Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode14

The Dark by Uzzai Zehan Episode14

بے چینی سے آفس میں چکر لگاتے لگاتے اسکے اعصاب شل ہونے لگا۔ رومیصہ سے بات کیئے بغیر اب اسے چین ملنے والا نہیں تھا ۔ تھک ہار اس نے کرسی کی پشت سے جیکٹ اٹھا کر پہنی ۔موبائل اور گاڑی کی چابیاں اٹھاتا ہوا ثنان کے کیبن کا رخ کرنے لگا ۔
وہ ، تمہاری جو دوست ہے ، کیا نام ہے اسکا ؟ اسے فون کرو ! وہ پیشانی پر انگوٹھا گھماتا ہوا بولا ۔
ک کون؟ کونسی دوست چیف؟ ثنان اسے اچانک اپنے کیبن میں دیکھ گڑبڑایا ۔
ڈونٹ پلے انوسینٹ ود می ! ابھی کے ابھی اس لڑکی کو فون ملائو ! وہ دھاڑا ۔ وہ پہلے ہی پریشان تھا اسے لے کر وہ اسکا فون نہیں اٹھا رہی تھی ۔دوسرا عجیب سے خدشات دماغ میں آنے لگے تھے ۔
ثنان اسکے رویے پر حیران ہوتا تیزی سے نمبر ملانے لگا۔
امید ہے اس نے اب کچھ نہ کر دیا ہو ! اس نے دل سے دعا کی ۔
اسکا نمبر بند جا رہا ہے ! فون کان سے ہٹاتا ہوا بولا ۔ جو اطہر کی پریشانی میں اضافہ کرنے کے لئے کافی تھا ۔
تمہارا اگر کوئی رابطہ ہو اس سے تو مجھے فورا بتانا !
اطہر کہتے ہوئے واپس مڑا ۔
میں کیس میں بزی تھا میرا کافی دنوں سے اس سے رابطہ نہیں ہوا چیف ! مگر بات کیا ہے؟ ثنان فکر مندی سے بولا ۔ جتنا کہا ہے صرف اتنا کرو ! اور اسکے نمبر کی لاسٹ لوکیشن مجھے سینڈ کرو !کہتے ہوئے آفس سے باہر نکل گیا ۔ جی سر ! وہ الجھن بھرے انداز میں سر ہلاتے ہوئے مصروف نظر آنے لگا۔
چیف کیوں اسکے لیئے اتنا پریشان ہیں؟ اسکے دماغ میں سوال گردش کرنے لگا ۔
خیر ! وہ سر جھٹک کر اسکا نمبر نوٹ کرتے ہوئے کال سینٹر میں فون ملانے لگا ۔ملنے والی معلومات نوٹ کرنے کے بعد اس نے اطہر کو سینڈ کردیں ۔
وہ آفس سے نکل کر ابھی مین روڈ پر ہی پہنچا تھا کہ اسکے فون پر پب بجی ۔اس نے بے چینی سے اسکرین پر نظر ڈالی تو ثنان کا پیغام موصول ہوا ۔
وہ دھک سے رہ گیا ۔ رومیصہ کے فون سے دو دنوں سے کوئی کال نہیں کی گئی تھی ۔ آخری کال ‘انٹر نیشنل ‘ کال تھی جو کہ یقیننا اسکی بہنیں ہی تھی ۔ مگر اسکے بعد ؟؟ وہ کہاں تھی دو دن سے؟؟ اس سے آگے وہ سوچ ہی نہ سکا ۔ اس نے تیزی سے معاذ کو فون ملایا ۔
ہاں معاذ سنو ! رومیصہ جہاں جاب کرتی ہے ، اسکا لِونگ ہائوس، اولڈ ہائوس ،اسکے دوست سب سے معلوم کرو وہ دو دنوں سے کہاں ہے ! عجلت سے کہتے ہوئے اس نے کال کاٹ دی ۔ اور گاڑی ریسورس کرتے ہوئے ثنان کی بھیجی گئی معلومات کے مطابق اس راستے پر ڈال دی ۔
یہ لڑکی اسکی جان لے کر چھوڑے گی ! اس نے برہمی سے سوچا ۔ اسے تو لگا تھا وہ ‘پیچھا’ کیئے جانے والی حرکت پر ناراض ہوگی تبھی اسکی کال رسیو نہیں کر رہی دو دن سے ، مگر اسے کیا معلوم تھا ۔ اسکے نظر ہٹاتے ہی وہ اسکی نظروں کہیں دور اوجھل ہو جائے گی ۔
کہاں ہو تم رومیصہ ! اس نے بسی سے اسٹرینگ پر ہاتھ مارا ۔ اور لوکیشن پر پہنچتے ہی سیٹ بیلٹ نکال کر باہر آگیا ۔مگر یہ تو پوش علاقہ ہے ہر طرف گلیاں ہی گلیاں ہیں ۔ وہ یہاں کیا کرنے آئی ہو گی ؟ اسے اچھنبہ ہوا ۔
ایکسکیوز می ؟ یہاں آس پاس کوئی پبلک پلیس ہے ، کوئی کافی شاپ ،ریسٹورنٹ ،یا پھر اسکول کالج یا فرم جیسی کوئی بھی چیز ! وہ اجنبی شخص کو روک کر پوچھنے لگا ۔ نہیں ایسا تو کچھ یہاں نہیں ہے چونکہ یہ پوش علاقہ اسلیئے اجازت نہیں یہاں رسٹورنٹ وغیرہ بنانے کی !
ٹھیک ہے شکریہ ! وہ سخت مایوس ہوا ۔
ہاں مگر دو گلیاں چھوڑ کر قبرستان ہے ! وہ شخص یاد آنے بولا اور اپنی منزل پر رواں دواں ہوگیا ۔
جبکے اطہر کے ہوش اڑ گئے ۔
عین ممکن تھا وہ قبرستان آئی ہوگی ! اس نے گاڑی سے فون نکالا اور تیز قدموں سے چلتے ہوئے گلیوں کو کراس کرنے کے بعد قبرستان کے مرکزی گیٹ پر آ پہنچا ۔ اسکا دل زور زور سے دھڑکنے لگا۔ ہاتھ کے اشارے سے واچ مین کو پاس بلایا ۔
میں کرائم ڈپارٹمنٹ سے ہوں وہ اپنی آئی ڈائی کارڈ اس کے سامنے کرتا ہوا بولا ۔
اب جو بھی سوال کروں فٹا فٹ جواب دیتے جائو ! مجھے صرف سچ سننا ہے ! سختی سے تنبہی کی ۔
جی سر !عمر دراز اثبات میں سر ہلانے لگا ۔
دو دن پہلے ، دن کے کسی بھی وقت یا رات یہاں کوئی عورت آئی تھی ! گلے میں اسکارف ، سیاہ بالوں والی ،لمبا سا قد ، اس حلیے سے ملتی جلتی !
وہ شخص سوچ میں پڑ گیا ۔
بولو! اسکی برداشت جواب دینے لگی ۔
ہاں سر شام کے وقت آئی تو تھی مگر ! ،
مگر ؟؟ وہ بے صبری سے بولا ۔
مگر وہ بہت ڈھیٹ تھی ، میں نے دو تین بار بولا کہ بی بی گھر جائو ، مگر وہ عجیب باتیں کرنے لگی ، پہلے کہتی بس تھوڑی دیر رک کر چلی جائوں گی ،، اتنی دیر گزرنے کے بعد بھی جب وہ نہ گئی تو میں نے پھر سے بولا تو کہتی میرا کوئی گھر نہیں اور رونے لگی مجھے یہیں رہنے دو ،
پھر ؟؟؟ اطہر نے پریشانی سے پوچھا ۔وہ اسکے مینٹل ڈس آرڈر کا اندازہ لگا سکتا تھا
پھر میں اسے وہیں چھوڑ کر گھر چلا گیا اور جب کھانا کھا کے واپس آیا تو کچھ لوگ اسے گاڑی میں ڈالے لے جا رہے تھے ،
کیا؟ اسکے پیروں تلے زمین نکل گئی
کون لوگ تھے وہ؟؟
پتا نہیں سر مجھے لگا انکی کچھ لگتی ہوگی بہن وغیرہ تبھی لے جا رہے ہیں ، اور لڑکی کی دماغی حالت بھی مجھے کچھ ٹھیک نہیں لگتی تھی !
کچھ بتا سکتے ہو انکے بارے میں ؟
وہ پریشانی سے بولا ۔
نہیں سر بہت اندھیرا تھا میں انہیں دیکھ نہیں پایا مگر ،
وہ سیاہ رنگ کی دو گاڑیوں میں آئے تھے اور گاڑیاں بھی عام لوگوں والی نہیں لینڈ کروزر تھی
بظاہر امیر گھرانے کی لگتی تھی لڑکی ! بوڑھا اپنی ہی جون میں اندازے لگانے میں مصروف تھا
اطہر کے ہاتھوں کے طوطے اڑ گئے !
رحمان خاور ، اسکے لب بڑبڑایا ۔
ہاں جی سر جی؟؟؟ وہ شخص نہ سمجھی سے بولا ۔
وہ نفی میں سر ہلاتا تقریبا بھاگتے ہوئے اپنی گاڑی کا رخ کرنے لگا ۔
****************************************
کب سے ویٹ کر رہی ہوں ،اگر لیٹ ہی آنا تھا تو بتا دیتی ایٹ لیسٹ میں لائبریری کا چکر لگا آتی تب تک !
نبیشہ انہیں آتا دیکھ پھٹ پڑی ۔
کوئی بات نہیں ہمارے ساتھ وزٹ کر لینا ! وہ ولدان کی طرف دیکھتی ہوئی بولی اور بیگ برابر والی چیئر پر رکھ کر اسکے مقابل براجمان ہوئی۔
کم آن مجھے ‘وزٹ ‘ نہیں کرنا بکس ایشو کروانی ہیں !
وہ بھڑکی ۔
اچھا بابا ٹھیک ہے ، مرچی کیوں چبا رہی ہو !
ایمان نے آنکھیں گھمائیں ۔
وہ جواب دیئے بغیر فون کی سیاہ اسکرین کو گھورنے لگی ۔ کیا ہوا کوئی مسلہ ہے ؟
ایمان اسکی حرکت نوٹ کرتی ہوئی بولی ۔
رومی کا نمبر آف جا رہا ہے ، میں نے ٹیکسٹ بھی کیئے مگر کوئی جواب نہیں ملا ! وہ فکرمندی سے گویا ہوئی ۔
دیکھا ، وہ ہم سے جان چھڑوانا چاہتی تھی اور !
انف از انف ایمان ، وہ غصے سے بولی ۔
اُپسسس سوری نبیشہ ! اے اللہ کچھ ایسا کر کہ دی گریٹ رومیصہ جلد ہی اسکا فون اٹھالیں آمین ، آمین ،
تنقیدی انداز میں کہتے ہوئے بے نیاز بیٹھی ولدان کے ہاتھ پر ہاتھ مارا ۔
آ آمین آمین ! وہ جھٹ سے بولی ۔
نبیشہ اسے گھور کر رہ گئی ۔
اچھا نا ! چلو بتائو کیا کھائو گی ! وہ ناک بھوں چڑھاتی ہوئی بولی ۔
جو تمہارا دل کرے میرا آج موڈ نہیں ! مجھے لائبریری جانا ہے نبیشہ بے توجہی سے کہتی بیگ اٹھا کر چلتی بنی ۔
****************************************
اطہر کو پورا یقین تھا رومیصہ کو رحمان نے ہی اغوا کیا تھا ۔ مگر اسکے پاس کوئی پختہ ثبوت نہیں تھا ۔ کاروائی وہ شروع کر چکا تھا ۔ مگر کب تک آخر!
رحمان کا باپ ملک کی جانی مانی شخصیت تھا ۔ وہ کسی بھی طرح معاملے کو دبا دیتا ، یا کاروائی روک دی جاتی ۔
وہ مفروضوں کی بنا پر انکے خلاف کوئی قدم نہیں اٹھا سکتا تھا۔ اسے ٹھوس ثبوت کی ضرورت تھی ۔ جسے ڈھونڈنے کے لیئے وہ دن رات ایک کیئے ۔ سارا سارا دن اور رات آفس میں گم نظر آتا ۔ رومیصہ کے دونوں گھروں کا چپہ چپہ اس نے چھان مارا تھا۔ اسے جو ثبوت ملے تھے اسکی بنا پر وہ رحمان خاور کے آئوٹ ہائوسز پر بھی ریڈ کر چکا تھا مگر اسے سخت ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ۔ رومیصہ وہاں بھی نہیں تھی ۔ آخر کہاں تھی وہ؟
****************************************
انہیں یونیورسٹی جوائن کیئے مہینہ ہونے کو آیا تھا ۔ دھیرے دھیرے وہ اس ماحول ایڈجسٹ کرنا سیکھ رہی تھی ۔ ایمان ہمیشہ کی طرح ہشاباش اور پرجوش ہوکر یونیورسٹی جاتی نہیں بلکے نبیشہ کے مطابق وہ یونیورسٹی کو ‘ریمپ’ اور خود کو ‘ماڈل’ سمجھ بیٹھی تھی جو روز نت نئی اسٹائلنز کیئے یونیورسٹی میں ‘واک’ کرتی اور واپس آجاتی ۔ اسکی بات ایک طرح سے سچ بھی تھی جبکے دوسرا سچ یہ تھا کہ وہ دن میں محنت اور لگن سے کلاسزز لیتی ۔ اور تھک ہار کر سو جاتی ، شام چھ بجے کے قریب اٹھتی واک پر جاتی کافی پیتی ۔ اور پھر رات گئے تک کام کرتی رہتی ،
تین گھنٹے کی نیند لینے کے بعد وہ صبح چار بجے پھر اٹھ جاتی ۔ یہ اسکی روٹین بن چکی تھی ۔اس میں ولدان بھی اسکی روٹین پارٹنر تھی ۔نبیشہ کو ان سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ہا مگر وہ کبھی کبھی مارننگ واک پر چلی جایا کرتی تھی ان کے ساتھ ۔اور سارا وقت لاء کی کتابوں میں منہ دیئے کبھی لائبریری تو کبھی گارڈن ایریا میں دکھائی دیتی ۔گویا وہ سبھی محنت کر رہے تھے ۔البتہ انکا اٹلی کے لئے ‘ کریز’ ابھی بھی اُتنا ہی تھا ۔بلکے بڑھتا ہی جا رہا تھا کیونکہ وہ جب سے یہاں آئیں تھیں ایک بار بھی اٹلی گھومنے باہر نہیں گئیں ۔ وجوہات میں سرفہرست انکی متواتر ہونے کا کلاسز اور بزی شیڈول انکے پاس سر کھجانے تک کا وقت نہ ہوتا کجا کہ باہر جانا ۔
Haydi vildan çabuk olmak !
(Come on vildan hurry up)
اس نے جوگرز پہنتے ہوئے ہانک لگائی ۔
اوہ ، ہاں ایک چیز تو بتانا رہ گئی ۔ اسکے ‘ترکی ‘ بولنے کی وجہ ۔ اسے ‘پارٹنر ان کرائم’ چاہیئے تھی ۔ بلکے ان میلانیوں کی خوب برائیاں اور چغلیاں کرنے کے لئے کسی خاص زبان کا چنائو کرنا ضروری تھا ۔ ولدان اردو نہیں سمجھتی تھی مگر اسے ترکی آتی تھی (ارے ! وہی جو اس نے ترکی ڈراموں سے سیکھی تھی جو غلط بولے جانے پر ولدان اسے پیٹ بھی دیا کرتی تھی کبھی کبھی ) ۔
gidelim!
(آگئی)
وہ کہتے ہوئے عجلت میں کتابیں سمیٹنے لگی ۔
انکا کیا کروگی؟ ایمان سرسری سا پوچھنے لگی ۔
بھائی نے منگوائی تھی پڑھنے کے لئے ! انکا پسندیدہ مشغلہ ہے کتابیں پڑھنا ! ۔
اوہ ! اسکے لب او کے سے انداز میں کھلے ۔ اور فون اٹھاتی ہوئی کمرے سے باہر نکل آئیں ۔
میلان میں اس وقت بلا کی سردی پڑ رہی تھی ۔ اتنا بھاگنے اور دوڑنے کے بعد پسینے تو دور الٹا خون جمنے لگتا ۔ مگر کیا کرتیں عادت سے مجبور تھیں ۔اور ایڈونچر کی شوقین !نارمل لوگ انہیں بورنگ لگتے تھے ۔
اور کتنا دور ہے ! وہ پراسرار انداز میں سے پوچھنے لگی ۔ چونکے یونیورسٹی کا یہ ایریا انہوں ابھی تک نہیں دیکھا تھا ۔
پہنچ گئے بس ولدان تھورا آگے جانے کے بعد بولی ۔ اسپورٹس ڈپارٹمنٹ ! وہ قدم روک کر بڑبڑاتے ہوئے گہرے گہرے سانس لینے لگی ۔
بھائی اسپورٹس گرائونڈ میں ہو نگے چلو گی ؟ یہی ٹھہرو گی ؟؟؟
ٹھیک ہے چلو وہ سر ہلاتی اسکے پیچھے پیچھے چلنے لگی ۔ گرائونڈ میں انہیں وہ دور ہی سے نظر آگیا ۔ زور زور سے ہاتھ ہوا میںں اوپر نیچے کرتا وہ ورزش میں مصروف تھا ۔ جب ولدان کو اپنی طرف آتا دیکھ حیرت کا شکار ہوا ۔ چونکہ علی الصبح کا وقت تھا اس لیئے گرائونڈ میں اکا دکا اسٹوڈنٹس موجود تھے ۔
یہ تم ہو یا میں کوئی خواب دیکھ رہا ہوں ؟
وہ خوشگوار حیرت سے کہتا ہوا ولدان کو دیکھنے لگا ۔ کیونکہ صبح جلدی اٹھنا اسکے بس کی بات نہیں تھی کجا کہ ورزش !
میں ہی ہوں! یہ لیں آپ کی کتابیں ! وہ منہ بناتے ہوئے بولی ۔
یہ معاجزہ کیسے ہوگیا میری بہن؟ وہ شریر ہوا ۔
ایسے ! وہ زرا فاصلے پر کھڑی ایمان کی طرف اشارہ کرتی ہوئی بولی ۔ برش نے نظر اٹھا کر اسے دیکھا ۔ ٹریک سوٹ میں ملبوس ،سنہری بالوں کو ٹیل پونی میں مقید کیئے ،گلے میں ہیڈ فون ہینگ کر رکھا تھا ۔ وہ اپنے تئیں اطراف کا جائزہ لینے لگی ۔
Gunydin baris !
(Good morning)
اسے اپنی طرف دیکھتا پاکر دانتوں کی بھرپور نمائش کرتے ہوئے نزاکت سے انگلیاں ہلائیں۔
برش کے لب بے اختیار پھیلے ۔
وہ اسے زچ کرنے کے لیئے عجب حرکتیں کرتی تھی
(کیونکہ وہ ولدان کو اسکے گھومنے پھرنے سے روک ٹوک کیا کرتا ! جیسے وہ اپنے بھائی ہونے کا فرض ادا کر رہا تھا) ۔ مگر اسے کہاں خبر تھی کہ وہ زچ ہونے والوں میں نہیں تھا ۔
برش نے جوابا سر خم دیتے ہوئے رخ موڑا ۔
کریزی وومین! وہ بڑبڑایا ۔
کیا چل رہا ہے؟ ولدان اسکی نظروں کے تعاقب میں دیکھتے ہوئے شوخی سے پوچھنے لگی ۔
کیا ،کیا چل رہا ہے؟ وہ ناسمجھی سے پوچھنے ۔
ولدان نے نظروں سے ایمان کی جانب اشارہ کیا ۔
چلو جائو ! وہ ڈپٹ کر بولا ۔ اور واپس مڑ گیا ۔ ولدان نے مسکراتے ہوئے ایمان کی طرف رخ کیا ۔
کیا ہاں ؟ کتنا کھڑوس بھائی پایا ہے ، گڈ مارننگ کا جواب تک نہیں دیا ! وہ مصنوعی خفگی سے بولی ۔
سنو ! میں انہیں بچپن سے جانتی ہو تم انہیں زچ کرنے کے خواب تو بھول ہی جائو ! ویسے بھی بہت سی لڑکیاں ان پر ‘پک اپ لائنز’ مار کر ٹرائی کرتی ہیں مگر وہ ‘ رینڈم ‘ لوگوں سے بات نہیں کرتے ! وہ پٹر پٹر بولتی آگے بڑھ گئی ۔
ہاں ؟اسکا منہ حیرت سے کھلا !
‘رینڈم پرسن ‘ ؟؟؟؟ پک اپ لائنز ‘ وہ بھی میں ؟؟
بے عزتی کے احساس سے اسکا رنگ سرخ پڑا ۔
رکو تم ! وہ اسکے پیچھے بھاگی ۔
میں نے تو ویسے ایک بات کی ، تم تو بلا وجہ اپنے اوپر لے رہی ہو ! وہ مڑ کر کھلکھلاتی ہوئی نظروں سے اوجھل ہوگئی ۔
****************************************
کوئی ہے ؟ کھولو! میری مدد کرو باہر نکالو مجھے، میرا دم گھٹ رہا ہے مجھے سانس نہیں آرہی ! پلیز کھولو !
وہ چیخ کر تھک چکی تھی مگر اسکی رواداد سننے والا نہیں تھا ۔ نہ جانے اس وقت دن تھا یا رات ۔
اسے تو ہر طرف سیاہی ہی سیاہی نظر آرہی تھی ۔ آنکھیں کھولتی تب بھی ! اور بند کرتی تب بھی ۔کبھی کبھی تو اسے اپنے اندھے ہونے کا گمان ہوتا ۔ پھر اسے لگتا وہ کسی خواب کے زیر اثر ہے ۔تو کبھی اسے مردہ ہونے کا گمان ہوتا۔ ایسے کئی خدشات اسے دھیرے دھیرے لا حق ہونے لگے تھے ۔ وہ دو دنوں سے بھوکی تھی ، نہ اس نے کچھ کھایا تھا نہ پیا ۔دوائیاں اسکی پہنچ سے بہت دور تھیں ۔ یہاں تک سورج کی کرنوں سے بھی محروم تھی وہ ۔ اس کے دل میں انجانا سا خوف بیٹھتا جا رہا تھا ۔وہ پاگل ہو جانے کے در پہ تھی ۔
یا اللہ ! مجھے بچا لے پلیز ،کوئی تو راہ دکھا میں کیا کروں ؟ کہاں ہوں میں؟ کیسے نکلوں یہاں سے!
اس نے سسکتے ہوئے اندازناً اپنا اسکارف زمین پر بچھایا اور اس پر سر رکھ کر لیٹ گئی ۔
****************************************
وہ کتابیں لوٹانے آیا تھا ۔ آج فری ہونے کی بعث اس نے پڑھ لیں تھی سو وہ اسے ولدان کو لوٹانے آیا ۔
اس نے دروازہ پر دستک دیتے ہوئے ارد گرد کا جائزہ لیا ۔یہاں آنے پر پابندی نہیں تھی اسٹوڈنٹس آجا سکتے تھے گرلز ہاسٹل میں ۔
نبیشہ نے کتاب بند کی اور دروازے سے باہر جھانکا ۔
یس؟؟ وہ اجنبی نظروں سے اسکی پشت کو دیکھتی ہوئی بولی ۔
ہیلو ، آئی ایم برش ! میں یہ بکس لوٹانے آیا تھا ولدان کو ! میں اسکا بھائی ہو !
وہ کتابوں کی طرح اشارہ کرتے ہوئے بولا۔
مگر ولدان تو یہاں نہیں ہے وہ لوگ ڈنر کے لیئے گئے ہیں ، اس نے مڑ کر خالی کمرے میں جھانکتے ہوئے ۔
ٹھیک ہے ! یہ اسے دے دیجئے گا شکریہ!
وہ کتابیں اسے تھماتے ہوئے واپس مڑ گیا ۔
کینٹین میں اس وقت بلا کا رش تھا ۔ اس وقت وہ دونوں ٹیبل پر موجود تھیں جبکے نبیشہ نے اپنا کھانا کمرے میں ہی منگوایا تھا ۔ اس نے اسکا ایک کنٹینر الگ کیا اور ٹرے اٹھائے ٹیبل پر آ گئی ۔ جہاں انکی کلاس کی لڑکیاں موجود تھیں ولدان سمیت !
سنو تمہیں ایک بات بتائی ہے !
ولدان کھانے ٹرے اپنی طرف موڑتی ہوئی ۔ کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی ۔
وہ اپنے دھیان میں چوپ اسٹک منہ میں لیئے بے دلی سے کھانے کو گھور رہی تھی کہ اسکی نظر حال سے باہر جاتے برش پر پڑی ۔وہ بری طرح سے بور ہورہی تھی کیوں نہ اسے تنگ کیا جائے ۔ اسے شرارت سوجھی ۔
برشششش ؟؟؟ اسکی پکار کر پر برش کے قدم بے اختیار رکے ۔اس نے مڑ کر نا سمجھی اسے دیکھا۔ یہ لڑکی کوئی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتی تھی ۔ مگر وہ بھی برًش تھا اپنے نام کا ایک ۔
Gel gel !
(come , come)
وہ ہاتھ کے اشارے سے اسے بلانے لگی ۔
آبے؟؟؟؟ ولدان نے بے اختیار کر مڑ کر برش کو !
اور پھر سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا ۔ ایمان نے کندھے اچکا کر لا علمی ظاہر کی۔
Merhaba !
(Hello)
وہ بے نیازی کہتا ہوا کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا ۔
کیا ہوا بھائی ؟ ولدان نے تعجب سے پوچھا کیونکہ وہ اپنے دوستوں کے ساتھ ہی ذنر کیا کرتا تھا ۔
کچھ نہیں تمہیں کتابیں لوٹانی تھی اسلئے آیا تھا !
تمہاری کلاس میٹ کو دے دی ہیں ، وہ سرسری سا بولا ۔
آپ کچھ کھائیں گے ؟ ایمان نے بالوں کی لٹھ کو انگلی پر گھماتے ہوئے بھرپور شوخی سے پوچھا ۔
اسکے اس انداز پر برش نے بے اختیار رخ موڑ کر ہنسی روکی ۔
Birak yaaa
Allah Askina!
(خدا کے لئے بس بھی کردو)
ولدان دبی دبی آواز میں اسے گھورتی ہوئی غرائی ۔
ایمان منہ بسور کر رہ گئی ۔
ٹھیک ہے میں چلتا ہوں ! تم تیار رہنا صبح
وہ اٹھنے لگا ۔
Dur dur
( Wait , wait )
ایمان اسکا ہاتھ کھینچ کر زبردستی بٹھانے لگی ۔ برش نے ایک نظر اسکے ہاتھ پر ڈالی خاموشی سے دوبارہ بیٹھ گیا ۔ کہاں ؟ کہیں جانے کا تیاری ہے ؟؟ اس نے سوالیہ نگاہوں سے ولدان اور پھر برش دیکھا ۔
ہاں بھائی کل باہر جا رہے ہیں اپنے فیلوز کے ساتھ ! اور ساتھ میں۔۔۔۔
دھوکے باز ، مکار ، تم نے مجھے دھوکا دیا اگر اپنے بھائی کے ساتھ ہی جانا تھا تو بتا دیتی ، میں صرف تمہاری وجہ سے رکی تھی ولدان میں نے سوچا ہم دونوں ساتھ جائیں گے ! وہ اپنی ہی جون میں کہتی کرسی چھوڑ کر اٹھ کھڑی ہوئی ۔
برش کو اس سب میں کوئی دلچسپی نہیں تھی ۔
سو وہ اٹھ کھڑا ہوا ۔
یار سنو تو ! میں تمہیں بتانے ہی والی تھی !
ولدان نے گھبرا کر صفائی دینی چاہی ۔
بتانے ہی والی تھی؟ کب ؟ جانے کے بعد !
وہ اسکی بات کاٹ کر بولی ۔
ایمان ؟؟؟؟؟
بات مت کرو مجھ سے تم ! وہ اسے تنبہہ کرتی کھانے کا ٹرے اٹھا کر کمرے کا رخ کرنے لگی ۔
یہ کیا کیا بھائی آپ نے ؟ میری دوست کو ناراض کردیا ! ایمان کو جاتا ہوا دیکھ کر بولی وہ خفگی سے بولی ۔
کوئی بات نہیں ، ایسے جلد باز لوگ منہ کی کھاتے ہیں ، تم اسے بتا دینا جب اسکا غصہ ٹھنڈا ہو ! وہ اسکے سر پر لب رکھتا ہوا بولا ۔
iyi geceler tatlim
(Good night sweetheart )

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *