The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode08
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode08
The Dark by Uzzai Zehan Episode08
س سس سکیورٹی ! اسکے لب بمشکل پھڑپھڑائی۔وہ خوفزدہ سی ہوکر دور سرکی
کیا بات ہے ؟ LOVE ، اوہ سوری ایکس- لو مجھے شادی پر انوائٹ کرنا بھول گئی تم ؟ !نہ چاہتے ہوئے بھی اسکے لہجے میں دکھ چھلکا ۔
یش ت تم ،اس نے کچھ کہنا چاہا
یشم ، یشم الِیم نام ہے میرا ،سنا تم نے ؟ وہ دھاڑا ۔ اب اسکے آنسو اس پر کوئی اثر نہیں دکھانے والے تھے
دھوکہ دیا نا تم نے ‘بھی’ مجھے ؟
وہ چلتا ہوا اسکے نزدیک آیا ۔
یشم میں تمہیں بتانے ہی والی تھی ،
بتانے والی تھی ؟؟؟ کب ؟ جب شادی ہوجاتی تب ! وہ بے یقین ہوا مطلب اس نے پہلے سے ہی سوچ رکھا تھا سب؟ وہ اسکے ہاتھوں استعمال ہو چکا تھا ‘محبت’ کے نام پر؟ ۔
کون ہے یہ ایپرل؟؟ وہ سوٹڈ بوٹڈ شخص یقیننا اسکا دلہا تھا ۔
ہیلو جینٹلمین ، لیٹ می انٹرڈیوس مائے سیلف ٹو یو اینڈ ایوری ون ،
یش یشم پلیز ! ڈونٹ اسپائل مائی ویڈنگ
وہ آنکھوں میں آنسو لیئے اس سے گزارش کرنے لگی ۔
آں آن دور ہٹو ! وہ نفرت سے اسکا ہاتھ جھٹکتا ہوا بولا ۔
تم ہو کون ؟؟؟ اس شخص کو اسکی بد تمیزی ایک آنکھ نہ بھائی ۔
میں وہی ہوتا جو اس وقت تم ہو ، اگر تم نہ ہوتے تو !
وہ لفظ چبا چبا کر کہتا باور کرواتے ہوئے بولا ۔
یش ، یشم پلیز چلے جائو یہاں سے ! کیوں آ گئے ہو میری خوشی برباد کرنے ۔ وہ رودی ۔
اگر یہی سب تمہاری خوشی ہے تو میرے ساتھ وہ سب کیا تھا ؟؟؟؟ ہاں ؟؟؟ وہ غصے سے بے قابو ہونے لگا ۔
دھوکے اور فریب کے احساس نے اسکے اندر نفرت بھر دی تھا ۔جو اب غصے کی صورت اسکے لہجے اور حرکات میں چھلک رہی تھی۔
بولو ؟ جواب دو ؟ وہ چیخا۔
نہیں ہے نا کوئی جواب ، کیونکہ تم دھوکے باز ہو اور مجھے دھوکے بازوں سے سخت نفرت ہے ! تم دیکھو اب میں تمہارا کیا حال کرتا ہوں ، وہ شعلے برساتی نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا مڑا اور ہاتھ میں پکڑی ہاکی کے بھرپور وار سے میز پر سجی شراب کی بوتلوں کو لمحوں میں زمین بوس کردیا۔ لوگوں کی چیخوں سے حال گونجنے لگا ۔
یشم پلیز چلے جائو یہاں سے ، میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں !وہ ہزیانی انداز میں روتے ہوئے چلائی
نا ممکن ! وہ نفرت سے پھنکارا ۔
یہ کیا تماشہ لگا رکھا ہے ! کون ہے یہ جاہل
رعبدار آواز گونجنے پر و بھاگ کر اپنے باپ کے قریب گئی ۔
ی ی یہ میرا دوست ہے بابا ، اس نے جھوٹ بولا وہ بات کو بڑھا کر یشم کے غصے کو ہوا نہیں دے سکتی تھی
ٹھیک ہے بیٹا ! مگر ؟ ایسے جاہلوں کو شادی میں بلانے کی ضرورت کیا تھی !
وہ شعلہ بار نگاہوں یشم کو گھورتا ایپرل کے بگل میں آ کھڑا ہوا۔
کیا کہا تم نے ؟؟؟ یشم اسکی جانب بڑھا ۔وہ آج سارے لہاظ بالائے طاق رکھ کر آیا تھا۔
یشم ن نہیں ! بابا پلیز اسے کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے ،
کیا کہا تم نے ؟؟؟یشم آنکھوں میں خون اتر آیا
اب جاہل کو جاہل نہیں کہیں گے تو اور کیا کہیں گے ، وہ اکڑ کر بولا
یشم نے غصے مٹھیاں بھینچی ۔ جبکے ایپرل کے ہاتھ پیر پھولنے لگے ۔
ییششم ؟ رک جائو کیا کر رہے ہو، تاتیانہ کی آواز پر اسے زیادہ حیرت نہیں ہوئی تھی ۔
یشم پلیز چلو یہاں سے بھول گئے؟ تم نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ! وہ چباتے ہوئے بولی
سوری ، سوری ایوری ون ! وہ اسکا کندھا تھامتی اسے باہر کی طرف کھنچنے لگی ۔
کیسی ماں ہو تم ڈھنگ سے پرورش بھی نہ کر سکی اپنی اولاد کی ، لے جائو اسے یہاں سے اسکی یہ غنڈہ گردی یہاں نہیں چلے گی !
اس شخص کا لہجہ یشم کو چابک کی طرح لگا تھا ۔ بس پھر کیا تھا اسکے صبر کا پیمانہ چھلکا اور وہ تاتیہ سے ہاتھ چھڑاتا ہوا آگے بڑھا اور پوری قوت سے گھونسا اس شخص کے جبڑے پر دے مارا ۔
بابا ! ایپرل فلک شگاف چیخ ہوا بلند میں ہوئی ۔
تاتیہ لبوں پر انگلیاں جمائے شاکڈ نظروں سے اس عمر دراز شخص کو دیکھ رہی تھی جو زمین پر گرا تڑپ رہا تھا
یہ ایشین گولڈ میڈلسٹ (باکسر) یشم الیم کے ہاتھ کا گھونسا تھا جس میں ہڈی ٹوٹنے کے ون ہنڈریڈ پرسنٹ چانسز تھے ۔
باسٹرڈ ! وہ نفرت سے بولا ۔ محبت جگہ لیکن اپنی عزت اسے سب سے زیادہ عزیز تھی ۔وہ تاتیہ کا ہاتھ تھامے باہر نکل آیا ۔
تم ٹھیک ہو تاتیہ؟ اور تم ؟ وہ اسکا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لئے باری باری ان دونوں پر نظر ڈالتے ہوئے بولا ۔ تاتیہ سر ہلا کر رہ گئی ۔
چلو ! وہ اسکا ہاتھ تھامے گاڑی میں بیٹھانے لگا۔
شرائے تیزی سے بیک سیٹ پر براجمان ہوئی ۔
تم نے یہ کیوں کیا یشم ؟؟ وہ اس عمر دراز شخص کے لیئے فکر مند نظر آنے لگی ۔
مجھ سے برداشت نہیں ہوتا کوئی میری ماں کی انسلٹ کرے ! وہ برہمی سے گہری سانسیں لیتا ہوا بولا۔
یشم ! تم لوگ گھر جائو مجھے کچھ کام ہے !
وہ بنگلے کے سامنے گاڑی روکتے ہوئے بول پڑا ۔
کہاں جارہے ہو اس وقت ؟؟
تاتیہ سے اسکی یہ حالت دیکھی نہ گئی ۔
آجائونگا فکر مت کرو ! انہیں اندر لے کر جائو تم!
وہ رخ موڑے شرائے سے مخاطب ہوا ۔ انہیں وہاں اتار کر گاڑی آگے بڑھا لے گیا ۔وہ ایک بار پھر سے اپنے معصوم بیٹے کے بے لوث محبت کرنے والے دل کو ٹوٹنے سے بچا نہیں پائی تھی ۔ تاتیہ افسوس سے آہ بھرتی اندر کی جانب بڑھ گئی ۔
******************************************
کسمساتے ہوئے اس نے پلکیں وا کیں تو خود کو صوفے پہ پڑا پایا ۔
میں یہاں کیسے آئی ؟ بڑبڑاتے ہوئے جھٹکے سے اٹھ بیٹھی ۔ یہ؟؟؟ کسکا ہے ؟
سینے پر پھیلے کوٹ سے مانوس سی خوشبو اسکے نتھنوں سے ٹکرائی ۔ اسے گزری رات کا ایک لمحہ بھی یاد نہ تھا ۔ اسے صرف اتنا یاد تھا کہ وہ ایمان کی باتوں سے اپ سیٹ ہو کر گھر سے نکلی تھی ۔
کون آیا تھا ؟ وہ اطراف میں نگاہ دوڑاتی ہوئی اٹھ بیٹھی ۔کمرے میں موجود ہر شے اپنی جگہ پر تھی ۔
ثنان؟؟ اسکے زہن میں خیال کودا ۔ ہاں وہی ہو سکتا ہے اسکے علاوہ کسی کو اس جگہ کی خبر نہیں تھی ۔ وہ رائے قائم کرتی ۔ کوٹ ہٹاتے ہوئے وہ اٹھ کھڑی ہوئی ۔ پانی کے چھنٹے منہ پر مارتے ہوئے اس نے خود کو آئینے میں دیکھا تو حیران سے رہ گئی ۔اسکی آنکھیں نمایاں سوزش کا شکار تھی ۔
کیسے ؟ اسکے لب ہلے ۔فون کی بیل پر وہ ٹاول سے منہ تھپتھپاتی باہر آئی ۔
ہاں ، ہاں بس آئی ! اسکے آفس سے کال تھی ۔ صبح کے دس بج رہے تھے وہ تین گھنٹے لیٹ تھی ۔ وہ تیزی سے بیگ میں سامان ٹھوستی باہر کی طرف بھاگی ۔
کچھ یاد آنے پر اس کے قدم رکے ۔
اور الٹے قدم لیتے ہوئے صوفے پر پڑا کوٹ اٹھایا اور داخلی دروازہ لاک کیئے ۔بھاگتے ہوئے مین روڈ کا رخ کیا ۔ہاتھ کا اشارہ کرتے ہوئے اس نے ٹیکسی روکی ۔ اور ایڈریس سمجھاتے ہوئے بیک سیٹ پر براجمان ہوئی ۔ اسے پہنچتے میں پندرہ منٹ درکار تھے ۔ وہ تیزی سے پیر ہلاتی انتظار میں تھی ۔پھر کچھ سوچ کر فون نکالا اور
‘تھینکس’ لکھ کر ثنان کو سینڈ کردیا ۔
فار واٹ ؟؟؟ اسے لمحوں میں جواب موصول ہوا ۔
حد ہے ! وہ مسکرائی ۔
جانتی تھی وہ احسان کرنے کے بعد جتانے کا عادی نہیں تھا ۔
فار ایوری تھنگ ثنان! ٹائپ کیا اور اسکے نمبر پر سینڈ کردیا ۔
******************************************
لبوں پر گلوز لگاتے ہوئے اس نے خود پر ایک حتمی نگاہ ڈالی ۔ سنہرے بال ، برائون آنکھیں ، مسکارے سے سنوری پلکیں ، لمبی ناک ، گلابی ہونٹ وہ کسی ہالی وڈ کی حسینہ سے کم تھی کیا ۔ اس نے مسکراتے نے سوچا۔ اور بیگ اٹھا کر باہر آگئی ۔
کہاں چلی آپ کی شاہی سواری ؟ نبیشہ میگزین سے زرا نظریں ہٹا کر اسے سر تا پا دیکھتی ہوئی بولی ۔
شاپنگ ، سلون ! وہ کچن میں گھسی اور فریزر میں جھانکنے لگی ۔
وجہ ؟ وہ سرسری سا پوچھتی پھر سے مصروف نظر آنے لگی ۔
ہمارے ایگزام ختم ہوگئے ہیں ،ہم فارن جارہے ہیں اس سے بڑی وجہ اور کیا ہو سکتی ہے
ایمان پانی کا گلاس منہ سے لگاتی عام سے انداز میں بولی ۔
رومی سے پوچھا تم نے ؟
وہ میگزین لپیٹ کر ایک طرف رکھنے لگی ۔
بس ہاں بس ! یہ رومی نامی بلا کو بھول بھی جائو اب ! بس کردو ‘ہمیں’ نہیں تو کم از کم ‘مجھے’ میری زندگی اپنی مرضی سے جینے دو نبیشہ پلیز !
وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولی ۔ ا
ب چلو بھی ! وہ اسے پھر سے میگزین کھنگالتا دیکھ کر چیخی ۔
کہاں؟ اس نے ابرو اٹھایا ۔
کہاں کیا مطلب ! تم نہیں چل رہی میرے ساتھ ؟ ایمان منہ بسورتے ہوئے بولی ۔
پوچھ رہی ہو یا بتا رہی ہو ؟ وہ طاہرانہ انداز میں بولی ۔ ٹھیک ہے تمہاری مرضی مت جائو ! وہ ہار مانتے ہوئے بولی ۔ اچھا ٹھیک ہے ! تم رکو میں اپنا بیگ لے کر آتی ہوں ! وہ کچھ سوچتے ہوئے بولی ۔جانتی تھی بلا کی ضدی ہے جاکر ہی دم لے گی پھر وہ اسے اکیلے نہیں جانے دے سکتی تھی ۔ مجبورا اسکے ساتھ جانا پڑا ۔
جلدی آنا ! ایمان نے پیچھے سے ہانک لگائی ۔ اسکے پیر خوشی سے زمین پر نہیں پڑ رہے تھے ۔ اٹلی جانا بھلا کوئی چھوٹی بات تھی ۔ لوگ ایڑیاں رگڑتے رہ جاتے مگر انہیں ویزا نہ ملتا ۔ اور پھر اسکی خوش قسمتی تو دیکھو اسے اسکالر شپ ملی تھی ۔ یعنی اپنے کریئر بنانے کا ایک سنہری موقع ۔ جو وہ کسی صورت ہاتھ سے جانے دینا نہیں چاہتی تھی ۔
******************************************
آفس سے شام میں اس نے ثنان کی طرف جاکر اسکا شکریہ ادا کرنے کا سوچا۔ آخری نوالہ اس نے جلدی سے منہ میں ڈالا اور پانی کے گلاس کے ساتھ ٹیبلٹ نگلی ۔ اور کینٹین سے نکل آئی ۔
اسے کال کرکے کرکے پوچھ لیتی ہوں ،شاید آفس میں نہ ہو اس نے سوچا ۔ اور اسے کال ملانے لگی ۔ مگر اسکا فون سوئیچڈ آف جارہا تھا
اس نے مایوسی سے فون بیگ میں رکھا اور ٹیکسی میں بیٹھ گئی ۔آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ اسٹیشن پہنچی ۔
ابھی سوچ ہی رہی تھی کہ اندر جائے یا نہ جائے ۔ اسے ثنان آتا دکھائی دیا ۔
ثنان ؟؟؟ اس نے ہانک لگائی ۔
وہہووو، وٹ آ پلیزنٹ سرپرائز ! تم یہاں ؟
وہ مسکراتے ہوئے اسکی طرف آیا ۔
ہاں میں تم سے ملنے آئی تھی اور ،
ریئلی ؟ وہ اسکی بات کاٹ کر حیرانی سے بولا ۔
ہاں یہ کوٹ لوٹانا تھا تمہیں !
ثنان چلو یار ! احمد چلایا ۔
آیا ! وہ رخ موڑتے ہوئے بولا ۔
یہ کوٹ میرا نہیں ہے ، لیکن میں اسے پہچانتا ہوں ! وہ ایک نظر کوت پر ڈالتا ہوا بولا ۔
کیا مطلب ؟ یہ تمہارا نہیں ہے وہ حیران ہوئی ۔
آئی تھنک یہ ہمارے چیف کا ہے !لیکن یہ تمہارے پاس کیسے آیا ؟ اس نے گویا رومیصہ کے سر پر دھماکا کیا۔
ثنان ! احمد پھر سے چلایا ۔
خیر چھوڑو ، چیف ابھی گئے نہیں ہیں مطلب ابھی آفس میں ہی موجود ہیں تم چاہو تو انہیں یہ لوٹا سکتی ہو ، میں ابھی تھوڑا جلدی میں ہوں پلیز برا مت ماننا مجھے جانا ہوگا ! وہ معذرت کرتا ہوا روانہ ہوگیا ۔
اور وہ شاکڈ سی گاڑی سے پشت ٹکائے خود کو سہارا دینے لگی ۔
وہ وہاں آیا تھا ؟ اسے کیسے پتا چلا اس جگہ کے بارے میں ؟؟؟ نہ جانے وہ اور کیا کیا جان گیا ہوگا اسکے بارے میں ؟ ایسے کئی سوال اسکے زہن میں اٹھے ۔ اس نے بیگ سے پین سے اور نوٹ بک نکالی اور اس پر تھینکس لکھ کر بیگ میں واپس رکھنے لگی ۔
مگر ! وہ رکی ۔ شکریہ کس بات کا ؟؟؟؟
کس بات کا شکریہ ادا کرتی وہ ۔ اس بات کا کہ اس نے ایک تمام رات اسے حولات میں رکھا ؟؟؟
ہونہہ ! اس نے ہنکارا بھرا ۔ اور ساتھ ہی لکھی گئی چٹ مٹھی میں بھیچی ۔
ایکسکیوزمی ؟ اندر جاتے شخص کو آواز دے کر بولی ۔
یہ شاید آپ کے کسی آفیسر کا ہے غلطی سے میرے پاس آگیا تھا پلیز اسے لوٹا دیں ! وہ شخص اثبات میں سر ہلاتا اسکے ہاتھ سے کوٹ لیئے اندر کی بڑھ گیا ۔
اس نے غم و غصے سے مٹھی میں دبا کاغذ ایک طرف پھینکا اور بیگ سنبھالتی آگے بڑھ گئی ۔
تیسری منزل پر نسب گلاس وال کے اس پار اطہر کاظمی نے یہ تمام مناظر اپنی آنکھوں سے دیکھے ۔ وہ سر جھٹکتے ہوئے وہاں سے ہٹا اور کچھ سوچتے ہوئے مسز کاظمی کا نمبر پش کرنے لگا۔
ہیلو مام ؟ کیسی ہیں آپ ؟ ڈسٹرب تو نہیں کیا ؟ میں آپ سے رومیصہ عثمان کا کیس ڈسکس کرنا چاہتا ہوں آپ کو بتایا تھا نا میں نے؟
ٹھیک ہے ڈنر پر آپ اسکی تمام رپورٹس لے آئیے گا میں تفصیل سے جاننا چاہتا ہوں سب کچھ ۔!
ہممم ٹھیک ہے سی یو ! فون کان سے ہٹاتے ہوئے اس نے ٹیبل پر رکھا ۔ اور گلاس وال کے پار ڈھلتی شام کو دیکھنے لگا ۔
******************************************
کیسی لگ رہی ہوں؟؟
وہ متاثرہ نگاہوں سے خود کو آئینے میں دیکھتی ہوئی بولی ۔
خود دیکھ لو ! نبیشہ سرسری سی نگاہ اس پر ڈالتی لیپ ٹاپ میں مصروف نظر آنے لگی ۔
ایک تو تم ہر وقت شکل پر بارہ بجائے رکھتی ہو، تھکتی نہیں ہو کیا ! وہ اکتائی ۔
ایمان ہم پڑھنے جارہے ہیں نہ کہ فیشن شو میں ! وہ جیسے اسے یاد دلانے لگی ۔جب سے وہ لوگ شاپنگ سے آئے تھے ایمان تمام او جلول کپڑوں کو پہن پہن کر دیکھتی اسے غصے دلا رہی تھی ۔
تمہیں کیا ہے ؟ ہاں تم دونوں بہنوں سے میری خوشی برداشت نہیں ہوتی ناں ؟ خود تو تم دونوں دکھی روحوں کی طرح زندگی گزار رہی ہو ، نہ کوئی مزے کرتی ہو ، نہ کوئی ایڈونچر کیسی بد مزہ زندگی گزار رہی ہو ! وہ پھٹ پڑی ۔
معاف کرو بی بی نہیں چاہیئے ایسے ایڈونچر ! نبیشہ سے ناک سے مکھی اڑائی اور فلور پر بکھرے کپڑوں کو عجیب نظروں سے دیکھنے لگی۔
اوہ ہیلو ، میرے کپڑوں کے بارے میں کچھ مت کہنا ! وہ ہتھے سے اکھڑی ۔
تمہارے کپڑے اس قابل ہیں بھی نہیں کہ اسکے بارے میں کچھ کہا جائے ! وہ بھی نبیشہ تھی اپنے نام کی ایک۔
ایمان اسے گھوری سے نوازتی کپڑے سمیٹنے لگی ۔
کیا ہو رہا ہے ؟ رومیصہ داخلی دروازے کے قریب شوز اتاری ہوئی بولی ۔
ارے آ گئی تم ؟ کچھ نہیں بس ہم زرا سردیوں کی شاپنگ پر گئے تھے ! نبیشہ اصل بات چھپا گئی ۔وہ اسے بتا کر دکھی نہیں کرنا چاہتی تھی ۔
ہاں میں نے بھی سنا ہے اٹلی میں بہت سردی ہوتی ہے ! ایمان کہاں باز رہنے والی تھی ۔
تو تم لوگوں کا آخری فیصلہ ہے یہ؟؟؟ رومیصہ نے باری باری دونوں پر نگاہ ڈالی ۔
رومی ہم ، افکورس اور تمہیں کیا لگتا ہے کہ ہم تمہاری سٹوپڈ انسکیورٹی کی وجہ سے یہ موقع ہاتھ سے جانے دیں گے ! ایمان ہمت جٹا کر بول پڑی ۔ آج یا آر یا تو پار ہو ہی جائے اس نے سوچا ۔
جبکے نبیشہ کو اسکا لہجہ سخت برا لگا ۔
ٹھیک ہے ! اسکی فکر اور پریشانی کو ‘اسٹپڈ انسکیورٹی ‘ کا نام دینا اسکے دل کو چھلنی کر گیا۔ وہ اور کیا ہی کہتی اپنا بیگ اٹھا کر اندر کی جانب بڑھی ۔
رومی کھانا ، مجھے بھوک نہیں ہے اسکی پوری بات سنے بغیر کہتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔
تمہاری بہت زبان چلنے لگی ہے ایمان ! وہ بھڑکی ۔
اسی میں تو ایڈونچر ہے ! وہ آنکھ دبا کر بولی ۔
تمہارے یہ ایڈونچر کسی دن ہماری جان لے لیں گے ! وہ چبا چبا کر کہتی لیپ ٹاپ اٹھائے وہاں سے واک آئوٹ کر گئی۔ جبکے اپنی زبان پر تعجب تو ایمان کو بھی تھا کیسے قینچی کی طرح چلنے لگی تھی۔ خیر رومیصہ کی خاموشی میں ہی اسکی رضا مندی تھی اسے سوچا اور کپڑے اٹھائے واڈروب میں سجانے لگی ۔
