The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode26
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode26
The Dark by Uzzai Zehan Episode26
وہ جب سے واپس آیا تھا اسکا دل کہیں نہیں لگ رہا ایک عجیب سی بے چینی رگ و پہ سرائیت کر چکی تھی ۔
وہ دو منٹ کی ملاقات اسے بھلائے نہیں بھول رہی تھی ۔
Stop thinking about her dude, stooopppp it
She’s just a ordinary girl !!!
وہ خود کو ڈپٹتے ہوئے تکیے منہ پر جمائے سونے کی کوشش کرنے لگا مگر بے سدھ۔
کیا مصیبت ہے ! وہ تکیہ زور سے زمین پر پھینک کر اٹھ بیٹھا ۔ اور تاتیہ کو فون ملانے لگا اسے بتائے بغیر اسے نیند نہیں آنی تھی اسکی عادات میں شامل تھا ۔ اگر اسے کوئی چیز پریشانی کرتی تو وہ تاتیہ سے شیئر کرلیا کرتا تھا۔جو اسکی “واحد’ دوست بھی تھی اور ماں بھی ۔
ہیلو۔۔۔۔ تاتیہ ؟ وہ گلاس وال کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔
کیا ہوا ؟؟؟ یشم ۔۔۔سب ٹھیک تو ہے اس وقت کیوں کال کر رہے ہو ؟؟؟ وہ گھڑی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی جو رات کے دو بجا رہی تھی ۔
ہاں سب ٹھیک ہے ! وہ آہستگی سے بولا ۔
اچھا ! تو پھر سو جائو ہم کل بات کرینگے ، شاباش !
وہ تکان سے آنکھیں موندتے ہوئے بولی ۔
تاتیہ سنو نا یار ! نیند نہیں آرہی مجھے بہت دیر سے کوشش کر رہا ہو ! وہ اکتاہٹ بھرے لہجے میں بولا ۔
مگر کیوں میری جان ؟ تم نے کھانا کھایا؟ اور ٹیبلٹ لی ! وہ فکرمندی سے بولی ۔
افففف تاتیہ اففف ! وہ جھنجھلا گیا ۔
پھر کیا بات ہے ؟ وہ اچھنبے سے پوچھنے لگی ۔
آج ایک لڑکی ملی تھی۔۔۔۔راہ چلتے۔۔۔مدد مانگ رہی تھی کافی پریشان تھی , غیر ملکی تھی شاید ! وہ رک رک کر کہتے ہوئے غیر مرئی نقطے کو گھورتا کسی اور دنیا کا باسی لگ رہا تھا ۔
تمہیں کیا چیز پریشان کر رہی ہے یشم؟
وہ نا سمجھی سے پوچھنے لگی ۔
وہ بہت خوبصورت تھی تاتیہ!
وہ پلکیں موندے تخیل میں اسے سوچنے لگا ۔
آں آں ! میرا بیٹا پھر کسی کو دل دینے کے لیئے تیار ہے ؟ وہ خوشگوار حیرت سے پوچھنے لگی ۔
ایسا کچھ نہیں ہے ۔۔۔اس بار کچھ نیا ہے ۔۔۔کچھ بہت الگ۔۔۔ جو اسے لمس سے محسوس ہونے لگا،،، میں خود بھی حیران ہوں ! وہ ہاتھ گلاس وال پر ٹکائے بے یقینی سے مسکرایا ۔ اس نے تمہیں چھوا ؟ وہ شوخی سے پوچھنے لگی ۔
ایسے نہیں یار ۔۔۔ یعنی ۔۔۔ایکسڈنٹلی !
وہ اسکے مزاق کو برہمی سے رد کرتا ہوا بولا ۔
خیر، چھوڑو ،کوئی فین ہوگی، تمہارے قریب آنے کی خاطر مدد کا بہانہ لیا ہوگا، خود کو مت تھکائو ، چلو سو جائو شاباش ہیو آ گڈ نائٹ ! کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی ۔
چھوڑ دیا ۔۔۔ ! وہ فون کی سیاہ اسکرین کو گھورتا ہوا بڑبڑایا۔۔۔۔ تاتیہ کی بات پر یقین کر لینا چاہتا تھا مگر دل نہیں مان رہا تھا ۔اس نے گلفز اٹھائے پریکٹس روم کی طرف آگیا ۔ نیند ویسے بھی اسکی آنکھوں سے کوسوں دور تھی ۔ سو وہ اپنے پسندیدہ مشغلے میں مصروف آنے لگا ۔
************************************
رومیصہ کی زندگی اپنے معمول کی جانب لوٹ رہی تھی ۔ اس نے اپنی جاب پھر سے جوائن کرلی تھی ۔ابھی بھی وہ عدالت کے باہر کسی کیس کے سلسلے میں موجود تھی جب اسکا فون بجنے لگا ۔ وہ سنی ان سنی کرتی اپنے اسسٹنٹ کو ہدایات دینے لگی ۔مگر شاید بہت ضروری کال تھی ۔تم فائل ریڈی کرو ہم اس کیس پر بھی کام شروع کرتے ہیں کل سے ! وہ اپنے سے کہتے ہوئی فون لیئے زرا فاصلے پر آکھڑی ہوئی ۔ ان نان نمبر سے کال تھی ۔
ہیلو ؟؟؟ اس نے فون کان سے لگایا ۔ مگر دوسری طرف ہنوز خاموشی تھی ۔
ہیلو ؟؟؟؟ کس سے بات کر رہی ہو میں ؟ وہ بلند آواز بولی ۔مگر نبیشہ کے رونے کی آواز نے اس کے چودہ طبق روشن دیئے ۔
ہے ہیلو ! نبیشہ تم ہو ؟ وہ بے چینی سے بولی ۔
نبیشہ ؟ کیا ہوا یار ؟ رونا بند کرو ؟ اور کچھ تو بتائو میرا دل بیٹھا جا رہا ہے ? وہ بے تابی چکر کاٹنے لگی ۔
کیا سب ختم ہوگیا ؟ کیا برباد ہوگیا؟ کیسی باتیں کر رہی ہو پلیز ٹھیک سے بتائو ! ہوا کیا ؟؟؟؟
وہ پیشانی مسلتی ہوئی سخت پریشانی نظر آرہی تھی ۔اور پھر جو نبیشہ نے بتایا رومیصہ کو اپنے کانوں پر یقین نہ آیا ۔ ان دونوں کو کسی نے اغوا کرلیا تھا ! مگر کیو ں؟ اور کیسے ؟ وہ صدمے سے گرنے کو تھی ۔اس نے دیوار کا سہارا لیتے ہوئے خود بمشکل گرنے سے بچایا ۔کیا ہوا میم آپ کی طبیعت ٹھیک ہے ؟ اسکا اسٹنٹ بھاگتا ہوا اسکی طرف آیا ۔مجھے ابھی اور اسی وقت ان کے پاس جانا ہوگا ! وہ زیر لب بڑبڑائی ۔کیا ہوا ؟ کس کے پاس ؟ میم کوئی مسلہ ہے کیا ؟ وہ ناسمجھی سے پوچھنے لگا ۔
مجھے ابھی جانا ہوگا ! وہ سخت پریشانی کے عالم میں بھاگتی ہوئی گاڑی میں بیٹھی اور ریش ڈرائیونگ کرکے گھر پہنچی ۔پاسپورٹ کی تلاش میں اس نے پورا گھر درہم برہم کردیا ۔ایک آزمائش ختم ہوتی نہیں تھی کہ دوسری دروازے پر تیار کھڑی تھی ۔ یا اللہ ان دونوں کو اپنے حفظ و امان میں رکھنا ! میں مما بابا کو کیا منہ دکھائونگی ! وہ آسمان کی جانب منہ کرکے کہتی رو پڑی ۔ کون جانتا تھا یہ آزمائش کتنوں کے سر لینے والی تھی ۔
************************************
رات دیر سے سونے کے بعث اسکی آنکھ کمرے میں ہونے والی کھٹ کھٹ سے کھلی. اس نے ناگواری سے سر اٹھا کر دیکھا تو وہ شرائے تھی ۔
گڈ مارننگ سر! اسکی طرف دیکھتے ہوئے مسکرائی ۔
ہفففف ! سکون نام کی چیز سے تو یہ لڑکی واقف ہی نہیں ! وہ بڑبڑاتے ہوئے اٹھ کھڑا ہوا۔
کیا شیڈول ہے آج کا ؟ وہ کسملمندی سے مخاطب ہوا ۔
آپ ہی نے تو کہا سب کینسل کردو ، دو گھنٹے بعد ہماری میلان کی فلائٹ ہے! وہ بوکھلائی ۔
اوہ ہاں !میری دماغ سے نکل گیا وہ پیشانی رگڑتا ہوا بولا ۔ ٹھیک ہے تم پیکنگ کرلو میں فریش ہو جاِئو تب تک ! پھر چلتے ہیں ! وہ بیڈ چھوڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا اور واشروم کا رخ کرنے لگا ۔
************************************
اس کا جسم سخت بخار میں تپ رہا تھا ۔ اسے بس اتنا یاد تھا کہ وہ آج واپس جارہی ہے ۔وہ ایمان سے ملے گی اسے اپنے ساتھ لے گی اور پھر پاکستان واپس چلی جائے گی ہمیشہ ہمیشہ کے لیئے ۔ اٹلی ان کے لیئے نہیں تھا ۔دیر سے ہی سہی مگر انہیں اندازہ ہوچکا تھا ۔ لیکن جیسا ہم سوچتے ہیں ہر بار ویسا تو نہیں ہوتا نا ۔۔۔شاید ہماری قسمت کچھ اور ہی چاہتی ہو ہم سے ! ۔
ناشتہ اس نے کمرے میں ہی منگوا لیا تھا دو چار لقمے لینے بعد اس نے گولیاں نگلی ۔ تبھی اسکے فون نوٹیفکیشن موصول ہوا ۔ اس سارے وقت میں وہ پہلی بار مسکرائی تھی ۔ اسکی فلائٹ کے ڈیٹیل تھے وہ میلان واپس جارہی تھی ۔اسکے بعد وہ ایمان سے مل سکتی تھی ۔ اسکی خوشی دیدنی تھی ۔مگر خطرہ ابھی ٹلا نہیں تھا ۔ وہ بیگ کندھے پر ڈالتی ہوٹل سے باہر نکل آئی ۔معمول کے مطابق گاڑی اسکے انتظار میں پہلے سے ہی موجود تھی ۔وہ روڈ کراس کرتی گاڑی میں جا بیٹھی ۔مارشل نامی شخص گاڑی میں پہلے سے ہی موجود تھا ۔اسے دیکھتے اس نے لوگوں سے اشارہ کیا اور وہ ایک اور سیاہ بیگ اسکے حوالے کیئے گاڑی سے باہر نکل گئے ۔ اسکے دل پر بوجھ سا آگرہ ۔ وہ سنگین جرم کر رہی تھی ۔ مگر اپنی جان چھڑوانے کا انکے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا ۔
یہ بیگ پہلے والے زیادہ ضروری ہے ، یاد رہے اگر کوئی غلطی ہوئی نا تو ہم تمہاری بہن کو اوپر پہنچا دیں گے سمجھی؟؟؟وہ کھلے عام دھمکی دیتا گاڑی سے باہر نکل گیا ۔نبیشہ کے گلے میں آنسوئوں کا پھندا سا لگا ۔کتنا آسان تھا ان کے لئے کسی کی جان لینا۔۔
گاڑی اسے ماسکو ایئرپورٹ پر چھوڑ کر جاچکی تھی ۔یہاں اسکے سامان کی چیکنگ ہونی تھی اسکی سانسیں گلے میں اٹکنے لگیں ۔مگر کان میں موجود آلے سے ملنے والی ہدایات کے مطابق وہ تھرڈ رو میں جا کھڑی ہوئی ۔ سامان کی چیکنگ ہوچکی تھی ۔آفیسر اسکی طرف دیکھ کر مسکرایا ۔اور وہ مسکرا بھی نہ سکی ۔اسکے چہرے کا رنگ ایسے اڑا ہوا تھا جیسے کوئی قتل کی واردات انجام دے کر آرہی ہو ۔ وہ تیزی سے بیگ گھسیٹتی اہنی سیٹ پر جابیٹھی۔
صد شکر بزنس کلاس میں آج بھی زیادہ لوگ نہیں تھے ۔ورنہ اسکی حالت دیکھ کر لوگ ضرور اسکا راز بوجھ لیتے۔اللہ اللہ کرکے یہ سفر بھی تمام ہوا ۔ اس بیگ میں کیا تھا ؟ یہ سوال شدت سے اسکے دل و دماغ میں گردش کرنے لگا ۔وہ اپنا ڈر چھپاتے ہوئے بیگ گھسیٹ کر واشروم میں لے آئی ۔ نہیں ۔۔۔۔نہیں یہ غلط ہے اگر ان لوگوں کو پتا چل گیا تو کیا ہوگا ! بنی بنائی بات بگڑ جائے گی ! اس نے بڑھا ہوا ہاتھ واپس کھینچ لیا ۔پھر ایک لمبی سانس بھرتے ہوئے ۔ کپکپاتے ہاتھوں سے بیگ کی زپ ایک طرف سرکاِئی ۔ اسکے پیروں تلے سے گویا زمین نکل گئی ۔سفید پڑیا کس چیز کی تھی ؟ ڈرگز ؟ اس نے بے اختیار دونوں ہاتھ منہ جمائے ۔
یہ میں نے کیا کردیا ؟ پولیس ۔۔۔۔ اگر پولیس کو پتا چل گیا تو ؟ اس سے اچھا ہوتا وہ انجان ہی رہتی ۔اسکا ضمیر بار بار اسے لعنت و ملامت کرنے لگا ۔ اس نے ڈر کے مارے جلدی سے زپ بند کی ۔اور سر تھام لیا ۔
میں یہ بیگ ان کے حوالے کرودنگی ! یہ آخری بار ہے ! اسکے بعد میں کوئی ایسا کام نہیں کرونگی ! وہ خود کو دلاسے دیتی بیگ گھسیٹتی باہر آگِئی ۔اسکے ہاتھ کپکپارہے تھے۔ سانسیں ہموار تھیں ۔اسکے اندر ایک ڈر بیٹھ گیا تھا ۔ تبھی پولیس کے سائرن کی آوازیں لگیں ۔ جو کہ معمول کی بات تھی ۔مگر اس پاگل کون سمجھاتا ۔بیگ کی ہتھی اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر زمین پر گری ۔ وہ خوف ہراس سے اطراف میں دیکھنے لگی ۔تبھی ہر طرف شور سا پھیل گیا ۔اسے لگا اب تو وہ گئی ۔ پولیس اسے پکڑلے گی ۔۔۔۔اور سزائے موت سنائے گی ۔۔۔۔وہ مارے خوف کے
جوں ایئرپورٹ کے احاطے سے نکلی اور جی جان سے بھاگ کھڑی ہوئی ۔تبھی یشم ایئرپورٹ میں داخل یہ شور و غل اور پولیس اسی کی پروٹیکشن کے لیئے تھا مگر اس نادان نے لا علمی میں سب برباد کردیا ۔ یشم نے اکتاہٹ بھرے لہجے میں چیختے چلاتے لوگوں کو دیکھا اور بیگ ایک طرف سرکا کر انہیں آٹو گراف دینے لگا ۔شرائے فارمیلٹیز پوری کررہی تھی ۔ تبھی اسکینرز شور مچانے لگے اور پولیس سمیت ایئرپورٹ کا سارا عملہ وہاں امڈ آیا ۔
وہ نا سمجھی سے سب دیکھنے لگا ۔
ہینڈز اپ ! پولیس آفیسرز اس پر چیخے ۔
آ اوکے اوکے ! وہ بوکھلاتے ہوئے ہاتھ کھڑے کرنے لگا ۔
پولیس آفیسر اس پر بندقو تانے بیگ کی تلاشی لینے لگے ۔ جیسے بیگ کھلا ہر طرف سفیدی ہی سفیدی نظر آنے لگی ۔اسے سمجھنے زیادہ وقت نہیں لگا تھا وہ کیا چیز ہے ۔مگر یہاں شاید کوئی غلط فہمی ہوگئی تھی ۔وہ بیگ اسکا نہیں تھا ۔کیا ہے یہ؟؟؟ آفیسر قہر بھری نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوئے بولا۔
کیا ۔۔۔کیا ہے؟ یہ بیگ میرا نہیں ہے ! وہ فورا بولا ۔ تبھی شرائے اسکی جانب دوڑی چلی آئی ۔
آفیسرز اسے ہتھ کڑی لگانے لگے ۔لوگوں میں کہرام سا مچ گیا ۔ کیا ہو رہا ہے ؟ یہ آپ کیا کر رہے ہیں ؟ وہ چیخی ۔انہیں بتائو کہ یہ بیگ میرا نہیں ہے ! وہ سر پھرا بے زاری سے چلایا اٹھا ۔
ہاں ! یہ بیگ انکا نہیں ہے پلیز انہیں چھوڑ دیں، آپ دیکھ سکتے ہیں ہم نے ابھی سامان کی چیکنگ کروائی ہے
وہ پریشانی کے عالم میں بولی ۔
مگر آفیسرز سنی ان سنی کرتے ہوئے اسکے ہتھ کڑی لگائے ایئرپورٹ سے باہر جانے لگی ۔ شرائے کے ہاتھ پیر پھولنے لگے اگر مس تاتیہ کو پتا چل جاتا تو اسکی خیر نہیں تھی ۔ نئی مصیبت گلے پڑگئی تھی ۔ وہ تیزی وکیل کا نمبر ملانے لگی ۔
************************************
ایئرپورٹ سے اندھا دھند بھاگتے بھاگتے وہ ساحل سمندر پر آرکی ۔ گھٹنوں پر ہاتھ جمائے ہموار سانسیں بحال کرنے لگی ۔اپنی جان تو بچ گئی تھی مگر اب وہ لوگ ایمان کے ساتھ کیا کرتے یہ تو اسکا خدا ہی جانتا تھا ۔
کیا کروں اب؟ نہ جانے بیگ کس کے ہاتھ لگا ہوگا ۔
وہ ایمان کو مار ڈالیں گے ، یہ میں نے کیا کردیا ؟
یا اللہ! وہ پریشانی سے چکر کاٹنے لگی ۔
کین آئی یوز یور فون ؟ وہ سمندر پر ٹہلتی لڑکی سے درخواست کرنے لگی اس لڑکی نے کچھ سوچتے ہوئے سر ہلایا اور فون نکال کر اسے تھما دیا۔
نبیشہ تیزی سے رومیصہ کا نمبر ڈائل کرنے لگی ۔
ہیلو ! رومی ؟ کہاں ہو تم پلیز یہاں آجاِو پلیز پلیز پلیز ! وہ چھوٹتے ہی رو پڑی ۔مگر اسکی بات سن کر اسے کچھ حوصلہ ملا ۔وہ ایئرپورٹ پر موجود تھی میلان کی فلائٹ پکڑ کر آرہی تھی ۔ تب تک اسے یہیں رہنا تھا ۔ خوف و ہراس نے اسے ہر طرف سے لپیٹ میں لیا ہوا تھا ۔ اگر وہ یہاں سے تو پولیس اسے پکڑ کر لے جائے گی ۔اور پھر وہ تمام عمر اپنے باپ کی طرح جیل میں سڑتی ۔ اس ازیت سے وہ اچھے سے واقف تھی ۔ اس نے فون واپس کیا اور بینچ پر آبیٹھی ۔وہ ہنوز کانپ رہی تھی ۔اور ایمان کے لیئے دعائیں مانگ رہی تھی ۔
************************************
کمرے میں ہر طرف اندھیرے کا راج تھا ۔ وہ شرٹ سے عاری اوندھے منہ بیڈ پر سویا ہوا تھا ۔ سرخ کمفرٹر آدھا اسکے جسم پر تو کہیں فرش پر پھیلا ہوا تھا ۔ تبھی اسکے فون کی گھنٹی بجنے لگی ۔ اس نے ناگوار پیشانی سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر فون اٹھایا اور بنا دیکھے رسیو کرتے ہوئے کان سے لگایا ۔
ہاں مارشل ؟؟؟؟
سر گڑبڑ ہوگئی ! مارشل پریشان آواز اسکی سماعتوں سے ٹکراِئی ۔
اب کیا ؟ وہ خمار آلود آواز میں بولا۔
بیگ پولیس کے ہاتھ لگ گیا ! یشم بابا بھی ایئرپورٹ پر موجود تھے اور پھر ، مارشل نے بات ادھوری چھوڑی ۔
لعنت ہو ! وہ جھٹکے سے کمفرٹر ہٹاتا اٹھ بیٹھا ۔
لعنت ہو تم سب پر !نا اہل۔۔۔۔ تیزی سے شرٹ پہنتے ہوئے پستول اٹھائی اور کوٹ اچکتا ہوا باہر کا رخ کرنے لگا ۔ گاڑی پورچ میں پہلے سے موجود تھی اس نے چابی گھمائی اور تیزی سے مین روڈ کا رخ کیا ۔ وہ پولیس اسٹیشن جانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔ کان میں ایئرپوڈ سیٹ کرتے ہوئے اس نے مارشل کو کال ملائی ۔اور فون ڈیش بورڈ پر اچھال دیا ۔
ہاں مارشل؟ کیا کہتی ہے پولیس ؟ وہ یشم کے لئے از حد پریشان تھا
پولیس کو غلط فہمی ہوگئی ہے شاید ،وہ لوگ یشم بابا کو زمہ دار ٹھہرا رہے ہیں !
مارشل کی بات سن کر اس نے زور سے اسٹیرنگ پر ہاتھ مارا ۔
اور وہ لڑکی ؟ وہ کہاں مر گئی ؟ اس کی رگیں تنیں ۔
لڑکی ابھی تک غائب ہے سر !
ٹھیک ہے ! لڑکی کو ڈھونڈو فورا۔۔۔۔۔اور پولیس اسٹیشن کے پچھلے دروزے کی جانب میرا انتظار کرو ! میڈیا کو اسکی خبر نہیں ہونی چاہیئے ! وہ اگلا حکم صادر کرتا ہوا ۔گاڑی کی اسپیڈ بڑھانے لگا ۔کچھ چند لوگوں کے علاوہ اور کوئی نہیں جانتا تھا یشم اور یمان بھاِئی ہیں ۔ یعنی فرمان عاطر کی کوئی دوسری اولاد بھی ہے ۔سو وہ اس بات کو راز رکھنا چاہتا تھا ۔وہ نہیں چاہتا تھا اسکی وجہ سے اسکے بھائی کا نام خراب ہو۔ مارشل اسے دور سے آتا دیکھ بھاگ کر اسکی طرف کا دروازہ کھولا ۔
پولیس کوئی بار بھی سننے کو تیار نہیں ہے ،
دیکھ لیں گے پولیس کو بھی ، وہ کڑے تاثراتوں سے کوٹ پہنتے ہوئے پستول پشت اڑسی ۔ اور اسٹیشن کی سیڑھیاں پھلانگتا ہوا اندر کی جانب بڑھا ۔ پولیس آفیسر اسے دیکھ کر کرسی چھوڑتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
ہاں ؟ کیا مسلا ہے ؟ وہ بے نیازی سے کرسی کھینچ کر ٹانگ ہر ٹانگ جمائے بیٹھ گیا ۔
کوئی مسلہ نہیں ہے سر ! آفیسر بوکھلایا ۔
تو اس لڑکے کو چھوڑا کیوں نہیں ابھی تک !
وہ زور ٹیبل پر ہاتھ مارتے ہوئے آگے کو ہوا ۔
سر ایسے نہیں چھوڑ سکتے کچھ فارمیٹیلز پوری کرنا ضروری ہے !
ایسی کی تیسی تمہاری فارمیلٹیز کی ، اسکا اس سب سے کوئی لینا دینا نہیں خبردار اگر اسکے خلاف کیس فائل کیا تو ! وہ انگلی کر سختی سے تنبہی کرنے لگا ۔
لگتا ہے مارشل۔۔ تم نے اپنے باس کی بات نہیں کروائی آفیسرز سے شاید وہ مڑ کر تاکیدی نظروں سے مارشل کو دیکھنے لگا ۔
ہاہاں ابھی کرواتا ہوں ، وہ سرعت سے فون نکال کر فرمان کو کال کرنے لگا ۔
ن نہیں اسکی ضرورت نہیں ہے ، ہم ابھی ریلیز کردیتے ہیں یشم کو ! وہ جانتے تھے جسکا نمک کھارہے تھے اس سے نافرمانی کتنی مہنگی پڑسکتی تھی ۔
ابھی ۔۔! وہ ٹیبل بجاتا ہوا بولا ۔اور آنکھوں پر چشمہ سجاتے ہوئے پولیس اسٹیشن سے باہر نکل گیا ۔ وہ نہیں چاہتا تھا یشم یا پھر میں سے کوئی بھی اسے دیکھے ۔مگر شاید اتنے سالوں بعد اسکی قسمت میں ان سے ملنا لکھا تھا ۔
