The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode01
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode01
The Dark by Uzzai Zehan Episode01
| Pakistan |
تم کہیں نہیں جائو گی سن لیا تم دونوں نے؟
وہ انگلی اٹھا کر ان دونوں کو وارن کرتی غصے سے اپنا بیگ اچکتی باہر نکل گئی
نفرت ہے مجھے تم سے ،تم انتہائی خود غرض انسان ہو سنا تم نے میں نفرت کرتی ہوں تم سے رومیصہ عثمان ! ایمان اسکی پشت پر حلق کے بل چلائی
بس بھی کرو ایمان بہت ہوگیا ! نبیشہ کمرے میں بکھری اسکے غصے کا شکار ہوئی چیزوں کو اٹھا کر انکی جگہ پر رکھنے لگی
کیا بس کروں ہاں؟ کیا ؟ یہ ہمارے گلے کی ہڈی بن چکی ہے نہ نگلی جا سکتی ہے نہ اگلی !
وہ بد لحاظی سے بولی
اپنے لفظوں پر غور کرو ایمان! وہ ہماری بہن ہے ہمارا بھلہ ہی چاہے گی ! نبیشہ نے اسکی بات کاٹتی کانچ کے ٹکڑے سمیٹنے لگی
سوتیلی بہن ! ایمان سرعت سے اسکی بات کاٹ کر بولی ۔ نبیشہ افسوس سے نفی میں سر ہلاتی ایک نظر اس پر ڈالتی باہر نکل گئی ۔ نہ جانے ان دونوں کی دوریاں کب ختم ہوگیں ۔ رومیصہ عثمان صاحب کی دوسری بیوی کی اولاد تھی جس کے بعد انہوں نے عائیشہ بیگم یعنی نبیشہ ،ایمان کی ماں سے شادی محبت کی شادی کی تھی ۔جن کے انتقال کو اب دو چار سال ہونے کو تھے انکا کوئی بھائی نہیں تھا ۔ رومیصہ دو نوکریاں کرنے کے باوجود ہر طرح سے انکی ضروریات پوری کرنے کی کوشش کیا کرتی ۔جو یقیننا قابل احترام بات تھی۔ وہ واقعی ان سے محبت کرتی تھی شاید خود سے بھی زیادہ ۔
لیکن ایمان اور رومیصہ کے بیچ یہ دیوار نہ جانے کب سے قائم تھی اور کب تک رہنے والی تھی ۔ نبیشہ ہر طرح ان کے بیچ کی سرد دیوار کو توڑنے کی کوشش کرتی رہتی مگر بے سُد۔ ایمان ہمیشہ اپنی من مانیوں اور بد مزاجی سے اسے ناراض کردیا کرتی ۔
* * *. . . . . . * * * *. . . . . . * * * *. . . . . .
2015: MILAN | ITALY |
ٹائیگر ہلز کی اونچی چوٹی پر بنے سِزلی آئی لینڈ کے ٹیرس کے بیچ و بیچ گول میز کے اطراف رکھی کرسیوں پر براجمان نفوسوں کے بیچ کئی دیر سے جاری بحث اب تلخ کلامی تک پہنچ چکی تھی ۔ان سے زرا دوری پر ہاتھ باندھے چہرے پر چٹانوں کی سی سختی لیئے کھڑا تھا وہ بحرام علی زمان تھا ۔ شرٹ کے اوپری دو بٹن حسب عادت کھلے تھے۔ تیز ہوا نے اسکے نفاست سے بنے بالوں کو بگاڑ دیا تھا۔ مگر وہاں پرواہ کسے تھی ۔وہ بیزاری سے دائیں بائیں گردن کو جھٹکنے لگتا تو کبھی ہاتھوں کی انگلیوں کو چٹخاتا۔ ملک سمجھ چکا تھا اسکی حرکات سے سو وہ زرا پرے کھسک کر کھڑا ہوگیا۔ اس سے پہلے مخالفت سمت پارٹی کوئی قدم اٹھاتی وہ تیزی سے آگے بڑھا اور پوری قوت خالی کرسی اٹھا کر آرتھر کے پیچھے کھڑے اسکے خاص آدمی کے سر پر دے ماری ۔ اور اسکے ہاتھ بندوق چھین کر دور پھنکتے ہوئے اسکا گلا دبوچ لیا۔اسکے باپ سمیت سبھی کرسیوں سے اچھلے
بیرو ، چھوڑو اسے، ملک تیزی سے اسے دبوچتا ہوا پیچھے لے جانے لگا
ہائو ڈیر یو؟؟ ! اسکی آنکھوں میں خون اترنے لگا۔ اسے کہاں منظور تھا کوئی اسکے باپ کو میلی نگاہ سے دیکھتا ۔ وہ شخص اسکی کُل کائنات تھا
بیرٙوو! چھوڑدو لڑکے کو! شفقت بھرے الفاظ اسکے کانوں سے ٹکرائے اس نے ایک لمبی سانس اندر کھنچی اور اسکے سینے پر پر ہاتھ مارتے ہوئے غصیلی نظروں سے گھورتے زور سے ٹیبل کی طرف دھکیل دیا
تم نے اسکین نہیں کیا تھا انکو؟؟؟ وہ کھا جانے والی نظروں سے ملک سے سوال کرنے لگا
ک ککیا تھا ! وہ گڑبڑایا
تو پھر یہ کہاں سے آئی انکے پاس ؟؟ ہاں ! وہ چیخا ۔ اسکا اشارہ گن کی طرف تھا
کام ڈائون بیٹا ! کام ڈائون !آل ہینڈل وہ اسکا کندھا تھپتپاتے ہوئے بولے ۔تو وہ غصہ دباتا ٹیبل سے پانی کی بوتل اٹھاتے ہوئے ٹیرس کے کنارے آکھڑا ہوا ۔ دو گھونٹ حلق میں اتارنے کے بعد اسنے بوتل میں موجود سارا پانی سر پر انڈیل لیا۔بوتل ایک طرف پھینکے اسنے آنکھیں بند کی اور ٹھنڈی ہوا اپنے اندر اتارنے لگا
کیا ہو جاتا ہے تمہیں ! صبر اور برداشت سے کام لیا کرو ، وہ اسکا کندھا مسلتے ہوئے بولے
مجھے ڈبل کراس کرنے والے دھوکے بازوں سے سخت نفرت ہے ! وہ اسی پوزیشن میں کھڑا رہا
جواب دینے کا بھی وقت ہوتا ہے،ہمیشہ سہی وقت ، اور سہی جگہ ! ہوگئی ڈیل ؟؟ وہ انکی بات کاٹتے ہوئے بولا۔ ہمممم ہوگئی ! علی زمان اسکے سنجیدہ چہرے پر نگاہ ڈالتا ہوا بولا
وہ سر ہلاتے ہوئے دونوں ہاتھ ریلنگ پر جمائے جزیرے کے نیچے بیچ کے شفاف پانی کی لہروں کو گھورنے لگا۔چھن سے کسی کا سراپا اسکے سامنے لہرایا تو بحرام اپنے اندر سکون اترتاا محسوس ہوا اس نے دھیرے سے پلکیں میچ لی ۔
کیا سوچ رہے ہو ؟ اسکا باپ اسے گہری نظروں سے دیکھنے لگا ۔ وہ اکثر یونہی بیٹھے بیٹھے. کہیں کھو جایا کرتا تھا ۔ انکے لاکھ پوچھنے کے بعد بھی اس نے آج تک وجہ نہ بتائی تھی ۔
بیرو؟؟؟ وہ پھر سے پکارنے لگی ۔
ہوں ؟ ہاں بابا ! وہ جیسے گہرے خواب سے جاگا
کیا بات ہے میرے شیر؟ وہ ہنوز اس پر نظریں گاڑھے ہوئے تھے ۔ انہیں وہ تھکا تھکا سا لگ رہا تھا بلکل شکست خوردہ انسان کی طرح جو اپنا سب کھو کر چپی سادھ لے
کچھ نہیں ! وہ جیبوں میں ہاتھ گھسائے زبردستی مسکرایا
ٹھیک ہے چلو پھر ،آرام کرلو تھوڑی دیر، آج رات وکیل صاحب سے بہت ضروری میٹنگ ہے ،تمہارا وہاں ہونا بہت ضروری ہے ،اسکے بعد ہمیں واپس لوٹنا ہے وہ سمجھ گئے وہ بتانا نہیں چاہتا تھا۔ اسی لیئے جلدی سے بات مکمل کیئے مڑ گئے
مجھے پتا ہے آپ کیا چاہتے ہیں ! بیرو کی آواز نے انکے بڑھتے قدم روکے
مجھے کچھ نہیں چاہیئے بابا ، کچھ بھی نہیں سوائے آپکے ! بحرام کی آواز پر علی زمان نے ہلکا سا رخ موڑا ۔ وہ کیسے اسکے دل کا بھید جان لیتا تھا وہ آج تک سمجھ نہیں پائے ۔ کاش وہ بھی جان پاتا آخر کیا دکھ تھا جو دیمک کی طرح اسکے بیٹے کو اندر ہی اندر کھائے جا رہا تھا ۔اسکی آنکھوں میں سرخ ڈورے چمکنے لگے
انہیں وہ کتنے سالوں بعد ملا تھا ۔ تمام بدگمانیاں ختم ہونے کو تھی ۔ وہ بس اپنے باپ کی خاطر واپس لوٹا تھا اسے کروڑوں اربوں روپے کی جائیداد سے سروکار نہیں تھا۔
بابا میں! وہ مڑا ہی تھا کہ اچانک سرخ چھینٹے اسکے چہرے پر آگرے ۔اس سختی سے پلکیں میچیں ۔نہ محسوس طریقے چہرے پر ہاتھ پھیرتے ہوئے جیسے ہی نظروں کے سامنے کیا اسے اپنا دل بند ہوتا ہوا محسوس ہونے لگا۔ اسکے ہاتھوں سمیت اسکی سفید شرٹ خون سے تر تھی ۔ اسکا باپ آنسوئوں سے تر آنکھیں اور خون میں لت پت شریر کے ساتھ ہاتھ ہوا میں لہراتا ہوا دھڑام سے زمین پر جاگرا ۔ بحرام حیرت اور صدمے سے اپنے خون آلود ہاتھوں گھورنے لگا۔ دھڑام کی آواز پر اس نے جب سر اٹھایا تو اسکا زمین پر جاگرا ۔
بابا ! وہ حلق کے بل چیخا۔ اس سے پہلے وہ انکی طرف بڑھتا ۔ ایک گولی اسکے سینے پر آلگی ۔ اسکی پلکوں میں ہلکی سی جنبش ہوئی اور وہ کئی قدم پیچھٙے لڑکھڑاتا ہوا ٹیرس کی ریلنگ سے ٹکرایا اور زمین پر بیٹھتا چلا گیا۔
* *. . . . . . * * * *. . . . . . * * * *. . . . . .
جلدی جلدی کھائو ہم لیٹ ہو رہے ہیں ! نبیشہ عجلت میں اسکے برابر میں بیٹھتی نوالے لینے لگی
وہ چلی گئی ؟ ایمان چور نظروں سے رومیصہ کے کمرے کے بند دروازے کو دیکھتے ہوئے پوچھنے لگی
وہ کون ؟ نبیشہ نہ سمجھی سے جوس کا گلاس حلق میں انڈیلنے لگی
رومی؟ اور کون ! وہ بد مزگی سے بولی
ہاں وہ تو صبح ہی چلی گئی ! ہمارے لیئے ناشتہ بھی ریڈی کر کے گئی ماشاللہ ہم اتنے سگھڑ ہیں کہ پھر بھی لیٹ ہیں کالج سے ! وہ کتابیں بیگ میں ٹھونستی خود کو کوسنے لگی ۔ جبکے ایمان کسی گہری سوچ میں ڈوبی جوس کے گلاس کے گرد انگلی گھمانے لگی
چلو بھی ! کیا سوچ رہی ہو ہم پندرہ منٹ آلریڈی لیٹ ہیں ! وہ تقریبا چیخی
آں ہاں ہاں ! چلو ! وہ بیگ کندھے پر لٹکائے اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اسکا دماغ تیزی سے چل رہا تھا
ارے آج ہمیں فیس پے کرنی تھی نا؟ بھول گئی تم ! کچھ یاد آنے پر وہ رکی اور جھومتے ہوئے نبیشہ کو یاد دلانے لگی
اسکی فکر تم مت کرو وہ رومی نے ریڈی کرکے ہمارے بیگ میں رکھ دی ہوگی ہمیشہ کی طرح ! وہ فخر سے سر بلند کیئے اسکا ہاتھ کھینچتی ہوئی اپنے ساتھ گھسیٹنے لگی ۔ ایمان کے ارمانوں اوس آ پڑی ۔ اسے اپنا منصوبہ برباد ہوتے نظر آنے لگا۔
*. ***********
تو تم سمجھائو نا اپنی بہن کو ایسے موقع بار بار تھوڑی نہ ملتے ہیں ! فبیحہ اسکا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے بولی
یار وہ مانے تب نہ !! پتہ نہیں کِن گناہوں کی سزا مل رہی اسکی صورت میں ! ایمان اپنی قسمت کو کوسنے لگی ۔بیگ کی زپ کھولتے ہوئے اس نے ہاتھ نوٹس کی جانب بڑھائے ہی تھے کہ اسے خاکی لفافہ نظر آیا ۔یقیننا فیس کے پیسے تھے۔ ہونہہ ! ہمیشہ کی طرح دی گریٹ رومیصہ نے ایک بار پھر بڑی بہن ہونے فرض ادا کردیا تھا! وہ جل کر رہ گئی
ایک منٹ وہ رکی ، اور کچھ سوچتے ہوئے لفافہ نکال کر فبیحہ کی جانب بڑھایا
یہ کیا ؟ وہ نہ سمجھی سے بولی
یہ کچھ پیسے میں نے جمع کیئے ہیں شاپنگ کے لیئے ! تمہارے پاس امانت ہیں میں وقت آنے پر لے لونگی ! وہ مسکراتی ہوئی صفائی سے جھوٹ بولنے لگی
جیسے تم کہو ! فبیحہ کندھے اچکاتے لفافہ بیگ میں رکھنے لگی
سمبھال کر رکھنا ۔ دلکش سی مسکراہٹ نے اسکے لبوں کا احاطہ کیا۔اسکا پلین ریڈی تھا ۔ کچھ مہینے پہلے ان دونوں نے اِٹلی یونیورسٹی میں اسکالر شپ اپلائی کی تھی جو خوش قسمتی انکی اکیڈمی کی ہائی رینکنگ اور انکی قابلیت کے بنا پر اپروو بھی ہوچکی تھی ۔ مگر رومیصہ انہیں میلوں دور بھیجنے پر کسی صورت راضی نہ تھی ۔ مگر پھر سوچتی تو ایک طرح سے اچھا ہی تھا وہ دونوں اعلی تعلیم حاصل کرتیں جسکا اس نے اپنے ماں اور باپ سے وعدہ کیا تھا وہ اکیلے انکی تعلیم اور اخراجات نہیں افورڈ کر سکتی تھی ۔یہ واقعی ایک گولڈن چانس تھا مگر جو بھی تھا رومیصہ کا دل مطمئن نہیں تھا ۔ وہ دونوں اسکے پاس اسکی چھوٹی مما کی امانتیں تھی اسے ہر صورت انکا جی جان سے خیال رکھنا تھا ۔جب تک وہ ان دونوں کو کسی محفوظ ہاتھوں میں نہ سونپ دیتی ۔
* *. . . . . . * * * *. . . . . . * * * *. . . . . .
اپنی عمر دیکھو اور کام دیکھو ! مسز کاظمی ناراض نظروں سے اسے دیکھنے لگی
ک کیا ہوا؟؟ وہ تمام سوچوں کو جھٹکتی ہوئی ان سے سوال کرنے لگی
تمھارا بی پی ہائی ہے ! کیوں ؟ کیا پرابلم ہے ! وہ جانچتی نگاہوں سے پوچھنے لگیں
رومیصہ نے ایک ٹھنڈی آہ بھرتے ہوئے ۔ سر نفی میں ہلایا ۔ کچھ تو ہے ؟ وہ بضد ہوئیں
رومیصہ نے ایک نظر ان پر ڈالی اور لمبی سانس کھنچتے ہوئے ہار مان لی ۔ وہ دونوں اٹلی جانا چاہتی ہیں ! مسز کاظمی کئی سالوں سے اسکی ڈاکٹر اور اسکی ماں کی پرانی سہیلی تھی ۔ وہ چاہ کر بھی ان سے کچھ چھپا نہیں سکتی تھی
اور تم انہیں روکنا چاہتی ہو ! انہوں نے اسکی اداسی کی وجہ بوجھ لی تھی ۔ وہ آنکھوں میں آنسو لیئے بے بسی سے سر ہلا کر رہ گئی
دیکھو میری جان ! تم بلاوجہ خود کو ہلکان کر رہی ہو انکی پروہ میں ،میری بات مانو اور انہیں جانے دو وہ پہلے ہی تم سے بہت بدگمان رہتی ہیں ! اور پھر اپنی جگہ وہ بلکل سہی ہیں انکا شاندار کریئر انکا انتظار کر رہا ہے انہیں اپنے پیروں پر کھڑا ہونے دو ! تاکہ تمہیں بھی کچھ راحت ملے ! دیکھو خود کو اتنی سی عمر میں کیا سے کیا ہوتی جارہی ہو ! میری بات مانو تو ان دونوں کو جانے دو ! ہممم؟ وہ اسکا ہاتھ تھپتھپاتے ہوئے محبت سے سمجھانے لگیں
وہ بے بسی سے اپنے ہاتھوں کی لکیروں کو گھورتی سر ہلانے لگی
اسی میں تم سب کی بھلائی ہے! تم سمجھ رہی ہو نا میری بات؟؟ مسز کاظمی اسکے ہاتھ پر دبائو ڈالتے ہوئے بولیں ۔ ہوں ہاں ! وہ ہونکوں کی طرح سر ہلاتی اپنا بیگ کندھے پر ڈالتی اٹھ کھڑی ہوئی
اپنی میڈیسنز ٹائم پر لینا اور اگلے سیشن کے یاد سے آجانا ۔ مسز کاظمی اسے جاتا دیکھ کر بولی ۔
شکریہ وہ پھیکی سی مسکراہٹ سے سر ہلاتی باہر نکل آئی ۔ کوئی اسے نہیں سمجھ رہا تھا ۔ اگر ان دونوں کو وہاں کچھ ہوگیا تو وہ اکیلی کیا کرے گی ؟ اپنے ماں باپ کو کیا منہ دکھائے گی؟ اسکا تو کوئی اور ہے بھی نہیں ان دونوں کے علاوہ ! شاید ان دونوں کو احساس تک نہ تھا کہ وہ اسکے لیئے کیا معنی رکھتی ہیں ۔ لفظ ‘سوتیلی’ نے اسکی تمام تر محبت ،احساسات ،قربانیاں اکارت کردیں تھی اگر اسکے بس میں ہوتا تو وہ اس لفظ کو ہی اپنی زندگی کھروچ کر پھینک دیتی ۔ کیونکہ جتنی محبت وہ نبیشہ اور ایمان سے کرتی تھی ۔شاید ہی اسکے ‘ سگے’ کر پاتے ۔ وہ اپنی سوچوں میں اس قدر غرق تھی کہ سامنے آتے انسان سے بری طرح ٹکرائی
س سسوری ! آئم ریئلی سوری ! وہ جھٹ سے اپنی صفائی میں بولی
مگر وہ اسکے لفظوں سے زیادہ اسکے چہرے پر توجہ دے رہا تھا۔ لہروں کے مانند اسکے بال اسکے چہرے کے اطراف لہرا رہے تھے ۔شفاف آنکھیں ، لمبی ناک ، سرخ ہونٹ،وہ ہقیننا روئی تھی ۔وہ اسکے چہرے کے خدوخال کو محویت سے دیکھنے لگا۔ گردن میں رنگ برنگے پھولوں والا اسکارف جھول رہا تھا ۔ بلیک جینز، شرٹ پر خاکی لونگ کورٹ پہنے وہ بہت بھلی لگ رہی تھی
ہیلو ؟ وہ اس شخص کی آنکھوں کے سامنے ہاتھ لہراتی ہوئی بولی ۔ مگر بے سدھ ۔ اسے اسکی نظروں سے الجھن ہونے لگی ۔ وہ ناگواری سے کندھے پر بیگ درست کرتی آگے بڑھ گئی ۔ اور اس شخص کی نظروں نے دور تک اسکا پیچھا کیا۔
