Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode15

The Dark by Uzzai Zehan Episode15

beni affet , lütfen Eman
(I’m sorry , pleaseee )
وہ معصومیت سے بھرپور شکل بنا کر بولی ۔
بات مت کرو مجھ سے تم ! ایمان کتاب میں منہ گھسائے بے رخی سے بولی ۔ انکا دو گھنٹے سے جاری یہ میلو ڈرامہ دیکھ کر اب نبیشہ ہو چڑ ہونے لگی تھی ۔
کیوں نہ تم لوگ باہر گرائونڈ میں دفع ہو جائو ، وہاں جتنا مرضی دیر روٹھنا منانا کرو مگر ایٹ لیسٹ ہمیں سونے دو ! آخر کار وہ بھڑک اٹھی۔
ولدان برا سا منہ بنا کر کرسی پرے دھکیلتی بیڈ پر چڑھنے لگی ۔
تم دونوں کو بتانا تھا کہ کل بھائی کے ڈپارٹمنٹ کے اسٹوڈنٹ باکسنگ مینٹور سے ٹریننگ لینے باہر جا رہے ہیں ! اسلیئے میں نے ان سے ریکویسٹ کی کہ میں تم دونوں بھی ساتھ جائو گی ، اگر تم دونوں کو جانا ہے تو کل کلاس کے بعد ریڈی رہنا !
وہ ایک ہی سانس میں بولتی ہوئی کمفرٹر اوپر تک تان کر سوتی بنی ۔
یہ ہوئی نہ بات ! خود کو لاپرواہ ظاہر کرتی ایمان نے جھٹ سے کتاب بند کی ۔اوپر جھانکتے ہوئے ایک نظر اس پر ڈالی اور مسکراتی ہوئی سونے کی تیاری کرنے لگی ۔ اسکے پیر خوشی سے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے
فائنلی انہوں نے پہلا ٹرپ پلین کرنا تھا صبح ، او مائی گاڈ آئی ایم سو ہیپی ! وہ خوشی سے چیخی ۔
Jesus Christ !
What’s wrong with you girl?
سلینا غصے سے چلائی ۔پہلے دن کے مقابلے بے چاری کی آواز اب کم ہی سنائی دیتی تھی ۔ وہ ان تینوں کو ہر وقت کمرے میں اودھم مچاتے دیکھ کر کم ہی آتی تھی ۔ نہ جانے وہ سارا سارا دن کہا رہتی تھی ۔صرف رات کے وقت وہ انہیں سوتی ہوئی دکھائی دیتی اور صبح ہوتے غائب ہوجاتی ۔ وہ بھی لاء کی اسٹوڈنٹ تھی حیرت کی بات تو یہ تھی کہ نبیشہ نے کبھی اسے کلاس میں نہیں دیکھا تھا ۔یا پھر ہو سکتا تھا یہ اسکا بھرم ہو۔
سلینا نے غصے بھری نگاہ بستر میں دبکے ان تمام نفوسوں پر ڈالی ۔جو واقعی سو رہے تھے یا اسے دیکھ کر سونے کی ایکٹنگ کر رہے تھے ۔ خیر وہ ذبردست گھوری سے نوازتی دوبارہ اوڑھنے لگی ۔
ایمان کمفرٹر میں برے برے منہ بنا کر اسکی نقل کرتی ہنس پڑی ۔
***********************************
وہ نیم بے ہوشی کی حالت میں زمین پر پڑی تھی ۔ جب اسے قدموں کی چاپوں کی آوازیں آنے لگی ۔ اس نے سر اٹھایا ۔ شاید وہاں کوئی آرہا تھا ۔
اس نے ہاتھ زمین پر مارتے ہوئے دیوار تلاش کرنی چاہی ۔ تبھی دروازہ کھلا اور کئی دنوں سے بند کمرے میں یک دم روشنی پھیل گئی ۔
اسکی آنکھیں چندھیاگئیں ۔ نہ جانے کتنا وقت گزر گیا تھا اسے اس قید میں ۔ رومیصہ کو اپنے زندہ ہونے کا احساس ہونے لگا ۔ اس نے تھوک نگلتے ہوئے خشک گلے کو تر کیا ۔ ہلیو ڈیئر کزن؟؟؟
جانی پہچانی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی ۔
کون ہو تم؟ اس نے اجنبی نگاہوں سے اس شخص کو دیکھا۔ کون ہو سکتا ہوں ، ہاہ ، تمہارا چاہنے والا !
وہ ٹھنًی آہ بھرتے ہوئے گھنٹا موڑ کر اسکے قریب بیٹھا ۔
تم ؟؟؟؟؟ وہ ششدر رہ گئی ۔ گزرے ہوئے تمام مناظر اسکی آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگے ۔
ہاں میں ! وہ مسکرایا ۔
تو ! کیسی ہو تم ؟ ممممم !
میں بھی کیسا سوال کر رہا ہوں افکورس تم ٹھیک نہیں ہو! ہے نا ؟؟؟؟ اس نے کمینگی سے کہتے ہوئے تفصیلی نگاہ ڈالی ۔ الجھے ہوئے بال، مٹی سے اٹا چہرہ بمع ہاتھ ، حتی کہ اسکا سیاہ لباس مٹی میں مٹی ہو چکا تھا ۔
آیا دماغ ٹھکانے ؟؟؟؟ یا کچھ دن اور ہماری مہمانی میں گزارن چاہتی ہو ! البتہ اس دفع کچھ الگ ہوگا ، تم میرے ! اسکی بات لبوں پر ہی دم توڑ گئی ۔ جب وہ حواس کھو کر ایک طرف کو لڑھک گئی ۔
چہ چہ چہ ! دیکھا ، مجھ سے ضد لگانے کا نتیجہ ! وہ تمسخر اڑاتے لہجے میں کہتا ہوا ۔ اٹھا اور باہر کھڑے لوگوں کو ہدایت دینے لگا ۔
***********************************
جلدی آانا ! لیٹ مت کرنا !
وہ کلاسز لینے کے بعد ہاسٹل روم کی جانب جا رہی تھی ۔جب برش کی آواز سنائئ دی ۔
شیور برش آبے ! اس سے پہلے ولدان کچھ کہتی ایمان آنکھیں چمکاتی ہوئی بولی ۔
جہاں ولدان بے اختیار ہنسی ۔ وہیں برش بھی اسکے انداز پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔
او؟ بی بی! کہاں کی تیاری؟ روم میں قدم رکھتے ہی وہ حیران رہ گئیں جب نبیشہ کو بیگ میں بکس رکھتے ہوئے دیکھا ۔
ایکسٹرا کلاسسز ! وہ مصروف انداز سے بولی۔
تم ہمارے ساتھ نہیں جا رہی مطلب ؟
ایمان حیرانگی سے بولی ۔
کہاں؟ کمال کی بے نیازی تھی اسکے لہجے میں ۔
رات ہی تو بتایا تھا برش کے ڈپارٹمنٹ سے اسٹوڈنٹس جارہے ہیں باہر تو ہم نے بھی آئوٹنگ پلین کی چھوٹی سی ! ولدان کے ہاتھ پر ہاتھ مارتے خوشی سے اپنا کارنامہ بیان کیا ۔
تو بہتر ہوگا تم دونوں برش کو انجوائے کرنے دو !
اس نے تاکید کی ۔
یہ کیا بات ہوئی یار ! ہم تھوڑی نہ اسکے سر پر بیٹھ کر جارہے ہیں ! سبھی اسٹوڈنٹس اپنے LOVE ONES کو لے جارہے ہیں اینڈ فار یور کائنڈ انفارمیشن برش نے خود ہمیں آفر کیا ہے ! اب چلو چپ چاپ !
وہ کمر پر ہاتھ جمائے حکم صادر کرتی ہوئی بولی ۔
میں نہیں جائونگی ، اور تم بھی نہیں جائوگی ! سنا تم نے ! وہ لفظوں میں زور دیتی ہوئی بولی ۔
بس بھی کرو یار ! حد ہوتی ہے ہر بات کی ! میں اچھے سے جانتی ہوں تم رومیصہ کے نظر انداز کیئے جانے پر پریشان ہو اٹس اوکے !
نو اٹس ناٹ اوکے , وہ مجھے ، بلکے ‘ہمیں’ نظر انداز کر ہی نہیں سکتی اسکا نمبر کئی دنوں سے بند جا رہا ہے جو کہ واقعی پریشان کن بات ہے ، تم جیسی سنگدل انسان یہ بات نہیں سکتی ! نبیشہ غصے سے بیگ پٹختی ہوئی بولی ۔ ایمان بے یقینی سے اسے دیکھنے لگی ۔ایک آنسو ٹوٹ کر اسکے گالوں پر پھسلا ۔
سنبھل جائو ایمان ! ورنہ ہمیں ایک دن بہت پچھتانہ پڑے گا ، اور پچھتاوے کا سانپ بہت زہریلا ہوتا یہ انسان کو نہ مرنے دیتا اور نہ جینے ! وہ اسکی آنکھوں میں دیکھتی افسردگی سے کہہ کر بیگ کندھے پر ڈالتی باہر نکل گئی ۔ ایمان کو پہلی بار اسکے لفظوں سے خوف آیا ۔
وہ بے جان قدموں سے کرسی پر ڈھے گئی ۔ جبکے ولدان فون کی اسکرین پر آبے کالنگ جلتا بجھتا دیکھ کر ایک نظر اس پر ڈال کر فون لیئے بالکونی میں آگئی ۔
اس نے لائبریری میں آکر بیگ ٹیبل پر رکھا بک ریک سے ٹیک لگا بے آواز روتے ہوئے زمین پر بیٹھتی چلی گئی۔
آئی ہوپ، اسے کچھ نہ ہوا، ہم کیا کرینگے اسکے بغیر
اسکے کانوں میں رحمان خاور کے دھمکی آمیز الفاظ گردش کرنے لگے
وہ کپکپاتے ہاتھ منہ پر رکھے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ وہ پچپن سے ہی ایسی تھی ۔ خاموش طبع اپنے احساسات جذبات ظاہر نہ کرنے والی ۔یہ اسکی طبیعت کا حصہ تھا ۔ وہ ایمان کی طرح چیخ چلا کر اپنی محبت یا نفرت کا اظہار نہیں کرتی تھی ۔ لوگ اسکی خاموش طبیعت کو ‘غرور’ کا نام دے دیتے ۔مگر اس نے کبھی پرواہ نہیں کی تھی ان چیزوں کی۔ اسکا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا کہ اسے فرق نہیں پڑتا تھا۔ وہ بہت حساس اور نرمدل کی مالک تھی ۔ رومیصہ اور ایمان کے بیچ کے جھگڑے جتنا دکھ اسے دیتے تھے انکا شاید انہیں احساس تک نہیں تھا ۔وہ راتوں کو رو کر اپنے دل کا حال اللہ سے بیان کر لیا کرتی ۔ اسکی تو کوئی دوست بھی نہیں تھی.ورنہ وہ بھی چاہتی تھی اس سے بھی کوئی محبت کرے ۔ اسے سنے ، اسکا خیال رکھے ۔ احساس کرے وہ بھی چاہتی تھی اسکی ایک فیملی ہو محبت کرنے والی ماں ہو ، شفقت سے سر پر ہاتھ پھیرنے باپ ہو ، ، حفاظت کرنے والا بھائی ہو مگر ! اسکے لیئے یہ سب ایک خواب کی طرح تھا ۔ ایک ایسا خواب جو کبھی پورا نہیں ہوسکتا تھا ۔کیونکہ وہ تینوں یتیم اور مسکین تھیں ۔لوگوں کی بری نگاہیں ہر پل انکا پیچھا کیا کرتیں تھی ۔یہ تو رومیصہ تھی جس نے نا جہانے کیسے سب سنبھال رکھا تھا۔ اس میں وہ تمام خوبیاں تھی ۔وہ بیک وقت ،ماں ،بہن ،بھائی تینوں کی زمہ داریاں نبھا رہی تھی ۔ ۔ اسکا دل خواہشیں نہیں کرتا تھا ۔ اس نے دوسری لڑکیوں کی طرح بڑے بڑے خواب دیکھنا چھوڑ دیئے تھے ۔ صرف اتنا کہ وہ ان دونوں کو جوڑ کر رکھنا چاہتی تھی ۔ کیونکہ یہی اسکا کل اثاثہ تھیں ۔اور جینے کی وجہ بھی ۔
آر یو آل رائٹ ؟؟؟ وہاں سے گزرتے اسٹوڈنٹ نے اسے بری طرح روتے دیکھ کر پوچھا ۔
وہ سر ہلاتے ہوئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔
***********************************
اسے جب ہوش آیا تو اس نے خود نرم و ملائم بستر پر پڑا پایا۔ اسکا سر بھاری ہو رہا تھا ۔
وہ سر تھامے کمفرٹر ہٹا کر اٹھ بیٹھی ۔ کچھ وہ بھوکی تھی کئی دنوں سے ۔ اسے نے اٹھنے کی کوشش کی وہ جلد سے جلد یہاں سے نکلنا چاہتی تھی ۔مگر دو قدم چلتے ہی اسکا سر زور سے چکرایا اور وہ دھڑام سے زمین پر جا گری ۔
کمرے کے اندر آتی نرس بھاگ کر اسکے قریب آئی ۔
تمہیں کہا تھا نا اس لڑکی سے نظر نہیں ہٹنی چاہیئے ! وہ اسے کھا جانے والی نظروں سے گھورتا ہوا رومیصہ کو اٹھا کر بیڈ پر لٹانے لگا ۔
دیکھو اسے ! وہ تپ کر بولا ۔
نرس نے بھاگ کر اسکا چیک اپ کرنے لگی ۔
ذندہ تو ہے نا؟ وہ بے صبری سے پوچھنے لگا۔
کمزوری ہو گئی ہے انہیں امیونٹی کی ضرورت ہے !
اوہ! وہ اسکے کھانے کے بارے میں مکمل بھول گیا تھا
کھڑے کھڑے میرا منہ کیا دیکھ رہی ہو ، جائو اور کچھ کھانے کے لیئے لائو اسکے لیئے !
وہ کڑے تاثراتوں سے کہتا ہوا ۔
رومیصہ کے قریب بیڈ پر ٹک گیا ۔
اتنا کچھ جھیلنے کے بعد بھی میرے ہی پاس واپس آ گئی ! چہ چہ! بری قسمت پائی ہے تم !
اسکا ہاتھ اسکی جانب بڑھا کی تھا کہ نرس کمرے میں داخل ہوئی ۔ اس نے ناگواری سے نرس کو دیکھا اور لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا باہر نکل گیا ۔
***********************************
وہ لائبریری سے شام گئے واپس لوٹی ۔ ایمان کھانے کی ٹرے لیئے ٹیبل پر رکھتے ہوئے بے دلی سے کھانے لگی ۔
جب نبیشہ نے حال میں قدم رکھا ۔
نبیشہ؟؟ ایمان نے اسے پکارا ۔ وہ اسے دیکھ چکی تھی ۔ لنبیشہ مبی آہ بھرتے ہوئے چہرے پر مسکراہٹ سجا کر اسکی طرف آئی ۔ بیگ ایک طرف رکھتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی ۔
تم ناراض ہو مجھ سے؟؟؟؟
ایمان نے غور سے اسکی روئی روئی سرخ آنکھوں کو دیکھا ۔ اسکا دل بھر آیا ۔
نبیشہ نفی میں سر ہلائی کنٹینر سے ڈھکن ہٹاتی کھانے لگی ۔
سوری نا یار ! ایمان کرسی چھوڑ کر اس سے لپٹ گئی ۔ اٹس اوکے ! نبیشہ اسکا ہاتھ تھپتھپانے لگی ۔
اسے کیا ہوا؟ شکل پر بارہ کیوں بجے ہیں ؟ وہ منہ بنائے بیٹھی ولدان کد دیکھ کر بولی ۔
ٹرپ کینسل ہوگیا نا اسلیئے ! ایمان ہنسی ۔
عجب بات ہے ! پھر بھی تم خوش نظر آرہی ہو ! نبیشہ نے تعجب سے کہا ۔
کیونکہ کہ مجھے اس بھی بڑا سرپرائز ملنے والا ہے ! گیس واٹ؟ یشم ‘بذات خود یہاں آنے والا ہے ! وہ کھلکھلائی ۔ولدان نے منہ چڑایا ۔
جبکے نبیشہ کے حلق سے بمشکل نوالہ اترا ۔
کون یشم؟ وہ حیرت سے بولی ۔
ارے بھول گئی تم ، وہی یشم جسے ہم نے ایئرپورٹ پر دیکھا تھا ! پہلے بھی اسکی آمد متوقع تھی پھر کچھ پرابلم ہوگئی تھی شاید اسلیئے اسٹوڈنسٹ اسکے لیئے باہر جا رہے تھے مگر اب یونیورسٹی نے سکیورٹی کو یقینی بنایا اور قریبی ریزوٹ میں اسکی رہائش بھی !
نبیشہ نے غیر دلچسپی سے اسے سنا ۔
تمہیں اتنا سب کیسے پتا ؟ وہ سرسری سا پوچھنےگی ۔
میں سب برش سے سب پتا کروا لیا ہے ، اور پتا ہے ریزورٹ ہی ٹھیک ہے ورنہ اتنا بڑا سوپر اسٹار عام اسٹوڈنٹ کی طرح ہاسٹل کے چھوٹے سے روم میں تو نہیں رہے گا نا !
خوشی اسکے انگ انگ سے پھوٹنے لگی ۔
فائنلی میں اس ہینڈسم ہنک کو لائیو دیکھوں گی ! ہائے اللہ ، وہ گال پر ہاتھ رکھتی کسی اور ہی دنیا میں لگ رہی تھی۔ ان دونوں نے بے زاری سے ایک دوسرے کو اور پھر ، ایمان کو دیکھا ۔ کھانا اٹھا کر ہاسٹل روم کی طرف بڑھ گئیں ۔اے رکو ! سنو ، یار نبیشہ، ولدان کی بچی !
ایمان چلاتی ہوئی انکے پیچھے بھاگی ۔
******************************************
وہ تاتیہ کے بہت اسرار کرنے پر اٹلی کچھ دن اور رکا تھا اسکے مطابق یشم کو باہر وقت گزارنا چاپیئے تھا ۔ مختلف ماحول میں وقت گزراتا تو وہ بہتر ہوجاتا ۔اسی لیئے اس نے حامی بھری تھی ۔اب شرائے بار بار کبھی کپڑوں تو کبھی جوتوں کا پوچھ پوچھ کر اسکے سر میں درد کرنے لگی تھی ۔ سو وہ گاڑی کی چابی اٹھا کر باہر سمندر کے کنارے آگیا ۔ شام کا وقت ہو رہا تھا پنچھی اپنے گھروں کو لوٹ رہے تھے۔ وہ جینز گھٹنوں سے اوپر چڑھائے پُل کے کنارے پانی میں پیر لٹکا کر بیٹھ گیا ۔ ایپرل کا چہرہ بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے آنے لگا۔
سینے میں لاوا سا پکنے لگا ۔ اسے بھولتا ہی نہیں تھا اپنی محبت کو ٹھکرائے جانا وہ بھی بے بنیاد ۔ انسان اپنی زندگی میں بہت سی باتیں کبھی نہیں بھولتا ۔خاص طور پر وہ جو اسکی زندگی میں پہلی بار اسے وجود پر دستک دیتی ہیں ۔پہلا حادثہ ، پہلی نادانی ،پہلا جھوٹ ،کالج کا پہلا دن ، پہلا نشہ،پہلا سفر اور شاید پہلی محبت بھی ۔ جو زندگی میں یوں شامل ہوجاتی ہے جیسے سانسوں کا آنا جانا۔ آپ سانس لیتے ہیں سوچے سمجھے بغیر ۔ آپ ان باتوں کو کبھی نہیں بھولتے چاہے یاد کریں یا نہ کریں وہ سانسوں کی طرح انسان وجود کا حصہ بن جاتا ہے ۔ اسکے ساتھ بھی یہی معاملہ تھا ۔مگر اسے احساس ہوا جیسے اسے محبت تھی ہی نہیں ایپرل سے ۔وہ تو بس دیکھ رہا تھا کہ کہاں تک وہ اسکے ساتھ چلتی ہے ۔اور وہی ہوا جو اسکے ساتھ ہوتا ہے اس نے اسے بیچ راہ میں چھوڑ دیا ۔ اور ایک بار پھر سے ٹھوکر کھا کر سنبھلا تھا ۔ اس نے سوچ لیا تھا ۔اسکی زندگی میں اب کوئی لڑکی نہیں آئے گی ۔ لیکن ضروری نہیں جیسا ہم سوچیں ویسا ہی ہو ۔
******************************************
کھانا کھانے کے بعد اسکے حواس لوٹے تو دماغ کچھ سوچنے کے قابل ہوا ۔اس نے نرس سے تاریخ معلوم کی تو صحیح معینوں میں اسکے چھکے چھوٹ گئے۔ اسے یہاں ایک ہفتہ ہوچکا تھا ۔
نبیشہ ! ایمان؟ نہ جانے وہ کتنا پریشان ہو رہی ہوں گی اسے پریشانی لاحق ہونے لگی
میرا ، میرا فون کہاں ہے ؟ نرس سے پوچھا تو اس نے سرے لا علمی کا اظہار کیا ۔
میں کہاں ہوں ؟ کیوں ہو ؟ میرا فون کہاں ہے ؟ اور وہ رحمان کہاں ہے ! اس نے سخت عاجز آکر اپنے بال میں انگلیاں پھنسائیں ۔
کہاں ہے وہ ؟ اس بار وہ چلائی ۔
پتا نہیں میڈم ! وہ رات کو آتے ہیں !
رات کو کس وقت ؟؟ وہ بے صبری سے پوچھتی بیڈ سے اتر آئی ۔
کسی بھی وقت انکے آنے جانے کا کوئی وقت نہیں !
اتنا کہنا تھا کہ وہ بذات خود کمرے کے چھوکھٹ پر قدم رکھنے لگا ۔
شاید کوئی بے صبری سے میرا انتظار کر رہا ہے ! وہ شوخی سے کہتا ہوا نرس کو جانے کو اشارہ کیئے بیڈ پر دھڑلے سے لیٹ گیا ۔
مجھے میرا فون چاہیئے ابھی اسی وقت ! وہ اسکے سر پر آ کھڑی ہوئی ۔
اوہ! مجھے لگا تم کہو گی مجھے گھر جانا ہے ‘ابھی اسی وقت” ،لیکن تم سمجھدار ہو جلدی سمجھ گئی کیونکہ اب سے یہی تمہارا گھر ہے ! میری جان
وہ کہتے اسکے مقابل آ کھڑا ہوا ۔
تمہاری جان تو اب میرے ہی ہاتھوں جائے گی ! وہ پھبھری ۔ اففففف ! وہ گردن پیچھے کو گرائے بولا ۔
اور دو قدم اور قریب ہوا ۔
تم بہت خوبصورت ہو ! وہ اسکے بالوں کو انگلی پر لپیٹتا ہوا بولا ۔ رومیصہ نے سخت ناگواری سے رخ پھیر لیا ۔ اوہنہہہ! میری طرف دیکھو ! وہ اسکا منہ دبوچ اپنے سامنے کرنے لگا ۔
اگر تم نے ایک بار بھی اور مجھے چھوا تو خدا کی قسم میں تمہارا ہاتھ توڑ دو گی !تم ابھی مجھے جانتے نہیں ہو
وہ جبڑے بھینچتے ہوئے بولی ۔
تو بتائو نا ! میں جاننا چاہتا ہوں تمہارے بارے میں ! اسے پہلے وہ کچھ کرتا رومیصہ نے نا محسوس طریقے سے ہاتھ پیچھے لے جاکر سائیڈ ٹیبل پر پڑی کھانے کی ڈش میں سے کانٹا اٹھایا اور پوری قوت اسکے ہاتھ میں چبھو دیا ۔ آہہہہہہہہہ ! وہ درد سے بلبلاتا ہوا فورا پیچھے ہوا ۔
میرا فون دو مجھے ، سنا تم نے مجھے میرا فون چاہیئے ! وہ کانٹا پھینکتی ہوئی چلائی ۔
تمہیں اس کال کوٹھری میں سڑنے دینا چاہیئے تھا بلاوجہ میں نے تم پر ترس کھایا ! وہ کینہ ور نظروں سے گھورنے لگا
میں نے ‘تم’ پر ترس کھایا ہے ! ورنہ میں ہاتھ کی جگہ آنکھ میں مار دیتی تو تم کیا ہی کر لیتے
وہ دوبدو بولی ۔
تم یہیں گل سڑ کر مرو گی دیکھنا تم ! وہ درد سے کراہتے ہوئے اپنا ہاتھ زور زور سے جھٹکتا باہر نکل گیا ۔
مجھے یہاں سے نکلنا اچھے سے آتا ہے !
دیکھ لینا پھر تمہارا کیا حشر کرتی ہوں رحمان خاور ! وہ چیخی۔ اسکے جاتے ہی گارڈز نے بند کردیا اور وہ سر پیٹ کر رہ گئی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *