Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 13,14)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 13,14)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
رائمہ کی جب آنکھ کھلی تو اسے اپنے سر میں شدید درد محسوس ہو رہا تھا جیسے ہی اس نے آنکھیں کھولیں اس نے دیکھا کہ اس کے سامنے قریب اسی نوے لڑکیاں اور بھی موجود تھیں جن میں سے کچھ لڑکیاں بے ہوش تھیں اور کچھ خوفزدہ سی رو رہی تھیں۔۔۔
رائمہ ایک دم سے اٹھ کر بیٹھی اس نے دائیں بائیں سے لے کر چھت تک نظر گھمائی تو اسے معلوم ہوا یہ کوئی کنٹینر تھا جس میں وہ باقی لڑکیوں کے ساتھ بند تھی۔۔۔
لڑکیاں روتی ہوئیں کنٹینر کو پیٹ رہی تھیں رائمہ کی سانسیں پھولنے لگیں اسے اپنی آنکھوں پہ یقین نہیں ہو رہا تھا وہ کیسے یہاں پھنس گئی تھی۔۔۔
دن رات نیوز چینلز پر آج کل یہی خبریں چل رہی تھیں کہ شہر میں لڑکیوں کے اغوہ کے کیسز بڑھتے جا رہے۔۔۔
وہ تیزی سے کھڑی ہوئی اور کنٹینر میں بھاگنے لگی شاید وہ دروازے کی طرف بھاگ رہی تھی۔۔۔
ک۔۔کوئی ہے دروازہ کھولو۔۔۔ اس نے روتے ہوئے کنٹینر کے دروازے کو پیٹنا شروع کیا۔۔۔
دروازہ تب ہی کھلے گا جب ایک نئی لڑکی یہاں بند کی جائے گی۔۔۔
اچانک اسے ایک لڑکی کی آواز سنائی دی اس نے گردن موڑ کر دیکھا تو لڑکی گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے سنجیدگی سے بیٹھی تھی۔۔۔
ک۔۔کیا مطلب م۔۔میں کہاں ہوں۔۔۔ رائمہ خوفزدہ سی اسے دیکھنے لگی۔۔۔
دلدل میں ہو تم اب یہ دلدل تمہیں اور ہم سب کو کہاں تک لے جائے گی یہ ان لوگوں کے سوا کوئی نہیں جانتا۔۔۔
ک۔۔کون لوگ۔۔۔ رائمہ ڈرتے ڈرتے اس کے ساتھ سمٹ کر بیٹھی۔۔۔
وہی جنہوں نے ہم سب کو اغوہ کیا ہے۔۔۔ لڑکی نے رائمہ کہ طرف دیکھا رائمہ نے اس کے چہرے پہ غور کیا وہ لڑکی تقریباً تئیس سال کی تھی اس کی آنکھیں سرخ اور سوزش ذدہ تھیں۔۔۔
ل۔۔لیکن ہمیں ک۔۔کیوں اغوہ کیا ہے م۔۔مجھے گھر جانا ہے میرے امی ابو پریشان ہو رہے ہوں گے۔۔۔
رائمہ نے بے ساختہ روتے ہوئے کہا۔۔۔
کوئی نہیں جانتا ہماری منزل اب کیا ہے ہم اپنی مرضی سے کچھ نہیں کر سکتیں۔۔۔
یا میرے اللہ میری مدد فرما۔۔۔ رائمہ نے منہ پہ ہاتھ رکھا وہ مسلسل رونے لگی تھی۔۔۔
ایک گرج دار آواز سے کنٹینر کا دروازہ کھلا دو لوگ اندر داخل ہوئے تھے اور کچھ لوگ کنٹینر کے باہر کھڑے تھے۔۔۔
ان سب کے ہاتھوں میں پسٹل موجود تھا جو لوگ اندر داخل ہوئے تھے ان کے ہاتھ میں بھی پسٹل پکڑے ہوئے تھے رائمہ نے ڈری ڈری نظروں سے انہیں دیکھا ان لوگوں کے چہروں سے دہشت چھلک رہی تھی انہیں دیکھ کر سبھی لڑکیاں ڈر کے مارے کنٹینر کی دیواروں کے ساتھ چپکنے لگیں۔۔۔
پ۔۔پلیز ہمیں جانے دیں۔۔۔ لڑکیاں روتی ہوئی ان سے التجا کر رہی تھیں۔۔۔
چپ کرو کسی نے بھی منہ سے زرا سی بھی آواز نکالی تو ابھی اسے موت کے گھاٹ اتار دوں گا۔۔۔ ایک آدمی سب کو گن دکھاتا ہوا غصے سے بولا اس کی بات سے سب لڑکیوں کے زبان تالوے سے چپک چکی تھی۔۔۔
کنٹینر کا اچھی طرح جائزہ لینے کے بعد وہ دونوں لڑکے دروازے کی طرف بڑھے۔۔۔
آج رات ہی پندرہ لڑکیوں کا بندوست کرنا ہو گا سو لڑکیاں ہوتے ہی رات دو بجے کنٹینر دبئی کے لیے روانہ کر دیا جائے گا۔۔۔
ایک آدمی نے باہر کھڑے دوسرے آدمی سے کہا۔۔۔
ایک رات میں پندرہ لڑکیاں کرنا تھوڑا مشکل لگ رہا ہے۔۔۔
دوسرے آدمی نے اپنے چھوٹے خاردار بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے کہا۔۔۔
دس آدمی بھی الگ الگ جگہوں پر نکلیں تو کام ہو سکتا ہے شاید۔۔۔
ہممم کچھ کرتے ہیں تین بجنے میں ابھی چھ گھنٹے باقی ہیں۔۔۔
آدمی نے کہتے ساتھ موبائل نکال کر کان کو لگایا اب وہ کسی کو مزید پندرہ لڑکیاں لانے کا کہہ رہا تھا یہ سب سنتے ہی رائمہ کے جسم میں خوف کی لہر دوڑ گئی وہ کس دلدل میں پھنس گئی تھی نہ جانے آگے اس کے ساتھ کیا ہونے والا تھا آنکھیں پھاڑے وہ اپنے سامنے موجود آدمیوں کو دیکھ رہی تھی۔۔۔



ریسٹورنٹ سے نکلتے ہی ماہی نے آس پاس نظر دوڑائی وہ کسی بھی صورت یہ موقع ہاتھ سے نہیں جانے دے سکتی تھی گاڑی میں بیٹھنے سے پہلے اس نے دیکھا کہ گاڑی کے پیچھے ایک بائیک کھڑی ہے خوش قسمتی سے چابی بھی بائیک میں موجود تھی وہ بائیک چلانا جانتی تھی۔۔۔
سہانا اور شازل گاڑی میں بیٹھ چکے تھے ولید ڈرائیور سیٹ سنبھالے ہوئے تھا جبکہ ارہان ماہی کے بیٹھنے کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔
ماہی نے ایک جھٹکے سے ارہان کو اتنی زور سے دھکا دیا کہ وہ اپنا توازن برقرار نہ رکھتے ہوئے سڑک پر کمر کے بل گر گیا ماہی نے بنا پیچھے دیکھے بائیک پر بیٹھتے ہوئے بائیک سٹارٹ کی۔۔۔
اس اچانک ہونے والے منظر پر ولید اور شازل ہونقوں کی طرح ماہی کو دیکھ رہے تھے۔۔۔
ارہان تیزی سے کھڑا ہوا وہ ان سے کچھ فاصلے پر جا چکی تھی۔۔۔
ولید بھائی گاڑی چلائیں جلدی۔۔۔
ارہان چلّاتے ہوئے گاڑی میں بیٹھا۔۔۔
ماہی اپنے سامنے آنے والے ہر موڑ پر بائیک موڑ رہی تھی اس کا ارادہ بائیک کو ایسی جگہ لے جانا تھا جہاں سے گاڑی نہ گزر سکے وہ ارہان کی گاڑی کو پیچھے آتا دیکھ چکی تھی۔۔۔
اب وہ گلیوں میں گھس چکی تھی ولید نے اسٹیئرنگ پہ ہاتھ مارتے ہوہی گاڑی کو بریک لگائی۔۔۔
ارہان تم خیال نہیں کر سکتے تھے اس کا تم ہی کہتے تھے وہ بھاگ جائے گی۔۔۔ ولید نے غصے سے ارہان سے کہا۔۔۔
ہاں میں ہی کہتا تھا کہ وہ بھاگ جائے گی اور میں نے کہا بھی تھا آپ سے آپ کو ہی شوق تھا اسے ساتھ لے کر آنے کا۔۔۔
ارہان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
اب کیا ہو گا بھائی اگر وہ اپنے گھر تک پہنچ گئی تو۔۔۔؟؟؟ شازل نے پریشانی سے کہا۔۔۔
اس سے پہلے ہمیں اسے ڈھونڈنا ہو گا شازل تم یہیں رہو سہانا کے ساتھ میں اور ارہان اسے ڈھونڈنے جا رہے ہیں۔۔۔
لیکن بھائی وہ بائیک پر ہے اور آپ لوگ پیدل اسے کیسے ڈھونڈ پاؤ گے۔۔۔ شازل نے حیرت سے پوچھا۔۔۔
کچھ تو کرنا ہی ہو گا اب یوں ہی ہاتھ پہ ہاتھ دھرے بیٹھے رہے تو اپنا ہی نقصان کریں گے۔۔۔
ولید کہتا ہوا گاڑی سے نکلا اور ارہان نے بھی نشست چھوڑی۔۔۔
ارہان ہم دونوں الگ الگ ہو کر اسے ڈھونڈیں گے تمہیں ملی تو تم مجھے کال کرنا اگر مجھے مل گئی تو میں تمہیں کال کروں گا۔۔۔
اوکے بھائی ارہان کہتا ہوا ایک طرف بھاگا جبکہ ولید دوسری طرف بھاگا۔۔۔
گلیوں سے ہوتے ہوئے ماہی دوسرے روڈ پر آگئی تھی کچھ دیر بائیک چلانے کے بعد بائیک جھٹکے مارتے ہوئی رک گئی۔۔۔
اففف اب اسے کیا ہو گیا۔۔۔
ماہی نے پیٹرول دیکھا تو ختم ہو چکا تھا۔۔۔۔
اوہ شٹ اب کیا کروں کہاں جاؤں۔۔۔
وہ بائیک سے اتر کر چلنے لگی رات کافی گہری تھی دور دور فاصلے پر لائٹس آن تھیں یہ جگہ کافی سنسان دکھائی دے رہی تھی۔۔۔
تیز تیز قدم چلتے ہوئے وہ آگے بڑھ رہی تھی اتنی رات گئے وہ کبھی گھر سے باہر نہیں نکلی تھی تبھی خوف اس پر طاری ہو رہا تھا۔۔۔
کچھ دیر بھاگنے کے بعد وہ ہانپتی ہوئی گھٹنوں پہ ہاتھ رکھے سانسیں بحال کرنے لگی تبھی کسی نے اس کی منہ پر ہاتھ رکھا وہ چینخنا چاہتی تھی لیکن اس شخص نے اس کی چینخ کو دبا دیا تھا۔۔۔
ولید جیسے ہی روڈ پر آیا اسے وہی بائیک دکھائی دی جس پر ماہی بیٹھ کر بھاگی تھی اس نے فوراً ارہان کو کال ملائی۔۔۔
روڈ پر مجھے ماہی کی بائیک ملی ہے شاید پیٹرول ختم ہوا ہے اب اسے ڈھونڈنا آسان ہو گا۔۔۔
ٹھیک ہے۔۔۔ ارہان نے کہتے ہوئے کال بند کی وہ بھی سڑک پر پہنچ چکا تھا بھاگتے ہوئے وہ ماہی کو ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔
تبھی اسے ایک گاڑی آتی دکھائی دی۔۔۔
جیسے ہی گاڑی ارہان کے پاس سے گزرنے لگی ارہان نے گاڑی میں ماہی کو دیکھا جو ہاتھ پاؤں مارتی ہوئی خود کو چھڑوانے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔
ارہان نے فوراً جیکٹ کی جیب سے پسٹل نکال کر گاڑی کے ٹائر کا نشانہ لگایا۔۔۔
فائر کی آواز سے گاڑی گھومتی ہوئی رکی ارہان گاڑی کی طرف بھاگا ہاتھ میں پسٹل پکڑتے ہوئے اس نے دروازہ کھولا۔۔۔
گاڑی سے نکلنے والے آدمیوں کے ہاتھ میں بھی پسٹل تھا انہوں نے پسٹل کا رخ ارہان کی طرف کیا یہ دیکھتے ہی ماہی نے بے ساختہ منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تمہارا کیوں ہماری گاڑی کا ٹائر پنکچر کیا۔۔۔ ایک آدمی نے دھاڑتے ہوئے پوچھا۔۔۔
میری بیوی کو گاڑی سے نکالو۔۔۔ ارہان کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں۔۔۔
نہیں نکالیں گے کیا کر لو گے تم۔۔۔ دوسرا آدمی ارہان کے سامنے ہوا۔۔۔
ارہان دیکھ چکا تھا کہ وہ لوگ خطرناک ہیں اب اسے جو بھی کرنا تھا سوچ سمجھ کر کرنا تھا۔۔۔
ماہی نے سب کی نظریں ارہان پر پا کر موقع دیکھا اس کے ساتھ جو آدمی بیٹھا اس پہ پسٹل تانے ہوا تھا ماہی نے جھپٹ کر اس کے ہاتھ پسٹل کھینچنا چاہا۔۔۔
دوسرے آدمی نے جیسے ہی ماہی کی طرف دیکھا ارہان نے اس کے ہاتھ پر ایک لات ماری جس سے اس آدمی کا پسٹل اچھلتا ہوا گاڑی کے نیچے گر گیا۔۔۔
ماہی اس آدمی سے پسٹل کھینچ کر اس کی کنپٹی پر تان چکی تھی۔۔۔
ادھر ارہان نے باہر کھڑے آدمی پر پسٹل تانا۔۔۔
ماہی باہر آؤ۔۔۔ ارہان نے کہا
گاڑی سے نکلو۔۔۔ ماہی نے اس آدمی سے کہا ارہان ماہی کی چالاکی سمجھ گیا تھا وہ اس آدمی کو گاڑی سے نکال کر خود گاڑی لے کر بھاگ جانا چاہتی تھی۔۔۔
ماہی میں کہہ رہا ہوں باہر آؤ۔۔۔ ارہان دھاڑا
نہیں آؤں گی میں مجھے اپنے گھر جانا ہے سمجھے تم اور تم دیکھنا میں تم لوگوں کے ساتھ کیا کروں گی۔۔۔ وہ اسے دھمکی دیتی ہوئی بولی۔۔۔
ماہی کے کہنے پر وہ آدمی گاڑی سے باہر نکلا ماہی پچھلی طرف سے گاڑی کے اگلی نشست پر آکر بیٹھی اسے لگا وہ اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئی ہے لیکن جیسے ہی اس نے چابی گھمائی گاڑی نے چلنے سے جواب دیا۔۔۔
اتنی پریشانی کی حالت میں بھی ارہان کا قہقہ لگا وہ جانتا تھا گاڑی پنکچر ہے لیکن شاید ماہی یہ بات بھول گئی تھی۔۔۔
شٹ۔۔۔ وہ غصے سے گاڑی سے باہر نکلی
ماہی ادھر آؤ۔۔۔ ارہان ماہی کی طرف بڑھا ماہی نے الٹا ارہان کی طرف پسٹل کا رخ کیا۔۔۔
خبردار جو میرے پاس آئے میں آج یہاں سے بھاگ کر رہوں گی۔۔۔ وہ غصے سے چلّائی
ان دونوں آدمیوں میں سے ایک آدمی نے اچانک ماہی کے ہاتھ سے پسٹل کھینچ کر ماہی کو اپنی گرفت میں لیا وہ اس کے سر پر گن رکھ چکا تھا۔۔۔۔
ماہی۔۔۔ ارہان بے ساختہ ماہی کی طرف بڑھا ابھی اس نے ماہی کا ہاتھ ہی پکڑا تھا کہ آدمی نے بنا موقع ضائع کیے ارہان کے بازو پر شوٹ کیا۔۔۔
ارہان کراہتے ہوئے زمین پر گرا ماہی آنکھیں پھاڑے ارہان کو دیکھنے لگی۔۔۔
دوسرے آدمی نے موبائل پر کسی کا نمبر ملایا وہ کسی کو گاڑی بھیجنے کا کہہ رہا تھا۔۔۔
اچانک اس آدمی کے سر پر کسی نے کوئی بھاری چیز ماری ماہی نے دیکھا تو وہ ولید تھا ماہی اس شخص کی گرفت سے آزاد ہوئی دوسرے آدمی نے ابھی گردن موڑ کر دیکھا ہی تھا کہ ولید نے اس کے چہرے پر گھونسوں کی برسات کی۔۔۔
دو منٹ میں ہی اس کا چہرہ لہو لہان ہو چکا تھا۔۔۔
ادھر شازل گاڑی لیے موقع پر پہنچا فائر کی آواز سن کر ولید اس طرف بھاگا تھا پھر اس نے شازل کو کال کر کے یہاں آنے کا کہا تھا۔۔۔
ارہان کے بازو سے بہت خون بہہ رہا تھا وہ تکلیف کی شدت سے آنکھیں بند کیے ہوئے تھا۔۔۔
ولید نے ارہان کو اٹھا کر گاڑی میں بیٹھایا ماہی بھی چپ چاپ گاڑی میں بیٹھ گئی تھی۔۔۔



وہ سب ہاسپٹل کے بینچ پر بیٹھے ڈاکٹر کے باہر آنے کا انتظار کر رہے تھے ماہی نے خود ہی چہرے پر ماسک پہن لیا تھا۔۔۔
جیسے ہی ڈاکٹر باہر نکلا ولید نے ارہان کا پوچھا۔۔۔
بازو سے گولی نکال دی ہے پیشنٹ اب خطرے سے خالی ہیں وہ ہوش میں ہیں آپ ملنا چاہتے ہیں تو مل لیں۔۔۔
ڈاکٹر اپنی بات مکمل کرتا آگے بڑھ گیا ماہی جو ڈاکٹر کی بات سننے کے لیے کھڑی ہوئی تھی اس کے جاتے ہی بینچ پر بیٹھی اسے اتنی ہمت نہیں ہو رہی تھی کہ ارہان کا سامنا کر سکے۔۔۔
وہ اس بات سے ڈر گئی تھی کہ اگر گولی بازو کی بجائے سینے پر لگ جاتی تو کیا ہوتا۔۔۔
ولید نے جب ماہی کو بیٹھتے ہوئے دیکھا تو وہ اور شازل کمرے میں داخل ہوئے سہانا رو رہی تھی لیکن ارہان سے ملنے وہ بھی نہیں گئی تھی وہ اس سے خفا تھی جس نے بے دردی سے اس کا دل پاؤں تلے روند دیا تھا۔۔۔
ارہان کیسا محسوس کر رہے ہو اب۔۔۔ ولید نے پیار سے ارہان کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
ارہان نے ایک نظر دروازے کی طرف دیکھا ولید جان چکا تھا اس کی نظریں ماہی کو تلاش رہی ہیں۔۔۔
میں آج رات یہیں رہوں گا ارہان کے پاس شازل تم سہانا اور ماہی کو گھر لے جاؤ۔۔۔
نہیں بھائی ہاسپٹل سے وحشت ہوتی ہے میں گھر جانا چاہتا ہوں۔۔۔
ارہان نے بیزاری سے کہا۔۔۔
ایسے کیسے ارہان ابھی تو تمہارے بازو کو فیکچر ہوا ہے اس حالت میں نہیں لے جا سکتے تمہیں۔۔۔
پلیز بھائی میں گھر جانا چاہتا ہوں میں ٹھیک ہوں جوان ہوں اتنی سے زخموں کو برداشت کرنے کی ہمت تو ہے مجھ میں۔۔۔
ارہان بھائی ٹھیک کہہ رہا ہے تمہیں کم از کم ایک رات تو یہاں ریسٹ کرنا چائیے گھر میں ہم تمہاری کیئر ڈاکٹر کی طرح نہیں کر سکتے۔۔۔ شازل نے نظریں جھکائے کہا
ارہان نے شازل کی طرف دیکھا آج کتنے ہی سالوں بعد وہ بنا جھگڑے کے آپس میں بولے تھے۔۔۔
ٹھیک ہے لیکن صرف ایک رات کل مجھے گھر جانا ہے۔۔۔
ہممم ٹھیک ہے چلو اب تم ریسٹ کرو۔۔۔ ولید نے اسے سمجھایا۔۔۔
سہانا ارہان کو دیکھ لیتی تم بھی۔۔۔ شازل نے کمرے سے باہر نکل کر کہا۔۔۔
کیسا ہے وہ۔۔۔ سہانا نے پوچھا
بہتر ہے آج رات یہیں رہے گا۔۔۔
اچھا اللہ اسے مکمل صحت یابی عطا کرے۔۔۔ سہانا اتنا کہنے کے بعد خاموش ہوئی۔۔۔
ماہی چوروں کی طرح خاموشی سے بیٹھی رہی اس نے شازل سے ارہان کا حال بھی نہیں پوچھا تھا۔۔۔
چلو ہمیں گھر جانا ہے۔۔۔
شازل کی بات پر سہانا کھڑی ہوئی تو ساتھ ماہی بھی مردہ قدموں سے چلنے لگی۔۔۔
گاڑی میں تمام راستے وہ ارہان کو سوچتی آئی تھی وہ کیا سوچتا ہو گا کہ جس کی وجہ سے میں اس حال میں پہنچا وہ تو میرا حال پوچھنے بھی نہیں آئی۔۔۔
کھڑکی سے باہر دیکھتے ہوئے اس نے سوچا۔۔۔
گھر پہنچ کر وہ خاموشی سے اپنے کمرے کی طرف چل دی۔۔۔



رائمہ کے ماں باپ اسے ہر جگہ تلاش کر چکے تھے لیکن اس کا کہیں اتہ پتہ معلوم نہیں تھا۔۔۔
مجبور ہو کر آخر وہ ماہی کے گھر پہنچ گئے انہوں نے سوچا شاید ماہی مل گئی ہو جس وجہ سے رائمہ اس کے پاس رک گئی ہو۔۔۔
صاحب جی باہر دو لوگ آئے ہیں کہہ رہے ہیں کہ ماہی کہ دوست رائمہ کے والدین ہیں۔۔۔
ملازم نے آکر بتایا عباد جو محمود صاحب کا حال پوچھنے ان کے گھر آیا تھا سفینہ بیگم نے اسے رات یہیں رہنے پر روک لیا تھا نیند نہ آنے کی وجہ سے وہ لان میں ٹہل رہا تھا کہ ملازم کی بات پر چونکا۔۔۔
رائمہ کے والدین لیکن یہاں۔۔۔ عباد نے حیرت سے سوچا
ان کو گیسٹ روم میں بیٹھو میں آتی ہوں۔۔۔
جی ٹھیک صاحب جی۔۔۔ ملازم واپس چل دیا عباد نے ہاتھ میں بندھی گھڑی سے وقت دیکھا تو رات کا ایک بج رہا تھا۔۔۔
اتنی رات کو وہ یہاں کیسے آسکتے ہیں کہیں ماہی کی کوئی خبر تو نہیں مل گئی۔۔۔ عباد کی آنکھوں میں چمک اتر آئی تھی۔۔۔
اگلے لمحے وہ گیسٹ روم میں موجود تھا لیکن رائمہ کے والدین کا پریشان چہرہ دیکھ کر وہ خود بھی کسی ان ہونی کے شک میں مبتلا ہوا۔۔۔
عباد بیٹا ماہی مل گئی ہے کیا۔۔۔ سکینہ نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔
نہیں آنٹی لیکن آپ اور یہاں آکر یہ بات کیوں پوچھ رہی ہیں۔۔۔ عباد نے حیرت سے پوچھا
وہ۔۔۔ دراصل آج شام سے رائمہ نہیں مل رہی ہم نے اسے کئی بار کال کی لیکن نمبر مسلسل بند جا رہا ہے ماہی کے سوا اس کی کوئی دوست نہیں تھی اس لیے ہم یہاں آگئے ہمیں سمجھ نہیں آرہا تھا کہ ہم کیا کریں۔۔۔
کیا۔۔۔ رائمہ نہیں مل رہی۔۔۔ عباد نے حیرت سے آنکھیں پھاڑتے ہوئے دیکھا۔۔۔
پتہ نہیں کہاں چلی گئی میری رائمہ اس نے تو ماہی کے سوا کبھی کوئی دوست بھی نہیں بنائی وہ اور کہاں جا سکتی ہے بھلا۔۔۔ سکینہ باقاعدہ رونے لگی تھی۔۔۔
عباد کو یقین نہیں ہو رہا تھا کہ یہ سچ ہے ماہی کے بعد رائمہ۔۔۔ آخر ان دونوں کو کوئی کیوں اغوہ کرے گا۔۔۔
خدا کے لیے عباد بیٹا ہماری رائمہ کو ڈھونڈ دو ۔۔۔ وہ دونوں اس کے آگے ہاتھ جوڑنے لگے۔۔۔
انکل آنٹی پلیز آپ پریشان مت ہوں میں پوری کوشش کروں گا اسے ڈھونڈنے کی بس اللہ سب خیر کرے۔۔۔
عباد نے پریشانی سے بالوں میں ہاتھ پھیرا۔۔۔



م۔۔مجھے باتھروم جانا ہے۔۔۔ رائمہ نے ڈرتے ہوئے ایک آدمی سے کہا دوسرے آدمی نے پہلے آدمی کو اسے لے جانے کا اشارہ کیا۔۔۔
وہ آدمی ہاتھ میں گن پکڑے رائمہ کو باتھروم کی طرف لے جانے لگا باتھروم پہنچ کر اس نے رائمہ کو اندر کی طرف دھکا دے کر دروازہ بند کیا۔۔۔
رائمہ نے کپکپاتے ہوئے دروازے کو لاک لگایا نل کھولے وہ منہ پہ پانی کے چھینٹے مارتے ہوئے رونے لگی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ باتھروم سے باہر نکلی وہ آدمی اسے پھر سے کنٹینر کی طرف لے جانے لگا کہ ان میں سے ایک آدمی نے آواز لگائی۔۔۔
اسے واپس چھوڑ آؤ۔۔۔
اس آدمی کی بات سن کر رائمہ نے پوری آنکھیں کھولے اسے دیکھا۔۔۔
کیا لیکن کیوں لڑکیاں پہلے ہی کم پڑ رہی ہیں اور تم کہہ رہے ہو اسے چھوڑ آؤ۔۔۔
وہ آدمی حیرت سے پوچھنے لگا۔۔۔
یہ ہمارے کسی کام کی نہیں ہے میں نے چیک کیا ہے بس اسے جانے دو۔۔۔
اس آدمی کی بات پر رائمہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھنے لگی اسے چیک کرنے سے کیا مراد تھی کہیں وہ جب باتھروم گئی تو۔۔۔۔ رائمہ نے بے ساختہ منہ پہ ہاتھ رکھا۔۔۔
یا اللہ میری عزت کی حفاظت کرنا۔۔۔ وہ دل میں کہتے ہوئے رونے لگی تھی۔۔۔
آدمی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے رائمہ کا بازو پکڑا دوسرے آدمی نے اس کی آنکھوں پر پٹی باندھی۔۔۔
اب رائمہ کو وہ کہیں لے جا رہے تھے آنکھوں پہ بندھی پٹی کی وجہ سے وہ کچھ بھی دیکھ نہیں پا رہی تھی جیسے ہی اسے اپنے چہرے پر ٹھنڈی ہوا محسوس ہوئی وہ سمجھ گئی کہ وہ باہر آچکے ہیں لیکن دل ہی دل میں وہ اب بھی ڈر رہی تھی کہیں اسے مار کر پھینک نہ دیں۔۔۔
اسے گاڑی میں بیٹھا کر گاڑی سٹارٹ کی گئی تقریباً آدھے گھنٹے بعد اسے گاڑی سے باہر نکال دیا گیا۔۔۔
رائمہ نے گاڑی کے دوبارہ سٹارٹ ہونے کی آواز سنی اس نے آنکھوں سے پٹی ہٹائی تو وہ سڑک پر موجود تھی۔۔۔
عباد جو کہ رائمہ کو ڈھونڈنے کے لیے نکلا تھا سڑک کے کنارے ایک لڑکی کو بیٹھا دیکھ کر گاڑی اس طرف موڑ دی۔۔۔
چہرے پر روشنی پڑنے کی وجہ سے رائمہ کی آنکھیں چندھیا گئیں۔۔۔
رائمہ تم۔۔۔ عباد بے یقینی سے کہتا ہوا گاڑی سے باہر نکلا۔۔۔
اپنے سامنے عباد کو دیکھ کر رائمہ بے ساختہ اس کے سینے سے لپٹ کر رونے لگی۔۔۔
رائمہ تم کہاں تھی اور رو کیوں رہی ہو۔۔۔ وہ خود بھی پریشان ہو رہا تھا۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے کتنی ہی دیر اس کے سینے میں منہ چھپائے روتی رہی پھر عباد نے اسے کندھوں سے پکڑتے ہوئے خود سے الگ کیا۔۔۔
چلو گاڑی میں بیٹھو۔۔۔ گاڑی میں بیٹھاتے ہوئے عباد نے اس کے منہ سے پانی کی بوتل لگائی۔۔۔
دو گھونٹ پانی کے بھرنے کے بعد وہ پھر سے رونے لگی وہ شدید خوفزدہ تھی اس نے عباد کا ہاتھ پکڑ رکھا تھا۔۔۔۔
عباد جانتا تھا وہ ابھی کچھ بھی بتانے کی حالت میں نہیں ہے اس لیے خاموش رہا کچھ دیر بعد جب رائمہ کے رونے میں کمی آئی عباد بولا۔۔۔
کہاں تھی تم آج شام سے۔۔۔
و۔۔۔وہ مجھے ک۔۔کچھ لوگوں نے کڈنیپ۔۔۔ خوف سے اس سے بات بھی مکمل نہیں ہو پائی تھی۔۔۔
کیا۔۔۔ لیکن کس نے کیا۔۔۔
م۔۔میں نہیں جانتی عباد پلیز مجھے یہاں سے لے چلیں نہیں تو وہ لوگ کہیں پھر سے نہ آجائیں۔۔۔
وہ پھر سے رونے لگی تھی۔۔۔
میرے ہوتے ہوئے تمہیں کوئی کچھ نہیں کہہ سکتا رائمہ پلیز ڈرو مت۔۔۔ عباد نے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔
رائمہ نے اس کی طرف دیکھتے ہوئے رونا بند کیا۔۔۔
کچھ دیر کی مسافت کے بعد وہ گاڑی رائمہ کے محلے میں داخل کر چکا تھا۔۔۔
محلے والے گلی میں کھڑے طرح طرح کی چہ مگوئیاں کر رہے تھے کوئی کہہ رہا تھا رائمہ اغوہ ہو گئی ہے نہ جانے اس کے ساتھ کیا کیا ہوا ہے اور کوئی کہہ رہا تھا کہ وہ گھر سے بھاگ گئی ہے۔۔۔
جیسے ہی رائمہ اور عباد گاڑی سے باہر نکلے محلے کی ایک موٹی سی عورت بول اٹھی۔۔۔۔
کیا حالت ہوئی ہوئی ہے کس کے ساتھ منہ کالا کر کے آرہی ہو۔۔۔
اس کی بات سن کر رائمہ نے حیرت سے اسے دیکھا پھر ایک نظر خود پر ڈالی بکھرے بال ننگے پاؤں تھکن زدہ جسم۔۔۔
اسی کے ساتھ کیا ہو گا یہی آتا تھا اسے یونیورسٹی سے یہاں چھوڑنے۔۔۔ دوسری عورت نے عباد کا نام لیا۔۔۔
کیسی بے ہودہ باتیں کر رہے ہیں آپ سب آپ کو شرم نہیں آتی کسی بے گناہ پر یوں الزام لگاتے ہوئے۔۔۔
گلی میں شور سن کر رائمہ کے والدین گھر سے باہر نکلے رائمہ کو دیکھتے ہی وہ اس کی طرف لپکے۔۔۔
رائمہ میری بچی کہاں چلی گئی تھی تم۔۔۔ اس کی امی نے روتے ہوئے رائمہ کو گلے سے لگایا۔۔۔
ماں باپ کی نظروں میں دھول جھونک کر کہاں جاسکتی ہے بھلا اپنے اس عاشق کے ساتھ ہی گئی ہو گی۔۔۔
لوگوں کی باتیں سن کر رائمہ کے والدین کے پاؤں تلے زمین کھسکی۔۔۔
یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ سب میری بیٹی ایسی نہیں ہے۔۔۔ سکینہ بیگم نے کہا
تو اور کیسی بات ہے بہن رات کے تین بج رہے ہیں اور تمہاری بیٹی اس جوان لڑکے کے ساتھ آرہی ہے اب اس بات کو ہم کیا سمجھیں۔۔۔
دیکھو بھائی صاحب یہ شریفوں کا محلّہ ہے بہتر ہے آپ لوگ اپنا بوریہ بستر باندھیں اور یہاں سے چپ چاپ نکل جائیں۔۔۔
لوگوں میں سے ایک آدمی بولا۔۔۔
یہ کیسی باتیں کر رہے ہیں آپ سب ہم بھلا کہاں جائیں گے۔۔۔ رائمہ کے والد پریشانی سے بولے
عباد اور رائمہ ہونقوں کی طرح کھڑے ان سب کی باتیں سن رہے تھے جیسے انہیں اپنے کانوں پر یقین ہی نہیں ہو رہا تھا۔۔۔۔
بھئی یہ تو آپ لوگوں کا مسئلہ ہے لیکن ہم آپ جیسے لوگوں کو اپنے محلے میں نہیں رکھ سکتے۔۔۔
یہ کیسے کیسے الزام لگا رہے ہیں آپ سب ہم پر کچھ خوفِ خدا کریں آخرت میں اسے بھی منہ دکھانا ہے۔۔۔ عباد کو اب غصہ آنے لگا تھا۔۔۔
لو کر بات ایک تو چوری اوپر سے سینہ زوری ارے میاں ایک تو تم دونوں کھلے عام ناجائز کام کرتے پھر رہے ہو اوپر سے ہمیں ہی باتیں سنا رہے ہو چلو بھئی محلے والوں نکالو ان سب کو یہاں سے جوتے مار کر۔۔۔
ہاں ہاں نکلو یہاں سے ورنہ دھکے دے کر نکالیں گے۔۔۔ لوگوں کی آوازیں بڑھتی جا رہی تھیں اور رائمہ کے دل اور آنکھوں میں خوف بڑھتا جا رہا تھا۔۔۔
پھر محلے کا بزرگ مولوی صاحب جو تہجد پڑھنے کے لیے اٹھا تھا محلے میں شور شرابہ سن کر آیا۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔
مولوی صاحب کو راستہ دو سب۔۔۔
کیا معاملہ ہے یہاں۔۔۔ مولوی صاحب چلتے ہوئے آگے آئے۔۔۔
مولوی صاحب یہ لڑکا اور لڑکی رات کے تین بجے کہیں سے لوٹ رہے ہیں دیکھیں آپ بھی جانتے ہیں یہ شریفوں کا محلّہ ہے ہم ان لوگوں کو یہاں نہیں رکھ سکتے۔۔۔
مولوی صاحب نے ایک نظر روتی ہوئی رائمہ پھر پریشان کھڑے عباد کی طرف دیکھا۔۔۔
کیا یہ سچ ہے بیٹی۔۔۔ مولوی صاحب نے شفقت بھرے لہجے میں پوچھا۔۔۔
رائمہ کی آواز اس کے حلق میں اٹک گئی تھی اس کے لیے بولنا مشکل ہو رہا تھا۔۔۔
مولوی صاحب یہ بلکل سچ نہیں ہے میری بیٹی بے قصور ہے۔۔۔ رائمہ کے والد بے ساختہ بول اٹھے۔۔۔
میں اس بچی کے منہ سے سننا چاہتا ہوں جو بھی بات ہے۔۔۔
بولو بیٹی کیا یہ محلے والے سچ کہہ رہے ہیں یا تم اپنی صفائی میں کچھ کہنا چاہتی ہو۔۔۔
م۔۔میں بے قصور ہوں۔۔۔ رائمہ کی زبان سے اتنا ہی نکلا تھا کہ بے ساختہ اس کی آنکھوں سے آنسو پھسلنے لگے۔۔۔
مولوی صاحب ہم پر یقین کریں ہم شریف لوگ ہیں ہماری بچی اغوہ ہو گئی تھی اس بچے نے تو مدد کی ہے ہماری۔۔۔
رائمہ کا والد ہاتھ جوڑتے ہوئے بولا۔۔۔
بلکل غلط کہہ رہا ہے یہ اس کی لڑکی کو پہلے بھی اس لڑکے کے ساتھ آتے جاتے ہم نے کئی بار دیکھا ہے۔۔۔
چپ کرو سب میرے پاس اس مسئلے کا حل ہے۔۔۔ مولوی صاحب کی بات پر سب خاموش ہوئی۔۔۔
بیٹا کیا نام ہے تمہارا۔۔۔ مولوی صاحب نے عباد سے پوچھا۔۔۔
عباد۔۔۔ عباد کے چہرے پر حیرت اور پریشانی کے ملے جلے تاثرات تھے۔۔۔
دیکھو بیٹا تم دونوں کے درمیان جو بھی تعلق ہے وہ مجھے نہیں معلوم لیکن اس بچی کی نظر میں میں نے سچائی دیکھی ہے اور محلے والوں کو چپ کروانے کا میرے پاس ایک ہی طریقہ ہے۔۔۔
ان کی بات پر عباد نے ان کی طرف سوالیہ نظروں سے دیکھا۔۔۔
مجھے تم دونوں کا نکاح پڑھوانا ہو گا اسی صورت میں معاملہ حل ہو سکتا ہے۔۔۔
کیا ن۔۔نکاح۔۔۔ عباد کی زبان سے بمشکل یہ لفظ ادا ہوئے تھے جبکہ رائمہ کو لگا اس کے سر پر کسی نے ہتھوڑا مار دیا ہو۔۔۔
وہ ماہی کو منگیتر ہے اور اس سے نکاح کر کے اپنی دوست کا یقین بھروسہ مان سب توڑ دے یہ سوچ کر ہی اس کی جان نکل رہی تھی۔۔۔
سب محلے والے بھی ہامی بھرنے لگے سبھی مولوی صاحب کے فیصلے پر راضی ہو گئے۔۔۔۔
رائمہ کے والدین کو کچھ سمجھ نہیں آرہا تھا حالات ہی ایسے ہو گئے تھے کہ وہ سب بے بس سے ہو گئے تھے۔۔۔
جبکہ عباد کی حالت غیر ہو گئی تھی وہ ماہی سے شدید محبت کرتا تھا جو جو خواب اس نے ماہی کے نام پر سجا رکھے تھے اب وہ کسی اور پر کیسے پورے کر سکتا تھا۔۔۔
دیکھو بیٹے میں جانتا ہوں کہ یہ فیصلہ آپ دونوں کے لیے ہی آسان نہیں ہے لیکن اس کے سوا اس مسئلے کا کوئی حل نہیں آپ کو نہ چاہ کر بھی یہ نکاح کرنا ہی ہو گا۔۔۔
مولوی صاحب ان دونوں کے چہرے کے تاثرات دیکھ کر یہ جان چکے تھے کہ وہ دونوں ہی اس نکاح کے لیے رضامند نہیں ہیں اس لیے انہیں تسلی دیتے ہوئے بولے۔۔۔
لیکن مولوی صاحب میں نے ایسا کیا گناہ کر دیا ایک مجبور لڑکی کی مدد کرنا گناہ ہوتا ہے کیا۔۔۔
وہ پریشان سے لہجے میں بولا۔۔۔
میں سمجھتا ہوں بیٹا لیکن آپ حالات بھی تو دیکھو کیا ہو گئے ہیں محلے والے اس بچی اور اس کے ماں باپ کو گھر سے بے دخل کرنا چاہتے ہیں اگر اسی میں آپ سب کی رضامندی ہے تو بے شک میرے فیصلے پر عمل کرنے سے انکار کر دیں۔۔۔
عباد بیٹا ہم غریب لوگ ہیں ہمارے پاس اس چھت کے سوا اور کچھ بھی نہیں اور رائمہ کی جتنی بدنامی ہو گئی ہے اس سے کون شادی کرے گا تمہیں اللہ کا واسطہ ہے ہماری بیٹی سے نکاح کر لو اللہ تمہیں اس نیکی کا اجر ضرور عطا کرے گا۔۔۔
رائمہ کی امی عباد کے سامنے ہاتھ جوڑنے لگیں۔۔۔
انٹی پلیز ایسے مت کریں۔۔۔ عباد نے اس مجبور ماں کے ہاتھوں کو پکڑا۔۔۔
میں۔۔۔ یہ نکاح۔۔۔ کروں گا۔۔۔ بہت دیر بعد یہ لفظ اس کے حلق سے اٹک اٹک کر نکلے تھے۔۔۔
رائمہ تو جیسے کوئی بت ہی بن گئی تھی اس کا دل کسی قسم کے جذبات سے عاری تھا اس کا دماغ سائیں سائیں کر رہا تھا جسم میں جھرجھری اٹھ رہی تھیں۔۔۔
مولوی صاحب نے گواہان کی موجودگی میں نکاح پڑھوا کر ان دونوں کو دعا دی۔۔۔
محلے والے بھی مطمئن ہوتے ہوئے اپنے اپنے گھروں کی جانب چل دیے اب عباد نے رائمہ کو لے کر اپنے گھر جانا تھا اپنے ماں باپ کو وہ جس طرح سمجھائے گا یہ اس کی سمجھ سے باہر ہو رہا تھا جانے وہ رائمہ کو قبول کرتے بھی یا نہیں یہ سوچ سوچ کر اس کا دماغ پھٹ رہا تھا۔۔۔۔
گاڑی میں مکمل خاموشی چھائی تھی دو گھنٹے پہلے جب رائمہ اسی گاڑی میں عباد کے ساتھ موجود تھی تب اس کے لیے وہ ایک نامحرم تھا لیکن اب وہ اس کا شوہر تھا اور وہ اس کے ساتھ اس کی بیوی ہونے کے حق سے بیٹھی تھی۔۔۔
آدھے گھنٹے کی مسافت کے بعد عباد نے اپنے گھر کے سامنے ہارن بجایا تو گارڈ نے گیٹ کھولا۔۔۔
سفینہ نے شمیم بیگم کو بتا دیا تھا کہ عباد سے رائمہ کے والدین ملنے آئے تھے تب سے وہ گھر سے غائب ہے اب شمیم بیگم اسی پریشانی میں عباد کا انتظار کر رہی تھی جب عباد کے ساتھ گاڑی سے اترتے ہوئے رائمہ کو دیکھا۔۔
