The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode07
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode07
The Dark by Uzzai Zehan Episode07
ITALY | ROME |
2 MOTHS LATER :
یہ کیسی بُھکاڑیا (K-C BHOKARIA) نامی ڈرگ ڈیلر مستقل ملیشیا شفٹ ہوچکا ہے ،
تمہاری سروسز اتنی ‘سلو’ کیوں چل رہی ہیں ملک ! لبوں پر انگلیاں جمائے وہ ونڈو گلاس کے پار تیزی سے گزرتی عمارتوں کو گھورتے ہوئے سنجیدگی سے بولا ۔چہرے پر کسی گہری سوچ کا تاثر لہرا رہا تھا ۔
سوری باس ،ہم جاپان میں اپنا نیا آفس سیٹ کر،
اسکی چلتی زبان کو بریک لگی ۔جب بحرام نے برہمی سے ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوکا ۔ وہ جب سے واپس لوٹا تھا ۔ بہت سفاک ہوگیا تھا ۔
مزید؟؟؟؟؟ کیا خبر ہے ؟؟ وہ ہنوز اسی پوزیشن میں تھا ۔ ملک خاکی لفافے سے تصویریں نکال کر اسکے سامنے رکھتا ہوا بولا۔ سہارنپور ،اُتر پردیش سے اسکا تعلق ہے ،فیملی میں صرف دو بہنیں ہیں جو دِلی شہر میں اچھی پوسٹ پر فائز ہیں ، یہ پہلے انڈیا میں اسمگلنک کیا کرتا تھا ،پھر گزشتہ مہینے ہی اس نے ڈیوائن نامی اسمگلر سے ہاتھ ملالیا اور آج یہ کبھی ملیشیا تو کبھی بٙرلن میں ہوتا ہے ،
اور پھر ، بحرام اسکی بات کاٹتا ہوا آگے کی رواداد بیان کرنے لگا اس نے وِجے جیسے معصوم لڑکے کو ورغلایا اور لالچ دیا کہ وہ اسکی بیمار ماں کا علاج کروائے گا ،بدلے میں اسے صرف ایک انسان کو قتل کرنا ہے !
بحرام کی رگیں تٙنیں ۔
ظاہر سی بات ہے اٹلی جیسے ملک میں اسے جاب تو ملنے سے رہی اس نے سوچا کیوں نہ شارٹ کٹ لیا جائے !
ملک نے لقمہ دیا ۔
ایسا ہی ایک شارٹ کٹ اسکے باپ نے بھی اپنی زندگی میں لیا تھا جسکا نقصان وہ آج تک بھگت رہے تھے ، اور بحرام نے تو باقاعدہ اسکی بھاری قیمت چکائی تھی!
بچہ ہے ، چھوڑ دو اسے! اس نے تصویروں پر ایک نظر ڈال کر عاجزی سے واپس پٹخ دیں ۔وہ ضبط کی آخری حدوں پر تھا مگر اس نے کنٹرول کیا ۔ بھلا اس انیس ، بیس سال کے لڑکے سے وہ کیا بدلا لیتا؟
اسکی آواز پر ملک حیران ہی تو رہ گیا تھا ۔ کمال کی اعلی ظرفی تھی وہ اپنے باپ کے قاتل کو معاف کر رہا تھا ۔خیر! اسکے فیصلے پر سوال اٹھانا اسکے اختیار میں نہیں تھا اور نہ ہی اسکی حیثیت تھی ۔سو وہ خاموش رہا ۔
اس ڈیوائن کو ڈھونڈو ، اصلی کہانی تو یہی بتا سکتا ہے ، اگر یہ فرمان کی حرکت ہے تو میں اسکا وہ حشر کرونگا کہ زمین کانپ اٹھے گی ! وہ جبڑے بھینچتا ہوا بولا ۔
اور ایک نظر ملک پر ڈال کر گاڑی سے نکل آیا ۔
باس کھانا، میں اکیلا رہنا چاہتا ہوں !
