Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode10

The Dark by Uzzai Zehan Episode10

تیزی رفتاری سے گاڑی بھگاتے ہوئے وہ انیکسی پہنچا۔ گاڑی لاک کرنے کے بعد اس نے دروازے کا رخ کیا ۔ لاک گھمانے پر پتا چلا دروازہ اندر سے لاکڈ تھا ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر بیل دی ۔
ڈور بیل کی آواز پر رومیصہ کے ہاتھ سے لاکٹ اچھل کر زمین پر جاگرا ۔
یہاں کون آ سکتا ہے ؟ ایمان اور نبیشہ کے ہونے کا تو سوال ہی پیدا نہیں ہوتا تھا پھر! اسکا دل تیزی سے دھڑکنے لگا ۔ کیا کروں ؟ کیا کروں ؟ وہ حواس باختہ سی چکر کاٹنے لگی ۔ اسی لمحے دروازے پر ضربیں لگانے کی آواز آئی ۔ اور پھر قدموں کے چاپوں کی اس نے کپکپاتے ہاتھوں سے اوزار اٹھایا اور الٹے قدموں دروازے کے پیچھے جا چھپی ۔
اطہر کے جیسے ہی قدم کمرے میں اس نے دروازے کی اوٹ سے نکل کر اس پر دھاوا بول دیا ۔
کہاں وہ لمبا تگڑا پولیس آفیسر اور کہاں وہ عام سی لڑکی ۔ اس نے کلائی دبوچے ایک نظر اس پر اور پھر اوزار پر ڈال کر اسکا ہاتھ چھوڑ دیا ۔
یہ کہاں سے ٹپک پڑا ؟ وہ آنکھیں پھاڑے ہکا بکا سی
اسے تکنے لگی ۔
اطہر نے اسکے تاثرات کو نظر انداز کیئے لمبی سانس اندر کھینچی صد شکر وہ ٹھیک تو تھی ۔
اسکی تو جان پر بن آئی تھی ۔
تم ٹھیک ہو؟؟؟ وہ اسکے چہرے کو نظروں کے حصار میں لئے پوچھنے لگا ۔
رومیصہ غش کھا کر گرنے ہی والی تھی ۔
اطہر مسکراہٹ چھپانے کو دائیں بائیں دیکھنے لگا۔
کین یو پلیز ؟؟؟؟ وہ اپنا ہاتھ پھیلائے بے یقینی سے بولی ۔اتنی مہربانی ! اور وہ بھی اطہر کاظمی ؟ اللہ اللہ اس سینچری کا جیتا جاگتا معجزہ ۔
اطہر نے اسکا ہاتھ نظر انداز کیئے زور سے اسکی اونچی پونی کھینچی ۔
آ آ ئوچھ ! وہ جیسے ہوش میں آئی ۔
کیا کر رہی تھی تم یہاں ؟ اپنی ٹون میں واپس آنے لگا۔
اوہ ،وہ ‘آپ’ سے ‘تم’ پر آچکا تھا ! اس نے دل میں سوچا مگر کہہ نہیں پائی ۔
یہ میرا گھر ہے مسٹر چیف نہ کے کوئی کرائم سین جو آپ تفتیش کرنے پہنچ گئے ! اصل بات سے انجان وہ اپنی ہی ٹون میں بولی ۔
اطہر کو اپنے پیروں تلے کچھ محسوس ہوا ! وہ قدم پیچھے لیتا ہوا جھکا ! زمین پر گرے ناخن سے بھی باریک ٹریکر کو وہ دیکھتے ہی پہچان گیا ۔
کیا ہے یہ؟؟ وہ ہتھیلی اسکے سامنے کیئے پوچھنے لگا رومیصہ کے چہرے کا رنگ فق ہوا ۔
پ پتا نہیں ، مجھے کیسے پتا ہوگا بھلا ، پرانے سامان میں تھا ! وہ گردن پر انگلیاں گھماتی ہوئی بولی ۔
اطہر نے ایک نظر اس پر ڈال کر مٹھی بند کرلی ۔ وہ جھوٹ بول رہی صاف ظاہر تھا اسکے انداز سے ۔ اطہر سے بہتر اسے کون جان سکتا تھا ۔
تو چلو دیکھتے ہیں تمہارے پرانے سامان میں اور کون کون سی قابل اعتراض چیزیں ہیں! وہ کہتے ہوئے اٹھا ۔
ن ن نہیں ! وہ بجلی تیزی سے اسکے راستے میں آئی ۔ لاکٹ پر پائوں پڑنے سے اسکا پیر پھسلا اور زمین پر جا گری ۔ نتیجا اسکا سر زور سے دروازے سے ٹکرایا ۔
آہہہہوچچچھ ! وہ اپنا سر رگڑتی ہوئی بلند آواز بلبلائی ۔ اطہر نے رخ موڑ کر ہنسی چھپائی ۔
کیا بات ہے ؟؟ تم اتنی بوکھلائی ہوئی کیوں ہو ؟؟ کیا چھپا رہی ہو ؟ وہ اسکے قریب بیٹھا ۔
قتل کرکے بھاگی ہوں ، اور لاش کو ٹھکانے لگانا بھول گئی تھی وہی چھپا رہی ہوں ، حد ہو گئی
وہ خفت کا شکار ہوئی ۔
انٹرسٹنگ ! اطہر مسکرایا ۔
وہ کھا جانے والی نظروں سے گھورتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
کیوں آئے ہیں آپ یہاں ؟؟ وہ اصل بات پر آئی ۔
ایسے ہی ! اطہر نے کندھے اچکائے ۔
آپ ایسے ہی کسی کے بھی گھر چلے جاتے ہیں؟
اسے صدمہ ہوا ۔
کسی کے بھی نہیں صرف تمہارے مس رومیصہ !
وہ لفظوں پر زور دیتا ہوا بولا ۔
وجہ بتانا پسند کریں گے سر ؟؟ وہ سینے پر ہاتھ جمائے تنز سے بھرپور انداز میں بولی ۔
نہیں ! وہ اسکی انداز میں بولا ۔
توآپ جانا پسند کریں گے یہاں ! پلیز وہ زچ ہوئی ۔
ٹھیک ہے چلے جاتے ہیں ! وہ اس پر احسان کرنے کے انداز میں بولا۔ اور جانے کے لیئے مڑا ۔
شکر ہے رومیصہ بڑبڑاتی ہوئی اسکے پیچھے ہولی ۔
لیکن ! وہ کسی سوچ کے تحت اچانک مڑا ۔
رومیصہ گھبرا کر دور سرکی ۔
زرا سنبھل کر میری نظر رہے گی تم پر !
وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتا ہوا بولا ۔
ان کے بیچ فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا ۔وہ اپنی بات مکمل کیئے داخلی دروازے سے باہر نکل گیا ۔
عجیب انسان ہے ! رومیصہ دل تھام کر رہ گئی ۔
اس نے جلدی سے دروازہ لاک کیا ۔ اور کمرے میں آگئی ۔ لاکٹ تو بیکار ہو چکا تھا ۔ اب اسکے کس کام کا ۔ اس نے لاکٹ اٹھایا اور کھڑکی سے باہر پھینک دیا ۔
تبھی اسکی نظر اطہر پر پڑی ۔ وہ کسی شخص سے بات کر رہا تھا ۔اسکے بعد وہ گاڑی میں بیٹھا اور واپس چلا گیا جبکے وہ شخص گلی کے ایک کونے میں جا کھڑا ہوا ۔
تم ‘پکے’ پولیس والے ہو اطہر کاظمی ! اسے کچھ کچھ سمجھ آنے لگی تھی ۔ اس نے افسوس سے ڈبی میں پڑی لاکٹ کی چین دیکھی ۔ اسکی ساری محنت اکارت گئی ۔اب اسے نئے سرے سے سب دوبارہ کرنا پڑے گا ۔ اوپر اطہر کاظمی کو نا جانے اس سے کیا مسلا تھا ۔ وہ پیر پٹختی باکسز سمیٹ کر ایک طرف کرتی سونے کی تیاری کرنے لگی ۔
