The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode11
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode11
The Dark by Uzzai Zehan Episode11
رائیل بلو رنگ کا تھری پیس پہنے ، بالوں کو سائیڈ پارٹڈ سیٹ کیئے ،وہ بہت جازب نظر لگ رہا تھا ۔
خوبصورت چہرے پر ہمیشہ کی طرح کا سنجیدگی کا راج تھا۔ ویفررس آنکھوں پر سیٹ کیئے تیزی سے چلتے ہوئے گاڑی کا رخ کیا ۔ اسکے بیٹھتے ہی آگے پیچھے تمام گاڑیاں ٹائیگر ہلز سے دور ہوتی گئی۔
ایک گھنٹے کے بعد وہ ملان پہنچ چکے تھے ۔اس نے سر اٹھا سرکاری عمارت کو دیکھا اور کوٹ کے بٹن بند کرتے ہوئے اندر قدم بڑھائے ۔
کچھ بھی ہو اندر مت آنا ! ملک تمام لوگوں کو انگلی کے اشارے ہے وہیں انتظار کرنے کا کہتے ہوئے بحرام کے ہمقدم ہوا ۔وہ حال نما کمرے سامنے آ رکے ۔
ملک نے بڑھ کر دروازہ کھولا ۔ وہ مطمئن انداز میں چلتے ہوئے اندر داخل ہوا ۔
لمبے سے ٹیبل کے دائیں بائیں پرانے طرز کی مگر خوبصورت نقش و نگار کی تقریبا پندرہ بیس کرسیاں تھی ۔ جس پر براجمان نفوس ملک کی صاحب حیثیت حستیوں میں سے تھے ۔ تمام نفوس اپنی کرسیاں چھوڑ کر اٹھ کھڑے ہوئے سوائے دائیں طرف بیٹھے ایک شخص کے ۔ جسکے چہرے پر ناگواری کے آثار نمایاں تھے ۔ اسکی اس جرات پر بحرام کے لب کا کونہ پھیلا۔ سر خم دیتے ہوئے اس نے بیٹھے کا اشارہ دیا ۔ اور مرکزی کرسی سنبھالی ۔
خوش آمدید صاحبان ،
میٹنگ کا مقصد موجودہ حالات کو مد نظر رکھتے ہوئے اسکا حل تلاشنا ہے! سیکریٹری جنرل نے میٹنگ کا آغاز کیا اور فائل کی پرنٹ شدہ کاپی انکے آگے جمائے ۔
ہماری درخواست پر آپ نے ہمیں وقت دیا اسکے لئے ویسٹرن یونین آپکی مشکور !
مدعے کی بات پر آئو !
یمان عاجز آکر زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارتا ہوا بولا ۔
بحرام مسکرائے بغیر نہ رہ سکا ۔ وہ اس وقت اس بچے کے مانند تھا جسے اسکے علاوہ والدین کی کسی دوسرے کے لیئے توجہ بری لگتی تھی ۔
ملان میں اربوں روپے کی سرکاری زمینیں قبضہ مافیا کے قبضے میں ہیں ، ان کے اور ہماری گورنمنٹ کے بیچ معائدہ ہوا تھا جو ،
جو گورمنٹ کی نا اہلی وجہ سے ٹوٹ گیا !
یمان پھر سے سیکریٹری جنرل کی بات کاٹتے ہوئے بولا ۔آپ خاموش رہیں گے کچھ دیر جنٹلمین
سیکریٹری جنرل برہمی کا اظہا کیا۔
بحرام لبوں پر مٹھی دبائے بغور سن رہا تھا ۔
جبکے یمان کی بات سو فیصد سچ تھی مگر اس نے دخل دینا ضروری نہیں سمجھا ۔
اب فیصلہ یہ ہوا ہے کہ اس معائدے پر پھر سے عمل کیا جائے یعنی ،
یعنی تم سب بہتی گنگا میں ہاتھ دھونا چاہتے ہو ،ہم کوئی غنڈے یا ہتھیارے نہیں ہیں جو تم ہمیں ان کے مقابل کھڑا کرنا چاہتے ہو ، معائدہ تمہاری نا قص عقلی کی وجہ سے ٹوٹا اسلئے اس سب کے زمہ دار بھی تمہی لوگ ہو ،
ایسے میں اگر ہمارا نقصان ہوجائے تو اسکی بھرپائی کون کرے گا؟ تمہاری یہ کنگلی گورنمنٹ ؟
وہ چبا چبا کر حتمی انداز میں کہتا اٹھ کھڑا ہوا ۔
جنٹلمین ،، سیکریٹری جنرل نے کچھ کہنا چاہا ۔وہ لحاظ برت رہے تھے کہ اسکا باپ ہونے والا پرائم منسٹر تھا وگرنہ وہ کب کا اسے اعوان سے باہر نکال چکے ہوتے
گھاٹ گھاٹ کا پانی پیا ہے یمان نے ،اور تم مجھے بیوقوف بنانے چلے ہو، ہاں؟؟؟؟؟؟ وہ غصے سے دھاڑا
ساتھ ہی قہر بھری نظر بحرام پر ڈال کر آنکھوں پر گوگلز سجائے بحرام کی توقع کے عین مطابق وہاں سے واک آئوٹ کر گیا ۔ لوگ اسے دیکھ کر ایسے راستہ چھوڑ دیا کرتے تھے ۔ہمارے معزز مہمان یہ میٹنگ برخاست نہیں ہوسکتی زمینیں چھڑانا بہت ضروری ہے ورنہ ہمیں بھاری خمیازہ بھگتنا ہوگا ! سیکریٹری جنرل نے جبڑے بھینچتے ہوئے اس غصیلے نوجوان کو دیکھا۔ ان امیروں کا یہی مسلہ تھا انکا غرور ان کے قد سے بھی بڑا تھا۔
ہمیں نہیں صرف گورنمنٹ کے کچھ معززین کو ! سچ ہے یہ؟؟؟؟ بحرام کی گھمبیر آواز حال میں گونجی ۔
لوگوں کی نظریں یکا یک اسکی طرف اٹھیں ۔
سیکریٹری جنرل کی جھکی نظر بتا رہی تھی کہ یمان کی بات میں کتنی سچائی تھی !
وہ کرسی چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا ۔
مگر آپ نے کہا تھا اس بارے میں سوچیں گے !
سیکریٹری جنرل پریشانی سے گویا ہوا اسے اب اپنی کرسی کی فکر ستانے لگی۔
ہاں ، پھر میں نے سوچا میرے پاس تو سوچنے کا بھی وقت نہیں ! وہ تمسخرانہ انداز میں بولا ۔اور ایک سخت گھوری سے نوازتا ہوا باہر نکل گیا ۔
سیکریٹری جنرل بے چارگی سے بحرام کی جانب بڑھا
آپ کو اس بارے میں ساری بات سچ بتانی چاہیئے تھی،ہم نے اپنی جان،مال جوکھوں میں ڈال کر ان سے معائدے کیئے تھے وہ بھی صرف غریبوں کی وجہ سے ،لیکن گورنمنٹ نے سب مٹی میں ملا دیا !
ملک اسکے سینے پر ہاتھ کر اسے پرے دھکیلتا ہوا بولا ۔
وہ اس اعوان کا لحاظ کر رہا تھا ورنہ اسے کب کا اٹھا کر پٹخ چکا ہوتا
اس ملک کی زمین کا ایک چپہ بھی ایسا نہیں جس سے ہم واقف نہ ہوں ،اور ایسی کوئی قبضہ مافیا نہیں جو ہماری نظروں نہ گزری ہو ، آپ نے ہم سے جھوٹ بولا سیکریٹری جنرل،
دوسرا جھوٹ آپ اچھے سے جانتے ہیں کہ ہماری فرمان سے کٹر دشمنی ہے ! پھر بھی آپ نے انہیں مدعو کیا اور سونے پر سہاگا یہ کے آپ کے نا اہل لوگ واقعی ‘نا اہل’ ہیں! انکا یہ منصوبہ بھی فلاپ ہوگیا ، یہ پہلی اور آخری بار ہے ہمیں مد مقابل لانے کا سوچیئے گا بھی ورنہ اس دشمنی سے سب سے زیادہ نقصان آپ ہی کا ہوگا
وہ چبا چبا کر کہتا بحرام کے پیچھے ہو لیا ۔
انہیں لگتا ہے وہ ہمیں اپنے اس ‘ٹریپ’ میں پھنسا لیں گے !بیوقوف کہیں کے ! کہتے ملک تیزی سے اسکے ہم قدم ہوا ۔ معذرت! مجھے نہیں پتا تھا یہ لوگ اس قدر بے وقوفی کا مظاہرہ کرینگے ! ملک بڑھ کر گاڑی کا دروازہ کھولنے لگا ۔
یہ میٹنگ اسے توسط سے ہو رہی تھی۔کیونکہ اسکے سیکریٹری جنرل سے اچھے تعلقات تھے ۔
قبرستان چلو !
وہ کوئی تاثر دیئے بغیر تکان سے سیٹ کی پشت سے سر ٹکاتے ہوئے بولا۔
اس وقت رات کے گیارہ بجنے کے قریب تھے ۔ اس نے کوٹ اتارا اور ٹائی کی ناٹ ڈھیلی کرنے لگا ۔اسکا دم گھٹنے لگا تھا ۔کبھی کبھی تو وحشت اسکی روح تک سرائیت کر جاتی اسکا دل چاہتا سب کچھ چھوڑ چھاڑ کر کسی ایسی جگہ چلا جائے جہاں اسکے سوا کوئی دوسرا نہ ہوا۔
ایسے میں وہ اپنے باپ کی قبر پر گھنٹوں خاموشی کا لبادہ اوڑھے بے مقصد لمحات گزار دیا کرتا تھا ۔
****************************************
اور پھر وہ دن بھی آن پہنچا جسکا رومیصہ کے علاوہ ان دونوں کو بے صبری سے انتظار تھا۔
کیسی لگ رہی ہوں رومی؟؟ ایمان نے ابرو اچکائے
سفید شرٹ پر بلو ہائی ویسٹڈ جینز پہنے ، گلے میں اسکارف لپیٹے رکھا تھا وہ کسی فارنر ماڈل سے کم نہیں لگ رہی تھی ۔
خوبصورت ! رومیصہ تفصیلی نگاہ دوڑاتی ہوئی اداسی سے بولی۔ آج ایمان بہت خوش تھی ۔ اور شاید اسی خوشی میں وہ بھول گئی تھی کہ انکے بیچ کیا حالات چل رہے تھے۔ جو اسے مخاطب کر بیٹھی تھی ۔
ایسے کیا دیکھ رہی ہو؟؟ ایمان کو تجسس ہوا ۔
کچھ نہیں وہ زبردستی مسکرائی ۔
یہ بابا کا لاکٹ ہے ان کی آخری نشانی بچی ہے میرے پاس ، یہ مجھے بہت عزیر ہے اسے میں تمہیں سونپ رہی تاکہ تم جہاں کہیں بھی ہو یہ یاد رکھو کہ ایک مضبوط رشتہ ہمارے بیچ ابھی بھی قائم ہے کہ!
وہ ڈبی اسکے ہاتھ میں تھماتی ہوئی بولی ۔
کہ ہم عثمان یوسف خان کی پرائوڈ بیٹیاں ہیں !
وہ دونوں یکجاں ہوکر بولی۔تو رومیصہ مسکرائے بغیر نہ رہ سکی ۔
تھینک یو رومی ! وہ شوخی سے کہتی اسکے ہاتھ سے لاکٹ لینے لگی۔
تم نے مجھے کچھ نہیں دیا رومی ! نبیشہ نے خفگی سے اسے گھورا
سوری ! لیکن میں وعدہ کرتی ہوں جب تم میری طرح ایک کامیاب وکیل بن کر لوٹو گی تو تمہیں تمہاری پسند کا گفٹ دونگی! رومیصہ مسکرائی ۔
ڈیل ڈن؟ وہ گردن اکڑا کہتے ہوئے اسکے بغل گیر ہوئی ۔ ہونہہ ! تم مجھے یہ سب دکھا کر اموشنل نہیں کر سکتی ! ایمان ناک چڑھا کر بولی ۔
تم بھی آئو ! نبیشہ نے اسے بھی کھنچا
اپنا بہت سارا خیال رکھنا تم دونو ! وہ دونوں کے گرد بازوئوں کا گھیرا بناتی نم آواز میں بولی
چلو جلدی اب، تم لوگوں کی فلائٹ لیٹ ہوجائے گی ! رومیصہ آنکھوں کی نمی چھپاتے ہوئے بولی ۔ تو وہ دونوں اس سے الگ ہوتیں اپنا لگیج سنبھالنے لگی ۔
اس کے دل کو دھکا سا لگا ۔ کاش کہ وہ اسے الگ نہ ہوں ، کاش کوئی ایسا معجزہ ہوجائے کہ عین موقع پر وہ جانے سے منع کر دیں مگر ! شاید جدائی ہی اسکی قسمت میں لکھی تھی۔ یہ آخری رشتہ اسکے پاس بچا تھا وہ بھی اسے جدا ہوتا نظر آرہا تھا
****************************************
گھنٹوں کی فلائٹ کی بعد وہ اٹلی کے شہر ملان میں ملپینسا ایئرپورٹ پر اتریں ۔
فائنلی ہم پہنچ گئے اٹلی !
وہ تیزی سے ایئرپورٹ کی راہداری عبور کرتی جا رہی تھی ۔ہونہہ! کہہ تو ایسے رہی ہو جیسے پتا نہیں کتنی مشقت کی ہو تم نے ، جہاز کو دھکا لگا کر آئی ہو کیا !
ایمان نے اسے ڈپٹا ۔ وہ پوری فلائٹ سوتی آئی تھی جبکے ایمان نے ایک ایک منظر ایک ایک لمحہ انجوائے کیا تھا۔
وہ ایئر پورٹ کے باہر پہنچی تھی ۔ تبھی شور سا اٹھا ۔
وہ دونوں چونک کر مڑی ۔لوگوں کے ہجوم میں کوئی نوجوان کسی لڑکی کے ہمراہ چلتا ہوا آرہا تھا آنکھوں پر سیاہ چشمے سجا رکھے تھے ۔ لوگوں کے ہجوم کی وجہ سے نبیشہ اسکا چہرہ نہیں دیکھ پائی ۔دائیں بائیں گارڈز لوگوں کو ہٹاتے ہوئے اسکے لیئے راستہ بنا رہے تھے ۔وہ جو بھی تھا کوئی سیلیبرٹی معلوم ہو رہا تھا مغرور سیلیبرٹی جس نے اپنے چاہنے والوں کو ہاتھ تک نہیں ہلایا تھا ۔
یییشششششم ! ایمان کے چیخنے کی آواز پر وہ گھبرا گئی۔ پاگل ہو گئی ہو کیا ؟
وہ اسکے سر پر چپت لگاتی ہوئی غصے سے بولی ۔
واللہ آج کتنا لکی دن ہے ، آج ہی ہم اٹلی پہنچے اور آج ہی یشم کا مبارک چہرہ دیکھنے کو مل گیا ۔
کون یشم ؟ کیسا مبارک چہرہ ؟ نبیشہ نے برا سا منہ بنایا ۔ ارے وہی جو یہاں سے گزرا ہے ! ایک سیلفی تو بنتی ہے
وہ پر جوش انداز میں کہتی ہوئی اسکے پیچھے لپکی ۔
اے رکو ! نبیشہ نے بجلی کی تیزی سے اسکے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے اسے روکا ۔
تم نے دیکھا نہیں کس قدر مغرور شخص تھا وہ اپنے فینز کو ہاتھ تک نہیں ہلِایا اس نے ،اور بی بی چلی ہیں سیلفی لینے بس بہت ہوگیا یہ سب یہاں نہیں چلے گا ! ہم ہاسٹل جا رہے ہیں ! وہ اسے ڈپٹتی ہوئی بولی ۔
بندے کا نام یشم ہے ‘یشم الیم ‘
ایشین گولڈ میڈلسٹ باکسر ہے وہ کوئی عام سیلبرٹی یا اسٹار نہیں سوپر اسٹار ہے وہ ‘سوپر اسٹار ‘ وہ کیوں ایرے غیروں کو ہاتھ ہلائے گا اور ویسے بھی جتنا وہ ڈیشنگ ہے اس پر غرور جچتا ہے !
ایمان نے ہاتھ جھلا کر کہتے ہوئے اسکا دفاع کرنا اپنا فرض سمجھا ۔
کانٹ بیلیو دس تم خود کو ایرا غیرا کہہ رہی ہو !
نبیشہ نے نخوت سے سر جھٹکا ۔
خود کو کب بولا میں نے ! اسے صدمہ ہوا ۔
کیونکہ تم اسکی سو کالڈ فین میں سے ایک ہو اگر وہ ایرے غیرے ہیں تو تم بھی وہی ہو !
وہ اسکی سہی خاطر داری کرتی بیگ لیئے آگے بڑھ گئی ۔ جب تک ایمان کو سمجھ آیا وہ جا چکی تھی ۔
یو ‘ اب وہ اس سے آگے کیا کہتی بے وقوفی کا مظاہرہ اس نے خود کیا تھا ۔
****************************************
ایئرپورٹ سے باہر نکلتے ہی انہوں نے ٹیکسی لی اور ہاسٹل آ گئیں ۔
اف خدایا نبیشہ ،یہ کتنا بڑا ہے !
وہ سر اٹھائے ستائشی نظروں سے عمارت کو دیکھتی ہوئی بولی ۔ نبیشہ ڈگی سے اپنا سامان نکالتے ہوئے طائرانہ نگاہ اس پر ڈالی ۔اسے کچھ دن تک اسکا یہ پاگل پن جھیلنا تھا ۔ آہستہ آہستہ اٹلی کا ہینگور بھی اسکے سر سے اتر جانا تھا ۔ او مائی گاڈ میں بہت خوش ہوں نبیشہ !
وہ ایڑھیوں کے بل جھومی ۔ خوشی اسکے انگ انگ سے چھلک رہی تھی
ciao itlay .
(Hello italy )
وہ خوشی سے حلق کے بل چلائی۔ آس پاس سے گزرتے کئی اسٹوڈنٹ انہیں عجب نگاہوں سے دیکھنے لگے ۔ نبیشہ نے لب دباتے ہوئے اس نظروں سے گھورا ۔ تو وہ ہنستی ہوئی اپنا بیگ گھسیٹی آگے بڑھنے لگی ۔
Ciao signora !
Buon pomeriggo
(ہیلو میم!
گڈ آفٹرنون )
نبیشہ ریسپشن پر موجود لڑکی سے بولی ۔
Buon pomeriggo
Come posso aiutarti ???
(گڈ آفٹر نون،
کیا مدد کر سکتی ہو آپ کی؟ )
ریسپشنسٹ پرفیشنل انداز میں مسکراتی ہوئی پوچھنے لگی ۔
ہم انٹرنیشنل اسٹوڈنٹ ہیں ہمیں ہاسٹل روم کی کیز چاہیئے ! وہ بولی ۔
Benvenuta
(خوش آمدید )
وہ مسکراتے ہوئے اسے چابی تھمانے لگی ۔
Grazie
(شکریہ)
اس نے چابی لی اور مڑ گئی ۔اور پھر کچھ سوچتے ہوئے واپس مڑی ۔
ایک روم کتنے اسٹوڈنٹس شیئر کر سکتے ہیں ! وہ شش و پنج کا شکار ہوئی ۔
چار ! وہ مسکرا کر بولی ۔
نبیشہ اثبات میں سر ہلاتی واپس مڑ گئی ۔
کیا ہوا بارہ کیوں بج گئے تمہاری شکل پر ؟؟؟
ایمان اسے دیکھ کر تعجب سے پوچھنے لگی ۔
ایک روم چار اسٹوڈنٹ شیئر کرینگے !
وہ پر سوچ انداز میں بولی ۔
تو ؟؟ ایمان نا سمجھی سے پوچھنے لگی ۔
تبھی وہ چلتے چلتے مطلوبہ کمرے تک پہنچ چکی تھی ۔
مگر یہ کیا ؟ اس سے پہلے وہ چابی لاک گھماتی کمرے کا دروازہ کھلا تھا ۔ مطلب کوئی ان سے پہلے آچکا تھا ۔
افففف ! نبیشہ نے لمبی سانس اندر کھینچی
ایک نظر ایمان کو دیکھا اور اندر کی طرف بڑھی۔
یہ تو بہت چھوٹا ہے ! وہ یک دم چیخی۔
تبھی ڈبل اسٹوری بیڈ پر کوئی وجود ہلا اور کمفرٹر سے منہ نکال کر باری باری ان دونوں کو کھا جانے والی نظروں سے گھورا
‘یہاں چیخنا منع ہے’ کہتے ہوئے دوبارہ کمفرٹر میں منہ گھسالیا ۔ وہ دونوں ہکا بکا ایک دوسرے کا منہ تکنے لگیں۔ چھوٹے سے کمرے میں دائیں بائیں دیواروں کے ساتھ چار ڈبل اسٹوری بیڈ، بلکے نہیں وہ ڈبل اسٹوری بھی نہیں تھے اوپر والے پورشن میں میٹرس جبکے ان کی نچلی سطح پر چھوٹا سا اسٹڈی ٹیبل تھا جسکے ایکطرف لیمپ پڑا تھا ، اس ٹیبل سے اندر لگیج رکھنے کا سسٹم تھا ۔ جبکے ایک سائیڈ میں توڑی سی جگہ بچتی تھی جس میں مائیکرو ویو آون ،اور کولر پڑا تھا ۔ اور کمرے کے بیچ میں ایک چھوٹا سا ٹیبل جس کے گرد نفوس کے حساب سے چار چیئرز رکھی تھی ۔ جبکے سامنے کھڑکی بھی تھی ۔ جسکے باہر چھوٹی سی لابی تھی ۔جن میں ٹنگی کیاریوں میں خوبصورت پھول کھلے ہوئے تھے اور شاید ابھی ابھی اس لڑکی نے سفید رنگ کی اسٹک پر اپنی شرٹ سکھانے کے لیئے ڈالی تھی ۔ مکمل جائزہ لینے کے بعد انہوں نے اس لڑکی کے برابر والا بیڈ چھوڑ کے مقابل وال کے ساتھ لگے دونوں بیڈ بک کیئے ۔اور اپنا سامان سیٹ کرنے لگیں ۔
جو بھی ہے مجھے بہت پسند آیا کمرہ ! وہ کھڑکی کے سامنے بانہیں پھیلاتے ہوئے کھلکھلائی ۔
ہممم اچھا تو ہے ! پہلی نظر میں واقعی بہت چھوٹا لگا تھا مجھے بھی ! مگر اسٹوڈنٹس کے قیام کے لیئے پرفیکٹ ہے ! نبیشہ کتابیں ٹیبل پر سجاتی ہوئی چیئر پر آ بیٹھی ۔
کیا خیال ہے کچھ کھائیں ! ایمان رخ موڑے اس سے پوچھنے لگی ۔
مجھے بھوک نہیں ! نبیشہ نے کندھے اچکائے ۔
تو چلو یونیورسٹی دیکھتے ہیں ! اگلا پلین حاضر تھا ۔ ابھی ؟ اسے حیرت ہوئی ۔
ہاں ابھی , دیکھو کتنا خوبصورت منظر ہے ! وہ کھڑکی سے باہر جھانکتی ہوئی بولی جہاں سے یونیورسٹی کا گارڈن ایریا نظر آرہا تھا ۔
دیکھوں تو ! وہ کرسی چھوڑتی کھڑکی کے قریب آئی ۔ واااائو ! اسکے لبوں سے بے اختیار ادا ہوا ۔غروب آفتاب کی روشنی میں کھکھلاتے ہوئی سبز گارڈن میں رنگ برنگے پھول اسکی خوبصورتی کو دوبالا کر رہے تھے۔
کہا نا یہاں باتیں کرنا منع ہے ! وہ لڑکی پھر سے چیخی ۔
اب تو ہونگی ، اور صرف باتیں ہی ہونگی ، میں بھی دیکھتی ہوں کہ باتیں کیسے نہیں ہوتیں ! ایمان اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈالتے ہوئے چیلنجنگ انداز میں بولی ۔ ہونہہ ! وہ ناگواری سے رخ موڑ گئی ۔
حد ہوگئی بندہ اب کب تک چپ بیٹھا رہے ! ایمان تپی ۔
اسے چھوڑو , اور آنے والی کے بارے میں سوچو وہ کیسی ہوگی ! نبیشہ رخ موڑ کر ایک نظر اس لڑکی پر ڈالتی ہوئی بولی ۔
وہ کوئی ‘والا’ بھی ہو سکتا ! ایمان کی نظر بے اختیار خالی بیڈ کی طرف اٹھی ۔
اس سے پہلے کہ کوئی ‘والا’ آئے ہمیں کوئی ‘والی’ ڈھونڈ لینی چاہیئے ! نبیشہ نے آئیڈیا دیا ۔
ہممم ! ٹھیک کہہ رہی ہو تم ، ‘والے’ کے ساتھ ہمارا گزارا نا ممکن ہے ! ہمیں ‘والی’ ہی ڈھونڈنی پڑے گی !
وہ پر سوچ انداز میں بولی ۔
چلو تھوڑی دیر آرام کر لیتے ہیں پھر ، باہر چلیں گے ! نبیشہ کہتی ہوئی کھڑکی چھوڑ کر دو قدم سیڑھی چڑھتی بیڈ پر چلی گئی ۔ جبکے سامنے کا منظر اتنا خوبصورت تھا کہ ایمان کا دل ہی نہ کیا وہاں سے ہٹنے کو ۔ ویسے بھی وہ بلکل بھی خود تھکا ہوا محسوس نہیں کر رہی تھی ۔ سو مسکراتے ہوئی ریلنگ سے نیچے جھانکتی دائیں بائیں دیکھنے لگی ۔نبیشہ ایک نظر اس پر ڈال کر رومیصہ کو اطلاعی میسیج سینڈ کیئے سوتی بنی ۔
