The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode09
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode09
The Dark by Uzzai Zehan Episode09
ITALY | MILAN
اس نے رومال سے منہ رگڑتے ہوئے واپس کار میں پھینکا اور گاڑی سے پانی کا تھرماس نکالتا ہوا ۔ پارکنگ لاٹ سے نکل کر بھاگتے ہوئے روڈ کراس کی اور ایک طرف رکھی بنچ پر جا بیٹھا ۔ صبیح پیشانی پر فکر کی لکیریں نمایاں تھیں ۔بمشکل کچھ لمحے گزرے تھے کہ بنچ کی دوسری طرف کوئی شخص آ بیٹھا۔
سلام بھائی ! وہ بیٹھتے ہی بولا
ہوں ! اس نے صرف ہوں ‘ اکتفا کیا ۔
کیا بات ہے بھائی ؟ آپ کچھ پریشان لگ رہے ہیں ؟ اس شخص کے سوال کے پر وہ کہنیاں گھٹنوں پر ٹکاتے ہوئے قدرے جھکا ۔
یہ ڈیوائن کہاں ملے گا؟؟؟
وہ ناک چڑھاتا سنجیدگی سے پوچھنے لگا ۔
بھائی ،،،، آپ ، کو ملک پر بھروسہ نہیں ؟؟
وہ جھجھک کر پوچھنے لگا ۔ کیونکے اسکے سارے کام ملک ہی کیا کرتا تھا ۔
وہ آج کل تھوڑا ‘آف روٹ’ چل رہا ہے !
بحرام نے پیشانی رگڑی ۔
خیریت ؟؟ اسکا مخبر الجھا
رئیس ملک کو میکسیملین کے لوگوں نے قتل کردیا ! بحرام نے ایک ترچھی نگاہ اس شخص پر ڈال تاسف سے سر جھٹکا ۔ وہ ‘ملک’ کے باپ کے قتل کا زمہ دار بھی خود کو ٹھہرا رہا تھا ۔
اِنّا لِلّهِ وَاِنّا اِلَيْهِ رَاجِعُوْن ۔ وہ بے اختیار بولا۔
آپ دل پر مت لیں بھائی ، میکسیملین کی طرح اسکے لوگ بھی جہنم کے حقدار ہیں ، ہمیں آپ پر پورا بھروسہ ہے اور یقینا ملک کو بھی ہوگا ! رہی بات ڈیوائن کی تو آپ بہتر جانتے ہونگے ، آخر کار آپ کی اجازت کے بغیر یہاں کوئی باہر کا بندہ کسی قسم کا کوئی بھی کام نہیں کرسکتا!ہماری ہر طرف نظر ہے
فرمان کا ساتھ مل جائے تو بخوبی ہوسکتا ہے؟
بحرام کے لب بے اختیار پھڑپھڑائے ۔
یمان بھی تو ہوسکتا ہے ، اس شخص نے لقمہ دیا ۔
نہیں ،میں اسکی رگ رگ سے واقف ہو یمان اتنا گھٹیا نہیں ہوسکتا ! یہ فرمان کی حرکت ہے ، بحرام کی رگیں تنیں
خیر ! کیا خبر لائے ہو ؟ وہ نظر ترچھی کرکے ایک نظر ڈالتا ہوا پوچھنے لگا۔
سلطانہ کی طبیعت تھوڑی ڈائون رہتی ہے آجکل ،مسز زمان نے نیا بزنس شروع کیا ہے ، میں نے لوگوں کو چیک کیا کلیئر ہیں سب !
اور پرنسس؟ اسکی آنکھیں سرخ پڑیں ۔ بحرام جانتا تھا وہ اس سے بہت خفا ہوگی اس سے نفرت کرے گی مگر ! وہ کیا کرتا اسے کرنا پڑا ۔ ان سب کی زندگیوں کی خاطر اسے خود کو اندھیروں میں دھکیلنا پڑا اسکے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا۔
وہ بھی فرسٹ کلاس، صبح کالج جاتیں ہیں ،شام کو کوچنگ اور باقی وقت وہ اپنے کمرے میں گزارتی ہیں ! وہ خاموش ہوچکا تھا
ساتھ ہی بحرام بھی نے چپی سادھ لی۔ سارے الفاظ اسکے دکھوں نے نچوڑ لئے تھے ۔
ایک اور خبر بھی ہے بھائی ، ضروری ہے پر، شاید! لگتا ہے کہ نہیں بھی ہے ! وہ کنپٹی کھجاتا ہوا بولا ۔ سمجھ نہیں پارہا تھا اسے بتائے یا نہ بتائے ۔
ًفیصلہ کرلو ضروری ہے یا نہیں ! وہ سوچوں کو جھٹکتا ہوا بولا۔
ہاں ہاں ، ضروری ہے مگر آپ کو شاید نہ لگے !
وہ ہنوز شش و پنج کا شکار تھا
بات کو بڑھائو مت ،جو بات ہے صاف صاف بولو !
اس نے برہمی کا اظہار کیا۔
وہ، بھائی لڑکی ہے ایک !
یہ ضروری بات ہے ! وہ اسے ٹوک کر سخت نظروں سے گھورتا اٹھ کھڑا ہوا ۔
نن نن ہیں بھائی سنیں تو سہی ، وہ ہڑبڑا کر ساتھ ہی اٹھا ۔
جلدی بولو ، وہ اسے گھوری سے نوازتا واپس بیٹھا اور تھرماس لبوں لگالیا۔
ایک لڑکی بہت وقت سے آپ کے بارے میں چھان بین کرنے کی کوشش کر رہی ہے ،خاص طور پر ‘لورڈ’ کے بارے میں ، ہمیں جب معلوم پڑا تو ہم نے پوری کوشش کی کہ اسے کچھ بتا نہ چلے لیکن پھر پچھلے ہفتے ہی پتا نہیں کیسے اس کے ہاتھ وہ لسٹ لگ گئی ،
وہ اسکے غصے کے ڈر سے رموٹ والے کھلونے کی طرح فر فر بولا ۔ جسے چابی دے چھوڑ دیا ہو
پاکستان سے ؟ بحرام الجھا
ہاں بھائی ! وہ فورا بولا.
وہ پیشے سے وکیل ہے مجھے تو معاملہ قتل کا معاملہ لگتا ہے وہ لڑکی سر توڑ کوشش کر رہی اوپر سے اتھورٹیز بھی اسکی مدد کر رہی ہیں !
ہونہہ، ایسے بہت سے قتل کے ‘الزام ‘ ہیں مجھ پر
وہ بے نیازی سے کہتا اٹھ کھڑا ہوا۔ کچھ قدم آگے بڑھا ہی تھا کہ جو سوچ اسکے زہن میں آئی وہ اسے دہلا دینے والی تھی ۔۔وہ انہی قدموں سے واپس پلٹا ۔
ع ث مان یوسف خان ،
ہا ہاں یہی نام تھا ، مگر لڑکی کا نام بھول گیا میں !
وہ پر جوش سا اسکی بات کاٹ کر فورا بولا۔
وہ ششدر رہ گیا۔ بحرام کو آس پاس کے تمام مناظر گھومتے ہوئے دکھائی دیئے ۔ پھر اچانک ایک زوردار دھماکے کی شدت سے زمین لرزی۔ اور یکایک ہوا میں اڑتی گاڑیاں زمین بوس ہوکر قیامت خیز منظر پیش کرنے لگیں ۔خون کی ندیاں بنجر زمین کو سیراب کرنے لگیں ۔
آپ جانتے ہیں اس لڑکی کو بھائی ؟؟؟
وہ ناسمجھی سے اسکا منہ دیکھنے لگا ۔
لیکن وہ کسی اور ہی دنیا میں پہنچ چکا تھا ۔
بھائییییی ؟؟ وہ اونچی آواز میں بولا
ہا ہاں ہاں ! وہ جیسے گہری نیند سے جاگا ۔ اور ایک لمبی سانس لے کر مضطرب سا پیشانی مسلنے لگا ۔
کیا کریں اس لڑکی کا؟ وہ اپنا سوال پھر سے دہرانے لگا ۔
کچھ نہیں، اسے اکیلا چھوڑ دو، اور کرنے دو جو وہ کرنا چاہتی ہے ! وہ آہستگی سے کہتا واپس مڑ گیا ۔
وہ جانتا ایک نہ دن وہ اسے ڈھونڈ لے گی/گا اور پھر اسے کٹہرے میں کھڑا کیا جائے گا ۔
آخرکار اسکا باپ کا گیا کہاں ؟
‘اسکا باپ ، ملک کا باپ ، پھر اسکا اپنا باپ
وہ بے قصور ہونے کے باوجود بھی ضمیر کی عدالت میں بار بار قصور وار ٹھہرایا جارہا تھا ۔ بحرام کا دل کیا خود کو ہی ختم کرلے ۔وہ خود ازیتی کا شکار زور زور سے مکے کار کی بونٹ پر مارنے لگا۔ یہاں تک کہ اسکی ہاتھوں کی گٹھانوں سے خون سرخ لکیریں بونٹ کو آلودہ کرنے لگیں ۔مگر اسکے دل میں لگی آگ ٹھنڈی پڑنے کا نام نہیں لے رہی تھی۔کبھی کبھی انسان کے دل پر لگے کچھ زخم برسوں بعد بھی نہیں بھر پاتے بلکے ہرے رہتے ہیں جن سے یادوں کا زرا سا جھونکا بھی چھو جائے تو خون رسنے لگتا ہے ۔ اور عثمان یوسف خان کی ناگہانی موت بھی اسی زخم کی سی طرح تھی۔
*****************************************
اسکے کوٹ سے بھینی بھینی رومیصہ کے کلون کی مہک آرہی تھی ۔
وہ خود بھی تو مجھے دے سکتی تھی ؟؟
اسکے دل نے شکوہ کیا ۔
لیکن وہ تمہیں نہیں جانتی ، وہ ثنان کی دوست کی ہے تم کہاں ہو اسکی زندگی میں کہیں بھی تو نہیں !
دماغ کا تلخی سے بھرپور جواب حاضر تھا۔
جو سچ بھی تھا وہ اسے کسی حوالے سے نہیں جانتی تھی جبکے ثنان تو اسکا دوست تھا ۔ وہ نہ جانے اسکا کتنا گہرہ دوست تھا ؟ وہ کب ملے ہو نگے ؟ وہ اسکے کتنا قریب ہوگا ؟ اسے عجیب سی جلن محسوس ہونے لگی۔
پوچھو زرا پوچھو مجھے کیا ہوا ہے ،
کیسی بے قراری ہے یہ !
استغفراللہ ! میرے کانوں سے خون ٹپکنے لگا ہے بس کرو ! وہ چیخا ۔
آہاں ! کبھی اسکارف تو کبھی کوٹ ! ہممم ؟؟؟؟
ایمل شوخی سے کھلکھلائی ۔
تمہیں کیا ؟ جائو اپنا کام کرو ، وہ چڑ کر بولا ۔
ہائے اتنا غصہ ! کہیں جھگڑا تو نہیں گیا بھابھی سے ؟
وہ لبوں پر انگلی سجائے اداکاری کرنے لگی ۔
ایمل ,بس بہت ہوگیا وہ اٹھ کھڑا ہوا۔
ابھی کہاں ؟ زرا بتائیں تو سہی اس مہ جبیں کے بارے میں ؟ کہاں رہتی ہے؟ کیا کرتی ہے؟ کیسی دکھتی ہے ؟ نام کیا ہے ؟ وہ نان اسٹاپ بولی ۔
وہ اسے گھورتا ہوا آگے بڑھنے لگا۔
مگر مقابل بھی ایمل تھی اس نے ہاتھ پھیلا کر اسکا راستہ روکا ۔ ایسے کیسے بھائی ،نام تو بتانا ہی پڑے گا آج !
اگر تم نے ایک لفظ بھی اور بولا نا تو میں دادی کو سب بتا دونگا ! وہ دھمکی آمیز لہجے میں بولا ۔
مثلا کیا ؟ ہاں ! وہ ڈھٹائی سے بولی ۔
مثلا کہ انکی ساری شوگر فری آئسکریم اور کیک وغیرہ تم چرا کر کھا جاتی ہو ،ڈاکٹر ایمل
سینے پر ہاتھ باندھے ہوئے مطمئن انداز میں اسکا راز فاش کی۔
ہا ہاں تو ! میں ڈرتی ہوں کیا دادی سے !
اسکی زبان لڑکھڑائی ۔
داد! اس پہلے وہ حلق پھاڑ کر دادی کو بلاتا ایمل نے بجلی کی رفتاری سے اسکے منہ پر انگلیاں دبائیں ۔
چلو ، شاباش شکل غائب کرو یہاں سے ! وہ چٹکی بجاتا ہوا بولا ۔
بھائی پلیز کچھ تو بتائو یار ! وہ بے چارگی سے بولی ۔
تم جاتی ہو یا نہیں ! اطہر نے آنکھیں دکھائی ۔
وہ پیر پٹختی ہوئی سیڑھیاں چڑھنے لگی ۔
تو اطہر نے بھی اپنے کمرے کی جانب قدم بڑھائے ۔ شششش ، بھائی ؟؟؟ وہ پھر سے کسی بلا کی طرح سیڑھیوں سے نیچے جھانکتی ہوئی اسے پکارنے لگی ۔
اطہر بمشکل لب دباتے ہوئے مڑا ۔
تھوڑا سا نام ہی بتا دو اللہ کی قسم کسی کو نہیں ، دادیییییییییییی ! اسکی بات پوری ہونے سے پہلے ہی وہ گلا پھاڑ کر چلایا۔
گھر میں پولیس والے کا ہونا بھی کسی عزاب سے کم ہے کیا ! حد ہوگئی بندہ اب اپنے گھر سے سکون سے چوری بھی نہیں کر سکتا ! خود تو جتنی مرضی کرپشن کرتے رہیں ان سے کوئی نہیں پوچھتا ہم معصوموں کے پیچھے پڑے رہتے ہیں چوبیس گھنٹے ، اللہ پوچھے انہیں ! اطہر پر اپنی خندس نکالنے کی خاطر وہ زور زور سے چلاتی دھم دھم سیڑھیاں چڑھتی اوپر چلی گئی۔
جبکے اطہر قہقہہ لگاتے ہوئے کمرے کا رخ کیا ۔وہ آج آفس سے جلدی گھر آگیا تھا۔ فریش ہونے کے بعد اس نے ہاسپٹل جانے کا سوچا۔ اور تقریبا آدھے گھنٹے کی ڈرائیو کے بعد وہ ہاسپٹل آ پہنچا۔
مام میں آپ سے رومیصہ کے بارے جاننے آیا تھا آپ فری ہیں ؟ وہ انکے آفس میں جھانکتا ہوا بولا ۔
نہیں مگر تمہیں آدھا گھنٹہ دے سکتی ہوں ، اسکے بعد میری اکھٹی دو میٹنگز ہیں
وہ فائلوں میں منہ دیئے مصروف نظر آرہی تھی ۔
ٹھیک ہے میں آپکا کینٹین میں ویٹ کر رہا ہو!
وہ کہتے ہوئے واک آئوٹ کر گیا۔
مسز کاظمی تھکے ہوئی انداز میں گردن دائیں بائیں جھلاتی رومیصہ کی فائل اٹھائے کینٹین آ گئی ۔
ہممم ؟ یہ اچانک رومیصہ میں انٹرسٹ کیوں ہونے لگا آپ کو آفیسر ؟ وہ شوخ ہوئیں ۔
نہیں ایسا کچھ نہیں ہے بس میں کیوریس ہوں جاننے کے لیئے ، وہ بولا ۔
ایسا ‘کچھ’ بھی نہیں ہے ؟ پھر تم کیوریس کیوں ہو میری جان ! وہ جانچتی نگاہوں سے اسے دیکھنے لگیں ۔
مام! وہ جھلایا ۔
ٹھیک ہے ٹھیک ہے ، وہ فائل اسکے سامنے رکھنے لگی ۔
اسے ایگنی ہے ،اور یہ اسکی رپورٹس ہیں جن میں واضع طور پر لکھا ہے! ساتھ ہی فائل اسکی جانب سرکائی
ایگنی ؟ اطہر نے ابرو اٹھایا ۔
ہاں ایگنی ! وہ بولی ۔
جہاں تک مجھے لگتا ہے ایگنی کوئی بیماری نہیں ہوتی !
وہ الجھا۔
تم سہی بھی ہو اور نہیں بھی ، اگر دیکھا جائے تو اس سے خطرناک بیماری اور کیا ہو سکتی ہے !
جیسے کے؟؟ وہ نا سمجھی سے پوچھنے لگا ۔
جیسےکے زہنی کرب ،غم ،غصہ ،دبائو،وہشت ،دکھ،تنہائی یہ سب وجوہات ہیں ایگنی کی ،جس میں انسان کو خود کے حواسوں کا ہوش نہ رہے اس سے زیادہ خطر ناک اور کیا ہو سکتا ہے ، اس سے پینک اٹیکس کا خطرہ بڑھ جاتا ہے جو کہ کافی خطرناک ہے انسان سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کھو دیتا ہے ابنارملز کی طرح بی ہیو کرتا ہے ،اسے نہیں پتا کہ وہ کسی کو نقصان پینچا رہا ہے یا بعض وقت اسکے خود کے لیئے یہ بہت خطرناک سچویشن ہوتی ہے !
اور سیشن ؟؟؟ وہ کیا ہیں ؟ وہ پوچھنے لگا ۔
سیشنز میں ہمیں پیشنٹ کی مینٹل ہیلتھ کے بارے میں پتا چلتا رہتا ہے ،مثلا وہ خوش ہے ،دکھی ہے ،کسی چیز سے خوفزدہ ہے ، اسے خوابوں میں کیا نظر آتا ہے اسکے آگے کے پلینز کیا ہیں وغیرہ وغیرہ !
اٹس لائیک آ بلیڈ پریشر مائی سن ، اگر ہمیں کسی چیز کی زیادہ ٹینشن لے لیتے ہیں تو ہمارا بی پی بڑھ جاتا ہے اور کبھی کبھی تو حد سے تجاوز کر جاتا ہے اسی طرح کوئی صدمہ یا خوف ایگنی کے پیشنٹس کی مینٹل سچویشن کو بہت ایفکٹ کرتا ہے جس سے بعض اوقات وہ ابنارمل کی طرح بی ہیو کرنے لگتے ہیں اور حد سے بڑھ جائے تو دماغی بیماری کا دماغ کی نسوں کے پھٹنے کا خدشہ بڑھ جاتا ہے ۔ اسی لیئے ہم پیشنٹس کو ایک اسپرے دیتے ہیں وہ انکی زیادہ مدد نہیں کرتا بس انکے دماغ کو کچھ دیر کے لئے ویک کر دیتا ہے یعنی کچھ پلوں کے لیئے انکے سوچنے سمجھنے کی صلاحیت کو روک کر دیتا ہے تاکہ وہ خود یا کوئی دوسرا سچویشن پر قابو پاسکیں ان کیس آف ایمرجنسی ! اور رومیصہ کی طبیعت بگڑنے کی بھی کئی وجوہات ہیں اس نے میڈیسنز لی ،نہ ہی سیشنز کے لیئے آئی ! اوپر سے وہ اپنی بہنوں کے بارے میں حد سے زیادہ پوزیسو ہے
انہوں نے ٹھنڈی آہ بھری ۔
وہ بہنیں جن کو اسکی رتی برابر پرواہ نہیں ہے! اس نے تلخی سے سوچا
اوکے بیٹا، مجھے میٹنگ کے لئے فائلز پرپیئر کرنی ہے آئی ہوپ یہ تمہارے لیئے ہیلپ فل ہو اگر کوئی اور سوال ہے تو تم ڈاکٹر شاہ سے پوچھ لینا وہ اس فیلڈ میں اسپیشلسٹ ہیں ! آئی ایم سوری آئی ہیو ٹو گو
اسکا ہاتھ تھپکتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
اٹس اوکے مام! وہ مسکرایا ۔ وہ بھی انکی تاکید میں چلتا ہوا راہداری سے گزر کر ایگزٹ کی جانب بڑھ گیا ۔
اسے لگتا ہے مجھے پتا نہیں کچھ ! اسکی پیٹھ کو گھورتی ہوئی بولی ، لیکن جو نقشہ ان کے دماغ میں ‘بہو’ کی صورت کسی لڑکی کا تھا اس میں رومیصہ کہیں بھی پوری نہیں اترتی تھی۔کسی سوچ کے تحت وہ سارہ کی مام کا نمبر ڈائل کرتی آفس کا رخ کرنے لگیں ۔
*****************************************
شراب کے نشے میں دھت گارڈز کے کندھوں پر جھولتا ہوا وہ دیر سے گھر لوٹا ۔ تاتیہ اسکی فکر ہلکان ہوئے جا رہی تھی ۔وہ اپنے اگلے دو دنوں کے تمام شوز اور چیرٹی پلین کینسل کر چکی تھی ۔ صرف یشم کی وجہ سے تاکے اسے وقت دے سکے ۔
کہاں تھے تم ! میں کتنا پریشان ہو گئی تھی تمہاری وجہ سے ! وہ پریشانی سے کہتی اسکی طرف بڑھی
اب آگیا ہوں نا لو ،اچار ڈال لو میرا
وہ برہمی سے کہتا لڑکھڑا کر بیڈ پر گرا ۔
تاتیہ ہڑبڑا کر اسکی طرف لپکی ۔
ٹھیک ہو نا تم؟؟؟ ! اسکی ٹوٹی بکھری حالت پر نظر ڈالتی اداسی سے پوچھنے لگی ۔
ٹھیک لگ رہا ہوں تمہیں ؟وہ سرخ نظریں اس پر گاڑھتا سوال پر سوال کرنے لگا
چلو ،اب آرام کرلو تھوڑا صبح تک تم بلکل ٹھیک ہوجائو گے
وہ نرمی سے کہتی اسکے شوز اتارنے لگی
وہ بہت پچھتائے گی تاتیہ ،میں، میں اسکی زندگی برباد کر دونگا دیکھنا تم ! وہ انگلی اٹھا کر کہتا کشن اٹھا کر آنکھوں پر رکھنے لگا ۔
تاتیہ کے آنکھوں کے کنارے بھیگنے لگے ۔
وہ اسکے پیر اوپر کرتی کمفرٹر اوڑھانے لگی ۔
میں تمہیں یہ نہیں کرنے دو گی یشم !وہ زیر لب بڑبڑاتی اسکے قریب بیڈ پر ٹک گئی ۔
بھلا میرے بیٹے کے لیئے خوبصورت لڑکیوں کی کمی تھوڑی نا ہے ،تم خوامخواہ ہی اس بات کو اتنا دل پر لے رہے ہو ،اور ایپرل تو ویسے بھی مجھے کچھ خاص پسند نہیں تھی !
وہ محبت سے اسکے بالوں میں ہاتھ پھیرتی ہوئی بولی ۔ جو کب کا نیند کی وادیوں میں جا چکا تھا ۔ اسکی پیشانی پر لب رکھتی وہ لائٹ آف کیئے باہر نکل آئی ۔ ایک بیٹے کو تو وہ کھو چکی تھی اب دوسرے کو نہیں کھونا چاہتی تھی ۔ وہ اسے لڑائی جھگڑے اور خون خرابے جیسی چیزوں سے کوسوں دور رکھنا چاہتی تھی ۔ وہ نہیں چاہتی تھی وہ اپنے باپ اور بھائی جیسا بنے ۔ وہ اسے مکمل توجہ اور محبت دیکر ایک اچھا انسان بنانا چاہتی تھی ۔ جو اسے اب مشکل ترین کام ہوتا دکھائی دے رہا تھا ۔
*****************************************
بحرام کے بارے میں وہ جتنا جانتی اور الجھ جاتی
کیا تھا وہ شخص؟ کوئی مسیحا یا پھر کوئی لٹیرا!
سی این این اور ٹاہمز آف نیویارک ہمیشہ کی طرح بھر بھر کر اسکی تعریفوں میں چھاپنے پر مصروف تھے۔
وہ آج سے پانچ سال پہلے کی خبروں اور نیوز تک کا مطالع کر چکی تھی مگر اسے کوئی خاص فرق نظر نہ آیا۔
کوئی شخص جسکا تعلق ‘ڈارک ورلڈ’ سے ہو اسکا لوگوں پر اتنا مثبت امپیکٹ کیسے ؟
اسکے لیئے یقین کرنا از حد مشکل تھا ۔ شاید اس کی سب بڑی وجہ اسکا ‘ سوشل ورک’ تھا جو وہ لوگوں کے لئے کرتا ! یا وہ واقعی دو سال پہلے ہونے والے حادثے میں اپنے باپ کے ساتھ ہی مر چکا تھا؟؟؟؟
اس نے تھک ہار کر لیپ ٹاپ بند کیا اور کافی کا مگ بنانے کچن کا رخ کیا ۔
کیا ہوا تمہیں کچھ چاہیئے ؟ کچن سمیٹتی نبیشہ اسے دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی ۔
وہ خاموشی سے کپ سلب پر رکھ کر کبڈ سے کافی نکالنے لگی ۔
لائو میں بناتی ہوں اپنے ہاتھوں سے تمہارے لیئے اچھی سی کافی ! وہ اس کے ہاتھ سے کپ تھام کر خوشدلی سے گویا ہوئی ۔رومیصہ کے چہرے پر ہنوز خاموشی کا راج تھا
رومی؟؟؟ وہ ترچھی نگاہ اس پر ڈالتی ہوئی بولی ۔
ہممم ! وہ نہ جانے کن خیالوں میں گم تھی ۔
تم ناراض ہو ؟؟؟
تم لوگوں نے مجھے روٹھنے منانے کا حق دیا ہی کب ! اس نے خاموشی سے کپ تھام کر کمرے کا رخ کیا ۔
نبیشہ ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے کچن سمیٹنے لگی ۔
*****************************************
وہ آج آفس لیٹ پہنچی تھی تیزی سے راہ داری سے گزرتے ہوئے اس نے اپنے آفس کا رخ کیا ۔
congratulations
اسکا ٹیم میٹ اسے دیکھ کر شوخ ہوا
کس بات کی ؟؟؟ وہ نا سمجھی سے بولی ۔
تمہارے لیئے بکے آیا ہے بیلوڈ ون کی طرف سے ! جو فرقان نے بلند آواز پڑھ کر سب کو سنایا ہے ! وہ مسکرایا ۔
کیا مطلب ؟ کیا طریقہ ہے یہ کسی پرسنل اسپیس میں بلاضرورت گھسنے نا؟؟ وہ بیگ تقریبا پھنکتی ہوئی ریسپشن کا رخ کرنے لگی ۔ اپنے تمام کولیگ کی نظریں اسے خود پر جمی محسوس ہو رہی تھی۔
یہ آپ کے لیئے آیا صبح چھ بجے کے قریب !
اسماء اسے بکے تھماتی ہوئی بولی ۔ اس نے وہ بکے لیا اور آفس کا رخ کیا.
گڈ مارننگ جان من،
چٹ پڑھ کر گویا اسکے تن بدن میں آگ لگ گئی
کس قدر واہیات شخص ہو تم رحمان خاور ! اس نے بکے دبوچ کر بے رحمی سے ڈسٹبن کے نظر کردیا ۔ اچھے سے جانتی تھی یہ کس کی طرف سے اور کیوں آیا تھا۔
اسی لمحے اسے غیر شناسا نمبر سے پیغام موصول ہوا۔ مجھے پتا تھا تم پھولوں کا حشر نشر کر دینے والی ہو !ظالم ، اس نے فون پٹخنے سے بمشکل خود کو روکا ۔
میں کتنی ظالم ہوں اسکا اندازہ تمہیں جلد ہو جائے گا !
وہ لفظ چبا چبا کر بولتی کال ڈسکنکیٹ کرنے لگی۔
آفس سے جلدی کام ختم کرنے کے بعد وہ اپنی اسسٹنٹ مشعل کے پاس آ گئی ۔
تم سے جو کام کہا تھا ہوا ؟؟؟
ہاں بلکل لیکن آپ اندر تو آئیں !
نہیں مشعل میں تھوڑی جلدی میں ہوں ، وہ عجلت میں بولی ۔
ٹھیک ہے رکیں میں لاتی ہوں ! وہ کہہ کر اندر چلی گئی ۔ جب لوٹی تو اسکے ہاتھ میں ایک ڈبیا تھی ۔
سنو؟ یہ واٹر پروف ہے نا ؟ مطلب پانی سے اسے نقصان تو نہیں ، وہ پوچھنے لگی ۔
بلکل بھی نہیں ،چوبیس چاہے چھتیس یا بتیس گھنٹے بھی پانی میں پڑا رہے تب بھی اسکے اندر موجود ٹریکر کو کچھ نہیں ہوگا وہ سیف رہے گا ہر حال میں !
وہ اسے بتانے لگی۔
تھینک یو سو مچ مشعل ! رومیصہ واقعی اسکی مشکور تھی اس نے اسکی آدھے سے زائد پریشانی حل کردی تھی ۔ اس نے وہ ڈبیا لی اور اپنے اولڈ ہائوس چلی آئی ۔
گھر جانے کو اسکا دل نہیں چاہ رہا تھا ۔
کھانا اس نے آفس میں ہی کھالیا تھا ۔ نبیشہ کو میسیج کرنے کے بعد اس نے ٹیکسی لی اور اولڈ ہائوس آ گئی ۔ تمام چیزیں جوں کی توں پڑی تھی جیسے وہ رکھ کر گئی تھی ۔ اس نے بیگ ایک طرف رکھا اور اسٹور روم سے پرانے کارٹونز نکال کر اوزار تلاشنے لگی ۔ مطلوبہ اوزار ملنے اس نے ڈبیا میں لاکٹ نکالا اور اسے کھولنے لگی ۔ جس میں ایک بہت ہی چھوٹا سا ٹریکر فٹ کیا گیا تھا ۔ یہ اس نے ان دونوں کی سیفٹی کے خیال سے بنوایا تھا ۔ اس سے انکی لوکیشن ٹریس کرنا رومیصہ کے لئے کوئی مشکل کام نہیں تھا ویسے بھی وہ ان سب میں ماہر تھی ۔
کیسے ؟ کب ؟ یہ سب وہ بھی نہیں جانتی تھی ۔
مگر یہ اسکے خفیہ رازوں میں سے ایک تھا ۔
*****************************************
اطہر فریش ہونے کے بعد ڈنر کرنے ارادہ رکھتا تھا ۔ غیر
ارادی طور پر وہ فون اٹھا کر نوٹیفکیشن چیک کرنے لگا۔
‘سر وہ لڑکی پھر سے اس گھر میں موجود ہے اور نہ جانے پرانے سامان میں اوزار نکال نکال کر کیا کر رہی ہے ‘
مخبر کی جانب سے یہ پانچ منٹ پہلے کا پیغام تھا جس نے اطہر کے چھکے چھڑا دیئے ۔کسی انہونی کا احساس اسکے دل میں سر اٹھانے لگا ۔
نہ جانے وہ کب سے اسکے لیئے اتنی اہم ہوگئی تھی؟
کہ وہ اسکی پرواہ کرنے لگا !
وہ سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر گاڑی کی چابی اٹھائے باہر کی طرف بھاگا۔