وہ ہاتھ اٹھا کر دیبورہ کو وہیں ٹوکتا اپنے کمرے کی جانب بڑھ گیا۔ گلاس وال کے پار دکھائی دیتے پہاڑوں پر برف پڑ رہی تھی ۔موسم انتہائی خوبصورت تھا ۔ مگر اسکے اندر ویرانی ہی ویرانی تھی ۔اس نے بے دلی سے پردے گرادیئے
فون کے تھرتھرانے کی آواز پر اس نے ایک نظر جلتا بھجتا ‘ سلطانہ کالنگ ‘ دیکھا ۔اور زور سے ہاتھ مار فون ٹیبل سے نیچے پھینک دیا ۔اسے اب کسی کی ضرورت باقی نہیں رہی تھی ۔ وہ سگریٹ کا پیکٹ اٹھا کر اسٹوڈیو آگیا۔
اس پوری دنیا میں اسے صرف یہاں آکر سکون محسوس ہوتا تھا ۔جہاں اس نے اپنی انگلیوں کی مہارت سے اس دشمن جان کے کئی چہرے پینٹنگ بورڈ پر اتار رکھے تھے ۔ اسٹوڈیوں کے ملگجے سے اندھیرے میں دیوار پر ہر طرف ‘اُسی ‘ کی تصویروں کی بھر مار تھی ۔وہ کمال کا مصور تھا ۔ یا پھر عاشق تھا! یہ اندازہ لگانا مشکل تھا ۔
وہ سگریٹ لبوں میں دبائے انگلیوں کے پوروں سے اسکے چہرے کو چھوتا پلکیں میچنے لگا ۔ اسکو سوچنا اور بے طرح سے بس سوچے جانا ۔بس یہی اسکا پسندیدہ مشغلہ تھا.
****************************************
شام سات بجے کے قریب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو ہاسپٹل کے بستر پر پایا۔
میں یہاں کیسے آئی؟ وہ اٹھنے کی کوشش کرنے لگی
لیٹی رہو ، تم بے ہوش ہوگئیں تھی جسکی وجہ سے تمہارا دوست تمہیں یہاں چھوڑ گیا ہے
نرس اسے اٹھتا دیکھ کر بولی ۔
ک کون کونسا ؟ کونسا دوست ؟ اس نے دماغ پر زور دیا
ثنان ! ہاں یہی نام بتایا تھا اس نے اپنا
لیٹی رہو رومی ! تمہیں پراپر ٹریٹمنٹ کی ضرورت ہے تم نے کئی سیشنز ایسے ہی مس کر دیئے ! کہاں تھی تم؟؟؟
مسز کاظمی نرس کو اشارہ کرتی اسکی جانب بڑھی اور ایک ساتھ کئے سوال کر ڈالے
مجھے ، مجھے بہت ضروری کام تھا آفس میں اسلئے آف نہیں لے سکتی تھی ! اس نے جھوٹ گھڑا ۔ساتھ ہی وہ اٹھ بیٹھی
لیٹی رہو ! تم ! وہ برہمی سے بولیں
پلیز مجھے جانے دیں ، پلیز آپ سے ریکویسٹ ہے اٹس امپورٹنٹ ،میری بہنیں پریشان ہورہی ہونگی ! وہ ملتجی ہوئی. . مسز کاظمی نے نفی میں سر جھٹکا
اسکی محبت پر کبھی رشک تو کبھی جی بھر کر غصہ کرنے کو دل کرتا تھا ۔
ٹھیک ہے ،میرا ڈرائیور تمہیں چھوڑ آئے گا! انہوں نے اسکے اسرار کے سامنے گھٹنے ٹیک دیئے ۔
شکریہ وہ بس اتنا ہی کہہ سکی۔
****************************************
رومی ؟؟ شکر ہے تم آ گئیں ، تم ٹھیک تو ہو نا ؟ دو دنوں سے گھر نہیں آئی تھی تم پتا ہے ہم کتنے پریشان ہوگئے تھے ! نبیشہ کی اسے دیکھ کر جان میں جان آئی
ایکسکیوزمی ؟ اس ہم میں میں شامل نہیں ہوں ، کیونکہ جو دن دن بھر باہر رہے اور رات کو بھی گھر نہ آئے ایسے لوگوں کے لئے میں پریشان نہیں ہوتی وہ تڑخ کر بولی
انف ایمان ! بہت ہو گیا تمہارا نبیشہ نے سختی سے اسے ٹوکا
بہت ہو گیا ؟ ابھی ہوا ہی کہاں ہے ! تم بتائو ؟ کہاں تھی تم ہاں؟ تمہارا وہ لفنگا عاشق اپنے تمام لوفر دوستوں کے ساتھ ہمیں ڈرا دھمکا کر گیا ہے اگر تم نے اس سے شادی نہیں کی تو وہ ہم سب کو مار دے گا ! لیکن تمہیں کیا! ہے نا؟؟؟
ہم چاہیں جہنم میں جائیں ہماری کسے پرواہ
تمہیں تو بس !
نبیشہ کا ہاتھ اٹھا اور ایمان کے گال سرخ کرگیا ۔
ایمان نے بے یقینی سے اپنا گال چھوا
تم نے مجھ پر ہاتھ اٹھایا ؟ وہ بھی اس کی وجہ سے ؟
وہ بھیگے لہجے میں بولی ۔
اسکی وجہ سے نہیں تمہاری زبان کی وجہ سے ! وہ دوبدو بولی
تم پچھتائو گی بہت پچھتائوگی تم نبیشہ ! وہ چیخی
بسسسسس ، بس کرو ،بس کرو تم دونوں ، رومیصہ کانوں پر ہتھیلیاں جمائے چلائی ۔ اور شکست خوردہ قدموں سے صوفے پر ڈھے گئی ۔ تو وہ رحمان خاور کی حرکت تھی ! وہ اسکے گھر تک پہنچ گیا تھا ۔ لائونج گہرا سوکت چھا گہرا گیا۔
تم دونوں میری ایک بات سن لو کان کھول کر ،
تمہارا اب مجھ پر کوئی حق نہیں آج میرا لاسٹ پیپر تھا اور آج سے ٹھیک دس دن بعد میری اٹلی کی فلائٹ ہے میں جا رہی ہو یہ ملک چھوڑ کر ، اور میں دیکھتی ہوں تم مجھے کیسے روکتی ہو !وہ اٹل انداز میں کہتی ہوئی دھاڑ سے دروازہ بند کرتی اندر چلی گئی ۔
تم اسکی باتوں کا برا مت مانو رومی ، میں پانی لاتی ہوں وہ کہتی ہوئی مڑی مگر رومیصہ نے اسکی کلائی تھامی
ایمان نے جو کہا وہ سب سچ ہے ؟؟؟ اسکی سرخ آنکھوں میں آنسو چمکنے لگے
رومی تم اسکی باتوں کو پلیز ، نبیشہ نے بولنا چاہا
سچ ہے نا ؟ وہ اسے ٹوکتی ہوئی پوچھنے لگی
ہاں ، اس نے کہا جو بھی ہو وہ تم سے شادی کرکے دم لے گا
وہ اٹھی اور ساتھ میں بیگ بھی اچک لیا ۔
رومی ؟ رومی ؟ رک جائو کہاں جارہی ہو! وہ گھبرا گئی ۔
دروازہ بند کرلو ! اور کچھ بھی ہوجائے کوئی بھی آئے دروازہ مت کھولنا ! وہ انگلی اٹھا کر تاکید کرتی باہر کی جانب بڑھی
کچھ بھی کرنے سے پہلے یہ سوچ لینا ہمیں تمہاری ضرورت ہے ،چاہے کچھ بھی ہو ! نبیشہ نے خود کو اتنا بے بس کبھی محسوس نہیں کیا
ہمممم! تم فکر مت کرو ،میں صبح ہوتے ہی آجائو گی
وہ آنسو ضبط کرتی ہوئی بولی
رومی ؟؟؟ نبیشہ کی آواز پر وہ رکی۔
ہاں ؟؟؟وہ مڑے بغیر بولی
پلیز، ٹیک کیئر نبیشہ نے کہتے ہوئے آہستگی سے دروازہ بند کرلیا ۔
****************************************
وہ آج جلدی گھر آگیا تھا آفس سے ۔ سینے میں عجب سے نذبات پنپ رہے تھے ایسا پہلے کبھی نہیں ہوا تھا ۔ بے چینی ہی بے چینی اسے رگ و پہ سرائیت کر چکی تھی ۔
چینج کرنے کی غرض سے اس نے ڈیسنگ کا رخ کیا ۔
کبڈ سے کپڑے نکالتے وقت اسکی نظر اسکارف پر ٹھہر گئی ۔ جو وہ کچھ دن پہلے اٹھا لایا تھا ۔ بے اختیار اسکا ہاتھ بڑھا اور اا نے اسکارف اٹھا کر لبوں سے لگا لیا ۔وہ پلکیں میچے اس کی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا ۔
واہ بھائی واہ ! ایمل نہ جانے کہاں ٹپک پڑی تھی ۔
اس نے جلدی سے اسکارف نیچے کیا اور کبڈ میں رکھنے لگا۔ لیڈیز اسکارف ہاں ؟ کس کا ہے بھائی !
وہ ایڑھیوں کے بل اونچی ہوئی اور اسکے ہاتھ سے اسکارف اچک لیا ۔
کسی کا نہیں ہے واپس کرو مجھے ! وہ سخت شرمندہ ہوا ،نہ جانے اس نے یہ حرکت کیوں کی تھی ۔
کسی کا تو ہے جو آپ یوں چھپ چھپ کر !
ایمل! اس نے سختی سے ٹوکا ۔
آں آن ٹھیک ہے ،ٹھیک ہے
اس نے برا سا منہ بنا کر اسکارف واپس کردیا ۔
اب جائو یہاں سے ! وہ مارے خفت کے بے وجہ ہی چیخا ۔ حد ہوگئی مزاک کر رہی تھی ۔ وہ ہاتھ جھلاتی ہوئی بولی ۔ ہونہہ کے سے انداز میں منہ چڑاتی واپس چلی گئی۔ وہ ایک نظر اسکارف پر ڈال کر اسے واپس کبڈ میں رکھنے لگا ۔ فریش ہونے کے بعد اس نے کھانا کھایا اور فائلز لیئے اسٹڈی میں آگیا ۔کام کرتے کرتے اسے پتا ہی نہ چلا کب رات کے دو بج گئے ۔ اس نے فائلز سمیٹی اور اپنی کمرے میں سونے کی غرض سے آگیا۔ مگر نیند اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی کروٹیں بدل بدل کر تھک گیا مگر نیند آکے نہیں دے رہی تھی ۔ بے چینی سی محسوس ہونے لگی ۔
کیوں نہ وہ اس سے بات کرلے ! ایک پل کو اسکے زہن میں خیال کودا مگر اگلے ہی لمحے اس نے تردید کرتے ہوئے کروٹ بدل لی ۔ مگر پھر کچھ سوچتے ہوئے اس نے فون اٹھالیا ۔ کہاں ہے وہ اس وقت ؟ وہ اٹھ بیٹھا ۔
سر وہ شام سے ایک خالی گھر میں ہیں اور ابھی تک وہیں ہیں !
کس گھر میں ؟ کس کا گھر ہے وہ؟ مخبر کی بات پر وہ پریشانی سے اٹھ کھڑا ہوا ۔
ایسا لگتا ہے گھر کا تعلق انہی سے ہے !
وہ شخص کھڑکی سے اندر جھانکتا ہوا بولا ۔
کیا کر رہی ہے وہ اندر ! اسکا ماتھا ٹھنکا
وہ شام سے دو تصویریں اور کچھ کھلونے سامنے رکھے بیٹھی ہیں ، خود ہی سوال کر رہی ہیں خود ہی جواب دینے لگتی ہیں ، کبھی زور زور سے روتی ہیں کبھی چلاتی ہیں اور خاموش ہو جاتی ہیں ! سر اگر آپ کہیں تو انہیں ہاسپٹل لے جائوں ، ایسے پیشنٹ کو اس حال میں اکیلے نہیں چھوڑنا چاہیئے کوئی بعید نہیں وہ خود کو نقصان نہ پہنچا لیں !
نہیں تم وہیں رکو ، مجھے لوکیشن بھیجو میں آتا ہوں نظر رکھنا اس پر !
اسکی صبیح پیشانی پر پریشانی کی لکیریں ابھری ۔وہ کوٹ پہنتے ہوئے گاڑی کی چابیاں اٹھاتا تیزی سے باہر نکل گیا ۔فل اسپیڈ پر گاڑی دوڑاتے ہوئے وہ اسکی بتائی گئی جگہ پر پہنچا ۔ رات کے دو بج رہے تھے ہر طرف سناٹا چھایا ہوا تھا ۔ خبری اسے آتا دیکھ کر اسکی طرف بڑھا ۔
میں فلحال یہیں ہوں تم جائو ، اور جب کال کروں تو واپس آجانا !
اطہر اسے تاکید کرتا دروازے کی طرف بڑھا ۔ ہاتھ بڑھا کر اس نے لاک گھمایا جو کلک کی آواز کے ساتھ کھل گیا ۔وہ حیران ہوا ۔ اس نے دروازہ تک لاک نہیں کیا تھا ؟
وہ دبے قدموں اندر داخل ہوگیا ۔ لائونج پورا خالی تھا ۔ بائیں طرف ریلنگ کے نیچے شاید کچن تھا اور دائیں طرف دو کمرے تھے جن میں ایک کی لائٹ جل رہی تھی ۔ اسکے قدم اسی جانب بڑھے ۔
وہ سوتی جاگتی کیفیت میں سسکتی زمین پر پڑے کشن پر سر رکھے لیٹی ہوئی جبکے پہلو میں ایک تصویر پڑی تھی ۔ اور آس پاس کئی کھلونے بکھرے ہوئے تھے ۔ اسکے قدم منجمد ہوگئے ۔ دل میں ایک ٹھیس سی اٹھی ۔اسے اس وقت کسی اپنے کی ضرورت تھی اور بد قسمتی سے کوئی وہاں موجود نہیں تھا ۔ خیر اسکا کوئی ہوتا تو آتا ۔
اطہر نے دکھ سے سوچا۔
ثنان اسے تمام تر کہانی بتا چکا تھا یہاں تک کہ اسکی بہنوں کی بے رخی کے متعلق بھی جسے سن کر اطہر کے بے حد غصہ آیا تھا۔وہ سختی سے اس سگے اور سوتیلے کانسیپٹ کے خلاف تھا ۔
مس، رومیصہ !؟ وہ دبے قدموں چلتا ہوا اس کے قریب گھٹنہ موڑے بیٹھ گیا۔
اسکی پکار پر وہ ہلی تک نہیں ۔
مس رومیصہ ، آر یو اوکے ؟ چلیں ، میں آپکو گھر چھوڑ دوں ؟ وہ سمجھ نہیں پا رہا تھا اسے کیا کرنا چاہیئے ۔ رومیصہ اسکی آواز پر سر اٹھا کر اسے دیکھا اور دوبارہ آنکھیں موند لیں ۔اور صوفے کی پشت سے لگالی۔
میرا کوئی گھر نہیں ! وہ زیر لب بڑبڑائی ۔
وہ واقعی اپنے حواسوں میں نہیں تھی ۔ ورنہ اپنے سامنے کسی اجنبی کو پاکر کوئی رد عمل تو کرتی ۔کیا ہوتا اگر اطہر کی جگہ کوئی اور وہاں آجاتا ؟ اگر اسکے ساتھ کچھ ہوجاتا ایسی حالت میں ۔ یہ سوچ ہی اسکے لیئے سوہان روح ثابت ہوئی تھی ۔
مس رومیصہ ! اسکی بات لبوں پر ہی دم توڑ گئی
نہیںںںںںںںں !
وہ اتنی زور چلائی کہ اطہر لڑکھڑا کر پیچھے کو جاگرا ۔ نہیں ہے، میرا کوئی گھر نہیں ، میں نہیں جائونگی ! وہ گھٹنوں میں سر دیئے پھر سے آنسو بہانے لگی ۔
اطہر اپنے حواس سنبھالتا سیدھا ہوا اور اسکے مقابل کچھ دوری پر پڑے صوفے کی پشت سے گردن ٹکا لی ۔
وہ کئی دیر تک کبھی ‘زوہان ‘ کبھی ‘بابا’ تو کبھی ‘ماما’ کے متعلق اسکی باتیں سنتا ضبط کیئے بیٹھا تھا
مگر وہ لڑکی تھکنے کا نام نہیں لے رہی تھی ۔ وہ تاسف سے سر جھٹکتا آگے بڑھا اور اسکی گردن پر انگلیاں جمائے کوئی رگ دبائی جس سے وہ بے ہوش کر لڑکھڑاتی ہوئی اسکے کندھے سے جا لگی ۔
وہ اسے اٹھائے صوفے پر لٹانے لگا۔ آس پاس نظر دوڑانے پر اسے کمفرٹر نظر نہ آیا تو اس نے اپنا لانگ اتارا اور اسکے سینے پر پھیلا دیا ۔ ایک نگاہ اس پر ڈال کر اس نے تمام کھلونے سمیٹ کر باکس میں رکھنے لگا ۔
تبھی اسکی نظر ڈائری پر پڑی ۔ اس نے ڈائری اٹھائی اور صوفے کے قریب کرسی پر آ بیٹھا ۔ رات ابھی باقی تھی ۔ اس نے وقت گزاری کی خاطر ڈائری کھول لی
****************************************
اطہر کی تمام تر رات آنکھوں میں کٹی ۔ اور اس وقت گھڑی صبح کے چھ بجا رہی تھی ۔ اس نے آنکھیں گڑتے ہوئے ڈائری بند کی اور فون اٹھائے دبے قدموں کمرے سے باہر نکل آیا ۔
کہاں ہو تم ! اچھا ٹھیک ہے ! اور سنو ، گہری نگاہ رکھنا اس پر کچھ بھی عجیب ہو فورا سے پہلے مجھے خبر کرنا ۔ وہ حکم صادر کرتا ہوا داخلی دروازے سے ہوتے ہوئے باہر نکل آیا ۔ روڈ کے ایک کونے پر اسے وہ شخص کھڑا دیکھائی دیا ۔ جس نے اسے دیکھ کر ہاتھ ماتھے پر لے جاتے ہوئے سلیوٹ جھاڑا ۔ اس نے سر خم دیتے ہوئے ڈرائیونگ سیٹ سنبھال لی ۔اور گاڑی آگے بڑھا لے گیا ۔
****************************************
کلب کی رنگ برنگی لائٹیں اسکے پر تیر رہی تھی ۔ وہ لوگوں کے سیلاب کو چیرتا ہوا آگے بڑھا اور کرسی پر جا ٹکا ۔
بار ٹینڈر اسے دیکھ کر ڈرنک بنانے لگا ۔ وہ جنونی انداز میں ایک کے بعد ایک گلاس چڑھانے لگا ۔ بار ٹینڈر تاسفی نگاہوں سے اسے دیکھ کر رہ گیا ۔وہ کیا کرتا بے چارہ اسکا تو کام ہی یہی تھا مگر !
اسی لمحے اسے میڈم تاتیہ کا پیغام موصول ہوا مگر تب تک بہت دیر ہو چکی تھی ۔ وہ کائونٹر سے بیئر کی بوتل اٹھائے جا چکا تھا۔ بار ٹینڈر سر جھٹک کر اپنے کام میں مصروف ہوگیا ۔آج رات اسکی شادی تھی اور یشم کو ایک لمحے کے لیئے بھی سکون میسر نہیں تھا۔
فریب ،جھوٹ ، دھوکہ ، بے وفائی اسکی زندگی کا معمول بنتے جارہے تھے۔ وہ جتنی بھی کوشش کر لیتا مگر کوئی دوست ، میٹ ،گرل فرینڈ چند مہینوں سے زائد اسکا ساتھ نہ دیتی ۔ اس میں کمی کیا تھی وہ آج تک نہ سمجھ پایا ۔ خوبصورت تھا ، زہین تھا دولتمند تھا ۔ اچھے بیک گرائونڈ سے تعلق تھا ۔ اسکا وقت ،اسکی محبت ،احساسات سب اکارت جاتا جب لوگ اسے ‘ تمہاری محبت ‘محبت ‘ نہیں قید خانہ ہے ‘ کہہ کر چھوڑ جاتے ۔دراصل وہ انکی اوقات سے زیادہ انہیں صرف کردیتا تھا تبھی اسے دھوکہ اور بے وفائی کے علاوہ کچھ نہ ملتا ۔ اس نے اب توبہ کر لی تھی کہ محبت اب کبھی نہیں کریگا ۔
لیکن اس بے وفا کو ایک سبق سکھانا بہت ضروری تھا ۔اس نے بوتل کا آخری گھونٹ بھرتے ہوئے زور سے دیوار پر دے ماری ۔ ایک چھناکے کے ساتھ بوتل کئی ٹکڑوں میں تقسیم ہوکر بکھر گئی ۔ اسے اپنی ذات بھی ان بکھرے ہوئے کانچ کے ٹکڑوں سے مختلف نہ لگی ۔ جسے چنتے چنتے اسکے ہاتھ تک زخمی ہو چلے تھے ۔
سر ،سر آپ ٹھیک تو ہیں ؟ شرائے نہ جانے کہاں سے آگئی ۔ دور ہٹو وہ سخت کوفت کا شکار ہوا ۔
مس تاتیہ ! خبردار اگر تم نے ایک بار بھی اسکا نام لیا تو ، اب چلی جائو یہاں سے اور مجھے اکیلا چھوڑ دو وہ انگلی اٹھا کر تنبیہہ انداز میں چلایا۔ اور گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔ شرائے حواس باختہ سی ٹیکسی لیئے اسکا پیچھا کرنے لگی ۔ ہے ہیلو میم !و وہ سر چلے گئے ! پتا نہیں کہاں ؟ مگر وہ نشے میں ہیں آپ پلیز کچھ کریں ، ج ججی جی میں لوکیشن بھیجتی ہوں ! وہ سخت پریشانی کے عالم میں فون کان سے ہٹاتی تاتیہ کو لوکیشن بھیجنے ۔ مطلوبہ جگہ پر گاڑی جھٹکے سے رکی ۔ وہ سیٹ بیلٹ ہٹاتا باہر نکل آیا ۔ سفید للی کے پھولوں راہداری ڈیکورٹ کی گئ تھی حال کے باہر لوگوں کی چہل قدمی تھی ۔
یہ سب دیکھ کر اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔ اس نے کار کی ڈگی سے ہاکی اٹھائی اور شدید طیش کے عالم میں ساری ڈیکورشن تہس نہس کردی ۔ لوگوں میں اسکی حرکت سے کہرام مچ گیا ۔وہ ہانپتا ہوا کہنی سے ناک رگڑتا اندر کا رخ کرنے لگا ۔ اسی لمحے شرائے ٹیکسی کو ہاتھ کے اشارے سے روکتی گولی کی طرح باہر نکلی ۔
ہی ہیلو میم ! پلیز جلدی آجائیں ورنہ غضب ہوجائے گا
وہ راہداری میں مرجھائے پھولوں کو دیکھتی ہوئی بولی ۔ اور فون رکھتے ہوئے اندر کو بھاگی ۔
Heyyyyyyylllowwww everyone
bride of moscow & groom
وہ ہاتھ اٹھا کر چلاتا ہوا لوگوں کو اپنی طرف متوجہ کرنے لگا۔
ی ی یششمم !!!
عروسی لباس میں ملبوس ایپرل کا اوپر کا سانسیں اوپر اور نیچے کی نیچے ہی رہ گئی۔ اسکے خطرناک ارادوں سے معلوم ہورہا تھا وہ سب تباہ کردے گا۔
