Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 08)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 08)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
رائمہ آج یونیورسٹی میں اکیلی تھی اس نے ماہی کو کال کر کے پوچھا بھی نہیں تھا کہ کیا وجہ ہے جو وہ یونی نہیں آئی،،،
اس کی آنکھوں کے سامنے کل رات والا منظر گردش کر رہا تھا جب عباد ماہی کا ہاتھ چوم رہا تھا۔۔۔
رائمہ نے پریشانی سے دونوں ہاتھوں سے اپنے سر کو تھام لیا یہ جو کچھ بھی ہو رہا تھا اس کی سمجھ اور قابو سے باہر تھا،،،
اور کل رات جو ماہی کے کمرے میں اس کے اور عباد کے درمیان ہوا تھا وہ اور بھی زیادہ اس کے بارے میں سوچنے لگی تھی،،،
تمام لیکچرز لینے کے بعد وہ گھر جانے کے لیے یونیورسٹی سے نکلی کہ اپنے سامنے عباد کو کھڑے دیکھ کر حیران ہوئی۔۔۔
آپ یہاں۔۔۔؟؟؟ لیکن ماہی تو آج یونی نہیں آئی۔۔۔
رائمہ نے ساتھ ہی وضاحت پیش کی۔۔۔
مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے گاڑی میں بیٹھو یہاں بہت بھیڑ ہے۔۔۔
عباد کے تاثرات دیکھ کر رائمہ جو اتنا تو معلوم ہو گیا تھا کہ ضرور کوئی اہم بات ہے اس نے عباد کو آج پہلی بار اتنا پریشان دیکھا تھا۔۔۔
وہ خاموشی سے اس کے ساتھ گاڑی میں بیٹھنے کے لیے آگے بڑھی۔۔۔
کیا ہوا ہے آپ پریشان دکھائی دے رہے ہیں خیر تو ہے۔۔۔۔
گاڑی میں بیٹھنے کے بعد رائمہ نے پوچھا۔۔۔
رائمہ تمہیں ماہی نے بتایا ہے کہ وہ آج یونی کیوں نہیں آئی یا پھر اس نے صبح سے اب تک کوئی بھی رابطہ کیا ہے کیا۔۔۔؟؟؟
پریشان نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے سوال کیا۔۔۔
نہیں ماہی کا صبح سے ہی مجھ سے کوئی رابطہ نہیں ہوا لیکن آپ اتنے پریشان کیوں ہیں خیر تو ہے۔۔۔
ماہی لاپتہ ہے۔۔۔ عباد نے لمبی سانس خارج کرتے ہوئے کہا
کیا۔۔۔؟؟؟
یہ۔۔۔ کیا کہہ رہے ہیں آپ۔۔۔ ماہی لاپتہ ہے۔۔۔؟؟؟
رائمہ کو اپنی سماعت پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔
کل انکل کی طبیعت بہت بگڑ گئی تھی اور انہیں ہاسپٹل ایڈمٹ کر لیا گیا اسی لیے ماہی کل رات ماما کے ساتھ میرے گھر گئی تھی لیکن صبح جب ماما اسے اٹھانے کے لیے گئیں تو وہ اپنے کمرے میں نہیں تھی۔۔۔
رائمہ آنکھیں پھاڑے عباد کی باتوں کو سن رہی تھی۔۔۔
ل۔۔لیکن ماہی ایسے کیسے کہیں جا سکتی ہے۔۔۔
لڑکھڑاتی زبان کے ساتھ رائمہ نے کہا۔۔۔
اس کا موبائل بھی گھر ہے اور دوپہر ہو گئی ہے اس کا کوئی اتہ پتہ نہیں ایک ہی امید تھی میرے پاس کہ شاید وہ تمہارے ساتھ ہو لیکن یہ امید بھی ٹوٹ گئی۔۔۔۔
اوہ خدایا مجھے اپنی سماعت پہ یقین نہیں آرہا ہے ماہی ایسے کہیں نہیں جا سکتی وہ تو اپنی ہر بات مجھ سے شیئر کرتی ہے وہ بھلا ایسا کیسے کر سکتی ہے۔۔۔
ہاں وہ کہیں نہیں جا سکتی میں بھی اسے جانتا ہوں وہ ایسی لڑکی نہیں ہے ضرور کوئی مسئلہ ہے۔۔۔
عباد نے کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
مسئلہ لیکن کیا۔۔۔ رائمہ نے پوچھا۔۔۔
یہی پتہ لگانا ہے خیر تمہیں میں تمہارے گھر ڈراپ کر دیتا ہوں پھر مجھے پولیس سٹیشن جانا ہو گا۔۔۔
پولیس سٹیشن۔۔۔؟؟؟
رائمہ نے حیرت سے اس کی بات کو دوہرایا۔۔۔
ہاں ماہی کے لاپتہ ہونے کی رپورٹ لکھوانی ہے آخر ایسے ہاتھ پہ ہاتھ دھر کر تو نہیں بیٹھ سکتے ہم۔۔۔
ٹھیک ہے آپ جائیں میں رکشہ کروا لیتی ہوں اور دعا کروں گی کہ ماہی مل جائے اللہ سب بہتر کرے گا۔۔۔
رائمہ پریشان لہجے سے کہا۔۔۔
نہیں تم بیٹھو میں تمہیں گھر ڈراپ کر دیتا ہوں پہلے ہی ماہی لاپتہ ہے آج کل واقعات بہت ہو رہے ہیں لڑکیوں کے ساتھ۔۔۔
اس نے گاڑی سٹارٹ کرتے ہوئے کہا۔۔۔
کیسے واقعات۔۔۔ رائمہ نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
نیوز نہیں دیکھتی تم۔۔۔؟؟؟
رائمہ نے نفی میں سر ہلایا۔۔۔۔
آئے دن کوئی نہ کوئی لڑکی کڈنیپ ہوتی ہے ملک کا ماحول بگڑتا جا رہا ہے تم بھی گھر سے اکیلی بار نہ نکلا کرو برے وقت کا پتہ نہیں ہوتا۔۔۔
وہ اسٹیئرنگ پہ ہاتھ گھماتا پریشان لہجے سے اسے ہدایات دے رہا تھا۔۔۔
ک۔۔کیا ماہی بھی۔۔۔؟؟؟
رائمہ نے حلق تر کرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ماہی بنا بتائے خود کہیں نہیں جا سکتی وہ بچی تھوڑی ہے ویسے بھی انکل آنٹی نے اس کی تربیت ایسی نہیں کی کہ وہ بنا پرمیشن یوں کہیں چلی جائے اور کسی کو بتائے بھی نہ وہ ضرور کڈنیپ ہوئی ہے۔۔۔۔
یا اللہ میری دوست کی حفاظت کرنا وہ جہاں بھی ہو اسے اپنی حفظ و امان میں رکھنا۔۔۔
رائمہ ہاتھ جوڑتی ہوئی آنکھیں بند کر کے ماہی کے لیے دعا کرنے لگی۔۔۔
رائمہ یہ میرا موبائل لو اس میں اپنا نمبر سیو کر دو مجھے کسی بھی وقت تم سے بات کرنے کی ضرورت پڑ سکتی ہے۔۔۔
اس نے رائمہ کی طرف اپنا موبائل بڑھایا۔۔۔
جی ٹھیک ہے۔۔۔
رائمہ نے اس کا موبائل پکڑ اپنا نمبر سیو کیا۔۔۔
اپنے موبائل پر مسڈ کال کر لو اس طرح سے میرا نمبر بھی آجائے گا تمہاری طرف۔۔۔
اسٹیرنگ پر ہاتھ گھماتے ہوئے وہ سنجیدگی سے کہہ رہا تھا۔۔۔
رائمہ نے ویسا ہی کیا جیسا عباد نے کہا اب وہ اس کا موبائل اسے واپس کر چکی تھی۔۔۔



دیکھیں بھائی اس لڑکے نے مجھ پر تشدد کیا ہے یہ دیکھیں۔۔۔
ماہی ولید کو اپنی گردن دکھانے لگی جہاں اس کی انگلیوں کی چھاپ موجود تھی۔۔۔
ولید نے حیرت سے ارہان کی طرف دیکھا جیسے پوچھ رہا ہو کیا یہ سچ ہے۔۔۔؟؟؟
بھائی آپ نہیں جانتے اسے یہ کتنی چالاک لڑکی ہے چلو اندر ابھی۔۔۔
ارہان نے سختی سے اس کا بازو پکڑا۔۔۔
چھوڑو مجھے وحشی انسان ہو تم مجھے نہیں جانا کہی مجھے اپنے گھر جانا ہے۔۔۔
ماہی اس سے اپنا بازو چھڑوانے لگی۔۔۔
اوہ اچھا تمہیں چھوڑ دوں۔۔۔؟؟؟ جتنی تم چالاک ہو تم میرا سکیچ بنوا کر رہو گی۔۔۔۔
ارہان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
ارے بھائی آپ میری مدد کریں ورنہ یہ وحشی مجھے مار ہی ڈالے گا۔۔۔
ماہی نے شازل سے کہا جو پلر کے ساتھ ٹیک لگائے یہ منظر بہت شوق سے دیکھ رہا تھا۔۔۔
ارہان چھوڑ دو اسے۔۔۔
ولید کی آواز پر ارہان اس کی طرف متوجہ ہوا۔۔۔
یہ بھاگ جائے گی اسے باندھ کے رکھنا ہو گا۔۔۔
ارہان نے فوراً جواب دیا۔۔۔
کیا مطلب ہے تمہارا میں کوئی گائے بھینس ہوں جو مجھے باندھ کے رکھنا ہو گا۔۔۔
ماہی نے اس کی انگلیوں میں اپنے ناخن پیوست کرتے ہوئے غصے سے کہا۔۔۔
ان سے کم بھی نہیں ہو۔۔۔ ارہان نے تکلیف پر ضبط کیا لیکن اس کا بازو نہیں چھوڑا۔۔۔
ولید بھائی اس لڑکی سے میں بات کر لیتی ہوں اسے سمجھا دوں گی کہ یہ پولیس کو نہ بتائے ہمارے بارے میں لیکن پھر اسے آپ جانے دینا۔۔۔۔
سہانا نے ولید سے کہا اسے خدشہ ہونے لگا تھا یہ لڑکی یہاں زیادہ دن رہی تو ضرور ارہان کے ساتھ کوئی چاند چڑھائے گی۔۔۔
شکریہ بہنا تم جو بھی کہو گی میں مانو گی لیکن مجھے بس یہاں سے نکلوا دو میرے گھر والے پریشان ہو رہے ہوں گے۔۔۔
ماہی نے اپنا الو سیدھا کرنے کے لیے فوراً ہامی بھری۔۔۔
بلکل نہیں یہ یہیں رہے گی جب تک اس کی عقل ٹھکانے نہیں لگ جاتی یہ یہاں سے کہیں نہیں جائے گی۔۔۔
ارہان نے طیش بھری نظروں سے سہانا کو دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
شازل بھی دل ہی دل میں خوش ہوا کہ چلو اچھا ہے وہ لڑکی یہاں رہی تو ارہان کا سہانا کے ساتھ آمنا سامنا کم ہی ہو گا۔۔۔
ارہان ٹھیک کہہ رہا ہے ارہان تم اسے لے کر جاؤ سٹور روم میں۔۔۔
ولید اپنی بات کہہ کر آگے بڑھا۔۔۔
ارے ایسے کیسے پورا کا پورا آوا ہی بگڑا ہوا ہے بھئی مجھے گھر جانا ہے کوئی سن رہا ہے۔۔۔۔
ماہی حلق کے بل چلانے لگی۔۔۔
نہیں کوئی نہیں سن رہا تمہاری۔۔۔
ارہان اسے زبردستی اپنے ساتھ گھسیٹتا ہوا سٹور روم کی طرف لے جانے لگا۔۔۔
میں اس کباڑ میں نہیں رہوں گی آئی سمجھ تمہیں۔۔۔
ارہان نے ماہی کو سٹور روم میں دھکا دیا۔۔۔
رہنا تو تمہیں یہیں ہو گا اور جو تم نے آج میرے ساتھ حرکت کی ہے اس کی سزا کے لیے بھی تیار رہنا۔۔۔
وہ اسے انگلی دکھاتے ہوئے وارن کرنے لگا۔۔۔
ہونہہ تیار رہنا۔۔۔ ماہی نے منہ چڑاتے ہوئے اس کی بات دہرائی۔۔۔
ناشتہ لا رہا ہوں کرنا ہوا تو کر لینا ورنہ تمہاری مرضی ہے۔۔۔
آرام سے کہتے ہوئے اس نے باہر سے لاک لگایا۔۔۔
اس کی تو میں۔۔۔۔ آہ۔۔۔ چھوڑوں گی نہیں تمہیں میں۔۔۔۔
کس کباڑ میں بند کر دیا ہے اے۔سی بھی نہیں ہے یہاں کتنی گھٹن ہو رہی ہے۔۔۔
رونے کے انداز میں منہ کا زاویہ بگاڑتے ہوئے وہ خود کلامی کر رہی تھی۔۔۔
کچھ ہی دیر میں لاک کھلنے کی آواز آئی ارہان ہاتھ میں ٹرے لیے اندر داخل ہوا۔۔۔
یہ لو ناشتہ کرو۔۔۔
طنز سے کہتے ہوئے چھوٹی سی میز پر ٹرے رکھی۔۔۔
مجھے نہیں ضرورت ناشتے کی مجھ میں ابھی بھی بہت ہمت باقی ہے اور اس کا ڈیمو تو میں تمہیں دے بھی چکی ہوں۔۔۔
معنی خیز سی بات کرتی ہوئی وہ ارہان کو ڈنڈے والی بات یاد دلا چکی تھی۔۔۔
اوکے میں ناشتہ واپس لے جاتا ہوں ویسے بھی تم میں ابھی بھی بہت ہمت باقی ہے۔۔۔
وہ ٹرے اٹھاتا ہوا باہر نکل گیا جبکہ ماہی منہ کھولے اس کی اس حرکت پر اسے گھور رہی تھی۔۔۔
بھوک تو واقعی اسے لگی تھی کل رات اپنے پاپا کے ہاسپٹل ایڈمٹ ہونے کی پریشانی میں اس نے بمشکل چند نوالے ہی کھائے تھے۔۔۔
بدتمیز وحشی انسان پتہ نہیں ہے اسے کہ لڑکیوں کے ساتھ کس طرح ٹریٹ کیا جاتا ہے۔۔۔
غصے سے پھنکارنے کے بعد بستر پر بیٹھی اور آس پاس کا جائزہ لینے لگی۔۔۔
پاپا۔۔۔ رونے کے انداز میں پکارا



کہاں ہے ماہی کچھ پتہ چلا کیا۔۔۔۔
نصار صاحب کو جیسے ہی معلوم ہوا جلدی سے عباد کے پاس آئے۔۔۔
پاپا ماہی کا کوئی اتہ پتہ نہیں ہے میرے ساتھ چلیے پولیس سٹیشن جانا ہے اس کی گمشدگی کی رپورٹ درج کروانے۔۔۔
کیا۔۔۔ کیا واقعی ماہی۔۔۔ نہیں نہیں کہیں پتہ کرو اس کی دوستوں کی طرف وہ وہاں ہو گی شاید۔۔۔
پاپا وہ کہیں بھی نہیں ہے اس کی صرف ایک ہی دوست ہے بقول اس کے ماہی نے صبح سے اس سے کوئی رابطہ نہیں کیا۔۔۔
عباد ہم نصار کو کیا جواب دیں گے کہ ماہی کہاں ہے وہ ہوش میں آچکے ہیں۔۔۔
پاپا پلیز ابھی انکل کو کچھ نہیں بتانا ہو سکتا ہے کہ ماہی ہمیں آج شام یا رات تک مل جائے انکل کی پہلے ہی طبیعت اتنی خراب ہے یہ بات معلوم ہوئی تو مزید بگڑ جائے گی۔۔۔
کہہ تو تم ٹھیک رہے ہو میں آپا سے بھی کہہ دوں گا کہ بھائی کو ابھی کچھ نہ بتائے۔۔۔
ٹھیک ہے ابھی بس آپ چلیں پولیس سٹیشن ہمیں زیادہ دیر نہیں کرنی ہے۔۔۔
ہممم چلو۔۔۔ کچھ سوچنے کے بعد نصار صاحب نے جواب دیا۔۔۔



نہ جانے ماہی کہاں چلی گئی ہے شمیم تم میری بیٹی کا خیال بھی نہیں رکھ سکی۔۔۔
سفینہ بیگم اپنی بہن کے سامنے بیٹھی رو رہی تھی۔۔۔
آپا مجھے معاف کر دو لیکن یقین مانو میں نے کوئی لاپرواہی نہیں برتی رات کو وہ اپنے کمرے میں گئی تھی سونے کے لیے اس کے بعد مجھے نہیں معلوم کہ کیا ہوا۔۔۔
وہ سفینہ بیگم کو صفائی پیش کر رہی تھی جب عباد گھر میں داخل ہوا۔۔۔
عباد کیا ہوا ماہی کا پتہ چلا کیا۔۔۔
سفینہ بیگم اس کی طرف لپکیں۔۔۔
نہیں آنٹی اس کا ابھی کوئی پتہ نہیں چلا لیکن بہت جلد ان شاءاللہ وہ مل جائے گی۔۔۔۔
اس نے شرمندگی سے نظریں جھکا لیں۔۔۔
نہ جانے کہاں چلی گئی میری بچی۔۔۔
سفینہ بیگم پھر سے رونے لگیں تھیں اور عباد اس کمرے کی طرف بڑھ گیا جہاں کل رات ماہی سونے کے لیے گئی تھی۔۔۔
کمرے میں آکر اس نے سبھی چیزوں کو غور سے دیکھا اسے کچھ بھی عجیب نہیں لگا۔۔۔
ماہی بنا بتائے گھر سے تو خود باہر جا نہیں سکتی تھی پھر ایسا کیا ہوا کہ وہ یوں اچانک غائب ہو گئی۔۔۔
پریشانی سے اس نے اپنے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔
ماہی تم جہاں کہیں بھی ہو پلیز لوٹ آؤ میں تمہاری جدائی برداشت نہیں کر سکتا۔۔۔
بستر پڑ بیٹھتے ہوئے اس نے چہرے پہ ہاتھ رکھا۔۔۔



بھوک لگی ہے مجھے یہاں کھانا دینے کا رواج ہے کہ نہیں۔۔۔
ساری اکڑ کو ایک طرف رکھتے ہوئے بھوک کے مارے جب پیٹ میں چوہے رقص کرنے لگے تو رات کے آٹھ بجے وہ دروازہ پیٹنے لگی تھی۔۔۔
بس اتنا نخرہ تھا میڈم کا۔۔۔
ارہان جو لاؤنج سے گزر رہا تھا اس نے ماہی کی آواز سنی تو طنزیہ ہنسی ہنسا۔۔۔
سہانا ٹرے میں کھانا رکھو۔۔۔
سہانا جو لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھنے میں مصروف تھی اس کی بات پر چونکی۔۔۔
گہری نظروں سے ارہان کو دیکھتے ہوئے وہ یہ سوچ رہی تھی کہ کیا یہ وہی ارہان ہے جس نے بذاتِ خود کبھی سہانا کو مخاطب کرنا بھی گوارہ نہیں سمجھا تھا۔۔۔
میں دے دیتی ہوں اسے کھانا تم لڑکیوں کے کام کب سے کرنے لگے۔۔۔
طنز سے کہا گیا۔۔۔
ارہان نے تیوری چڑھاتے ہوئے اسے گھورا۔۔۔
جو کہا ہے اتنا کرو۔۔۔
سہانا پاؤں پٹختی ہوئی کچن کی طرف بڑھ گئی۔۔۔۔
کوئی سن رہا ہے کہ نہیں۔۔۔
اب تو اس کے حلق سے آواز بھی بمشکل نکل رہی تھی۔۔۔
ارہان کھانا لیے اندر داخل ہوا۔۔۔
کیا کہہ رہی تھی یہاں کھانے کا رواج ہے بھی کہ نہیں۔۔۔
ارہان نے طنزیہ پوچھا۔۔۔
