Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 16)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

گاڑی سے نکل کر رائمہ نظریں گھماتی ہوئی گھر کا جائزہ لینے لگی یہ چھوٹا خوبصورت گھر تھا لیکن گرد زدہ ایسا کہ جیسے سالوں سے یہاں کوئی نہ آیا گیا ہو۔۔۔

عباد نے گھر کا اندرونی دروازہ کھولا رائمہ اس کے ساتھ گھر میں داخل ہوئی ڈیوڑھی کو دونوں اطراف مکڑیوں کے جال بنے ہوئے تھے اور فرش پر جیسے گز گز دھول جمی ہوئی تھی۔۔۔

یہ ہمارا پرانا گھر ہے پہلے یہاں ہی رہتے تھے۔۔۔

رائمہ جو زمین سے چھت تک کا جائزہ لے رہی تھی عباد کی آواز پر اس کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔

اچھا ہے۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرائی اور کہتی بھی کیا۔۔۔

سوچا تو نہیں تھا کہ یہاں بھی کبھی آنا پڑے گا اور آئے بھی اتنی جلدی میں کہ یہاں کی صفائی نہیں کروا سکا ویسے بھی یہاں ملازم رکھنے کی کبھی ضرورت نہیں پیش آئی۔۔۔

وہ ادھر ادھر دیکھتا ہوا اسے بتانے لگا جس پر رائمہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

یہاں تو بیٹھنے کے لیے بھی جگہ نہیں ہے میں ملازم کو کال کرتا ہوں کچھ دیر میں پہنچ جائے گا تا کہ یہاں کی اچھے سے صفائی کر دے۔۔۔

وہ جیب سے موبائل نکالتا ہوا اسے بتانے لگا۔۔۔

میں کر لوں گی۔۔۔ رائمہ نے بلا جھجک کہا

اتنا سارا کام ہے کیسے کرو گی تم تھک جاؤ گی۔۔۔

گھر میں سارا کام میں ہی کرتی تھی امی کی تو طبیعت ناساز ہی رہتی تھی اس لیے انہیں کبھی زیادہ کام نہیں کرنا دیا ویسے بھی یہ گھر زیادہ بڑا نہیں ہے تو میں آسانی سے کر سکتی ہوں۔۔۔

اس نے وضاحت پیش کی۔۔۔

اچھا پھر بھی میں تو کہتا ہوں ملازم کو بلا لیں تو بہتر ہے۔۔۔ عباد واقع ہی حیران ہو رہا تھا وہ مکان اتنے سالوں سے بند پڑا تھا اس کی حالت کافی خراب ہو چکی تھی۔۔۔

میں کر لوں گی نا آپ فکر مت کریں۔۔۔

چلو تمہیں لگتا ہے تو کر لو میں کچھ کام کے سلسلے میں باہر جا رہا ہوں دو گھنٹوں تک آجاؤں گا۔۔۔

ل۔۔لیکن آپ کہاں جا رہے ہیں۔۔۔ اس نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا۔۔۔

گروسری کے لیے جا رہا ہوں کافی چیزوں کی ضرورت ہے دو گھنٹے لگ جائیں گے۔۔۔

ٹھیک ہے آپ ۔۔۔جلدی آجائیے گا نئی جگہ ہے اور میں اکیلی ہوں گی۔۔۔ وہ ہاتھوں کی انگلیاں چٹخانے لگی۔۔۔

عباد نے ایک نظر اس کے گھبرائے ہوئے چہرے پر ڈالی پھر بولا۔۔۔

جلدی آجاؤں گا اور گھبرانے کی ضرورت نہیں ہے یہاں تم محفوظ ہو۔۔۔

ٹھیک ہے۔۔۔ رائمہ نے اثبات میں سر ہلایا

عباد باہر کی طرف نکل گیا جبکہ رائمہ نے دوپٹہ اتار کر اپنی کمر پر باندھا اب اس کا ارادہ پورے گھر کی صفائی کرنا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ولید بھائی کو بلا دو مجھے شاور لینا ہے۔۔۔

ارہان نے اپنے پاس بیٹھی ماہی سے کہا وہ ابھی نیند سے جاگا تھا۔۔۔

شاور وہ بھی اس حالت میں آپ کا زخم بھیگ گیا تو خراب ہو جائے گا۔۔۔ ماہی نے پریشانی سے کہا

ایک گھنٹہ بھی اور نہ نہایا تو میری حالت ضرور خراب ہو جائے گی۔۔۔ ارہان نے منہ بسورا

ٹھیک ہے میں بھائی کو بلا کر لاتی ہوں۔۔۔ وہ چپل پہنتے ہوئے کمرے سے باہر نکلی ایک دو منٹ کے بعد وہ ولید کے ساتھ کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔

کیا ہوا ارہان طبیعت تو ٹھیک ہے۔۔۔ ولید نے آگے بڑھتے ہوئے پریشانی سے پوچھا

جی بھائی ٹھیک ہے مجھے شاور لینا ہے پلیز میری ہیلپ کریں۔۔۔

ارہان ہرگز نہیں تم کیا چاہتے ہو تمہارے حالت مزید بگڑ جائے۔۔۔ ولید نے اسے ڈانٹنے کے انداز میں کہا

بھائی ایسے مجھے خود سے کوفت ہو رہی ہے مجھے پورے چوبیس گھنٹے ہو گئے ہیں نہائے ہوئے اب اور نہیں رہ سکتا۔۔۔

شاور تم نہیں لے سکتے لیکن اس کا حل ہے میرے پاس ماہی بات سنو۔۔۔

ماہی جو ان دونوں کی باتیں سن رہی تھی ولید کی آواز پر فوراً جواب دیا۔۔۔

جی بھائی۔۔۔

زرا ٹاول تو گیلا کر کے لاؤ۔۔۔

وہ اثبات میں سر ہلاتی ہوئی واش روم گھس گئی اگلے لمحے وہ ٹاول گیلا کر کے ولید کی طرف بڑھا رہی تھی۔۔۔

میں جا رہا ہوں تم ارہان کی باڈی کلین کر دو۔۔۔ ولید نے نہایت آرام سے کہا

ک۔۔کیا۔۔۔ ماہی نے خشک حلق تر کرتے ہوئے پوچھا

اتنا مشکل کام نہیں ہے بس پانچ منٹ میں ہو جائے گا آفس سے دو چھٹیاں آلریڈی ہو چکی ہیں اب میں جا رہا ہوں یہ ہاف دے تو مجھے ہر حال میں لگانا ہے۔۔۔

لیکن ولید بھائی وہ شازل۔۔۔ ماہی نے شازل کا نام لیا تاکہ وہ ارہان کی باڈی کلین کر سکے۔۔۔

شازل نہیں کرے گا تم کر دو بیوی ہو اس کی کوئی غیر تھوڑی ہو پگلی۔۔۔ ولید نے اس کے سر میں ہلکی سی تھپکی لگائی۔۔۔

اوکے میں جا رہا ہوں ارہان اپنا خیال رکھنا اور ماہی لنچ کے بعد ارہان کو میڈیسنز لازمی کھلا دیاں۔۔۔

ج۔۔جی بھائی۔۔۔ ماہی نے منہ بسورتے ہوئے جواب دیا اور ولید کمرے سے نکل چکا تھا جب کہ ماہی ہاتھ میں ٹاول پکڑے یہ سوچ رہی تھی وہ یہ کام کیسے کرے۔۔۔

اگلے لمحے سر جھٹکنے کے بعد وہ اس کے قریب بیڈ پر بیٹھی ارہان اسی کی طرف دیکھ رہا تھا اس کی نظریں خود پر محسوس کرتی وہ گھبرا رہی تھی۔۔۔

دو تین بار مزید ٹاول دھو کر وہ ارہان کی باڈی صاف کر چکی تھی اب وہ پہلے سے پر سکون محسوس کر رہا تھا۔۔۔

ماہی واش روم سے نکل کر بیڈ پر آکر بیٹھی جب ارہان کی آواز پر وہ چونکی۔۔۔

کل رات مجھے گولی لگنے کے بعد تمہارے پاس موقع تھا بھاگنے کا تو بھاگی کیوں نہیں۔۔۔؟؟؟

وہ کسی اور طرف دیکھ رہا تھا لیکن توجہ پوری ماہی پر ہی تھی اس کی بات پر ماہی خود بھی حیران ہوئی آخر وہ کیوں نہیں بھاگی تھی اسے ارہان سے کیا غرض تھی۔۔۔

مجھے نہیں معلوم۔۔۔

اگر میں اب کہوں کہ تمہیں میں آزاد کر دیتا ہوں تو۔۔۔؟؟؟

ارہان نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

ماہی کو ارہان سے اس بات کی توقع ہرگز نہیں تھی وہ حیرت سے ارہان کو دیکھنے لگی۔۔۔

تم نے جواب نہیں دیا۔۔۔

مجھے نہیں معلوم۔۔۔ وہ غصے سے اٹھتی ہوئی کمرے سے باہر نکل گئی دروازہ دھڑام کی آواز پر بند ہوا تھا اس کے جانے کے بعد ارہان ٹیک لگاتے ہوئے ہلکا سا مسکرایا۔۔۔

ماہی غصے سے لان میں موجود جھولے پر آکر بیٹھی اسے ارہان پر شدید غصہ آرہا تھا اس نے یہ بات بھی کیسے کر دی آخر۔۔۔

ماہی نے غصے سے دانت کچکچائے پھر اچانک وہ اپنے رویے پر حیران ہوئی آخر اسے غصہ کیوں آرہا تھا۔۔۔

وہ اسی سوچ میں تھی جب شازل گھر کے اندرونی حصے سے باہر نکلا شاید وہ کہیں باہر جا رہا تھا۔۔۔

کیسی ہو بھابھی۔۔۔ شازل نے مسکراتے ہوئے پوچھا اور لفظ “بھابھی” جان بوجھ کر استمعال کیا۔۔۔

میں ٹھیک ہوں تم کیسے ہو۔۔۔ اس نے بھی مسکراتے ہوئے جواب دیا شازل کا اسے بھابھی کہنا اچھا لگا تھا۔۔۔

کہیں جا رہے ہو کیا۔۔۔

بس یوں ہی جا رہا تھا لیکن اب آپ کی کمپنی انجوائے کرنے کا ارادہ ہے۔۔۔ وہ اس کے ساتھ کچھ فاصلے پر جھولے پر بیٹھا۔۔۔

ویسے بائیک کمال چلا لیتی ہیں آپ۔۔۔ شازل نے اسے کل رات والا واقع یاد دلایا۔۔۔

چپ کرو۔۔۔ ماہی نے اسے گھوری سے نوازہ۔۔۔

تم ارہان کے سگے بھائی ہو کیا۔۔۔

ماہی نے تجسس سے پوچھا۔۔۔

کیوں ہماری شکل نہیں ملتی اس لیے پوچھ رہی ہیں آپ۔۔۔ وہ ہنسا

نہیں ایسی کوئی بات نہیں بس ویسے ہی پوچھا۔۔۔

ہاں جی سگا ہوں ویسے شکل تو ہماری واقع ہی نہیں ملتی آئی نو میں زیادہ ہینڈسم ہوں۔۔۔ بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے وہ مسکرایا۔۔۔

ہی ہی۔۔۔ خوشفہمی۔۔۔ ماہی طنزیہ ہنسی

کیوں آپ کو ارہان بھائی زیادہ خوبصورت لگتے ہیں۔۔۔

وہ ہے ہی خوبصورت مجھے سپشل تھوڑی لگتا ہے سب کو لگتا ہو گا۔۔۔ ماہی نے بات گھمائی

اور میں کیسا ہوں۔۔۔

تم بھی خوبصورت ہو لیکن ارہان سے کم۔۔۔

واہ بھئی کل تک جس کی جانی دشمن تھی آج اسی کی تعریفیں کیا بات ہے۔۔۔ وہ ہاتھ ہوا میں اٹھاتا ہوا داد دینے لگا۔۔۔

اب ایسی بھی بات نہیں ہے۔۔۔ ماہی نے آنکھیں گھمائیں

ویسے میری گرل فرینڈ کو میں بلکل پسند نہیں۔۔۔

کیا تمہاری گرل فرینڈ بھی ہے۔۔۔ ماہی نے آنکھیں پھیلائیں۔۔۔

بلکل ہے لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اسے معلوم نہیں کہ وہ میری گرل فرینڈ ہے۔۔۔

لو۔۔۔ یہ کیا بات ہوئی گرل فرینڈ کو نہیں معلوم ہو گا تو اور کسے ہو گا۔۔۔

ماہی نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

وہ بات دراصل یہ ہے کہ میں کبھی کہہ ہی نہیں پایا اس سے۔۔۔

کیوں نہیں کہہ پائے اتنا مشکل بھی نہیں ہے اظہار کرنا۔۔۔

اظہارِ محبت ہمیشہ سے ہی اک مشکل بات رہی ہے لیکن میرے لیے تو کچھ زیادہ ہی ہے۔۔۔

اور ایسا کیوں۔۔۔ ماہی نے تجسس سے پوچھا۔۔۔

اظہارِ محبت میں فیلنگز دو طرح کی ہوتی ہیں ایک یہ کہ جس سے آپ اظہار کرنے جا رہے ہیں آپ کو معلوم ہو کہ اس کی لائف میں ابھی کوئی نہیں ہے۔ یہ والا تھوڑا آسان ہوتا ہے زیادہ تر چانسز ہاں کے ہی ہوتے ہیں۔۔۔

اور دوسرا کون سا۔۔۔ ماہی اس کی بات دلچسپی سے سن رہی تھی۔۔۔

دوسرا یہ کہ جس سے آپ اظہار کرنے جا رہے ہیں اور آپ کو یہ بھی معلوم ہو کہ وہ کسی اور کو چاہتا ہے یا چاہتی ہے تو اس میں فل چانسز انکار کے ہوتے ہیں زیادہ تر لوگوں کے لیے پھر اظہار کرنا مشکل یا پھر نا ممکن ہو جاتا ہے۔۔۔ یہ بات کہتے ہوئے اس کے چہرے پر افسوس اور دکھ بھرے تاثرات وہ واضح طور پر دیکھ سکتی تھی۔۔۔

یعنی کہ تم دوسرے والے کے حصے میں آتے ہو۔۔۔

ایسا ہی سمجھ لیجیے۔۔۔ وہ ہنسا

کون ہے وہ۔۔۔ ماہی نے تجسس سے پوچھا

یہیں ہے آپ کے آس پاس۔۔۔

کون سہانا۔۔۔ ماہی پرجوشی سے اونچی بول اٹھی۔۔۔

ارے چپ کیا کر رہی ہیں آپ سن لے گی وہ۔۔۔

شازل نے اسے آنکھیں دکھائیں۔۔۔

تو بتا کیوں نہیں دیتے یہ تو بہت ہی آسان ہے۔۔۔

آسان نہیں ہے نا آپ کو بتا تو چکا ہوں۔۔۔

اووو یعنی وہ کسی اور کو پسند کرتی ہے۔۔۔

ہممم۔۔۔۔ اس نے منہ بسورا

وہ کون ہے۔۔۔ ماہی کو پھر سے تجسس ہوا

مجھے باہر جانا ہے پھر بات کرتے ہیں بائے۔۔۔ وہ تیزی سے اٹھتا ہوا بھاگ گیا۔۔۔

جبکہ ماہی اسی سوچ میں گم تھی کہ آخر سہانا کسے پسند کرتی ہے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

دو گھنٹے بعد عباد گھر داخل ہوا تو پورا گھر چمک رہا تھا وہ رائمہ کی پھرتی پر شدید حیران تھا گاڑی سے سب سامان نکالتے ہوئے وہ اندر داخل ہوا۔۔۔

رائمہ صوفے پر بیٹھی اپنے کندھوں کو مسل رہی تھی اسے دیکھتے ہی وہ اپنی جگہ سے کھڑی ہوئی۔۔۔

میں نے کہا تھا تم تھک جاؤ گی ملازم کو بلا لیتے ہیں۔۔۔ عباد نے اسے کندھے مسلتے دیکھا تو کہا۔۔۔

نہیں میں ٹھیک ہوں معمولی سی تھکاوٹ تو ہو ہی جاتی ہے۔۔۔ اس نے نظریں جھکائے جواب دیا

ہممم یہ کچن کا سامان ہے اور تمہارے لیے میں ایل۔سی۔ڈی بھی لایا ہوں ورنہ سارا دن کیا کرو گی یہاں۔۔۔ وہ پھر سے باہر نکلا اور گاڑی سے ایل۔سی۔ڈی نکال کر لاؤنچ میں فٹ کرنے لگا۔۔۔

رائمہ نے ایک نظر اسے دیکھا وہ کتنا خیال کرنے والا شخص تھا کچھ دیر پہلے رائمہ یہی سوچ رہی تھی کہ یہاں ٹی۔وی ہوتا تو وہ دیکھ کر اپنی بوریت دور کر لیتی اور ابھی وہ لے بھی آیا تھا۔۔۔

وہ ناشتے کا سارا سامان کچن میں رکھ چکی تھی اب اس کا ارادہ ناشتہ بنانے کا تھا کہ گیٹ پر بیل ہوئی۔۔۔

وہ کچن سے باہر نکلی تو عباد کے ہاتھ میں کچھ پیکٹس تھے جو اس نے رائمہ کو تھما دیے۔۔۔

یہ ناشتہ نکالو میں فریش ہو کر آتا ہوں۔۔۔

وہ کہتا ہوا اس کمرے کی طرف چل دیا۔۔۔

رائمہ پہلے ہی تھک چکی تھی اب بنا بنایا ناشتہ دیکھ کر اس نے سکھ کا سانس لیا ناشتہ نکال کر وہ ٹرے میں رکھنے لگی تھی۔۔۔

پانچ منٹ بعد وہ کمرے سے باہر آیا تو رائمہ کو کھانے کی میز کے پاس بیٹھے دیکھا۔۔۔

کیا ہوا تم نے ناشتہ نہیں کیا۔۔۔

وہ سنجیدگی سے پوچھتے ہوئے کرسی کھینچ کر بیٹھا۔۔۔

میں نے سوچا آپ آجائیں۔۔۔ رائمہ نے ہچکچاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

میرے ہونے نہ ہونے سے کیا ہو گا آئندہ وقت پر کھانا کھا لیا کرنا۔۔۔ وہ پلیٹ کھینچتا ہوا کہنے لگا۔۔۔

رائمہ نے پریشان نظروں سے اسے دیکھا اس کا کیا مطلب تھا کیا وہ یہاں ہفتہ دس دن بعد آیا کرے گا کیا۔۔۔

وہ یہی سوچتے ہوئے ناشتہ کرنے لگی جبکہ اس کی بھوک مر چکی تھی۔۔۔

ایسا نہیں تھا کہ اس نے عباد کو لے کر بہت خواب سجا رکھے تھے لیکن وہ اس گھر میں اکیلی کیسے رہ سکتی تھی یہی بات اسے خوفزدہ کر رہی تھی۔۔۔

دس منٹ یوں ہی خاموشی سے گزر گئے تھے عباد ٹشو سے ہاتھ صاف کرتا ہوا اٹھا۔۔۔

رائمہ برتن سمیٹنے کے بعد لاؤنچ میں آئی وہ ٹی۔وی دیکھ رہا تھا۔۔۔

یہ موبائل ہے تمہارے لیے جب بھی کسی چیز کی ضرورت ہو تو بتا دیا کرنا اور اپنے امی ابو سے بھی بات کر لیا کرنا۔۔۔

اسنے رائمہ کی طرف موبائل بڑھایا رائمہ نے ڈبہ کھول کر موبائل نکالا تو وہ حیران ہوئی۔۔۔

ی۔۔یہ تو بہت مہنگا ہے آپ کوئی نارمل سا لے لیتے۔۔۔

تمہیں کسی بھی چیز میں کنجوسی کرنے کی ضرورت نہیں پاپا نے مجھے پراپرٹی سے آک بھی کر دیا تو میرے پاس اتنے پیسے ہیں کہ پوری زندگی آسانی سے گزر سکتی ہے۔۔۔ وہ ہلکا سا مسکرایا

اس کی بات سن کر رائمہ کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا اس نے تو ایک دن میں کبھی دو سو تین سو سے زائد خرچ نہیں کیا تھا۔۔۔

میں تم سے کچھ بات کرنا چاہتا ہوں۔۔۔

وہ سنجیدگی سے بولا۔۔۔

جی کریں۔۔۔ رائمہ بھی اب اس کی طرف پوری متوجہ تھی۔۔۔

دیکھو تم بھی جانتی ہو کہ میں ماہی سے کتنی محبت کرتا ہوں اور تم خود بھی اس کی سب سے اچھی دوست ہو۔۔۔

عباد کی بات پر بے ساختہ رائمہ شرمندگی سے نظریں جھکا گئی تھی۔۔۔

ہمارا نکاح جنحالات میں ہوئی ہے وہ قابلِ قبول نہیں ہیں اور میں چاہتا ہوں تم بھی اس نکاح کو سنجیدہ مت لو۔۔۔

اس کی بات پر رائمہ نے اس کی طرف دیکھا آنکھوں میں سو سوالات تھے۔۔۔

رائمہ تم سمجھ رہی ہو نا میں کیا کہنا چاہ رہا ہوں۔۔۔

عباد نے اسے پرکھنے کی کوشش کی۔۔۔

پ۔۔پلیز آپ کھل کے بات کریں۔۔۔

میں یہ کہنا چاہتا ہوں کہ ہم تین ماہ بعد علیحدگی اختیار کر لیں۔۔۔

یہ بات جتنی آسانی سے وہ کر گیا تھا اتنی ہی حیرت رائمہ کو ہو رہی تھی اسے اپنی سماعت پر یقین نہیں ہو رہا تھا نہ ہی اس نے بھولے سے بھی سوچا تھا کہ عباد اسے طلاق دینے کی بات کرے گا۔۔۔

دیکھو کل کو ماہی مل جاتی ہے تو میں اسے اپنانے سے پیچھے نہیں ہٹوں گا میں نے بچپن سے لے کر صرف ایک ہی لڑکی سے محبت کی ہے اور وہ ہے ماہی میں اس کے بغیر کیسے جی رہا ہوں یہ شاید تم بھی نہیں سمجھ سکتی میں تمہارے لیے اچھا شوہر کبھی ثابت نہیں ہو سکتا رائمہ دیکھو تم بہت اچھا انسان ڈیزرو کرتی ہو جو تم سے محبت کرے میں اس رشتے میں تمہیں عزت تو دے دوں گا لیکن کبھی محبت نہیں دے سکتا اس لیے بہتر ہے کہ ہم تین ماہ بعد ایک دوسرے سے علیحدہ ہو جائیں تب تک یہ معاملہ بھی ٹھنڈا ہو جائے گا اور میں وعدہ کرتا ہوں میں تمہارے لیے بہت اچھا لڑکا ڈھونڈ کر تمہاری اس سے شادی کر دوں گا تمہیں کوئی اعتراض تو نہیں ہے نا۔۔۔

بنا رکے اپنے اندر کی ساری باتیں کر گیا تھا اور وہ تھی کہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی اس کے جسم میں جھرجھریاں اٹھ رہی تھیں جبکہ کانوں میں سائیں سائیں ہو رہی تھی آنکھوں کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ کچھ لمحے پہلے والا وہی مہربان شخص ہے جو اس کے دل کی خواہش بنا کہے پوری کر گیا تھا جو ایک اچھے شوہر کی طرح اس کا خیال رکھ رہا تھا جس نے اسے بدنامی کے داغ سے بچایا تھا جس نے اسے در بدر ہونے سے بچایا تھا ہاں یہ وہی شخص تھا۔۔۔شاید۔۔۔

جیسے آپ کہیں۔۔۔

اس کی زبان سے یہ لفظ کیسے ادا ہوئے تھے یہ صرف وہی جانتی تھی اسے اپنی ہی آواز کہیں دور سے آتی سنائی دے رہی تھی۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *