Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 09)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 09)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
رات کے گیارہ بجے جب رائمہ سو رہی تھی فون پہ بجنے والی گھنٹی نے اس کی نیند میں خلل پیدا کیا۔۔۔
کھسمساتے ہوئے اس نے موبائل اٹھا چندھیائی آنکھوں سے سکرین کی طرف دیکھا۔۔۔
سکرین پہ اس کا نام دیکھ کر ساری نیند جھٹ سے اڑ گئی وہ بالوں کو کندھے پہ ایک طرف ڈھلکائے اٹھ کر بیٹھی۔۔۔
السلام علیکم۔۔۔
رائمہ نے بولنے میں پہل کی۔۔۔
وعلیکم السلام تم سو تو نہیں رہی تھی۔۔۔
رائمہ کی غنودگی زدہ آواز سے عباد کو شک ہوا۔۔۔
ج۔۔۔جی لیکن کوئی بات نہیں آپ نے کوئی ضروری بات کرنی تھی کیا۔۔۔
ہاں میں نے تم سے پوچھنا تھا ماہی نے تم سے کوئی کانٹیکٹ کیا کہ نہیں۔۔۔
رات کی گہری خاموشی میں اس کے کانوں میں اترتی عباد کی آواز براہِ راست اس کے دل تک پہنچ رہی تھی۔۔۔
لیکن ماہی کا نام سنتے ہی فکرمندی کے اثرات پھر سے اس کے چہرے پہ چھانے لگے۔۔۔
نہیں مجھ سے کوئی رابطہ نہیں کیا اس نے کیا ماہی کا ابھی تک نہیں پتہ چلا۔۔۔
رائمہ نے حیرت سے پوچھا ماہی کا یوں اچانک غائب ہو جانا واقعی ناقابلِ یقین تھا۔۔۔
آہ۔۔۔ عباد نے اس کا جواب سن کر ٹھنڈی آہ بھری۔۔۔
نہیں اس کا کوئی پتہ نہیں۔۔۔
پھیکے سے لہجے میں جواب دیا۔۔۔
رات ہو گئی ہے اور ماہی۔۔۔
رائمہ خاموش ہوئی آخر یہ بات بھی کوئی چھوٹی نہ تھی لڑکی چاہے امیر خاندان کی ہو یا غریب جب وہ پوری رات گھر سے باہر رہتی ہے پھر تھو تھو تو ہوتی ہی ہے۔۔۔
میں بہت پریشان ہوں رائمہ۔۔۔
کچھ پل کی خاموشی کے بعد عباد کی بھرائی ہوئی آواز اس کی سماعت میں پڑی۔۔۔
آ۔۔آپ رو رہے ہیں۔۔۔
رائمہ نے شدید حیرت سے پوچھا۔۔۔
ن۔۔نہیں بس پریشان ہوں۔۔۔ عباد نے اپنے آنسوؤں پر قابو پایا وہ کسی کے آگے خود کو کمزور نہیں دکھانا چاہتا تھا۔۔۔
عباد میرا دل کہتا ہے کہ وہ جہاں بھی ہے وہ ٹھیک ہے پلیز آپ پریشان نہ ہوں وہ مل جائے گی ان شاءاللہ۔۔۔
رائمہ نے اسے تسلی دیتے ہوئے کہا۔۔۔
ہممم ان شاءاللہ۔۔۔ اوکے تم سو جاؤ میں فون رکھتا ہوں۔۔۔
ٹھیک ہے اپنا خ۔۔خیال رکھیے گا۔۔۔
عباد نے کال بند کی اب رائمہ کی آنکھوں میں بھی نیند آنا ممکن نہ تھا وہ پہلے ہی ماہی کے لیے بہت پریشان تھی بستر پر لیٹے کب اس کی آنکھ لگی اسے معلوم نہ ہوا۔۔۔
لیکن عباد کو ماہی کے لیے روتا دیکھ کر اسے بہت دکھ ہو رہا تھا وہ اس کی دوست کا ہونے والا شوہر تھا اس کی خوشی تھا بیڈ سے ٹیک لگا کر آنکھیں موندے وہ اللہ سے ماہی کی سلامتی طلب کرنے لگی۔۔۔



بے دلی سے وہ ارہان کا جوٹھا کھانا کھا چکی تھی آخر کرتی بھی تو کیا پیٹ نے اسے کھانے پر مجبور کر ہی دیا تھا۔۔۔
اب وہ بستر پر آکر لیٹی ہی تھی کہ مچھر اس سے نہ جانے کون سے جنم کی دشمنی کا بدلہ لینے پر تلے بیٹھے تھے۔۔۔
وہ چادر لیتی تو چادر میں گھس آتے چادر اتارتی تو مچھروں کی کھلِ عام دعوت ہو جاتی۔۔۔
اب بھی ایک مچھر بھیں بھیں کرتا ہوا اس کی گال پر آکر بیٹھا۔۔۔
ماہی نے اس مارنے کے لیے ایک زور دار تھپڑ اپنی کی گال پہ رسید کیا مچھر تو اڑ گیا لیکن گال میں ہونے والی تکلیف سے ماہی کی چینخ نکل گئی۔۔۔۔
دروازہ کھولووووو۔۔۔۔
بنا رکے وہ دروازے پہ کرسی اٹھا اٹھا کر مارنے لگی اب کھانا کھا کر اس کی طاقت تو لوٹ ہی آئی تھی۔۔۔
گھر میں مچنے والے شور سے سہانا کی آنکھ کھلی۔۔۔
اور ارہان ابھی بھی جاگ رہا تھا ہونٹوں کے درمیان سگریٹ رکھے وہ دھواں چھوڑ رہا تھا۔۔۔
سٹور سے آنے والا شور سنتے ہی وہ کمرے سے باہر نکلا۔۔۔
سہانا بھی فوراً باہر آگئی تھی ولید کو جگانے کے لیے کہ کہیں ارہان نہ چلا جائے اس کے پاس۔۔۔
کیا مسئلہ ہے تمہارا۔۔۔
دروازہ کھولتے ہی ارہان نے غصے سے پوچھا۔۔۔
مسئلہ میرا نہیں تمہارا ہے یہ کہاں رکھا ہوا ہے مجھے نہ یہاں کوئی صفائی ہے نہ ڈھنگ کا بستر ہے نہ ہی اے سی ہے اور نہ ہی کوئی سپرے ہے دیکھو مچھروں نے کاٹ کاٹ کر میرا کیا حشر کر دیا ہے۔۔۔
اوہ اچھااا میں تو سمجھا کاٹنا صرف تمہارا ہی کام ہے۔۔۔
بھنویں اچکاتے ہوئے طنز سے کہا۔۔۔
زیادہ بکواس نہیں کرو مجھے اگر کڈنیپ کیا ہی ہے تو کوئی اچھا کمرہ تو دو جس میں کم از کم اے سی لگا ہو اور یہ مچھر نہ ہوں۔۔۔
یہ تمہارا گھر نہیں ہے جو تم اپنی مرضی سے رہو گی شکر کرو تمہیں کھلا چھوڑا ہوا ہے ورنہ فلموں میں دیکھا نہیں کرسی پہ باندھ کر رکھتے ہیں۔۔۔
لاپرواہی سے ارہان نے جواب دیا۔۔۔
کتنے بدتمیز انسان ہو تم اوہ میں تو بھول ہی گئی تم انسان تو ہو ہی نہیں انسان تو وہ ہوتا ہے جس میں انسانیت ہو مگر افسوس تم ایک جنگلی وحشی جانور ہو۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہاں۔۔۔
ولید کی آواز پر سن دونوں نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
میڈم کو مچھر کاٹ رہا ہے اے سی والا کمرہ مانگ رہی ہے۔۔۔
دیکھو بھائی میں ایسی جگہ پر رہنے کی عادی نہیں ہوں پلیز مجھے کوئی ڈھنگ کا کمرہ دیں ورنہ یہ مچھر میرا سارا خون پی جائیں گے۔۔۔
وہ معصوم سا منہ بنائے ولید سے کہنے لگی۔۔۔
ویسے مچھر تمہارا خون پی بھی لیں تو کیا ہوا تم کسی اور کا خون پی لینا ویسے بھی تمہاری یہی دھمکی ہوتی ہے۔۔۔
ارہان طنزیہ ہنسی ہنسا۔۔۔
تمہاری تو میں۔۔۔ ماہی نے غصے سے نچلا ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔۔۔
اوکے تم سہانا کے ساتھ سو جاؤ۔۔۔
ولید نے کہا تو ارہان حیران ہوا۔۔۔
سہانا کے ساتھ کیسے رہنے دیں ہم اس کو اگر اس نے سہانا کا قتل کر دیا تو۔۔۔
ارہان کی بات سن کر ماہی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔
میں تمہاری طرح وحشی نہیں ہوں جو کسی کا قتل کر دوں گی۔۔۔ تڑخ کر کہا
اچھا مجھے ڈنڈا مارتے ہوئے تمہاری ہی بات کہاں گئی تھی۔۔۔
اوووہ تو جناب پر میرے ڈنڈے کا نشان ابھی بھی باقی ہے۔۔۔ بتیسی نکالتے ہوئے وہ ارہان کا مذاق اڑانے لگی۔۔۔
تم دونوں تو چپ کرو مجھے کچھ سوچنے دو کیا کرنا ہے۔۔۔
ولید نے ان دونوں کی نوک جھوک سے تنگ آکر کہا۔۔۔
کرنا کیا ہے اس کو یہیں پڑا رہنے دیں۔۔۔ ارہان نے لاپرواہی سے کہا۔۔۔
میں شازل کو کہتا ہوں میرے کمرے میں آجائے یہ شازل کے کمرے میں رہ لے۔۔۔
ارہان تم رکو یہیں اس کے ساتھ میں شازل کو اٹھاتا ہوں۔۔۔
ولید کہتا ہوا لاؤنج کی طرف چل دیا۔۔۔
ہونہہ۔۔۔ ماہی نے ارہان کو دیکھتے ہوئے انگلی سے ناک رگڑی۔۔۔
ارہان نے تیوری چڑھاتے ہوئے اسے ناگواری سے دیکھا۔۔۔
ارہان لے آؤ اسے۔۔۔
ولید نے لاؤنج میں کھڑے کھڑے آواز لگائی۔۔۔
چلو۔۔۔ ارہان نے سختی سے ماہی کا ہاتھ پکڑا اس پر بھروسہ تو وہ کسی صورت بھی نہیں کر سکتا تھا۔۔۔
جیسے ہی ماہی شازل کے کمرے میں داخل ہوئی دائیں بائیں اوپر نیچے نظریں گھماتے ہوئے کمرے کا جائزہ لینے لگی۔۔۔
اب انسانوں کی طرح سو جانا۔۔۔
ارہان نے کہتے ہوئے دروازہ بند کیا۔۔۔
وحشی جانور۔۔۔ ماہی نے اس کے جاتے ہی دانت پیسے۔۔۔
یہ کمرہ اس کے اپنے گھر کے کمرے جیسا کبھی بھی نہیں ہو سکتا تھا البتہ سٹور روم سے تو سو درجے بہتر تھا۔۔۔
چھوٹا سا اے۔سی لگا ہوا تھا اور کمرے کی سیٹنگ بھی نفاست سے کی گئی تھی۔۔۔
ماہی کی نظر جیسے ہی کھڑکی پر پڑی اس کی آنکھوں میں چمک ابھر آئی۔۔۔
بھاگتے ہوئے اس نے کھڑکی کو کھولا قسمت اس کے سامنے اپنا دروازہ کھول چکی تھی۔۔۔
موقع غنیمت جانتے ہوئے اس نے واپس مڑ کر دروازے کو اندر سے لاک کیا اور بنا کوئی تاخیر کیے لان میں اتر آئی۔۔۔
لان میں موجود ایک میز اور دو کرسیاں دکھائی دیں۔۔۔
میز پر ایک کرسی رکھتے ہوئے وہ دیوار پر چڑھنے لگی اسی کوشش میں اس کی کہنی بری طرح سے دیوار سے رگڑی گئی تھی۔۔۔
آہ۔۔۔ درد سے ماہی کے منہ سے ہلکی سی چینخ نکلی لیکن جلد ہی منہ پہ ہاتھ رکھتے ہوئے چینخ کا گلا گھونٹا۔۔۔
ارہان نے جیسے ہی چینخ کی آواز سنی فوراً کمرے سے باہر نکلا۔۔۔
ماہی کے دروازے کو باہر سے کھولا تو پتہ چلا اندر سے بھی بند کیا گیا ہے۔۔۔
اوہ شٹ۔۔۔ کھڑکی کا یاد آتے ہی وہ بھاگتے ہوئے لان میں آیا دیوار کے ساتھ میز اور کرسی دیکھ کر وہ سمجھ چکا تھا ماہی بھاگ گئی ہے۔۔۔
رات کی تاریکی میں وہ خالی گلیوں میں بھاگ رہی تھی پیچھے مڑ کر دیکھنے کی غلطی بھی نہیں کی اسے یہ تو نہیں معلوم تھا کہ کس راہ جانا ہے فلحال اسے بس بھاگنا تھا۔۔۔
بھاگتے بھاگتے وہ نہ جانے کہاں آگئی تھی ہانپتے ہوئے گھٹنوں پر ہاتھ رکھا لمبی لمبی سانسیں لیتی ہوئی وہ خود کو پرسکون کر رہی تھی۔۔۔
جب اس کی سامنے نظر پڑی تو پاؤں تلے سے زمین کھسک گئی۔۔۔
موٹا تازہ بڑا سا کتا اس کے سامنے چھ انچ لمبی زبان لٹکائے ٹکٹکی باندھ کر اسے ہی دیکھ رہا تھا۔۔۔
جیسے ہی کتے نے بھونکنا شروع کیا ماہی کی رہتی سہتی امید کی کرن بھی کہیں دب گئی۔۔۔
مر گئیییی۔۔ آہ۔ہ۔۔ہ۔۔۔ اس نے الٹے پاؤں واپس کی طرف دوڑ لگائی۔۔۔
کتا بھی پوری رفتار سے اس کے پیچھے بھاگ رہا تھا جیسے ماہی نے اس کا ادھار چکانا ہو۔۔۔
ارہان جو ماہی کو ڈھونڈتا ہوا طرح طرح کی گلیوں کی خاک چھان رہا تھا اس کی آواز سن کر اس کے کان کھڑے ہوئے۔۔۔
جس طرف سے ماہی کی آواز آرہی تھی وہ اس طرف بھاگا اب ماہی کی چینخوں کے ساتھ اسے کتے کا بھونکنا بھی سنائی دینے لگا تھا۔۔۔
ماہی نے جیسے ہی سامنے دیکھا ارہان اسی کی طرف بھاگ رہا تھا اس کے پاؤں کو بریک لگی۔۔۔
جیسے ہی ماہی رکی وہ کتا بھی کھڑا ہو گیا ماہی نے آنکھیں مٹکائے کبھی آگے کبھی پیچھے دیکھا۔۔۔
آگے ارہان تھا جو کہ اسے قید کر کے رکھنا چاہتا تھا پیچھے کتا تھا جو کہ اس کے ٹکڑے ٹکڑے کرنا چاہتا تھا۔۔۔۔
ماہی کی حالت دیکھ کر ارہان نے دل ہی دل میں ایک خفیف سا قہقہ لگایا۔۔۔ ہائے بیچاری۔۔۔
کتے نے جیسے ہی دو قدم ماہی کی طرف بڑھائے ماہی نے ارہان کی طرف دوڑ لگائی اسے بھاگتا دیکھ کر کتے نے بھی سپیڈ پکڑی۔۔۔
ماہی جیسے ہی ارہان کے پاس پہنچی ارہان نے اس کا ہاتھ پکڑا اور خود بھی اس کے ساتھ بھاگنے لگا۔۔۔
فرق بس اتنا تھا کہ اب ماہی کی چینخوں میں قدرے کمی آ گئی تھی وہ بھلے ہی اس کا دشمن تھا لیکن فلحال اسے کتے سے مرنے سے بہتر ارہان کے ساتھ جانا ٹھیک لگا تھا۔۔۔
سامنے ولید گیٹ کھولے کھڑا تھا وہ دونوں بھاگتے ہوئے اندر داخل ہوئے ولید نے گیٹ بند کیا۔۔۔
اور کتا اپنا وقت برباد کرنے پر پچھتاتا ہوا واپس کی طرف مڑ گیا۔۔۔
ماہی اور ارہان دونوں لمبی لمبی سانسیں لیتے ہوئے خود کو پر سکون کر رہے تھے۔۔۔
کیا ہو رہا ہے یہ سب۔۔۔
ولید نے ارہان کو گھورتے ہوئے پوچھا۔۔۔
اسی سے پوچھیں۔۔۔ بھاگ گئی تھی۔۔۔گھر سے۔۔۔۔
سانس لیتے ہوئے وقفے وقفے سے بولا۔۔۔
کیا ارہان یہ سب مذاق نہیں ہے ہمیں اس کا کچھ کرنا ہو گا ورنہ ہمارے سارے کیے کرایے پر پانی پھر جائے گا۔۔۔
تو میں شروع سے ہی کہہ رہا ہوں کہ اس کو باندھ کہ رکھو کسی نے میری بات مانی۔۔۔؟؟ نہیں نا؟؟؟
ارہان نے فوراً اپنی صفائی پیش کی۔۔۔
ک۔۔کیا پلیز بھائی مجھے باندھنا مت میں اب نہیں بھاگوں گی پکا۔۔۔
ماہی نے ڈر کے مارے جھٹ سے کہا کیونکہ اگر اسے وہ لوگ باندھ دیتے تو دوبارہ بھاگنے کا موقع شاید نہ ملتا۔۔۔۔
ارہان فلحال اسے کمرے میں بند کرو مجھے تم سے بات کرنی ہے۔۔۔
ولید نے سنجیدگی سے کہا۔۔۔
ارہان ماہی کا ہاتھ پکڑتا ہوا اسے کمرے تک لے گیا کمرے میں بند کر کے وہ ولید کے پاس آیا جو اب لان میں پڑی کرسی پر بیٹھا تھا۔۔۔
ارہان ہمیں اس کا کچھ کرنا ہو گا یہ ہمارے لیے بہت بڑی مصیبت کا باعث بن سکتی ہے ہمیں اس معاملے کو سیریئس لینا ہو گا۔۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں آرہا اسے کب تک یوں رکھیں گے وہ بھی آخر انسان ہے ہم اسے باندھ کر بھی نہیں رکھ سکتے۔۔۔
تو پھر آپ نے کچھ سوچا ہے اس کے بارے میں۔۔۔؟؟؟
ارہان نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔
میری سمجھ سے باہر ہو رہا ہے یہ معاملہ۔۔۔
ولید نے پریشانی سے جواب دیا۔۔۔۔
بھائی یہ تو کنفرم ہے کہ ہم اسے واپس کسی صورت نہیں بھیج سکتے اس نے میرا چہرہ دیکھ لیا ورنہ یہ وقت نہ دیکھنا پڑتا۔۔۔۔
ہوں۔۔۔ ولید نے کچھ سوچتے ہوئے ہنکارا بھرا
ارہان ہمیں کچھ ایسا کرنا ہو گا کہ یہ ہمارے ساتھ رہنے پر مجبور ہو جائے مطلب کہ اس کے لیے واپسی کے سارے راستے بند ہو جائیں یا اس کا یہاں اتنا دل لگ جائے کہ واپس جانے کا نام نہ لے۔۔۔
ولید نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔
لیکن ایسا کیا ہو سکتا ہے کہ وہ واپس جانے کا سوچے بھی نہ۔۔۔
ارہان نے تجسس سے پوچھا۔۔۔
کچھ سوچتے ہوئے ولید سیدھا ہو کر بیٹھا ارہان بھی اس کی طرف پوری طرح سے متوجہ تھا۔۔۔
ارہان کیوں نہ تم اس لڑکی سے نکاح کر لو۔۔۔؟؟؟
کیا۔۔۔ ولید کی بات سن کر ارہان نے آنکھیں پھاڑتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔
آپ یہ کیا کہہ رہے ہیں یہ اتنا آسان ہے کیا نہ ہی یہ کوئی مذاق ہے۔۔۔۔
اب ارہان کو غصہ آنے لگا تھا۔۔۔
یہ مذاق نہیں ہے تبھی تو تمہیں کہہ رہا ہوں اس سے شادی کر لو اس طرح سے وہ واپس جانے کی یہ حرکت دوبارہ نہیں کرے گی ایک بار بھی وہ یہاں سے بھاگنے میں کامیاب ہو گئی تو تم بھی سوچ سکتے ہو کہ ہمارے ساتھ کیا ہو گا۔۔۔
لیکن بھائی یہ لڑکی انتہا کی بدتمیز ہے قینچی کی طرح اس کی زبان چلتی ہے میں اس کے ساتھ ہرگز نہیں رہ سکتا۔۔۔
ارہان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔
ارہان دیکھو تمہیں ایڈجسٹ کرنا ہو گا ہمیں دس سال ہو گئے ہیں کوشش کرتے آب جا کر اس شخص کا معلوم ہوا ہے اور اب ہم پیچھے نہیں ہٹ سکتے اور اگر یہ لڑکی یہاں سے گئی تو ہم پیچھے کے بھی نہیں رہیں گے سیدھا جیل میں جائیں گے۔۔۔
ولید کی بات سن کر ارہان نے ٹھنڈی سانس بھری۔۔۔
ویسے ایک اگر تم بلکل ہی راضی نہیں ہو تو میں شازل سے کہہ دیتا ہوں مجھے یقین ہے وہ میری بات نہیں ٹالے گا۔۔۔
ولید کے منہ سے شازل کا نام سن کر ارہان ولید کی طرف دیکھا۔۔۔
میں ماہی سے شادی کروں گا۔۔۔
ارہان کے یوں اچانک مان جانے پر ولید کے چہرے پر اطمینان کے تاثرات واضح ہوئے۔۔۔
تم نے صحیح فیصلہ کیا ارہان اسی میں ہماری بہتری ہے۔۔۔
اس نے ہاتھ سے ارہان کا کندھا تھپتھپایا۔۔۔
ارہان بے چینی سے چہرے پہ ہاتھ پھیرنے لگا۔۔۔
ہمیں یہ کام کل صبح ہی کرنا ہو گا۔۔۔
کیا کل صبح اتنی جلدی۔۔۔ ارہان نے شدید حیرت سے پوچھا۔۔۔
جب کرنا ہی ہے تو دیر کیسی آخر ماہی کو بھی یہاں ایڈجسٹ ہونے میں دیر لگے گی میں نہیں چاہتا کہ وہ دوبارہ بھاگنے کی کوشش کرے۔۔۔
ولید نے اسے نرمی سے سمجھایا۔۔۔
ہوں۔۔۔ ٹھیک ہے۔۔۔ ارہان کا جواب سن کر کھڑا ہوا
چلو میں اب سونے جا رہا ہوں اور اس کے کمرے کی کھڑکی کو میں نے لاک لگا دیا تھا تم بھی بے فکر ہو کر سو جاؤ۔۔۔
ہمم اوکے۔۔۔
ولید وہاں سے جا چکا تھا جبکہ ارہان وہیں بیٹھا سوچ رہا تھا کہ یہ فیصلہ اتنی اچانک کیسے ہو گیا اور وہ ماہی کے ساتھ کیسے پر سکون زندگی گزارے گا کیونکہ ماہی اس کے سامنے ایک بدتمیز لڑکی تھی۔