********************************************
فون کی رنگ ٹون پر اسکی آنکھ کھلی ۔ اس نے ادھ کھلی آنکھوں سے سائیڈ پر ہاتھ مارتے ہوئے فون اٹھایا مگر تب تک وہ بند ہوچکا تھا۔ گھڑی پر نظر پڑتے ہی اسکی ہی اسکی چیخیں نکل گئی ۔ دس بج رہے تھے مطلب وہ آج پھر سے لیٹ تھی ۔ تیزی سے فون پھینک کر واشروم میں گھسی اور پانی کے چھینٹے منہ پر مارے اور عجلت میں سامان سمیٹتی ہوئی باہر نکل آئی ۔ داخلی دروازہ لاک کرتے وقت اسکی نظر غیر ارادی طور پر گھر سے کچھ دوری پر کھڑی گاڑی پر پڑی ۔ وہ وہی شخص تھا جسے اس نے رات اطہر سے بات کرتے دیکھا ۔ کچھ سوچتے ہوئے آگے بڑھی اور گاڑی کا شیشہ کھٹکھٹایا ۔اندر بیٹھا شخص نیند میں تھا ۔
ظاہر سی بات ہے کسی پر نظر رکھنا اتنا آسان تھوڑی نا ہے ! اس تڑخ کر سوچا ۔
معاذ ہڑبڑا کر سیدھا ہوا ۔ اسے دیکھ کر اسکے چھکے چھوٹے وہ کیسے لاپرواہی برت سکتا تھا اطہر نے کہا تھا اسے کسی نظروں میں نہیں آنا ۔
کھولو کھولو !میرے پاس زیادہ وقت نہیں ہے ! وہ اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر بولی ۔ معاذ نے چار و نہ چار ونڈو اسکرین نیچے سرکائی ۔
گڈ مارننگ کیا لیں آپ سر ؟ چائے یا کافی ! چونکہ آپ مجھ پر دن رات اتنی محنت جو کر رہے ہیں ،آسان کام تھوڑی نا ہے کسی پر نظر رکھنا ! وہ تنزیہ انداز میں بولتی اسکی اچھی خاصی کلاس لینے کےموڈ میں تھی مگر آفس سے لیٹ ہورہی تھی۔۔ معاذ کا سر بے اختیار جھکا ۔
کیا لگتا ہے ؟ کیا ہوں میں ؟ کوئی چور ،کرمنل یا مڈرر ، میں ایک وکیل ہوں، سمجھے؟ اگر آئیندہ میرے گھر کے آس پاس نظر آئے تو کہیں بھی نظر نہیں آئوگے !
بتا دینا اطہر کاظمی کو بھی ! وہ تنبہی نظروں سے اسکے وارن کرتی آگے بڑھ گئی۔
معاذ خاموشی سے گاڑی موڑے آفس کا رخ کرنے لگا ۔
********************************************
اسے گزشتہ رات کا ایک لمحہ بھی یاد نہ تھا ۔ ایپرل سے منسوب ساری چیزیں اس نے جلا کر راکھ ڈالیں تھی ۔ حتی کہ اپنا دل بھی ۔ اسے نہیں لگتا تھا وہ زندگی میں کسی سے محبت کر پائے گا اب ۔ سرخ ململ کے بستر پر اوندھے منہ لیٹا وہ نیند کی گہرائیوں میں تھا ۔
ٹرن ٹرن کی آواز پر اس نے ناگواری سے سائڈ ٹیبل پر ہاتھ مار کر الارم دور پھیکنا ۔ جو تاتیہ کے قدموں کر قریب آ رکا ۔ وہ الارم اٹھایا اسکی جگہ پر واپس رکھتی ہوئی اسکے قریب ٹک گئی ۔
