتی کتاب پھینک کر بیڈ پر چڑھی ۔ایمان ہنستے ہوئے کتاب کھولنے لگی ۔
*************************************
وہ عروسی لباس میں سیڑھیاں اترتی کسی اپسرا سے کم نہیں لگ رہی تھی۔ اطہر کے سینے میں سانسیں اٹکنے لگیں۔اس نے ہمیشہ اسے سیاہ لباس میں دیکھا تھا ۔ نہ جانے کیوں وہ رنگین لباس نہیں پہنتی تھی ۔ مگر آج سرخ جوڑے میں وہ قہر ڈھارہی تھی ۔
رحمان نے اسکی نظروں کے تعقب میں دیکھا ۔ اور اسی لمحے اسکے شک کی تصدیق ہوگئی ۔وہ نمبر ڈائل کرتے ہوئے پلین بی ایکٹو کرنے کا کہتے ہوئے فون جیب میں ڈالا ۔ ان کے بیچ ضرور کچھ نہ کچھ چل رہا تھا ۔ اطہر کی نگاہوں نے اسے سب بتا دیا تھا ۔
خوبصورت ہے نا ؟ ‘میری ہونے والی دلہن ‘ وہ اسکے قریب ہوتا ہوا خباست سے آنکھ دبا کر بولا ۔
اطہر نے ضبط سے لب اور آنکھیں ساتھ میچیں ۔ اسکا دل چاہا اپنی بندوق میں تمام گولیاں اسکے سینے میں اتار دے ۔قاضی۔۔۔۔ میڈیا۔۔۔خاور حسین سب حال میں موجود تھے ۔ اسکا دل چاہا اپنی محبت ان سے چھین کر کہیں دور لے جائے ۔ جہاں کوئی دکھ کوئی غم اسکے نزدیک نہ آنے پائے ۔ وہ سرخ نگاہوں سے اسے دیکھتی اسکے قریب سے گزر کر سامنے سجے صوفوں پر جا بیٹھی ۔ اطہر کا دل بہت زور سے دھڑکا ۔ وہ اس سے کچھ ہی قدموں کی دوری پر تھی ۔ مگر ! ایسا کیوں لگ رہا تھا ۔وہ اس سے ہمیشہ کے لیئے دور جانے والی ہے ۔ قاضی صاحب نے نکاح پڑھوانا شروع کیا ۔اطہر نے بے چینی سے پہلو بدلا ۔
کام ڈاِون چیف ! سب کچھ ہمارے مطابق ہوگا ! ثنان اسکی بے چینی نوٹ کرتے ہوئے بولا ۔ قاضی صاحب دوسری بار اپنے جملے دہرانے لگے ۔ مگر مقابل ہنوز خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔اطہر کو پتنگے لگنے لگے۔
کیا ہو اگر اس نے ہاں کردی تو ؟ اسکی محبت پروان چڑھنے سے پہلے زمین بوس ہوجاتی ۔
وہ بے تابی سے اسکے جواب کا منتظر تھا۔
نہیں ! نہیں ! نہیں ! وہ لفظ چبا چبا کر بولی ۔آواز قدرے بلند تھی
کیا ؟ یہ کیا کہہ رہی ہو تم ؟ رحمان نے بے چینی سے پہلو بدلا ۔۔۔۔ساتھ ساتھ خاور کے چہرے کا رنگ بھی اڑ گیا ۔
انکے معزز مہمانوں میں سرگوشیاں بلند ہونے لگیں ۔
وہیں اطہر کے جلتے سینے پر ٹھنڈی پھوار برسی ۔ وہ بے اختیار مسکرایا ۔
وہی جو تم نے سنا ! مجھے یہ نکاح قبول نہیں ہے ، سنا آپ نے قاضی صاحب ‘مجھے قبول نہیں ہے ‘ وہ ان دونوں کو باور کرواتی بے باکی سے آنکھوں میں آنکھیں ڈالتی ہوئی بولی۔۔۔۔بس پھر کیا بندوقیں بلند ہوئیں اور اسکے سر پر تنیں ۔
آ گئی نا تم اپنی اوقات پر ! مجھے پتا تھا
وہ اسکی کلائی دبوچتا ہوا چیخا۔
کیا بد تمیزی سے چھوڑو مجھے ! تم لوگ دیکھ نہیں رہے یہ زبردستی کر رہا ہے میرے ساتھ ! وہ مدد طلب نگاہوں سے لوگوں پر چلائی ۔ مگر بے سدھ
ثنان ، معاذ ، سمیت اطہر بھی سینے پر ہاتھ باندھے خاموش تماشائی بنا کھڑا تھا ۔ اسکے اندر کچھ کھٹکا ۔ کہیں یہ سب انکی ملی بھگت تو نہیں ؟؟؟ اس نے اطہر پر بھروسہ کرکے غلطی کردی ؟؟؟ شاید !
چھوڑو مجھے ! اسکے اب صحیح معنوں میں اوسان خطا ہونے لگے ۔
وہ اسے کھینچتے ہوئے قاضی کے پاس لے آیا
پڑھائو نکاح جلدی ! ورنہ تم بھی اسکے ساتھ ٹپکا دیئے جائو گے! وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا ۔
خاور حسین بے چینی پہلو بدلتا ہوا اپنی سپوت کے کرتوت ملاحظہ کر رہا تھا ۔ جو اسکا نام ڈبونے کی بھرپور کوشش میں تھا ۔ تمام میڈیا اور معززین کے سامنے ۔
رومیصہ نے متلاشی نگاہوں سے ارد گرد دیکھا ۔
بے اختیار اسکی نظر ثنان پر پڑی ۔ وہ اسے دیکھ کر مسکرا رہا تھا ۔۔۔۔ وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
یہ کیسی مسکراہٹ تھی ؟؟ وہ تو اسکی مدد کرنے آیا تھا پھر؟ کچھ کر کیوں نہیں رہا !
اس کی آخری امید بھی دم توڑ گئی ۔ قاضی صاحب خوفزدہ ہوکر اپنے جملے ایک بار پھر سے دہرانے لگے ۔ صحن میں ایک طرف ٹیبل پر بوتلوں کے بیچ کئی کانچ کے کلاس رکھے تھے ۔ اس نے آئو دیکھا نہ تائو دیکھا اور پوری قوت سے اپنا ہاتھ چھڑا کر اسٹیج سے اتر کر بھاگی اور گلاس زور سے ٹیبل پر مارتے ہوئے اسکا بقیا حصہ مٹھی میں دبوچ لیا ۔ خبردار ! اگر تم نے میرے ساتھ زبردستی کی تو ! وہ چیخی ۔ رحمان کے قدم وہیں منجمند ہوئے ۔
ی یہ کیا کر رہی ہے یہ لڑکی ؟ اطہر نے بے یقینی سے ثنان کو دیکھ کر بولا ۔
پتا نہیں سر ! وہ خود اپنی جگہ حیران تھا ۔اب تک سب سہی جا رہا تھا۔ مگر یہ ان کے پلین کا حصہ نہیں تھا ۔ انہیں لگا رومیصہ ان سے سب اگلوا لے گی اور ثبوت کے طور پر وہ اسے ریکارڈ بھی کر رہے تھے۔ مگر ایسے ؟
وہ شاید کسی غلط فہمی کا شکار ہوگئی تھی ۔
نہیں کبھی نہیں ! میں اسے یہ نہیں کرنے دے سکتا
اطہر بوکھلا کر اسکی اور بھاگا ۔
چیف ہم۔۔۔۔۔ ! ثنان کی بات منہ میں ہی رہ گئی ۔ وہ کان میں موجود آلے پر الرٹ رہنے کا سگنل دیتا اسکے پیچھے ہوا ۔
ت تمہارے ساتھ کوئی زبردستی نہیں کر سکتا اوکے ؟ اب اسے پھینک دو ! وہ اسکے مینٹل ٹراما کی ساری سچویشن دیکھ چکا ۔ اسے سخت گھبراہٹ ہونے لگی تھی اب ۔
خبردار ، تم بھی میرے پاس مت آئو دور رہو مجھ سے! وہ روتے روتے چلائی ۔
جھوٹے ، مکار انسان ! تم میری مدد کرنے آئے تھے نا ؟؟
یہ ہے تمہاری مدد! ہاں؟ وہ بری طرح رودی ۔
رحمان نے بے یقینی سے اطہر کو دیکھا۔
تمہیں کوئی غلط فہمی ہوئی ہے ایسا کچھ نہیں جیسا تم سمجھ رہی ہو ! وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں بولا۔اسکا دل باہر آنے کو تھا۔
رومیصہ پلیززززز ،اسے پھینک دو یہاں کوئی تمہارے ساتھ کچھ نہیں کرے گا میں وعدہ کرتا ہوں تم سے؟؟
پلیز ! وہ ملتجی ہوا ۔ یہ لڑکی اسکی جان لینے در پے تھی ۔ تم سب کے سب جھوٹے ہو ، سب جھوٹے ہو ،کوئی میرے لیئے نہیں آیا ! اس نے روتے روتے ایک کے بعد ایک کئی لکیریں اپنی کلائی پر کھینچیں ۔
اطہر شاکی کیفیت میں اسکے ہاتھوں سے ٹپکتے سرخ خون کو دیکھنے لگا ۔ ثنان دنگ رہ گیا ۔
سب گڑبڑ اسکی وجہ سے پیدا ہوئی تھی اسے سخت غصہ آیا خود پر۔۔۔۔۔
خبردار جو اپنی جگہ سے ورنہ جان سے جائو گے ! گن پھینک دو ! وہ سختی سے بولا ۔۔۔۔
کیا کیا نہ تھا اسکی آنکھوں میں غم ،غصہ ، بے بسی ،بے یقینی ۔ دھیرے دھیرے اسکی آنکھیں بند ہونے لگیں ۔ سیاہی اسکی سماعتوں پر چھائے لگی اور وہ بے ہوش ہوکر زمین پر جا گری ۔
نہیں نہیں نہیں ۔۔۔ہہہہے ہے رومیصہ اٹھو !
اطہر بدحواس سا ہو کر اسکی طرف بھاگا ۔
آپکو گرفتار کیا جاتا ہے !
ثنان نے ہتھ کڑی رحمان کے سامنے لہراتا ہوا بولا ۔
کیوں ؟؟؟؟ اسکے چہرے کا رنگ اڑا ۔
اچھا سوال ہے کیوں ؟؟؟ دیکھ نہیں رہے لڑکی نے تمہاری وجہ سے خود کشی کی کوشش کی ہے خیر۔۔۔
جیل میں بیٹھ کر سوچنا تمہارے پاس اب تو وقت ہی وقت ہے ! وہ اسکے ہاتھوں میں ہتھ کڑی لگاتا ہوا بولا ۔
کھولو ہتھ کڑی کس کی اجازت سے تم نے میرے بیٹے کو ہاتھ لگایا ! خاور حسین غصے سے پھبھرا ۔
چیف کی اجازت سے ! اور آپ کون ہیں ؟ چلیں ہٹیں ہمارے راستے سے اب ، کیا انداز تھا ۔ لوگ اسکی بہادری پر عش عش کر اٹھنے لگے ۔ وہ اسے معاذ کے حوالے کیئے ۔ ایمبولینس کو کال کرنے لگا ۔
تم ، تمہیں کچھ نہیں ہوگا ! ٹھیک ہے ؟ رکو یہ میں تمہارے ہاتھ پر باندھ دیتا ہوں ! وہ تیزی سے اپنا رومال اسکی کلائی پر باندھنے لگا ۔ مگر ایک چھوٹا سا رومال کئی خون کی لکیروں کو کور نہیں کر سکتا تھا ۔
سر ایمبولینس آگئی ہے ، چلیں
ثنان کے کہتے ہی وہ اسے لے کر باہر کی طرف بھاگا ۔ غالبا خون کافی بہہ چکا تھا ۔ ڈاکٹر اسے ایمرجنسی میں لے گئے ۔اور وہ خالی ہاتھ رہ گیا ۔
ڈونٹ وری سب ہمارے کنٹرول!
شٹ اپ جسٹ شٹ اپ ! اس نے اشتعال میں آکر اسکا گریبان دبوچا ۔
اگر کوئی اور وقت ہوتا نا ثنان، تو غالبا میں اب تک تمہاری ہڈیوں کا سرمہ بنا چکا ہوتا ! کیا سوچ کر تم نے اسکی زندگی خطرے میں ڈالی ؟ وہ چیخا۔
مگر چیف میں نے اسے یہ کرنے کو نہیں کہا تھا ! اس نے گھبرا کر صفائی دی ۔اسے بھی انداز نہیں تھا کہ وہ انتہائی حرکت سکتی ہے ۔
اگر اسے کچھ ہوا نا ! تو تم اپنی خیر منا لینا !
وہ اسے دور دھکیلتا ہوا بولا ۔
س سسوری !
دفع ہوجائو یہاں سے ! وہ غصے سے بے قابو ہونے لگا ۔ اسکی پریشانی حد سے سوا تھی ۔ وہ کبھی اپنے ورکرز ایسے ٹریٹ نہیں کرتا تھا ۔ یہ بات ثنان بھی جانتا تھا ۔ اسے رومیصہ سے عجب سی جلن محسوس ہوئی ۔ وہ اتنے وقت اسکے لیئے کام کر رہا تھا ۔ اطہر سے تعریفیں تو نہیں سمیٹ پایا کیونکہ اسے بہت کم چیزیں پسند آیا کرتی تھی ۔ مگر اطہر نے غلطی ہونے کے باوجود ایسا رویے اسکے ساتھ کبھی نہیں اپنایا تھا جیسا کہ آج ۔جبکے اسکی کوئی غلطی تھی بھی نہیں ۔
وہ خاموشی سے باہر نکل گیا۔
ڈاکٹر کے باہر آتے ہی وہ بے تابی سے انکی طرف بڑھا ۔
ہمارے لیئے ڈفکلٹ تھا کیونکہ خون کافی بہہ چکا تھا ۔۔۔ اگر وہ بچ جاتی ہیں تو انہیں ریکوری کے لئے وقت لگے گا ! مگر ہم زیادہ پر امید نہیں ہیں !
آخری بات پر گویا اسکا دل اچھل کر حلق میں آگیا ۔ انشااللہ کیوں نہیں! آپ ایسا کیوں کہہ رہے ہیں ! وہ برہمی سے بولا ۔
کیونکہ آپکی پیشنٹ پہلے سی بہت ویک ہے اوپر سے یہ ایکسیڈنٹ ! آئی ہوپ شی ول سروائیو !
اسکا کندھا تھپتھپا آگے بڑھ گیا ۔ ۔۔ وہ شکستہ حال سا بنچ پر بیٹھ گیا ۔
***********************************
اسے ہاسپٹل میں ایڈمیٹ ہوئے کئی دن ہوچکے تھے ۔ وہ وقفے وقفے سے کام چھوڑ کر اسکے پاس چکر لگا لیا کرتا تھا ۔مسز کاظمی بھی رومیصہ کی پرسنل ڈاکٹر ہونے کے حوالے سے اسکی دیکھ بھال کر رہی تھی ۔ اسے یکے تین بعد ہوش آئی تھی ۔ ہوش میں آتے ہی اس نے خود کو اسٹریچر پر پایا ۔
ٹن ٹں ٹن کی آواز کی انکی سر اٹھا کر دیکھا۔ آکسیجن مشین کی آواز تھی ۔۔۔
وہ ہاسپٹل کیسے آئی۔؟ سر درد سے بھاری ہورہا تھا اور کلائی میں درد کی ٹھیسیں اٹھنے لگیں ۔ زہن کے پردوں گزرے دن کا سایہ سا لہرایا تو وہ اسے نے گھبرا کر اٹھنے کی کوشش کی ۔
اسے کس نے بچایا ؟ کیا وہ پھر سے رحمان کے قبضے میں تھی ؟؟؟؟
ار رے لیٹی رہو ! مسز کاظمی کی آواز پر وہ حیران ہوئی ۔آپ یہاں ؟؟؟
جی ہاں میرا تو کام ہی یہی ہے ! آپ بتائیے مس آپ کیسا فیل کر رہی ہیں؟ انکے بیگانے انداز پر اسکے دل کو کچھ ہوا ۔ اس سے کونسی خطا سرزد ہوئی تھی؟؟؟ جو وہ بھی اجنبیوں جیسے رویے اپنانے لگیں اسکے ساتھ ۔ وہ سمجھ نہیں پائی ۔
ٹھیک ہوں ! وہ آہستگی سے بولی ۔
بائے دا وے میں اطہر کو بتا دیتی ہوں کہ تمہیں ہوش آگیا ہے ! وہ کہتی ہوئی مڑی ۔
لیکن انہیں کیوں ؟ وہ نا سمجھی سے بولی ۔
تم آج اسی کی وجہ سے زندہ ہو میری جان ! سو تھینکس ٹو ہم !! وہ سپاٹ لہجے میں کہتی باہر نکل گئیں ۔
رومیصہ کے گلے میں آنسوئوں کا پھندا سا اٹکا ۔ مسز کاظمی کا رویہ نہ جانے کیوں اسے دکھی کر گیا ۔جیسے ہی دروازے سے باہر قدم رکھا اطہر کو وہاں کھڑا پایا ۔
اور شاید ۔۔۔۔وہ انکے بیچ ہونے والی گفتگو بھی سن چکا تھا ۔اسکے ہاتھ میں سرخ گلابوں کا بکے دیکھ کر مسز کاظمی کا حلق تک کڑوا ہوگیا ۔ وہ خاموشی سے واک آئوٹ کرگئیں ۔اطہر سے افسوس سے سر جھٹکتے ہوئے دروازہ کھولا ۔ اس نے آہٹ پر پلکیں واکیں تو کسی کو سائیڈ ٹیبل پر پھولوں کا گلدستہ رکھتے ہوئے پایا ۔
کیسی ہیں آپ مس رومیصہ ! وہ نرمی سے گویا ہوا ۔
آپ ؟ یہاں ! وہ حیران رہ گئی ۔اس کرم نوازی پر ۔
بلکل ! اطہر اسکی حیرامخنگی نوٹ کرتے ہوئے عام سے لہجے میں بولا ۔
یہ سب کیا ہو رہا ہے مجھے کچھ سمجھ نہیں آرہا ! اس نے اٹھنے کی کوشش کی ۔ مگر بے سدھ ۔
اور مجھے آپ سمجھ نہیں آئیں ،مس رومیصہ
کیوں کیا آپ نے ایسا ؟؟؟ تھوڑا صبر کر لیتی میں نے مدد کا وعدہ کیا تھا نا؟ اگر کچھ ہوجاتا تو میں! روانی میں کہتے ہوئے اسے احساس نہیں ہوا کہ وہ کیا کہہ گیا۔۔
اسکے لہجے میں کچھ تھا ۔ رومیصہ نے بے اختیار اسکی آنکھوں میں جھانکا ۔ وہ ٹھٹھکی ۔ کیا وہ اس سے !
نہیں نہیں ۔ اس نے اگلے ہی لمحے اپنی دماغی فتور کر مسترد کرتے ہوئے ۔ نگاہوں کا رخ پھیر لیا ۔
اچھی مدد کی آپ نے ! اس نے زخمی ہاتھ کو مٹھی میں لیتے ہوئے شکوہ کیا ۔
اچھی’ مدد بھی کر دیتا تھوڑا صبر تو کر لیتیں ! دراصل آپ کو مجھ پر بھروسہ ہی نہیں تھا !
اسکے لبوں سے شکوہ پھسلا ۔
کیا رشتہ ہے ہمارے بیچ ؟ جو میں آپ پر آنکھیں بند کرکے بھروسہ کر لیتی ! اس نے بھنویں سکیڑیں ۔
جب سے بابا کو کھویا ہے ، میں کسی مرد پر بھروسہ نہیں کرتی مسٹر چیف ! میں تو خود ایک سِک پرسن ہوں ،کہیں بھی چکرا کر گر جاتی ہوں ،کبھی بھی مر سکتی ہوں مجھے خود پر بھی بھروسہ نہیں ہے تو آپ پر کیسے بھروسہ کر لیتی! آنسو ٹوٹ کر اسکی گالوں پر بہنے لگے ۔
وہ اپنی ذات کی نفی کرتی اسے از حد بری لگی تھی ۔ پھر اوپر سے یہ آنسو ۔ وہ اپنا غصہ دباتا اٹھا اور جیبوں ہاتھ ڈالے کھڑکی کے پاس جا کھڑا ہوا ۔
شکریہ آپ نے میری جان بچائی ! وہ کئی لمحے جواب نہ پاکر آنسو پونچھتی ہوئی بول پڑی ۔
یہ میرا فرض تھا ! وہ تنے نقوشوں سے بولا ۔غصہ ابھی بھی کم نہیں ہوا تھا ۔
تو وہ صرف اپنا ‘فرض’ نبھا رہا تھا۔ اور اس نے خود سے ہی نہ جانے کیا کیا سوچنے شروع کردیا ۔ وہ خود کو تنکے سے بھی ہلکا محسوس کرنے لگی ۔ بے معنی ہونے دکھ شدت سے اسکے دل میں ابھرا ۔ وہ خالی خالی نظرون سے اپنی پٹیوں میں جکڑی کلائی کو دیکھنے لگی ۔
گیٹ ول سون! وہ سپاٹ لہجے میں کہتا اپنا کوٹ اٹھا کر باہر نکل گیا ۔ اطہر کا رویہ بھی اسکے ساتھ اکھڑا اکھڑا تھا ۔ مگر کس بات پر؟ اب تو اسے اس پر کوئی شک بھی نہیں تھا ۔ پھر بھی ! اس نے افسردگی سے چھت کو گھورا ۔اور آنکھیں موند لیں ۔ ایک بار پھر سے اسکی پلکیں بھیگنے لگیں ۔
***********************************
باس آگئے ! گاڑی کے ٹائر چراچرانے کی آواز پر شراب کی بوتلیں ٹیبل کے نیچھے رکھتے ہوئے سب اٹھ کھڑے ہوئے
مارشل نے تیزی سے استقبالیہ انداز میں آگے بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولا ۔
کتنی بار کہا ہے یہ انرجی اپنے مالک کے لیئے بچا کر رکھو ! میرے آگے پیچھے گھومنے کی ضرورت نہیں !
آنکھوں سے سیاہ چشمہ ہٹاتے ہوئے وہ دنیا بھر کی بے زاری چہرے پر سجائے ہوئے تھا ۔زور سے ہاتھ گاڑی کے دروازے پر مارتے ہوئے خاکی پی کوٹ ہوا میں لہراتا اندر کی جانب بڑھ گیا ۔ مارشل بھی اسکے ہم قدم ہوا ۔
سائیٹ پر کام کیسا جارہا ہے ؟؟
وہ کرسی سنبھالتے ہوئے بولا
ہم نے نئے لڑکے بھی بھجوائے ہیں وہاں بہت بہترین کام کر رہے ہیں ! اگلے دو ہفتوں میں کنسٹرکشن کا کام بھی مکمل ہو جائے گا ! مارشل نے تفصیلات بتائیں ۔
تم نے پی رکھی ہے مارشل ؟؟؟ یمان گہری نظروں سے اسکی چال میں لڑکھڑاہٹ چھپ نہ سکی
س س سوری سر! اسکی نظریں بے اختیار جھکیں۔
مسلہ کیا ہے تیرے ساتھ؟؟ وہ کرسی کی جانب اسے بیٹھنے کا اشارہ کرتے ہوئے بولا ۔ اس سے مسلے کا حل نکلوانا یہنی مسلے کو جڑ سے اکھاڑ کے پھینک دینا ۔ اسکا جھگڑا اسکی بیوی کے ساتھ تھا ۔ اب نجانے وہ اسکی بیوی کے سے ساتھ کیا سلوک کرتا۔
ارے بول نا ! ڈرتا کیوں ہے وہ
اسکے چہرے کا اڑا بھانپتے ہوئے بولا ۔
مارشل بھیگی بلی بنا اسکے سامنے ٹک گیا۔
ہاں ؟؟؟؟ ! وہ ٹیبل کے نیچے سے شراب کی بوتل نکال کر اسکے گلاس میں الٹنے لگا ۔
بے چارے مارشل کو چار و ناچار بتانا پڑا۔
میری بیوی کسی اور کو پسند کرتی ہے اور وہ چاہتی ہے میں اسے طلاق دے دوں ، اسی بات پر آئے روز جھگڑے ہوتے رہتے !
بس بس میں سمجھ گیا ۔اس نے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوکا اور گلاس حلق میں انڈیلتے ہوئے اٹھ کھڑا ۔
مارشل سوالیہ نظروں اسے دیکھنے لگا ۔
آج ہو ہی جائے ! آر یا پار ، کہتے ہوئے اس نے ہاتھ آگے بڑھا ۔ سر پلیز میں ! مارشل ملتجی ہوا ۔
کہاں ملے گی؟ اسکی ایک گھوری ہی کافی تھی کہ مارشل نے گن نکال کر اسکی ہتھیلی پر دھری ۔
‘ ہوٹل گارزہ روم نمبر تھری تھارٹی فور !
وہ بے بسی سے بولا ۔
واہ ،، سچا عاشق ہو تو تم جیسا مارشل !
سب ٹھکانے معلوم ہیں اپنی بیوی کے
وہ گرفت مضبوط کرتا ہوا ۔ گاڑی ریورس کیئے زن سے آگے بڑھا لے گیا ۔ اور مارشل نے سر پکڑ لیا ۔ کچھ ہی لمحے بعد ‘ گارزہ ‘ نامی ہوٹل سامنے کھڑا تھا ۔ لفٹ نے اسے تھرڈ فلور تک پہنچایا۔ اور وہ کمروں کے باہر نمبر پلیٹس پر نظر ڈالتا مطلوبہ کمرے کے سامنے آ کھڑا۔وہ اپنے ساتھ کوئی نوکیلی چیز نہیں لایا تھا تو سو شرافت کا ثبوت دیتے ہوئے اس نے دروازہ ناک کیا ۔
اس وقت کون ہے ؟ اندر موجود شخص گھبرایا ۔
پتا نہیں جا کر دیکھو تو ! عورت سرعت سے بیڈ سے اٹھی اپنے کپڑے تلاش کرنے لگی ۔
کون ہے ؟؟؟ وہ شخص دروازے کا ہینڈل گھماتا ہوئا بولا ۔ روم سروس ۔۔۔ اس نے بے زاری سے پیشانی مسلی ۔
نہیں چاہیئے ! اس شخص نے گھبرا کر آدھ کھلا دروازہ بند کرنا چاہا ۔بھلا رات دو بجے کیسی روم سروسز۔
لینی تو پڑے گی سر ! کڑے تاثراتوں سے کہتے ہوئے اس نے دروازے میں پیر اڑایا۔اور گن اسکے کنپٹی پر تانی ۔
ک ک کون ہو تم! وہ شخص ہکا بکا رہ گیا ۔
نن آف یور بزنس ! وہ لفظ چباتے ہوئے بولا۔ گن دیکھ کر اس عورت کی چیخیں نکل گئیں ۔
ارے بھابھی ، صاحبہ اچھا ہوا آپ بھی یہیں مل گئیں ! پتا ہے میں آپ ہی کے لئے آیا تھا ۔وہ اس شخص کو پرے دھکیلتا اسکی جانب بڑھا ۔
کون ہو تم؟ میں تمہیں نہیں جانتی ! وہ گھبرا کر بولی۔ اسکی ضرورت بھی نہیں ہے !چلو میں دو منٹ دیتا ہوں گیٹ ڈریسڈ ! ہری اپ ! وہ سنجیدگی سے بولا ۔
کیا بد تمیزی ہے ؟؟؟؟ یہ میری وائف نے کہا نا وہ تمہیں نہیں جانتی ! پھر کیا مسلا ہے تمہارا جائو یہاں سے ! وہ شخص غصے سے بولا ۔
اچھا ! تم مارشل کے ساتھ ساتھ. اسکی بھی بیوی ہو! وہ نظریں اس عورت پر جبکے گن اس شخص کی جانب پوائنٹ کرتا ہوا بولا ۔
کک کون ! مارشل؟؟؟ اسکے پسینے چھوٹنے لگے ۔
اب اسکا دماغ گھومنے لگا تھا
تم لوگ وہی ہو نا جن کے ‘گناہ’ کبھی کچرے کے ڈھیر تو مردہ خانوں میں ملتے ہیں۔۔۔۔وہ چبا چبا کر کہتا اسکا بازو کھینچتا ہوا کمرے سے باہر لے جانے لگا ۔
چھوڑو میری بیوی کو ! وہ شخص اس پر جھپٹا ۔ اس نے دور ہی سے نشانہ تانا اور اس عورت کو دیکھتے ٹریگر پر انگلی دبائی ۔ ٹھاہ ‘ کی آواز فضائوں میں گونجی
وہ شخص بے یقینی اسے دیکھتا خون میں لت پت زمین پر جا گرا ۔
یہ کیا کیا تم نے ؟؟؟ وہ عورت پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
مجھے ایسے لوگ پسند نہیں ، کیا کروں !
اس نے بے نیازی سے کندھے اچکائے اور اسکا بازو سے گھسیٹتا ہوا ہوٹل سے باہر لے آیا ۔
جاہل وحشی انسان چھوڑو مجھے ! آخر ہو کون تم ؟؟؟؟
وہ روتی ہوئی چلائی ۔
سہی پہچانا تم نے ‘ جاہل وحشی ‘ ہی ہوں میں ! وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اپنا تعارف کروانے لگا ۔
اب اپنی زبان پر تالا لگائو ورنہ تمہارے عاشق کی تمہیں بھی مارنے میں ایک پل نہیں لگاِونگا ! وہ قہر ڈھاتی نگاہوں سے دھمکاتے ہوئے بولا ۔ اور اسے تقریبا کار کے اندر دھکیلتے ہوئے دروازہ لاک کیا اور گھوم کر فرنٹ سیٹ پر آ بیٹھا ۔
کچھ ہی لمہوں میں وہ اس عورت کو گھسیٹتے ہوئے واپس فارم ہائوس لے آیا ۔ مارشل کا کلیجہ کٹنے لگا ۔ بھلے ہی وہ اچھی بیوی نہ تھی مگر اسکے بچوں کی ماں تو تھی ۔
For Jesus sake ! Leeeeaaaavvvaveeee
Leave my hand !
وہ گڑگڑاتی ہوئی چیخنے لگی ۔ مگر اس پتھر دل پر کوئی اثر نہ پڑا ۔ایک جھٹکے سے اسکی بازو چھوڑتے ہوئے دور خود سے دور دھکیلا وہ عورت مارشل کے قدموں میں جا گری ۔مارشل سرعت سے پیچھے ہوا ۔
تم لوگ میری شکل کیا دیکھ رہے ہو کمینو! چلو فاتحہ پڑھو بھابھی پر شاباش ! جلدی وہ ارد گرد اپنے لوگوں پر حکم جماتا ہوا بولا ۔
جو گھبرائے گھبرائے لگ رہے تھی ۔وہ عورتوں کے معاملے میں پہلے ہی ‘ بے رحم’ مشہور تھا۔ نہ جانے اس بے چاری عورت کے ساتھ وہ کیا کرنے والا تھا ۔
پلیز سیو میں مارشل پلیز پلیز ! وہ رحم طلب نگاہوں سے مارشل کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگی ۔جس نے بےاختیار نگاہیں چرالیں ۔اب مالک کی حکم عدولی کرتا تو ساتھ ساتھ وہ بھی مارا جاتا ۔
ہوگیا ؟ معافی تلافی ؟؟؟؟ فاتحہ؟؟؟؟وہ کڑے تاثراتوں سے باری ان سب پر نظر ڈالتا ہوا بولا ۔
اوپر والا تمہیں جہنم واصل کرے
وہ نفرت سے پھنکاری ۔
تمہیں بھی ! وہ جوابا اطمینان سے کہتا گن اسکے سینے پر پوائنٹ کیئے ٹرگر دبا دیا ۔خون کی بوندوں کی پھوار مارشل کے چہرے پر پڑی ۔ اس نے بے بسی پلکیں میچیں ۔وہ خون میں لت پت لہراتی ہوئی زمین پر جا گری ۔ اس نے گن مقابل کھڑے شخص کی طرف اچھالی اور رومال سے ہاتھ پونچھتا ہوا آگے بڑھ گیا۔
آج کے بعد تم جیسے روگی لوگ مجھے نظر نہ آئیں آس پاس ، اسکے پیسے نہیں ملتے تمہیں؟؟؟؟؟؟
اور تم؟؟؟؟ اگر چاہو تو اسے ہاسپٹل لے جا سکتے ہو ! چوائس از یور آفٹر آل وائف ہے تمہاری ! بلا کا اطمینان تھا اسکے لہجے میں ۔ وہ اس پر گویا احسان کرکے جیسے آندھی طوفان کی طرح آیا تھا ویسے ہی واپس مڑ گیا ۔
مارشل تقریبا بھاگتے ہوئے اپنی بیوی کی جانب بڑھا ۔ کرسٹی ؟؟؟؟ کرسٹی۔۔۔۔ آنکھیں کھولو ؟؟
وہ بے بسی سے چلایا ۔
گاڑی نکالو جلدی ! وہ چیختے ہوئے اپنے ساتھیوں سے کہنے لگا اور اسے اٹھائے گاڑی میں ڈالا اور ہاسپٹل لے جانے لگے ۔وہ ایسا ہی تھا ۔بے باک، بے رحم !اور نڈر تو وہ ہمیشہ سے ہی تھا ۔وہ اپنے آپ میں ایک ‘وحشت’ تھا ۔جان لینا اور جان دینا اسکے لیئے کوئی بڑی بات نہیں تھی۔اس دھندے میں اور کیا چاہیئے ہوتا ہے؟؟؟ اسکی اسی بے باکی کے چرچے انکے سرکل میں بہت مشہور تھے۔خاص طور عورتوں کے معاملے میں وہ بہت ظالم تھا۔ اب خدا ہی جانتا تھا یا وہ ‘خود’ ۔۔۔کہ اسے عورتوں سے کیا خار تھی ۔
****************************************
اسے ہفتے سے زائد دن ہو چکے تھے۔ وہ پہلے سے کافی بہتر تھی۔وہ بارہا نرس سے جانے کی فریاد کر چکی تھی ۔مگر وہ ہر بار کہتی
‘ سوری میم جب تک اطہر صاحب نہیں کہتے ہم آپ کو ڈسچارج نہیں کر سکتے’
وہ تنگ آچکی تھی اس ماحول سے ! وہ اکتائے ہوئے انداز میں دوبارہ لیٹ گئی ۔
ہے بیوٹی ؟؟ غالبا یہ ثنان کی چہکتی آواز تھی ۔
مگر اس نے ناراضگی رخ نہ موڑا ۔
مجھے پتا ہے تم نہیں سو رہی ہو ! کم آن رومی !
وہ کہتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ۔
کیا چاہیئے ؟ وہ بے رخی سے بولی۔
بس بھی کرو اب تھوک دو غصہ ! خدا کی قسم ہمارا مقصد تمہیں پروٹیکٹ کرنا تھا نہ کہ تمہیں نقصان پہنچانا !
اس نے صفائی پیش کی ۔
ہونہہ ! آخر میں کوئی کچھ نہیں کر پایا اور مجھے خود ہی خود کو پروٹیکٹ کرنا پڑا !
وہ استزائیہ انداز میں کہتی اٹھ بیٹھی ۔
ایسا نہیں ہے !
ایسا ہی ہے ثنان ! تم پلیز جائو یہاں سے ! اس نے آنسو چھپاتے ہوئے رخ موڑ لیا ۔
ثنان نے بے بسی سر جھٹکا ۔
یہ میں تمہارے لیئے فون لایا تھا ! اس میں سم کارڈ بھی ہے ! آئی ایم اسٹل پریانگ فور یور اسپیڈی ریکوری ! وہ دوستانہ انداز میں کہتے ہوئے فون اسکی طرف بڑھایا ۔
جو اس نے کچھ پس و پشت کے بعد تھام لیا ۔
رحمان کا کیا ہوا ؟ وہ آہستگی سے بولی ۔
وہ جیل میں ہے ،اسکا باپ ممکن کوشش کر رہا ہے اسے چھڑانے کی مگر تم اسکی فکر مت کرو چیف اسے بھی لپیٹ لیں گے ۔ اور پھر دونوں باپ بیٹا تمام عمر چکی پیسیں گے جیل میں ! وہ نا پسندیدگی سے بولا ۔
وہ یہ سب کیوں کر رہے ہیں ؟ اس نے نہ جانے کیوں پوچھ لیا ۔
کون ؟ چیف ؟ ہوو نوز, انکے دماغ میں کیا چل رہا ہے ! وہ خود ہی اپنے سوال کا جواب دیتا ہوا بولا ۔
خیر آج کل تو انکی منگنی کی خبریں گردش کر رہی ہیں ، جلد ہی منگنی کرنے والے ہیں بٹ ڈونٹ وری تمہارے کیس پر اسکا کوئی اثر نہیں پڑے گا !
وہ تسلی بھرے انداز میں بولا ۔
جبکے رومیصہ کے دل درد سا اٹھا ۔ کیوں؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتی ۔اس بیماری نے اسے حد سے زیادہ حساس کردیا تھا ۔ اسلئے جذباتی ہورہی تھی بات بات پر ۔یہی سوچ کر اس نے اپنے دل کو ڈپٹا ۔
ثنان میں گھر جانا چاہتی ہوں ! اسکا دل یک دم ہر چیز سے اچاٹ ہونے لگا ۔
چلی جانا کچھ دن اور صبر کرلو ! ہمیں تمہارے لیئے سکیورٹی کا انتظام کرنے دو پھر آرام سے تم جہاں چاہے آ جا سکتی ہو ! چیف آجکل بزی ہیں تو مجھ پر تھوڑا برڈن ہے تھوڑا رحم کھائو اپنے دوست پر !
وہ آخری جملے پر مسکرا دیا ۔ اور وہ مسکرا بھی نہ سکی ۔پلیزز ! اس سے زیادہ اور کیا سکتا ہے مجھے ! وہ رودینے کو تھی ۔
اچھا ٹھیک ہے میں کچھ کرتا ہوں ! وہ اسے جذباتی ہوتے دیکھ کر فورا بولا ۔
تھینک یو ! اس نے آہستگی سے کہا ۔
اوکے ! مجھے اب جانا ہوگا میں کل آئونگا چیف کے آرڈرز بھی ضروری ہیں میں اپنی طرف سے پوری کوشش کرونگا کہ تمہیں گھر شفٹ کیا جائے مگر آخری فیصلہ انہی کا ہوگا! کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
وہ ‘تمہارے’ چیف ہیں میرے نہیں ، میں انکے حکم کی غلام نہیں ہو! اسکے لہجے میں غصہ امڈ آیا ۔
وہ تمہارا کیس ہینڈل کر رہے ہیں رومی! تمہیں انکے ساتھ کوپریٹ کرنا چاہیئے اور تم ہو کہ۔۔۔
وہ اسکے انتہائی رویے کی وجہ نہیں سمجھ پارہا تھا ۔مجھے کسی بھی حال میں گھر جانا ہے بس!
وہ خود بھی اپنی کیفیات سمجھنے سے قاصر تھی ۔
فائن ؛ وہ ہار مانتے ہوئے بولا ۔
آرام کرو اور زیادہ اسٹریس مت لو! وہ اسکق سر پر ہلکا سا تھپتھپاتا ہوا باہر نکل گیا ۔ رومیصہ نے بیڈ پر چت لیٹے آنکھیں موند لیں۔۔ یہ اسکے ساتھ کیا ہو رہا تھا؟
…..

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *