The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode18
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode18
The Dark by Uzzai Zehan Episode18
وہ پوری شام بین ڈال ڈال کر روتی رہی کہ اسکے پانچ اسکور کاٹے کا چکے ہیں ۔ یہ اسکورز اسکے لیئے کتنے معنی رکھتے تھے اسکی اہمیت صرف انٹرنیشنل اسٹوڈنٹس ہی بتا سکتے تھے ۔ اگلے دن بے دلی کلاسز لینے کے بعد کینٹین جانے ہی والی تھی کہ اسے یاد آیا اسے تو پنشمنٹ ملی تھی ۔
تم کینٹین جائو میں نہیں آ سکوں گی آج ! وہ رنجیدہ ہوئی کم آن یار ڈونٹ بی سیڈ ! میں تمہاری ہیلپ کردیتی ہوں پھر ساتھ ہی چلتے ہیں !
ولدان نے بہانے سے اسکی اداسی کم کرنے چاہی ۔
اگر میری مدد کروگی تو اور سزا ملے گی مجھے اور ساتھ تمہیں بھی پتا ہے نا !ایمان نے آنکھیں نکالی ۔
میرے پاس ایک آئیڈیا ہے ! وہ اسکے قریب آئی ۔
تم کلاس کا دروازہ بند کردو میں ڈیکس کے نیچے چھپ جاتی ہم مل کے صفائی کر لیتے ہیں ! کیسا؟؟؟
وہ رازداری سے اسکے کان میں بولی۔
آنہاں ناٹ بیڈ ! اسکے چہرے تاثرات یکدم بدلے ۔
اسٹوڈنٹس کو باہر نکال نکالنے کے بعد انہوں نےڈسٹنگ والا کارنامہ سر انجام دیا اور شاور لینے کے بعد کینٹین آگئیں ۔ نبیشہ پہلے سے وہاں موجود تھی ۔
کس قدر بے مروت ہو تم! ہمارے بغیر ہی ٹھوس رہی ہو !
کم از کم انتظار ہی کرلیتا بندہ ! ولدان اسکی ادھ کھائی کھانے کے ٹرے کو دیکھ منہ بناتی ہوئی بولی ۔
کونسا کارنامہ انجام دے کر آرہی ہو جو پھولوں کی مالا کے ساتھ استقابل کرتی ! اپنی سزا بھگت کے ہی آرہی ہو ، ویسے بڑی جلدی آ گئے تم ؟ نبیشہ نے متحیرانہ نظروں سے باری دونوں کو دیکھا ۔
دیکھا تم نے اسے کیسی بے مروت ثابت ہوئی ہم کونسا جرم کی سزا کاٹ کے آرہے ہیں وہ تو بس ایک چھوٹی سی پنشمنٹ تھی ! ولدان بھی آج خاصے موڈ میں نہیں تھی۔ نبیشہ نے انکی باتوں کا زرا اثر نہ لیا وہ کتاب پر نظر ڈالتے ہوئے نوالہ لینے لگی ۔
جبکے ایمان کی نظریں کہیں اور ہی تھی ۔.
اب تم کیا سوچنے لگی؟ مجھے بھوک لگی ہے یار جائو کچھ کھانے کو لائو ! ولدان جھنجھلائی ۔
اے رکو ! ایمان اسے ڈپٹ کر بولی ۔ اور گہری نظروں سے کینٹین کی قطار میں اول پر کھڑی لڑکی کو دیکھنے لگی ۔ تم نے نوٹ کیا ولدان یہ جہاں بھی جاتی ہے صرف کارڈ دکھا کر کام چلا لیتی ہے ، چاہے ڈین کا آفس ہو، ڈروم ہو،ٹرین ہو،لائبریری حتی کے اب کینٹین بھی !
اسکی آواز ولدان اور نبیشہ دونوں نے سر اٹھا کر لڑکی کو دیکھا ۔
آج تو میں پتا لگا کر ہی رہونگی کہ آخر ایسا کونسا کارڈ ہے جو الادین کے چراغ والے جن کے جیسے منٹوں میں کام کردیتا ہے ،کارڈ دکھائو اور جو چاہے پائو !
وہ شک بھری نظروں سے لڑکی ہو دیکھتی ہوئی بولی ۔
تم شاید بھول چکی ہو کہ تم ابھی ابھی پنشمنٹ لے کر آرہی ہو ! نبیشہ نے افسوس سے سر جھٹکا ۔
تم کھانا کھائو چپ چاپ ! وہ امائوں کی طرح رعب جماتی ہوئی بولی ۔
اسی لمحے لڑکی کھانے کی ٹرے تھامے اسکی جانب آنے لگی جہاں انکا ٹیبل تھا ۔ ولدان نے جھنجھلا کر پہلو بدلا اسے سخت بھوک لگی تھی ۔ اور ایمان کے ایڈونچر ختم ہونے کا نام نہیں لے رہے تھے ۔
کھانا ختم ہوجائے گا یار ! اس نے دہائی دی ۔
ایک دن نہیں کھائوگی تو مر نہیں جاِوگی ! ایمان جھاڑ پلاتی ہوئی بولی ۔
ویٹ ویٹ ویٹ ! اسکی آواز پر لڑکی گھبرا کر رکی ۔
کیا تمہارا کارڈ یکھ سکتی ہوں ؟ ویسے اتنی معصوم وہ تھی نہیں جتنی وہ لوگوں کے سامنے بن جایا کرتی تھی۔ کارڈ کے نام پر گویا لڑکی کے چہرے کا رنگ اڑ گیا ۔ اسکے گلے کی گلٹی ڈوب کر ابھری ۔ یہ ان تینوں نے بھی نوٹ کیا تھا ۔ آخر کارڈ ہی تو تھا ! وہ خوفزدہ نگاہوں سے ارد گرد دیکھتی جینز کی جیب سے کارڈ نکال کر ایمان کی طرف بڑھانے لگی ۔ ایمان نے جوش سے کارڈ اسکے ہاتھ سے کھینچا جو اسے اور ڈرا گیا ۔
کس چیز کا کارڈ ہے یہ؟؟؟ بہت فاسٹ کام کرتا ہے ! وہ کارڈ پر نظر دوڑاتے ہوئے تنزیہ انداز میں پوچھنے لگی
البتہ آخری جملہ اس نے مزاق میں کہا تھا
مگر گھبراہٹ کے مارے لڑکی پسینے چھوٹنے لگے ۔۔
بھائی کی فرم کا کارڈ ہے ،میری سفارش کے لیئے بنوا کردیا ہے انہوں نے ۔۔۔۔۔کیونکہ ہم فائننشلی اتنے اچھے نہیں ہیں کہ میں یہاں اسٹڈی کر سکو !
وہ پیشانی پر ہاتھ پھیرتے ہوئے تیز تیز بولی ۔
ہممم ! ایمان نے سمجھتے ہوئے سر ہلایا۔
یہ BZ کیا ہے ؟؟؟ وہ تعجب سے پوچھنے لگی ۔
کارڈ پر عجب سے ‘لوگو’ کے بیچ میں BZ لکھا ہوا تھا ۔کمپنی کا کارڈ ہے تو ظاہر کمپنی کا ہی نام ہوگا ،حد ہے ایمان ! ولدان تپی ۔
ساتھ اسکے ہاتھ کارڈ لے کر اس لڑکی کو تھمایا ۔
جو پاتے ہی وہ گدھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہو گئی۔
مجھے لگتا ہے کچھ گڑبڑ ہے یہ لڑکی گھبرا کیوں رہی اگر ! بس بھی کرو مجھے بھوک لگی ہے ، ولدان اسکے سوالوں سے تنگ آکر زور زور سے ٹیبل بجاتی ہوئی بولی ۔
ایمان اسے دل ہی دل میں برے برے القابات سے نوازتی پیر پٹختی کینٹین کی طرف گئی ۔
جبکے نبیشہ کسی گہری سوچ کے زیر اثر تھی ۔
لڑکی کا رویہ واقعی عجیب سا تھا ، خیر میں بھی کیا سوچ رہی ہوں وہ سر جھٹک کر کتاب کی طرف متوجہ ہوئی
*************************************
انہیں یہاں کئی مہینے گزر چکے تھے ۔ پڑھائی کے ساتھ انکی شرارتیں کم نہیں ہوئیں تھی البتہ وہ شدت سے انتظار میں تھیں کہ کب یونیورسٹی انہیں اسٹڈی بریک دے اور وہ اٹلی ایکسپلور کریں ۔
اسائمنٹ سبمشن کی لاسٹ ڈیٹ کیا ہے ! ایمان نے لیپ ٹاپ سے نظر ہٹا کر ولدان سے پوچھا جو ابھی باہر سے آئی۔
Aksamlar !
(آج شام )
وہ بوٹس دروازے کے اتارتی ہوئی بولی ۔
آج شام ??? ایمان بے یقینی سے چیخی ۔
Evet ! Ne oldu?
(ہاں ،کیا ہوا؟ )
وہ بے نیازی سے کہتی دھپ سے کرسی پر براجمان ہوئی ۔ یار ! میری اسائمنٹ کمپلیٹ نہیں ہوئی ، رات تک ہوگی اب کیا کروں ؟؟؟ ایمان پریشانی سے چکر کاٹنے لگی ۔
Bilmiyorum kizi
(مجھے کیا پتا لڑکی )
وہ لاپرواہی سے کندھے اچکاتی بوتل کو منہ لگا کر پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئی بولی۔
کچھ کرو یار ! کچھ کرو ! ایمان اسکی کمر پر دھپ رسید کرتی ہوئی بولی ۔
کیا کروں ! ہاں ؟ وہ بوتل منہ سے ہٹاتی ناگواری سے بولی ۔ کچھ بھی کرو ! وہ فکر مندی سے کہتی سر تھامنے لگی ۔ادھر آِو ! ولدان رازداری سے کہتی دو انگلیوں سے نزدیک آنے کا اشارہ کرنے لگی ۔
ایمان نا سمجھی سے اسکے قریب ہوئی ۔
ہیڈ بوائے شام کو ساری اسائمنٹ کلیکٹ کرنے کے بعد پروفیسر کے آفس میں رکھنے جائے گا ! ہم اسکے پیچھا کرینگے ، اور جب وہ وہاں سے چلا جائے گا ہم جلدی سے تمہاری اسائمنٹ بیچ میں رکھیں گے اور فورا سے پہلے نکل لیں گے ! وہ چٹکی بجا کر بولی ۔
اگر پکڑے گئے تو ؟ ایمان سنجیدہ ہوئی ۔
تو اللہ مالک ہے ! اس نے لا پرواہی آنکھیں گھمائیں ۔
چلو اب بہت بھوک لگی ہے ! وہ کہتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
اور کینٹین کا رخ کرنے لگیں ۔نبیشہ سو چکی تھی ۔اس نے اٹھانا ضروری نہیں سمجھا ۔ ویسے بھی آون کمرے میں ہی موجود تھا وہ کھانا لے آتی ۔ جب دل چاہے گرم کرکے کھا لیتیں ۔ فریزر کی انہیں ضرورت نہیں تھی ۔کیونکہ اٹلی میں اس وقت خون جما دینے والی سردی تھی ۔
کیا کھائو گی ؟ ولدان اسے ٹیبل پر آرام سے بیٹھتا دیکھ کر پوچھنے لگی ۔
چائنیز ! وہ جھٹ سے بولی اسکی اونچی چوٹی بھی ساتھ ہی لہرائی ۔ ولدان اثبات میں سر ہلاتی آگے بڑھی ۔
کھانے کھانے کے بعد تقریبا نو بجے آخر انہیں ہیڈ بوائے آتا دکھائی دیا ۔
ششش ! خاموشی سے کوئی آواز پیدا کیئے بغیر میرے پیچھے پیچھے آئو ! ولدان رازداری سے کہتی آگے آگے چلنے لگی ۔ ایمان اسکے پیچھے جبکے وہ دونوں ہیڈ بوائے کے پیچھے تھیں ۔ جو ہتھیلوں سے لے کر سینے تک اسائمنٹ کا انبار اٹھائے آفس میں داخل ہوا ۔
یہ راجکمار ہے ،وہ دبی دبی سر گوشی کرنے لگی ۔
لگ تو کہیں سے نہیں رہا ! ایمان نے برا سا منہ بنایا
بیوقوف ! اسکا نام راجکمار ہے ولدان تپ کر بولی ۔
ہیڈ بوائے کچھ دیر بعد باہر نکل آیا ۔
ارے وہ تو لاک کر رہا ہے آفس روم کو ! ایمان کو پتنگے لگے اس سے پہلے وہ لاک کرتا اسکا فون بجا اور وہ دروازہ سے پرے جا کھڑا ہوا ۔
چلو جلدی !ایمان پھونک پھونک کر قدم رکھتی ہوئی بولی ۔ اگر زرا سا رخ موڑ کر انہیں دیکھ لیتا تو سارا کھیل ختم ہوجاتا ۔ دھیرے سے گلاس ڈور دھکیل کر اندر داخل ہوئیں ۔ اور اندازً ہاتھ مارتے ہوئے ڈیسک تلاش کرنے لگیں ۔ لائٹس آف ہونے کی وجہ اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔ خوش قسمتی سے اسے ڈیسک بھی مل گیا ۔ اس نے جلدی سے اپنا اسائمنٹ انبار کے بیچ گھسایا اور جانے کے لیئے مڑی ہی تھی کہ ایک دم سے لائٹس آن ہوئیں اور ہیڈ بوائے سینے پر ہاتھ جمائے سنجیدگی سے انہیں گھورنے لگا ۔
کہیں اسے پتا تو نہیں چل گیا ! ولدان نے دانتوں کی نمائش کرتے ہوئے کہا ۔
کیا پتا ! وہ دانت بیچتے ہوئی بولی ۔
Voi ragazzi state rubano qui ???
(تم لوگ چوری کر رہی تھیں ؟ )
وہ کرختگی سے گویا ہوا ۔
No ! Perché dovremmo rubare !
(نہیں ! ہم کیوں چوری کریں گے بھلا )
ایمان نے ہچکچاتے ہوئے گردن میں ہاتھ ڈالا ۔
بلا کی معصومیت تھی اسکے چہرے پر ۔ کوئی پتھر دل ہی ہوتا جو نہ پگھلتا ۔
Lascia andare vildan !
(چلیں ولدان )
وہ دانت دکھاتے ہوئے بولی ۔
ایسے کیسے ! وہ کہتے ہوئے اپنی جیکٹ اتارنے لگا
ایمان کی تو اوپر کی سانس اوپر اور نیچے رہ گئی ۔۔
اا۔۔۔۔ا۔ ۔اسے بتائو میں ایسی لڑکی نہیں ہوں
وہ والدان کے کندھے پر ہاتھ مارتی ہوئی پھٹی پھٹی آنکھوں سے بولی ۔
بکواس بند کرو تو کیا میں ایسی لڑکی ہوں ، ولدان تپی
یہ جیکٹ لو ،اور اسے اچھے رفو کروا کے مجھے صبح دس بجے سے پہلے لوٹانا ،مجھے اپنی گرلفرینڈ سے ملنے جانا ہے ورنہ میں ڈین سے تمہاری شکایت کردونگا ! وہ کوٹ پکڑاتا ہوا بولا
ججج جی ،کیوں نہیں راجکمار جی ! وہ زبردستی دانت نکالتی اسکے ہاتھ سے جیکٹ لے کر سائیڈ سے ہوتی ہوئی پھرتی سے باہر نکل گئیں ۔ تیز تیز قدم اٹھاتے ہوئے راہداریوں سے گزرتے ہوئے ہاسٹل کے قریب آرکی ۔
تمہیں پکا یقین ہے وہ ہماری شکایت نہیں کرے گا ! ایمان لمبے لمبے سانس لینے لگی ۔
ولدان نے لاعلمی سے کندھے اچکائے۔
آئی ہوپ یار ! کیونکہ میں اس وقت کوئی پنشمنٹ افورڈ کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہوں !
وہ بے زاری سے کہتے آگے بڑھ گئی ۔
اسے کیا ہوا ؟ ولدان اسکی پشت کو گھور کر رہ گئی۔
*************************************
گھڑی رات کے دس بجا رہی تھی جب اسکا فون کی رنگ سے اسکی آنکھیں کھلیں ۔ سائیڈ ٹیبل پر ہاتھ مار کر اس نے فون اٹھاتے ہوئے کان سے لگایا ۔
ہوںنہہہہ ! کون ہے؟ اسکی خمار آلود آواز کمرے کے در و دیوار سے ٹکرائی ۔
تمہاری چیمپئن شپ جیتنے کی خوشی میں پارٹی رکھی ہے نائٹ کلب میں فورا سے پہلے پہنچو ! وہ جو کوئی بھی تھا اسکی آواز پر یشم ناگواری سے سیدھا ہوا ۔
دماغ خراب مت کرو اور آرام کرنے دو !
اس نے بے مروتی سے کہتے ہوئے کال کاٹ دی ۔ اور پھر سے کشن منہ پر جماکر سوتا بنا۔ مگر وہ بھی ڈھیٹ تھے۔ آخر دوست کس کے تھے.پھر سے فون بجنے پر وہ غصے سے کشن پھینک کر اٹھ بیٹھا ۔
کیا تکلیف ہے ! وہ چھوٹتے ہی بولا ۔ آنکھیں نیند نہ پوری ہونے کے باعث سرخ پڑ چکی تھی ۔ وہ کئی دنوں سے سویا نہیں تھا۔
ٹھیک ہے ، آتا ہوں ! دوسری طرف کی سن کر اس نے فون بند کردیا ۔ اور فریش ہونے واشروم میں گھسا۔ شاور لینے کے بعد اس نے نیوی بلو شرٹ کے ساتھ بلیک جینز زیب تن کی اور آئینے کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔
آنکھ کے قریب نیل کا نشان مندمل ہوا رہا تھا ۔ اس نے سرخ لبوں زبان پھیرتے ہوئے انگلیوں سے بال سنوارتے اور چابیاں ،فون اٹھاتا ہوا باہر نکل گیا ۔
سر سر ! شرائے بھاگتی ہوئی اسکے پیچھے آئی ۔
اسکے ماتھے پر ناگواری کے کئی بل ابھرے ۔ اور ساتھ ہی قدموں کو بریک لگی ۔
سر آپ کیا پہنیں گے ! ایوارڈ نائٹ پر ، کچھ بتائیں میں اس حساب سے ،
دیکھو یہ سر سر کرتے ہوئے میرے سر پر منڈلانا بند کرو تم ! بھاڑ میں گئی ایوارڈ نائٹ مجھے نہیں جانا ! وہ کینہ توز نگاہوں سے گھورتا ہوا بولا ۔ چھُک چھُک کی آواز سے ساتھ سرخ گاڑی کی بتیاں جل پڑی ۔ وہ زن سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا ۔ کلب کے سامنے گاڑی روک کر اس نے چابی واچمین کے طرف اچھالی اور اندر کی جانب قدم بڑھائے ۔ وہ یہاں کئی عرصے بعد آیا تھا ۔تقریبا مہینوں گزر گئے تھے ۔ جب سے ایپرل اسکی زندگی میں آئی تھی اس نے کلبنگ اور آئوٹنگ تقریبا ترک کردی تھی ۔ ڈی جے بٙلون کے مکسرز سونگ کا میوزک کان کے پردے پھاڑنے کے در پے تھا ۔ رنگ برنگی جلتی بجھتی ڈسکو لائٹس ، فلور پر برہنہ لباس میں ناچتی عورتیں ،لڑکیاں ،لڑکے، بے فکری بے باکی سے دنیا جہاں فکریں بھلائے ناچنے تو کوئی عشق لڑانے میں مصورف تھے ۔ وہ ناگواری سے ناک بھوں چڑھاتا ہوا ۔ان سے دامن بچاتا ہوا کائونٹر پر آ کھڑا ہوا ۔
congratulations boss!
بارٹینڈر نے اسے دیکھ کر سلییوٹ جھاڑا ۔ اس نے جوابا سر ہلایا اور ڈرنک بنانے کا اشارہ کیا ۔
لوک ہوز ہیئر ! لڑکوں کا باقاعدہ ٹولا اسکے سر پر آ دھمکا ۔ وہ اسکے کالج ،تو کوئی اسکول فرینڈ تھے ۔ مگر وہ آج جس فرینڈ کو سب سے زیادہ مس کر رہا تھا بد قسمتی سے وہ نہ جانے کہاں تھا ؟ نیوز تو دیکھی ہوگی اس نے بھی ! کیا ہوتا اگر جھوٹے منہ مبارک باد دے دیتا اسے ، آخر کو چھوٹا بھائی تھا وہ اسکا مگر کہاں؟ وہ شاید بھول گیا تھا کہ اسکا کوئی بھائی بھی ہے ۔ یشم کا دل یک دم ان رنگینیوں سے دل اچاٹ ہونے لگا ۔ وہ بے دلی سب دوستوں کے بغل گیر ہوا جو اسے مبارکباد دے رہے تھے ۔
یہ سب کیا ہے ؟ وہ ناسمجھی سے کائونٹر پر سجی شیمپئن کی بوتلوں کو دیکھتا ہوا بولا ۔
آج پوری رات تمہاری جیت کے جشن ہوگا !
جارڈن شیمپئن ڈھکن کھول کر لوگوں پر فوارے برسانے لگا ۔کم آن گائیز ! وہ بیزار ہونے لگا ۔ اس وقت اکیلا رہنا چاہتا تھا ۔مگر انکے ہوتے ہوئے یہ ناممکنات میں سے تھا۔ اور پھر کئی گھنٹے گزر گئے ۔ وہ بے زاری سے اس شور شرابے میں بیٹھا رہا جب اسکی ہمت دینے لگی تو دامن بچا کر باہر نکل آیا ۔ رات گئے تک سڑکوں پر بے مقصد گاڑی دوڑاتا رہا۔ اور تھک ہار کر ساحل کے کنارے آ بیٹھا ۔ اسکے پاس زندگی کی ہر آسائش تھی ۔ عزت ، دولت ، شہرت ، مقام سب تھا ۔ بلکے دوسروں سے زیادہ ہی تھا ۔ مگر سکون نہیں تھا ۔سچی محبت کرنے والا نہ تھا ۔ سچا خیر خواہ نہ تھا ۔ اسکا بھائی نہ تھا اسکے پاس ۔ وہ بچھر گیا اس سے ۔
وجہ جو بھی تھی دل کہاں وجوہات کو مانتا ہے ۔وہ تو جدائی کے دکھ میں بچپین سے لے کر اب تک جلتا آرہا تھا ۔ اس نے ہاتھ میں مجود بریسلٹ سے جھولتے ‘دل کے ٹکڑے ‘ کو محبت کو چھوا ۔
یشم اگر تمہارا کنواں بھر گیا ہوتو!
آجائو یار ہم آلریڈی لیٹ ہیں!
یشم میرا ہاتھ پکڑ لو اس روڈ پر بہت ٹریفک ہے ! یشم رکو ، تم گر جائو گے
یہ آوازیں اسے اپنے آس پاس سے آتی ہوئی سنائی دیں ۔ اسکا دوسرا حصہ اسکے بھائی کے پاس تھا ۔ اسکے اصلی یار کے پاس تھا ۔ یقینا وہ اسے بھول چکا تھا اتنے سالوں میں اس نے کبھی رابطہ نہیں کیا ۔
تم جیسا بد قسمت انسان نہیں دنیا میں یشم ! ماں ، باپ بھائی ! ایک مکمل فیملی کے ہوتے ہوئی بھی ، ا
دھوری زندگی جی رہا ہے کم بخت ! وہ اپنے آپ پر ہنس پڑا۔ بے بسی سے پتھر اٹھا اٹھا کر پانی میں پھینکنے لگا ۔
*************************************
بیش گیس واٹ ! خوشی سے کھلاکھلتی کمرے میں داخل ہوئی۔
ٹائم نہیں ہے ! نبیشہ نے اسکی آواز سن کر مصورف انداز میں کہا ۔ اور بیچ پلٹتی ہوئی کتاب پر جھکی ۔
کرو تو سہی ! ایمان نے اسکی کتاب جھپٹی ۔
کیا بدتمیزی ہے واپس کرو ! وہ جھنجھلائی ۔
پتا ہے ، وہ ٹیبل پر ہاتھ رکھتی ہوئی اسکی طرف جھکی۔ یونیورسٹی ہمیں دو دن کے ٹور پر وینس لے جا رہی ہے ! وہ مسکراتی آنکھوں سے کہتی ہوئی ۔
خوشی سے اتنی تیز چلائی کہ نبیشہ نے بے اختیار اپنے کانوں پر ہاتھ جمائے ۔
پاگل ہوگئی ہو کیا ! وہ اسکے سر پر چپت لگاتی ہوئی مسکرائی۔
آئی ایم سو ہیپی نبیشہ ! وہ اسکی گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے چٹاچٹ اسکا منہ چومنے لگی ۔
دور ہٹو ! اور کتاب واپس کرو میری ! وہ جھنجھلائی ۔ کبھی کبھی تو مجھے لگتا ہے میں زو میں آگئی ہو
کبھی تو انسان کی طرح بی ہیو کیا کرو !
ولدان دروازہ بند کرتی ہوئی بولی۔
تم سنو گی تو تم بھی جنگلی ہو جائو گی ! وہ کھلکھلائی ۔
ہیں ایسا کیا ہے؟؟ اس نے ابراو اٹھایا ۔
ہم وینس جارہے ہیں ٹور پر ! بس پھر کیا تھا وہ جو کچھ دیر پہلے اسے ‘بی ہیو ‘کی تاکید کر رہی تھی ۔ نبیشہ کو انہیں ‘ بی ہیو یور سیلف ‘ کہہ کر یاد دلانا پڑا کہ وہ انسان ہیں جنگلی نہیں ۔ ورنہ انکی چیخوں سے پورا ہاسٹل یہاں جمع ہوجاتا کچھ دیر تک ۔
*************************************
جاری ہے
