Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Last Episode)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Last Episode)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
وہ بے جان سی بستر پر لیٹی اپنے ساتھ عباد کی خالی جگہ کو دیکھ رہی تھی۔ پوری رات رونے کے باعث آنکھوں کے پپوٹے سوزش زدہ تھے، بال الجھے ہوئے تھے۔ کل رات جب سے عباد کو پولیس گرفتار کر کے لے گئی تھی اسے خود کا ہوش نہیں تھا۔ کل سے اس نے ایک بوند پانی بھی حلق سے نہیں اتارا تھا۔۔۔ “بیگم صاحبہ ناشتہ کر لیں۔۔۔”
صبح کے دس بج رہے تھے، ملازمہ نے دروازے پہ دستک دیتے ہوئے کہا۔ ویسے تو رائمہ ہمیشہ آٹھ بجے ناشتہ کرتی تھی لیکن آج اس کے کھانے کی میز پر نہ آنے کی وجہ سے ملازمہ نے بھی اسے نیند سے جگانا مناسب نہیں سمجھا تھا۔ اس گھر کا دوسرا ملازم جو کہ اس کا شوہر تھا وہ اسے عباد کی گرفتاری کے متعلق بتا چکا تھا۔۔۔ رائمہ رات دیر سے سوئی ہوگی یہ سوچتے ہوئے ملازمہ نے اسے جگایا نہیں تھا لیکن اسے کیا معلوم تھا کہ وہ پوری رات میں ایک پل بھی نہ سوئی تھی۔۔۔
“مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔”
اس کی نڈھال سی آواز ملازمہ کی سماعت میں پڑی تو وہ خاموشی سے واپس مڑ گئی۔ اس کی آواز سے ہی وہ اس کی حالت کا اندازہ لگا سکتی تھی۔۔۔
دیر یوں ہی لیٹے رہنے کے بعد وہ مردہ قدموں سے واش روم گئی، روم چھوڑتے ہوئے پانی کی چھینٹیں چہرے پر ماریں کہ سر شدید چکرانے لگا، دل عجیب طرح سے گھبرا رہا تھا۔ وہ تیزی سے واش روم سے نکلی اور کمرے میں آتے ہی زمین پر ڈھیر ہوگئی۔
“کانگریچولیشنز شی از پریگننٹ۔۔۔” ڈاکٹر نے مسکراتے ہوئے شمیم بیگم سے کہا۔۔۔
شمیم بیگم رائمہ کے کمرے میں اس سے بات کرنے آئی تھیں کہ اسے زمین پر بے ہوش دیکھ کر فوراً ہسپتال لے آئیں۔ اب لیڈی ڈاکٹر نے اس کا چیک اپ کیا تھا۔۔۔
“کوئی سٹریس لی ہے انہوں نے اس وجہ سے بے ہوش ہوئی تھیں، فی الحال انہیں ڈرپ لگا دی ہے پریشانی کی کوئی بات نہیں۔ ماں اور بچہ دونوں ٹھیک ہیں۔” وہ مسکرا کر کہتی ہوئی آگے بڑھ گئی۔۔۔ “چاہیں تو انہیں مل سکتی ہیں۔۔۔”
شمیم بیگم دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئیں۔ رائمہ بستر پر سیدھی لیٹی چھت کو گھور رہی تھی جب اسے اپنے ہاتھ پر کسی کا لمس محسوس ہوا، وہ جیسے سکتے سے ہوش میں آئی تھی۔۔۔
شمیم بیگم اس کا ہاتھ پکڑے رو رہی تھیں، ان کا بیٹا اپنے بچے کی خوشی بھی نہیں دیکھ سکتا تھا ان کا کلیجہ پھٹ رہا تھا۔۔۔
وہ خاموش تھی لیکن آنکھ سے نکل کر پھسلنے والا آنسو اس کی تکلیف کا ثبوت تھا۔ کل اس نے عباد کا بھیانک اور اصلی چہرہ دیکھا تھا اور آج ہی اس کے وجود میں عباد کا خون پلنے کی خبر مل گئی تھی، یہ کیسی خوشخبری تھی۔۔۔ خوشخبری تھی بھی یا نہیں اس کا دل تو کسی قسم کی خوشی کو محسوس کرنے سے عاری تھا۔۔۔
“یہ سب کیا ہو گیا۔۔۔” شمیم بیگم نے روتے ہوئے ماتھا پیٹا۔۔۔
“امی مت روئیں۔۔۔” رائمہ کی بھرائی ہوئی آواز شمیم بیگم کی سماعت میں پڑی تو انہوں نے بھیگی آنکھوں سے رائمہ کو دیکھا۔ اس کے منہ سے امی کا لفظ سن کر جانے کیوں ممتا کو سکون ملا تھا، وہ کب اور کیسے رائمہ کو قبول کر چکی تھیں یہ تو انہیں بھی خبر نہیں ہوئی تھی۔۔۔
“میں بھی آپ کی بیٹی ہوں، میں ابھی زندہ ہوں۔۔۔ آپ مت روئیں پلیز میں سب ٹھیک کر دوں گی۔۔۔”
اس نے روتے ہوئے کہا تو شمیم بیگم نے بے ساختہ آگے بڑھ کر اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے۔۔۔
“ہاں۔۔۔ میری بیٹی ہے میرے پاس۔۔۔” انہوں نے رائمہ کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا۔۔۔
“میں بات کروں گی ماہی سے، مجھے یقین ہے وہ میری بات کبھی نہیں ٹالے گی۔ وہ ضرور اپنے شوہر سے بات کرے گی وہ عباد کو سزا سے روک سکتی ہے۔۔۔” رائمہ کی بات پر شمیم بیگم نے روتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا جبکہ دل کو کوئی تسلی نہ ہوئی تھی۔۔۔۔
…………
“دو دن بعد کورٹ میں اسے پھانسی کی سزا سنائی جائے گی۔۔۔” ارہان اور ولید ابھی ہی وکیل کے پاس سے ہو کر گھر لوٹے تھے۔ ماہی نے صورتحال پوچھی تو ارہان نے اسے آگاہ کیا۔ “کبھی نہیں سوچا تھا کہ زندگی میں یہ سب کچھ بھی دیکھنا تھا۔۔۔” ماہی نے افسوس سے کہا۔ ارہان اس کے پاس آکر بیٹھا۔۔۔ “انکل آنٹی کیسے ہیں؟” اس نے ماہی کے روکھے سے گال کو ہاتھ سے سہلایا۔ ماہی نے اس کی بات کا جواب اس لیے نہ دیا تھا کیونکہ جو کچھ وہ اپنی زندگی میں دیکھ چکی تھی اس کے سامنے ماہی بہت مشکل حالت سے گزر رہی تھی۔ “میرا تو دل نہیں کر رہا تھا ان کو اکیلا چھوڑنے کو۔۔۔”
“تو کیوں چھوڑا انہیں؟ تمہاری ضرورت ہے انہیں۔ یہاں لے آتی وہاں وہ دونوں تنہا پریشان ہوتے رہیں گے، یہاں پوری فیملی ہے پھر بھی دھیان لگ جاتا ہے۔” ارہان نے نرمی سے کہا۔
“میں نے کہا تھا میرے ساتھ چلیں لیکن ماما نے انکار کر دیا اور میں وہاں رکی نہیں، آپ رات کال نہیں اٹھا رہے تھے۔ آپ کی پرمیشن کے بغیر تو نہیں رک سکتی تھی۔۔۔” ماہی نے افسوس سے کہا۔ ارہان نے اس کا سر اپنے سینے سے ٹکایا۔۔۔
“صحیح کہا پرمیشن تو میں نے واقعی نہیں دینی تھی، چاہے وہ اریسٹ ہو چکا ہے لیکن کچھ بھی غلط ہو سکتا تھا۔۔۔”
“کیا مطلب کچھ بھی غلط ہو سکتا ہے؟” اس نے حیرت سے ارہان کی طرف دیکھا۔۔۔
“ایسے لوگ اکیلے سب کچھ نہیں کرتے وہ اپنے ساتھ کچھ لوگوں کو شامل رکھتے ہیں، خیر چھوڑو ان باتوں کو چلو انکل آنٹی کی طرف چلتے ہیں۔” ارہان اس کے سر پہ بوسہ دیتے ہوئے کھڑا ہوا۔ ماہی نے ابھی پاؤں زمین پر رکھے تھے کہ اس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی۔۔۔
“آنی کی کال ہے۔۔۔” ماہی نے ارہان کو بتاتے ہوئے موبائل کان سے لگایا۔۔۔ “جی آنی۔۔۔ کیا۔۔۔؟؟”
وہ پریشانی سے بولی تو ارہان نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔
“جی ٹھیک ہے میں آتی ہوں۔۔۔” ماہی نے کال منقطع کی۔۔۔
“کیا ہوا ہے؟” ارہان نے پوچھا۔۔۔
“رائمہ کی طبیعت بہت خراب ہے وہ بے ہوش ہو گئی تھی ہسپتال میں، اسے ڈرپ لگی ہے اب آنی اسے گھر لے کر آئی ہیں اور کہہ رہی ہیں رائمہ تمہیں بلا رہی ہے۔۔۔”
“تم جانتی ہو اس لڑکی کو؟” ارہان نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
“ہم بچپن سے دوست ہیں۔۔۔” ماہی نے دکھ سے کہا کیونکہ رائمہ کا دکھ وہ سمجھ سکتی تھی۔ ارہان نے حیرت سے اسے دیکھا، کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھنے کے بعد بولنے کے لیے لب کھولے۔۔۔ “ٹھیک ہے پھر پہلے اس کی طرف لے چلتا ہوں تمہیں۔۔۔”
“عباد کو پھانسی سے بچا لو ماہی میں تمہارے آگے ہاتھ جوڑتی ہوں۔” وہ آنسوؤں سے تر چہرہ لیے اس کے سامنے ہاتھ جوڑے بیٹھی تھی۔ ماہی نے تیزی سے آگے بڑھ کر اس کے ہاتھ پکڑے اور پریشانی سے اس کی طرف دیکھا تھا، آخر وہ اس کی دوست تھی وہ اس کا دکھ درد سمجھ سکتی تھی۔ “پلیز اسے بچا لو میں اس کے۔۔۔ بچے کی ماں بننے والی ہوں۔۔۔۔” رائمہ نے سسکتے ہوئے کہا تھا، اس کی بات سن کر ماہی نے پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھا۔۔۔
“ک۔۔ کیا۔۔۔”
بے ساختہ اس کے منہ سے یہ ایک لفظ ادا ہوا تھا۔ عباد صرف ارہان اور اس کی فیملی کا ہی نہیں بلکہ اس کا بھی مجرم تھا۔ عباد نے اس کا بھروسہ توڑا تھا، اس کے باپ کے ساتھ اس نے جو کچھ کیا تھا وہ ماہی کے لیے بہت تکلیف دہ تھا لیکن اسے پھانسی سے روکنے والے تو صرف وہی لوگ تھے جن پہ وہ ظلم کی انتہا کر چکا تھا، جن کے پیاروں کو وہ موت کے گھاٹ اتار چکا تھا، پھر اتنی آسانی سے وہ عباد کو معاف کیسے کر سکتے تھے۔۔۔
“میں سچ کہہ رہی ہوں، یقین نہیں ہے تو یہ رپورٹس دیکھ لو۔۔۔” رائمہ نے ٹیبل پر پڑی رپورٹس اٹھا کر اس کے سامنے کیں۔۔۔
“اوہ خدایا۔۔۔” ماہی نے پریشانی سے کہا۔ “پلیز اسے بچا لو میں اپنے بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے یتیم نہیں کرنا چاہتی۔ عباد جیسا بھی ہے وہ مجھ سے محبت کرتا ہے اور میں بھی اس کے بغیر نہیں رہ سکتی۔ میں نے اس سے وعدہ کیا تھا حالات جیسے بھی ہوں میں اس کا ساتھ نہیں چھوڑوں گی۔۔۔ ماہی تمہیں ہماری دوستی کا واسطہ ہے۔۔۔” اس نے پھر سے اس کے آگے ہاتھ جوڑے تھے، ماہی خود کو صدمے کی حالت میں محسوس کر رہی تھی۔۔۔
“لیکن رائمہ وہ مجرم ہی نہیں گنہگار بھی ہے۔۔۔” ماہی نے رائمہ کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔
“لیکن معاف کر دینے والے کا رتبہ بھی تو سب سے بلند ہوتا ہے، کیا وہ اسے میرے بچے کی خاطر معاف نہیں کر سکتے؟ تم ہی بتاؤ کیا جواب دوں گی میں اپنے بچے کو جب وہ اپنے باپ کے بارے میں پوچھے گا۔۔۔” رونے کی وجہ سے اس کی آواز بھاری ہو چکی تھی۔۔۔
“ولید بھائی کا بچہ بھی تو اس دنیا میں آنے سے پہلے عباد نے مار دیا تھا۔۔۔ وہ انسان نہیں حیوان ہے رائمہ۔۔۔”
“وہ جیسا بھی ہے میرے بچے کا باپ ہے، میں تمہارے پاؤں پکڑتی ہوں اس کی سزا رکوا دو۔۔۔” اس نے ماہی کے پاؤں پر ہاتھ رکھے، ماہی نے فوراً اپنے پاؤں پیچھے کیے۔۔۔
“پلیز یہ سب مت کرو رائمہ۔۔۔” ماہی نے کرب سے اسے دیکھا۔۔۔ “تو کیا کروں تم ہی بتاؤ۔۔۔” وہ اب با آواز رونے لگی تھی، وہ خود کو کتنا بے بس محسوس کر رہی تھی یہ صرف وہی جانتی تھی۔ “میں کیسے بات کروں ارہان سے کیسے۔۔۔؟؟؟ تمہارا تو ایک بچہ یتیم ہوگا نا اور عباد نے کتنے بچوں کو یتیم کیا تھا یہ تم بھی جانتی ہو۔ اور صرف یہی نہیں ان پر ظلم بھی ڈھائے، ان کے سر سے چھت تک چھین لی۔۔۔”
ماہی بھی نہیں چاہتی تھی کہ عباد کو سزا سے روکا جائے، جس سزا کا وہ حق دار تھا وہ اسے ضرور ملنی چاہیے تھی۔۔۔
“ت۔۔ تم بات نہیں کر سکتی تو میں کروں گی بات ارہان سے، میں اس کے پاؤں پکڑ لوں گی۔۔۔ وہ میری حالت دیکھ کر کر دے گا اسے معاف۔۔۔” اس نے سختی سے رخسار رگڑتے ہوئے کہا۔
“رائمہ۔۔۔ سنبھالو خود کو تم اکیلی نہیں ہو تمہیں آرام کی ضرورت ہے لیٹ جاؤ۔۔۔” ماہی نے اسے زبردستی بستر پر لیٹایا۔۔۔ “پھر تم مجھ سے کہو تم بات کرو گی ارہان سے۔۔۔” رائمہ نے اس کا ہاتھ مضبوطی سے پکڑا تھا۔۔۔
“ہاں میں بات کرتی ہوں اس سے۔۔۔” “نہیں۔۔۔ مجھ سے وعدہ کرو کہ تم بات کرو گی اور آج ہی کرو گی۔۔۔” وہ پھر سے رونے لگی تھی، ماہی نے پریشانی سے لب کچلے یہ مرحلہ اس کے لیے نہایت مشکل تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے میں وعدہ کرتی ہوں میں آج ہی ارہان سے بات کروں گی اوکے۔۔۔”
ماہی کی بات سن کر رائمہ کو جیسے تسلی ہوئی تھی، انجیکشن کے زیر اثر اسے نیند آنے لگی تھی۔
“ارہان۔۔۔ مجھے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔” ماہی نے ہچکچاتے ہوئے کہا۔ وہ رائمہ کے گھر سے نکل کر اب محمود صاحب کی طرف جا رہے تھے۔۔۔
“ہاں بولو کیا بات ہے۔۔۔” ارہان نے سٹیرنگ گھماتے ہوئے کہا۔۔۔ “رائمہ پریگننٹ ہے۔۔۔”
ماہی کی بات سن کر ارہان نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا جیسے جاننا چاہ رہا ہو وہ کیا کہنے والی ہے اور وہ جان بھی چکا تھا۔۔۔ “تو؟؟؟”
ارہان نے لاپرواہی سے کہا تو ماہی نے خشک حلق کو تر کیا۔ ارہان سے کہنے کی ہمت نہیں ہو رہی تھی اور رائمہ سے بھی کیا ہوا وعدہ نہیں توڑ سکتی تھی۔۔۔ “رائمہ بہت رو رہی تھی۔۔۔ کہہ رہی تھی کہ وہ اپنے بچے کو دنیا میں آنے سے پہلے یتیم نہیں کرنا چاہتی۔۔۔”
سٹیرنگ پر ارہان کی گرفت سخت ہو چکی تھی۔۔۔
“ک۔۔ کیا آپ اسے معاف۔۔۔” “یہ بات یہی ختم کر دو ماہی۔” ماہی کی بات تکمیل ہونے سے پہلے اس نے ٹوک دیا تھا۔ ماہی وہیں خاموش ہو گئی تھی وہ جانتی تھی کہ اس انسان کو معاف کرنا ارہان کے لیے نامکن ہے۔۔۔
ولید کو کمرے میں گھبراہٹ محسوس ہو رہی تھی، وہ ہوا خوری کے لیے لان میں آیا تو وہاں ارہان کو پریشان سے انداز میں کرسی پر بیٹھا دیکھا۔۔۔ “کیا ہوا یہاں کیوں بیٹھے ہو؟” ولید اس کے ساتھ والی کرسی پر بیٹھا اور پوری توجہ سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“کچھ نہیں بھائی۔۔۔ آپ سوئے نہیں؟” ولید کی آواز پر وہ سوچوں سے باہر نکلا تھا۔۔۔
“نیند نہیں آرہی تھی سوچا ہوا خوری کر لوں پھر تمہیں یہاں بیٹھے دیکھا، تم بتاؤ کیوں بیٹھے ہو اس وقت یہاں اور پریشان بھی لگ رہے ہو۔۔۔”
“بھائی عجیب سی بے چینی ہو رہی ہے دل گھبرا رہا ہے۔۔۔” ارہان نے کرسی سے ٹیک چھوڑتے ہوئے کہا۔۔۔
“ایسی کیا بات ہے صبح تو تم کافی فریش تھے میں نے دیکھا تھا پھر دن میں ایسی کیا بات ہوئی۔۔۔” ولید نے جانچنے کے انداز میں اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
“عباد کی بیوی پریگننٹ ہے۔۔۔” ارہان کی بات پر ولید اس سے نظر ہٹانا بھول گیا تھا، سانس جیسے حلق میں ہی اٹک گئی تھی۔۔۔
“کس نے کہا تم سے؟” کچھ دیر یوں ہی گم سم بیٹھے رہنے کے بعد ولید نے پوچھا۔
“ماہی نے۔۔۔ وہ رائمہ کی دوست ہی ہے۔۔۔” ولید نے کندھے ڈھیلے چھوڑتے ہوئے کرسی سے پشت لگائی۔۔۔
“وہ انسان اس لائق نہیں ہے کہ اسے معاف کیا جا سکے لیکن۔۔۔” وہ خاموش ہوا تھا ولید نے نظریں اٹھا کر اس کی طرف دیکھا۔ “دل بے چین سا ہے۔۔۔ ایک بچہ جو دنیا میں آنے سے پہلے یتیم ہو جائے۔۔۔ وہ پوری زندگی خود کو کتنا محروم سمجھے گا بھائی۔۔۔” ارہان کے چہرے سے اس کی تکلیف واضح ہو رہی تھی، ولید نے پریشانی سے اپنا چہرہ سہلایا۔۔۔
“اگر ہم نے اسے پھانسی سے روک بھی لیا تو کیا گارنٹی ہے کہ وہ پھر سے کسی بچے کو یتیم نہیں کرے گا؟” ولید نے گہری سوچ سوچنے کے بعد ارہان سے کہا۔
“وہ اس کا اور اللہ کا معاملہ ہے بھائی اور کیا پتہ اللہ ہمارا امتحان لینا چاہ رہا ہو کہ ہمارے اندر کتنی انسانیت اور کتنا ظرف ہے۔۔۔ اگر آج ہم اس بچے کو یتیم ہونے سے بچا لیتے ہیں تو ہو سکتا ہے کہ اللہ کو ہماری یہی بات پسند آجائے اور وہ ہمیں مستقبل میں ہونے والے کسی بڑے نقصان سے بچا لے۔۔۔”
ولید نے ارہان کی طرف گہری نظروں سے دیکھا، آج وہ محسوس کر رہا تھا کہ ارہان واقعی سمجھدار ہو گیا ہے ورنہ وہ آج سے پہلے ارہان کو ہمیشہ کی طرح ناسمجھ ہی سمجھتا تھا۔۔۔
“صحیح کہہ رہے ہو تم۔۔۔ شاید ہمیں اس بچے کے سر سے باپ کا سایہ نہیں چھیننا چاہیے، میں تمہارے ساتھ ہوں۔۔۔” ولید نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھ کر تھپتھپایا۔۔۔
“میں ماہی کو کہہ دوں کہ وہ اس کی بیوی کو بتا دے۔۔۔ وہ بتا رہی تھی کہ وہ کافی رو رہی تھی بہت گڑ گڑا رہی تھی ماہی کے سامنے۔۔۔”
“ہاں بتا دو اور سو جاؤ اب میرے دل کا بوجھ بھی ختم ہو چکا ہے میں بھی سونے لگا ہوں۔۔۔”
ولید کہتا ہوا کھڑا ہوا ارہان بھی اس کے ساتھ کھڑا ہو کر اپنے کمرے کی طرف چل دیا۔۔۔
رائمہ کو جیسے ہی ماہی نے کال کر کے بتایا وہ خوشی سے کمرے سے باہر نکلی تاکہ بیگم اور نصار صاحب کو یہ خوشخبری دے سکے۔ نصار صاحب کو آج ہی ہسپتال سے ڈسچارج کر لیا گیا تھا۔۔۔ رائمہ لاؤنج میں بھاگتی ہوئی ان کے کمرے کی طرف جا رہی تھی جب اس کی نظر لان کی دیوار پر پڑی، اس کے قدم وہیں جم گئے تھے۔۔۔ ایک لڑکی لان کی دیوار پھلانگ کر لان میں کودی تھی، اس کے چہرے سے شدید تکلیف کے آثار واضح ہو رہے تھے۔ رائمہ لاؤنج کے دروازے سے باہر آئی۔
“کون ہو تم اور دیوار پھلانگ کر ہمارے گھر میں کیوں گھسی ہو؟” رائمہ نے اس سے پوچھا، ان کا ملازم آج چھٹی پر تھا اور ملازمہ سرونٹ کوارٹر میں سو رہی تھی۔۔۔ وہ لڑکی بنا کچھ کہے گھر کے اندر بھاگی، رائمہ ہونقوں کی طرح اس کی پشت کو دیکھ رہی تھی پھر ہوش میں آتے ہی وہ اندرونی دروازے کی طرف لپکی۔۔۔ “کون ہو تم؟” رائمہ نے حیرت سے پوچھا وہ لڑکی شدید سہمی ہوئی اور خوفزدہ تھی۔۔۔
“پ۔۔ پلیز ہیلپ می۔۔۔” اس نے روتے ہوئے رائمہ کے آگے دونوں ہاتھ سختی سے جوڑے، رائمہ ہونق بنی اسے دیکھ رہی تھی۔۔۔ “ب۔۔ باہر ک۔۔ کچھ لوگ۔۔۔ مجھے ڈھونڈ رہے ہیں پلیز۔۔۔ م۔۔ مجھے یہاں پناہ دے دیں۔۔۔ میں صبح چلی جاؤں گی۔۔۔” اس نے اپنی سانسوں کو بحال کرتے ہوئے کہا لیکن ڈر کی وجہ سے آواز کانپ رہی تھی اور زبان لڑکھڑا رہی تھی۔۔۔
شمیم بیگم انجان آواز سن کر کمرے سے باہر آئیں تو سامنے کسی لڑکی کو رائمہ کے سامنے ہاتھ جوڑے دیکھ کر حیران ہوئیں۔۔۔ “یہ کون ہے؟”
رائمہ نے ان کی طرف دیکھا اس بات کا جواب تو وہ بھی نہیں جانتی تھی۔۔۔ “پلیز پلیز مجھے یہاں سے مت نکالیں، وہ مجھے پھر سے لے جائیں گے۔۔۔”
لڑکی نے روتے ہوئے منہ پر ہاتھ رکھا، اس کا پورا وجود کانپ رہا تھا کہنیوں اور بازوؤں پر زخم کے نشانات تھے جن پہ خون جما ہوا تھا۔۔۔ “مجھے نہیں معلوم امی۔۔۔ یہ دیوار کود کر آئی ہے اور کہہ رہی ہے کچھ لوگ اسے ڈھونڈ رہے ہیں۔۔۔”
رائمہ نے شمیم بیگم کو جواب دیا۔ شمیم بیگم نے جانچنے کی نظروں سے لڑکی کو دیکھا وہ واقعی سچ بول رہی تھی اس کا خوف اس بات کا ثبوت تھا۔۔۔ “بیٹا کون لوگ تمہیں ڈھونڈ رہے ہیں اور کیوں؟” شمیم بیگم نے آگے بڑھتے ہوئے شفقت سے اس کے سر پر ہاتھ رکھا تاکہ اس کا خوف کچھ حد تک کم ہو جائے۔۔۔
“وہ بہت ب۔۔ برے ہیں، میں بہت م۔۔ مشکل سے ان کے چنگل سے نکلی ہوں۔۔۔ وہ مجھے پھر سے لے جائیں گے۔۔۔” ان کی شفقت دیکھتے ہی لڑکی کے آنسوؤں میں تیزی آگئی تھی۔۔۔ “لیکن کیوں؟ کیا دشمنی ہے ان کی تم سے؟”
“و۔۔ وہ کڈنیپرز ہیں۔۔۔ پاکستان سے لڑکیاں کڈنیپ کر کے آؤٹ آف کنٹری بیچتے ہیں۔۔۔ میں نے بہت سال ان کے پاس گزارے ہیں، بہت تکلیف میں رہی ہوں۔۔۔ میں بہت مشکل سے بھاگ پائی ہوں۔۔۔”
وہ اپنا چہرہ دونوں ہاتھوں میں چھپا کر رونے لگی تھی، شمیم بیگم نے اس کے سر پر پھر سے ہاتھ پھیرا تھا۔۔۔
اس لڑکی کی بات سن کر رائمہ کو وہ دن یاد آگیا تھا جب وہ بھی اسی طرح اغوا ہوئی تھی لیکن جانے کیوں ان لوگوں نے اسے چھوڑ دیا تھا، اس دن کو یاد کر کے رائمہ کی روح تک کانپ گئی تھی۔۔۔
“کب سے ہو تم ان کے پاس؟” شمیم بیگم نے کچھ سیکنڈ بعد سوال کیا۔۔۔ “د۔۔ دس سال سے۔۔۔”
اس کی بات سن کر شمیم اور رائمہ دونوں مجسم ہو گئی تھیں۔۔۔ دس سال سے وہ معصوم لڑکی ان درندوں کا شکار ہو رہی تھی۔۔۔ “دس سال مجھے آؤٹ آف کنٹری رکھا گیا ہے۔۔۔ کچھ دن پہلے پاکستان لائے ہیں، آج مجھے بھاگنے کا موقع ملا میں ان کے پاس واپس نہیں جانا چاہتی لیکن وہ مجھے ڈھونڈ لیں گے۔۔۔”
“اگر اللہ نے آج تمہیں موقع دیا ہے تو وہ ضرور تمہاری مدد کرے گا تم فکر مت کرو، تم جب تک چاہو یہاں رہ سکتی ہو۔۔۔”
شمیم بیگم کی بات پر لڑکی نے آنسوؤں سے بھری آنکھوں سے ان کی طرف دیکھا، وہ آنکھوں سے ہی ان کا شکریہ ادا کر چکی تھی۔۔۔۔ “بالکل بھی پریشان مت ہونا اور یہاں تمہیں کسی قسم کا خطرہ نہیں ہے سکون سے رہ سکتی ہو۔۔۔”
“رائمہ جاؤ اس کے لیے کھانا لے کر آؤ بھوک لگی ہوگی اسے۔۔۔” شمیم بیگم کی بات پر رائمہ نے اثبات میں سر ہلایا اور کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔
فریج میں سے بریانی نکال کر اوون میں رکھی، کچھ دیر میں وہ ٹرے ہاتھ میں لیے کچن سے باہر آئی۔۔۔
“یہ لو پہلے پانی پیو۔۔۔” شمیم بیگم نے پانی کا گلاس اسے تھمایا، لڑکی نے اپنے خشک ہونٹوں سے گلاس لگایا اور تیزی سے پانی پینے لگی جیسے جانے کب کی پیاسی ہو۔۔۔
رائمہ نے اس کے آگے پلیٹ رکھی تو وہ کھانے پر ٹوٹ پڑی تھی، شمیم بیگم اور رائمہ نے دکھ سے اس کی طرف دیکھا، بھوکے پیٹ وہ کس حال میں بھاگ رہی تھی۔۔۔
“نام کیا ہے تمہارا؟” وہ جیسے ہی کھانے سے فارغ ہوئی تو شمیم بیگم نے پوچھا۔۔۔ “نیلم۔۔۔”
لڑکی نے کہنی پہ لگے زخم کو سہلاتے ہوئے جواب دیا۔ “رائمہ جاؤ فرسٹ ایڈ باکس لے آؤ اس کے بازوؤں اور پاؤں پر زخم ہیں۔” رائمہ نے فرسٹ ایڈ باکس لا کر ان کے سامنے رکھا تو وہ پائیوڈین نکال کر روئی کی مدد سے لڑکی کے بازو پر لگانے لگیں۔۔۔
“جب تک یہاں رہنا ہے رہ لو، پھر اپنے امی ابو کا ایڈریس دینا ہم حفاظت سے تمہیں وہاں پہنچا دیں گے۔۔۔”
لڑکی نے اثبات میں سر ہلایا وہ اب سکون سے بیٹھی تھی، ان لوگوں کا انتہائی اچھا اخلاق دیکھ کر اس کا خوف کم ہوا تھا۔۔۔
“آپ دونوں ہی رہتی ہیں کیا؟” وہ اس کے زخموں پر مرہم کر رہی تھیں جب اس نے سوال کیا۔۔۔ “میرے شوہر اندر سو رہے ہیں، یہ میری بیٹی اور بہو ہے اور۔۔۔” وہ خاموش ہوئیں۔۔۔
عباد کا کیسے بتائیں اسے تو دو دنوں میں پھانسی کی سزا سنائی جانی تھی۔۔۔ “امی ارہان لوگوں نے معافی قبول کر لی ہے۔۔۔” رائمہ تیزی سے آگے بڑھ کر بولی۔
“کیا۔۔ سچ کہہ رہی ہو تم؟” شمیم بیگم کو اپنی سماعت پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
“جی سچ کہہ رہی ہوں، یہ ابھی ماہی کی کال آئی تھی اس نے مجھے بتایا ہے میں آپ کو بتانے آرہی تھی کہ میں نے انہیں گھر میں کودتے ہوئے دیکھا۔۔۔” “یا اللہ تیرا شکر ہے میرا بچہ گھر آجائے گا۔۔۔” شمیم بیگم کی آنکھوں میں آنسو آگئے تھے۔۔۔
“کیا ہوا آپ کے بیٹے کو؟” لڑکی ان دونوں کی باتیں سن کر تجسس کا شکار ہوئی تھی۔۔۔
“میرا بیٹا جیل میں ہے بس بہت سے جرم کر بیٹھا تھا، آج ان لوگوں نے معافی دے دی ہے اب وہ گھر آجائے گا۔ مجھے یقین ہے اب وہ کبھی کسی کے ساتھ غلط نہیں کرے گا۔۔۔”
شمیم بیگم نے لمبی سانس خارج کرتے ہوئے کہا۔ نیلم نے اثبات میں سر ہلایا مزید پوچھنا گوارا نہیں سمجھا تھا۔۔۔
“ٹھیک ہے امی۔۔۔ آجاؤ۔۔۔” رائمہ نے شمیم کو جواب دینے کے بعد لڑکی سے کہا تو وہ اٹھ کر اس کے ساتھ چلنے لگی۔۔۔ “یہ کپڑے لے لو فریش ہو جاؤ۔۔۔ تمہیں آرام کی ضرورت ہوگی۔۔۔” رائمہ نے اسے اپنے کمرے میں سلا لیا، صبح اس کے لیے کمرہ صاف کروا دوں گی۔۔۔ رائمہ نے اپنا سوٹ نکال کر اسے دیا تھا، لڑکی کے کپڑوں کی حالت بہت خراب تھی وہ دھول مٹی سے اٹی پڑی تھی۔ اس نے رائمہ کے ہاتھ سے سوٹ لیا اور واش روم چلی گئی، کچھ دیر بعد فریش ہو کر باہر نکلی تو رائمہ نے اسے دیکھا، دھول مٹی کے ہٹنے کے بعد وہ ایک خوبصورت لڑکی لگ رہی تھی۔
وہ ٹاول سے بال خشک کرنے کے بعد بیڈ کی دوسری طرف آکر بیٹھی۔۔۔
“یہ آپ کا اور آپ کے ہسبینڈ کا روم ہے؟” لڑکی نے کمرے کا جائزہ لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔
“جی۔۔۔” رائمہ نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔
“یہ میرے ہسبینڈ ہیں۔۔۔” رائمہ نے سائیڈ ٹیبل پر پڑی اپنی اور عباد کی تصویر کا فریم اٹھا کر اسے دکھایا۔۔۔ اس نے ہلکا سا مسکراتے ہوئے فریم پکڑا لیکن تصویر میں موجود شخص کو دیکھتے ہی اس کے جسم میں خوف کی لہریں دوڑنے لگی تھیں۔۔۔
“کیا ہوا آپ ٹھیک ہیں؟” رائمہ نے اسے کانپتے دیکھ کر پوچھا۔۔۔ “عباد۔۔۔” بے ساختہ اس کے منہ سے نکلا، آنکھوں میں پھر سے وہی خوف تھا۔
“تم کیسے جانتی ہو انہیں؟” رائمہ نے حیرت اور پریشانی کے ملے جلے لہجے میں پوچھا۔
“ی۔۔ یہی وہ شخص ہے ج۔۔ جس نے مجھے کڈنیپ کیا تھا۔۔۔ پورے پانچ سال۔۔۔ پانچ سال اس نے مجھے اپنی ہوس کا نشانہ بنائے رکھا تھا۔۔۔ پھر باہر کے کسی ملک میں بیچ دیا۔۔۔ اس نے پورا گینگ بنا لیا ہے، بہت سی لڑکیوں کو کڈنیپ کر کے بیچ چکا ہے۔ یہ شخص۔۔۔ یہ انسان نہیں درندہ ہے۔۔۔” اس نے منہ پہ ہاتھ رکھ کر تصویر کو جھٹکے سے زمین پر پھینکا تھا، رائمہ مورت کی مانند مجسم ہو گئی تھی، جسم میں جیسے سوئیاں چبھنے لگی تھیں۔۔۔
آج اسے سمجھ آرہا تھا اس گروہ نے اسے اغوا کرنے کے بعد کیوں چھوڑا تھا، یقیناً عباد کو معلوم ہو گیا تھا کہ اس کے گروہ نے اسے اغوا کر لیا ہے، تبھی اس دن ایک آدمی نے اسے چھوڑنے کو کہا تھا اور وہیں سڑک پر اسے عباد ملا تھا۔۔۔
تو ابھی ایک اور وار باقی تھا جو اس کے دل پہ ہو چکا تھا۔ کندھوں کو ڈھیلا چھوڑتے ہوئے وہ ابھی بھی مجسم بنی بیٹھی تھی۔۔۔
“رائمہ۔۔۔”
وہ زمین پر بیٹھا سر دونوں ہاتھوں میں پکڑے ہوئے تھا جب سلاخوں کے پار کسی کے قدموں کو محسوس کرتے ہوئے سر اٹھا کر دیکھا تو تیزی سے سلاخوں کی طرف لپکا۔۔۔
“تم آگئی۔۔۔ میں جانتا تھا ت۔۔ تم میرا ساتھ نہیں چھوڑو گی، تم نے مجھ سے وعدہ جو کیا تھا، آئی لو یو رائمہ بہت محبت کرتا ہوں میں تم سے۔۔۔” اس نے سلاخوں سے ہاتھ باہر نکال کر رائمہ کے گال پر رکھا۔ اس کی آنکھوں میں رائمہ کے لیے ڈھیر سی محبت اور تڑپ دکھائی دے رہی تھی۔
“دولت حاصل کرنے کے بعد ردا کو پرپوز کیا تھا کیا؟” رائمہ مجسم بنی اسے دیکھ رہی تھی، اس کے سوال پر عباد کے چہرے کا رنگ فق ہو گیا تھا۔۔۔
“ن۔۔ نہیں۔۔۔” عباد نے نظریں جھکاتے ہوئے کہا۔ “جھوٹ۔۔۔”
“پانچ سال اس لڑکی کی عزت کے ساتھ کھیلے۔۔۔ کیوں عباد۔۔۔ اتنے گرے ہوئے نکلے تم۔۔۔ پھر بھی اسے نہیں چھوڑا اور آؤٹ آف کنٹری بیچ دیا۔۔۔” رائمہ نے ضبط سے اسے دیکھا تھا، آنکھیں بھرنے لگی تھیں۔۔۔
“ن۔۔ نہیں کیا کہہ رہی ہو، میں ایسا کیسے کر سکتا ہوں۔۔۔” عباد نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے اپنی سچائی کا یقین دلانا چاہا۔۔۔
“بس عباد۔۔۔ مجھے اغوا کرنے والا بھی تو تمہارا اپنا ہی بنایا گروہ تھا، اگر میں ماہی کی دوست نہ ہوتی تو آج جانے کہاں اور کس حال میں ہوتی۔۔۔ آپ نے مجھے اسی لیے وہاں سے نکلوا لیا تھا کیونکہ میں ماہی کی دوست تھی۔۔۔” اس نے تکلیف سے لب بھینچے۔۔۔
“نہیں رائمہ جھوٹ ہے یہ۔۔۔” عباد نے بالوں میں پاگلوں کی طرح ہاتھ پھیرا۔۔۔
“جھوٹ نہیں ہے یہ۔۔۔ سچ ہے۔۔۔ بتاؤ مجھے کیوں شروع کیا یہ کھیل؟ کیوں اتنی لڑکیوں کی زندگی کو کھلونا بنایا؟ مجھے جواب چاہیے عباد۔” عباد نے نظریں اٹھائے رائمہ کو دیکھا، جھوٹ بولنے کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہی تھی وہ اس کا یہ گھناؤنا سچ بھی جان چکی تھی۔۔۔
“ردا جھوٹی نکلی تھی۔۔۔ جھوٹ بولا تھا اس نے مجھ سے کہ اگر میں امیر ہو گیا تو میرا پرپوزل ایکسیپٹ کرے گی۔۔۔” عباد نے سلاخوں کو دونوں ہاتھوں میں سختی سے پکڑتے ہوئے دانت پیستے ہوئے کہا۔ “میں نے اس کی خاطر تین لوگوں کی جان لی اور وہ۔۔۔ وہ کسی اور کے ساتھ گل چھرے اڑا رہی تھی اور اتنی آسانی سے مجھے کہہ دیا کہ میں نے تو مذاق کیا تھا۔۔۔ کیسے برداشت کر لیتا میں، کیسے۔۔۔ جس کی خاطر اتنا سب کچھ کیا تھا میں نے۔۔۔”
اس کی آنکھوں میں موجود جنونیت وہ دیکھ رہی تھی، آج اسے عباد واقعی انسان نہیں ایک درندہ لگ رہا تھا۔۔۔
“پھر میں نے اسے اغوا کر کے اسے اس کی اوقات یاد دلائی۔۔۔”
“جب اپنے دل کی بھڑاس نکال ہی لی تھی تو بیچا کیوں اسے؟” رائمہ نے خود کو چلانے سے قابو میں رکھا تھا۔۔۔
“پیسوں کی خاطر۔۔۔ بہت پیسے ملے تھے۔۔۔ بہت۔۔۔ پھر میں نے سوچا ایک لڑکی کے اتنے پیسے ملے ہیں اگر بہت سی لڑکیاں ہوں تو پھر کتنے پیسے ملیں گے۔۔۔” اس کی آنکھوں میں ہوس چمک اٹھی تھی، رائمہ نے لب بھینچے اس وقت وہ اسے نہایت غلیظ لگ رہا تھا۔۔۔
“تم سے شادی شاید میرے کسی گناہ کی سزا تھی لیکن میں تم جیسے درندے کی حقیقت جاننے کے بعد تمہارے ساتھ نہیں رہ سکتی۔۔۔”
“نہیں رائمہ تم ایسا نہیں کر سکتی تم مجھ سے محبت کرتی ہو اور میں نے بھی تم سے سچی محبت کی ہے میرا یقین کرو۔ ماہی سے بھی محبت نہیں کی تھی وہ تو اس کی دولت کی خاطر ڈرامہ تھا لیکن تم سے بہت محبت کرتا ہوں، پلیز مجھے مت چھوڑو۔۔۔” اس نے روتے ہوئے سلاخوں سے سر لگایا۔۔۔
“دولت دولت دولت۔۔۔۔ تم جیسے دولت پرست اور لالچی انسان کی سزا صرف موت ہونی چاہیے۔۔۔ مجھے تو افسوس ہے کہ میرے پیٹ میں تمہارا بچہ پل رہا ہے۔۔۔” اس نے غصے سے چلاتے ہوئے کہا۔ عباد جو سلاخوں پر سر لگائے ہوئے تھا، بچے کا نام سن کر تیزی سے سر اٹھا کر رائمہ کی طرف دیکھا۔۔۔ “بچہ؟ میرا بچہ؟” عباد کے منہ سے بمشکل لفظ ادا ہوئے تھے۔
“ہاں تمہارا بچہ۔۔۔ دو دن بعد تمہیں پھانسی ہو جائے گی، میں اپنے بچے کو کبھی نہیں بتاؤں گی کہ اس کا باپ ایک درندہ تھا۔۔۔” رائمہ نے لفظوں کو چباتے ہوئے کہا، اس کی ہمت اس کی آنکھوں سے واضح ہو رہی تھی۔۔۔ “جا رہی ہوں میں۔۔۔”
“رائمہ نہیں جاؤ پلیز۔۔۔ مجھے یہاں سے نکلوا لو رائمہ، مجھے میرا بچہ چاہیے رائمہ۔۔۔ مجھے میرے بچے کے ساتھ جینا ہے میں مرنا نہیں چاہتا۔۔۔” وہ بہت دور آچکی تھی عباد کی آواز اسے ابھی تک سنائی دے رہی تھی وہ چیخ رہا تھا، چلا رہا تھا۔۔۔
انسپکٹر کو اس نے کڈنیپر گینگ کے بارے میں بتا دیا تھا اور اب انہیں عباد سے ساری معلومات نکلوا کر وہاں سے لڑکیوں کو نکالنا تھا اور اس گروہ کا نام و نشان ختم کرنا تھا۔۔۔
پانچ ماہ بعد۔۔۔
“میں کیسے اس سے نکاح کر لوں ارہان۔۔۔” ولید نے حیرت سے اپنے سامنے موجود ارہان اور ماہی کو دیکھا۔۔۔
“کیوں بھائی کیوں نہیں کر سکتے؟ آپ اس بچے کو باپ کا نام دے دیں گے، وہ کبھی بھی باپ کے سائے سے محروم نہیں رہے گا اور آپ نے ویسے بھی تو شادی کرنی ہی تھی آخر ساری عمر ایسے ہی تو نہیں رہنا۔۔۔” ارہان اسے منانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔
“لیکن ارہان۔۔۔” ولید نے پریشانی سے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔ “مجھے معلوم ہے آپ نیلم بھابھی کو ابھی تک نہیں بھلا سکے اور رائمہ کے ساتھ یوں سمجھ لیجیے کہ آپ نے جو کیا یہ اس کا ازالہ ہے۔ ایک بیوہ عورت سے نکاح کرنے کا اسلام میں زیادہ ثواب بتایا گیا ہے اور آپ تو اس کے ساتھ ایک یتیم بچے کو اپنا نام بھی دیں گے۔ بھائی رائمہ سے نکاح کر لیجیے وہ بھی بہت ڈپریشن کا شکار ہو چکی ہے، اس کی زندگی میں آپ جیسا شخص آگیا تو اس کی زندگی سنور جائے گی، مجھ سے اسے اس حال میں نہیں دیکھا جاتا۔۔۔” ماہی نے افسوس سے ولید کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ولید نے کچھ دیر سوچنے کے بعد اثبات میں سر ہلایا تو ارہان اور ماہی کے چہرے پہ خوشی کی لہر دوڑ گئی۔۔۔ “تھینک یو سو مچ ولید بھائی۔۔۔” ماہی نے خوشی سے کہا، ارہان اٹھ کر ولید کے بغل گیر ہوا تھا۔۔۔
“ہم کل ہی نکاح کی سنت پوری کریں گے۔۔۔” ارہان نے کہا تو ولید نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
“ارہان چلو مجھے شاپنگ پہ لے چلو بہت سی تیاریاں کرنی ہیں آج۔۔۔” ماہی نے پر جوش لہجے میں کہا تو ارہان اور وہ لاؤنج کے دروازے کی طرف بڑھے۔۔۔ سہانا پانی کا پائپ پکڑے شازل پہ پانی اچھال رہی تھی وہ مکمل بھیگ چکا تھا، وہ جیسے ہی سہانا کی طرف بڑھا اس نے پائپ پھینکتے ہوئے دوڑ لگائی۔۔۔
ماہی اور ارہان نے انہیں دیکھ کر بے ساختہ قہقہہ لگایا۔۔۔ سہانا شازل کی ارہان کے ساتھ بھائیوں والی محبت دیکھ کر اسے معاف کر چکی تھی، پھر اسے یہ بھی سمجھ آچکا تھا کہ وہ واقعی اللہ کی مصلحت تھی، اللہ نے دونوں بھائیوں کو پھر سے ایک کرنا تھا۔۔۔
ماہی نے گاڑی میں میوزک لگا رکھا تھا وہ خوشی سے میوزک کے ساتھ جھوم رہی تھی جب اس نے سڑک پر موجود ایک آدمی کو دیکھا۔۔۔ “ارہان ارہان!” اس نے جلدی سے میوزک بند کیا۔۔۔
“ہاں ہاں کیا ہو گیا؟” ارہان نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔ “وہ دیکھو وہی آدمی جس کے بازو پہ تم نے شوٹ کیا تھا، اف بیچارہ کتنا تڑپا تھا مجھے آج بھی سوچ کر بہت ڈر لگتا ہے آپ سے۔۔۔”
ماہی نے لب بھینچتے ہوئے کہا جبکہ ارہان نے لب دانتوں تلے دباتے ہوئے اس آدمی کے پاس گاڑی کھڑی کی۔۔۔ “کیسے ہیں چاچا؟” ارہان نے گاڑی کا شیشہ نیچے کرتے ہوئے نہایت خوش اخلاقی سے پوچھا۔
“اللہ کا شکر ہے صاحب جی، آج غریب کو کیسے یاد کر لیا؟” اس آدمی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا تو ماہی کا منہ پورا کا پورا کھلا رہ گیا تھا۔۔۔
“بس آپ کو دیکھا تو سوچا حال احوال پوچھ لوں، چلیں اب میں چلتا ہوں۔۔۔” “ٹھیک ہے صاحب جی اللہ خوش رکھے آپ کو۔۔۔” آدمی نے مسکراتے ہوئے جواب دیا۔
ماہی کا کھلا منہ دیکھ کر ارہان نے قہقہہ لگایا۔۔۔ “ارہان۔۔۔” ماہی نے حیرت سے اسے پکارا۔
“وہ گن بھی نقلی تھی وہ سب تو ڈرامہ تھا تمہیں ڈرانے کے لیے، اصل میں تو وہ خون بھی۔۔۔” ارہان نے ماہی کو آنکھ مارتے ہوئے کہا، ماہی چیختے ہوئے اس کے کندھوں پر مکوں کی برسات کرنے لگی تھی، ارہان کے قہقہے گاڑی میں گونج رہے تھے۔۔۔۔
ختم شد
