The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode03
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode03
The Dark by Uzzai Zehan Episode03
ROME | ITALY | – | CENTEREL HOSPITAL |
خون بہت بہہ چکا ہے ایلین ہمیں جلد از جلد خون کی ضرورت ہے !
وہ او ٹی سے پیشانی رگڑتی باہر آئی ۔
ہوجائے گا ، ہر چیز کا انتظار ہوجائے گا بس باس کو کچھ نہیں ہونا چاہیئے ! وہ فورا سے پہلے بولا۔
اچھا ٹھیک ہے تم بلڈ کا انتظام کرو ! جلدی
وہ اسکا کندھا تھپتھپاتی باہر نکل گئی
اور ملک کی اگلی ایک فون کال پر آدھے گھنٹے میں ‘خون’ حاضر تھا ۔وہ ویٹنگ روم میں آکر تھکے ماندے شکستہ حال سا سیٹ پر گرا ۔اور پشت سے سر ٹکا لیا ۔ تبھی ایک نا معلوم سا شور اٹھا اور چونک کر کھڑکی کے پردے سرکاتا نیچے کا جائزہ لینے لگا ۔
ایلین ؟؟؟؟
ایلین نہیں ‘عالیان’ ، اس نے چڑ کر ڈاکٹر سیانا کو ٹوکا جو ہمیشہ ہی اسکا نام غلط pronounce ‘ کرکے نام کا حشر نشر کردیا کرتی تھی ۔ وہ پردے برابر کرتا مڑ کر اسے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھنے لگا ۔ جبکے اسکے چہرے کا اڑا رنگ اسے کوئی اور ہی کہانی سنا رہا تھا ۔ملک کے دماغ میں خطرے کی گھنٹیاں بجنے لگیں
ں ن ننہیں نہیں ! وہ چیختا ہوا بجلی کی رفتاری سے او ٹی کی جانب بھاگا ۔ جہاں ایک خالی اسٹریچر نے اسکا استقبال کیا ۔بحرام وہاں سے غائب تھا ۔
ایسی حالت میں وہ خود تو چل کر جانے سے رہا اصل پریشانی کی بات تو یہ تھی ۔ملک نے لُٹے پٹی حالت میں لڑکھڑاتے قدموں کو پیچھے کی جانب دھکیل کر دیوار کا سہارا لیا ۔ اور دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا ۔
ک کہاں گیا بیرو؟؟؟ وہ ازحد پریشان لہجے میں بولی ۔ سِسیلین ، ملک کے لب پھڑپھڑائے۔
سِسیلین اٹھا لے گئے انہیں ! وہ آہستگی سے بولا اتنا آہستہ کہ سیانا بمشکل اسے سن سکی ۔
اب کیا ہوگا ؟؟؟ وہ صدمے سے چور اسٹریچر کا سہارا لیتی ہوئی بولی ۔
جبکہ وہ سن ہی کہاں رہا تھا اسکی دماغی صلاحیتیں جیسے جیسے پھر سے کام کرنا شروع ہوئیں اس نے گھڑی میں وقت دیکھا ۔ جو صبح کے پانچ بجنے کا پیغام دے رہی تھی ۔دو بجے انکے جہاز آنے والے تھے ۔ اس نے دیبورہ کے زمے کام لگایا تھا کو مکمل کرنے کے بعد ‘اسے’ ملک اطلاع دینی تھی ۔ جو اس نے ابھی تک نہیں دی تھی ۔اس کے ہاتھ پیر پھولنے لگے ۔ جلدی سے فون نکال کر چیک کیا اسکی بیٹری ڈیڈ ہوچکی تھی ۔
ڈیم اٹ ! اس نے طیش سے فون دیوار دے مارا اور برق رفتاری سے بھاگتے ہوئے گاڑی کا رخ کیا ۔آج پندرہ کی مسافت بھی اسے طویل صدیوں کے برابر لگ رہی تھی ۔
جب وہ جزیرے پہنچا تو ایک اور بری خبر اسکا انتظار کر رہی تھی ۔
دیبورہ ؟؟؟ وہ سوکھے کی پتے کی مانند لرز رہی تھی ۔
دیبورہ؟ ملک نے پھر سے اسے پکارا ۔
ہا ہاں ؟ وہ چونکی اور اسے دیکھ کر تیزی سے اسکی طرف آئی ۔ اسکے چہرے سے صاف واضع تھا کچھ تو ہوا ہے ۔ہمارے جہاز تب تباہ ہوگئے ! کہتے ساتھ ہی وہ رودی ۔
بحرام کی فیملی اسکے زمہ تھی ۔ جو اس نے نبھائی بھی ۔ مگر !
ملک نے زوروں سے مٹھیاں بھینچتے ہوئے خود کو کچھ انتہائی کرنے سے روکا ۔
آ آ اب ہم کیا کریں گے ملک ؟ وہ بے طرح سے روتی خود کو مورد الزام ٹھہرانے لگی ۔
سوال یہ نہیں کہ ہم کیا کریں گے دیبورہ اب سوال یہ ہے کہ باس انکے ساتھ کیا کرتے ہیں ! کہتے ہوئے اس نے گن میں گولیاں لوڈ کی اور اسکی جانب بڑھائی ۔
کیا مطلب؟؟ دیبورہ نے چونک کر سر اٹھایا اور اسکے بڑھے ہوئے ہاتھ کو دیکھا۔
مطلب یہ کہ سسیلین باس کو ‘بھی ‘ اٹھا لے گئے ہیں ! اور یہ بھی انہی کی کرتوت ہے
اس رکھو اپنے ساتھ دفاع کے لئے ! ساتھ ہی گن اسکے ہاتھ میں دی ۔
میں سمجھی نہیں ! وہ الجھن کا شکار ہوئی ۔
سمجھنے سمجھانے کا وقت نہیں ہے دیبورہ ، میری بات دھیان سے سنو ہمارے سارے بپ ، کسینو، ہاسپٹل ،ریسٹورنٹ حتی کہ ایئرلائنز،
سب بند کروادو ، اور کوئی بھی نیوز چینل یا سوشل ایکٹیوسٹ ، سرکاری افسران کو صرف اتنا جواب دو کہ ہم ‘لورڈ’ (علی زمان) کے قتل کی وجہ سے یہ سوگ تین دن تک جاری رکھیں گے ! سمجھ گئی؟؟
وہ پوری آب و تاب سے اسے سنتی ہاں میں ہاں ملانے لگی ۔ آ اور فی فیملی ؟باس ؟ انکا کیا ؟
ہم انہیں کیسے بچائیں گے؟
اسکے دماغ میں شدت سے سوال گردش کرنے لگا۔
انہیں بچانے کے لئے باس خود ہی کافی ہیں ، تم اپنا کام کرو اور مجھے بھی کرنے دو !
وہ اسکے سوالوں سے عاجز آنے لگا ۔
دیبورہ ایک نظر اس پر ڈال کر تیزی سے آئی پیڈ پر انگلیاں چلاتی وہاں سے غاِب ہوگئی۔
اگر کسی کو بھی کچھ ہوا تو میں اس شہر میں تباہی مچا دونگا ! وہ بڑبڑاتے ہوئے تیزی سے اٹھا اور میٹنگ روم کا رخ کرنے لگا اسے بہت سارے کام نپٹانے تھے ۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
جی دادی !
وہ فون کان سے لگائے اپنے آفس میں داخل ہوتے ہوئے چیزیں سمیٹنے لگا
جی جی بس نکل رہا ہوں ! جی لے آئونگا !
وہ عجلت میں ٹیبل سے چابی اٹھاتے ہوئے ۔ کائونٹر پر مطلوبہ فائل دینے لگا
یہ ثنان سے کہنا اسٹڈی کرنے کے بعد میرے گھر پہنچا دے ! شیور چیف ! وہ حکم کی تعمیل کرتی فائلیں اٹھانے لگی ۔ وہ تیزی سے باہر نکل گیا ۔ آج اسکی دادی کی ویڈنگ اینیورسری تھی اور اسے کسی بھی حالت میں انکا فیورٹ گفٹ کیک لیئے وقت پر گھر پہنچنا تھا ۔ گفٹ لینا وہ بھول گیا تھا مگر کیک لینا اس نے ضروری سمجھا۔ کیک لیئے وہ ریش ڈرائیونگ کرتے ہوئے گھر پہنچا
میں لیٹ تو نہیں ہوگیا نا ؟؟؟ کیک کائونٹر پر رکھتے ہوئے اس نے مدھم لہجے میں نہ جانے کس سے سوال کیا ۔ کیونکہ وہاں کوئی موجود نہیں تھا
بلکل نہیں بھائی ! اوپر آجائیں آج ڈائیننگ ٹیبل اوپر لگایا ہے دادی کی فرمائش پر !
ایمل ریلنگ سے نیچے جھانکتی کسی بھوت کی طرح اپنی بات مکمل کرتی غائب ہو چکی تھی
وہ کیک فریزر میں رکھنے کے بعد فریش ہونے کمرے میں چلا آیا ۔ شاور لینے کے بعد اس نے ڈھیلی ڈھالی بلیک شرٹ اور جینز پہنی اور بال سنوارنے کی زحمت نہیں کی تھی ۔ کیک اٹھائے وہ ٹیرس پر آگیا۔ نومبر کی ٹھیک ٹھاک سرد موسم تھا ۔مگر دادی اور انکی انوکھی فرمائشیں وہ مسکرا کر سر جھٹکتا آگے بڑھ گیا
سلام بیوٹیفل لیڈیز ! وہ مشترکہ سلام کیئے انکے درمیان بیٹھ گیا
واللہ دادی کسی ظالم حسینہ سے کم نہیں لگ رہی آپ ! اگر دادا ہوتے تو یقیننا آپ سے ایک بار پھر شادی کرنے کی ڈیمانڈ کرتے
چل شریر کہیں کا ! زینب بیگم اسکی باتوں پر جھینپی
وہ ہمیشہ ہنس مکھ اور زندہ دل رہنے والی خاتوں تھی ۔ حالانکہ انکا شوہر کئی برس پہلے اس دنیا سے رخصت ہوچکا تھا مگر وہ انکی یاد میں ہمیشہ یہ دن سیلیبریٹ کرتیں انکی پسند کے کھانے بناتی ،کجا کہ روایتی عورتوں کی طرح رونا دھونا چھوڑ کر
مما کہاں ہیں ؟ وہ بلون سیٹ کرتی ایمل سے سوال کرنے لگا
کچن میں ہونگی ! وہ مصروف سے انداز میں بولی
وہ اٹھا اور کچن کی جانب بڑھ گیا
ہیلو مسز کاظمی ! وہ خوشدلی سے گویا ہوا
آگیا میرا شہزادہ ! وہ اسے دیکھ کر مسکرائی
شہزادے صاحب تو آ چکے ہیں مگر آپکا دسترخوان ریڈی نہیں ہوا ؟ بہت بھوک لگی ہے ! وہ بے صبری سے آنکھیں مٹکانے لگا
بلکل ریڈی ہے میری جان ! وہ کھلکھلا کر ہنس پڑی
بابا نہیں آئے ؟ وہ انہیں نہ پاکر پوچھنے لگا
نہیں بیٹا ! انہیں آفیشل میٹنگ سے جانا پڑا ! ضروری تھی اسلئے میں اسرار نہ کر سکی ورنہ میں روک لیتی انہیں ! ہممم ! وہ پر سوچ سر ہلانے لگا حالانکہ اسے یہ بات کچھ جمی نہ تھی
تم یہ ڈشز ایمل کے ساتھ ٹیبل پر لگائو میں زرا فریش ہو کرآتی ہوں ! وہ ساتھ ہی ایمل کو آواز لگاتی
سیڑھیاں اتر گئی
ایمل کی گہری نگاہوں سے بے خبر وہ خاموشی ڈشز اٹھائے ٹیبل پر سجانے لگا۔ ایمل نے نوٹ کیا تھا وہ ڈیلی روٹین کے مقابلے میں آج کچھ چپ چپ تھا
سین آن ہے ؟ آں ! وہ شوخی سے اسے کہنی مارتی ہوئی بولی
کیا مطلب ؟ کونسا سین ؟ اطہر نے بھنویں اچکائیں
بڑے چپ چپ ہو آج ضرور کوئی بات ہے وہ گنگنائی
اطہر اسکے انداز پر مسکرائے بغیر نہ رہ سکا
آں ہاں ! مسکرائے بھی ؟؟؟ وہ لہراتے ہوئے اسکے راستے میں آئی
اب تو پکا کوئی بات ہے ؟؟؟ وہ بھی کہاں ہار ماننے والی تھی
دور ہٹو! اطہر اسے گھور کر رہ گیا
کہیں محبت تو نہیں ہوگئی بھائی ! وہ جانچتی نگاہوں سے سوال کرتی کھلکھلائی۔ اطہر خاموشی سے کھانے کی ٹرے اٹھائے ٹیبل تک لے جانے لگا
ہے نا ؟ ہے نا ؟ ہے نا؟ وہ ابرو اٹھائے تصدیق چاہنے لگی ۔ اطہر اسکے سوالوں کا عادی ہوچکا تھا ۔ سو وہ خاموشی سے منہ پر نو لفٹ کا بوڑد لگائے مصروف نظر آنے لگا
کیا نام ہے اسکا؟ کہاں رہتی ہے ؟ کیسی دکھتی ہے ؟
وہ رازداری سے ابرو اٹھائے نان اسٹاپ بولنے میں مصروف تھی
کون کیسی دکھتی ہے ؟ مسز کاظمی انکی گفتگو میں حصہ ڈالا
چہ بھا بھی اور کون! کب سے پوچھ رہی ہوں لیکن مجال ہے بھائی بتا دیں ، وہ ہار مانتے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی ۔تو تم وہ سوال کیوں پوچھتی ہو جن کے جواب میرے معصوم بیٹے کے پاس نہیں ہیں ! مسز کاظمی سمجھ چکی تھی انکی گفتگو کا محور
اللہ اللہ ! بہت ہی معصوم ہے آپکا بیٹا ایمل کو صدمہ ہوا ۔اطہر نے بمشکل لب دبائے
جلنے کی بو آرہی ہے ! وہ چڑانے کے سے انداز میں بولا۔ ہونہہ ! ایمل برا سا منہ بنا کر رہ گئی ۔ کھانا کھانے کے بعد انہوں نے کیک کاٹا۔ اور خاندان کی خوشحالی کے لیئے ڈھیروں دعائیں مانگیں
بس اب مجھے اس گھر میں بچے کی کلکاریاں سننی ہیں ! دادی نے آخر کا ایمل کے دل کی کہی
ہوں ہوں ! ایمل نے شوخی سے اسکے کندھے پر کہنی ٹکائی ۔
جیسے کہہ رہی ہو ‘ ہاں اب بتائو , بچ کر کہاں جائو گے !
وہ خاموشی سے سینے پر ہاتھ جمائے انکی رواداد سننے لگا۔ بولو بھی ! اگر تمہیں کوئی پسند ہے تو ٹھیک ورنہ !میں ایک چاند سی لڑکی ڈھونڈو گی اپنے پوتے کے لیئے !
دادی اسکی بلائیں لینے لگی
واہ دادی چاند سی بہو ! ہاں؟ دھیان سے کہیں آپکا سورج سا پوتا جلا کر راکھ نہ کردے بے چاری کو !
وہ اپنی بات کہتے ہی کھلکھلا کر ہنس پڑی
بکو مت ! اطہر برا سا منہ بناتے ہوئے بولا
چلو جائو ! سوجائو تمہیں صبح کالج بھی جانا ہے !
وہ اسکی ٹیل پونی کھینچتے ہوئے بولا
کیا ہے نا؟ مجھے بھی سننا ہے بھابھی کے بارے میں
وہ چڑتے ہوئے اپنے بال چھڑانے لگی
سنا نہیں تم نے دادی نے کیا کہا ‘ چاند سی ہوگی میری بیوی !چاند سی وہ شوخی سے بولا
طوبہ طوبہ !
وہ ڈرامائی انداز میں کانوں کو ہاتھ لگاتے ہوئے سیڑھیاں اترنے لگی ۔ اطہر کھلکھلا کر ہنس پڑا
پتا ہے میں کیا کہتی ہو ! وہ کچھ یاد آنے پر واپس آئی ۔ شادی وادی کو رہنے دیتے ہیں کیوں کسی معصوم کو گھر کم اور ‘ٹارچر سیل ‘ میں بیاہ کر لانا ، یہ انکے ہزبنڈ کم اور تفتیشی آفیسر زیادہ ہونگے کہاں سے آئی ہو ؟ کہاں جائوگی؟ کیا کھاتی ہو؟ کیا پہنتی ہو؟ یہ مت کرو؟ وہ مت کروہ ؟ مجھے یہ پسند نہیں ؟ مجھے وہ پسند نہیں؟ بے چاری کی آدھی زندگی تو ان سوالوں کے جواب دیتے ہی گزر جائے گی ! وہ نان اسٹاپ کسی ریموٹ سے چلنے والے کھلونے کی طرح شروع ہوچکی تھی
وہیں رکو تم زرا ! اطہر بمشکل لب دباتا ہوا اسے کی طرف بڑھا ہی تھا کہ
وہ ‘ سچ تو کہہ رہی اس میں جھوٹ کیا ہے ‘ چلاتی ہوئی نیچے کی طرف بھاگی
اطہر ؟؟ مسز کاظمی کی آواز پر اسکی ہنسی کو بریک لگی ۔ کیا خیال ہے پھر تمہارا ؟؟ وہ سنجیدگی سے گویا ہوئی ۔ کس بارے میں مام ؟ وہ جان بوجھ کر انجان بنا
شادی کے بارے میں ! وہ نرمی سے گویا ہوئی
مام ! وہ انکا ہاتھ تھامتے ہوئے انکے قریب بیٹھ گیا
میں ابھی مینٹلی کسی بھی رشتے میں بندھنے کے لیئے تیار نہیں ہوں ! جب مجھے کوئی پسند آئی گی ، یا میں مینٹلی ایزی فیل کرونگا میں آپکو بتا دونگا ۔ ہممم ؟
پکا؟؟؟ وہ مطمئن انداز میں مسکرائی
پکا! اس نے آنکھیں میچے زور سے اثبات میں سر ہلایا
مسز کاظمی اسے اندز پر کھلکھلائی ۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
گھڑی دن کے آٹھ بجا رہی تھی ۔ وہ کئی بار اسکا نمبر پش کرتے کرتے ہاتھ روک لیتی ۔ مگر اور کوئی چارہ نہیں تھا اسکے سوا ۔ اس نے نمبر پش کرتے ہوئے کان سے لگایا اور اسٹڈی ٹیبل سے چیزیں سمٹتنے لگی
ہیلو ؟کون؟ خمار آلود اسکے کانوں سے ٹکرائی ۔ ایک پل کو اسکا دل کیا کال کاٹ دے مگر ہمت جٹا کر بول پڑی ۔ رومیصہ !
تم ؟ وہ مارے حیرت کے بیڈ سے تقریبا اچھلا
تمہیں ڈسٹرب تو نہیں کیا؟؟؟ وہ مدعے پر آئی
ایسا ہو سکتا ہے بھلا ! وہ سوال پر سوال کرنے لگا
تم سے ایک ہیلپ چاہیئے تھی ! ثنان ! وہ جھجکی
آں ہاں ! حکم ؟ وہ شاہانہ انداز میں بولا
ایسے نہیں ، اسے اپنا مسلہ بیان کرنے کے لیئے لفظ نہیں مل رہے تھے
تو پھر کیسے؟ وہ جھٹ سے بولا
یعنی تم مل سکتے ہو کہیں باہر! اگر فری ہو تو !
وہ شرمندہ سی ہونے لگی ابھی کل کی ہی تو بات تھی وہ ملے تھے اور اب اس سے مدد مانگا اسے عجیب سا لگ رہا تھا
شیور ! میں آفس سے فری ہوتے ہی لوکیشن شیئر کرونگا تم وہاں آجانا! پھر بات کرتے ہیں !
وہ سمجھ چکا تھا اسے کیا مدد چاہیئے تھی ۔ اور وہ خوشدلی سے اسکی تمام پریشانیاں حل کرنا چاہتا تھا۔ تھینک یو ثنان! وہ مشکور تھی اسکی
نیور مائنڈ ! بے تکلفی سے کہتے اس نے فون بند کر دیا
کتنا بے لوث اور رحم دل انسان ہے ۔ وہ فون کی سیاہ اسکرین کو گھورتی ہوئی سوچنے لگی
نبیشہ اور ایمان کو جگانے کے بعد اس نے آفس کا رخ کیا۔ اسکا کام تقریبا مکمل ہونے کو تھا جب ثنان کا پیغام موصول ہوا ۔ وہ اسے کھڑکی کے قریب آنے کا کہہ رہا تھا
وہ حیرت بھری نگاہوں سے پیغام کو دیکھتے ہی کرسی پرے دھکیلتی کھڑکی سے نیچے جھانکنے لگی
وہ اپنے گھاڑی میں موجود اسے دیکھ کر مسکراتے ہوئے ہاتھ ہلانے لگا
رومیصہ سر تھام کر رہ گئی ۔ تیزی سے چیزیں سمیٹتے ہوئے وہ گاڑی میں آ بیٹھی ۔اسکے بیٹھتے ہی وہ گاڑی آگے بڑھا لے گیا
ہم کہاں جارہے ہیں ؟؟ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکی
آپ کی مطلوبہ جگہ پر ! وہ مزے سے بولا
ک کیا مطلب ؟ تمہیں کیسے پتا ؟ مجھے کہاں جانا ہے ! وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی
تم قیدیوں کا ریکارڈ چیک کرنا چاہتی ہو رائٹ ؟ وہ اسکی حالت سے محفوظ ہوتا مزے بولا
ہاں بلکل ! وہ فورا بولی
ہم میرے ڈپارٹمنٹ جا رہے ہیں ، وہاں کمپیوٹر ریکارڈ تو نہیں مگر فائلز موجود ہیں ہزاروں کی تعداد میں تمہیں انہی میں سے تلاشنہ ہوگا کرلوگی ؟؟؟ وہ تفصیل بتانے لگا۔ ہممم مجھے کوئی پرابلم نہیں ! وہ مضبوط لہجے میں بولی ۔وہ توقع کے عین مطابق جواب ملنے پر مسکرایا
گاڑی آسمانوں سے باتیں کرتی ایک خوبصورت طرز کی عمارت کے سامنے رکی ۔وہ گاڑی پارکنگ میں کھڑی کرنے کے بعد اسکی طرف آیا
ایک بات سنو یار ! وہ کنپٹی کھجاتا ہوا مضطرب انداز میں گویا ہوا
کیا ہوا کوئی پرابلم ہے ؟ وہ نا سمجھی سے گویا ہوئی
آں ہاں ! مطلب نہیں ! دیکھو ! چیف اس وقت جا چکے ہونگے میں آفیشل کیس پر ہوں اسلیئے آج رات یہی ہوں ،میں نے سوچا تمہاری ہیلپ کردوں ! آئوٹ سائیڈرز کو یہاں آنا آلوئوڈ نہیں ہے ، اسلئے محتاط رہنا جسٹ میک شیور کہ تم چیف کی نظروں میں نہ آئو ، ویسے تو وہ جا چکے ہونگے لیکن پھر بھی تم محتاط رہنا ورنہ میرے لیئے پرابلم ہوجائے گی !واللہ انکی نظریں انکے سوالوں سے زیادہ خطرناک ہیں ! وہ محتاط انداز میں دائیں بائیں دیکھتا لفٹ کا بٹن دبانے لگا
رومیصہ سمجھتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگی
لفٹ تھرڈ فلور پر آرکی
سامنے ایک لمبی سی گلی نما راہداری میں کئی کمرے تھے ۔ میرا آفس فورتھ فلور پر ہے ۔ وہ سامنے رائیٹ سائیڈ پر ففتھ روم میں تمام فائلز رکھی ہیں !
وہ راہ داری کی طرف اشارہ کرنے لگا
تھینکس ! وہ واقعی اسکی شکر گزار تھی
پلیزر ! وہ کندھے اچکاتا ہوا لفٹ میں داخل ہو گیا
ثنان ؟؟ اس نے کچھ سوچتے ہوئے اسے پکارا
ہممم؟؟؟ وہ رکا
اگر میں پکڑی جائوں تو تم کہنا تم مجھے نہیں جانتے !
وہ عام سے انداز میں بولی ۔ جبکہ ثنان حیرت غش کھا کر گرنے کو تھا
ہے ہے ؟؟؟ اس سے پہلے وہ کچھ کہتا لفٹ اوپر کی طرف سلائیڈ کر گئی ۔وہ تیزی سے اطراف میں نظر گھماتی مطلوبہ کمرے میں داخل ہوگئی
باپ رے باپ ! وہ سر اٹھائے پریشان سے بڑے بڑے ریک میں رکھی فائلوں کو دیکھنے لگی ۔ وسیع کمرہ تمام تر فائلوں سے بھرا پڑا تھا۔وہ کیسے اتنا سارا ریکارڈ چیک کرے گی ۔ اسے نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا
2015 ! ہاں جس سال بابا کی ڈیتھ ہوئی وہاں سے اسٹارٹ کرتی ہوں !
فائنلی اسکا دماغ کام کرنا شروع ہوا
گلے سے اسکارف اتار کر ایک طرف رکھتے ہوئے اس نے بیگ فون کی ٹارچ آن کی اور کام میں جُٹ گئی
۔ 1950 ,1960 1970,1980 انگلی فائلوں پر جمائے ہوئے وہ زیر لب بڑبڑاتی جارہی تھی
اففف اللہ میری مدد کر ! اسے ابھی سے گردن میں ٹھیسیں اٹھتی محسوس ہونے لگیں
گلاس وال کے اس پار جیبوں میں ہاتھ پر سوچ انداز میں وہ روشنیوں کو گھورتا مگن انداز میں کچھ سوچ رہا تھا جب پارگنک ایریا میں ثنان کی گاڑی جاتے دیکھ کر وہ چونکا ۔
یہ اس وقت کہاں گیا تھا؟؟ اطہر نے زیر لب بڑبڑاتے ہوئے کریڈل اٹھایا
ثنان کہیں گیا تھا؟؟
جی سر وہ پندرہ منٹ کے لیئے باہر گئے تھے اسکے بعد واپس آگئے
اور کون تھا اسکے ساتھ؟؟
وہ پر اسرار انداز میں پوچھنے لگا۔ کیونکہ وہ گاڑی میں دوسرے نفوس کو محسوس کر چکا تھا
کوئی بھی نہیں سر ! وہ اکیلے گئے تھے اور اکیلے واپس آئے ! ریسپشنسٹ کے موعدبانہ جواب پر اس نے کریڈل واپس پٹخ دیا۔ اور ثنان کے آفس کا رخ کیا
تم کہیں باہر گئے تھے ؟
ثنان اسے آفس میں دیکھ اپنی کرسی سے اچھلا ۔وہ اسکی موجودگی کی توقع نہیں کر رہا تھا
ج جی میں کسی کام سے باہر گیا تھا !
وہ پر اعتماد انداز میں بولا ۔مگر اطہر تو پھر اطہر تھا وہ اسکی ہڑبڑاہٹ نوٹ کر چکا تھا
کون تھی وہ لڑکی ؟ اطہر کی بھنویں سکڑیں
کون لڑکی چیف ؟ ثنان کو گڑبڑی کا احساس ہوا
وہی سیاہ بالوں والی خوبصورت سی لڑکی ، جسے کل تم فیور دے رہے تھے ! وہ گہری نظریں اس پر گاڑھے ہوئے تھا۔ اسکا حلیہ بیان کرنے ثنان کے لب بے اختیار مسکرائے ، اس نے پہلی بار اطہر کے منہ سے کسی لڑکی کو ‘ خوبصورت کہتے سنا تھا ۔ اطہر ابرو اٹھائے اس کے جواب کا منتظر تھا۔ وہ میری دوست تھی ! وہ مسکرایا
دوست ؟ اطہر نے تصدیق چاہی
جی ! ثنان کا سر جھٹ سے دائیں بائیں ہلا
ٹھیک ہے ، تم کیس ریڈی کرو اور مجھے ڈیٹل میل کردینا ۔ وہ حکم صادر کرتا ہوا باہر نکل گیا
راہداری سے گزرتے ہوئے اسے غیر ارادی طور پر آوازیں سنائی دی ۔ وہ رکا اور کچھ قدم پیچھے لیتے ہوئے
دروازے سے کان لگا کر اندر کی صورتحال جاننے کی کوشش کرنے لگا
2012,2013,2015 !وہ چونکا
کوئی نسوانی آواز تھی ۔ دھیرے سے دروازے کا لاک گھماتے ہوئے وہ اندر داخل ہوگیا ۔ٹیبل پر ایک طرف اسکارف اور بیگ پڑا تھا ۔ جبکہ وہ اطمینان سے ٹارچ کی مدد سے فائلوں کا معائنہ کرنے میں مصروف تھی
اطہر نے ضبط سے مٹھیاں بھنچیں
اسے ثنان کی ہڑبڑاہٹ کا قصہ پلوں میں سمجھ آگیا
کیا کر رہی ہو تم یہاں پر ؟؟؟
وہ اسکی پشت پر جا کھڑا ہوا
اس ناگہانی آفت پر رومیصہ ہڑبڑا کر پلٹی
فون اسکی گرفت سے چھوٹتا اطہر کے قدموں میں جا گرا۔ یہ کیا طریقہ ہے ؟ ڈرا دیا مجھے !
وہ سینے پر ہاتھ جمائے تیز تیز سانسیں لینے لگی
میں نے پوچھا کیا کر رہی ہو تم یہاں؟؟
وہ سخت تاثرات لیئے اپنے سوال پر اٹل تھا
رکو زرا مجھے تمھاری شکل تو دیکھے دو !
وہ برہمی کا اظہار کرتی ۔ جھک کر اپنا فون اٹھانے لگی
شکر ہے بچ گیا! وہ بڑبڑائی
جبکہ اطہر کی گہری نظریں اسکے چہرے پر جمیں تھی
وہ روشنی اسکے چہرے پر مارتے ہی دنگ رہ گئی
ثنان نے تو کہا تھا چیف جا چکے ہیں ! وہ زیر لب بڑبڑائی
ہا ہائے چیف ! وہ دانت دکھاتی بمشکل بولی ۔
اسکی سمجھ سے بالاتر تھا وہ کیا کہے !
پکڑی جو جا چکی تھی
میں نے پوچھا تم یہاں کیا کر رہی ہو ؟؟
وہ شعلہ بار نگاہوں سے گھورتا دو قدم آگے آیا
آں آن! ٹھیک ہے ،ٹھیک ہے ! وہ دونوں ہاتھ اسکے سینے کے قریب کرتے ہوئے بولی ۔اور بیگ سے ایک کاغز نما نوٹس نکال کر اسکے ہاتھ میں تھمایا
یہ کیا ہے ؟ تقریبا چھیننے کے سے اندز میں اسکے ہاتھ نوٹس سے لیا اور ایک نظر اس پر ڈال کر کاغز کو کئی ٹکڑوں میں تقسیم کردیا
تم خود کو بہت اسمارٹ سمجھتی ہو یا مجھے بے وقوف ! اس کے ابرو تنے
پرمیشن لیٹر اصلی تھا !
رومیصہ کو اسکی حرکت پر سخت غصہ آیا
وٹ ایور ! وہ ناک سے مکھی اڑانے کے سے انداز میں بولا۔ یہ میرا ڈپارٹمنٹ ہے اور تم میری اجازت کے بغیر یہاں ایک کاغذ کو بھی چھو نہیں سکتی
وہ لفظ چبا چبا کر بولا
تو ٹھیک ہے مسٹر چیف ! وہ اسی کے انداز میں بولی
یہ میرے لیگل ڈاکیمنٹس ہیں،اور میں پرفیشنل لائر ہوں ،کیا اب میں اپنا کام کر سکتی ہوں؟
وہ بیگ سے فائل نکال کر اسکے سامنے پٹختے ہوئے قدرے اونچی آواز میں بولی
اطہر ایک قہر بھری نگاہ اس پر ڈال کر فائل پر نظر دوڑانے لگا۔اور انتہائی بے یقینی سے ان تمام کاغذوں کو الٹ پلٹ دیکھنے لگا۔ جو دیکھنے میں اصلی معلوم ہو رہے تھے۔تو پھر جو اس نے انکی گفتگو میں سنا تھا کہ خاور حیسن نے اسے جھوٹے کیس میں پھنسا کر اسکی ڈگری بار کونسل کو سبمت کرادی تھی۔ وہ سب کیا تھا؟؟؟ سچ یا جھوٹ !
اسے مصروف پاکر رومیصہ نے نا محسوس طریقے سے اپنی مطلوبہ فائل کھولی اور ڈھراڈھڑ تمام صفحوں کی تصویریں نکال لیں ۔ وہ اپنی محنت ایسے ہی رائیگاں نہیں جانے دے سکتی تھی
ہوگئی تسلی؟؟ اس نے جھٹ سے اپنی فائل اسکے ہاتھوں سے کھنچی
اطہر کو اسکی حرکت پر سخت تائو آیا
یقیننا نہیں ہوئی ہوگئی ! خیر کوئی بات نہیں ، میں کوئی اور طریقہ تلاش کر لونگی ! وہ اپنی بات کے جواب میں خود ہی بولی۔ اور بیگ کندھے پر لٹکائے تیزی سے باہر نکل گئی ۔
اطہر ایک بار پھر اس لڑکی کو سمجھنے کی ناکام کوشش کرنے لگا ۔
رومیصہ ؟؟؟ ثنان اسے راہداری سے گزرتے ہوئے دیکھ کر اسکی طرف آیا
سوری ؟ میں آپکو نہیں جانتی ! وہ ایک آنکھ دبا کر کہتی آگے بڑھ گئی ۔
ثنان ہکا بکا اسے جاتا دیکھنے لگا۔
تم نے تو کہا تھا وہ تمہاری دوست ہے؟؟؟ اطہر کی آواز پر وہ کرنٹ کھا کر مڑا ۔ یعنی چیف سب جان چکے تھے ۔
ج جی مجھے لگا وہ مجھے دوست سمجتی ہے مگر کوئی بات نہیں ! ثنان جملہ ادھورا چھوڑ کر تیزی سے آفس کی طرف بڑھتا اپنا دامن بچا گیا
اسے چیف کی نظریں اپنے اندر گڑھتی محسوس ہو رہی تھی ۔زرا دیر اسکی نظروں سے سامنے رہتا تو سارا سچ بوجھ لیتا ۔
اطہر دانت پیس کر رہ گیا۔اسکے آفس کی طرف بڑھتے قدم رکے ۔ فائل کمرے میں جوں توں پڑی تھی اور اسکا اسکارف بھی ۔ یقننا وہ اسی فائل کی تلاش میں آئی تھی ۔اس نے وہ فائل اٹھالی ۔اس بند کمرے میں ہر طرف اسکے کلون کی خوشبو پھیل چکی تھی ۔اور کچھ سوچتے ہوئے اسکارف بھی اپنی ہتھیلی میں دبوچہ اور ایگزٹ کا رخ کیا۔ وہ گھر جانے کا ارادہ رکھتا تھا۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
رومی تم کچھ کھائوگی ؟؟نبیشہ کی آواز پر اسکی تیزی سے پیڈ پر چلتی انگلیاں تھمی
نہیں یار ! مجھے ایک کپ کافی لادو بس !
کہتے ہوئے وہ پھر سے مصروف نظر آنے لگی.
گھڑی رات کے آٹھ بجنے کا سندیش دے رہی تھی ۔
نبیشہ اور ایمان ڈنر کے بعد اپنے کمرے میں تھی
جبکے وہ اخبارات کے کئی ٹکڑے اپنے سامنے بکھیرے ٹیرس پر موجود تھی ۔اسے جو نام ملا تھا وہ کسی قیامت خیز انکشاف سے کم نہیں تھا۔ سو وہ معاملے کی جڑ تک پہنچنے میں جٹ گئی تھی۔
تمہاری کافی !
نبیشہ کافی کا کپ اسکے سامنے رکھتے ہوئے برابر والی کرسی پر براجمان ہوئی ۔
کیا کر رہی ہو تم ؟ وہ اخبارات کے زخیرے پر نظر ڈال کر سرسری سا پوچھنے لگی ۔اور ساتھ ہی ایک اخبار کا ٹکڑا اٹھائے نظروں کے سامنے کیا۔
‘ حیدریز گروپ آف انڈسٹریز کے مالک زمان حیدر اور انکے صاحب زادے بحرام زمان کو نا معلوم افراد نے اٹلی میں قتل کردیا ‘ وہ زیر لب بڑبڑائی ۔
تم ان سب کے ساتھ کیا کر رہی ہو ؟؟؟ یہ تو دو سال پرانا ہے ! وہ اچھنبے سے پوچھنے لگی ۔
رومیصہ سوچ میں پڑ گئی اسے بتائے یا نہ بتائے ،
نبیشہ ابرو اٹھائے جواب کی منتظر تھی ۔
چونکے تم میری بہن ہو اسلیئے تمہیں بھی یہ جاننے کا حق کا ہے کہ،
شاید میں بھی تمہاری بہن ہو ڈیئر رومی !
ایمان اس کی بات کاٹتے ہوئے تنزیہ بولی ۔
کیا باتیں ہورہی ہیں یہاں ؟ اور کافی کا کپ تھامے انکے قریب ٹیرس کی ریلنگ کے سامنے جا کھڑی ہوئی ۔
میں آج پولیس اسٹیشن گئی تھی ! رومیصہ ایک نظر ایمان کی پشت پر ڈال کر سلسلہ کلام دوبارہ جوڑنے لگی ۔
کیوں ؟ خیریت ؟
نبیشہ حیرت سے کہتی کپ ٹیبل پر رکھے سیدھی ہو بیٹھی
ایمان بھی توجہ سے اسے سننے لگی ۔ البتہ اسنے رخ نہیں موڑا تھا۔
ہاں بلکل خیریت ہے ، میں بس یہ جاننے گئی تھی کہ ہمارے بابا سے جیل میں کون ملنے آتا تھا ،اور وہ کسے خط لکھتے تھے ! تمہیں یاد ہوگا ہم سے مل کر وہ اکثر اداس ہوجایا کرتے تھے اسلئے ہمیں وہاں جانے روک دیا تھا بابا نے
وہ تفصیل سے بتانے لگی ۔
پھر ؟؟؟ نبیشہ بے تابی سے بولی ۔
یہ دیکھو !’ زمان حیدر’ کا نام سامنے آیا ہے رومیصہ پیپر اسکے سامنے رکھتے ہوئے بولی ۔
ناممکن ! بابا کا ان جیسے کرمنلز اور مافیاز سے کیا تعلق بھلا ! ایمان نے برہمی سے گویا ہوئی ۔
میں بھی یہی جاننے کی کوشش کر رہی ہوں ، ہو سکتا کوئی اور زمان حیدر ہو !
رومیصہ نے اسکی بات سے اتفاق کیا ۔
ویسے تم کیسے جانتی ہو انکا مافیاز سے تعلق ہے؟؟
وہ حیرت سے پوچھنے لگی ۔
انکے بارے میں کون نہیں جانتا ، آئے دن کبھی CNN تو کبھی BBC میں انکے کارناموں کے چرچے ہوتے رہتے ہیں ! ایمان ناگواری سے بولی ۔
لیکن اس پرانے اخبار میں تو لکھا ہے کہ وہ دونوں باپ بیٹا قتل کیئے جا چکے ، وہ بھی دو سال پہلے !
نبیشہ حیرانی سے گویا ہوئی۔
ایسے لوگ تو مر جاتے ہیں ،لیکن انکے نقشے قدم پر چلنے والے زندہ رہتے ہیں ،
ایمان چائے کا کپ لبوں سے لگاتی نفرت انگیزی سے بولی وہ یقینا زندہ ہے ! یہ دیکھو, دو سال پہلے کی خبر ‘ٹائمز آف نیو یارک نے اسے ‘ ہیرو آف نیشن ‘ کا نام دیا۔
رومیصہ لیپ ٹاپ نبیشہ کو تھماتی ہوئی بولی ۔
طوبی کس قدر شرم کی بات ہے ! ہزاروں لاکھوں لوگوں کے قاتل ، فساد اور بربریت پھیلانے والے اب ‘ قوم کے ہیرو کہلائیں گے !
ایمان نے نا پسندیدگی سے لقمہ دیا ۔
اسکی بھی کوئی وجہ ہوگی ایمان ! نبیشہ مصروف انداز میں تیزی سے انگلیاں پیڈ پر چلاتی ہوئی بولی ۔
ہونہہ ! ایمان نے ناگواری سے رخ موڑ لیا ۔
جبکے رومیصہ کافی کا کپ لبوں سے لگالیا ۔ اسکے سر میں شدید درد تھا ۔ کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا کیا سچ ہے اور کیا جھوٹ ۔وہ الجھ کر رہی گئی ۔
دیکھا میں نے کہا تھا نا اسکی بھی کوئی وجہ ہوگی !
نبیشہ کی زبان پھسلی ۔
کیا ہے؟ رومیصہ نے بھنویں سکیڑیں ۔
“حیدریز کے پریزڈنٹ نے دو سو ارب اٹیلین گورمنٹ کو ایکانمی ڈونیٹ کی ، اور لاسٹ ایئر ٹائمز آف نیویارک نے یہ دعوی کیا ہے کہ اٹلی میں انکے دس ہزار سے زیادہ ہاسپٹل، ریسٹورنٹ اور ریزورٹ ہیں جہاں وہ لوگوں کو مفت ہیل ،اور فیڈ کرتے ہیں !
so here is the ‘grand’ reason of calling them ‘pride of italy’ and ‘hero of the nation’
وہ کسی نیوز اینکر کی طرح تنقید سے بھرپور لہجے میں اپنی بات مکمل کیئے لمبی سانس لینے لگی ۔
رومیصہ خاموشی سے اسکا چہرہ تکنے لگی ۔
جبکہ ایمان ہکا بکا رہ گئی ۔
کس قدر دوغلی ہے اتالوی سرکار ! کیسے ایک کرمنل کو ہیرو قرار دے دیا ! نبیشہ نے لقمہ دیا۔
یہ تو ہونا ہی تھا ، اس نے خرید لیا ہے سرکار کو ، وہ اب اسکے گُن نہ گائے تو اور کیا کرے! ان جیسے خطرناک لوگوں سے گورمنٹ بھی خوفزدہ ہے بات سیدھی اور صاف ہے رومیصہ پر سوچ انداز میں بولی ۔
جو بھی ہے تم ان دہشت گردوں کا نام میرے بابا کے ساتھ مت جوڑو انکا ان سے کوئی لینا دینا نہیں وہ ایک عزت دار شہری تھے ! ایمان برہمی سے کہتی واک آئوٹ کر گئی ۔ ہممم ! مجھے بھی ایسا ہی لگتا ہے
رومیصہ نے پر سوچ انداز میں سر گوشی کی ۔
خیر مجھے نیند آرہی ہے میں سونے جارہی ہوں ! گڈ نائٹ ، نبیشہ کافی کا خالی مگ اٹھائے اسکے گال سے گال مس کرتی کمرے کا رخ کرنے لگی ۔
جبکے رومیصہ نے آنکھیں مندے سر کرسی کی پشت سے ٹکالیا۔ وہ یقین کر لینا چاہتی تھی کہ اسکے بابا کا حیدریز سے کوئی تعلق نہیں تھا ۔اگر ایسا نہ ہوا تو ؟؟؟؟ یہ سوچ ہی اسکے لیئے جان لیوا تھی۔ اس سب میں الجھن کا شکار وہ ‘علی زمان’ اور ‘زمان حیدر’ کے بیچ فرق کی پہچان نہ کر پائی۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
MOSCOW | RUSSIA |
AND OUR NEXT DESIGNER OF TONIGHT
APREL O’NEIL
اسکے نام کی پکار کے ساتھ وہ بھاگتی ہوئی اسکے کمرے کی طرف گئی ۔
یش اٹھو ،کم آن جلدی کرو
وہ اسکا کوٹ اٹھائے عجلت میں اسکی طرف بڑھی ۔
جو ہنوز ارد گرد سے بے نیاز فون پر بزی نظر آرہا تھا ۔
اٹھو بھی ! ایپرل چیخی ۔
وٹس یور پرابلم لٙو ؟ وہ تپ کر بولا ۔
خدا کے لیئے ، تمہاری اسٹیج پر ایک واک میرے نئے نویلے برینڈ کو آسمانوں تک پہنچا سکتی ، پلیز میری خاطر اتنا کردو ! وہ بلا کی معصومیت پر سجائے درخواست کرنے لگی۔ ایک شرط پر ؟ وہ معنی خیزی سے کہتا اسکی طرف جھکا
یشششمممم! وہ آتی جاتی ماڈلز کی جانب اسکی توجہ دلاتی ہوئے گھور کر بولی
تمہاری ساری شرطیں منظور؟ چلو اب جلدی کرو
وہ جھٹ سے بولی ۔
تو ٹھیک ہے، تم آج رات پارٹی دو گی ، نائٹ کلب میں ، وہ اسکی پیشانی پر لب رکھتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
ڈن! وہ فورا سے مان گئی ۔ساتھ ہی اسے کوٹ پہناتے ہوئے باہر لے آئی ۔ بیک اسٹیج سے گزرتے ہوئے وہ ریمپ پر آ پہنچے ۔ اسکی کہنی تھامے چہرے پر خوبصورت سی مسکراہٹ سجائے ایپرل اپنے خوبصورت ‘ایتھلیٹ بوائے فرینڈ’ کے ہمراہ لوگوں کی داد وصول کرتی خوش نظر آرہی تھی ۔ جبکے یشم زبردستی بڑی سی مسکان چہرے پر سجائے اپنے فینز کو ہاتھ ہلانے لگا۔ وہ اس ‘نیم فیم ‘ والی سیلبریٹی لائف سے سخت عاجز آچکا تھا۔یہاں بھی وہ صرف ایپرل کے خیال سے آیا تھا کچھ ہی دیر میں انکی فائنل واک ختم ہوئی ۔ یشم اکتائے ہوئے انداز میں کوٹ اتار کر اپنی مینیجر کی طرف اچھالتا ایگزٹ کی جانب بڑھا تھا ۔ جو اس بے چاری سے ہڑبڑا کر کیچ کیا اور تیزی سے اسکے ہم قدم ہوئی ۔
مجھے اکیلا چھوڑ دو ! وہ دو ٹوک بولا اور کیز سے اپنی گاڑی انلاک کرتا آگے بڑھ گیا۔
لیکن سر میں تاتیہ میڈم کو کیا جواب دوں !
بمشکل اسکے گلے سے آواز نکلی ۔
دیکھو شرائے تم میری مینیجر ہو نہ کہ میڈم تاتیہ کی ، اب جائو یہاں سے اور کوئی بھی بہانہ بنا دینا ۔
وہ عاجزی سے کہتے ہوئے زن سے گاڑی آگے بڑھا لے گیا۔ جبکے بے چاری شرائے میڈم تاتیہ کو کنوینس کرنے کے لیئے نیا بہانہ سوچنے لگی ۔ ہمیشہ کی طرح ۔
