The Dark by Uzzai Zehan NovelR50825 The Dark by Uzzai Zehan Episode05
Rate this Novel
The Dark by Uzzai Zehan Episode01 The Dark by Uzzai Zehan Episode02 The Dark by Uzzai Zehan Episode03 The Dark by Uzzai Zehan Episode04 The Dark by Uzzai Zehan Episode05 (Watching)The Dark by Uzzai Zehan Episode06 The Dark by Uzzai Zehan Episode07 The Dark by Uzzai Zehan Episode08 The Dark by Uzzai Zehan Episode09 The Dark by Uzzai Zehan Episode10 The Dark by Uzzai Zehan Episode11 The Dark by Uzzai Zehan Episode12 The Dark by Uzzai Zehan Episode13 The Dark by Uzzai Zehan Episode14 The Dark by Uzzai Zehan Episode15 The Dark by Uzzai Zehan Episode16 The Dark by Uzzai Zehan Episode17 The Dark by Uzzai Zehan Episode18 The Dark by Uzzai Zehan Episode19 The Dark by Uzzai Zehan Episode20 The Dark by Uzzai Zehan Episode21 The Dark by Uzzai Zehan Episode22 The Dark by Uzzai Zehan Episode23 The Dark by Uzzai Zehan Episode24 The Dark by Uzzai Zehan Episode25 The Dark by Uzzai Zehan Episode26 The Dark by Uzzai Zehan Last Episode
The Dark by Uzzai Zehan Episode05
The Dark by Uzzai Zehan Episode05
سوری سر ہم نے پوری کوشش کی لیکن یہ پاسورڈ کھلنے کا نام نہیں لے رہا ،
کمپیوٹر اسکرین کے سامنے بیٹھے شخص نے سر اسکی جانب اٹھاتے ہوئے مایوسی سے کہا
کیا مطلب کھل نہیں رہا؟
اطہر نے زور سے ٹیبل پر ہاتھ مارا۔
تمہارا کام ہے یہ، کھولو اسے ہر صورت میں ! اسی دوران اسکا فون رنگ کرنے لگا۔
وہ کمپیوٹر کی طرف اشارہ کرتا دروازہ بند کیئے کمرے سے باہر آیا ۔
ہاں بولو! وہ فون کان سے لگاتے ہوئے بولا ۔
سر وہ لڑکی آپکے آفس کی بلڈنگ کے کیفے میں موجود تھی ، اب واپس جارہی ہے !
احمق انسان تم نے مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا ! وہ خبری کی پیش گوئی پر بھڑکا ۔
سوری سر ، میں نے کال کی تھی مگر آپ نے اٹینڈ نہیں کی ،
ٹھیک ہے اسے انویسٹی گیشن روم میں لے آئو ، میں آرہا ہو! وہ تیزی سے کہتا لفٹ کی جانب بڑھا ۔
ایکسکیوزمی مس!
کی آواز پر رومیصہ نہ سمجھی سے پلٹی ۔
وہیں ثنان راہداری سے گزرتے ہوئے چونک کر مڑا ۔
چیف آپ سے کچھ بات کرنا چاہتے ہیں ! اس نے پیغام رسانی کی۔
کون اطہر کاظمی ؟؟
رومیصہ نے بے خوفی اسے اسکا نام لے کر کہا ۔
جی جی ! اس شخص نے جھٹ سے سر ہلایا۔
وہ حیران ہوئی ۔ کیا بات ہو سکتی ہے آخر؟؟
مارے گئے ! ثنان دونوں ہاتھ سر پر رکھے اپنے کیبن کی طرف دوڑا ۔ چیف یقینا اسکی کلاس لینے والے تھے ۔مگر کیوں؟؟ یہ وہ خود بھی نہیں جانتا تھا لیکن اسکی چھٹی حس اس سے یہی کہہ رہی تھی ۔
پلیز میم دِس وے ! وہ شخص اسے راستہ دکھانے لگا۔ وہ اثبات میں سر ہلاتی اسکے ہمراہ چلتی ہوئی ۔ ایک کمرے میں آگئی ۔ کمرہ صاف ستھرا کشادہ تھا ۔ مگر ایک ٹیبل کے گرد دو چیئر کے علاوہ کمرہ تمام تر خالی تھا۔ سامنے کی دیوار کے بیچ و بیچ کھڑکی نما گلاس نسب تھا۔ جسکے اس پار ایک اور کمرہ تھا جو یقیننا یہاں پر نظر رکھنے کے کام آتا ہوگا ۔ ایسا اس نے سوچا ۔اور بیگ کندھے سے اتار کر دائیں بائیں چکر کاٹنے لگی ۔
کہاں سے آرہے ہو ! وہ ہانپتا ہوا آفس میں داخل ہورہا تھا جب اطہر کی آواز اسکے کانوں میں پڑی ۔
کیف کیفے میں تھا چیف ، بریک لیا تھا کچھ وقت کا !
وہ برا سا منہ بنا کر مڑا ۔
بہتر ہوگا کام پر دھیان دو تم،یہ نہ ہو تمہیں ایک طویل بریک لینی پڑ جائے ! وہ ڈھکے چھپے لفظوں میں اسے وارن کرتا آگے بڑھ گیا۔
سلام ! کی آواز پر اسکے مسلسل حرکت کرتے قدموں کو بریک لگی ۔ وہ ٹیبل کے اس پار اسکے عین مقابل آ کھڑا ہوا۔ کرسی کی طرف ہاتھ اٹھائے وہ اسے بیٹھنے کا اشارہ دینے لگا۔وہ نا سمجھی سے کرسی کھینچ کر بیٹھ گئی ۔
نام کیا ہے تمہارا ؟؟ وہ جیبوں ہاتھ ڈالے اسکی طرف متوجہ ہوا۔
کیا؟؟؟ وہ تقریبا چلائی ۔
نام ! نام جو ہر انسان کا ہوتا ، جس سے وہ پہچانا جاتا ہے
وہ ایسے اسے سمجھانے لگا جیسے وہ کسی اور دنیا سے آئی ہو ۔
رومیصہ ! وہ شعلہ بار نگاہوں سے گھورتی ہوئی بولی ۔
پورا نام؟؟ وہ جھٹ سے بولا ۔
رومیصہ عثمان وہ احسان کرنے کے انداز میں بولی ۔
کرتی کیا ہو ؟ یعنی پروفیشن کیا ہے تمہارا ؟
اگلا سوال حاضر تھا ۔
اس انوسٹیگیشن کی وجہ ! وہ اکتائی ۔
میرے سوال کا جواب دو ! وہ لفظوں پر زور دیتا ہوا بولا۔ نہیں دوں گی ! وہ اسے کھا جانے والی نگاہوں سے گھورنے لگی۔
دیکھو لڑکی ! وہ ٹیبل پر ہاتھ جمائے اسکی طرف جھکا ۔ میرے پاس جواز بھی ہے اور حق بھی ،اب خاموشی سے میرے سوالوں کے جواب دو ، اسکے بغیر تم یہاں سے نہیں جا سکتی ! رومیصہ نے نوٹ کیا ثنان سہی کہتا تھا اسکے سوالوں سے زیادہ اسکی نظریں جان لیوا تھی ۔ اس نے نظروں کا زاویہ بدل لیا۔
سمجھ گئی ؟ وہ سیدھا ہوتے ہوئے بولا ۔
پروفیشن ؟ اس نے سوال دہرایا۔
جرنلسٹ ، وہ سرسری سا بولی ۔
کچھ دن پہلے تم لائر تھی ، حیرت ہے ویسے لوگ کس قدر ایڈوانس ہو چکے ہیں ! اسکا انداز تمسخر اڑاتا ہوا تھا۔
ہو گیا آپکا ؟ یا کچھ اور بھی باقی ہے ؟
رومیصہ کو سخت تائو آیا۔
کل ٹھیک سات بجے تم نیشنل ہاسپٹل گئی تھی ،
ہاں تو ؟؟ وہ اسکی بات کاٹتے ہوئے بول پڑی ۔
تم کیا کرنے گئی تھی وہاں ؟؟؟ اطہر اپنا سوال چھوڑ کر اس سے اسی کے انداز میں مخاطب ہوا ۔
ایک فرینڈ کو وزٹ کو کرنے گئی تھی ! وہ بڑابڑائی ۔
آر یو شیور ؟؟ اسکی نظریں مسلسل اسی پر ٹکیں تھی ۔
آف آفکورس ! رومیصہ نے نظریں چرائیں ۔
کب سے جانتی ہو تم جمن کو ؟؟؟
وہ مطمئن انداز میں کرسی کھینچ کر بیٹھ گیا۔
کون جمن ؟ اس نے بھنویں اچکائیں۔
ارے کل کی ہی تو بات ہے اتنی جلدی بھول گئی تم ! وہ بولا
میں نے کہا نا میں کسی جمن کو نہیں جانتی ! وہ اکتائی ۔ وہی جمن جس سے کل تم ہاسپٹل میں ملنے گئی تھی ، تم نے کنٹرول روم میں کافی وقت گزارا اور مزے کی بات تو یہ ہے کہ تم نے اسے پہلے کبھی بتایا ہی نہیں کہ تم پولیس ڈپارٹمنٹ سے’بھی’ ہو نہ ہی تم نے خاطرداری کا موقع دیا اسے ! ویسے تم کس ڈپارٹمنٹ سے ہو محترمہ؟
وہ یقیننا اسکا مزاک اڑا رہا تھا ۔
اسکے ماتھے پر پسینے کی بوندیں چمکنے لگیں ۔وہ اتنا سب کیسے جانتا تھا؟؟؟
ایسا ،ایسا کچھ نہیں ، کپکپاتے ہاتھوں سے پیشانی تھپتھپاتی ہوئی بولی ۔ اطہر سے اسکی یہ حرکت چھپی نہ رہ سکی۔
جا سکتی ہوں اب میں ؟؟؟ وہ ادھر ادھر دیکھتی ہوئی بولی ۔ جبکہ اطہر لبوں پر انگلیاں جمائے اس پر نظریں گھاڑے ہوئے تھا ۔کچھ تو تھا اس لڑکی میں جو وہ سمجھنے سے قاصر تھا ۔ رومیصہ ہنوز جواب کی منتظر تھی ۔
ایک آخری سوال کا جواب دو اور پھر تم جا سکتی ہو ! سچ بولنا ،میں صرف سچ سننا چاہتا ہوں !
وہ آخری لفظوں پر زور دیتا ہوا بولا۔
تم ہیکر ہو ؟؟؟ اسکے الفاظ تھے گویا کمرے کی چھٹ اسکے سر پر آگری ۔
اسے کیسے پتا چلا ؟ وہ شاکڈ تھی ۔
بولو؟ وہ جواب کا منتظر تھا ۔
نن ن نہیں نہیں تو ! اس نے کپکپاتے ہاتھ ٹیبل سے کھینچ کر جھولی میں دھرے ۔ مگر اطہر تو پھر اطہر تھا اسکی نظروں سے کچھ چھپا نہیں رہ سکتا تھا ۔
وہ سخت غصے کے عالم میں کرسی دھکیل کر اٹھ کھڑا ہوا ۔کنپٹی مسلتے ہوئے اس نے بمشکل اپنے غصے پر قابو پایا۔ وہ لڑکی مسلسل اسکے غصے کو ہوا دے رہی تھی اسے جھوٹ سے نفرت تھی اور وہ جھوٹ پر جھوٹ بولے جا رہی تھی ۔ میں جا سکتی ہو ؟؟ وہ بمشکل بولی ۔
شٹ اپ ! وہ ناگواری سے بولا۔ آپ کو !
آئی سیڈ جسٹ شٹ اپ ! وہ پوری قوت سے ٹیبل پر ہاتھ مار کر چیخا ۔
رومیصہ دھک سے رہ گئی ۔
جھوٹ پر جھوٹ بولے جارہی ہو اوپر سے زبان درازی ، اور کتنا جھوٹ بولو گی تم ؟ ہاں ! وہ غرایا۔
اسکے انتہائی رویے پر رومیصہ کا چہرہ سرخ پڑنے لگا۔اس سے پہلے وہ کچھ اور کہتا رومیصہ لب بھینچے آنسو ضبط کرنے لگی۔ اطہر ہکا بکا اسے تکنے لگا۔ غلطی پر ہونے کے باوجودہ وہ لڑکی اسے رو کر دکھا رہی تھی مگر سچ نہیں بول رہی تھی؟؟؟ اسکی سرخ میں چمکتے موتی دیکھ کر وہ اپنی بات بھول چکا تھا۔ عجب سے جذبات اسکے سینے میں سر اٹھانے لگے ۔ وہ آخری نگاہ اس پر ڈال کر لمبے لمبے ڈگ بھرتا باہر نکل گیا۔ جبکے رومیصہ لمبی لمبی سانیں بھرنے لگی ۔ اسکی طبیعت بگڑنے لگی تھی ۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
ثنان جلے پیر کی بلی کی طرح اپنے آفس میں چکر لگا رہا تھا ۔ نہ جانے چیف نے رومیصہ کو کیوں طلب کیا تھا؟ اگر وہ کچھ بھی پتا چلا لیتا اس بارے میں تو اسکی نوکری خطرے میں پڑ سکتی تھی ۔ اس پہلے وہ خود انہیں اسکے بارے میں سب بتا دے گا۔ زیادہ سے زیادہ کیا ہوتا وہ ناراض ہوجاتی ! لیکن وہ اسے کسی مشکل میں نہیں پڑنے دے سکتا تھا ۔.وہ سوچتے ہوئے آفس سے نکلا۔
مجھے اپنے گھر پر ایک میسج تو کرنے دو اٹ لیسٹ ، میری بہنیں پریشان ہورہی ہوں گی ! پلیزز گی می آ فیور !
اطہر کے حکم پر آفیسر نے اسکی تمام چیزیں اپنے قبضے میں لے لیں تھیں۔ وہ چیختی چلاتی ۔ تو کبھی دروازہ پیٹتی مگر بے سدھ ۔ سب گونگے بہرے بنے اپنے کام میں مصروف تھے ۔
کیا ہوا؟ کیا پرابلم ہے؟؟ ثنان نے کوریڈور سے گزرتے احمد سے پوچھا۔
معلوم نہیں یار ! لیکن چیف بہت گرم معلوم ہورہے ہیں ! احمد نے مکمل لا علمی ظاہر کی ۔یہ سن کر اس نے اطہر سے بات کا ارادہ ترک کردیا۔ ایسی سچویشن میں اسے کچھ سمجھانا اپنے ہی پیر پر کلہاڑی مارنے کے مترادف تھا ۔
یہ کیا ہے ؟ اسکے ہاتھ میں رومیصہ کا بیگ تھا اسنے پہچان لیا تھا۔
یہ سسپیکٹ کا بیگ ہے ، اسے آج کسٹڈی میں رکھنے کے آرڈرز ملے ہیں ! احمد بولا
یار میں ایک میسیج کر سکتا ہوں اسکے فون سے پلیزز ! اس نے دراخواست کی ۔
ہاں تو تم اپنے فون سے کرو نا! وہ نا سمجھی سے بولا۔
یار پلیز وہ میری دوست ہے چیف کو کوئی غلط فہمی ہوگئی ہے ،اسکے گھر والے پرییشان ہو رہے ہونگے ! مجھے بس ایک میسیج کرنے دو اسکے گھر ! وہ اسرار کرنے لگا ۔ ٹھیک ہے یار ، جلدی کرو مروا مت دینا !
احمد راہداری میں نظر دوڑاتے ہوئے بیگ سے فون نکال کر اسے تھماتے ہوئے بولا۔ رومیصہ کے نام سے ایک پیغام اسکی بہنوں کے نام سینڈ اس نے کردیا تھا ۔ مگر اتنا کافی نہیں تھا ۔ چیف کیسے کسی بھی ‘رینڈم پرسن’ کو اٹھا لائے تفیشیش کے لیئے حلانکہ انکے پاس کوئی ثبوت بھی نہیں اسکے خلاف اسے پہلی بار اطہر پر سخت غصہ آیا۔ اس بات سے انجان کہ اطہر نے رومیصہ پر چوبیس گھنٹے ایک خبری طعینات کر رکھا تھا ۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
آہاں سوپر ! خبری کی بات پر اس نے مسکراتے ہوئے کاٹ دیا ۔ چلو بھائیو ! تمہاری ہونے والی بھابھی گھر پر نہیں ہے کیوں نہ سالی صاحبہ سے ملاقات کی جائے ! کیا کہتے ہو ؟؟ وہ خباثت سے آنکھ دباتا ہوا بولا۔
چلو ،چلو ، چلو کی آوازیں ہر طرف بلند ہونے لگیں ۔
تو پھر دیر کس بات کی ! چلو وہ یہاں وہاں پڑے اپنے آوارہ دوستوں کو کہتا ہوا اٹھ کھڑا ہوا ۔
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
ایمان نے اونگھھتے ہوئے لائونج میں قدم رکھا ۔ تو صوفے پر سوئی نبیشہ پر نظر پڑی ۔
یہ یہاں کیوں سو رہی ہے ؟؟؟ وہ حیرانی سے بڑبڑاتی اسکی اور بڑھی ۔
نبیشہ ؟؟ اسکا گال تھپتھپاتے ہوئے اسے پکارا ۔
ک کیا ہوا ؟ وہ ہڑبڑا کر اٹھ بیٹھی ۔
ہوا کچھ نہیں ! تم یہاں کیوں سوئی رات؟
اسے اچھنبہ ہوا ۔
رومیصہ کا انتظار کرتے کرتے یہیں سو گئی تھی، اسکا میسیج بہت لیٹ موصول ہوا کہ وہ رات آفس میں گزارے گی اسے کام تھا !نبیشہ کمفرٹر ہٹاتے ہوئے بالوں کو پونی میں مقید کرنے لگی ۔
ہاں تو ٹھیک ہے نا ! کرنے دو اسے اپنی مرضی ، ویسے بھی اسے کونسا ہماری پرواہ ہے ! ایمان کڑھ کر بولی
ڈر تو اسے بھی لگا تھا اکیلے گھر میں ۔ مگر اس نے ظاہر نہیں ہونے دیا۔
اب صبح صبح شروع نہ ہوجانا ایمان ! نبیشہ برہم ہوئی ۔
تم سچ سننا نہیں چاہتی تو ٹھیک ہے !
وہ کندھے اچکاتی کچن کی جانب بڑھ گئی ۔
میں فریش ہونے جارہی ہوں ! پھرناشتے کا کچھ سوچتے ہیں ! نبیشہ پیروں میں چپل اڑستی کمفرٹر سمیٹنے لگی ۔ سنو آج سنڈے ہے ! سنڈے بریانی ہوجائے !
ایمان کچن سے جھانکتی ہوئی بولی ۔
صبح صبح ؟؟؟ نبیشہ حیرت سے مڑی ۔
ہاں ، تم فریش ہو کر آجائو ،میں مصالحہ تیار کرتی ہوں پھر تم اپنے خوبصورت ہاتھوں سے مجھے بریانی بنا کر کھلانا ! ایمان ایک ادا سے لہراتی ہوئی بولی ۔
ٹھیک ہے ! نبیشہ مسکراتی ہوئی کمرے کی جانب مڑی ۔ ایمان کا موڈ بھی دھوپ چھائوں کی طرح تھا ۔کبھی کبھی تو وہ خود بھی اسے سمجھ نہیں پاتی تھی ۔ رات وہ ایک پل کے لیئے تو رومیصہ کے انتظار میں ہلکان ہوئے جارہی تھی اور اگلے ہی پل لاتعلق سی نظر آنے لگی۔ اسکے بعد صبح اسکا رویہ ناقابل سمجھ تھا ۔
وہ سر جھٹک کر سوچوں سے جان چھڑاتی کمفرٹر الماری میں رکھ کر واشروم میں گھسی ۔ فریش ہونے کے بعد اس نے کافی کا مگ کچن سے اٹھایا اور اپنی آدھی ادھوری اسائمنٹ کمپلیٹ کرنے بیٹھ گئی ۔ جبکہ ایمان کچن میں ہی بریانی کی تیاریاں کر رہی تھی ۔
رومی آ گئی ! ڈور بیل کی آواز پر وہ لیپ ٹاپ آف کرتی باہر نکل آئی ۔اسے لگا ایمان کچن میں ہوگی ۔ مگر وہ اس سے بھی پہلے دروازے پر پہنچ چکی تھی ۔ اسے خوشگوار حیرت ہوئی ۔ یعنی وہ بھی رومیصہ کے لیئے پریشان تھی ۔شکر ہے محترمہ آپ آگئی ورنہ تو ! ایمان کے لفظ لبوں پر دم توڑ گئے ۔ دروازے پر نا معلوم لوگ تھے ۔ انکی نظریں بتا رہی تھی انکا کس طبقے سے تعلق ہے ۔ وہ کچھ کہتی اس سے پہلے وہ بغیر کہے سنے اندر چلے آئے ۔
کیا حرکت ہے یہ؟؟؟ وہ چیخی ۔
کمرے کی طرف واپس لوٹتی نبیشہ چوکھٹ سے آگے کو ہوئی ۔ اسکے پہروں تلے زمین سرکنے لگی جب اس نے دیکھا کئی لڑکے اندر چلے آرہے ہیں ۔
ک ک کون ہیں یہ لوگ؟؟ اسکے گلے کی گلٹی ڈوب کر ابھری ۔ اپنی جون میں ٹہلتے رحمان کی نظر اس پر پڑی ۔ ارے تم نے تو ہمیں پہچانا ہی نہیں ! وہ لائونج کا صوفہ پھلانگ کر اسکی طرف کودا۔
میں تمہارا ہونے والا ‘برادر اِن لاء ! وہ اسکے چہرے پر جھولتی لٹھوں کو لبوں سے لگاتا ہوا بولا۔
نبیشہ ! خوف سے ان دونوں کی چیخییں پورے گھر میں گونجنے لگی۔ ایمان مارے خوف کے بھاگ کر اس سے آ لپٹی۔ کون ہو تم لوگ ! وہ بلند آواز چلائی ۔
آہ ہاں ! کافی نازک مزاج ہیں تمہاری ہونے والی سالیاں ! رضا گہری نظروں سے انہیں گھورتا ہوا بولا۔
بھابھی بھی ایسی ہی ہوگی ! اسکے کندھے جھولتے ہوئے علی نے لقمہ دیا۔
اوئے بسسس !!! پریشان مت کرو میری کزنوں کو ! رحمان نے ڈرامائی انداز میں دونوں ہاتھ اٹھاتے ہوئے کہا۔
ک ک کون سی کزنیں ؟ ہم تمہیں نہیں جانتے ، دفعہ ہوجائو یہاں سے ! نبیشہ چلائی ۔
چلیں جائیں گے تعارف تو کروا دیں !
وہ خباثت سے آنکھ دباتا زرا انکی طرف جھکا۔
ایمان خوف سے نبیشہ کے بالوں میں منہ چھپاگئی ۔
رحمان خاور نام ہے میرا ، سوتیلا ہی سہی مگر میں تمہارا کزن پلس ہونے والا جیجا ہوں سنا تم دونوں نے ! وہ یک دم سنجیدہ ہوا۔
میں رضا ، اور میں علی اسکے دونوں کندھے پر جھولتے ان لفنگوں نے بھی اپنا تعارف کروایا ۔
ابے تم لوگ تو چپ کرو، ہر جگہ اپنا ٹانکا فٹ کرنے مت بیٹھ جایا کرو ! رحمان برہمی سے بولا
اور سنو لڑکیوں ! وہ انگلی اٹھا کر کہتا دو قدم آگے آیا ۔ جبکے وہ دونوں خوف سے کئی قدم پیچھے ہوئیں ۔
اپنی بہن کے کانوں میں یہ بات ڈال دو ، شادی تو میں اسی سے کرونگا چاہے وہ کتنے بھی ہاتھ پیر مارلے ! اگر اس نے پھر بھی انکار کیا تو انجام بہت برا ہوگا ! وہ کھلے عام انہیں دھمکانے لگا۔
سمجھ گئی لڑکی ؟ وہ اسکا ناک چھو کر بولا۔
جبکے نبیشہ نے ناگواری سے پلیکیں بھینچیں ۔
چلو اب ! وہ اپنے ساتھیوں کو لیئے باہر نکل گیا۔
تو ان دونوں نے شکر کا کلمہ پڑھا ۔ جبکے ایمان ہنوز کسی ٹرانس کی سی کیفیت میں تھی ۔
ایمان تم ٹھیک ہو نا ؟
وہ اسکی حالت نوٹ کرتی پانی کا گلاس لیئے اسکی طرف دوڑی ۔ آآ اگر وہ واپس آگیا تو ؟اگر اگر رومیصہ نے اس شادی سے انکار کردیا تو ، تو وہ ہم سب کو مار دے !
وہ خوف سے کانپنے ۔
ایسا کچھ نہیں ہوگا میری جان ! رومیصہ ہے نا وہ سب سنبھال لے گی ! نبیشہ اسے پچکارتے ہوئے بولی ۔
بس کرو نبیشہ خدا کے لئے،میں تنگ آ چکی اس رومیصہ نامے سے، ہماری سب سے بڑی دشمن وہی ہے ، تم دیکھنا یہ لڑکی ہمیں برباد کرکے چھوڑے گی ، وہ بلند آواز روتی ہوئی چلائی۔ اور اسکے قریب اٹھتی اپنے کمرے میں چلی گئی ۔ جبکے نبیشہ نے دونوں ہاتھوں سے سر تھام لیا
* * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * * *
ایک پوری شام اور رات کے بعد دن نکل آیا تھا ۔
رومیصہ ابھی تک اس خالی کمرے میں قید تھی ۔
دونوں بازو ٹیبل پر پھیلائے وہ سر ان پر دھرے گویا نیم بے ہوشی کی حالت میں تھی ۔ اس نے کل صبح سے کچھ ٹھیک سے کھایا نہیں تھا اور نہ ہی اپنی میڈیسن لی تھی ۔ بمشکل پلکیں وا کیں تو اسے تمام مناظر گھومتے ہوئے دکھائی دیئے ۔پلکیں بھاری ہورہی تھی۔ ٹیبلٹ میں ناغہ اسے اس حال میں لے آیا تھا کہ وہ دو قدم چلنے کا رسک بھی نہیں لے سکتی تھی۔
*. . *. . *. . *
گاڑی سے اترتے اس نے کیز واچ مین کی طرف اچھالی اور تیز رفتاری سے اندر کی طرف بڑھا۔
گڈ مارننگ ، سلام جیسی کئی آوازوں پر سر ہلاتا وہ آفس کی طرف بڑھنے لگا ۔
احمد کو میرے آفس بھیجو! حکم صادر کرتے ہوئے اس نے کریڈل واپس پٹخا ۔ وہ کل کچھ زیادہ ہی ٹیمپر لوز کر گیا تھا۔ اب اسے سخت پیشمانی نے آ گھیرا تھا۔
اس نے پہلی فرست میں اس لڑکی کو رہا کرنے کا سوچا ۔ مے آئی کم ان سر ؟ ثنان اندر جھانکتا ہوا پوچھنے لگا
تم ؟ احمد کی جگہ ثنان کو دیکھ کر اسے اچھنبہ ہوا ۔
آپ سے کچھ بات کر سکتا ہوں چیف !
اس نے اجازت طلب نگاہوں سے دیکھا۔
ابھی نہیں ثنان ،میں ابھی بزی ہوں ! اطہر نے ٹوکا ۔
پلیز اٹس ارجنٹ ،مجھے رومیصہ کے بارے میں بات کرنی ہے پلیز ، میں آپکو کچھ بتانا چاہتا ہوں ! وہ بضد ہوا ۔
کیا بات ہے ؟ سن رہا ہوں میں؟ اطہر نے بھنویں سکیڑیں۔
اسکے بعد اس نے ا سے لیکر ی تک تمام کہانی لفظ بہ لفظ جیسے اس نے رومیصہ سے سنی تھی ویسے ہی اسکے گوش گزار کردی ۔ اطہر کی پیشمانی اب پچھتاوے میں تبدیل ہونے لگی ۔ چونکہ ثنان کہہ رہا تھا اسلیئے اسے یقین کرنا پڑا ۔ وہ پچھلے چار سالوں سے اسے اسٹٹ کر رہا تھا ۔ سچ اور جھوٹ کے درمیان فرق بخوبی جانتا تھا یہ اسکی نوکری کا حصہ بھی تھا اور تجربہ بھی ۔
ہاسپٹل والے واقعے کے بعد مجھے واقعی لگا کہ وہ چور یا پھر ، وہ ہنوز شاکڈ تھا
ایسا کچھ بھی نہیں چیف وہ صرف اپنے والد کی موت کی وجہ جاننے کی کوشش کر رہی ہے ! اور ہمارے پاس کوئی ٹھوس ثبوت نہیں ہے کسی مفروضے کے تحت ہم اسے تحویل نہیں میں رکھ سکتے !
ثنان نے آخر کار اپنی بات کہہ ڈالی ۔
ہمممم ! بات تو ٹھیک ہے ،لیکن جو بھی ابھی تم نے بتایا ہم اس پر پوری تحقیق کرینگے کہ اس میں کتنا سچ ہے اور کتنا جھوٹ فلحال کے لیئے ریلیز کردو لڑکی اور احمد کو میرے آفس بھیجو ! وہ حکم صادر کرتا اپنی مخصوص کرسی پر براجمان ہوگیا۔
شیور ! ثنان نے شکر کا کلمہ پڑھتے ہوئے باہر کا رخ کیا
مارننگ چیف! اس کے جاتے ہی احمد داخل ہوا ۔
کیا رپورٹ ہے احمد ! وہ کرسی پر جھولتا آگے کو ہوا ۔
سر میں نے لڑکی کے فون کے تمام کال ریکارڈز چیک کیئے ، ان میں سے جس رات آپ ہاسپٹل گئے تھے اس دن کا سارا ڈیٹا اس رپورٹ میں موجود ہے !
وہ فائل ٹیبل پر رکھتے ہوئے بولا۔
مزید ہمیں اسکے سامان میں سے کچھ رپورٹس اور اخبارات کے ٹکڑے ، اور یہ لیڈی ڈاکٹر کا کارڈ ملا ہے !
وہ تفصیل سے آگاہ کرنے لگا۔
ٹھیک ہے تم جائو ! وہ کہتے ہوئے فائلز کی طرف متوجہ ہوا۔ڈاکٹر یمنٰی کاظمی کے نام کا کارڈ دیکھ کر وہ حیران رہ گیا۔ وہ اسکی ماں کی پیشنٹ تھی ۔ اس نے تیزی سے کارڈ واپس رکھتے ہوئے فائل اٹھا لی ۔ بلاشبہ وہ اسکی ماں کی ہی رائٹنگ تھی ، اسے یقین کرنا مشکل ہوگیا۔ تمام کال ریکارڈز میں اجنبی نمبروں کے بیچ ایک نمبر شناسا تھا وہ تھا اسکی ماں کا ۔ وہ مزید الجھ گیا۔ اس نے فائل ٹیبل پر پٹخ دی ۔بہتر ہوتا وہ اپنی ماں سے پہلے بات کرتا پھر ہی کوئی رائے قائم کرتا اس لڑکی کے بارے میں ۔ کیا پتا وہ اپنی سرگرمیوں سے بچنے کے لئے بیماری کا بہانہ کر رہی ہو ۔ کچھ بعید نہ تھا اس شاطر لڑکی کا ۔ اس ناگواری سے سوچا اور گلاس وال کے قریب آکھڑا ہوا ۔