یششم ؟؟؟؟ وہ محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ چلانے لگی ۔
ہوںںنںںہ! وہ اونگھا ۔
اٹھ جائو بیٹا ، وہ بولی ۔
دس بجے کے قریب اٹھانا تاتیہ ! وہ خمار آلود لہجے میں کہتے ہوئے تکیے میں منہ دینے لگا۔
اٹس ٹو آ کلاک مائی سن ! وہ اسکے کان کے قریب جھکی ۔ ہاں ؟؟؟ وہ کہنے کے بل اونچا ہوا ۔ ہکا بکا اسکا چہرہ دیکھنے لگا ۔ آج دس بجے کے قریب اسکا میچ تھا جسے وہ کسی صورت مس نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
ریئلی ؟ وہ تصدیق چاہنے لگا ۔
یس ! وہ لب بھینچتی ہوئی بولی
ریسٹ ان پیس ! وہ سیدھا ہوتے ہوئے تاسف سے بولا۔
کیا ہوا یہ؟؟؟ تاتیہ کی نظر اسکے عریاں جسم پر ٹھہر سی گئی ۔عین دل کے مقام پر بڑا سا کراس کٹ دیکھ کر اسکی سانس اٹکی ۔
یشم نے ایک ٹھنڈی آہ بھری اور کمفرٹر ہٹاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔ وہ اس بارے میں مزید بات نہیں کرنا چاہتا تھا ۔
تم نے جواب نہیں دیا کیا ہوا یہ؟ تاتیہ فکر مندی سے سوال دہرانے لگی ۔
چوٹ ، چوٹ لگ گئی تھی ڈونٹ وری اب میں ٹھیک ہو !
وہ رخ موڑے دھیمے لہجے میں بولا ۔ اور ایک نظر سینے پر ڈالتے ہوئے شاور لینے واشروم میں گھسا۔
تاتیہ اسکی پیٹھ کو گھور کر رہی گئی ۔وہ کیسے بھول سکتی تھی اسکی بیٹے نے بہت محبت سے اپنے سینے پر اس لڑکی کے نام کا ٹیٹو کروایا تھا ۔
وہ بہت جلد شادی کرنے والے تھے مگر !
میم سر کا بریک فاسٹ ! شرائے ٹرالی لیئے کمرے میں داخل ہوئی ۔
تم جائو میں خود سرو کرونگی آج اپنے بیٹے کو ! وہ اسے حکم دیتی ٹرالی گھسیٹتے ہوئے کمرے میں لے آئی ۔ کچھ دنوں پہلے ہشاش بشاش اور خوبصورت نظر آنے والی مس تاتیہ دنوں میں ہی یشم کی وجہ مرجھا گئی تھی ۔ عمر کے اس حصے میں بھی وہ انتہائی حسین تھیں ۔ شرائے نے افسوس سے سر جھٹکا اور دوائوں کا پیکٹ ٹرالی میں رکھ کر باہر نکل گئی ۔ وہ ٹاول سے سر رگڑتے ہوئے باہر نکلا ۔
کیا ہوا سب ٹھیک تو ہے ؟ وہ تاتیہ کو ابھی تک کمرے دیکھ کر حیران ہوا ۔
بریک فاسٹ ؟ وہ ایک ادا بولی ۔
یشم نے نفی میں سر جھٹکا۔ بھلا وہ کوئی بچہ تھا جو بہل جاتا ! وہ ٹرے اٹھا کر ٹیبل پر سجائے لگی ۔
یو نو وٹ ؟ یشم ٹاول پھینک کر کرسی سنبھالتے ہوئے بولا ۔
وٹ ؟ وہ یک دم سنجیدہ ہوئی ۔
آئی لو یو مچ ! یو آر سچ آ ڈارلنگ تاتیہ ! لیٹ پلین ڈیٹ ٹو گیدر ؟ اسکا ہاتھ لبوں سے لگاتے ہوئے شوخی سے بولا ۔
نو وے مسٹر!میں بزنس وومن ہوں جس پر سیر سپاٹے حرام ہیں ! وہ اسکے ہاتھ پر ہاتھ مارتی باور کروانے لگی کہ اسکے وقت پاس وقت کی کمی ہے ۔ ناشتے کے بعد اس نے ٹیبلٹ اسکی ہتھیلی پر دھری ۔
کم آن تاتیہ میں بچہ تھوڑی نہ ہوں ! وہ برہم ہوا ۔
تم میرے لیئے بچے تھے ،اور ہمیشہ رہو گے ! وہ اسکا گال تھپتھپانے لگی ۔
میں نے ابھی کیا کہا میں بچہ نہیں ہوں ! وہ خفا ہوا ۔
اور میرا جواب بھی تم جانتے ہو ! وہ پانی کا گلاس تھماتی ہوئی بولی ۔اس نے ناک منہ بھوں چڑھاتے ہوئے گولی نگل کر پانی کا گلاس چڑھایا اور اٹھ کھڑا ہوا ۔
کہاں ؟ وہ سوالیہ گویا ہوئی ۔
میچ تو آپ نے ڈیلے کروا دیا مگر پریٹس بہت ضروری ہے تاتیہ وہ ڈلے نہیں ہو سکتی ! وہ حتمی انداز میں بولا
ٹھیک ہے ! مجھے بھی کام ہے کچھ دنوں کے لیئے آف لیا تھا وہ اسے مطمئن دیکھ کر ہی مطئن ہو گئی تھی ۔
اوکے بائے ! وہ فلائنگ کس اسکی جانب اچھالتا گاڑی کا چابیاں اٹھانے لگا ۔
میرا بیگ گاڑی میں رکھوادو شرائے ! وہ حکم صادر کرتا آگے بڑھ گیا ۔ جبکے شرائے باکسنگ اسٹف اکھٹا کرنے اسٹڈیو کی جانب بڑھی ۔
********************************************
دن گزرتے جارہے تھے ایمان کی تیاریاں زوروں شور سے جاری تھیں ۔ جب سے رومیصہ نے نیم رضا مندی ظاہر کی تھی تب سے نبیشہ بھی مطمئن نظر آرہی تھی ۔ بلکے وہ رومیصہ کے ساتھ جاکر اپنی شاپنگ بھی مکمل کر آئی تھی البتہ رومیصہ کا رویہ کچھ سرد سا تھا ۔ اس دن کی تلخ کلامی کے بعد ان کے بیچ چیت بند تھی ۔ بات چیت کی شروعات ہمیشہ رومیصہ کی جانب سے ہوتی تھی اور اس بار تو ایسا لگتا تھا کہ اس نے بھی ہار مان لی تھی اور انہیں انکے حال پر چھوڑ دیا ۔نبیشہ کے لیئے یہ بات پریشان کن تھی ۔
لیٹس کٹ دا بینگس ! وہ کینچی اسکی آنکھوں کے سامنے چلاتے ہوئے پر جوش انداز میں بولی ۔
خبر دار کو تم نے مجھے چھوا بھی تو!
نبیشہ کرنٹ کھا کر صوفے سے اچھلی ۔
آں آن کوئی انٹرسٹ نہیں ہے قسم سے !
ایمان ناک چڑھا کر بولی ۔
آ آئی مین میرے بالوں کو ! اس نے درستگی سے جملا کہا ۔ کم آن یار ! دادی امائوں کی طرح بی ہیو مت کرو ! بی ماڈرن چلو آئو بس تھوڑے سے کاٹونگی یقین مانو تمہاری خوبصورتی کو چار چاند لگا دے گی یہ کٹنگ ! وہ کہتی ہوئی اسے دبوچنے لگی ۔
خبر دار ، میرے بالوں کو ہاتھ لگایا تو ! وہ جست لگا کر بھاگی ۔
کم آن ! وہ اسکے پیچھے ہوئی ۔
رومی بچائو یار ! وہ چیختے ہوئے لا تعلق سی بیٹھی رومیصہ سے مدد طلب کرنے لگی ۔
تم کیوں زبردستی کر رہی ہو ،اگر وہ نہیں کٹوانا چاہتی تو رہنے دو نا ! وہ سرد لہجے میں بولی ۔
کم آن رومی ہم آٹلی جا رہے ہیں ‘اٹلی’ !
وہ جیسے اسے باور کروانے لگی۔
وہاں اس بڈھی روح کو دیکھ کر کیا کہیں گے لوگ، میری کتنی انسلٹ ہوگی پتا بھی ہے میں بتا رہی ہو میں اسی وقت تمہیں بہن ماننے سے انکار کردونگی ! وہ ایسے بولی جیسے کہیں کی شہزادی ہو ۔
بکو مت ! نبیشہ برہم ہوئی ۔ جبکے رومیصہ نفی میں سر ہلاتی پھر سے ٹیب پر انگلیاں چلانے لگی ۔
چلو بھی ،تم چاند کا ٹکڑا لگو بائی گاڈ ! وہ اسکی جانب بڑھی ۔
نہیںںننن !وہ چلاتی ہوئی کمرے کی جانب بھاگی ۔
********************************************
کوسوں میل دور جنوبی یورپ میں واقع یہ حسین اور رومانوی شہر روم کا منظر تھا ۔ شہر سے دور ٹائیگر ہلز کی اونچی چوٹی پر موجود جادوئی جزیرہ جو ‘سسلی آئی لینڈ ‘ کے نام سے مشہور تھا ۔ اس وقت پہاڑوں پر شام اتر رہی تھی ۔پرندے اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ ایسے میں وہ سیاہ ہینڈ ریپ ہتھیلیوں پر لپیٹے ہاتھوں کی مٹھیاں گلاس وال پر جمائے اس پار بیچ کے صاف شفاف پانی کو کناروں سے ٹکرا کر واپس مڑتے دیکھ رہا تھا ۔سبز آنکھوں میں عجیب سی ویرانی تھی ۔لب بھینچے ہاتھ کی پشت سے پیشانی رگڑتے ہوئے واپس مڑ کر چھت سے لٹکتے ہیوی بیگ کو دیکھا اور پھر سے اس مشغلے میں مصروف ہوگیا۔ ہیل کی ٹک ٹک پر بھی اسکے ہاتھ ہنوز حرکت میں تھے ۔
آج رات دس پچاس پر ویسٹرن یونین میں آپ کی میٹنگ ہے ! سیاہ بزنس لباس میں ملبوس ، گولڈن بال بمشکل کندھوں پر پڑ رھے تھے ، ہلکے پھلکے میک اپ اور لبوں پر سرخ لپسٹک لگائے ، کتاب نما پرس بگل میں دبا رکھا تھا اور نظریں ٹیب پر شیڈول پر جمیں تھیں
وہ ہنوز مصروف نظر آرہا تھا ۔
آہہ !آپ بلو یا بلیک میں سے کیا پہننا پسند کریں گے
دیبورہ جھجکی ۔ چونکے آج بہت اہم میٹنگ تھی۔ ملک کے تقریبا سبھی صاحب حیثیت لوگوں کی آمد متوقع تھی
دیبورہ کو لگا شاید آج وہ فرمائشی لباس کی مانگ کرے۔ویسے تو ہر لباس اسکی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتا تھا ۔ مگر دیبورہ غلط تھی ۔
وہ معمول کی طرح ہر شے سے بے نیاز نظر آرہا تھا جیسے اسکے لیئے کوئی بڑی بات نہ ہو ۔
دیبورا کی بات پر بحرام کے حرکت کرتے ہاتھ تھمے ۔اسکی نظروں کی تپش سے دیبورا کو اپنی آنکھیں جلتی ہوئی محسوس ہوئیں وہ اسے دیکھنے سے سخت گریز برتنے لگی۔وہاں صرف ایک معمولی میٹنگ ہے ،کوئی رومینٹک ڈیٹ نہیں! اسکی آنکھوں میں برہمی کا تاثر لہرایا اسکے لفظوں کے پیچھے چھپا تنز واضع تھا ۔
pardon

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *