The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode04
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode05 The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode04
The Dark by Uzzai Zehan Episode04
تم کیا چاہتی ہو آج بھی مجھے ڈانٹ پڑے؟؟
ایمان صبح صبح غصے سے بھری اسکے سر پر آ کھڑی ہوئی۔ میں ایسا کیوں چاہوں گی ایمان !
وہ دھیمے لہجے میں بولی ۔
تو مجھے ایگزام فیس دینا پسند کروگی شہزادی صاحبہ تاکہ میں پے کر سکو کیونکہ آج لاسٹ ڈیٹ ہے !
اسکا لہجہ تمسخر اڑاتا ہوا تھا۔
سیلیری کی تمام رقم بار کونسل کے سپرد کر چکی تھی ۔ اسے جلد سے جلد اپنی ڈگری کلیئر چاہیئے تھی ۔
ٹھیک ہے میں آج پے کردونگی !
وہ ٹھنڈی آہ بھرتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
میں تمام عمر آپکی مشکور رہوںگی ! بہت شکریہ آپکا !
تنز سے بھرپور لہجے کہتی وہ بیگ کندھے سے لٹکاتی باہر نکل گئی ۔جہاں نبیشہ اسے مسلسل آوازیں لگا رہی تھی ۔فائنلی ون اینڈ ہاف منتھ رہ گیا ہم ایگزام کے بعد اٹلی ہو نگے ! وہ ایڑھیوں کے بل گھومی ۔
نبیشہ اسکے چہرے پر جگمگاتی خوشی دیکھ کر بمشکل خود کو کچھ کہنے سے ٹوکا۔ورنہ وہ اچھے سے جانتی تھی کہ رومیصہ کچھ بھی کرے گی مگر انہیں اتنی دور جانے کی اجازت کبھی نہیں دے گی ۔
رومیصہ عجلت میں دو چار نوالے زہر مار کرتی ٹیبل چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔اسے ایک نئی ٹینشن نے آلیا تھا۔وہ ایمان کی فیس کیسے ادا کرتی۔ اسکی دوسری جاب کی سیلیری آنے میں ابھی وقت تھا۔ بلا ارادہ اسکا دھیان گلے میں جھولتے پینڈنٹ پر گیا۔ وہ اسکی ماں کی آخری نشانی تھی ۔اسے بیچ نہیں سکتی تھی ۔مگر کیا کرتی کوئی دوسرا راستہ بھی تو نہ تھا
وہ آنسو ضبط سے اندر دھکیلتی لاکٹ اتار کر بیگ میں رکھتے ہوئے جیولرز کا رخ کرنے لگی ۔
آپ سے ایک ریکویسٹ ہے انکل ، وہ جھجکی
دکاندار نا سمجھی سے اسے دیکھنے لگا۔
یہ میری مام کی آخری نشانی ہے اگر مجبوری نہ ہوتی تو میں اسے کبھی نہ بیچتی آپ پلیز اسے امانت کے طور پر گروری رکھ لیں ، جب میرے پاس پیسے ہونگے میں آپکے پیسے ادا کرکے واپس لے لونگی
!وہ التجائیہ انداز میں گویا ہوئی
میں پو ری کوشش کرونگا بیٹا ، وہ خوشدلی سے گویا ہوا ۔ شکریہ انکل ! وہ بھیگی آواز میں کہتی شاپ سے نکل گئی ۔
***************************************
رومیصہ اپنے آفس میں مصروف تھی جب اسکے سیل فون پر مسز کاظمی کا کال آنے لگی ۔
اس وقت ؟ خیریت ہو بس!
اس نے بڑبڑاتے ہوئے فون کان سے لگایا ۔
ہیلو ! رومی تم فری ہو ؟ مسز کاظمی کی پریشانی سے بھرپور آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی ۔
کیا ہوا سب خیریت ؟ وہ فکر مندی سے بولی ۔
تمہاری ہیلپ کی ضرورت ہے بیٹا ، ہاسپٹل سے ایک پیشنٹ مسنگ ہے اور سی سی ٹی کیمراز بھی کام نہیں کر رہے، پلیز تم جہاں کہیں بھی ہو میرے ہاسپٹل آجائو اٹس ویری ارجنٹ ہاسپٹل کی ریپوٹیشن کا سوال ہے ! انکے لہجے سے چھلکتی پریشانی بتا رہی تھی کہ معاملہ کتنا گھمبیر ہے
میں اپنے ڈرائیور کو بھیجتی ہوں تم جلدی سے آجائو!
ٹھیک ہے میں آتی ہوں ، آپ فکر نہ کریں !
وہ انہیں تسلی دیتی عجلت میں اپنا سامان سمیٹنے لگی ۔تقریبا آدھے گھنٹے کے بعد وہ مسز کاظمی کے آفس میں موجود تھی ۔ وہ اسے تمام صورتحال سے آگاہ کرنے کے بعد پریشانی سے چکر کاٹ رہی تھی ۔
آپ پریشان نہ ہو، آپ بس مجھے کنٹرول روم تک پہنچا دیں اور مجھے بیس منٹ دیں آپکا کام ہوجائے گا !
وہ اپنا ٹیب سنبھالتی ہوئی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
پلیز جلدی کچھ کرو رومی !وہ پولیس کو اس معاملے میں کسی طور شامل کرنا نہیں چاہتی تھی
مسز کاظمی اسے کنٹرول روم تک لے آئی ۔
یہ پولیس ڈیپارٹمنٹ سے آئی ہیں ، تم انہیں کچھ وقت دو یہ کمیراز کی فوٹیج دیکھنا چاہتی ہیں !
مسز کاظمی نے مسکراتے ہوئے صفائی سے جھوٹ گھڑا اور سکیورٹی انچارج سے مخاطب ہوئی ۔اور آنکھوں ہی آنکھوں میں مڑ کر اسے اشارہ کیا
شیور میم ! وہ ایک نظر انکے برابر میں کھڑی رومیصہ پر ڈال کر ایک طرف ہوگیا۔
میک شیور کوئی اندر نہ آئے ! مجھے کوئی ڈسٹربنس نہیں چاہیئے ! وہ مسز کاظمی کے کان میں سرگوشی کرنے لگی ۔ تو وہ سر ہلاتی باہر نکل گئی ۔
اور وہ تیزی سے کمپیوٹر اسکرین پر انگلیاں چلاتی مگن نظر آنے لگی ۔ تقریبا آدھے گھنٹے میں اس نے تمام اگلی پچھلی ڈیلیٹڈ فوٹیج ریکور کردی اور گہری سانس لیتے ہوئے ۔ بیگ اٹھائے باہر نکل آئی ۔
کیا ہوا میم پرابلم سولو ہوگئی ؟؟ انچارج اسے باہر آتا دیکھ کر پوچھنے لگا۔
ہاں یہ تو میرے بائیں ہاتھ کا کھیل تھا ! وہ کندھے اچکا کر کہتی آگے بڑھ گئی ۔اور یہی اسکی سب سے بڑی غلطی تھی
تم نے یہ کر دیا ؟او مائی گاڈ آئی جسٹ کانٹ بلیو رومی؟مجھا لگا تم مجھے کوئی سجیشن دوگی اس سے نکلنے کا مگر تم نے تو پرابلم ہی سولو کردی ؟ حیرانی سے انکی آنکھیں باہر آنے کو تھی ۔ رومیصہ نے لاپراوہی سے کندھے اچکائے جیسے کہہ رہی ہو ‘ اب ایسی بھی کوئی بات نہیں تھینک یو سومچ ! وہ اسکا ہاتھ دباتے ہوئے بولی ۔
کوئی بات نہیں ، بس یہ بات ہم دونوں کے درمیان رہنی چاہیئے مسز کاظمی ! وہ اپنا ‘راز ‘ راز ہی رکھنا چاہتی تھی ۔ شیور ،شیور تم بلکل فکر مت کرو ۔ وہ اسے یقین دہانی کروانے لگی ۔
اب مجھے جازت دیں ، نبیشہ پریشان ہورہی ہوگی
اللہ حافظ ! وہ گھڑی پر نظر ڈالتے ہوئے انکے آفس سے نکل آئی ۔ شام ڈھل رہی تھی اسے گھر پہنچنا تھا۔ ہاسپٹل کے باہر ٹیکسی کا انتظار کر رہی تھی ۔جب اطہر اپنی کار پارکنگ لاٹ میں کھڑی کرنے کے بعد ہاسپٹل کی طرف بڑھا۔ غیر ارادی طور پر اسکی نظر رومیصہ پر پڑی ۔ یہ وہی لڑکی تھی جسے ثنان نے اس دن اپنی دوست بتایا تھا ۔
لیکن یہ یہاں کیا کر رہی ہے ؟؟
ہاسپٹل ہے کوئی بھی آ جا سکتا ہے میں بھی کیسی بے تکی باتیں سوچ رہا ہوں ، وہ اگلے ہی لمحے اپنی سوچ کو مسترد کرتے ہوئے اسے نظر انداز کرتا آگے بڑھ گیا۔
تم یہاں ؟؟؟ مسز کاظمی اسے دیکھ کر خوشگوار حیرت سے بولی ۔
آفیشل کیس پر کام کر رہا ہوں ! آپکے ہاسپٹل سے کچھ ڈیٹیل چاہیئے تھی تو سوچا آپ سے ملتا جائو !
وہ پیپر ویٹ گھماتے ہوئے کرسی پر ڈھے گیا۔
ٹھیک ہے تم اپنا کام مکمل لرلو ،تب تک میں ایک پیشنٹ کو دیکھ آئوں ،پھر تمہیں ایک اچھی کافی پلاتی ہوں !
وہ اسکا گال تھپتھپاتی کوٹ اٹھائے آفس سے نکل گئی ۔
تو اطہر نے کنٹرول روم کا رخ کیا۔
سلام سر ! وہ اسے دیکھتے ہی اٹھ کھڑا ہوا۔
اس ڈیٹ کی تمام فوٹیج دکھائو ! وہ جوابا سر خم دیتا ایک چٹ انچارج کے سامنے رکھتے ہوئے برابر والی کرسی پر بیٹھ گیا۔ہاسپٹل کے تمام ورکرز اسے ‘پرفیشنل’ اور مسز کاظمی کے بیٹے ہونے کے حوالے سے بھی جانتے تھے سو اس سے سوال کرنے کی جرات نہ کرتے ۔
بھلا ہو سر آپکا جنہوں نے جس نے ہمارے ہاسپٹل کی پرابلم منٹوں میں سولو کردی !
انچارج مصروف سے انداز میں بڑبڑایا۔
کیا مطلب؟ وہ ناسجھی سے بولا۔
اس ڈیٹ سمیت اور بھی کافی جگہوں کی فوٹیج غائب تھی ! آج آپکے ڈپارٹمنٹ سے کوئی لڑکی آئی تھی اس نے تمام ڈیٹا کچھ ہی وقت میں ریکور کردیا سر ! ماشاللہ بہت ذہین تھی اللہ ترقی دے ۔
کون لڑکی؟ ہم نے کسی لڑکی کو نہیں بھیجا ؟
وہ ہکا بکا اسکا چہرہ تکنے لگا۔
سر آپ ضرور بھول رہے ہیں ! اس نے کہا تھا وہ پولیس ڈپارٹمنٹ سے ہے ! انچارج ہنوز مطمئن انداز میں بولا۔ کیسی دکھتی تھی وہ؟؟ مطلب حلیہ کیا تھا اسکا ؟
اسے تشویش ہوئی ۔ لمبے سے بال تھے اسکے، قد بھی ماشااللہ لمبا چوڑا تھا دکھنے میں بھی اچھے خاصے گھر کی لگتی تھی ، وہ اپنی ہی جون میں بولے جا رہا تھا
اسکارف بھی تھا اسکے گلے میں ؟
جب اطہر نے پرسوچ لہجے میں مگن اسکی بات کاٹی ۔
ہاں سر ! اسکارف بھی لیا ہوا تھا اس نے ! انچارج جھٹ سے بولا۔ اور اسکے شک کی تصدیق ہوگئی ۔اوپر سے وہ انٹرینس کے وقت اسی لڑکی کو ہاسپٹل کے باہر دیکھ چکا تھا۔
یہاں سے کب گئی وہ؟؟ وہ تیزی سے کرسی چھوڑتا اٹھ کھڑا ہوا ۔
آپ کے آنے سے کچھ دیر پہلے سر ! اتنا کہنا تھا کہ اطہر تقریبا بھاگتے ہوئے ہاسپٹل سے باہر جانے لگا۔
***************************************
اسے تقریبا پانچ منٹ گزر چکے تھے مگر ٹیکسی تھی کے آکے نہیں دے رہی تھی ۔
ہائے ! تبھی اسے اپنی پشت پر کسی کی مردانہ آواز کا گمان ہوا ۔
جی؟؟ وہ نا سمجھی سے اس لڑکے کو دیکھنے لگی ۔ جو نا جانے کہاں سے برآمد ہوا تھا ۔ وائٹ شرٹ پر بلیک لیدر کی جیکٹ اور ہاتھوں میں کئی ریبن نما چیزیں پہنے وہ امیر گھرانے کا معلوم ہوتا تھا مگر بگڑا ہوا ۔
میں چھوڑ دوں؟؟؟ وہ بھرپور نظر اس پر ڈالتے ہوئے بولا ۔ نہیں شکریہ! وہ اسکی نظروں سے خار کھانے لگی ۔ اسے لگا اس نے پہلے بھی کہیں دیکھا تھا اس شخص کو ۔ مگر کہاں ؟ اسے یاد نہیں ۔
چلو تمہیں ایک گفٹ بھی دینا ہے ! وہ مصر ہوا۔
میں تم جیسے لوگوں کے کسی بھی گفٹ میں انٹرسٹڈ نہیں ہو! وہ چبا چبا کر بولی ۔ اور زرا دور جا کھڑی ہوئی ۔
اچھا ! اس میں بھی نہیں ۔ وہ جیب سے لاکٹ نکال کر اسکے سامنے لہراتا ہوا بولا۔
ی یہ یہ کہاں سے ملا تمہیں ! وہ حیرانی سے بولی ۔ یہ اسکی ماں کا لاکٹ تھا جو وہ جیولر کو دے آئی تھی ۔
اب تمہاری چیزوں کی ہم حفاظت نہیں کرینگے تو اور کون کرے گا ! وہ آنکھ دباتا ہوا بولا۔اور لاکٹ واپس مٹھی میں دبوچ کر جیب میں گھسایا
کیا بکواس ہے یہ ؟ وہ زہر خند لہجے میں بولی ۔ رحمان ،رحمان خاور نام ہے میرا ! ڈیئر کزن
وہ سنجیدگی سے کہتا دو قدم آگے آیا۔
رومیصہ کے سر پر گویا کسی نے بم پھوڑ دیا ہو۔ اسکا باپ کیا ایک کم تھا جو بیٹا بھی انکی زندگی میں زہر گھولنے آگیا تھا ۔
کیا مسلہ ہے تمہارا ؟ کیا چاہیئے تمہیں اب؟ وہ غرائی ۔
تم ، تم ، اور صرف تم! وہ گہری نگاہوں سے اسے دیکھتا ہوا بولا۔
اپنی بکواس بند کرو اور چلتے پھرتے نظر آئو یہاں سے ورنہ بہت برا ہوگا ! وہ نفرت سے پھنکاری ۔
ورنہ کیا ؟ مثلا کیا برا ہوگا ؟؟
وہ اسکے عین نزدیک آ کھڑا ہوا ۔
دور ہٹو مجھے ! وہ ناگواری سے بولی ۔
کیا ہوا ؟ ہاں؟ بہت ہوائوں میں اڑ رہی تھی تم بابا کے سامنے ، مس جرنلسٹ ساری دھمکیاں ہوا ہوگئیں اب
وہ قدم قدم اسے طرف بڑھنے لگا۔
رومیصہ ضبط سے مٹھیاں بھینچنے لگی ۔
تمہاری دھڑکنوں کی آواز مجھے یہاں تک سنائی دے رہی ہے ! وہ اسکے کان میں سرگوشی کرنے لگا۔
دور ہٹو مجھسے جاہل انسان ! وہ ہڑبڑائی ۔
ڈر گئی؟ ہاں؟ وہ اسکی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر کہتا ہنس پڑا
رومیصہ ضبط سے جبڑے بھینچے اور جواب دیئے بغیر جانے کے لیئے مڑی ۔وہ اس سے بلا جواز الجھنا نہیں چاہتی تھی ۔ ارے رے ؟ کہاں چلی ؟ وہ لپک کر اسکی کہنی دبوچتے ہوئے بولا۔
کیا بدتمیزی ہے چھوڑو مجھے ! وہ مچلی ۔
بدتمیزی تو ابھی میں نے کی ہی نہیں ! دراصل تمہارے لیئے میرے پاس ایک آفر ہے کل میرے بھیجے گئے ایڈریس پر آجانا ! آرام سے بیٹھ کر بات کریں گے ! اپنی بات مکمل کیئے اس نے اسکی کلائی چھوڑ دی ۔ اور کسی آندھی طوفان کی طرح غائب ہوگیا۔ رومیصہ دل تھام کر رہ گئی ۔
جبکے گارڈن ایریا کے قریب درخت کی اوٹ میں کھڑے اطہر نے تمام منظر ملاحظہ کیا۔ وہ اور الجھ گیا ۔
کوئی نمبر ڈائل کرتے ہوئے اس نے فون کان سے لگایا ۔اور واپس مڑ گیا۔
تمہیں ایک لڑکی کی تصویر بھیج رہا ہوں ،کہاں آتی جاتی،کس ملتی ہے اس کی ہر ہر حرکت پر نظر رکھو اور مجھے خبر کرتے رہو حکم صادر کرتے ہوئے اس نے فون بند کر دیا۔
***************************************
وہ تمام رات مختلف سوچوں اور خوف کے بعث سو نہیں پائی ۔ایک نئی مصیبت اسے گلے پڑ چکی تھی ۔
اگلی صبح آفس میں بھی وہ گم سم سی تھی تقریبا دس بجے کے قریب اسے رحمان خاور کا پیغام موصول ہوا۔ وہ اسے کسی کیفے میں بلا رہا تھا ۔اس نے لمبی سانس اندر کھینچی اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ وہ اسے رشوت یا لالچ دینے کی کوشش کرے گا اپنے باپ کی طرح مگر وہ اسکی آفر اسکے منہ پر مار کر قصہ تمام کردے گی اس نے سوچ لیا تھا۔
کئی لمحوں بعد وہ اسکے بتائے گئے ایڈریس پر موجود تھی ۔ میں نے زیادہ انتظار تو نہیں کروایا !
وہ اسکے مقابل کرسی سنبھالتا ہوا بولا۔
مدعے کی بات پر آئو ! وہ دو ٹوک بولی ۔
کیا لوگی کافی یا جوس ؟؟ وہ کسی اور موڈ میں تھا ۔ تمہارا مسلہ کیا ہے؟ کیا چاہتے ہو تم مجھ سے ؟؟
وہ دانت پیسنے لگی ۔
تمہیں ، وہ سنجیدگی سے گویا ہوا ۔
کیا بیہودگی ہے یہ؟ رومیصہ ہاتھ ہوا میں اٹھا کر رہ گئی ۔ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں !
وہ اسے نظروں کے حصار میں لیئے بولا۔
گویا اسکے سر پر دھماکہ کیا ۔ وہ پھٹی پھٹی نظروں سے اسے دیکھنے لگی ۔اسے ‘ اس ‘ قسم کے آفر کی توقع ہرگز نہیں تھی ۔ اسکے چہرے سے صاف ظاہر تھا۔
کیا ہوا ؟ ایسے کیا دیکھ رہی ہو ! میں سیریس ہوں سچ میں تم سے شادی کرنا چاہتا ہوں ! وہ اپنی بات پر اٹل تھا ۔ نا ممکن ! وہ زہر خند لہجے میں کہتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔
کیوں آخر؟؟ وہ چیخا ۔
یہ تم اپنے باپ سے پوچھو تو بہتر ہوگا ! وہ دوبدو بولی ۔ دیکھو وہ سب پاسٹ کی غلطیاں تھی ، جو بھی ہوا بھول جائو سب !
رومیصہ کے دل میں یہ الفاظ تیر کی طرح پیوست ہونے لگے ۔ وہ پتھرائی آنکھوں میں آنسو لئے اسے گھورنے لگی اسکی ماں ، اسکے معصوم بھائی کو اس سے چھین کر ۔
کس قدر وثوق سے کہہ رہا تھا کہ غلطی ہوگئی سب بھول جائو۔ کیا کسی کی زندگی ان لوگوں کے لیئے کوئی معنی نہیں رکھتی ؟
مجھ سے شادی کرلو ایک نئی زندگی شروع کرو ، میرا یقین کرو میں تمہاری بہنوں کو بھی بہت خوش رکھونگا ۔ رومیصہ نے طیش میں آکر ہاتھ میں پکڑا ٹیب اسکے سر پر دے مارا ۔ اسکے صبر کا پیمانہ لبریز ہوچکا تھا ۔
وہ لڑکھڑا کر دو قدم پیچھے ہوا۔
قاتل کا بیٹا بھی قاتل ہی کہلاتا ہے !اور میں ایک قاتل سے شادی ہرگز نہیں کرونگی ! باسٹرڈ
وہ زہر خند لہجے میں چلاتی تیز تیز قدم اٹھاتی کیفے سے نکل گئی ۔میلوں دور بیٹھے اطہر کاظمی کے چہرے پر یہ سن کر بے ساختہ جاندار سی مسکراہٹ ابھری ۔
آگے کیا کرنا ہے سر ؟ کیفے میں کچھ دوری پر رخ موڑے بیٹھا شخص اسکے اگلے حکم کے انتظار میں تھا
ٹیب اٹھائو اور اسے ریپئر کروا کے میرے آفس لے آئو ! اگلا حکم صادر کیئے اس نے وڈیو لنک ڈسکنیکٹ کرکے فون ٹیبل پر اچھال دیا
***************************************
دن پر لگا کر اڑتے جارہے تھے لیکن بار کونسل سے اسے کوئی جواب موصول نہیں ہوا۔ وہ دو سال تک ایز اے لائر کوئی آفیشل کام سر انجام نہیں دے سکتی تھی ۔اور ستم تو یہ تھا کہ وہ پولیس کے پاس جا سکتی تھی نہ خود کچھ کر سکتی تھی ۔اوپر سے رحمان نامی بلا کی بے خوفیاں بڑھتی ہی جارہی تھی وہ کرتی بھی تو کیا کرتی ۔اسکے پاس اب کوئی چارہ نہیں تھا سوا اسکے کہ وہ ثنان کو سب بتا دیتی شاید وہ اسکی کوئی مدد کر پاتا ۔
انگلیاں چٹختی وہ عمارت کے باہر کھڑی تھی ۔ اس شش و پنج میں مبتلا کہ اندر جائے یا نہ جائے ۔ وہیں کھڑے اس نے ثنان کو میسیج کیا ۔ خوش قسمتی سے وہ آج فری تھا سو اسے لیئے کیفے ٹیریا آگیا۔
کیا لوگی ؟؟
کچھ نہیں بس پانی کا گلاس !
وہ ٹیبل پر ہاتھ جماتی آگے کو آئی ۔
کیا ہوا تم کچھ پریشان لگ رہی ہو؟
وہ فکر مند ہوا ۔
ثنان ؟ مجھے تمہاری ہیلپ چاہیئے ! وہ جھجکی ۔
ہاں بولو ! وہ تیار تھا ہمیشہ کی طرح ۔
نہیں ! تم پہلے میری پوری بات سنو ، اور پھر فیصلہ کرو میں تمہیں یا تمہاری نوکری کو کسی خطرے میں نہیں ڈال سکتی ۔ وہ بولی
ٹھیک ہے لیکن بات کیا ہے؟؟ اسے تجسس ہوا۔
تم نہیں جانتے شاید ،لیکن میں ایک لائر ہوں !
کیا ؟؟؟ وہ حیرانی سے چیخا ۔
ہاں ! اس نے سر ہلایا۔
تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا یار ! وہ سخت برہم ہوا ۔
وہ اس لیئے کہ اب میں آفیشلی دو سال تک کام نہیں کر پائونگی ! میں نے اپیل بھی دائر کی ہے مگر ،
اس نے افسوس سے جملا ادھورا چھوڑا ۔
مگر اسکی بھی کوئی وجہ ہوگی ؟ وہ الجھا۔
خاور حیسن ہے اسکی وجہ !
اس نے تاسف سے ہتھیلیاں رگڑی ۔
کیا ؟ وہ پولیٹیشن ؟ خاور حیسن ! مطلب میں سمجھا نہیں تفصیل سے بتائو ! وہ مزید الجھا ۔
کچھ سال پہلے میری مما کی اچانک ڈیتھ ہوگئی ۔ جب فارنسک ریپورٹ آئی تو پتا چلا انکی ڈاکٹر انہیں دوا کے نام پر سلو پوائزن دے رہی تھی ۔ میں نے اپنی لاء کی ڈگری کمپلیٹ ہوتے ساتھ ہی کورٹ میں ڈاکٹر کے خلاف کیس فائل کر دیا ۔مگر ثبوت اور گواہاں محدود ہونے کی وجہ سے کورٹ نے اس ڈاکٹر کو رہا کر دیا مگر میں نے ہار نہیں مانی ۔ میں مسلسل اسکے تعاقب میں تھی پھر ایک دن میں نے اسے خاور حسین سے ملتے دیکھا ۔ میں نہیں جانتی تھی انکے بیچ کے کیا معاملات تھے مگر اسکے بعد میں نے ایک دن منصوبہ بنا کر اس ڈاکٹر کو اغوا کر لیا ۔کیونکہ میرے پاس اور کوئی چارہ نہیں تھا میں سیدھا خاور حسین پر ہاتھ نہیں ڈال سکتی تھی
کیا ؟؟؟ وہ حیران پریشان رہ گیا ۔
ہممم ، میں نے اس سے تمام سچ اگلوایا اور اسکے بعد چھوڑ دیا !
کیا کہا اس ڈاکٹر نے ؟؟؟ وہ دلچسپی سے گویا ہوا ۔
اس نے کہا اس یہ سب میرے ماموں کے کہنے پر کیا ،
اس نے اگلا بم اسکے سر پر پھوڑا ۔
ماموں؟ خاور حسین تمہارے ماموں ہیں ؟؟ وہ شاکڈ تھا۔ ہاں ،اور اس نے مجھے یہ بھی بتایا کہ مما نے بابا سے شادی اپنی فیملی کے خلاف جاکر کی تھی تب انکی فیملی نے انہیں اپنی تمام جائیداد اور حتی کہ اپنے نام سے بھی عاق کردیا تھا ،مما بابا نے مجھسے یہ بات چھپائی ۔
وہ بے بسی سے اپنی ہتھیلیاں رگڑنے لگی ۔اور پھر سے سلسہ کلام جوڑا
جبکے کچھ عرصے بعد نانا کا انتقال ہوگیا اور نانی بیمار رہنے لگی ،انہیں اپنی اکلوتی بیٹی کی آخر کار یاد ستانے لگی ،وہ مما کو واپس بلانا چاہتی تھی جبکے ماموں ایسا نہیں چاہتے تھے ، انہیں معلوم تھا اگر مما سے رشتہ دوبارہ جوڑا تو انہیں قانوناً جائیداد کا آدھا حصہ مما یا انکے بعد انکی اولاد یعنی ،مجھے یا زوہان کو دینا کو پڑے گا ، اور اسی لئے انہوں نے ! وہ بے ساختہ روپڑی ۔
رو مت یار ، لو پانی پیو
ثنان کو اب سارا قصہ سمجھ آنے لگا۔
انہوں نے میرے معصوم بھائی کو بھی نہ بخشا !
تمہارا بھائی بھی تھا ؟؟؟ ثنان حیران ہوا ۔کیونکہ اس نے ابھی تک اسکا ذکر نہیں کیا تھا۔
ہاں زوہان نام تھا اسکا ،وہ پیدائشی زرا ابنارمل تھا !اسکا ٹریٹمنٹ چل رہا تھا زیادہ تر وہ ہاسپٹل میں ہی رہتا تھا جب مما کی ڈیتھ ہوئی تو میں اسے گھر لے آئی ، وہ میرے ساتھ کافی وقت گزارنے لگا ،مجھے پہچاننے لگا تھا وہ دھیرے دھیرے نارمل ہورہا تھا پھر ایک دن وہ سیڑھیوں سے گرا اور، وہ رکی ۔ اسکا چہرہ آنسوئوں سے تر تھا ۔
ثنان کے دل کو کچھ ہوا ۔
میں کئی دن صدمے میں رہی اسکی اچانک موت پر ،، پھر دھیرے دھیرے میں بھی اپنی زندگی میں مصروف ہوگئی ،میرے گمان میں بھی نہیں تھا کہ وہ ایکسیڈنٹل موت نہیں بلکے جان بوجھ کے کی گئی سازش تھی ۔ اسے بھی قتل کردیا گیا تھا ، میری مما کی طرح اور میں بے وقوف ہمیشہ کی طرح دیر سے سمجھی ! اس نے خود کو کوسا ۔
تم، تمہیں کیسے پتا چلا؟؟ اس نے حیرانی سے پوچھا ۔
جب میری مما کی طبیعت زیادہ بگڑی تو انہیں بابا نے الگ انیکسی میں شفٹ کردیا ،تاکے میں انکی حالت سے بے خبر رہو ،میرے ایگزام چل رہے تھے ان دنوں ، ظاہر ہے میں پریشان ہوجاتی وہ تو کئی کئی دن بستر پر بنا کچھ کھائے پیئے پڑی رہتی ،انہیں دنیا کا کوئی ہوش نہیں تھا حتی کہ وہ مجھے بھی نہ پہچانتی ! وہ رو پڑی ۔
ثنان اسکے ہاتھ پر ہاتھ جمائے تسلی دینے لگا۔
چونکہ بابا آفس میں رہتے تھے سارا دن تو کبھی رات رات بھر، اسلیئے انہوں نے انیکسی میں ایک چھوٹا سا کیمرا لگا دیا تھا تاکے وہ مما کو دیکھ سکیں ، ویسے تو کیئر ٹیکر بھی موجود تھی مگر وہ بہت پریشان تھے انہیں لے کر ، بیوی کو اس حال میں دیکھ کر وہ آدھے رہ گئے تھے !
اس نے ٹشو ناک رگڑا ۔
تو تم نے رکیارڈنگ دیکھی ان کیماراز کی؟؟؟ ثنان نے پوچھا ۔
ہمم مما کے بعد وہ گھر خالی تھا اسلیئے میں زوہان کو وہاں لے گئی ، وہاں ایسی کوئی چیز نہیں تھی جو ہارم لیس ہو ،میں نے کچن لاکڈ کر دیا تھا اور باقی پورا گھر بھی اسی حساب سے سیٹ کیا تھا ! حتی کہ ٹیرس کا دروازہ تک لاک کیا تھا میں نے ،وہ وہیں رہتا تھا میں اکثر شام میں اور ویکاینڈ کا دن اسکے ساتھ گزارتی تھی ، میرے علاوہ اس جگہ کا کسی کو علم نہیں تھا ! پھر کیسے ! انہوں نے پتا لگالیا تھا ، اور پھر اسکے قتل کو ایکسیڈنٹ کا نام دے دیا گیا ۔ انکے لیئے یہ کوئی مشکل کام نہیں تھا کیونکہ زوہان ابنارمل تھا وہ عدالت میں آسانی سے ثابت کر سکتے تھے ! میرے پاس سوائے ایک آدھ فوٹیج کے اور کچھ بھی نہیں تھا ! فوٹیج والے انسان کو وہ پہلے ہی راستے سے ہٹا چکے تھے ! ثنان نے تاسف سے سر جھٹکا ۔
اور تمہاری ڈگری ؟ وہ کیسے ؟
میری مام کی ڈاکٹر نے میرے خلاف کیس دائر کیا کہ میں نے انہیں مارا پیٹا اور ڈرایا دھمکایا کہ انہوں نے کورٹ میں سچ کیوں نہیں بولا کہ میری ماں کو فلاح فلاح بیماری تھی اسلیئے وہ مر گئی ! حالانکہ یہ بھی سراسر جھوٹ ہے انہیں کوئی بیماری تھی ہی نہیں ! جھوٹی رپورٹس اور جھوٹے گواہان جن میں وہ ڈاکٹر بھی شامل تھی سب ایک جال تھا !
اور مجھے ایسا لگتا ہے اس ڈاکٹر نے تمہارے خلاف کیس بھی خاور حسین کے کہنے پر کیا ؟؟؟
ثنان پرسوچ لہجے میں کڑیاں جوڑنے لگا
ظاہر ہے ، وہ ڈاکٹر شہر کی مشہور ڈاکٹر تھی تبھی جج نے اسکے حق میں فیصلہ دیا ! اور میری ڈگری پر اسٹرائک لگ گیا،الٹا مجھے جرمانہ بھی ادا کرنا پڑا
بے بسی ہی بے بسی تھی اسکے لہجے میں ۔
اب کہاں ہیں وہ ؟؟ ثنان نے پوچھا۔
مر چکی ہے تبھی تو یہ مصیبت میرے گلے آپڑی ہے وہ بھی دوسال تک ! خود تو وہ مری ہی ساتھ میں میرا کریئر بھی تباہ کر گئی! ناگواری کے بل اسکے ماتھے پر پڑے ۔
کیسے مری وہ؟ ثنان کی چھٹی حس اسے سگنل دینے لگی ۔ ایکسیڈنٹ ! وہ سرسری سا بولی ۔
تمہیں واقعی لگتا ہے یہ موت ایکسیڈنٹ ہے ! ثنان کو شک ہوا ۔
یہ تو تم یا میں جانتے ہیں ثنان ! کس کس کو یقین دلائیں گے کہ یہ موت ایکسیڈنٹل نہیں ہے ! اس نے سرد آہ بھری ۔ تم سب جان چکے ہو ثنان ! فیصلہ تمہارا ہے ایک دوست ہونے کے ناطے تم پر یہ فرض نہیں ہے کہ تم ہر حال میں میرا ساتھ دو ،تم انکار بھی کر سکتے ہو ، یقین مانو مجھے زرا بھی برا نہیں لگے گا ،مگر میں نہیں چاہتی تم کسی مصیبت میں پڑو اسلیئے اپنا فائدہ اور نقصان مد نظر رکھتے ہوئے فیصلہ کرنا ! وہ سنجیدگی سے بولی ۔
ہممم وہ مسکرایا ۔
خیر اب میں چلتی ہوں ! بیگ کندھے پر ڈالتی وہ جیسے ہی اٹھی اسے زوردار چکر آیا ۔ اس نے لڑکھڑا کر کرسی کی پشت تھامی ۔
کیا ہوا تم ٹھیک تو ہو؟ رومیصہ ؟
وہ سرعت سے اسکی طرف بڑھا ۔
ہا ہاں میں ٹھیک ہوں ! اس نے پلکیں جھپکی ۔
تم مجھے ٹھیک نہیں لگ رہی ،چاہو تو ڈاکٹر کے پاس چل سکتے ہیں ہم ! وہ فکر مند ہونے لگا۔
آہہ نہیں اسکی ضرورت نہیں! رومیصہ نے ایک لمبی سانس اندر کھینچی اور نفی میں سر ہلایا۔
میں نے شاید ٹیبلٹ نہیں لی آج صبح اسی لیئے یہ سب ہورہا ہے تم فکر مت کرو میں بس گھر ہی جا رہی ہو !
وہ زبردستی مسکرائی ۔
کیسی ٹیبلٹ ؟ وہ چونکا ۔
ایسی بہت سی باتیں ہیں جو تم میرے بارے میں ابھی بھی نہیں جانتے ، ڈونٹ وری جلد ہی جان جائو گے !
اس نے شرارتًا کہتے ایک آنکھ دبائی ۔
ثنان نفی میں سر ہلا کر رہ گیا ۔ اور کتنے راز چھپا رکھے تھے اس لڑکی نے خود میں ! وہ حیرت زدہ تھا ۔