یہ ہر بار تم ہی کیوں آجاتے ہو منہ اٹھا کے گھر میں اور بھی لوگ ہیں کبھی انہیں بھی بھیج دیا کرو۔۔۔
ہوا میں ہاتھ چلاتے ہوئے تڑخ لہجے میں بولی۔۔۔
ان کے پاس اور کام بہت ہیں میں تو فارغ ہی ہوتا ہوں سوچا تمہارے ساتھ گپ شپ لگا لیا کروں۔۔۔
کرسی کھینچ کر وہ چھوٹے سے میز کے پاس بیٹھا جہاں کھانے کی ٹرے رکھی تھی۔۔۔
ہممم تمہیں دیکھ کر لگتا بھی ہے کہ تم سے زیادہ فارغ انسان دنیا میں نہیں ہو گا۔۔۔۔
صحیح سوچا۔۔۔
یہ کہتے ہوئے ارہان نے لقمہ توڑ کر منہ میں رکھا۔۔۔۔
ماہی منہ کھولے اسے دیکھنے لگی کیا وہ یہ کھانا اپنے لیے لایا تھا اور جان بوجھ کر اس کے سامنے بیٹھا کھا رہا تھا۔۔۔
تم میں زرا بھی انسانیت نام کی چیز ہے یا نہیں میں کل رات سے بھوکی ہوں اور تم میرے سامنے بیٹھ کر کھانا کھانے لگ گئے ہو۔۔۔
غصے سے اسے گھورتے ہوئے بولی۔۔۔
میں نے سوچا تم میں بہت ہمت باقی ہے تو تمہیں کھانا کھانے کی کیا ضرورت ہے۔۔۔۔
اس کے سامنے بیٹھا وہ منہ میں نوالے پہ نوالہ رکھ رہا تھا۔۔۔
وحشی جانور کہیں کا دفع ہو جاؤ یہاں سے۔۔۔
اپنے سامنے اسے کھانا کھاتے دیکھ کر ماہی کو اور غصہ آرہا تھا۔۔۔
آدھا کھانا کھانے کے بعد وہ کھڑا ہوا۔۔۔
بھوک لگی ہو تو کھا لینا۔۔۔
ہاتھ مسلتا ہوا وہ سٹور روم سے باہر نکل گیا۔۔۔۔
ماہی آنکھیں پھاڑے اس کھانے کو دیکھ رہی تھی۔۔۔
تمہارا جوٹھا کھاتی ہے میری جوتی۔۔۔
ماہی کی تڑخ آواز ارہان کی سماعت میں پڑی۔۔۔۔
ماما جی۔۔۔ پیٹ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے بھوک سے نڈھال ہو رہی تھی۔۔۔
ایک نظر کھانے پہ پڑی پھر جلد ہی نظروں کا رخ بدلا۔۔۔
ہونہہ میں کیوں کھاؤں اس کا جوٹھا پتہ نہیں ہاتھ بھی دھو کہ آیا تھا یا نہیں۔۔۔
غصے سے کہتے ہوئے سر ایک طرف جھٹکا۔۔۔
لیکن پیٹ تھا کہ اسے بار بار کھانے کی طرف متوجہ کر رہا تھا۔۔۔
اللہ میں کہاں پھنس گئی پتہ نہیں کون لوگ مجھے اٹھا لائے ہیں ماہی اب تو یہاں سے کیسے نکلے گی کوئی پلین بنا۔۔۔
لیکن جب تک پیٹ میں کچھ نہ گیا دماغ میں پلین کیسے آئے گا۔۔۔
کھانے کی طرف دیکھتے ہوئے دل میں سوچا۔۔۔
لیکن یہ کھانا تو میں ہرگز نہیں کھاؤں گی۔۔۔
وہ زبردستی سونے کے لیے بستر پر لیٹ گئی۔۔۔
یا اللہ کیسے گھر میں پھنسا دیا کسی اور بندے کو فکر ہی نہیں ہے کہ میں نے کھانا کھایا ہے یا نہیں۔۔۔
پندرہ منٹ کروٹیں بدلنے کے بعد جب اس سے بھوک برداشت نہ ہوئی تو اٹھ کر بیٹھی۔۔۔
تمہیں تو میں لوہے کے چنے چبواؤں گی مسٹر ارہان۔۔۔
کھانے کی ٹرے اٹھاتے ہوئے اس نے غصے سے کہا۔۔۔
