The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode02
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode02
The Dark by Uzzai Zehan Episode02
| ROME |
ITALY-(2015) 10-PM
قبرستان میں اس وقت بلا کا سناٹا تھا ۔ تڑ تڑ برستی بارش میں نفوس سیاہ چھتریوں سے اپنے سروں کو ڈھکے بارش سے بچنے کی کوشش میں تھے ۔ سینوں پر پچاس سالہ ‘مرحوم علی زمان’ کی(پاسپورٹ سائز) مسکراتی تصویر چسپاں کیئے ۔ سروں پر سیاہ اسارف لپیٹے ، آنکھوں پر چشمے لگائے ، تمام عورتوں کے چہروں پر افسردگی چھائی ہوئی ۔ ان سے زرا آگے ‘ زمان حیدر ‘ کے نام کی تختی کے قریب وہ بارش سے بے نیاز ، بھیگے کپڑوں، مٹی کی پرواہ کیئے بغیر تازہ بنائی گئی قبر کی مٹی پر محبت سے ہاتھ پھیر رہا تھا ۔آنکھوں میں غم و غصے اور چہرے پر بلا کی سنجیدگی تھی ۔سلطانہ آنکھوں میں آنسو لیئےانتہائی دکھ سے پوتے کی پشت کی گھور رہی تھیں ۔وہ اسے یکے دیگرے پانچ سالوں بعد دیکھ رہی تھی مگر انکی یہ خواہش بیٹے کے جنازے پر پوری ہوگی اسکا انہیں علم نہیں تھا
تبھی وہاں گاڑیوں کے ٹائر چرچرانے کی آوازیں آئیں اور پھر گارڈز دوڑتے ہوئے گاڑی کا دروازہ کھولے مالک کے آنے کا انتظار کرنے لگے ۔سیاہ لباس میں ملبوس رین کوٹ پر کلیسی بوٹس پہنے وہ شاندار شخص آنکھوں سے چشما ہٹاتے ہوئے گارڈز کو وہیں رہنے کا اشارہ کیا اور آگے بڑھنے لگا قبر پر ہاتھ حرکت بحرام کے ہاتھ تھمے
اسکی توقع کے عین مطابق ‘وہ’ چلا آیا تھا
اپنا Aura قبرستان کے باہر چھوڑ کر آئو ! وہ روکھے لہجے میں بولا۔
condolence !
وہ شخص اسکی بات کو نظر انداز کرتے ہوئے بولا
اور عین اسکی پشت کے قریب جا کھڑا ہوا ۔ اور ہاتھ آگے باندھ لیئے
دوستی کا دعوی مت کرنا ؟؟ جبکے تمہاری دشمنی کی زندہ مثال میرے سامنے ہے ! بحرام اس پر نگاہ غلط ڈالے بغیر بولا۔
REST IN PEACE ‘
و نرم نگاہوں سے قبر کے جانب منہ کیئے دو انگلیاں ماتھے پھر سینے ، اور پھر دائیں بائیں اپنے کندھوں پر لگاتے ہوئے بولا
بحرام اپنا سوال نظر انداز کیئے جانے پر اٹھ کھڑا ہوا
کل رات میں تھوڑانشے میں تھا ، اسلئے آ نہیں ،
تم ابھی بھی نشے میں لگ رہے ہو ! وہ اسکی بات کاٹ کر مڑے بغیر بولا
معزرت ، لیکن یہ میں نے نہیں کیا میں اس حد! سرد لجے میں کہتے ہوئے یمان نے نگاہوں کا رخ پھیر لیا
معافی مانگنی ہے تو صفائی مت دو ، صفائی دینا چاہتے ہو تو معافی مت مانگو ! وہ مڑ کر سخت نگاہوں سے اس شخص کو دیکھا
یہ قبرستان ہے، یہاں تماشہ مت کرو بحرام ،میں صرف تمہارے باپ کی تعذیت کے لئے آیا ہوں
یمان نے جیسے یاد دلایا اور لہجے میں نرمی برقرار رکھنے کی بھرپور کوشش کی
سہی فرمایا یمان عاطر،یہ قبرستان ہے اطراف میں نگاہ دوڑائو ،اور اپنے لئے جگہ تلاش کرلو کیونکہ میں یہ قبرستان تمہارے لوگوں سے بھر دونگا! وہ بولا ۔ نہ ہی دکھ ، نہ غم نہ غصہ اسے کچھ محسوس نہ ہوا ۔ وہ شخص پتھر ہو جیسے
اوپر والا تمہیں سکون بخشے ! وہ اسکے سینے پر تھپکی دیتے ہوئے بولا ۔ مگر ، وہ رکا ۔ اسے نمی محسوس ہوئی تھی
اچھا ہوا جنگ کی شروعات میں پہل تم نے کی !
آج سے تم اپنے باپ کی اولاد ،اور میں اپنے باپ کی !
اتنے سالوں سے وہ دونوں ہی اپنے ساتھ دوستی کا بوسیدہ سا رشتہ گھسیٹتے آرہے تھے مگر بحرام کسی صورت اپنے باپ کا خون انہیں معاف کرنے کے حق میں نہیں تھا
اسکی دھیمی آواز پر وہ شاکڈ نظروں سے کبھی اپنے خون آلود ہاتھ تو کبھی اسکے سینے کو دیکھتا
وہ زخمی تھا ! لیکن ، اس نے یہ نہیں کیا تھا !
اس ملک میں اور کس کی اتنی جرات تھی بھلا؟
ہاں ،اور وہ تھا اسکا باپ ! یمان دنگ رہ گیا بحرام کی کہی گئی بات کا عنوان اب صاف سمجھ آیا ۔
اسکے باپ نے اسکے علم میں لائے بغیر علی زمان کو قتل کردیا ؟ وہ بھی اپنے ‘لیڈر’ کو !
فون کی رینگنے پر وہ سوچوں سے باہر آیا ۔
اور ایک نظر بحرام پر ڈالی ۔جو اسکی طرف پشت کیئے قبر کے قریب بیٹھا تھا
اور تیز تیز چلتا ہوا نظروں سے اوجھل ہوگیا
فیملی کو ٹائیگر ہلز پر پہنچانا تمہاری زمہ داری ہے ، اور ڈاکٹر سیانا کو انفارم کرو ایمرجنسی ہے ، میں انہیں ہاسپٹل لے جا رہا ہوں ، دو بجے ہمارے جہاز تزلہ پورٹ پر آئیں گے ،انہیں جہاز میں شفٹ کرنا اور پاکستان بھجوا دینا !
سمجھ گئی تم؟
ملک نے کان میں موجود آلے پر ہاتھ رکھے سرگوشی کی۔ جبکے نظریں خواتین کی صف میں کھڑی بحرام کی مینیجر مینیجر پر تھیں
جیسے تم کہو ! دیبورہ نے اسے دیکھ کر مئودبانہ سر جھکایا۔
معذورت , آپ سبھی کو یہاں سے جانا ہوگا میم ، وہ بولی ۔ مجھے میرے بیٹے سے بات کرنی ہے! وہ عورت آنسوئوں کے درمیان بولی
یہ پاسبل نہیں ہے میم اس وقت، پلیز ٹرائے این انڈراسٹینڈ !
وہ میرا بیٹا ہے تم کون ہوتی ہو مجھے انسٹرکشنز دینے والی ! وہ برہم ہوئیں
پلیز سمجھنے کی کوشش کریں ،وہ اس وقت زخمی ہیں انہیں ٹریٹمنٹ کی سخت ضرورت ہے ،مجھے جو انٹرکشنز ملے ہیں اسی کو فالو کر رہی ہو پلیز کوپریٹ میم پلیز ! وہ منت بھرے انداز میں بولی
سلطانہ سمیت وہ سبھی شاکی نگاہوں سے اسکی پیٹھ کو گھورتی آگے بڑھنے لگیں
پلیز ! دیبورہ نے باقی خواتین کو راستہ دکھایا اور سکیورٹی انچارج سے بات کرنے لگی
اس نے سفید رومال بچھا کر قبر کی کچھ مٹی اس میں قید کرلی۔ اور سر اٹھا کر ایک نظر ملک کو دیکھا جو مضطرب نظر آرہا تھا ۔ اسکی آنکھیں اب دھیرے دھیرے بند ہونے لگیں تھیں
۔ باس ، باس وہ فکر مندی کہتا ہوا اسکی طرف بڑھنے لگا ۔
بحرام پوری قوت سے اسکا کندھا تھام کر اپنے پیروں پر اٹھا ۔
میں ڈھونڈ لو گا بابا ، ڈھونڈ لو گا اس قاتل کو بھی اور ایسی سزا دونگا کہ اسکی آنے والی نسلیں اپنے حشر پر ماتم منائیں گی ! افسردگی سے کہتے اس نے رومال مٹھی میں دبوچا اور ملک کا کندھا تھامے دھیرے دھیرے قدم اٹھانے لگا۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
رومیصہ نے گھڑی پر وقت دیکھا جو شام کے سات بجا رہی تھی ۔ کچھ یاد آنے پر اس نے جلدی جلدی اپنے سامنے رکھے پیپرز جس میں اخبارات کے کٹے ہوئے حصے بھی تھے کا زخیرہ سمیٹا اور کمپیوٹر شٹ ڈائون کرنے کے بعد پیپیز بیگ میں ٹھونستی آفس سے باہر نکل آئی ۔ ہاتھ بڑھا کر ٹیکسی روکتے ہوئے اس نے پولیس اسٹیشن کا ایڈریس سمجھایا اور مضطرب انداز میں انگلیاں چٹخانے لگی ۔ آج وہ کسی بھی حالت میں آفیسر کو جانے نہیں دے سکتی تھی وہ ان سے جان کر ہی دم لے گی اس نے سوچ لیا تھا۔ ٹیکسی پولیس اسٹیشن کے سامنے رکتے ہی وہ تیزی باہر نکل آئی ۔ کرایہ ادا کرنے کے بعد اس نے ایک نظر اطراف میں ڈالی لوگوں کی نظریں اس اپنے اندر پیوست ہوتی محسوس ہورہی تھی ۔ اوپر سے شام ڈھل رہی تھی ایک پل کو اسکا دل چاہا بھاگ جائے یہاں مگر وہ اتنے ہفتوں کی محنت برباد نہیں جانے دے سکتی تھی ۔
اگلے ہی پل وہ ارادہ بدلتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گئی ۔ حوالدار کے چہرے پر اسے دیکھتے ہی ناگواری چھا گئی
تم پھر آگئی ؟؟ وہ رعبدار آواز میں غرایا
کون ہے مقصودے ؟؟ اندر سے آواز آئی
یقینا انسپکٹر صاحب کی تھی وہ پہچانتی تھی اس آواز کو
سر پلیز مجھے ایک بار فائلز دیکھنے دیں ! اس نے اندر کی طرف منہ کرتے ہوئے ہانک لگائی
صاب جی وہی جرنلسٹ صاحبہ ہیں ۔ روز دماغ کی دہی کرنے کے لیئے تشریف لے آتی ہیں
جائو بی بی ! اپنا کام کرو ،تنگ نہ کرو ! مقصود ناگواری سے گویا ہوا ۔ ان آوازوں سے انسپکٹر صاحب کے چہرے پر ناگواری اور غصے سے ملے جلے تاثرات ثنان سے صاف نوٹ کیئے
سر ایک منٹ ! میں ابھی آیا۔ وہ ثنان سے معزرت کرتا اٹھا اور باہر نکل گیا
تمہیں ایک بات سمجھ میں نہیں آتی لڑکی ! روز منہ اٹھا کر چلی آتی ہو ! دفعان ہوجائو یہاں سے ورنہ بہت برا ہوگا ! وہ تقریبا چیخا
ثنان اٹھا اور دروازہ سے باہر نکل آیا
سر پلیز ! بس ایک بار میری ہیلپ کردیں میں زندگی بھر آپکی مشکور رہو گی ! پلیز سر پلیز وہ منتوں پر اتر آئی ۔ اسکی ہٹ دھرمی انسپکٹر کو غصہ دلاگئی
وہ غصے سے اسکی کہنی دبوچے گھسیٹتا ہوا لایا اور پولیس اسٹیشن سے باہر زور دھکا دیا اور ٹھاہ ‘ سے دروازہ بند کردیا ۔ ثنان افسوس سے مٹھیاں بھینچ کر رہ گیا
کس قدر نا معقول سلوک تھا ایک قانونی افسر کا اپنے شہری کے ساتھ
سوری سر بیٹھیں آپ ! انسپکٹر اپنی کرسی سمبھالتا ہوا بولا
کون تھی یہ؟ وہ پوچھے بغیر نہ رہ سکا
چھوڑیں سر ! پیشے سے جرنلسٹ ہے ! روز منہ اٹھا کے آجاتی ہے ! بتائو میرا باپ کس سے ملتا تھا جیل میں ! کسے خط لکھتا تھا ؟ وغیرہ وغیرہ ! بتائو ؟ ہمیں اور کوئی کام نہیں بس سب چھوڑ چھاڑ کر ایک مردہ شخص کے بارے تفتیش جاری کردیں ! حد ہے انسپکٹر اکتائے ہوئے لہجے میں کہتا اسکی بتائی گئی فائل تلاشنے میں مصروف تھا
تو مطلب مرگیا وہ شخص ؟ یعنی اسکا باپ ؟ ثنان قدرے حیرت سے پوچھنے لگا
ہاں ! کچھ سال پہلے جیل میں ہارٹ اٹیک سے مر گیا تھا ! وہ جھلایا ۔ثنان کو عجیب سا لگا سن کر
یہ لیں سر آپکی فائل ! فائل ملنے پر انسپکٹر کے چہرے سے اکتاہٹ ہوا ہوگئی اور وہ جان چھڑانے کے سے انداز میں بولا۔ شکریہ ! وہ کہتے ہی تیزی سے باہر نکل آیا ۔ مگر وہ لڑکی کہیں موجود نہ تھی ۔ بیرونی سیڑھیوں پر خون کی بوندیں چمک رہی تھی ۔ یقینا اس لڑکی چوٹ لگی ہوگی
اگر کسی اور مدد کی ضرورت ہو تو بتانا سر ! انسپکٹر داخلی دروازے پر کھڑا فخر سے سر بلند کیئے بولا
وہ رک کر مڑا اور کھا جانے والی نظروں سے انسپکٹر کو دیکھتے ہوئے بولا
ہم اپنے کیس خود سولو کرتے ہیں اور یہ جسے تم مدد کہہ رہے ہو یہ مدد نہیں تمہارا فرض ہے اگر یہ بھی نہیں کر سکتے تو ریزائن کردو ! سمجھے ؟ ثنان کو اسکی ڈھٹائی پر بے حد غصہ آیا
وہ افسوس سے سر جھٹکتا فون پر چیف کا نمبر ڈائل کرتے ہوئے اپنے جیپ کی جانب بڑھ گیا۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
وہ اپنی ہتھیلی کی پرواہ کیئے بغیر اٹھی اور گھر آگئی ۔ بیگ صوفے پر پھنکتے ہوئے وہ شکست خوردہ قدموں سے چلتی ہوئی اپنے کمرے میں آئی اور بیڈ پر گرنے کے سے انداز میں لیٹ گئی ۔ آنسو آنکھوں سے رواں سے تھے ۔ اسے اپنی ہتھیلی سمیت پورا جسم جلتا ہوئی محسوس ہو رہا تھا۔ کچن سے گزرتے ہوئے ایمان کی نظر اس پر پڑی
وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی ۔
تمہاری مجھ سے کیا دشمنی ہے آخر؟ تم نے نبیشہ کی فیس پے کردی لیکن میرے لیئے تمہارے پاس پیسے نہیں ہیں ؟
ہے نا؟ گلا کنگھارتے ہوئے وہ جان بوجھ کر زرا اونچی آواز میں بولی
مگر سامنے سے کوئی جواب نہ ملا تو پھر سے جھلائی تمہاری وجہ سے آج مجھے ہیڈ سے اتنی ڈانٹ پڑی ، اگر نہیں افوارڈ کر سکتی تو ہمیں گورمنٹ کالج میں ایڈمٹ کروا دیتی ! یہ دکھاوا کرنے کی کیا ضرورت تھی کہ تم ہم پر اپنی تمام تر پونچھی خرچ کر رہی ہو ! وہ بغیر سوچے سمجھے بولتی جارہی تھی
رومیصہ کے دل میں اسکے الفاظ تیز کی طرح پیوست ہوئے تھے
کیا ہورہا ہے یہاں ؟ نبیشہ اسکی آوازوں سے آنکھیں مسلتی باہر آئی
یہ تم اس سے کیوں نہیں پوچھتی ! تمہیں فیس کے پیسے دیئے اس نے اور مجھے نہیں دیئے ، کیوں آخر ؟ وہ چیخی ۔ تمیز کے دائرے میں رہو ایمان !مت بھولو اپنی بڑی بہن سے بات کر رہی ہو نبیشہ کو اسکا رویہ ایک آنکھ نہ بھایا
بلا ارادہ اسکی نظر بیڈ پر بے حال پڑی رومیصہ کی جانب گئی
رومی ؟؟؟ وہ تیزی سے اسکی جانب بڑھی
کیا ہوا تمہیں ؟ وہ پریشانی سے اسکا ٹمپریچر چیک کرنے لگی
کچھ نہیں ہوا ! میں ٹھیک ہوں ! وہ اسکا ہاتھ ہٹاتی ہوئی ایمان سے مخاطب ہوئی ! میں بھول گئی تھی ، تم کل اپنی فیس لے لینا ! کل میری سیلیری آجائے گی اور میں خود تمہاری ہیڈ سے معزرت کر آئونگی!
ہونہہ ! ایمان سفاکی سے کہتی باہر نکل گئی ۔
تم ٹھیک ہو نا ؟؟؟ نبیشہ کا لہجہ بھیگا
وہ اسے ٹھیک نہیں لگ رہی تھی
ہمممم ! پھیکی سی مسکراہٹ کے ساتھ سر ہلاتے ہوئے رومیصہ نے نہ محسوس طریقے سے اپنا زخمی ہاتھ کمر سے لگا لیا
اچھا ! تم کھانا کھائو گی ؟ وہ مسکراتے ہوئے پوچھنے لگی ۔ نہیں مجھے بھوک نہیں میں آرام کرنا چاہتی ہوں ! وہ تھکے تھکے سے انداز میں بولی
نبیشہ خاموشی سے اٹھی اور ایک نظر بیڈ شیٹ پر خون کے دھبے پر ڈالتے ہوئے خاموشی سے باہر نکل گئی
وہ دیکھ چکی تھی اسکے ہاتھ سے خون بہہ رہا تھا ۔ اسکے کمرے کا دروازہ بند کرنے کے بعد وہ اپنے اور ایمان کے مشترکہ کمرے میں آگئی
کیا حرکت تھی یہ؟؟؟ وہ دبہ دبہ غرائی
کیا؟ وہ بھنویں اچکا کر ایسے پوچھنے لگی جیسے کچھ ہوا ہی نہ ہو
تم بہت پچھتائو گی ایک دن ! اور اس دن تمہارے پاس سوائے پچھتانے کے کچھ نہیں ہوگا ! کچھ بھی نہیں ، وہ لفظوں پر زور دیتی ہوئی بولی
ڈرو اس وقت سے اور اپنی حرکتیں سدھارو ! ورنہ میں بہت برا پیش آئونگی ! سمجھی تم ؟ وہ اسے جھاڑ پلاتی ۔ سائیڈ ٹیبل سے فرسٹایڈ باکس لیئے باہر نکل گئی
ایمان پیر پٹخ کر رہ گئی ۔ رومیصہ یقینا سو چکی ہوگی وہ کچھ دیر بعد خاموشی اسکے کمرے میں داخل ہوئی ۔ سائیڈ ٹیبل پر سلپنگ پلز دیکھ کر اسکا دل دکھ سے بھر گیا۔ وہ اپنی زات کے مکمل بھلائے انکے لیئے جی رہی تھی ۔اس پر ایمان کا رویہ رومیصہ کے لیئے کس قدر ازیت کا باعث بنتا ہوگا وہ سمجھ سکتی تھی ۔ اس نے سلپنز پلز سائیڈ ڈرار میں رکھی اور اسے کمفرٹر اوڑھانے کے بعد فرسٹ ایڈ باکس کھولے اسکے ہاتھ کا معائنہ کرنے لگی ۔ جس پر خون نجانے کب کا جم چکا تھا۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
آج سیاستدان خاور حسین کو نیب کے سامنے پیش کیا جانا تھا ۔ وہ سب عمارت کے سامنے بنے گرائونڈ میں انتظار کر رہے تھے ہر طرف پولیس کے کارکنان سکیورٹی کو یقینی بنانے کی کوشش میں تھے
وہ اپنے زخمی ہاتھ کو گھورتی نہ جانے کن سوچوں میں مصروف تھی جب کالے رنگ کی چمچماتی گاڑی اس سے کچھ دوری پر آرکی وہ چونک کر مڑی اور نظریں سامنے جمادیں ۔گارڈز بھاگتے ہوئے بیک سیٹ کا دروازہ کھولے اسکے باہر آنے کا انتظار کرنے لگے ۔ آنکھوں پر بلیک گلاسز جمائے ، سفید چست شرٹ پر بلیک رنگ کی بلٹ پروف جیکٹ پہنے وہ جو کوئی بھی بہت خوبصورت تھا گولیاں گن میں لوڈ کرتے ہوئے اس نے گن پشٹ میں اڑسی اور اپنے اسسٹنٹ سے مخاطب ہوا
ہاں ثنان؟ کیا رپورٹ ہے ؟ وہ بالوں کو انگلیوں سے سیٹ کرتے ہوئے ثنان سے سوال کرنے لگا
مطمئن رہیں سر ! ہم نے ہر طرف چیک کرکے تسلی کرلی ہے سب کلیئر ہے ،
ہممم ! ٹھیک ہے تم یہی رکو میں آتا ہو ! وہ سر ہلاتے ہوئے اندر کی طرف بڑھ گیا
یہ کون ہے ؟؟ وہ بھنویں سکیڑے اپنے ٹیم میٹ سے پوچھنے لگی
کون وہ جو ابھی اندر گیا ؟؟ وہ بلڈنگ کی طرف اشارہ کرتے ہوئے بولا
ہاں وہی ! وہ تھکے تھکے انداز میں بنچ پر ٹک گئی
یہ اطہر ہے ، اطہر کاظمی نام ہے اسکا ! کرائم آرگنائز ڈپارٹمنٹ کا ہیڈ ہے ، اور وہ جو باہر ابھی اس سے بات کر رہا تھا وہ اسکا اسسٹنٹ ہے ! وہ تفصیل سے بیان کرنے لگا
تم کیوں پوچھ رہی ہو ؟ اسے تشویش ہونے لگی
ایسے ہی وہ کندھے اچکاتی اٹھ کھڑی ہوئی
تم مجھے پانی لادو گے پلیز ! اسے طبیعت عجیب ہوتی معلوم ہو رہی تھی ۔وہ سر ہلاتا ہوا وہاں سے چلا گیا
اس نے صبح جلدی کے چکر میں بریک فاسٹ کیئے بغیر پین کلر کھالی تھی ۔ اب اسے چکر آنے لگے تھے
وہ اپنا سر تھامے لڑکھڑائی اس سے پہلے وہ گرتی ثنان تیزی سے بھاگتا ہوا کیاریاں پھلانگتے اسکی طرف آیا
آر یو اوکے ؟؟ وہ اسکی کہنی تھامے نرمی سے گویا ہوا
وہ ادھ کھلی آنکھوں سے اسے پہچاننے کی کوشش کرنے لگی مگر اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھانے لگا ۔ وہ اسکی بانہوں میں جھول گئی
ہے ہے ! وہ ہڑبڑاتے ہوئے اسے تھامے بنچ تک لے آیا
کیا ہوا اسے ؟؟ رومیصہ ؟؟؟ اسکا ٹیم میٹ پانی کی بوتل تھامے تقریبا بھاگتا ہوا اسکی طرف آیا
یہ مس یہاں بے ہوش ہو گئی ہیں! وہ جلدی سے بولا
پانی کی چند بوندیں اسے ہوش میں لے آئی
آر یو اوکے؟؟؟ وہ اپنا سوال پھر سے دہرانے لگا
وہ معذرت خواہاں نظروں سے ان دونوں کو دیکھتی تیزی سے اثبات میں سر ہلانے لگی
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ! اپنا خیال رکھیئے ! وہ اسکے زخمی ہاتھ کو دیکھتے ہوئے بولا۔وہ اسے پہچان چکا تھا وہ وہی پولیس اسٹیشن والی لڑکی تھی ۔ اسکے دل میں نہ جانے کیا سمائی وہ رک کر مڑا اور !
اگر کسی ہیلپ کی ضرورت ہوتو مجھے بتائیے گا ! کہتے ہوئے واپس مڑگیا
ایک منٹ ؟ رومیصہ نا سمجھی سے ہانکی
جی ؟میں؟ وہ مسکرایا
آپ مجھے جانتے ہیں ؟ وہ تجسس سے پوچھنے لگی
نہیں تو ! وہ مزے سے کندھے اچکاتے ہوئے بولا
تو پھر آپکو کیسے پتا مجھے کسی ہیلپ کی ضرورت ہے ؟؟؟ ثنان اسکے سوال پر مسکرایا اور دائیں بائیں رپورٹرز اور جرنلسٹ کو ایک نظر دیکھتے ہوئے زرا اسکے نزدیک ہوتے ہوئے بولا
تو مطلب آپکو اپنے بابا کے بارے میں نہیں جاننا ! اتنا کہنا تھا کہ رومیصہ کے چہرے پر مسکراہٹ دوڑ گئی ۔ جیسے کسی نے زندگی کی نوید سنا دی ہو
اسے مسکراتا دیکھ کر ثنان مسکرایا اور جیب سے اپنا کارڈ نکالتے ہوئے اسکے ہاتھ میں تھما دیا ۔ اور انگوٹھا کان کے قریب کرتے ہوئے اسے کال کرنے اشارہ کرنے لگا
وہ بے اختیار ہنس دی ۔ اطہر کو باہر آتا دیکھ کر وہ تیزی سے مڑ گیا
رومیصہ کارڈ کو دیکھ کر دل سے مسکرائی آخر کار خدا نے اسکی سن لی تھی
افف میں بھی کتنی بے وقوف ہوں اپنا تعارف تو کروایا ہی نہیں !
رومیصہ ! وہ اسکی پشت پر تیزی سے چلائی
ثِنان ! وہ تقریبا چیختے ہوئے بولا اور کیاریاں پھلانگتے ہوئے بلیک مرسڈیز کے قریب جا کھڑا ہوا
رومیصہ مسکراتے ہوئے کارڈ کو بیگ کے اننر میں رکھنے لگی
چلو ! وہ باہر آتے ہی تقریبا خاور حسین کی کہنی کھینچتے ہوئے اسے گاڑی سے نکالے اندر لے جانے لگا ۔ اور ثنان اسکی مدد کو آتے ہوئے میڈیا اور رپورٹرز کو ہٹانے لگا۔ تقریبا آدھے گھنٹے کی پیشی کے بعد وہ اسی طرح اسے کھینچے باہر لایا اور میڈیا اور جرنلسٹ کو ڈپٹتے ہوئے خاموش رہنے کا اشارہ دیا اور انہیں پندرہ منٹ کا وقت دیتے ہوئے اپنے فون پر کوئی نمبر ڈائل کرنے لگا
چلو جلدی ہمارے پاس صرف پندرہ منٹ ہیں اسکا ٹیم میٹ اسکے پاس آتے ہی عجلت اسے اپنے چیزیں سمیٹنے لگا
تم جاکر نوٹ کرو میں ریکارڈ کرونگی آج ! میرے ہاتھ میں چوٹ آئی ہے میں لکھ نہیں سکتی ! وہ بیگ سمیٹتی اٹھ کھڑی ہوئی
اتنے لوگوں کی بھیڑ اور شور میں اسے دور سے ہی چکر آنے لگے تھے ۔ وہ زرا دور کھڑی بھیڑ کم ہونے کا انتظار کرنے لگی ۔ مگر میڈیا تو گڑھے مردے اکھاڑنے بیٹھ گیا تھا ۔ وہ سخت اکتاہٹ کا شکار ہونے لگی
اتنے میں وقت تمام ہوچکا تھا ۔ اطہر کاظمی نامی بلا کی دھاڑ سنتے ہی تمام لوگ پیچھے ہٹ گئے ۔ پولیس کے کچھ لوگ اور ثنان اسے ساتھ موجود تھے جبکے وہ ہیڈ اسے کہیں نظر نہیں آیا
ثِنان؟؟؟ وہ دھیرے سے اسکے پاس آتے ہوئے بولی
یس میم ؟؟ وہ حیرت اور خوشی ملے جلے تاثرات سے اسکی پکار کا جواب دینے لگا
کیا میں پانچ منٹ بات کر سکتی ہوں ؟؟ وہ درخواست کرنے لگی
ٹائم اوور ہوچکا ہے ڈیئر ! اور تم جانتی نہیں ہمارے چیف بہت اسٹرکٹ ہیں ! وہ آخری کے الفاظ رازداری سے کہنے لگا پلیز !! وہ مصر ہوئی
ٹھیک ہے اتنی سی فیور تو تمہیں دے ہی سکتا ہوں ! ہماری نئی نئی دوستی ہے نام ! وہ دوستانہ انداز میں مسکراتے ہوئے بولا تو رومیصہ کے چہرے پر بھی خوشی کے تاثرات جگمگائے ۔ جبکے گاڑی کے اس پار فون پر نمبر ڈائل کرتے اطہر کاظمی نے انکی تمام گفتگو دیکھی اور سنی تھی ۔ لیکن صرف پانچ منٹ ؟ ورنہ چیف مجھے فائر کردینگے ! وہ انگلی اٹھائے تاکید کرنے لگا
اور ساتھ گاڑی کا دروازہ ایک طرف سرکایا جہاں خاور حیسن کو رکھا گیا تھا ۔ وہ پولیس کو ہدایت دیتا بلڈنگ کے اندر کی جانب بڑھ گیا
اسکے جاتے ہی وہ تیزی سے اسکی طرف بڑھی ۔ خاور حسین اسے دیکھ کر ناگواری سے ماتھا شکن ہونے لگا۔ تو ؟؟؟ کیسے ہیں آپ ؟ میرے پیارے ماموں جان ! آخر کے الفاظ اس نے چبا چبا کر ادا کیئے
گاڑی کے اس پار کھڑے اطہر کے کان کھڑے ہوگئے ۔ وہ نا سمجھی سے بھنویں سکیڑتا فون کان سے ہٹا کر انکی گفتگو پر دھیان دینے لگا
تم یہاں بھی آ گئی !
آں آن! آپ بھول گئے آپ نے میری لاء کی ڈگری بار کونسل کو بھیج کر مجھے فائر کروا دیا ہے ! کیا کروں ،اب میں جرنلسٹ ہوں نا ! تو یہ میری ڈیوٹی ہے !
وہ ڈرامائی انداز میں بولی
یہ تو ابھی شروعات ہے ! کہا تھا نا میں نے ! تمہاری سات نسلیں جیل کاٹیں گی ! وہ زور سے ہاتھ گاڑی کی روف پر مارتے ہوئے نفرت سے بولی
اطہر چونک کر اس ادنی سی لڑکی کو دیکھنے لگا جس کے چہرے سے لگ رہا تھا ابھی رو دے گی اور باتوں سے میدان جنگ فتح کرنے کی صلاحیت رکھتی تھی
خاور اسکی باتوں پر ہنسا اور ہنستا چلا گیا !
میں کورٹ میں یہ ثابت کردونگی کہ میری ماں، میرے باپ ، میرے بھائی کے قاتل بھی تم ہی ہو ! دیکھنا تم ،
یہ تو تب ہوگا نا جب تم زندہ رہو گی ! وہ نفرت سے پھنکارتے ہوئے اسکا زخمی ہاتھ دبوچے اپنے طرف کھینچا ۔ آہہہ !وہ جبڑے بھنچتے ہوئے برادشت کی آخری حد پر تھی ۔تم میرا کچھ نہیں بگاڑ سکتی ،کچھ بھی نہیں ! وہ اسکی ہتھیلی پر دبائو ڈالتے ہوئے غرایا
بہتر ہوگا کہ تم اپنی سوتیلی بہنوں کو لو اور یہاں سے دفع ہوجائو ورنہ اپنی ماں کی طرح تم بھی ازیت ناک موت مروگی اور کسی کو خبر بھی نہیں ہوگی ! وہ زہر اگلتے ہوئے اسکا ہاتھ دور جھٹکتے ہوئے بولا
مجھے اگر کچھ ہوا تو میں تمہیں بھی نہیں چھوڑوں گی ، تم ہماری زندگی برباد کی ہے نا تم جیل میں بے عیار و مدد گار مرو گے ، دیکھنا اپنی پیدائش کے دن کو کوسوگے تم، جہنمی انسان ! وہ نفرت سے پھنکاری
چہ چہ میں تمہارے باپ کی طرح نہیں ہوں جو جیل میں لاوارثوں کی طرح مرجائونگا میں خاور حسین ہوں ، تم دیکھو گی ایک بار پھر میری شہرت کے عروج کو ! وہ زہر خند لہجے میں مسکرایا
تمہاری ہمت کیسے ہوئی میرے بابا کا نام بھی لینے کی ! اسکی برداشت جواب دے گئی
ارے ارے کیا کر رہی ہو ! اس سے پہلے وہ اس شخص پر جھپٹ پڑتی
ثنان کی آواز پر اپنا زخمی ہاتھ جھٹکتی ایک طرف ہوگئی ۔ ہر عروج کو زوال ہے خاور حسین ! تمہارا برا وقت اب سے شروع ہے جلد پھانسی کے پھندا تمہارے گلے میں ہوگا یہ میرا وعدہ ہے تم سے وہ نفرت سے چلائی
ثنان حیرت سے کبھی اسکے لال بھبھوکے چہرے کو دیکھتا تو کبھی خاور حسین کو
چلو ! اطہر آنکھوں پر گاگلز جماتا ہوا گاڑی میں آ بیٹھا ۔ ثنان ہڑبڑاتے ہوئے تیزی سے دروازہ بند کیا اور گاڑی آگے بڑھ گئی
تم بہت جلد اپنی اصلی جگہ پر ہوگے ، یاد رکھنا وہ انکی پشت پر چلائی
ثنان حیرت کے سمندر میں غوطہ زن تھا جبکے اطہر کے کانوں نے اسکے جملے لفظ بہ لفظ سنے ۔ وہ انکی گفتگو سننے کے بعد سچ اور جھوٹ کے درمیان الجھن کا شکار تھا
