The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode12
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode12
The Dark by Uzzai Zehan Episode12
شام چھ بجے کے قریب اسکی آنکھ کھلی ۔ تو وہ دیوانی ہنوز کرسی بالکونی میں رکھے نہ جانے کیا کر رہی تھی ۔
اٹھ گئی تم ؟ اسے بیڈ سے اترتا دیکھ کر وہ تیزی سے اسکی طرف آئی ۔
توبہ ہے ایمان تم ، ۔۔۔۔
بس بس لیکچر بعد میں دینا چلو باہر چل کر کافی پیتے ہیں میں چینج کرلوں تم بھی فریش ہولو !
وہ ہاتھ اٹھا کر اسے ٹوکتی ہوئی بولی ۔
واشروم؟؟ واشروم کہاں ہے؟؟
نبیشہ تاسف سے سر جھٹکتی واشروم تلاش کرنے لگی ۔ یہاں سے باہر نکلو ، وہاں سے رائٹ پر ہے واشروم !
وہ ایسے بولی جیسے صدیوں سے یہاں مقیم ہو ۔
نبیشہ سر ہلاتی ڈریس تھامے کمرے سے باہر نکلی ۔
لمبی سی راہداری میں کمرے ہی کمرے تھے ۔ جبکے اختتام پر ایک گیٹ نسب تھا ۔ جسکے اس پار بھی یہی سب تھا ۔ مگر وہاں جِنوں کا راج تھا ۔ یعنی لڑکوں کا ۔
اس نے سر جھٹکتے ہوئے واشروم کا رخ کیا ۔ فریش ہونے کے بعد وہ کمرے میں واپس آ گئی ۔
وائے دس از سو کمفرٹیبل ؟؟؟ وہ حیران تھی ۔ اسے لگا ہی نہیں کہ وہ ایک نئی جگہ پر آگئی ہو ۔
میں بھی شاور لیتے وقت یہی سوچ رہی تھی ! ایمان کی آواز پر وہ سوچوں سے باہر آئی ۔
کیا مطلب ؟ تم فریش ہو گئیں ؟ وہ حیران ہوئی ۔
ہاں تو تمہیں کیا لگتا ہے تمہارے سونے کے بعد میں نے مکھیاں ماری ؟ایمان لبوں پر گلوز لگاتی ہوئی بولی ۔ یہ لڑکی اسے پل پل حیران کیئے دے رہی تھی ۔ اس نے بال سنوارنے کے بعد کھلے چھوڑ دیئے۔ اور کٹے ہوئے بال ماتھے پر پھیلائے ۔ ہاں ! یاد آیا وہ ایمان کے ہاتھوں سے بچ نہیں پائی تھی ۔ اس نے اسکے بال کاٹ کر ہی دم لیا تھا ۔
چلیں ! ایمان ایک نظر خود کو آئینے میں دیکھتی ہوئی بولی ۔
ہاں چلو ! اس نے اسکارف لپیٹ کر بالوں کو کندھوں پر آذاد چھوڑ دیا ۔ اور سیل فون اٹھاتی وہ دونوں کمرے سے باہر نکل آئیں ۔ راہداری میں اسٹوڈنٹ آ جا رہے تھے ۔
اسکے بعد انکے قدم ایک بڑے سے حال میں پڑے جس کے ایک طرف کینٹین تھی ۔ اور اسکے مقابل ٹیبلز اور کرسیاں ۔ آج یہیں پیتے ہیں ، کل کیفے چلیں گے ! ایمان اسے ٹیبل کے قریب چھوڑ کر کینٹین کا رخ کرنے لگی ۔
اس نے ارد گرد نگاہ گھمائی وہاں اکا دکا اسٹوڈنٹ تھے ۔
باہر شاید ٹھنڈی ہوا چل رہی تھی ۔ اس نے درخت کی ٹینیوں کو ہلتے دیکھ کر سوچا ۔ اور حال سے گزرتے ہوئے باہر نکل گئی ۔جہاں بڑا سا فلور تھا جس کے سینٹر میں چار درخت تھے۔ اور آس پاس جانے کے کئی راستے تھے ۔ وہ راستے شاید یونیورسٹی کی طرف جاتے تھے ۔
نبیشہ؟؟؟ ایمان کافی کپ تھامے دور سے ہانک لگاتی اسکی طرف آئی ۔ وہ چونک کر مڑی ۔
تم یہاں ہو ! وہ کپ اسکی طرف بڑھاتے ہوئے بولی ۔
ہممم موسم بہت اچھا ہے یہاں کا ! وہ کافی کا کپ لبوں سے لگاتی ہوئی بولی۔
اک انوکھا سا سکون ہے یہاں ! وہ بولی ۔ اور درخت کے قریب پڑی بنچ پر بیٹھی ۔
سہی کہہ رہی ہو تم ! نبیشہ ارد گرد نگاہ دوڑاتی ہوئی بولی۔ لڑکے لڑکیاں اپنے اپنے کاموں میں مصروف نظر آرہے تھے کوئی کسی کی طرف نہیں دیکھ رہا تھا ، کوئی کسی بُلی نہیں کر رہا تھا نہ اسکے کپڑوں جوتوں پر طعنے کس رہا تھا ۔ان چیزوں میں وہ اسلامی جمہوریہ سے بہت آگے نکل گئے تھے ۔ اس نے دکھ سے سوچا۔
چلو واپس چلیں ،شام کے سائے گہرے پڑ رہے تھے !
ایمان کی آواز پر وہ سر ہلاتی اسکے پیچھے ہوئی۔
Merhaba
Ben baris , reception nerede ???
(Hello, i am burysh , where is reception ???)
مردانہ آواز پر ایمان نے چونک کر نظر اٹھائی ۔ بیس بائیس سالہ اونچا لمبا گھونگھرالے بالوں والا نوجوان ، آنکھوں پر گوگلز سجائے ریسپشن کا راستہ پوچھ رہا تھا ۔اسکے پیچھے ایک لڑکی بھی کھڑی تھی۔ مقابل کو شاید اسکی زبان سمجھ نہیں آئی۔ اسکے دماغ نے پلوں میں منصوبہ ترتیب دیا ۔ اسے پکڑو وہ اپنی کافی زبردستی نبیشہ کے ہاتھ میں تھماتی انکی جانب بڑھی ۔
Afedersiniz !
(Excuse me )
برًش نے آنکھوں سے چشمہ ہٹاتے ہوئے سنہری بالوں والی اس کم عمر سی لڑکی کو دیکھا۔
türkçe biliyor musun??
( do you speak turkish??)
اس سے پہلے وہ کچھ بولتا وِلدان اسکے پیچھے سے خوشی سے چلاتی ہوئی پوچھنے لگی ۔
Evet , turkçe biliyorum ama konusamiyorum
( yes i understand but i can’t speak )
ایمان معصومیت سے کندھے اچکا کر بولی۔
نبیشہ حیرت سے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھ رہی تھی ۔ اسکی بہن اس قدر شاطر بھی تھی اسے آج علم ہوا ۔
Güzel , ben wildan
Ya siz???
(Good, i am wildan And you ??? )
ولدان نے مسکراتے ہوئے ہاتھ بڑھایا۔ اس کی خوشی کا کوئی ٹھکانہ نہیں تھا اسے اپنی ہم عمر مل گئی تھی ۔
ایمان ! اس نے لڑکی کے پیچھے کھڑے شخص کی سرد نگاہوں کو ادائے بے نیازی سے نظر انداز کرتے ہوئے اسکا ہاتھ تھاما۔
نبیشہ کافی لبوں سے لگائے دلچسپی سے انہیں ملاحظہ کر رہی تھی ۔وہ سمجھ چکی تھی ایمان کی چالاکی کو مگر وہ بری طرح ناکام ہونے والی تھی ایسا اسکی چھٹی حس کہہ رہی تھی ۔
ہم نے تو روم دیکھ لیا ہے اپنا اگر تم چاہو تو ہمارے ساتھ رہ سکتی ہو , اوہ ہاں تمہارا بوائے فرینڈ بھی ہے ساتھ
ٹھیک ہے اگر تم اس کے ساتھ رہنا چاہتی ہو تو اٹس اوکے ، پھر ملتے ہیں تم آرام کرو ! وہ اپنی ہی جون بولتی ہوئی واپس مڑ گئی ۔
siz kim sen??? ha ?
(تم ہو کون ؟)
برش اسکے ‘بوائے فرینڈ’ پکارے جانے پر خون کھولنے لگا
Dur dur dur
Abi ! Ne yepiyoursun????
(رکو رکو رکو بھائی ، کیا کر رہے ہو؟؟؟؟)
ولدان اسے ہتھے سے اکھڑتا دیکھ کر فورا بولی ۔
وہ رخ موڑے دنوں ہاتھ لبوں ہر جمائے زور سے آنکھیں بند کیئے کھڑی تھی ۔ وہ اسکا بھائی تھا ! یہ اس نے کیا کردیا ۔ جبکے کچھ دوری کھڑی لبوں سے کافی لگائے نبیشہ کو سن کر زور کا اچھو لگا۔
اسے سمجھ نہیں آرہا تھا ہنسے یا روئے اس بے وقوفی پر ۔ جبکے اسکی طرف رخ کیئے چہرے پر بلا کی معصومیت سجائے ہاتھ جوڑنے لگی۔
جیسے کہہ رہی پلیز بچا لو ، نبیشہ بمشکل لب دبائے ۔ ایکسکیوزمی ، رومز فل ہیں اگر آپ چاہتے ہیں آپکی بہن آپکے ساتھ بوائز ہاسٹل رہے تو وائے ناٹ ! ہم صرف آپ کی مدد کرنا رہے تھے ! اس نے سلیقے سے بات سنبھالی ۔جبکے ایسا کچھ نہیں تھا !
اسکی بات سن کر برش کے تاثرات نارمل ہوئے ۔
tamam !
(Alright )
وہ سرد لہجے میں کہتے ہوئے اپنی بہن کا ہاتھ تھامے ان دور لے گیا ۔ اور کچھ لمحوں بعد نہ جانے اسکے کان میں کیا صور پھونک کر اسے وہاں چھوڑ کر ریسپشن کی جانب بڑھا ۔
چلیں ! وہ پر جوش سی بولی ۔
لوجی ! ایک کیا کم تھی جو دوسری بھی آ گئی ! والی نظروں سے نبیشہ نے ان دونوں کو دیکھا اور کافی کا کپ ایمان کے ہاتھوں میں دیتے ہوئے سیڑھیاں چڑھتی حال میں گم ہوگئی ۔
**********************************************
وہ آفس دے گھر لوٹنے والی تھی جب اسے نبیشہ کا میسیج موصول ہوا ۔ وہ لوگ پہنچ چکے تھے ۔ اسکے لفظ اسکی خوشی بیان کر رہے تھے کہ وہ کتنی خوش تھی دونوں ۔
اس نے اداسی سے اسکرین بجھائی اور پیپرز سمیٹ کر بیگ میں رکھنے لگی ۔ گھڑی شام کے سات بجا رہی تھی ۔
اس نے ٹیکسی لی اور قبرستان آ گئی۔
آج وہ حد سے زیادہ اداس تھی۔ اسے کئی لمحے ایسے ہی خاموش آنسو بہاتے ہوئے گزر گئے۔
وہ مٹھی بھر مٹی لیتی مگر وہ دھیرے دھیرے اسکے ہاتھوں سے پھسل جاتی وہ پھر یہی کرتی ۔ بار بار یہی عمل دہرانے لگی ۔ آخر کار اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔اور وہ باپ کے قدموں کی جگہ پر سر ٹکائے پھوٹ پھوٹ کر رو دی ۔ مجھے یہاں سے دور نہیں جانا بابا ، مجھے آپ کے ساتھ رہنا چاہتی ہوں ! وہ ان کو مخاطب کرتی ہوئی بولی۔ بولیں نا بابا؟؟؟ وہ پاگلوں کی طرح زمین پر اگی گھاس نوچنے لگی ۔ ناراض ہو میں ، سنا آپ نے؟ میں ناراض ہوں ، وہ سخت نظروں سے مٹی کو گھورتی ہوئی بولی ۔جیسے کسی وجود سے مخاطب ہو ۔
ایسا نہ کریں نا ،کچھ تو بولیں مجھ سے ، کوئی تو بات کریں! وہ بے خودی سے اس خالی قبرستان میں چلائی
بولیں نہ بابا ! دیکھیں میں کتنی اکیلی ہوگئی ہوں، آپ میں سے کوئی میرے ساتھ نہیں! کوئی بھی ۔۔۔۔۔۔
وہ سر گوشیوں میں سسکتی قبر پر سر رکھے آنکھیں موندنے لگی
بی بی بہت وقت ہوگیا ہے گھر کو لوٹ جائیں اس وقت یہاں ٹھہرنا ٹھیک نہیں ہے !
وہ شخص اسے تیسری بار تاکید کرنے آیا تھا ۔
لیکن میرا تو کوئی گھر ہی نہیں ہے !
وہ سر اٹھا کر ہونکوں کی طرح اس عمر دراز شخص کو تکنے لگی ۔
وہ ، وہ میرا گھر نہیں ہے وہاں کوئی ہے ہی نہیں ! یہاں ہیں سب لوگ دیکھو ! یہ میری مما ،وہ ادھر بابا وہ میرا زوہان ! وہ مڑ کر قبروں کی طرف اس شخص کی توجہ دلانے لگی ۔
اسلیئے یہ میرا گھر ہے ،میں یہیں رہنا چاہتی ہوں پلیز مجھے یہاں رہنے دیں کچھ دیر! وہ آخری لفظ ادا کرتے تک مننتوں پر اتر آئی ۔ مٹی سے اٹا چہرہ ، الجھے ہوئے بالوں میں ،روتی بلکتی لڑکی پر اس شخص کو ترس آہی گیا ۔
وہ افسوس سے سر جھٹکتا اسے یہیں چھوڑ کر الٹے قدموں واپس مڑ گیا۔
تم فکر مت کرو ! ہم جلد ہی ملیں گے ٹھیک ہے ؟؟؟
لیکن جب تک میں نہیں آجاتی تم مما اور بابا کا خیال رکھنا اچھا ؟ وہ سر مٹی پر ٹکاتے ہوئے بولی ۔
میرا پیارا بھائی ، میری جان ،میرا زوہان ! وہ محبت سے اسکی قبر کی مٹھی پر ہاتھ پھیرتی سوئی جاگی کیفیت میں بڑبڑانے لگی ۔
*******************************************
سر انہیں پتا چل گیا ہے کہ ہم انکے تعاقب میں تھے ! اور انہوں نے دھمکی دی ہے کہ اگر آپ نے یہ بند نہیں کیا تو وہ آپ پر کیس کردیں گی ! معاذ کا سر ندامت سے جھکا
کیسے پتا چلا اسے ؟ وہ ایک عام شہری ہے اور تم ایک پروفیشنل آفیسر ! وہ پھٹ پڑا ۔
سوری چیف !
سوری فار وٹ ! اس سوری کی آڑ میں تم اپنی غلطی نہیں چھپا سکتے ! وہ دھاڑا ۔
میں تمہیں ایک ہفتے کے لیئے سسپنڈ کرتا ہو ! یہی تمہاری سزا ہے نائو آئوٹ !
وہ پیشانی مسلتا ہوا ارد گرد غصے سے چکر کاٹنے لگا ۔سوری چیف !
آئی سیڈ آئوٹ ! وہ غصے سے چیخا ۔ نہ جانے اسے اتنا غصہ کیوں آنے لگا تھا ۔ وہ کیوں اتنا پوزیسو ہوتا جارہا تھا اس لڑکی کو لیکر ۔ ان جذبات اور احساسات کو وہ خود بھی کوئی نام دینے سے قاصر تھا ۔اس نے لمبی سانسیں اندر دھکیلتے ہوئے خود کو پر سکون کیا ۔ اور کچھ سوچتے ہوئے اسکا نمبر پش کیا ۔
نمبر آف جارہا تھا ۔ڈیم اٹ ! اس نے فون زور سے ٹیبل پر پٹخا۔ا ور مڑا کر گلاس وال کے اس پار دیکھنے لگا۔ پیشانی پر فکرمندی کے تاثرات نمایاں تھے۔ اسے اب کیا کرنا چاہیئے تھا ؟؟؟؟
**********************************************
دو دن بعد میچ ہے ایک دن کے اسٹے کے بعد اگلے دن ہماری روس واپسی کی فلائٹ ہے !
شرائے ٹیب پر نظریں جمائے اسے اگلے دنوں کا شیڈول سنا رہی تھی ۔ جنونی انداز میں تابڑ توڑ مکے ہیوی بیگ پر برساتے ہوئے اسکے ہاتھ رکے ۔
گیپ کیوں؟؟
سر آرام کے لئے ،
نہیں چاہیئے ،اُسی رات بلکے اُسی شام کی فلائٹ بک کرو ! وہ سرد لہجے میں کہتے ہوئے ہاتھوں پر لپٹی بلیک ہینڈ وریپ کو اتار پھیکا ۔
تاتیہ سے بات کروائو ! کہتے ہوئے اس نے پھولی ہی سانسوں سے پانی کی بوتل لبوں کو لگائی ۔
شرائے حکم کی تعمیل کرتے ہوئے فون ملا کر اسکی طرف بڑھایا۔ بوتل لبوں سے ہٹاتے ہوئے اس نے بچا ہوا پانی سر پر الٹ لیا ۔ اور رخ موڑ کر بغیر بوتل اسکی طرف بڑھاتے ہوئے ۔ اسکے ہاتھ فون لیا۔
ہیلو تاتیہ! جو غیر ارادی طور پر شرائے کے ہاتھ سے پھسل کر زمین پر جا گری ۔ اور خالی حال عجب سا شور اٹھا ۔ یشم نے مڑ کر قہر بھری نگاہوں اسے دیکھا ۔
وہ گھبار کر جلدی سے بوتل اٹھا کر باہر بھاگی ۔ یشم کا رویہ کچھ عجیب سا تھا ان دنوں ۔ حیرت تھی وہ پہلے ایسا نہیں تھا ۔ شرائے کو پہلی بار اس سے خوف محسوس ہونے لگا ۔
**********************************************
جب اسے ہوش آیا تو اس نے خود کو ایک تاریک کمرے میں پایا ۔اس قدر اندھیرا چھایا ہوا تھا ہر طرف کہ اسے بینائی سے محروم ہوجانے کا الحام ہوا ۔
ک کوئی ہے ؟ کوئی ہے کیا ! پ پیلز مجھے باہر نکالو یہاں سے ! وہ درو دیوار کو چھو کر اندازہ کرتی قدم اٹھانے لگی ۔ میرا دم گھٹ رہا ہے یہاں ،مجھے سانس نہیں آرہا
وہ حلق کے بل چلائی ۔ مگر اسکی فریاد سننے والا وہاں کوئی نہ تھا ۔
پلیز مجھے باہر نکالو یہاں سے ! کوئی ہے
اسکا تنفس بگڑنے لگا ۔
ہیلپپپپپپپ ، کوئی ہے؟؟؟؟
وہ چیختی ہوئی زمین پر بیٹھتی چلی گئی ۔
خوف سے سر گھٹنوں میں سر دیئے وہ کانپنے لگی تھی ۔ اسے اس سیاہ اندھیرے سے خوف آنے لگا تھا ۔
پلیز کوئی ہے ، مما بابا پلیز مجھے بچا لیں ! یا اللہ
سسکتے ہوئے اسکی آواز سر گوشیوں میں بدلنے لگی ۔ نہ جانے وہ کب سے یہاں تھی اور کب تک اور یہاں سزا کاٹنا تھی ۔ کیونکہ اسے کچھ بھی یاد نہیں تھا ۔ ۔
