Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode17

The Dark by Uzzai Zehan Episode17

MOSCOW | RUSSIA
ویلکم ٹو می ! پر جوش انداز میں کہتے ہوئے بانہیں پھیلائیں ۔ تاتیہ نے ہاتھ کے اشارے سے اپنے مینیجر کو جانے کا حکم دیا ۔
ویلکم ہوم مائی سن ! وہ استقبال کے لئے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ میں نے تمہیں بہت مس کیا تاتیہ ! وہ گلے لگتے ہوئے بولا ۔ بظاہر تو ایسا ہی لگ رہا ہے تبھی تم جلدی واپس آگئے ! وہ اس سے الگ ہوتی ہوئی بولی ۔
وہاں رکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا تھا اسلئے ٹریننگ سیشنز ختم ہوتے ہی واپس آگیا !
وہ تکان سے آنکھیں رگڑتا صوفے گرنے کے انداز میں بیٹھا ۔ ہممم! اچھا کیا تم نے !
وہ خشدلی سے کہتی ہوئے اسکے قریب بیٹھ گئیں ۔ یشم اپنی پرانی روٹین پر واپس لوٹ رہا تھا ۔انہیں اور کیا چاہیئے تھا ۔
کیا ہو رہا تھا ؟ وہ سرسری سا پوچھنے لگا ۔
کچھ خاص نہیں ! تمہارے لیئے انویٹیشن آیا ہے ! ساتھ ٹیبل سے خوبصورت نقشوں والا لفافہ اٹھایا اور یشم کی طرف بڑھایا۔
کیسا انویٹیشن ؟ وہ سوالیہ نظروں سے دیکھتا ہوا۔ لفافہ تھام کر کھونے لگا ۔
گولڈن ایوارڈز کی طرف سے ہمہیں انویٹیشن آیا! تم پلیئر آف دا ایئر کے لیئے نامزد ہوئے ہو ! وہ خوشی سے کھلکھلائیں ۔
شرائے ہینڈل کرلے گی ! وہ بے زاری سے ایک نظر ااندر موجود انویلپ پر ڈال کر ایک طرف پھینکتا ہوا بولا ۔اور صوفے پر پھیلتے ہوئے بالوں میں ہاتھ چلانے لگا ۔
تم نے شاید سنا نہیں ٹھیک سے ! ہم یعنی میں اور تم ! دونوں مدعو ہیں ! تاتیہ کو اسکی یہ بات نا گزیر گزری ۔
تو تم چلی جائو نا تاتیہ ! وہ اکتایا۔
وہ شورع سے ہی ان رنگا رنگ تقریبوں سے خار کھاتا تھا ۔ آخر یہ ‘شوپیس ‘ جسے ایوارڈ کا نام دے دیا جاتا ۔ انکی قابلیت ناپنے کا پیمانہ نہیں ہو سکتے تھے۔ کسی دس لوگوں کے بیچ کسی ایک کو چننا ۔ جو پہلے ہی اپنی فیلڈ میں مہارت رکھتے ہوں ۔ یہ کہاں کا انصاف تھا ۔ اسے یہ سب قطعی پسند نہیں تھا۔
میں تمہارے بغیر نہیں جائوں گی بس ! وہ خفا ہوئیں ۔
کم آن تاتیہ تمہیں پتا بھی ہے !
میری خاطر ! وہ اسکی بات کاٹ کر پر امید نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی ۔ یشم نے ایک نگاہ ان پر ڈالی وہ ان آنکھوں کو چمک کو کھونا نہیں چاہتا سو اس نے ہاں بولدی ۔
ٹھیک ہے ! لیکن اب میں آرام کرنا دو چار دن !
وہ کہتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا ۔
دو دن بعد تقریب ہے اور تم چار دن آرام کرنا چاہتے ہو! وہ کہتے ہوئے ہنسی ۔
اچھا دو دن ہی سہی ! بس ! وہ اسے مسکراتا دیکھ کر خود بھی مسکرایا اور تیزی سے چلتا ہوا سیڑھیاں چڑھتے ہوئے اپنے کمرے میں داخل ہوا ۔ کمرے میں اسکی چیزیں جوں کی توں پڑی تھیں ۔ اس نے حسب عادت شرٹ کر بے نیازی سے زمین پر پھینکی اور جست لگا بیڈ پر اوندھے منہ لیٹ گیا ۔ شام کے چھ بجنے کو تھے ۔ گلاس وال سے ڈوبتے سورج کی کرنیں اسکے کمرے کے انٹیریئر کی خوبصورتی کو بڑھاوا دے رہی تھی ۔مگر وہاں ان مناظر کو دیکھنے والا میٹھی نیند سو چکا تھا ۔
**************************************
مسلسل بجتی فون رنگ سے اکتا کر اس نے بیڈ سے نیچے جھانکا ۔
کم از کم رسیو نہیں کر سکتی تو آف ہی کردو فون ! وہ برہمی سے لا پرواہ بیٹھی ایمان سے بولی ۔
ولدان کا ہے ! وہ مطمئن انداز میں بولی ۔
حد ہوگئی !وہ اسے گھوری سے نوازرتی ہوئی خود ہی اٹھ پڑی ۔
اسکی مام کا ہے ! کیا کروں ؟ ڈسکنیکٹ کردو ؟؟
وہ اسکرین پر ‘ انًے کالنگ جلتا بجھتا دیکھ کر بولی ۔
آنہاں ! ایمان کے خرافاتی دماغ میں شرارت سوجھی ۔
وہ جست لگا کر کرسی سے اچھلی اور نبیشہ کے ہاتھ سے فون جھپٹا ۔
یہ کیا کر رہی ہو تم؟ نبیشہ ہڑبڑائی ۔
ششش! وہ لبوں پر انگلی جماتی ہوئی بولی اور فون کان سے لگایا ۔
شرم کرو ایمان ! یہ کوئی طریقہ ہے کسی !
Hello anne ! Selam Nasilsiniz ???
( سلام امی ! کیسی ہیں ؟ )
وہ اسکے منہ پر زبردستی ہاتھ جماتے ہوئے بولی ۔
نان سینس ! نبیشہ غصے سے گھورتے ہوئے اسکا ہاتھ جھٹکا ۔
Ben de iyyim ! Ne yapiyorsun anne???
(میں بھی ٹھیک ، کیا ہو رہا ہے؟)
وہ دانتوں کی نمائش کرتی اسے خاموش رہنے کا اشارہ کیا ۔نبیشہ ہنوز اسے گھور رہی تھی ۔ تبھی دروازہ کھلا اور ولدان اندر داخل ہوئی ۔
کیا ہو رہا ہے یہاں؟؟؟ وہ بیگ ایک رکھتے ہوئے بولی ۔
taman anne !
Simdi üniversiteye gidiyorum . Seninle sonra konusacagim
( اچھا امی ! میں یونیورسٹی کا وقت ہورہا ہے ، بعد میں بات کرتی ہوں )
ایمان کی آواز کانوں میں پڑتے ہی وہ اڑتی ہوئی اسکے قریب آئی۔
Hadi o zaman bye bye !
( چلیں پھر ! بائے )
وہ اسے آتا دیکھ کر جلدی سے بولتی ہوئے فون بند کردیا ۔ کیا حرکت تھی یہ ؟ ہاں ؟؟؟
وہ ٹیبل کے اس پار کھڑک ایمان کو غصے سے دیکھتی ہوئی بولی ۔
میں تو بس ہیلپ کر رہی تھی یار تم تھی نہیں تو !
اس نے جملہ ادھورا چھوڑ کر معصوم شکل بنائی ۔
کیسی ہیلپ؟؟ وہ چیخی۔ تم نے میری معصوم انے سے جھوٹ سے بولا ، اسکی وقت کونسی کلاس ہوتی ہے بھلا ؟ بتائو ! وہ چلاتی ہوئی اسے پکڑنے کے لیئے کرسی پر چڑھی ۔ میرے منہ سے نکل گیا ویسے بھی اب کچھ تو کہنا تھا اور کیا کہتی میں ! مجھے کچھ سوجھا ہی نہیں ! وہ چلا چلا کر صفائی دیتی ہاسٹل روم سے باہر بھاگی ۔
تمہارا قتل ہوگا میرے ہاتھوں آج ! وہ غصے سے چیختی اسکے تعاقب میں بھاگی ۔ وہ دونوں ہاسٹل کی راہداریوں میں چلاتی ہوئی ایک دوسرے کے پیچھے بھاگنے لگیں ۔ اسٹوڈنٹ رک رک کر انہیں عجیب نگاہوں گھورنے لگے۔ وہ بھاگتے بھاگتے ہاسٹل کو پیچھے چھوڑ کر پل کے قریب آ رکی ۔جسکے اس پار اسکلپچر ڈپارٹمنٹ تھا ۔
کیسی احسان فراموش ہو تم ! ایک تمہاری مدد کی اوپر سے تم ! ایمان گھنٹوں پر ہاتھ جمائے گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔
تمہیں ایسا سبق سکھائونگی آج کے بعد بن مانگے کسی کی مدد نہیں کر پائوگی ! وہ چیختی ہوئی اسکے نزدیک آئی ۔ایمان مڑ کر دیکھا اس سے آگے دوسرا ڈپارٹمنٹ تھا اور اسکی ہمت بھی جواب دے چکی تھی وہ اور نہیں بھاگ سکتی تھی ۔
اے رکو رکو ! یار معاف کردو ، دوبارہ نہیں کرونگی تمہاری قسم! اس نے تیز چلتی سانسوں کے بیچ بولا ۔
مگر ولدان کہاں سننے والی تھی ۔
وہ اپنے دفاع میں بھاگتی ہوئی پل سے نیچے اتری مگر اسکا توازن بگڑا اور وہ پھسلتے ہوئے پُل کی دائیں جانب گیلی مٹی کے ڈھیر پر جاگری ۔اسکی چیخوں سے اسٹوڈنٹس ارد گرد جمع ہونے لگے ۔
اسکلپچر کے اسٹوڈنٹس اس مٹی سے پریکٹس کیا کرتے تھے (اسٹیچو وغیرہ بنانے میں) ۔ مگر اس بے چاری کو کیا خبر تھی ۔
ایمان ! ولدان بھاگتی ہوئی اسکے قریب آئی۔
ایمان بے بسی سے اپنے ہاتھوں کو دیکھنے لگی ۔ اسکا سر کے بال تک سلامت نہ رہ سکے ۔
ولدان نے ایک نظر سر تا پا اس پر ڈالی ۔ اور بے اختیار اپنی ہنسی روکی ۔
یہ سب تمہاری وجہ سے ہوا ! وہ رونے والا منہ بناتی ہاتھ جھٹکنے لگی ۔
اسٹوڈنٹس اسے بے چارگی ، تو کوئی اسے ہنستی نگاہوں سے دیکھ رہا تھا ۔ اور کئی بد تمیز تو حلق پھاڑ پھاڑ کر ہنسنے لگے ۔
اے مائیک ، تجھے ایسے اسکلپچر بورنگ لگتا تھا نا ، لے جیتا جاگتا مجسمہ تیرے سامنے ہے اسکا اٹیچیو بنا لے !
کوئی قہقہہ لگاتے ہوئے بولا ۔
ایمان بس اب رونے ہی والی تھی ۔
اسٹاپ اٹ گائیز! ہیڈ بوائے اسٹوڈنٹس کو ڈپٹتے ہوئے بولا ۔ جو بس اسکی تصویریں بنا کر یونیورسٹی کے آفیشل گروپ میں ڈالنے ہی والے تھے ۔ سب مایوسی سے فون واپس رکھتے ہوئے ہیڈ بوائے کو برے برے القابات سے نوازنے لگے ۔ولدان تیزی سے ہاتھ آگے بڑھاتی اسے باہر کھینچنے لگی ۔ رہنے دے کہیں اسکے ساتھ تو بھی مجسمہ نہ بن جائے!
کی آواز کے ساتھ قہقہے ہوا میں گونجے ۔
ولدان نے کھا جانے والی نظروں سے سب کو گھورا ۔ منحوسو ! مرو سب کے سب ! تمہاری قبر میں ایکسٹرا کیڑے پکڑیں گے کتوں ، باہر نکالو مجھے
وہ ہاتھ مارتی ہوئی چلائی ۔ جو کہ کسی کو سمجھ نہ آیا کہ وہ کیا بولی ۔
یہ چکنی اوپر سے گیلی مٹی ہے فورس چاہیئے انہیں باہر نکالنے کے لیئے ! آپ ہٹیں میں ہیلپ کردیتا ہوں آپکی فرینڈ کی ! وہ کوٹ اتار کر برابر والے کو تھماتا ہوا بولا۔ ولدان نے بے بسی سے مٹی سے اٹے ہاتھ کو دیکھا ۔ ایک طرف ہوگئی ۔ باہر نکالو میری آنکھیں جل رہی ہیں مجھے کچھ نظر نہیں آرہا ! وہ ہاتھ پیر مارنے لگی ۔
لیفٹ سائیڈ پر دیکھو ! اور میرا ہاتھ پکڑو ! اس نے تھماتے ہوئے پوری قوت سے کھینچ کر اسے باہر نکالا ۔
سب کے بے مروت ہیں ، منہوس کہیں کے
وہ ہاتھ جھاڑتی ہوئی بولی ۔
تو بہن تمہیں بھی بنا بریک کی گاڑی کی طرح بس اندھا دھند بھاگنے کی کیا ضرورت تھی ! والی نظروں سے ہیڈ بوائے نے لڑکی کو گھورا اور ایک نظر اپنی سفید شرٹ پر ڈالی ۔ جو مٹی مٹی ہو چکی تھی ۔ اپنے ہاتھ جھٹکتا ہوا ڈپارٹمنٹ کی جانب بڑھا ۔ ولدان اسکے منہ دھلانے کے بعد اسے لیئے ہاسٹل آ گئی ۔ وہ کسی چھلاوے کی طرح بانہیں پھیلائے قدم قدم چلنے لگی ۔ جبکے اسٹوڈنٹ اسے دیکھ کر ایسے اچھلتے جیسے بھوت دیکھ لیا ہو ۔ اس نے شاور لیا اور ٹاول سے ہاتھ رگڑتی کمرے میں آ گئی ۔
اسکی آنکھیں ابھی تک جل رہیں تھیں ۔
کیا ہوا ؟ کہاں سے آرہے ہو تم لوگ ! نبشہ نے لا علمی سے پوچھا ۔
فوٹو شوٹ کروا کے آرہی ہوں ! وہ تنزیہ انداز میں کہتی ہوئی دھپ سے کرسی براجمان ہوئی ۔
ہیں ؟ نبیشہ نے بھنویں سکیڑیں ۔
Tatlim ????
(Sweetheart )
ولدان نے ڈرتے ڈرتے اسے پکارا ۔
شٹ اپ جسٹ شپ اپ ! وہ چیختی ہوئی بولی ۔ اور بیڈ پر جاتے کمفرٹر سر تک تان لیا ۔
لگتا ہے دماغ بہت گرم ہے ! لیکن مٹی میں ڈبکی لگانے کے بعد ٹھنڈا ہو جانا چاہیئے تھا ! وہ زیر لب بڑبڑائی ۔
ہو سکتا ہے دھیرے دھیرے ہو ! پھر کچھ لوگ ڈھیٹ بھی تو بہت ہوتے ہیں ! وہ کندھے اچکاتی شاور لینے کا سوچنے لگی ۔
**************************************
دروازہ کھولو ورنہ توڑ دونگی ! وہ سائیڈ ٹیبل سے چیزیں اٹھا اٹھا کر دروازے پر مارنے لگی ۔
گارڈز نے کھٹکے سے دروازہ کھولا ۔
رومیصہ بے اختیار دو قدم پیچھے ہوئی ۔ وہ اکیلی تھی اور سامنے دو ہٹے کٹے لمبے چوڑے شخص ۔
وہ کیسے مقابلہ کرتی انکا ؟ الٹا انکی نظریں اسے خوف میں مبتلا کر رہی تھیں ۔
کیا کر رہے ہو چھوڑو مجھے ؟ وہ چیخی ۔ وہ شخص اسے دبوچتے ہوئے کرسی پر بٹھا کر باندھے لگے ۔
میں نے کہا چھوڑو مجھے ! وہ خود چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔
جبکے وہ دونوں گونگے بہرے بنے اسے باندھ کر اسکا منہ تک خاکی ٹیپ سے کور کردیا ۔ اب جتنا بھی چلاتی
روتی آواز اسکے لبوں پر ہی دم توڑنے لگی۔ اس نے بے بسی آنکھیں میچیں ۔گرہیں اتنی مضبوطی سے لگائیں گئی تھی کہ ہلکی سی جنبش پر اسے اپنی کھال ادھڑتی ہوئی محسوس ہوتی ۔ یا اللہ ! میں کیا کروں ؟؟؟
اور کتنی سزا باقی ہے ؟؟؟ اسکی پلکیں نم ہونے لگیں ۔ بے بسی سے سر کرسی کی پشت پر ٹکا دیا ۔
**************************************
اسے فلو ہوچکا تھا ۔وہ بار بار ناک پونچھتی ولدان کو کوسنے لگی ۔۔
ایمال کون ہے؟ انکی روم میٹ کمرے میں آتے ہی پوچھنے لگی ۔
ایمان ! ایمان برہمی سے اپنا نام بگاڑے جانے پر بولی ۔
جو بھی ہے تمہیں پروفیسر ڈیوک نے اپنے آفس میں بلایا ہے ! وہ دو ٹوک کہتی اپنے کام میں مصروف نظر آنے لگی ۔ جبکے وہ تینوں آنکھیں پھاڑے ایک دوسرے کو دیکھنے لگی ۔ پروفیسر کو پکا انکی حرکت کے بارے میں کسی نے کمپلین کردی تھی ۔
اب کیا ہوگا میرا؟ وہ مجھے کیا سزا دیں گے؟؟؟
ایمان رو دینے کو تھی
کچھ نہیں ہوتا تم جائو تو سہی ! ولدان اسے تسلی دی ۔ اب ایوارڈ دینے کے لیئے تو بلایا نہیں ہوگا !
ظاہر ہے پنشمنٹ ملے گی ! نبیشہ مطمئن سی بولی ۔
کیسی بہن ہو تم ؟؟ ایمان پھٹ پڑی ۔
‘جیسی بہن ہو تم ‘ وہ دوبدو بولی اور کتاب چہرے کے آگے سجالی ۔ ایمان کو چار ونا چار جانا پڑا ۔
اگر مجھے کوئی سزا ملی تو تم بھی اس میں حصے دار ہوگی سمجھی ؟ وہ تنبہی نگاہوں سے ولدان کو کہتی آفس کے دروازے پر دستک دینے لگی ۔
Si accomodi !
(Come in)
یا اللہ بچا لے اس گنہگار کو ! وہ بڑابڑائی ۔
اور آفس کا دروازہ دھکیل کر اندر چلی آئی ۔
آپ نے بلایا پروفیسر ! اس نے معصومیت سے سارے ریکارڈ توڑ دیئے ۔ پروفیسر ڈیوک نے سریلی آواز پر سر اٹھا کر دیکھا۔
آپ نے اسلکپچر ڈپارٹمنٹ کے اسٹیچیو ڈسٹروئے کیئے ؟ چشمہ اتار کر ٹیبل پر دھرا ۔
اللہ اللہ ، کس قدر جھوٹے ہی کمینے کہیں کے ! اس نے دل میں کوسا۔ بظاہر ندامت سے نظریں جھکائے سر نفی میں ہلایا ۔
لیکن آپ نے جو حرکت کی اسے نظر انداز نہیں کیا جا سکتا ! سزا ملے گی آپکو دو دن اپنی کلاسز کی ڈسٹنگ اور کلیننگ کرنا ہوگی ! ساتھ آپ کے پانچ اسکور مائنس کیئے جاتے ہیں ! وہ حتمی انداز میں کہہ کر عینک ناک پر سجا کر مصروف ہوگئے ۔
ڈسٹنگ اور کلیننگ ؟ میں ! وہ بھی دو دن ! ایمان کے بے اختیار رونا آیا ۔
mi dispiace professore
(I’m sorry professor )
اس نے نم دیدہ لہجے میں کہا ۔
ora vai !
(now go )
وہ بے رخی سے بولے ۔
Per favore !
(please)
وہ ملتجی ہوئی ۔
ho detto fouri
(I said out )
وہ گرجے ۔
ایمان مایوسی سے کندھے اچکاتی مڑی گئی ۔ اور ساتھ ٹیبل پر پڑے ٹشو کے باکس سے ٹشو کھینچ کر ناک پر جماتے ہوئے باہر نکل گئی ۔
کیا ہوا ؟ ولدان بے صبری سے پوچھنے لگی ۔
کٹ گئے ! وہ ناک پونچھتی بلند آواز رونے لگی ۔
ہاں ؟ کیا؟ اس نے ناسمجھی سے بھنویں اچکائیں ۔
میرے پانچ اسکور کاٹ لیئے ! اور ساتھ جھاڑو پونچھا بھی میں ہی کروں ! کہتے ہوئے وہ بلند آواز رونے لگی ۔ ولدان نے سنتے ہی سر پکڑ لیا ۔
**************************************
اوں اوںہہہہہ !
ٹھیک ہے ٹھیک ہے ! میں ٹیپ ہٹا دیتا ہوں!
لیکن تم وعدہ کرو تم چلائوگی نہیں ! وہ تاکید کرتے ہوئے اسکے منہ سے ٹیپ ہٹانے لگا ۔
خبیس انسان ! تمہارا وہ حال کرونگی کہ تم پیدائش کے دن کو پچھتائو گے دیکھنا تم ! وہ چھوٹتے ہی پھٹ پڑی ۔
اچھا ! وہ جیسے لطف اندوز ہوا اسکی دھمکی پر ۔
تمہیں پتا ہے تم انتہائی احسان فراموش ہو، ڈیڈ نے تمہیں مارنے کے لیئے بہت پہلے سے کانٹریکٹ کلرز کو بھاری رقم دے رکھی ہے ، احسان مانو میرا جو تمہیں بچایا میں نے !ڈیئر کزن وہ اکڑ کر بولا ۔
پھر تو تم نے اپنی زندگی کی سب سے بڑی غلطی کردی رحمان خاور ! وہ نفرت سے پھنکاری ۔
آنہاںننہ !چھوڑو یہ سب ! بتائو ہماری شادی کے بارے میں کیا سوچا ! وہ ہاتھ گردن پر جماتا ہوا بولا ۔
خواب دیکھنا بند کرو ! کیونکہ یہ ناممکنات میں سے ہے ! وہ نفرت بھری نظروں سے اسے دیکھ کر بولی۔
پھر تو اور مزا آئے گا تمہیں تڑپا تڑپا کر مارنے میں !بلکل تمہارے اس پاگل بھائی کی طرح ! کیا نام تھا اسکا ؟؟
وہ تھوڑی کھجاتا ہوا بولا ۔ رومیصہ کے سر پر کمرے کی چھت آگری ۔
ہاں ! زوہان ، زوہان نام تھا نا اسکا ! بے چارا اس نے مصنوعی دکھ سے سر جھٹکا ۔
تم نے مارا اسے ؟ وہ شاکی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔
آ ہاں ! کیا کرتا ڈید کا حکم تھا نا ، نہیں ٹال سکتا تھا میں فرمانبردار بچا ہوں ! وہ کرسی کی پشت سے ٹیک لگتے ہوئے مطمئن انداز میں بولا۔
جاہل انسان ! تم کیسے کسی معصوم کے ساتھ ایسا کر سکتے ہو ! وہ بے یقینی سے چیخی ۔
چلائو مت ! وہ یک دم سنجیدہ ہوا ۔
ایک بات کان کھول کر سن لو مس ، یا تو مجھ سے شادی کے لئے ہاں کردو یا تمام عمر قید تنہائی کاٹو ، فیصلہ تمہارا ہے ! وہ سخت نظروں سے دیکھتا ہوا بولا ۔
نا ممکن ! وہ چبا چبا کر بولی ۔
اچھا ، کیوں ؟ لیٹ می گیس ، وہ۔۔۔۔۔۔ اس ۔۔۔۔
کرائم ڈپارٹمنٹ کے چیف کے لیئے ؟
ک کیا مطلب؟؟ وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگی ۔
زیادہ بنو مت ، مجھے نہیں پتا جیسے وہ کیوں کتوں کی طرح ہر جگہ تمہیں تلاش کرتا پھر رہا ہے ! وہ بد لحاظی سے بولا۔
کیوں ؟؟؟ رومیصہ حیرت اور بے یقینی سے بولی ۔
کیوں ؟ ہاں ! تمہیں میں بے وقوف لگتا ہوں کیا !
وہ غصے اسکے جبڑے دبوچتا ہوا چیخا ۔
چھوڑو مجھے جاہل انسان ،مجھے سچ میں نہیں پتا ! وہ درد سے بلبلائی ۔وہ ایک جھٹکے سے اسے چھوڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
ایک بات یاد رکھنا یہیں گل سڑ کر مروگی سنا تم نے ! اطہر کاظمی کو تو کیا کسی کو تمہاری ہڈیاں تک نہیں ملیں گی ! بے چارہ کراچی کی خاک چھانتا پھر رہا ہے اسے کیا پتا تم دوسرے شہر میں ہو ! مجھے بے وقوف بنانے چلے تھے
وہ تنفر سے کہتا باہر نکل گیا ۔
رومیصہ حیرانگی سے ارد گرد دیکھنے لگی ۔ اس بند کمرے میں کہاں سے اسے پتا کہ وہ کسی دوسرے شہر ہے ۔ اس نے بے بسی سے آنکھیں میچ لیں ۔ آنسو بھل بھل اسکی آنکھوں پھسلنے لگے ۔وہ بے بسی سے مزاحمت کرتی اپنا بندھے ہاتھ چھڑانے کی ناکام کوشش کرنے لگی ۔۔
**************************************
اس نے کار گیراج میں پارک کی اور قدم قدم چلتا ہوا گھر کے اندر آگیا ۔ لائونج سے آتی ہنسنے کی آوازیں اسے تعجب میں مبتلا کر گئیں ۔ بس پھر کیا تھا منظر دیکھتے ہی اسکے ماتھے ناگواری کے کئی بل ابھرے ۔
مشترکہ سلام کرنے بعد اس نے کمرے کا رخ کیا ۔
مسز کاظمی مہمانوں سے ایکسکیوز کرتی اسکے پیچھے آئیں ۔
یہ کیا بد تمیزی ہے اطہر ! تم نے مسز خان کا حال تک نہیں پوچھا ! وہ کمرے کا دروازہ بند کرتے ہوئی دبی دبی غرائیں ۔ کیا ہورہا ہے یہ سب ؟؟؟ اسکا صبر جواب دینے لگا ۔
کیا مطلب کیا ہو رہا ہے ، تم سمجھے نہیں مسز خان کو کیوں انوائٹ کیا میں نے ! وہ سوال پر سوال کرنے لگیں ۔
کم آن مام ! میں آپ سے کہا بھی تھا میں ان سب کے لیئے ریڈی نہیں ہوں ابھی ،
اس نے بے بسی بال مٹھیوں میں جکڑے
ایک تو رومیصہ کی گمشدگی نے اسے اندر باہر سے ہلا کر رکھ دیا تھا اوپر یہ سب !
یہ سب میں دو سال سے سنتی آرہی ہوں اطہر بس اب بہت ہوگیا ! کوئی بہانہ نہیں چلے گا ! وہ حتمی انداز میں بولی۔ نہیں تو کیا کریں گی آپ ؟؟ وہ سرخ آنکھوں سے بولا ۔
یہ تم مجھ سے کیسے بات کر رہے ہو اطہر ؟ وہ شاک ہوئی۔کیا چاہتی ہیں مام آپ؟ کہ میں کیا کروں ؟ وہ نرم پڑا ۔ فلحال بس انگیجمنٹ کرلو ! شادی جس وقت تم دونوں کو بہتر لگے ! وہ خوشدلی سے گویا ہوئیں ۔
تم دونو ؟ تو وہ سوچ چکیں تھی کہ رومیصہ کے لئے اب اس گھر میں جگہ کوئی نہیں ۔اسکا دل دکھ سے بھر گیا
ٹھیک ہے جب تک میں رومیصہ کو ڈھونڈ نہیں لیتا میں انگیجمنٹ بھی نہیں کرونگا ! اس نے اپنی شرط رکھی ۔ کیا کہا تم نے ؟ کہاں گئی وہ ! وہ حیران ہوئیں ۔
اسے شاید کسی نے اغوا کرلیا ہے ! اس نے نگاہیں چرائیں ۔ وہ بتانا نہیں چاہتا تھا مگر کیا کرتا انگیجمنٹ بھی نہیں کر سکتا تھا ! مگر شاید اس نے غلطی کردی تھی ۔
اب تو مام بلکل بھی اسکے لیئے نہیں مانے گی بلکے وہ مفروضے بنا کر اسے بھی پیچھے ہٹنے کا کہیں گی وہ جانتا تھا ۔ مگر دل کیا کرتا ! جو کسی طور اس لڑکی سے دست بردار ہونے کے لیئے تیار نہیں تھا ۔
ہو سکتا ہے وہ اپنی بہنوں کا پاس اٹلی چلی گئی ہو ! اور پھر تم اسے جانتے ہی کتنا ہو جو تمہیں بتا کر جاتی ! تم خومخواہ پریشان ہو رہے ،چھوڑو اسکی فکر اور فریش ہوکر نیچے آجائو سارہ کئی بار تمہارا پوچھ چکی ہے ! وہ ایسے بولی جیسے کچھ سنا ہی نہ ہو ۔ اپنی کہی اور چلتی بنی ۔ اطہر کو بے اختیار بہت غصہ آیا ۔۔۔۔۔اسکا پورا جسم آگ کی لپیٹ میں آنے لگا ۔ اس نے کمرے کی ہر شے درہم برہم کردی ۔ مگر پھر بھی اندر کا لاوا کم نہ ہوا ۔ جسکی تپش سے اسے اپنی آنکھیں تک جلتی ہوئی محسوس ہونے لگیں ۔ کاش تم مجھے ملی ہی نہ ہوتی رومیصہ !
اس نے دکھی دل سے سر گوشی کی ۔ کاش۔۔ کاش ۔۔کاش وہ زور زور سے بالکونی کی ریلنگ پر مکے رسید کرنے لگا۔ محبت انسان کو بے بس کردیتی ہے ۔ اس سے وہ وہ کرواتی ہے جو اس نے کبھی سوچا بھی نہ ہو۔ اب کس نے سوچا تھا کہ اس بے مروت پولیس افسر کسی لڑکی سے محبت ہوجائے گی ۔ اور وہ دیوانوں کی طرح اسے در بدر ، جابجا ڈھونڈتا پھرے گا ۔ جو کبھی محبت کے نام سے بھی خار کھاتا تھا

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *