Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

The Dark by Uzzai Zehan Episode23

The Dark by Uzzai Zehan Episode23

فار گاڈ سک مام میں کہیں بھاگا تو نہیں جارہا ! آپ کو کس بات کی جلدی ہے ! وہ سخت بیزار ہونے لگا اس روز روز کے ‘ انگیجمنٹ نامے’ سے ۔
تمہاری انگیجمنٹ دو دن بعد ہوگی اینڈ دیٹس فائنل ! وہ حتمی انداز میں بولی ۔
اطہر نے نفی سے سر جھٹکا ۔
بھول گئے تم نے مجھے کیا کہا رومیصہ مل جائے تو تم انگیجمنٹ کرلو گے ! اب تم مکر رہے ہو اپنی کمٹمنٹ سے ! یا پھر یوں کہوں کہ وہ لڑکی تمہیں یہ کرنے پر مجبور کرہی ہے ! وہ بغیر سوچے سمجھے نہ جانے کیا بول رہی تھی انہیں خود بھی معلوم نہیں تھا ۔
مجھ زیادہ آپ اسے جانتی ہیں ماما پھر بھی آپ ایسی باتیں کر رہی ہیں اسکے بارے میں! اطہر شاکڈ رہ گیا ۔
انسان کو بدلتے دیر نہیں لگتی اطہر ! وہ جھٹ سے بولی ۔میری ایک بات کان کھول کر سن لو اطہر …شادی تمہاری میری مرضی سے ہی ہوگی ! جتنی جلدی ہوسکے اس لڑکی سے جان چھڑالو ،ورنہ یہ نہ ہو تمہیں سیدھا شادی کرنا پڑ جائے ، وہ دھمکی آمیز لہجے میں کہتی یہ جا وہ جا ۔
اطہر کو اپنے کانوں پر یقین نہیں آیا۔ یہ اسکی ماں تھی ؟ یا کوئی اور ۔اسکی آنکھیں شدت ضبط سے سرخ پڑنے لگیں ۔ وہ شرٹ سمیت شاور کے نیچے جا کھڑا ہوا ۔ ایک طرف اسکی محبت تھی ایک طرف اسکی ماں ۔ظاہر سی بات تھی ماں کا پلڑا بھاری تھا ۔ کل کی آئی لڑکی کی مجال کہ اسکی اور اسکے ماں کے بیچ آئے ۔مگر یہ دل کم بخت کسی طور ماننے کو تیار نہیں تھا ۔ ہر لمحے ہر گھڑی جب جب اسے دیکھتا اسکا دل بغاوت پے اتر آتا ۔
اس نے ہاتھ مارتے ہوئے شاور بند کیا اور شرٹ چینج کرنے کے بعد باہر آگیا ۔ فون کی بیل پر اس نے ٹاول بیڈ پر پھینکا اور رسیو کرتے کان سے لگایا ۔
ہاں بولو ثنان! ۔۔۔۔دوسری طرف وہ اسے رومیصہ اور اسکے بیچ ہونے والی گفتگو سے آگاہ کرنے لگا۔
اطہر نے جواب دیئے بغیر فون رکھ دیا ۔ اسکے پاس کوئی جواب نہیں تھا ۔ اور نہ ہی جواز ! اسے ہاسپٹل میں رکھنے کا ۔ کیونکہ وہ اسے یہاں لانا چاہتا تھا ۔ اپنے گھر میں اپنے دل میں ۔ بیوی بنا کر ! وہ کیسے اس سے محبت کرنا چھوڑ سکتا ہے ! یہ سوچ ہی اسکی سانسیں اکھاڑنے لگتی تھی ! وہ کیسے محبت ترک کردیتا۔اسکے زکر پر پر اسکا دل اسے دیکھنے کے مچل پڑا ۔
وہ دل کو بے دردی سے نظر انداز کرتا تکیہ کھینچ کر لیٹ گیا ۔ مگر وہ سو نہیں پا رہا تھا ۔آنکھیں بند کرتا تو اسکا چہرہ بار بار اسکی آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا ۔وہ بے بسی سے اٹھ بیٹھا ۔ اور تکیے کو زور سے زمین پر پٹخا۔ دل و دماغ کے بیچ جنگ چھڑی ہوئی تھی۔وہ خاموشی سے گاڑی کی چابی اٹھائے باہر نکل گیا ۔ کئی گھنٹوں سڑکوں پر بے مقصد آوارگی کے بعد وہ ہاسپٹل کے سامنے آکھڑا ہوا ۔ کیسے ؟ کیوں ! وہ نہیں جانتا تھا ۔مگر اسکا دل اسکے دماغ پر حاوی ہونے لگا۔ مطلوبہ کمرے کے سامنے کھڑے اسکے دماغ نے کئی بار اسے باز رہنے کے اشارے دیئے وہ ہاتھ ہینڈل پر رکھتا پھر اٹھا لیتا۔۔۔۔ پھر رکھتا ۔ آخر کار اس نے ہینڈل گھما کر درواز کھولا ۔ وہ اسکی جانب پشت کیئے کھڑکی کے قریب کھڑی ۔سیاہ بال آبشار کی طرح اسکی کمر پر لہرا رہے تھے۔ اطہر کا دل پنجرے میں قید پنچھی کی طرح پھڑپھڑایا ۔ وہ قدم قدم چلتا ہوا اسکے عین پیچھے آ کھڑا ہوا ۔ اسکے بال لہراتے ہوئے اسکے سینے سے ٹکرانے لگے ۔ وہ بے اختیار آنکھیں بند کیئے اسکی خوشبو اپنے اندر اتارنے لگا ۔ کسی احساس کے تحت اس نے رخ موڑا تو حیران رہ گئی ۔ وہ کب آیا؟ اور کیوں ؟
رات کے ایک بجنے کے قریب تھا ۔ وہ بے اختیار پیچھے کھسکی ۔ مگر فاصلہ نہ ہونے کے برابر تھا ۔ اطہر نے دھیرے سے پلکیں واکیں ۔ تو اسے خود سے اتنا قریب پاکر اسکا دل بے ایمان ہونے لگا ۔سرخ آنکھیں ، بھیگی ہوئی پلکیں ،وہ شاید روئی تھی۔ وہ کئی لمحے بے خودی سے اسے تکتے رہا ۔ وہی یہی کرتا اگر رومیصہ اسکے سامنے سے نہ ہٹ جاتی تو ! اطہر نے اسکا بازو کھینچ کر پھر سے اپنے سامنے کیا۔
تم جانا چاہتی ہو ؟ وہ بمشکل اپنے جذبات پر قابو پانے لگا ۔ رکنے کا کوئی جواز نہیں بنتا اب! وہ اسکی آنکھوں دیکھتی ہوئی بولی۔ منگنی والی بات سے اپ سیٹ تھی ۔ شاید؟
اگر میں کہوں تب بھی نہیں رکو گی؟ اس کے لہجے میں مان تھا ۔
نہیں ! وہ دوبدو بولی ۔ جب انکے بیچ کوئی رشتہ تھا ہی نہیں تو مان کیسا؟ اطہر کی گرفت کمزور پڑی ۔ اس نے آہستگی سے اسکا بازو چھوڑ دیا۔ رومیصہ نے نوٹ کیا وہ بہت تھکا تھکا اور اپ سیٹ لگ رہا تھا ۔ مگر اسے کیا ! منگنی مبارک ہو ! اسکی آواذ پر اطہر نے بے اختیار نظریں اٹھا کر اسے دیکھا ۔ اس کیسے پتا؟ وہ بیک وقت حیران اور پریشان ہوا ۔ نہ جانے اس نے کیوں بولا تھا مگر ! اسکی زبان پھسل گئی تھی اب تو ۔ وہ پچھتائی ۔
اسے وہ خوش نہیں لگ رہا تھا ۔ یا ہو سکتا تھا اسکا وہم ہو ! وہ جانے کے لیئے مڑی ۔
تمہیں کس نے بتایا ؟ وہ اسکی کہنی تھامتا ہوا بولا ۔
آپ سے مطلب ! اس نے جھٹکے سے اپنا ہاتھ چھڑایا ۔ اور آگے بڑھ گئی ۔ اطہر کا دل کرچی کرچی ہوا اس ہتک امیز رویے پر ۔ وہ اپنے خالی ہاتھ کو گھورنے لگا ۔
آپ کے پاس آجکل فرست نہیں ہے ! مجھے معلوم ہوا ہے اسلئے مہربانی ہوگی آپ مجھے ڈسچارج کروا دیگے تو ! وہ بے گانگی سے بولی ۔ اطہر آنکھوں میں نمی کو اندر دھکیلتا ہوا رخ موڑ کر اثبات میں سر ہلایا اور تیزی سے باہر نکل گیا ۔پارکنگ لاٹ میں آتے آتے اسکے ضبچ کا پیمانہ لبریز ہوگیا ۔ اور وہ غم اور بے بسی سے زور سے کبھی پیر تو ہاتھوں سے گاڑی پر ضربیں مارنے لگا ۔ اس نے زندگی میں کبھی کسی لڑکی کے ساتھ یہ حرکت نہیں کی تھی ۔ وہ اپنی حرکت پر اب پچھتانے لگا تھا ۔ انتہائی غیر معیاری حرکت تھی کسی لڑکی کے کمرے میں رات کے اس پہر جانا ۔ کم بخت دل نے اسے اس قدر بے بس کردیا تھا ۔
***************************************
نبیشہ اس وقت لائبریری میں بیٹھی تھی ۔جب اسکا فون وائبریٹ کرنے لگا ۔اس نے نظر ڈالے بغیر اٹھا کر کان سے لگایا ۔
ہیلو؟؟؟؟ رات کے دس بجنے کے قریب تھے ۔مگر وہ ابھی بھی لائبریری بیٹھی تھی ۔۔اسے لگا ایمان ہوگی ۔اور بھلا کون ہو سکتا تھا !
کیسی ہو تم ؟؟؟؟ اس آواز پر وہ اچھلی ۔
رومییی!!!! وہ حیرت اور خوشی کے ملے جلے تاثراتوں سے چلائی ۔ لائبریری میں موجود اسٹوڈنٹس برہمی سے اسے دیکھنے لگے ۔ وہ معذدرت خواہاں نظروں سے زیر لب
‘سوری’ بڑبڑاتے ہوئے اٹھی اور ۔۔۔
بک ریکس کے درمیان آ کھڑی ہوئی ۔
بد تمیز ! لاپرواہ ، تم نے تو میری جان ہی نکال دی تھی ! کہاں چلی گئی تم یار پتا ہے میں کتنا پریشان ہوگئی تھی ؟؟ وہ بے ساختہ رو دی ۔
کہیں نہیں بس تھوڑی بیمار تھی ! وہ کسلمندی سے اپنی ہتھیلی پر نظر ڈالتی ہوئی بولی ۔
میں نے مسز کاظمی سے بھی رابطہ کیا تھا مگر انہوں تو ایسا کچھ نہیں بتایا ! رومی تم جھوٹ تو نہیں بول رہی نا؟؟؟ وہ فکرمندی سے گویا ہوئی ۔
رومیصہ اس نئے انکشاف پر حیران ہوئی ۔ مسز کاظمی اسے کیوں نہیں بتایا اس بارے میں؟؟؟
نہیں نہیں ! تم فکر مت کرو انہیں میں نے ہی منع کیا تھا ! رومیصہ نے صفائی سے جھوٹ بولا ۔
رومی تم ٹھیک تو ہو نا؟
اسے پتا نہیں اسکی باتوں پر یقین نہیں آیا ۔
ہاں میری جان میں بلکل ٹھیک ہو ! تم بتائو اسٹڈی کیسی جارہی ہے ؟ ایمان کیسی ہے! وہ نقاہت سے بولی
۔ بہت اچھی ! وہ کھلکھائی ۔ اسکی تو جیسے جان میں جان آگئی تھی رومیصہ آواز سن کر ۔
کون؟ اسٹڈی یا ایمان؟ رومیصہ بولی ۔
دونو ! وہ ہنس دی ۔
تو رومیصہ بھی مسکرادی
۔اچھا سنو ! رومی کچھ دن بعد ہمارے مڈز ختم ہورہے ہیں اور میں آرہی ہوں تم سے ملنے ! اس نے خوشخبری سنائی ۔ کم آن تم ابھی تو گئی اسٹڈی پر فوکس کرو کوئی ضرورت نہیں ہے آنے کی! رومیصہ نے سختی سے ٹوکا ۔
جی نہیں ! مجھے تمہاری یاد آرہی ہے اور میں آ کر رہونگی! یو ڈونٹ نو ہائو مچ آئی مس یو ! اینڈ یور پاستا! وہ سر کھجاتی ہوئی بولی ۔
پاگل ! رومیصہ ہنس دی ۔
تو ڈن کریں ؟ وہ پرجوش انداز میں بولی ۔
ڈن ! رومیصہ مسکراتے ہوئے سر ہلایا ۔.
لو یو سو مچ اینڈ ٹیک کیئر ! میں اس وقت لائبریری میں ہوں ۔۔۔ ہاسٹل جاکر بات کرتی ہو ! وہ فون منہ کے قریب کرتے ہوئے سر گوشیوں میں بولی ۔ اور مسکراتے ہوئے فون کاٹ دیا ۔ یااللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ! وہ فون سینے سے لگائے آسمان کی طرف سر اٹھاتے ہوئے بولی ۔
***************************************
کیا بات ہے بیش،، آج بڑی خوش نظر آرہی ہو ! وہ کتابیں سمیٹ کر اونگھتے ہوئے کرسی کے ایک طرف ڈھلکی ۔
ہونا بھی چاہیئے ! گیس واٹ ؟؟
وہ کوٹ اتار ایک طرف رکھتے ہوئے ۔دروازہ بند کرنے لگی ۔ رات کے بارہ بجنے کے قریب تھے وہ ابھی ابھی لائبریری سے لوٹی تھی ۔مڈز قریب ہونے کے بعث ان پر پڑھائی کا کافی برڈن تھا اسلیئے وہ رات گئے تک پڑھتی رہتیں ۔
کیا؟ اسکے چہرے پر خوشی کے تاثرات دیکھ کر وہ کہنی کے بل اونچی ہوئی ۔
رومی کی کال آئی تھی ! بزی تھی اور بیمار بھی اسلیئے کال نہیں کر پائی معذرت کر رہی تھی اور تمہارے بارے میں بھی پوچھ رہی تھی ! وہ چہکتے ہوئے اوون میں کھانا رکھنے لگی ۔
اچھا ! میں نے تو پہلے ہی کہا تھا ایسا ہی کچھ ہوگا تم خومخواہ ہی پریشان ہو رہی تھی ! اندر سے تو وہ بھی پرسکون تھی ۔ مگر باہر سے لاتعلقی کا اظہار کرتی ہوئی بولی اور بیڈ کا رخ کرنے لگی ۔
یہ کیا ہے ؟ وہ کھانے کا کنٹینکر ٹیبل پر رکھتی ہوئی ! سرخ کارڈ کو دیکھ کر چونکی !
ان صاحبہ نے دیا ہے ، ایزام کے ختم ہونے کی خوشی میں سیلیبریشن کا انویٹیشن ! وہ تنزیہ انداز میں بولی ۔
امم یہ لڑکی پتا نہیں کیوں مجھے مشکوک سی لگتی ہے ، میں تو نہیں جائونگی بھئی ! اس نے چھوٹتے ہی انکار کردیا ۔ اور نوالہ منہ میں رکھنے لگی ۔
اچھا یار دیکھ لیں گے ، پلیز لائٹ بند کردو بہت نیند آرہی ہے ! وہ برا سا منہ بنا کر بولی تو وہ سوئچڈ آف کرتی بالکونی میں جا بیٹھی ۔
سب کچھ ٹھیک چل رہا تھا ! بس ایگزام کے ہوتے ہی وہ رومیصہ سے ملنے جائے گی اپنی دلی تسلی کی خاطر ۔ وہ آسمان کی طرف دیکھتی ہوئی مسکرائی ۔کون جانتا تھا کہ اب کچھ بھی ٹھیک نہیں ہونے والا تھا ۔
***************************************
وہ ہاسپٹل سے ڈسچارج ہوکر گھر آ چکی تھی ۔ ثنان اسے یہاں چھوڑ گیا تھا ۔ اور ساتھ ہی اسکی حفاظت کی خاطر گھر کے باہر گارڈز بھی ۔ وہ کل رات سے سخت بور ہو رہی تھی ۔ اس نے آفس فون کیا تو بری خبر نے اسکا دل توڑ دیا ۔ اسے جاب سے نکالا جا چکا تھا ۔ اسی لمحے اسے ایک ای میل موصول ہوا ۔ اس نے لیپ ٹاپ اٹھایا اور صوفے پر آ بیٹھی ۔ وہ جیسے پڑھتی جارہی تھی اسکے تاثرات بے یقینی اور حیرانگی میں بدلنے لگے ۔ بار ایسوسی ایشن کی جانب سے اسکی نوکری بحال کردی گئی تھی ۔فائنلی وہ اپنی جاب پر واپس جا سکتی تھی ۔
یا اللہ تیرا لاکھ لاکھ شکر ہے ! ایک ساتھ دو مصیبتوں سے جان چھوٹ گئی ! مگر اسے کیا خبر تھی یہ تو صرف شروعات تھی ۔ وہ خوشی سے لیپ ٹاپ ایک طرف رکھتی ثنان کو فون کرنے لگی ۔
ہاں ثنان۔۔۔گیس واٹ ؟؟ میں اپنی جاب دوبارہ جوائن کر سکتی ہو ! مجھے ابھی ابھی با کونسل سے نوٹیفکیشن ملا ہے ! اچھا سنو میں اپنا کیس خود ہینڈل کرنا چاہتی ہو ! وہ بال کان کے پیچھے اڑستی ہوئی بالکونی میں آ کھڑی ہوئی ۔ مگر کیوں ؟ وہ چونکی ۔ ہفففف یہ اطہر کاظمی ہر جگہ کیوں گھس جاتا ہے ! اس نے جھنجھلاتے ہوئے فون کاٹ دیا ۔ خیر مجھے کیا بھاڑ میں جائیں سب ! اس نے دل میں سوچا اور اپنی پرانی روٹین کا شیڈول سیٹ کرنے لگی ۔
***************************************
اے ڈسٹرب چڑیل آگے سے ہٹ نا! ِیہ وہی میگی بالوں والا لڑکا تھا ۔ جو نوٹس نوٹس بورڈ کا سامنے نہیں بلکے اسکے سامنے کب سے کھڑا تھا ۔ اس نے زور سے چپت اسکے سر پر لگائی ! اور رخ موڑ لیا ۔ وہ جیسے ہی مڑا مگر کسی کو اپنی جانب متوجہ نہ پاکر دوبارہ مصروف ہوگیا ۔
کیا یار ! وہ جھنجھلائی اٹھی ۔۔۔
ایمان؟ ولدان دور کھڑی اسے پکارنے لگی ۔ وہ ہاتھ کے اشارے سے پاس آنے کا کہنے لگی مگر مجال ہے وہ مان جاتی وہ بھی ‘ولدان ‘تھی اسکی طرح پیدائشی ڈھیٹ ۔ اسے کینٹین آنے کا اشارے کرتی واپس مڑ گئی ۔ وہ صدمہ سے اپنی بات رد کیئے جانے پر لمبے لمبے ڈگ بھرتی اسکے پیچھے ہوئی ۔آج انکا لاسٹ پیپر تھا ۔ سب ٹینشن فری ہوکر کھانا کھا رہے تھے۔ تو کوئی خوش گپیوں میں مصروف تھے ۔ وہ بھی ان دونوں کے مقابل کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی ۔
کیا ہوا؟؟ نبیشہ اسکے اترے ہوئے چہرے پر نظر ڈالتی ہوئی بولی ۔ یشم کے برینڈ کی لانچنگ ہے اور پاس ختم ہوگئے ! میں دیر سے پہنچی ! وہ برے برے بناتی ہوئی بولی ۔
بس اتنی سی بات؟؟؟ نبیشہ آنکھیں پھاڑے صدمے سےاسے دیکھنے لگی۔ اسے جیسے اسکی دماغی حالت پر شبہ ہوا ۔
Yeter kizi yeter yaaaa !
(بس لڑکی بس بھی کرو !)
ولدان اس یشم نامے سے سخے تنگ آچکی تھی ۔ایمان نے سخت گھوری سے اسے نوازا ۔
اب میں اس ہینڈسم ہنک کو میلان فیشن شو میں دیکھ نہیں پائو گی ! وہ مصنوعی رونا روتے ٹیبل پر مکے مارنے لگی ۔
لائیو دیکھ لینا ! نبیشہ سرسری سا بولی ۔اب وہ اور کیا کہتی بے چاری اسکے تو الفاظ ہی چھوٹے پر گئے ‘بہن جی ‘ کی بے پایا محبت کےآگے ۔
نہیں نا ! اسکرین پر دیکھنے میں وہ مزا نہیں جو ۔۔۔۔وہ اپنی ہی جون میں کہتی ہوئی جب اس پر نظر ڈالی تو اپنے لفظوں کا احساس ہوا ۔
وہ بول کیا گئی تھی ! ولدان حلق میں نوالہ اٹکائے خوفناک نظروں سے اسے گھور رہی تھی ۔
چھی چھی !ی یہہ یہ کیسی باتیں کر رہی ہو ! کیا مطلب مزا نہیں آتا ہاں؟؟ ولدان چمچ پلیٹ میں پھنکتی ہوئی بولی ۔
ہاں بتائو ! والے انداز میں نبیشہ نے بھی متفق ہوکر سر ہلایا ۔ اسکی زبان کو تالا لگ چکا تھا ۔ اب وہ کیا کہتی کیسے ایکسپلین کرتی اپنی اسٹیٹمنٹ !
ت تم لوگ پتا نہیں کیا سوچ رہے ! وہ رخ موڑتے ہوئے بولی ۔ہم کیا سوچ رہے ہیں ؟ یہ تم ہو جو پتا نہیں کیا کیا سوچ رہی ہو ! یہ تم ہی تھی نا جو اسکے ننگا گھومنے پر بڑا شور مچا رہی تھی !
آنہہنںہ کتنا حسین ہے ،ہائے کتنا ہینڈسم ہے ! وہ اسکی نکلیں اتارتی ہوئی بولی ۔
نبیشہ کی بے اختیار ہنسی چھوٹی ۔
ایمان کا غصہ سے چہرہ لال بھبھوکا ہونے لگا اس بے عزتی پر ۔
اسے ننگا نہیں ،شرٹلس کہتے ہیں یو برینلیس! وہ خفت کے مارے منہ چھپانے لگی ۔
تو شرٹلس کو بھی ننگا ہی کہتے ہیں بہن !
ولدان دوبدو بولی ۔
ایمان کا دل چاہا کھانے کی پلیٹ اٹھا کر اسکے سر پر مارے ۔
ولدان ہاں بولو اب ‘ والی نظروں اسے دیکھنے لگی ۔
بھاڑ میں جائو ! وہ پیر پٹختی ہوئے وہاں سے واک آئوٹ کر گئی ۔
Sen de güzel kizzi !
(You to pretty girl )
ولدان نے جیسے جواب دینا ضروری سمجھا ۔اسے زچ کرنے کا مزہ ہی الگ تھا۔ وہ نبیشہ کے ہاتھ پر ہاتھ مارتی ہوئی ہنس دی ۔
***************************************
میں نہیں جائونگی یار ! کہہ دیا نا ایک بار ،بار بار فورس مت کرو ! وہ اپنا کندھے کو جھٹکا دیتے ہوئے اسکا ہاتھ ہٹاتی ہوئی بولی ۔
یار یہ کیا بات نبیشہ ! تم نہیں جائوگی تو اور کون جائے گا میرے ساتھ ! پلیز چلو نا میں اکیلی وہاں کیا کرونگی ! پلیز ! وہ اسکے گلے میں بانہیں ڈالتے ہوئے استفسار کرنے لگی ۔ ولدان برش کے ساتھ روم میں مقیم اپنی خالہ سے ملنے گئی تھی۔وہ اسکے بغیر سخت بور ہورہی تھی ۔۔
آدھے گھنٹے میں واپس آنا ہے میں پہلے بتا رہی ہو ! وہ ہار ماننے کے سے انداز میں کتاب ایک طرف پٹختی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ چینج کرنے کے بعد اس نے بلیک فراک نما جھبلا سا پہنا اور لونگ شوز چڑھاتے ہوئے زپ بند کرتی اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اور آئینے میں اپنا عکس دیکھنے لگی ۔ میک اپ کرنے کی وہ عادی نہیں تھی اور نہ ہی اسے ضرورت تھی ۔ ہاتھوں سے ماتھے ہر کٹے بالوں کو درست کرتے ہوئے لونگ کوٹ پہننے لگی ۔
یہ کیا ہے ؟ ایمان کے بڑھے ہاتھ کی جانب نظر ڈالتی نہ سمجھی سے بولی ۔
کیا کیا ہے ؟ دکھائی نہیں دیتا چشمہ ہے ! وہ سپاٹ لہجے میں بولی ۔
مہربانی ! مجھے نہیں پہننا! وہ جھنجھلائی ۔
لے بھی چکو ! وہ بضد ہوئی ۔ نبیشہ نے سخت گھوری سے نوازتے ہوئے سیاہ چشمہ تھام کر آنکھوں پر سجالیا ۔
خوش؟ گویا ایمان پر احسان کیا ہو۔
نظر نہ لگے کسی کی ! وہ اسکی بلائیں لینے لگی ۔
نبیشہ اکتاہٹ بھرے انداز سے اسکے ہاتھ جھٹکتی بیگ اٹھانے لگی ۔ تو ایمان بھی مسکراتی ہوئی پائوچ سنبھالے اسکے پیچھے ہولی۔ ٹیکسی انہیں ‘RED EYE’ نامی کلب کے سامنے اتار کر آگے بڑھ گئی ۔
ایمان ایک بار پھر سوچ لو ! میزک تیز دھنیں یہاں تک سنائی دے رہی تھیں ۔ نجانے اندر کیا ہو رہا ہوگا !
کیسے لوگ ہونگے ! آج سے پہلے ان دونوں نے کلب نامی ‘بلا کا نام صرف فلموں اور ڈراموں میں سنا تھا ۔ ایمان ایڈونچر کی شوقین تھی وہ ہمیشہ کی طرح خوش اور پرجوش نظر آرہی تھی ۔ جبکے نبیشہ کے چہرے پر پریشانی کے تاثرات نمایاں تھے.
کم آن ! اب یہاں تک آ ہی گئے ہیں تو اندر چلتے ہیں نا ! کچھ دیر ٹھہریں گے پھر واپس چلیں جائیں گے ! وہ اسکے بازو میں ہاتھ ڈالتے ہوئے اسکے آگے لے جانے لگی ۔ جبکے نبیشہ کا دل کیا وہ بھاگ جائے یہاں سے ۔
سوری میم ! آپکا کارڈ ؟ سکیورٹی گارڈ کی آواز پر ان دونوں نے بے اختیار ایک دوسرے کو دیکھا ۔
کیسا کارڈ ؟ ایمان نے سمجھی سے پوچھنے لگی ۔
میم یہ کوئی عام کلب نہیں ہے جہاں آپ ایسے ہی چلی جائیں گی ! یہ اٹلی کا مہنگا ترین کلب ہے یا تو آپکے پاس ممبر شب کارڈ ہونا ضروری ہے یا پھر انویٹیشن وغیرہ !
وہ شخص زرا اکھڑے انداز میں بولا۔
ایمان نے کچھ سوچتے بیگ میں ہاتھ ڈالا اور سرخ رنگ کا لفافہ اسکی جانب بڑھایا ۔ وہ شخص لفافے کو دیکھ کر ایک طرف ہوگیا ۔ ایمان فاتحانہ نگاہ سے نبیشہ کو دیکھ کر آنکھ مارتی اندر داخل ہونے لگی ۔ ہر طرف سرخی ہی سرخی پھیلی ہوئی تھی ۔ کانوں کے پردے پھاڑتا ہوا میوزک ۔ماربل کے سفید فلور پر لڑکیاں اول جلول لباس پہنے رقص کنا تھیں ۔کسی کا لباس کا ہاتھ نہیں تھا تو کسی کے پیر ! بار ٹینڈر بھر بھر کر لوگوں کو شراب صرف کر رہا تھا یہ کام ثواب ہو جیسے ۔ وہ ہونکو کی طرح لوگوں کو دیکھتی ان سے بچتی بچاتی ایک کونے میں رکھی ٹیبل پر آ بیٹھی ۔یہاں آنے کے بعد ایمان کو احساس ہوا ۔ نبیشہ کی بات مان لیتی تو فائدے میں رہتی ۔اسے لوگوں کی نظریں اپنے اندر تک اترتی محسوس ہوئیں ۔
میم کچھ لیں گی آپ ؟؟؟ اچانک سے ابھرنے والی مردانہ آواز پر وہ گھبرا کر مڑی ۔
س سافٹ ڈرنک ! وہ بوکھلائی ۔
تو ویٹر بوتل کے جن کی طرح حکم بجا لایا ۔ انہیں یہاں بیٹھے زیادہ دیر نہیں گزری تھی کہ نبیشہ کے فون پر رومیصہ کی کال آنے لگی ۔نبیشہ گھبرا کر ارد گرد دیکھا یہاں بات کرنا تقریبا نا ممکن تھا ۔ اگر رومی کو بھنک لگ جاتی کہ وہ کلبنگ کر رہی ہیں تو نہ نجانے انکے بارے میں کیا سوچتی ۔
کیا ہوا ؟؟؟ ایمان اسکے تاثرات بھانپتی ہوئی بولی ۔
رومی کی کال ہے ، کیا کروں ؟ وہ بدحواس سی ہونے لگی ۔ تو کیا ہوا اٹینڈ کرلو ! ایمان نے لا پرواہی سے کندھے اچکائے ۔
ہاں مگر یہاں ! وہ اسکی توجہ موجودہ جگہ پر دلانے لگی ۔ اوہ ہاں ! ایسا کرو باہر چلی جائو ! وہ ارادتا بولی ۔ تو نبیشہ بیگ اسکے حوالے کیئے لوگوں کے بیچ سے نکلتی باہر چلی گئی ۔ ایمان بے نیازی سے پیر ہلاتی فلور پر ناچتے لوگوں میں سلینا کو ڈھونڈنے لگی ۔ حیرت کی بات تو یہ تھی نہ یہاں سلینا تھی نا ہی انکا کوئی کلاس فیلو !
اسکے اندر کا ڈیٹیکٹو جاگ اٹھا ۔ وہ بیگ سنبھالتی ہوئی اٹھ اور فون میں سے سلینا کی فوٹو نکالتی ہوئی بار ٹینڈر کو دکھانے لگی ۔
اس لڑکی کو کبھی دیکھا ہے آپ نے یہاں ؟؟؟ وہ اسکرین اسکے سامنے کرتی ہوئی بولی ۔ اس شخص نے ایک نظر سر تا پا اسکی لڑکی کو دیکھا ۔اور سر ہلایا ۔
یہ ہماری ‘وی آئی پی ‘ کسٹمرز میں سے ایک ہے ! کہتے ہوئے بوتل کے ڈھکن کھولنے لگا ۔ اسے حیرت ہوئی ۔
اچھا۔۔ آج نہیں کیا سلینا دکھائی نہیں دے رہی ؟ کہاں ہے؟ وہ مصنوعی انداز میں ارد گرد دیکھتی ہوئی بولی ۔
وہ ادھر ہے۔۔ اس طرف ! وہاں لال رنگ کا ایک دروازہ ہے جس پر سفید ببلز بنے ہوئے ہیں ! اسی کمرے میں چلی جانا ! وہ ایک کونے میں اترتی سیڑھیوں کی جانب اشارہ کرتا ہوا بولا ۔اور ہاں ۔۔۔۔ وہ اس شخص کی آواز پر جاتے جاتے رکی ۔
غلطی سے بھی غلط کمرے میں مت چلی جانا ! اس شخص کا انداز اسے خوف میں مبتلا کر گیا ۔ مگر وہ ایمان ہی کا جو اتنی آسانی سے جانے دے ۔ اس نے سر جھٹکا اور سیڑھیاں اتر گئی ۔
مگر یہ کیا؟ یہاں تو آخر تک کمرے ہی کمرے تھے ہر کمرہ لال رنگ کا تھا جس پر سفید ببلز کے نمونے بنے تھے ۔ اسے سختی سے اپنی غلطی کا احساس ہوا ۔
سنو لڑکی ! تمہیں سلینا نے بھیجا ہے ؟؟ وہ مڑی اور جانے ہی والی تھی کہ رعبدار آواز اسکے کانوں سے ٹکرائی اور وہ خوف کے مارے اچھلی ۔۔۔۔اسکا پیر لڑکھڑایا ۔ اور زمین پر جاگری ۔ ہاتھ سے فون چھوٹ کر اس شخص کے پیروں میں جاگرا ۔ اس نے بے اختیار ان لمبے تڑنگے سیاہ نقاب پوشوں کو دیکھا ۔اور پھر اپنے فون کو ۔
اس شخص نے اسکی نظروں تعقب میں نظر اپنے قدموں کی جانب ڈالی ۔ جہاں فون کی اسکرین پر سلینا کی تصویر جگمگا رہی تھی ۔ دیکھتے ہی اس نے اپنے ساتھی کو نظروں سے اشارہ کیا ۔ اور آگے بڑھتے ہوئے وہ اسے دبوچتے ہوئے باہر لے جانے لگے ۔ گویا اسکے سر پر آسمان آگرا ہو۔ خوف سے اسکی زبان سے ایک لفظ نہ ادا ہوا ۔ وہ لوگ کون تھے ؟ اور اسے کیوں لے جا رہے تھے ؟
چھوڑو مجھے ! میں نے کیا کیا ہے ؟
مجھے کہاں لے جارہے ہو ! وہ حلق کے بل چلائی ۔
چھوڑو مجھے! نبیشہ ،نبیشہ ! وہ رودی ۔
نبیشہ نے اپنے نام کی پکار پر جیسے ہی مڑ کر دیکھا ۔ دو نقاب پوش پوش ایمان کو دبوچے پارکنگ لاٹ کی جانب لے جانے لگے ۔ اسکے اوسان خطا ہونے لگے۔ فون اسکے ہاتھ سے چھوٹ کر قدموں میں جاگرا ۔
ای ایمان ! ایمان ! ایمان ! وہ چلاتی ہوئی اسکی جانب بھاگی ۔ وہ دونوں شخص چونک کر پلٹے ۔اور جلدی سے اسے گاڑی میں دھکیلنے لگے ۔ اتنے میں وہ انکے قریب آپہنچی۔چھوڑو اسے کہاں لے جارہے ہو ! وہ غرائی ۔
نبیشہ پلیز بچائو مجھے !
ان میں سے ایک شخص نے غصے میں آکر بندوق کی ہتھی زور سے نبیشہ کے سر پر دے ماری ۔ اور وہ لہرا کر زمین بوس ہوگئی ۔ ننبببببیشہ!
ایمان کی چیخیں فضا میں بلند ہوئیں ۔
نبیشہ! وہ چیختی چلاتی ان سے اپنا چھڑاتی ہوئی اسکے جانب لپکی ۔
نبیشہ ! پلیز اٹھو ! وہ دونوں شخص بوکھلا کر رہ گئے ۔ تیزی سے رومال پر کلورفام اسپرے کرتے ہوئے اسکے منہ کے آگے جمایا ۔اور اسکے کھینچتے ہوئے گاڑی کی میں ڈالا ۔
اسکا کیا کرنا ہے ؟ وہ شخص مڑ کر ایک نظر بے جان پڑی نبیشہ پر ڈالتے ہوئے بولا ۔ وہ اپنے ساتھے کو جواب دیئے بغیر اسے بھی کندھے پر لاد کر گاڑی کی بیک سیٹ پر پھینکتے ہوئے ۔ گاڑی اڑا لے گئے ۔۔
***************************************
کیسا فیل ہو رہا ہے؟ آہ، ماحول تو پسند آیا نا تمہیں ! دیکھو تمہارے لیئے تو یہاں بیڈ بھی ہے ! انفورچونیٹلی کچھ لوگوں کو تو یہ بھی دیا جاتا !
اسکا اشارہ عثمان صاحب کی طرف تھا۔اس جیل میں انہوں نے کتنی اذیتیں کاٹیں تھی ۔ کوئی نہیں جانتا تھا مگر وہ گواہ تھی اس نے اپنے باپ کی آنکھوں میں کرب اور لبوں پر مسکراہٹ دیکھی تھی۔
زیادہ خوش ہونے کی ضرورت نہیں ہے ! میں جلد ہی یہاں سے نکل جائونگا پھر دیکھنا میں تمہارا کیا حال کرتا ہوں ! ساتھ ہی اسکا سلاخوں پر دھرا ہاتھ دبوچا ۔
آہہہہہ ! وہ درد سے چلا اٹھی ۔
میں تمہیں تمہارے بھائی سے بھی زیادہ اذیت ناک موت دونگا! وہ بے دردی سے اسکی کلائی میں انگلیاں میں دھنسائیں ۔
ہاہہہہ ! وہ درد سے دہری ہونے لگی ۔
چھوڑو اسے جاہل انسان ! کرخت آواز اسکے سماعتوں سے ٹکرائی ۔ مگر اس نے رخ نہیں موڑا ۔ بمشکل سلاخیں تھامے اس نے خود کو گرنے سے بچایا ۔
تم ٹھیک تو ہو؟ اور یہاں کیا کر رہی ؟ ثنان پریشانی سے کہتا اسکے قریب آیا ۔
ڈیم اٹ ! تم تو ۔۔۔۔یہ کیا ہوا؟ وہ اسکی کلائی سے ٹپکتے خون کو دیکھ کر جیب میں ہاتھ مارنے لگا ۔
یہ لو ! اطہر نے کڑے تاثراتوں سے اسے گھورتے ہوئے رومال ثنان کی جانب بڑھایا ۔ وہ کس شے کی بنی تھی ؟ یا اس نے اپنی جان کو بے مول کرلیا تھا ۔ اسے سخت غصہ آیا اس لڑکی پر ۔
کھولو اسے ! وہ مڑ کر انسپکٹر سے کہتا قہر بھری نگاہوں رحمان کو گھورنے لگا۔انسپکٹر نے بڑھ کر لاک اپ کا دروازہ کھول دیا ۔
اپنی محبوبہ کو تو سنبھال لو پہلے ! دیکھو تو ، بے چاری کو زخمی کردیا میں نے !وہ کمینگی سے کہتا ہنس دیا ۔
اسکے لفظوں سے زیادہ اطہر کو اسکے لہجے پر طائو آیا ۔ رخ موڑ کر اس نے نہ جانے ثنان کو کیا اشارہ کیا ۔ وہ رومیصہ کی کہنی تھامے اسے باہر لے گیا ۔ کچھ لمحے گزرنے کے بعد جب وہ واپس آیا تو اسکے نفاست سے بنے بال ڈھے چکے تھے ۔
تم جائو یہاں سے ! ہموار سانسوں کے درمیان ثنان کو حکم دیتے ہوئے ۔ وہ خاموشی سے اٹھا اور نگاہ رومیصہ پر ڈال کر وہاں سے واک آئوٹ کرگیا۔
چلو میرے ساتھ! وہ تحکم بھرے لہجے میں بولا۔
مجھے کہیں نہیں جانا ! رومیصہ نے الجھن بھری نگاہوں سے ایک نظر اسے دیکھا ۔ اور اٹھ کھڑی ہوئی ۔ اسے شدید درد ہورہا تھا ۔ اسکے جواب پر اطہر کی رگیں تنیں ۔
وہ پہلے اس پر بہت غصے تھا ۔ وہ غصہ دباتے ہوئے اسکی کہنی دبوچے گھسیٹتا ہوا پولیس اسٹیشن سے باہر پارکنگ میں لے آیا ۔ بے رخی سے اسکا بازو چھوڑتے ہوئے اسے دور دھکیلا ۔ وہ لڑکھڑا کر گاڑی سے ٹکراِئی ۔
منع کیا تھا نا میں نے ! کیا تھا یا نہیں ؟ کہ تم یہاں پولیس نہیں آئوگی ! وہ اسکے دائیں بائیں زور سے ہاتھ مارتے ہوئے غرایا ۔ اس ہتک امیز رویے پر اسکی آنکھیں جل تھل ہونے لگیں۔ وہ پہلے ہی زخمی تھی اوپر سے اسکی عنایتیں ۔
تم کون ہوتے ہو مجھے حکم دینے والے !میں کیوں مانوں تمہاری بات وہ آہستگی سے بولی۔چلانے کی سکت اس میں اب باقی نہیں رہی تھی ۔
کیوں کہ تمہارا کیس میں ہینڈل کر رہا ہو!تم وہی کروگی جو میں کہونگا! جواب حاضر تھا ۔
تمہارے لیئے بہتر ہے تم کیس ہینڈل کرو ! نہ کہ مجھے ! وہ اسکی سرخ آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بے باکی سے بولی ۔ہٹو میرے راستے سے ! وہ کلائی سینے سے لگائے ہوئے ۔ تکلیف کے آثار اسکے چہرے پر نمایاں تھے ۔اسکی برداشت جواب دینے لگی ۔اسکی سرخ کلائی پر نظر پڑتے ہی وہ سیدھا ہوا ۔ وہ کیسے بھول گیا کہ وہ زخمی تھی ! اسکی یہ حالت اس سے زیادہ اطہر کے لیئے تکلیف دہ تھی ۔
چلو میرے ساتھ ! وہ پریشانی سے بولا۔ اسے ہاسپٹل لے جانے کا ارادہ رکھتا تھا ۔
دیکھو ! میں تم سے ،بحث کرنے کے بلکل بھی موڈ میں نہیں ہوں پلیز مجھے ، یک دم اسکی آنکھوں کے سامنے اندھیرا چھا گیا ۔
میں تمہیں ہاسپٹل چھوڑ دیتا ہوں آئو ، اسکی یہ حالت اس سے زیادہ اطہر کے لیئے تکلیف دہ تھی ۔ وہ اس وقت اذیت کی انتہائوں پر تھا۔
ارد گردنظریں پھیرتے ہوئے اس نے آنسو اپنے اندر اتارے۔ اور خاموشی سے گاڑی میں بیٹھ گئی ۔
***************************************
کیسی ہے اب وہ ؟ وہ بے تابی سے ڈاکٹر کو باہر آتے دیکھ کر بولا۔
ٹھیک ہے بس ویکنس ہے آپکو انکے کھانے پینے پر دھیان دینا ہوگا ، اور ریگوللر روٹین چیک اپ کے لیئے آنا ہوگا ! ڈاکٹر کہتے ہوئے دوائوں کی پرچی اسکی جانب بڑھائی ۔ وہ بنا کچھ بولے اسکے ہاتھ سے چٹ لیئے باہر نکلا ۔ وہ راہداری سے گزر کر اسکے کمرے کے سامنے آ کھڑا ہوا ۔
ہیلو آفیسر؟؟؟ نسوانی آواز پر اسکا ہینڈل کی طرف بڑھا رکا ۔ اس نے رخ موڑ کر سر تا پا اس لڑکی کو دیکھا۔ سفید جینز پر نیلا ٹاپ پہنے ،کندھے پر پرس جھول رہا تھا ۔کٹے ہوئے بال بمشکل کندھوں پر پڑرہے تھے۔خوش شکل سی وہ لڑکی اسے دیکھ کر مسکرائی۔
اطہر نے نا سمجھی سے بھنویں سکیڑیں ۔
اب یہ مت کہہ دینا کہ ‘میں تو تمہیں جانتا ہی نہیں ‘، کیونکہ ایک ڈیڑھ دن بعد ہماری منگنی ہے ڈیئر فیانسے ! وہ زرا اسکی جانب جھک کر اہستگی سے بولی ۔
اطہر نے لمبی سانس باہر اندر کھینچی مگر بولا کچھ نہیں ۔ شاید تم بزی ہو ، ہم پھر بات کرلیں گے ! وہ سمجھ چکی تھی ۔شاید!
کیونکہ اسکا سپاٹ چہرہ دیکھ کر تو کوئی بھی ایک سے دوسری بات نہ کرتا ۔ وہ مسکراتے ہوئے آگے بڑھ گئی ۔اطہر نے بھی روکنے کی زحمت نہیں کی ۔اور اندر آگیا ۔وہ اسٹریچر پر آنکھیں موندے لیٹی ہوئی تھی ۔ اطہر دبے قدموں کرسی کھینچ کر اسکے قریب بیٹھ گیا ۔ اسکے سیاہ بال تکیے سے نیچے جھول رہے تھے ۔ بے اختیار اسکا دل چاہا وہ انہیں چھو کر محسوس کرے ۔مگر یہ اسکی عادات کے بر خلاف تھا ۔ وہ چاہ کر بھی ایسی حرکت نہیں کر سکتا۔ بے شک وہ اسکی محبت تھی مگر تھی تو نامحرم !
جسے محرم بنانے کے خواب بننے لگا تھا۔مگر خواب تو خواب ہوتے ہیں۔اور اس خواب کی تعبیر پانے کی خاطر وہ ایک بہت ہی انمول رشتہ نہیں کھو سکتا تھا ۔ وہ اپنی ماں کی حکم عدولی نہیں کرسکتا تھا ۔ کبھی نہیں!
وہ اسکی نہیں تھی یہ احساس ہی اسکے جی جلانے کو کافی تھا ۔ وہ بے بسی سے اٹھا کھڑا ہوا ۔ یہ سوچیں اسکے دماغ پر حاوی ہونے لگیں ۔ ایک نظر اسکے معصوم چہرے پر ڈالی ۔اسکا دل کیا وہ سارے بندھن،وعدے توڑ کر اسے اپنا لے اسکی سارہ تکلیفیں دور کردے ! کہ غموں کو اسکے قریب آنے کا موقع ہی نہ ملے۔ اور دوسری طرف اسکی ماں تھی ۔ایسی ہستی جو ہر وعدے ،ہر اٹوٹ بندھن پر بھاری تھی ۔ وہ اسے بہت پیاری تھی ۔لمحوں میں فیصلہ ہوا ۔ وہ ۔ اسے آخری بار نظر بھر کر دیکھ لینا چاہتا تھا۔آنسو اسکی آنکھوں میں چمکنے لگے مگر اسے احساس نہ ہوا خاموشی سے الوداعی نظر ڈال کر باہر نکل گیا۔ آج اس نے اپنی خاموش محبت کو بھی دفنا دیا تھا ۔ وہ کسی بہت پیارے کے لفظوں کی قید میں تھا ۔ وگرنہ وہ اس محبت کو اس قدر خوبصورت سے پایا تکمیل تک پہنچاتا کہ دنیا اسکی محبت کی مثالیں دیتی ۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *