Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode24

The Dark by Uzzai Zehan Episode24

بجلی کڑکنے کی آواز پر وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔ کمرے میں اندھیرا چھایا ہوا تھا ، بجلی کڑکنے کے باعث کمرے میں ہلکی سی روشنی پیدا ہوئی تو ، اس نے حیرت سے ارد گرد کا منظر دیکھا ۔۔۔ بوسیدہ سے کمرے میں عجیب سی پراسراریت چھائی ہوئی تھی۔۔جو شاید لکڑی کا تھا ۔ جابجا دیواروں پر کسی نوکدار چیز سے لکیریں لگیں ہوئی تھی۔ زمین پر مٹی تو کہیں لکڑی کا اکھڑا ہوا فرش تھا ۔
وہ نہیں جانتی تھی وہ کہاں ہے؟؟؟؟ ہر طرف اندھیرا ہی اندھیرا تھا ۔ ۔ اسکے ہاتھ پیچھے کو بندھے ہوئے تھے ۔گرہیں اتنی سخت تھی کہ اسکے زرا کسمسانے پر ہی اسے اپنی جِلد اکھڑتی ہوئی محسوس ہوئی. ان کے ساتھ کیا ہوا تھا ؟؟ یہ سوال شدت سے اسکے دماغ میں گردش کرنے لگا ۔جیسے جیسے اسے گزری رات کے خوفناک مناظر یاد آنے لگے ۔ اسکا دل ڈوب ڈوب گیا ۔ ایمان ؟ ایمان کہاں ہے ؟ اسے لب ہلنے سے انکاری تھے۔
اس نے نظر گھما کر دیکھا تو وہ اسکے بغل میں کرسی پر بندھی تھی ۔گردن ایک طرف لڑھکی ہوئی تھی
بند دروازہ کے اس پار مردانہ آوازیں آرہی تھی ۔
مطلب باہر کوئی پہرے پر موجود تھا ؟ یہ سوچ ہی اسکی جان نکالنے کے لیئے کافی تھی۔
ای ایمان ! ایمان اٹھو ! وہ دائیں جانب رخ موڑ کر آہستگی سے بولی۔
وہ بے ہوش تھی۔۔۔ شاید ! تبھی اس سن نہیں پا رہی تھی ۔ یا اللہ ، کہاں پھنس گئے ہیں ہم ؟ اسکی آنکھیں ڈبڈبائیں ۔ سر میں درد کی شدید ٹھیسیں اٹھ رہی تھی۔ اس نے خود کو اتنا بے بس کبھی محسوس نہیں کیا ۔
ایمان اٹھوووو۔۔۔۔۔ اٹھو نا یار۔۔۔۔ پلیز مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے ! وہ خوف سے کہتی رودی ۔ مگر ایمان پر کچھ اثر نہ ہوا ۔
اللہ میاں ! پلیز ہماری مدد کر پتا نہیں ہم کہاں پھنس گئے ہیں ! اس نے سسکتے ہوئے گردن ایک طرف ٹکائی ۔
**********************************
پھر وہ دن بھی آ گیا جسں کا اسے چھوڑ کر باقی سب کو شدت سے انتظار تھا۔ وہ کل رات سے اب تک نہ جانے کتنے سگریٹ پھونک چکا تھا۔اس نے زندگی میں کبھی سگریٹ نہیں پیا تھا ۔ جتنا ایک دن میں ۔
رات اس پر بہت بھاری تھی آخر کار کٹھن رات بھی اپنے اختتام کو پہنچی اور دن کی روشنی ہر طرف پھیلنے لگی ۔مسز کاظمی اسکا ڈریس تھامے کمرے میں داخل ہوئیں تو حیران رہ گئیں ۔سرخ قالین پر جابجا سگریٹ کی راکھ پھیلی ہوئی تھی ۔ اور ایش ٹرے پر نظر پڑتے ہی وہ ساکت رہ گئیں ۔
تم نے سگریٹ پینا کب سے شروع کیا اطہر ؟؟؟ وہ کہتی ہوئی ڈریس بیڈ پر پھیلاتی اسکے قوریب صوفے پر آبیٹھی ۔وہ خالی نظر ان پر ڈال کر جواب دیئے بغیر خلا میں گھورنے لگا ۔
اطہر ؟ کیا ہوا میری جان ! کوئی پریشانی ہے ؟ مسز کاظمی نے پریشانی کے عالم میں اسکا کندھا تھاما ۔
نہیں ! کوئی پریشانی نہیں بلکہ اب تو سارا مسلہ ختم ہوگیا وہ عجیب سے انداز میں انکا ہاتھ ہٹا کر پہلو میں رکھتا اٹھ کھڑا ہوا ۔
مسز کاظمی کو سخت ملال نے آگھیرا۔ کہیں وہ کوئی غلطی تو نہیں کر رہی تھی ! اپنے بیٹے پر فیصلہ تھوپ کر،آخر کار وہ بالغ تھا اپنا اچھا برا سمجھتا تھا ۔ اور پھر پہلی بار تو اسے محبت ہوئی تھی زندگی میں ۔وہ بھی انجام پر پہنچنے سے پہلے اختتام کو پہنچ چکی تھی ۔خیر ! محبت تو کبھی نہ کبھی بھلا ہی دے گا۔ رومیصہ سے شادی کروا کر وہ اپنے سرکل میں سالوں سے بنائی گئی عزت اور اطہر کا مستقبل دائو پر نہیں لگا سکتی تھی ۔ سارہ حسب نسب والی تھی . خوبصورت تھی اور ہر طرح سے اسکے بیٹے کے ساتھ چلنے کا قابل تھی ۔مگر اطہر کی یہ حالت انہیں سخت پریشان کر رہی تھی ۔ وہ خاموشی سے بیڈ سے کپڑے اٹھاتا واشروم میں گھسا ۔
بھائی کہاں ہیں ؟ ایمل اپنی فراق چٹکیوں میں تھامے اسکے کمرے میں داخل ہوئی ۔ مسز کاظمی نے سوچوں کو جھٹکتے ہوئے واشروم کی جانب اشارہ کیا ۔
اور خاموشی سے باہر نکل گئی۔
انہیں کیا ہوا ؟ ایمل نے منمناتے ہوئے اسکی پشت کو گھورا ۔ اور اسکا کمرہ سمیٹنے لگی ۔سگریٹ کی راکھ دیکھ کر پریشان تو وہ بھی ہوئی تھی کیونکہ اطہر سگریٹ نہیں پیتا تھا ۔ مگر اس نے نظر انداز کردیا ۔
اللہ۔۔۔۔ بھائی ایسی بھی کیا قیامت آگئی تھی منگنی ہی ہے نا ! شادی تو نہیں ہو رہی جو آپ نے خوشی خوشی میں اتنے سگریٹ پھونک ڈالے ! وہ اسے چھیڑنے لگی ۔
اطہر نے اچھنبے سے اسے دیکھا اور ٹاول سے سر رگڑتے ہوئے آئینے کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔ اب وہ اسے کیا بتاتا وہ خوش نہیں تھا ، سگریٹ پھونک کر خوشی کا اظہار کون کرتا ہے ۔ یہ تو ماتم تھا جو اس نے رات بھر منایا تھا اور شاید تمام عمر منانے والا تھا ۔ محبت جو کر بیٹھا تھا ۔خود ازیتی میں اسکی تمام رات آنکھوں میں کٹی ۔اب آنکھیں سرخ پڑ چکی تھی ۔ اس نے سر جھٹکتے ہوئے رخ موڑا ۔
کہاں ؟ تیار تو ہو جائیں آخر جلدی کس بات کی ہے ؟ وہ اسکے آگے ہاتھ پھیلاتے شوخی سے بولی ۔
ایمل ہٹو ! وہ سپاٹ لہجے میں بولا ۔
یار کیا بھائی ۔۔۔ مسکرا تو دیں ادھر مما بھی پتا نہیں کیوں منہ لٹکائے گھوم رہی ہیں ، کوئی بات ہے کیا ؟ آپ خوش تو ہیں نا بھائی؟ وہ یک دم سنجیدہ ہوئی ۔
اطہر کو اسکے انداز پر بے جا پیار آیا ۔
وہ زبردستی مسکراتے ہوئے سر ہلانے لگا ۔
مجھے ایسے کیوں لگ رہا ہے کہ آپ خوش نہیں ہیں ؟ وہ جانچتی نگاہوں سے اسکو دیکھنے لگی ۔
تو کیا ناچوں اب میں ؟ کیسے ہوا جاتا ہے خوش ؟
وہ اکتا گیا ۔
تو ناچیں نا روکا کس نے ہے ! آخر کار آپکی پہلی شادی شادی ہے ! وہ شوخی سے کہنی مارتی ہوئی بولی ۔
اطہر نے اسکا کان دبوچا ۔
آہ میرے جھمکے، چھوڑیں بھی مزاق کر رہی تھی نا! وہ جھٹ سے بولی ۔
چلو جائو تنگ مت کرو ! اطہر نے اسے گھوری سے نوازتے ہوئے دور دھکیلا ۔
یہ ٹارچر اپنی بیوی پر کرنا آئی سمجھ آفیسر ،ہونہہہ آئے بڑے جیمس بانڈ وہ جاتے جاتے دروازے کے قریب کھڑے ہوکر چلائی اور پھر غائب ہوگئی ۔اطہر کس بے اختیار رومیصہ یاد آئی ۔تمام رات اس نے سہلا سہلا کر اپنی محبت کو سلایا تھا اور اس نادان نے پل بھر میں اسے پھر سے جگا دیا ۔ اس نے ٹھنڈی سانس اندر دھکیلی اور باہر نکل آیا ۔
گھر کا ٹیرس کافی کشادہ تھا ۔ وہاں انگیجمنٹ کا خوبصورت سیٹ اپ کردیا گیا تھا ۔ جہاں انکے علاوہ مسز خان کی فیملی اور اسکے کچھ قریب لوگ شامل تھے ۔ جس میں ثنان اور معاذ بھی شامل تھے جو منگنی کی تیاریوں میں پیش پیش تھے ۔اس نے ایک نظر ان رنگینیوں کو دیکھا اور خاموشی سے ایک طرف کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ۔
ارے واہ ! چیف بھی اپنے نام کے ایک ہیں !
معاذ کی زبان پھسلی ۔
کیا ہوا ؟ ویٹر سے بات کرتے ثنان نے مڑ کر اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھا ۔
دیکھو تو زرا آج بھی لیٹ نہیں ہوئے ، بلکل ٹائم پر آئے ہیں ! ہاں تو اچھی بات ہے نا ۔۔۔۔۔پتا چلے لیٹ آنے پر لڑکی والو نے منگنی سے انکار کردیا ! پھر تو نقصان ہی ہے نا بھائی ! اوپر سے بندہ اتنا کھڑوس ہو تو لڑکی ملنا مشکل ہی ہے ! ثنان نے پیش گوئی کی ۔جس معاذ کھلکھلا کر ہنس پڑا ۔
ادھر آئو تم دونو؟؟؟ اطہر کی رعبدار آواز انکے کانوں میں پڑتے ہی انکی ہنسی کو بریک لگی ۔
لو آگیا بلاوا! ثنان زیر لب بڑبڑایا ۔
تم دونو یہاں کیا کر رہے ہو ؟؟ انتہائی بے مروت انداز تھا ۔ ان دونوں نے صدمے بھری نگاہوں سے ایک دوسرے کو دیکھا ۔ انہیں تو لگا تھا وہ ‘اسکے ‘ انوٹیشن پر آئے تھے ۔ مگر نہیں اس نے آج ثابت کردیا تھا وہ ظالم مرد ہے ۔
آہممم ! ہمیں میم نے بلایا تھا ! معاذ کی اس بے عزتی پر بمشکل آواز نکلی ۔
کیوں ؟ وہ سپاٹ لہجے میں بولا ۔ دونوں کا سر مزید جھک گیا ۔ حد ہوتی ہے ! بندہ اتنا بھی فارمل نہ ہو ؛ ثنان نے سوچا ۔ مگر کہہ نہ سکا ۔
کیا مطلب کیوں بلایا ، بھئی انکے باس کی منگنی ہے وہ نہیں آئیں گے تو کیسے چلے گا ! کیوں لڑکو ؟ وہ انکے طرف دیکھتی ہوئی بولی ۔
بے چارے لڑکوں نے اتنی بے عزتی کے بعد معصوموں کی طرح جھٹ سے سر اثبات میں ہلایا۔
اچھا جائو تم لوگ زرا نتظامات دیکھ لو ! وہ لوگ آتے ہی ہونگے ! وہ ان دونوں کو منظر سے ہٹاتی ہوئی بولی ۔ تو وہ دونوں سر ہلاتے ہوئے کندھے کے سر سے سینگ کی طرح غائب ہوگئے ۔
اطہر کیا پریشانی ہے ؟ وہ اس کے سنجیدہ چہرے پر نظر ڈالتے ہوئے بولی.
اب تو کوئی پریشانی نہیں! وہ سرد لہجے میں بولا۔ مگر اسکی آنکھوں میں شکوہ غم ،غصہ ملال کیا کیا نہیں تھا ۔ بے شک وہ زبان سے نہ کہتا ۔ مگر انہوں نے محسوس کرلیا تھا ۔انکا بیٹا خوش نہیں تھا ۔ اسکے موبائل کی رنگ پر ہوش میں آئی ۔اسے باہر جاتا دیکھنے لگی ۔
**********************************
منگنی کا فنکشن تمام ہوچکا تھا وہ بے دلی سے کار کی چابی اٹھائے باہر نکل گیا ۔ بے مقصد سڑکوں پر آوارگی کرنے ۔
اسکا دل تمام رنگینیوں سے اچاٹ ہوچکا تھا۔ ابھی تو اس نے اپنی محبت کو محسوس ہی کیا تھا ۔ ابھی تو سفر کی شروعات ہوئی تھی وہ اسکی محبت میں جینا چاہتا تھا ۔ مگر ہوا کیا ! اس نے اپنی ماں کے لفظوں کا پاس رکھ لیا اور محبت کو الوداع کردیا ۔یہ فیصلہ اسکے دل پر بہت بھاری پڑا ۔ جو اب دن رات تڑپ رہا تھا ۔ اور ساتھ ساتھ اسے بھی جلا رہا تھا ۔ فون کے تھرتھرانے کی آواز پر وہ ہوش میں آیا تو اس نے خود کو اسکے گھر سامنے کھڑا پایا ۔ وہ حیران رہ گیا ۔ وہ یہاں کب اور کیوں آیا تھا ؟
نہیں مجھے یہاں نہیں ہونا چاہیئے ! آج ہی کسی کا نام میرے ساتھ منصوب ہوا ہے میں اس سے بے وفائی نہیں کر سکتا ۔ وہ واپس مڑا ۔
نہیں رک جائو، وہ تمہاری محبت ہے تم تڑپ رہے تھے جسکی ایک جھلک دیکھنے کی خاطر اب کیا ایسے ہی چلے جائو گے ؟؟ دل سے فریاد نکلی ۔
نہیں ، تم نے سارہ کو اپنے نام کی انگوٹھی پہنائی ہے ! تم اب اسی کے ہو ! دماغ غرایا ۔
انسان صرف اسی کا ہوتا ہے جس سے وہ محبت کرتا ہے ، بھلا محبت کے بغیر بھی کوئی زندگی ہے ! دل نے دہائی دی ۔ آنہہہہہہہہہہہہ ! وہ غم و غصے سے چلایا ۔ دل و دماغ کی جنگ میں اسکی حالت ابتر ہونے لگی ۔
چپپپپ ایک دم چپپ ! وہ جلالی انداز میں چیخا ۔
رات کا ایک بجنے کے قریب تھا وہ سونے کی تیاری میں تھی ۔ کچن میں پانی کا جگ بھرتے ہوئے اس نے کمرے کا رخ کیا ۔ مگر کسی کے چلانے کی آواز پر اسکے قدم منجنمد ہوئے ۔ رات کے اس پہر ہر طرف خاموشی چھائی ہوئی تھی ۔سوال ہی پیدا نہیں ہوتا یہ اسکا وہم ہو ۔ اسکا دل زوروں سے دھڑکنے لگا ۔ پانی کا جگ لائونج میں ٹیبل رکھ کر اس نے کھڑکی سے باہر جھانکا ۔ تو اطہر کو دیکھ کر حیران رہ گئی ۔ یہ یہاں کیا کر رہا ہے ؟ وہ پردہ برابر کرتی حیران سے بڑبڑائی ۔ اسے اُس رات اطہر عجیب انداز یاد آیا ۔
کیا کروں ؟ باہر جائو یا نہیں ! وہ کشمکش سے انگلیاں چٹخانے لگیں ۔ اور پھر لمبی سانس لے کر ہمت باندھتی دروازے کی جانب بڑھی ۔ وہ آج اسکی اچھی خاصی کلاس لینے کے موڈ میں تھی ۔ بھلا یہ کوئی وقت تھا کسی کے گھر آنے کا ؟ اس نے واپسی کے لیئے قدم بڑھائے ہی تھے دروازہ کھلنے کی آواز آئی ۔ اطہر کے قدم منجمند ہوئے ۔
کیا کر رہے ہیں آپ یہاں ؟ مسٹر چیف ، اسکی آواز میں تنز واضع تھا ۔اسے لگا اب وہ مڑا تو پتھر کا ہوجائے گا۔
ہیلو ؟ وہ جواب نہ پاکر دوبارہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہتی ہوئی چوکھٹ چھوڑ کر اسکے سامنے آ کھڑا ہوئی ۔ اطہر کا دل زور سے دھڑکا ۔ اپنے اندیشے کے عین مطابق وہ پتھر کا ہوگیا ۔ اسکا دل کیا بس یونہی عمر وہ اسے دیکھتا رہے ۔ سیاہ بالوں کی لٹھیں اسکے سینے پر جھول رہی تھی ۔ سرخ آنکھیوں میں نیند کی خماری واضع تھی۔
ہونٹوں کو کاٹتی وہ مضطرب نگاہوں سے اسے گھور رہی تھی ۔
کیا پوچھ رہی ہو میں ؟ کیا کر رہے ہیں آپ یہاں ؟ وہ بھڑکی ۔
پتا نہیں ! وہ اس نظروں کے حصار میں لیئے آہستگی سے بولا ۔اتنا آہستہ کہ رومصیہ بمشکل سن سکی ۔ وہ لاجواب ہوئی ۔اب وہ کیا کہتی ! اطہر کے قدم بے اختیار اسکی جانب بڑھے ۔ اسے اتنا قریب پاکر اسکا دل بے ایمان ہونے لگا ۔ رومیصہ اسکے انداز پر گھبرا کر الٹے قدم اٹھاتی دروازے کی چوکھٹ پر جا کھڑی ہوئی ۔ اسے پہلے وہ دروازہ بند کرتی وہ بولا پڑا ۔ک ک کافی ملے گی ؟
ہاں ؟؟؟ وہ بے یقینی سے چلائی ۔
کافی ۔۔۔؟ اس نے اپنا سوال دہرایا ۔ نظریں ہنوز اسکے چہرے کا طواف کر رہی تھیں ۔
تو کیا وہ اتنی دور اسکے پاس صرف کافی پینے آیا تھا ؟
حد ہوگئی ویسے ! وہ سخت نگاہوں سے گھورتی ہوئی ایک طرف ہوگئی ۔وہ قدم قدم چلتا ہوا لائونج میں آکھڑا ہوا ۔بیٹھیں ! میں کافی لے کر آتی ہو آپ کے لیئے ! وہ جتا کر کہتی کچن کی جانب بڑھی ۔وہ خاموشی سے بیٹھ گیا ۔ نہ جانے اس نے یہ حرکت کیوں کی تھی ۔ حالانکہ اسے کافی کی طلب ہرگز نہیں تھی ۔شاید اسکے ساتھ وقت بتانے کے بہانہ تھا اسکا ؟؟؟
کچھ پلوں میں کافی کا کپ لیئے حاضر تھی ۔ کپ اسکے ہاتھ میں تھمانے کے بجائے اس نے جان بوجھ کر اسکے ہاتھ کے ساتھ گرم کپ لگایا ۔ مگر حیرت کی بات تو یہ تھی اس نے کوئی رد عمل ظاہر نہیں کیا ۔اسے اب بے چینی ہونے لگی۔ آپ ٹھیک تو ہیں ؟؟؟ اس نے جھجھکتے ہوئے پوچھا۔ تو اطہر نے بے اختیار نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ اس قدر فکر مندی سے پوچھے جانے پر اسکا دل پھگلنے لگا۔ نظریں اسکے چہرے سے ہٹنے سے انکاری ہونے لگیں۔ اس نے سر بے اختیار نفی میں ہلایا ۔رومیصہ نے نظروں کا رخ بدل لیا ۔ اسکی بے تاب نگاہیں اب اسے پریشان کرنے لگی تھی ۔
منگنی مبارک ہو ! وہ اسکے کرتے پاجامے کو دیکھ کر اندازً بولی ۔وہ شاید اپنی منگنی سے لوٹ رہا تھا؟؟؟
اطہر کافی کا سپ بمشکل گلے میں انڈیلا ۔ اسے آج سے پہلے کافی اتنی کڑوی کبھی نہیں لگی ۔ اس نے زور سے کپ ٹیبل پر پٹخا ۔ تو رومیصہ چونکی.
اب ایسا بھی کیا کہہ دیا ؟ وہ سوچ کر رہ گئی ۔ وہ خاموشی سے جانے کے لئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
تھینکس تو کہتے جائیں !
وہ رک کر مڑا ۔ اور قدم بڑھاتے ہوئے اسکے نزدیک آیا ۔
کس لیئے ؟ وہ سپاٹ لہجے میں بولا ۔
منگنی کی مبارکباد پر ! وہ انجانے میں اسکے زخموں کر کریدنے لگی۔
تھینکس فار دا کافی ! وہ شکست خوردہ لہجے میں کہتا اس پر بھرپور نگاہ ڈالتے ہوئے باہر نکل گیا ۔ رومیصہ نے آنکھیں گول کرتے ہوئے کندھے اچکائے اور کپ اٹھائے کچن کی جانب بڑھی ۔ اوراطہر سزا کے طور پر زور زور مکے کار پر رسید کرنے لگا۔ زندگی میں اتنا بے اختیار کبھی نہیں ہوا ۔جتنا اسکے سامنے ، اس نے ٹھان لی تھی آج کے بعد اس کے سامنے کبھی نہیں آئے گا ۔کبھی نہیں ۔
اسکی یہ خواہش جلد پوری ہونے والی تھی.وہ بھی ایسے کہ اسے تمام عمر اس خواہش پر پیشماں ہونے والا تھا۔
**********************************
ہا کیا چل رہا ہے مارشل؟؟؟
وہ آج کئی دنوں بعد سائیٹ پر آیا تھا ۔ مارشل اسے دیکھ کر احترام اٹھ کھڑا ہوا ۔
ہمارا پروجیکٹ کمپلیٹ ہونے والا ہے ! کچھ دنوں تک ! اچھا ، اس پیش گوئی پر اس نے سر ہلاتے ہوئے فائل تھامی ۔اور کوئی خبر؟؟؟ وہ سرسری نگاہ فائل پر ڈالتے ہوئے بولا ۔اگلی ڈلیوری دوسرے ہفتے کے شروعات سے ہوگی !
ہمممم ۔۔۔۔وہ منمنایا ۔ اور مارشل سوچ میں پر گیا اگلی بات اسے بتائے یا نہ بتائے ۔
کیا بات ہے؟ وہ اسکی خاموشی نوٹ کرتے ہوئے بولا ساتھ ہی فائل ٹیبل پر اچھالی ۔
وہ سر ۔۔۔۔۔۔
جلدی مار شل اور بھی بہت کام ہیں مجھے ! اکتاہٹ بھرے لہجے میں کہتے ہوئے اس نے گھڑی دیکھی۔
ہمارے لوگ غلط لڑکیوں کو اٹھا لائے ! انکا کیا کرنا ہے ؟؟
اس نے ندامت سے سر جھکایا ۔
***** کہیں کے ، سب کے سب نا اہل ہو تم
اسکے نقوش تنے !
اس دھندے میں غلطی کی گنجائش نہیں ، کام تو ہوگا وہ رک نہیں سکتا۔۔۔ پھر چاہے جو مرضی کرے ! ہماے لوگ کریں یا کوئی ۔۔۔۔گاڑی نکالو تم! اگلا حکم صادر کرتے ہوئے وہ آفس سے باہر نکل آیا ۔
وہ سر باس نے کہا تھا کہ آپ اس معاملے کو زرا دیکھ لیں تو ۔۔۔۔ اسکی بات سن کر اس نے نا پسندیدگی سے دیکھا ۔ تمہارے باس صرف نام کا ہی ‘باس ‘ ہے! چلو اب۔۔۔
وہ سخت بے زار ہوا ۔
۔ کچھ دیر بعد وہ لوگ سنسان علاقے میں جنگلوں کے بیچوں بیچ آرکے ۔ مارشل نے گھوم کر اسکی طرف کا دروازہ کھولا ۔ اور اسے راہ دکھانے لگا ۔ وہ ایک بوسیدہ سے کمرے کے سامنے آرکے ۔
اس نے گردن دائیں بائیں جھٹکی اور زور سے دروازے کو پیر مارا تو دھاڑ کی آواز کے سے ساتھ دروازہ کھلا ۔ ایمان ہڑبڑا کر سیدھی ہوئی اور خوف سے نبیشہ کو تکنے لگی ۔رات کے اس پہر روشنی میں اسکا چہرہ دیکھ نہیں پائی مگر وہ جو کوئی بھی تھا خاصا لبا چوڑا اور وحشت زدہ شخص معلوم ہو رہا تھا اپنے ارادوں ۔ ایمان نے تھوک نگلا ۔ مارشل نے بڑھ کر کرسی کھینچی اور ان کے عین سامنے رکھ دی ۔ وہ آگے بڑھ اور کرسی پر براجمان ہوگیا ۔
چہرے پر عجب سی وہشت تھی۔وہ کچھ دیر ان دونوں کو گھورنے کے بعد سیدھا ہو بیٹھا ۔
وہ دونوں ہی کم عمر اور معصوم واقع ہوئیں تھی۔ مگر وہ کیا کرتا ! یہی اسکا کام تھا ۔۔۔۔اسکا گھٹنا ایمان کے گھٹنے سے ٹکرایا تو اسکی چیخیں نکل گئیں۔ وہ خوف سے آنسو بہاتی پیچھے سرکی ۔ اسی اثنا میں نبیشہ کی آنکھ کھلی ۔ جب اس نے اپنے بیچ کسی تیسرے نفوس کو محسوس کیا تو اسکی جان ہوا ہونے لگی ۔۔۔خوف سے اسکی آنکھیں باہر آنے کو تھی ۔ماتھے کا طواف کرتی کچھ لٹھیں ، عجب سا رنگ تھا آنکھوں کا جو کسی کو بھی خوف میں مبتلا کرنے کے لیئے کافی تھا ۔ قدرے بڑھی ہوئی شیو ! ویل ڈریسڈ وہ کسی بھی لحاظ سے کوئی غنڈہ یا موالی معلوم نہیں ہو رہا تھا ۔
تم دونوں کی شکلیں کافی ملتی جلتی ہیں ! بہنیں ہو تم دونو؟؟؟ وہ ببل دانتوں تلے چباتا آرام دہ لہجے میں بولا ۔ایمان نے خوف سے سر ہلایا ۔
ہممم ! نام کیا تمہارا وہ نظریں ایمان پر گھاڑھے نبیشہ کا جانب انگلی کرتا ہوا بولا ۔
ن ن نبیشہ ! وہ تھوک نگلتی ہوئی بولی ۔
ملیشہ ؟ وہ بولا ۔
ن نبیشہ ! اس نے درستگی سے کہا ۔
ہاں ؟؟؟ کیا؟؟؟ وہ ناسمجھی سے بولا ۔
اسکا لہجہ ان دونوں کو خوف مبتلا کرگیا۔
کیا مارشل؟ تم نے معزز مہمانوں کو میری دہشت کی داستانیں سنا کر پہلے ہی خوفزدہ کر دیا ! وہ رخ موڑ کر برہمی سے مارشل سے کہنے لگا ۔ جب اسکی نظر غیر ارادی طور پر ایمان کے سینے پر جھولتے لاکٹ پر پڑی ۔ وہ جھٹ سے سیدھا ۔ایمان کی سانسیں گلے میں اٹکنے لگیں ۔نبیشہ بھی خوفزدہ نگاہوں سے دیکھنے لگی ۔
اس نے ہاتھ بڑھا کر بے دردی سے لاکٹ کھینچ لیا !
پلیز یہ میرے بابا کی آخری نشانی ہے ،اسے واپس کردو پلیز پلیز ! وہ روتے ہوئے فریاد کرنے لگی ۔
ریئلی ؟؟؟ تمہارے باپ نے تمہیں مرنے سے پہلے دیا تھا ؟؟ یمان کو تعجب ہوا ۔
نہیں ، یہ مجھے میری بہن نے دیا ہے ! پلییز واپس کردو پلیز ! اسکی آواز اب سرگوشیوں میں بدلنے لگی ۔
ویری اسمارٹ ۔۔۔۔۔وہ متاثرہ انداز میں بولا ۔۔ بڑے شاطرانہ انداز میں لاکٹ کے اندر ٹریسر فٹ کیا گیا تھا۔
مگر اسکے سامنے یہ ہوشیاری کسی کام کی نہیں آنے والی تھی ۔اس نے لاکٹ زمین پر پھینکا اور بے رخی سے جوتے کے نیچے مسلنے لگا ! ان دونوں نے غم و غصے کے عالم میں یہ منظر دیکھا ۔
لڑکیوں کو اٹھا لائے اور چیکنگ تمہارا باپ کریگا کیا ؟ وہ رخ موڑ کر ان تینوں چاروں پر چلایا ۔
وہ دونوں خوف سے سہمی۔البتہ اسکی زبان سمجھنے سے قاصر تھی وہ جس زبان میں لوگوں سے مخاطب تھا ۔ کیسی چیکنگ سر ؟ مارشل نا سمجھی سے بولا ۔
اس ٹریسر کے ذریعے اگر تمہارے سسرالی یہاں پہنچ گئے تو اپنا انتظام تم لوگ خود کرلینا ! بے وقوف !
وہ سخت نگاہوں سے گھورتا ہوا انکی جانب مڑا ۔
پلیز ہمیں جانے دو ! ہم نے کچھ نہیں کیا ،ہم تو تمہیں جانتے بھی نہیں پلیز ! نبیشہ کو اسکے ہر ہر سے انداز خوف محسوس ہو رہا تھا ۔وہ باقاعدہ رودی ۔
ٹھیک ہے ! جانے دیں گے ،بلکل جانے دیں گے تمہیں مگر !
وہ رکا ۔۔۔۔ ساتھ ہی اسکے چلتے منہ کو بریک لگی ۔
اور ان دونوں کی سانسوں کو ۔
تھووو۔۔۔ کی آواز کے ساتھ اس نے ببل گم ایک طرف پھینکی اور سیدھا ہو بیٹھا ۔
ہمارا کام کرنا ہوگا تمہیں ! کردوگی تو آزاد ہو جائو گی ورنہ ۔۔۔
وہ معنی خیزی سے بات ادھوری چھوڑتا ان دونوں کو باری باری گھورنے لگا ۔
ان دونوں کی آنکھیں ابل کر باہر آنے کو تھی ۔
سمجھ گئی نا تم دونو؟ وہ تاکیدی نظروں سے دیکھنے لگا ۔ انکا تو یہ حال تھا آگے کنواں تھا اور پیچھے کھائی ۔
کام کیا تھا یہ تو خدا ہی جانتا تھا ۔ فلحال جان بچانا ضروری تھی ۔
سجھ گئی ؟؟؟ اسکی دھاڑ پر خوف و ہراس سے نبیشہ کا سر جھٹ سے ہلا۔
گڈ گرل ! اس نے متاثرہ نگاہوں سے سر جھٹکا ۔اور کرسی پر پھیلا ۔
غیر ملکی ہو تم دونوں ؟ وہ سرسری سا پوچھنے لگا ۔
ایمان کا سر اثبات میں ہلایا ۔
کیا کر رہی تھی یہاں؟ ہاتھوں کی مٹھی لبوں پر جماتا ہوا دلچسپی سے بولا ۔
اسکالر شپ پر اسٹڈی کے لیئے آئے تھے ! اس نے بمشکل جملہ ادا کیا۔ اس شخص کی نظریں خوف میں مبتلا کئے دے رہیں تھی ۔
چہ چہ چہ ! سن کر افسوس ہوا ۔۔۔پتا ہے یہ ملک ہی ایسا ہے ، باہر سے جتنا خوبصورت ہے اندر سے اتنا ہی سیاہ اور گہرا ہے ، میں بھی جب پہلی بار یہاں آیا تھا تو ایسا ہی تھا ! وہ بے چارگی بھرے لہجے میں بولا۔
ایمان کو لگا وہ اسکا مزاق اڑا رہا ہو جیسے ۔
پلیز ہمیں جانے دو ، ہم نے کچھ نہیں کیا خدا کے لیئے ! وہ ایک بار پھر ملتجی انداز میں گڑگڑائی ۔ مگر اس پتھر نما شخص کے سامنے رونا دھونا بیکار تھا ۔
سنو بچی ؟؟؟ کیوں آئی ؟؟؟ کیسے آئی ؟ اسکا علم تو مجھے بھی نہیں ! مگر اب آہی گئی تو اتنی آسانی سے نہیں جا سکتی تم۔۔۔۔ ہر رہائی کی ایک قیمت ہوتی ہے ! تمہیں بھی قیمت ادا کرنی پڑے گی ! ورنہ ۔۔۔۔وہ دو انگلیوں سے گن بنا کر اسکے ماتھے کی جانب پوائنٹ کرتا ہوا بولا ۔
ایمان خوف سے لرزی ۔
پلیز اسے کچھ مت کرنا ! نبیشہ نے دہائی دی ۔
نہیں کریگے ! دیکھتے ہیں تم کیا کرتی ہو ہمارے لئے ! وہ سپاٹ لہجے میں کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا۔
وہ کس مصیبت میں پھنس گئی تھی ۔
کہیں ، کہیں یہ وہی تو نہیں تھے ؟؟ وہ سیزیلین ؟؟؟
اس کے دماغ میں جھماکا سا ہوا ۔۔
وہ اس سے آگے سوچ ہی نہ سکی ۔ اگر ایسا تھا تو رومیصہ بلکل سہی تھی ۔ انکا بھی وہی حشر ہونے والا تھا جو انکے باپ کا ۔ یعنی وہ بھی گمنام موت مرنے والی تھی ۔
ت ت تم سیزیلین ہو ؟ وہ ہمت جٹاتی آخر کار بول پڑی ۔
یمان رک کر مڑا ۔ سزیلین کے نام پر اسکے ماتھے پر ناگواری کی لکیریں نمودار ہوئیں ۔۔۔۔
نہیں ، مگر اتنا جان لو کہ میں ان سے کئی زیادہ وحشی ہوں ! کرختگی سے کہتا باہر نکل گیا۔
جبکے وہ دنگ رہ گئی ۔
سیزیلین بھی نہیں تھے؟؟؟تو اور کون تھا پھر ؟؟
یااللہ رحم کر ہم پر ! وہ رودی ۔
یہ لوگ بہت خطرناک ہیں یہ ہمیں مار ڈالیں گے نبیشہ ! دیکھنا تم ! ایمان خوف سے منمنائی ۔
چپ کرو یار ایمان ،کم از کم مایوسی کی باتیں تو مت کرو ہم انکا کام کریں گے اور بدلے میں وہ ہمیں جانے دیں گے ، اب زیادہ مت سوچو ! وہ اسے تسلی دینے لگی ۔
تمہیں کیا معلوم وہ ہم سے کیا کروائیں گے نبیشہ !
بمباری ؟؟؟ قتل ؟؟؟ یا کچھ بھی ایسا ۔۔۔تو کیا ہم کر دیں گے ؟؟؟ ہم اپنی جان بچانے کی خاطر کسی کو نقصان نہیں پہنچائیں گے نبیشہ ؟؟؟ وہ زندگی سے بھرپور لڑکی آج بے بسی کی انتہائوں پر تھی ۔ نبیشہ نے بے اختیار آنسوئوں سے تر چہرہ اٹھا کر اسے دیکھا ۔ وہ سچ ہی تو کہہ رہی تھی ۔
**********************************
روم شہر میں دھوپ اپنا بوریا بستر سمیٹ چکی تھی ۔ انہی دنوں میں سے ایک دن شام ڈھل رہی تھی جب فرمان عاطِر کے وسیع عریض مینشن کے ٹیرس پر پرائیویٹ جیٹ اترا۔ پچاس سالہ شخص سفید بالوں میں انگلیاں پھیرتا ہوا جیٹ کی سیڑھیاں اترتا نیچے آیا ۔اور تکان بھرے انداز میں اپنا کوٹ ریگنر کی کی جانب بڑھا دیا ۔
ویلکم باس ! وہ خوشدلی سے کہتا اسکے پیچھے چلنے لگا ۔وہ سر خم دیتا آگے بڑھنے لگا ۔ فرمان آج دو مہنے بعد روس سے لوٹا تھا ۔ اسکے بعد اسکے بزنس سمیت تمام غیر معیاری بمع غیر قانونی کام جن میں وہ ملوث تھا ۔ یمان کے ذمے تھے ۔ جو یمان بخوبی انجان دے رہا تھا۔لفٹ انہیں دوسرے فلور پر پہنچا چکی تھی ۔ اس سے آگے راہداری سے گزر کر لائونج تھا ۔ جس میں یمان پہلے سے ہی موجود تھا۔
میری آنکھوں کی ٹھنڈک ! وہ بانہیں پھیلاتے ہوئے گرمجوشی سے یمان کی جانب بڑھا ۔
مگر مقابل سرد مہری سی تھی ۔وہ خاموشی سے اٹھا اور باپ کے بغل گیر ہوتے ہوئے دوبارہ صوفے پر ڈھے گیا ۔
کیسا ہے میرا شیر ؟؟ فرمان مقابل صوفے پر براجمان ہوا ۔جیسا نظر آرہا ہوں ! وہ سرسری سا کہتے ہوئے شراب کی بوتل گلاس میں انڈیلنے لگا ۔
کوئی مسلہ تو نہیں ہوا نا میرے بعد !
بھلا سر کے ہوتے ہوئے کیا مسلا ہو سکتا ہے ! مارشل کی پیش گوئی پر یمان نے تنقیدی نظر نگاہوں سے اسے دیکھا ۔
لیکن تمہارے ہوتے ہوئے بہت مسلے ہو رہے ہیں مارشل ! وہ اسکی توجہ ان لڑکیوں کی جانب دلانے لگا ۔ جنہیں وہ غلطی سے اٹھا لائے تھے ۔وہ ابھی بات مکمل کر رہا تھا کہ گارڈز نے افریقی نوجوان کے آنے کی اطلاع دی ۔
آنے دو ۔۔۔ اسے بھی آنے دو
فرمان نے لفظوں کو کھینچ کر ادا کیا
لمحے بھر میں وہ اسکے سامنے حاضر تھا ۔ اسکے کندھے جھکے ہوئے تھے ۔ جس سے فرمان نے اندازہ لگالیا تھا وہ اس بار بھی ہی ناکام لوٹا ہے ۔ اس نے ضبط سے مٹھیاں بھینچیں۔
کیا خبر لائے ہو پھر ؟ بظاہر اطمینان زدہ لہجے میں کہتا صوفے پر پھیلا ۔ جبکے یمان گلاس کو منہ لگائے بے نیاز سا نظر آنے لگا ۔
اس نے تو الٹا مجھے ہی گھما دیا باس !
اچھااااا ! فرمان زہر خندی سے گویا ہوا ۔
اس نے کہا میں تمہیں اسکا ڈبل دونگا تم ۔۔۔۔۔تممم یمان کو ماردو ! اس نے کہتے ہوئے سر ندامت سے جھکالیا
یمان نے بے ساختہ اس شخص کو دیکھا ۔
ہاہاہاہاہاہاہاہا ! وہ ہنسا اور سر پیچھے کی جانب گرائے ہنستا چلا گیا ۔ اسکے لئے یہ بات مزاق ہو جیسے
فرمان نے عجب نگاہوں سے سپوت کو دیکھا ۔ جبکے مارشل بھی زیر لب مسکرایا
اسکی غیر متوقع ہنسی نوجوان افریقی کو خوف میں مبتلا کرنے لگی ۔
وہ *** میرے ہاتھوں مرے گا دیکھنا تم ! وہ مطمئن سے انداز میں کہتے ہوئے گلاس لبوں سے لگانے لگا۔ اسکی آنکھوں میں شرارے سے پھوٹنے لگے
فرمان نے افسوس سے سر جھٹکا اور اٹھ کر آرام گاہ کی جانب بڑھ گیا ۔ یمان نے دو انگلیوں کے اشارے سے اس شخص کو غائب ہونے اشارہ دیا ۔تو وہ پل بھر میں نظروں سے اوجھل ہوگیا ۔جان بچی تو لاکھوں پائے
قبر تک مجھے اپنے پیچھے پائے گا وہ ! اس نے آخری گھونٹ حلق میں انڈیلا اور خیالوں میں بہرام کو برے برے القابات سے نوازتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
میری اجازت کے بغیر نہ کوئی اندر جائے گا اور نہ کوئی باہر آئے گا ! چاہئے وہ مر ہی کیوں نہ جائیں ! وہ مارشل کو سختی سے تنبہیہ کرتا ہوا بولا ۔اشارہ لڑکیوں کی جانب تھا ۔ اور ہاں ۔۔۔۔وہ جاتے جاتے رک کر مڑا ۔
اگلی ڈلیوری کا انتظام کرو ، دیکھتے ہیں لوگ جان بچانے کی خاطر کس حد تک جا سکتے ہیں ! وہ مزے سے کہتا آگے بڑھ گیا ۔ جبکے مارشل اثبات میں سر ہلاتا داخلی دروازے سے باہر نکل گیا ۔
***********************************
وہ سوئی جاگی کیفیت میں سر ایک طرف گرائے ہوئے تھی ۔جب اسکے کانوں سے ایمان کی آواز ٹکرائی ۔۔۔ اسکے سر ابھی بھی شدید درد تھا ۔۔
نبیشہ ! نبیشہ اٹھو مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔۔ پلیز۔۔ اٹھو ،
ایمان کی لرزتی آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی تو وہ ہمت جٹاتی سیدھی ہو بیٹھی ۔ اسکے سر میں درد سے شدید ٹھیسیں اٹھنے لگیں تھی ۔ ضرب لگنے کی وجہ سے خون نکل سر شاید جم چکا تھا ۔
و وہاں کوئی ہے۔۔۔ دیکھو ۔۔۔نبیشہ وہاں کوئی ہے !
وہ خوف سے کانپنے لگی ۔ اس نے رخ موڑا کر دیکھا تو سایہ سا لہرانے لگا۔ دروازے پر شاید کوئی پہرہ دے رہا تھا۔
ت تم ڈرو مت ایمان باہر کوئی ہوگا ! تبھی تو سایہ نظر آرہا ہے ۔۔ وہ تسلی دینے لگی ۔ ڈر اسے بھی لگ رہا تھا مگر کیا کرتی ؟
م مجھے بہت ڈر لگ رہا نبیشہ ! پ پ پلیز کچھ کرو
وہ خوف سے رودی ۔
ایمان پلیز چپ کرو یار، کیوں ہماری مشکلیں بڑھا رہی ہو اگر کسی نے سن لیا تو نہ جانے ہمارے ساتھ کیا کریں گے ! صبر کرو یار۔۔۔ اسکے گلے میں آنسوئوں کا پھندا سا لگا ۔
ایمان کو اک نئے خوف نے آ گھیرا ۔ وہ دو دنوں سے بھوکی پیاسی اس کجی نما کمرے میں قید تھی۔ کس قدر ظالم لوگ تھے کھانا تو دور کی بات پانی تک نہیں دیا پینے ۔ زندگی میں پہلی بار سخت مایوس کے عالم میں رونے لگی ۔ پلیز ایمان رو تو مت ! نبیشہ نے متلجی نگاہوں سے اسے اور پھر بند دروازے کو خوف سے دیکھا۔
میں نے رومی کے ساتھ بہت غلط کیا نا ؟؟؟ اسکا دل دکھایا تبھی میرے ساتھ ایسا ہو رہا ہے نا نبیشہ ؟؟؟
اسے اپنی آواز اتھاء گہرائیوں سے آتی سنائی دی ۔ نبیشہ نے بے یقینی سے اسے دیکھا ۔ اسے اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا۔
ی یہ تم کیسی باتیں کر رہی ہو ایمان؟ تم نے کچھ نہیں کیا اب چپ کرو ۔۔۔وہ اسے ڈپٹتی ہوئی بولی ۔
سچ کہہ رہی ہو نا ؟؟؟ رومی کا دل دکھانے کی سزا دی نا اللہ پاک نے مجھے ! آنسوئوں کے بیچ اسکی ہچکیاں بندھنے لگیں ۔نبیشہ سخت مایوسی سے اسے دیکھا اور رخ موڑ لیا ۔دو دن کی قید نے اس اس قدر حساس بنا دیا تھا کہ وہ خود کو رومیصہ کا مجرم سمجھنے لگی جبکے رومیصہ نے تو کبھی اسکا برا نہیں چاہا ۔ ہمیشہ در گزر سے کام لیا تھا ۔ وہ مر کر بھی ان دونوں کا برا نہیں چاہے گی اسے یقین تھا ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *