The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode20
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode20
The Dark by Uzzai Zehan Episode20
وینس میں انہیں دو دن کیسے گزرے پتا ہی چلا اگلے دن وہ لوگ سینٹ لوسیا اسٹیشن پر موجود تھے ۔ یہاں سے انہیں واپس یونیورسٹی جانا تھا مگر ایمان مصر تھی کہ آجکا دن تو ویسے ہی ضیاع ہوچکا ہے دن کے دس بج رہے تھے
کیوں نہ میلان گھوم لیا جائے ۔
مگر نبیشہ مان کے نہیں دے رہی تھی ۔
جبکے ولدان نیم رضا مند تھی اسکی بات سے اور برش خاموشی کی چادر اوڑھے ایک طرف بیٹھا تھا ۔
مان جائو نا یار ! کل پکا واپس چلیں جائیں گے ایسے موقعے بار بار تھوڑی نہ ملتے ہیں ! وہ اسکی کلائی تھامے بچوں کی طرح ضد کرنے لگی ۔
نبیشہ نے اسے گھوری سے نواز کر رخ موڑ لیا ۔
ہاں مان گئی؟؟ وہ خوشی سے کھلکھلائی ۔
جی نہیں ! نبیشہ تنک کر بولی ۔
بس بھی کرو ! وہ برہمی سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
ٹھیک ہے ، مگر صرف آج کی رات ! اسے ماننا ہی پڑا ۔ تھینک ہو سو مچ ! اس نے آس پاس کی پرواہ کیئے چٹاچٹ اسکا منہ چوما !
اونہہو ! نبیشہ نے اسے پرے دھکیلتے ہوئے گھورا تو وہ دانت دکھا کر مسکراتی ہوئی ۔ اپنی جگہ پر جا بیٹھی ۔
اور کتنا ویٹ کرنا پڑے گا بھائی ! ولدان اکتائی ۔
وہ اس وقت ٹور بس کا ویٹ کر رہے تھے ۔اپنی تمام تر پونچھی وہ وینس میں ہی خرچ کر آئے تھے ۔ورنہ ٹرام میں چلے جاتے۔ پورا اٹلی بھی اگر کچھ نہ کرتا تو اکیلا وینس شہر ہی کافی انہیں پالنے کے لیئے وہ اس قدر مہنگا شہر تھا ۔
bilmiyorum kizi
(پتا نہیں لڑکی)
اس نے لا علمی سے کندھے اچکائے ۔ وہ کئی بار اٹلی کی سیر آچکا تھا مگر صرف کچھ دنوں کے لیئے ۔ اسلئے وہ شہروں کے بارے میں زیادہ نہیں جانتا تھا ۔ یہاں کے لوگ کافی اکھڑ مزاج کے تھے اس نے نوٹ کیا تھا ایک سے زیادہ بار کچھ پوچھ لو تو انکی بد مزاجی باہر آجاتی تھی ۔
کیوں نہ ہم ٹرین سے چلیں ! ایمان نے لقمہ دیا ۔
جبکے نبیشہ لاتعلق سی ایک طرف بیٹھی نہ جانے کن سوچوں میں مگن تھی ۔
برش نے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہا ہو مجھے کوئی مسلہ نہیں۔
تو چلو ، ٹکٹس لے لیتے ہیں ! وہ اپنا بیگ اچکتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ وہ اس وقت سول اسٹریٹس پر موجود تھے ۔سامنے آفس موجود تھا ۔ٹکٹ کیپر انہیں دیکھ کر آفس سے باہر نکل آیا اور بیچ و بیچ رکھی چیئر پر بیٹھتے اطمینان سے سگریٹ سلگانے لگا ۔
اس نے حیرت سے مڑ کر برش کو دیکھا اور برش نے اجتناب برتتے ہوئے یہاں وہاں ۔وہ سمجھ چکا تھا ۔
جسکا مطلب تھا آفس اب بند ہے ۔
کیا مطلب ہے اسکا ہاں؟؟ ہمیں ٹکٹس چاہیئے ٹرین کی! کائونٹر کلرک اسکی باتوں کا اثر نہ لیتے ہوئے آفس کے دروازے کے قریب جھولتے *CLOSED کے ٹیگ کی جانب انکی توجہ دلائی ۔
وہ حیرانگی سے کبھی اس شخص کو تو کبھی ٹیگ کو دیکھتی ۔
کیا بیہودگی ہے یہ؟؟ وہ ہتھے سے اکھڑی ۔
میں کچھ نہیں کر سکتا ! کسی کو شکایت کرنی ہے تو کردو ! وہ شخص اسکی زبان نہ سمجھتے ہوئے اندزاً بولا اور سگریٹ کے دھویں ہوا میں اڑاتا مدہوش نظر آنے لگا۔
یو نو واٹ ! ہمارے لوگ تمہاری شان میں کچھ زیادہ ہی قصیدے لکھ لکھ دیتے ہیں ! اب دیکھنا میں تمہارا کیا حشر کرتی ہوں ! وہ کائونٹر چھوڑتی غصے سے اس شخص کی جانب بڑھی ۔
یہ کیا کر رہی ہو تم ؟ برش نے اسے ہاتھ سے روکا ۔
تم ہٹو زرا اسکی تو میں خبر لیتی ہوں یہ کیا بات ہوئی آخر ! وہ چلائی ۔ اور خونخوار بلی کی طرح اس پر جھپٹ پڑی ۔
برش زبردستی اسے دبوچتے ہوئے دور لے جانے لگا ۔
مگر وہ ایمان ہی کیا جو اتنی آسانی سے جانے دے ؟
چھوڑو مجھے ! برش میں آج اسکا منہ توڑ دونگی ! وہ اسکی گرفت میں مچلتی اچھل اچھل کر اس شخص کو دھمکیاں دیتی ہوئی چلائی ۔ لیکن اس مرد ناہجار پر رتی برابر اثر نہ ہوا ۔ ولدان اسے الجھتا دیکھ کر اسکی طرف بھاگی ۔ جبکے نبیشہ خاموشی سے لب دبائے یہ تماشہ دیکھنے لگی ۔
dur dur dur ! Ne yapiyorsun kizzi!
(رکو رکو کیا کر رہی ہو لڑکی!)
ولدان بوکھلائی ۔
جہنم میں جائو تم ! جاہل بد تمیز انسان !
چھوڑو ، چھوڑو مجھے
وہ اس شخص کو انگلی دکھاتے ہوئے بولی ۔ اور ساتھ ہاتھ پیر مارتے ہوئے برش کی کانوں میں چیخی ۔
tamam canim ! Sakin ol
(Allright dear , calm down) !
ولدان اسے کھینچتے ہوئے لے جانے لگی ۔
ya ney sakin ol vildan ! Ney ?????
(Calm down for what???)
وہ الٹا اسی پر برس پڑی ۔ جو برش کو رتی برابر پسند نہ آئی ۔
YETER !
( enough )
وہ تنبہی نگاہوں سے اسے گھورتا ہوا بولا ۔ اسی لمحے انکے قریب سیاہ رنگ کی کئی گاڑیاں آگے پیچھے آرکی ۔
وہ تینوں چونک کر مڑے ۔ جبکے نبیشہ بھی بے اختیار اپنی جگہ سے اٹھ کھڑی ہوئی ۔سوٹڈ بوٹڈ گارڈز تیزی سے باہر نکلتے اپنے مالک کی گاڑی کا دروازہ کھولے اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگے ۔
اس نے نوٹ کیا تھا ۔ کچھ تو تھا جو غیر معمولی تھا یہاں ! لوگ انہیں دیکھ کر یہاں وہاں کھسکنے لگے ۔ جیسے انہیں پہچانتے ہوں ۔ اور وہ کلرک جو اپنی جگہ سے ہلا تک نہ تھا ۔فورا سے پہلے کرسی اٹھائے اندر بھاگا ۔نبیشہ کے ہاتھ پیر ٹھنڈے پڑنے لگے ۔برش نے بے اختیار ان دونوں کی تھام کر ایک طرف کیا ۔
ایمان نا سمجھی سے اسے اور پھر ان گاڑیوں کی طرف جھانکنے لگی ۔مرون رنگ کے تھری پیس میں کوئی شخص باہر نکلا اور تیزی سے کوٹ کے بٹن بند کرتا ہوا اس بڑی سی عمارت کے جانب بڑھا۔ چونکہ اسکا رخ دوسری طرف تھا اسلیئے وہ اسکا منہ نہیں دیکھ پائی مگر !
وہ ‘ بیچ ‘ نما تمغہ جو اسکے کوٹ پر چسپاں تھا !
یہ کیا تھا ؟؟؟ اسے لگا اس نے وہ نشان پہلے بھی کہیں دیکھا تھا ۔ چونکہ وہ لوگ اسٹریٹ کے اس پار کھڑے تھے سو اسے کچھ دکھائی نہیں دے رہا تھا ۔سوائے کالے سوٹوں والوں کے ۔
کیا ہوا ؟ کون ہیں یہ لوگ ؟ وہ برش سے پوچھنے لگی ۔
پتا نہیں ! چلو ٹیکسی میں چلتے ہیں !
وہ سرے سے جھوٹ بولتا انہیں لیئے نبیشہ کی جانب آیا ۔اور ٹیکسی کی طرف اشارہ کرتے ہوئے انہیں سوار ہونے کا کہنے لگا ۔ آخری نظر مڑ کر ان لوگوں پر ڈالی اور ڈرائیور کے برابر براجمان ہوا ۔ نبیشہ کی نظروں سے یہ منظر چھپا نہ رہ سکا ۔کیا برش انہیں جانتا تھا ؟؟؟؟
*************************************
وہ لوگ ٹیکسی لیئے میلان کی سب سے خوبصورت جگہ ڈائون ٹائون آگئے ۔میلان کا مرکز، حد درجہ حسین اسکی تاریخ و تہذیب سے لدا پھندا ۔اسکی گلیوں میں گھومتے انہوں نے خوب سیر سپاٹا کیا ۔وہ لوگ چلتے چلتے کھلے گلیرے سے زرا آگے نکلے تو سانس رک گئی ۔اف ایسا خوبصورت منظر ، شاندار عمارتوں سے گھرا میدان ایک جانب اونچے سے پیڈسٹل پر کھڑا یورپ کی نشاةثانیہ کا وہی محبوب جینئیس لیونارڈو وانچی، اپنی لمبی داڑھی ،اور اپنا ہائیڈرو انجیئیرنگ ہیٹ پہنے وجود میں اپنے علم کی بے پایاں وسعتوں کو حلم اور عاجزی میں سمیٹے ،آنکھیں جھکائے ،ہاتھ ناف پر باندھے گویا اس خوبصورت لاسکالا اوپیرا ہائوس کو تعظیم دیتا ہو ۔ کمال کی بات ہی تھی کہ اس نے میلان کے نہری سسٹم کولاکز Locks کے تحت کیا۔ اس سسٹم نے 1920ء تک بڑی کامیابی سے کام کیا ۔ نیچے اسکے چار نوجوان شاگرد مختلف سمتوں میں کھڑے تھے ۔مشتاقان دید کا ایک ہجوم اسکے گرد ڈھیرا ڈالے ہوئے ،تصویر کشی اور کہیں ایک دو پوڈیم کے نیچے لکھی گئی تحریروں کو پڑھنے کی کوششوں میں مصروف تھے ۔جب دھوپ زیتونی رنگی ہوتے ہوتے بلند و بالا عمارتوں کے بنیروں پر ٹکنے لگی تب تک انہوں گھومتے گھومتے ڈائون ٹائون کے دائیں بائیں مڑتی گلیوں اور ان کے دہانوں سے پھوٹتے کئی اسکوائرز دیکھ لیئے ۔مسرور سے انداز میں اس نے آنکھیں اٹھا کر نیلے آسمان کو دیکھا تو اس رب کا شکر ادا کیئے بغیر نہ رہ سکی ۔ زندگی کے خوشگوار ترین لمحات اسکی عنایت میں تھے کہ جب آپ اہنی پسندیدہ جگہ پر ہوں اور سکون و طمانیت موج زن بھی ہوں ۔
وہ کافی کا گھونٹ گھونٹ بھرتی ۔ سامنے فرش پر کبوتوں کی مست خرامیاں دیکھ رہی تھے ۔انکے رنگ ڈھنگ شام کا حسن بڑھا رہے تھے ۔ وہ چلتے پھرتے Vaya dante اسٹریٹ آگئے ۔شام کے ان حسین لمحو ں میں وہاں بجتا اکارڈین کی دھن جب فضائوں میں گھونجنے لگتی تو لوگ لطف انداز ہوئے بغیر نہ رہتے ۔ اسکے ساتھ ساتھ قدیم کرداروں کے کاسٹیوم پہنے پھرتے ‘کردار لوگوں سے ساتھ تصویریں اترواتے سیر کا مزہ دوبالا کر رہے تھے ۔ اس نے کافی کا خالی کپ ڈسٹبین کی نظر کیا اور گھوم کر انکے قریب آ کھڑی ہوئی ۔ جو گپ شپ میں مصروف تھے ۔ اسکوئر روشنیوں سے جگمگانے لگے تھے ۔ کیونکہ دھوپ اپنا بوریا بستر سمیٹ چکی تھی ۔ تو انہوں نے ولدان کی فرمائش پر ریسٹورنٹ پینچ کر کھانے کا آرڈر دیا ۔ ایمان اپنے پیروں کو ہیل سے آزاد کرتے انکا معائنہ کرنے لگی ۔ جو مسلسل چلنے کے بعث ایڑھیاں سرخ ہوچکیں تھی ۔مگر جوش ابھی بھی اونچائیوں پر تھا ۔ سو اس نے ہیل پھر سے چڑھائی اور واشروم تلاش کرنے لگی ۔منہ پر پانی کے چھنٹے مارے اور ہیل اتار کر کرسی پر پیر اوپر کیئے اطمینان سے بیٹھ گئی۔ جیسے اسکی خالہ کا گھر ہو۔ تمام ڈشز نظر انداز کرتے ہوئے اس نے پیزے کا ڈبہ اٹھا کر جھولی میں دھرا ۔
برش نے اسے نظروں سے گھورا جیسے کہہ رہا ہو ‘ بھوکی کہیں کی ۔
آنہہ ، آگے کہاں جانے کا ارادہ ہے ! وہ بڑا سا نوالہ منہ میں رکھتے ہوئے بمشکل پوچھںنے لگی ۔
صبر کے ساتھ میری جان ، صبر ! ولدان نے اسکی کمر سہلاتے ہوئے صبر کی تاکید کی ۔ جس پر وہ اسے گھور کر رہ گئی۔
میزیم لیک کیوں نہیں ! برش کی بات مکمل ہونے سے پہلے ہی وہ بول پڑی ۔برش کا منہ میں کھانا کا چمچ جاتا رکا ۔ تو وہ بھی رک کر اسکا منہ دیکھنی لگی ۔
پلیز ، میں نے سنا ہے یہاں Pink lake ہے جو بڑا خوبصورت ہے ! وہاں چلتے ہیں نا ! وہ پرجوش انداز میں بولی ۔
نہیں ! وہ سپاٹ لہجے میں کہتا ہوا کھانا کھانے لگا ۔
اسکا سارا جوش ملیا میٹ ہوگیا ۔
وہ برہمی سے اسے دیکھتی جھولی سے ڈبہ اٹھا کر ٹیبل پر رکھنے لکھی ۔ برش کے دل میں نہ جانے کیا سمائی۔
وہ بہت دور ہے تب تک تو ہم آدھا میلان گھوم لیں گے ، آدھا تو ہم نے دیکھ ہی لیا ہے ! اس نے صفائی دی ۔
تو آدھا ہم پھر کبھی دیکھ لیں گے نا ! پلیز ابھی لیک چلتے ہیں سنا ہے رات کے وقت وہاں پریاں اترتی ہیں !
جھٹ سے پلین حاضر کیا اس نے ۔
ہاں تو پریوں کو ہی آنے دو نا چڑیل کا وہاں کیا کام ! ولدان کی زبان بے اختیار پھسلی ۔ برش کی بے اختیار ہنسی پھوٹی ۔ جبکے نبیشہ نے لب دبائے ۔
وہ میرا مطلب تھا کہ ! جبکے ایمان کو اپنی طرف گھورتا پا کر اسے احساس ہوا وہ کیا بول گئی ہے ۔
ولدان نے بمشکل نوالہ نگلا ۔
میں اچھے سے جانتی ہوں تمہارا مطلب ! اس نے ولدان کی کمر پر زور دار دھپ رسید کرتے ہوئے کہا۔
آل رائٹ لیڈیز ! آئی ایم ڈن ، تم لوگ کھانا کھالو تو مجھے ایک میسج کر دینا میں یہیں ہو! وہ نیپکن سے ہاتھ پونچھ کر کرسی دھکیلتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
تو ہم جا رہے ہیں نا لیک؟ وہ پر امید نگاہ
