Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 22)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

لیکن انکل ایسا کیوں کریں گے ارہان ان کے پاس دولت کی کمی تو نہیں ہے۔۔۔ ماہی ارہان کی بات پر حیران تھی۔۔۔

دولت کی ہوس جب ایک بار پڑ جائے تو کتنی ہی کیوں نہ ہو انسان مطمئن نہیں ہوتا چاہے وہ دنیا کا سب سے امیر آدمی ہی کیوں نہ بن جائے۔۔۔ ارہان نے لب بھینچتے ہوئے افسوس سے کہا سفینہ بیگم اور محمود صاحب کی حالت اس کو کچھ یاد دلا گئی تھی۔۔۔

آپ کے لیے میں ڈاکٹر کا بندوست کرتا ہوں جو گھر آکر آپ کا چیک اپ کیا کرے گا اور یہ بات آپ کسی کو نہیں بتائیں گے۔۔۔ ارہان نے خیالوں سے نکلتے ہوہے سپاٹ لہجے میں کہا۔۔۔

سفینہ بیگم اس غیر لڑکے کا اپنے لیے یوں پریشان ہونا دیکھ کر کشمکش کا شکار ہو گئی تھیں ماہی بھی اس سے ایسے بات کر رہی تھی جیسے وہ کوئی غیر ہی نہ ہو اور محمود صاحب کے دماغ میں بھی یہی کچھ چل رہا تھا۔۔۔

اگر نصار اور اس کی فیملی میں سے کوئی بھی آپ سے ڈاکٹر کا پوچھے تو آپ یہی کہیں گے کہ آپ کسی سے بھی چیک اپ نہیں کروانا چاہتے۔۔۔ ارہان اب محمود صاحب کی طرف دیکھتے ہوئے نرم لہجے سے انہیں کہہ رہا تھا۔۔۔

لیکن تم کون ہو۔۔۔؟؟؟ سفینہ بیگم جو کب سے الجھن کا شکار ہو رہی تھیں آخر انہوں نے پوچھ ہی لیا تھا۔۔۔

ان کے سوال پر ماہی نے چونک کر انہیں دیکھا اسے شدید شرمندگی ہو رہی تھی جب اس کے ماں باپ کو پتہ چلتا تو جانے کیا ردعمل ہوتا لیکن ماہی کا بھی تو اس میں کوئی قصور نہیں تھا یہ زبردستی کا نکاح تھا لیکن اب اسے یہ زبردستی کا نکاح بہت اچھا لگنے لگا تھا۔۔۔

آپ کا ہمدرد۔۔۔ کچھ دیر بعد ارہان کی آواز پر ماہی نے سکون کا سانس لیا تھا وہ اسی ڈر سے سانس روکے بیٹھی تھی کہ اگر ارہان نے انہیں حقیقت بتا دی تو اس کے پاپا کی حالت کہیں مزید نہ بگڑ جائے ویسے پر ان پر آئے دن ایک نیا پہاڑ ٹوٹ رہا تھا۔۔۔

میں کچھ سمجھی نہیں۔۔۔ سفینہ بیگم نے چہرے پہ سو سوال لیے کہا۔۔۔

آہستہ آہستہ سب سمجھ آ جائے گا ابھی آپ بس انکل کی صحت پر توجہ دیں۔۔۔ وہ کہتے ہوئے کھڑا ہوا

ماہی تم یہیں رہو گی نا اب ہمارے ساتھ۔۔۔ محمود صاحب کی نقاہت بھری آواز ماہی کی سماعت میں پڑی تو اس کا دل ایک لمحے کے لیے کٹ کر رہ گیا اس نے افسردہ ہو کر اپنے باپ کی طرف دیکھا پھر ارہان کی طرف جو اس کے کھڑے ہونے کے انتظار میں تھا۔۔۔

آپ کے ارد گرد بہت سے دشمن ہیں جن سے بچنے کے لیے ماہی کا یہاں رکنا مناسب نہیں۔۔۔ ارہان نے سنجیدگی سے کہا

بس نصار اور اس کی فیملی کو کچھ نہیں بتائیے گا ماہی کے بارے میں بھی اور انکل کے ساتھ وہ جو کچھ کرتے آئے ہیں اس کا بھی ذکر نہیں کرنا جب وقت آئے گا تب بات کر لیجیے گا ماہی چلو ہمیں لیٹ ہو رہی ہے۔۔۔ تفصیل سے کہنے کے بعد اس نے ماہی کی طرف رخ کیا۔۔۔

ماما پاپا کا خیال رکھیے گا میں آتی جاتی رہوں گی اور مجھے لے کر بلکل بھی فکر مند نہیں ہونا اوکے۔۔۔ وہ پیار سے محمود صاحب کے ہاتھ پر بوسہ کر لے سفینہ بیگم کے گلے ملی۔۔۔

کچھ دیر میں وہ وہاں سے نکل آئے تھے۔۔۔

تھینک یو سو مچ ارہان آپ نہ ہوتے تو ہمیں کبھی پتہ ہی نہ چلتا کہ پاپا کی طبیعت کس وجہ سے خراب ہو رہی ہے۔۔۔

کمرے کی لائٹ بند تھی وہ دونوں فاصلہ اختیار کیے بستر پر لیٹے تھے جب ماہی نے ارہان سے کہا۔۔۔

اللہ کا شکر ادا کرو میں تو بس زریعہ ہوں۔۔۔ ارہان کی آواز ماہی کی سماعت میں پڑی۔۔۔

پتہ ہے ارہان جب ہم نے پہلی بار بار کی تھی تو کتنا لڑے تھے۔۔۔ ماہی نے ہلکا سا قہقہ لگایا

ہاں تم بہت لڑاکو شاطر اور چالاک تھی۔۔۔ ارہان نے اسے چھیڑنے کے انداز میں کہا۔۔۔

کیا کہا میں لڑاکو شاطر اور چالاک تھی اور آپ تو بہت معصوم تھے نہ جیسے۔۔۔ ماہی نے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھا لیکن اندھیرے کی وجہ سے اسے ارہان کا چہرہ دکھائی نہیں دے رہا تھا۔۔۔

اور کیا میں بہت معصوم تھا اور ابھی بھی ہوں۔۔۔ تم نے ہی مجبور کیا تھا مجھے تمہارے ساتھ لڑنے پر۔۔۔ وہ بھولی سی آواز کے ساتھ بولا تو ماہی کا منہ کھلا کا کھلا رہ گیا۔۔۔

اللہ کتنا بڑا جھوٹا ہے یہ لڑکا مجھے آج بھی یاد ہے کتنی زور سے آپ نے میرا گلہ دبایا تھا میں نے تو مر ہی جانا تھا اگر شازل نہ آتا تو۔۔۔ ماہی روہانسی سی ہو کر بولی تو ارہان نے اندھیرے میں اس کا ہاتھ ٹٹولتے ہوئے پکڑا۔۔۔

سوری میں تب غصے کا بہت تیز ہوا کرتا تھا۔۔۔ ارہان کو وہ واقع سوچ کر اب دکھ ہو رہا تھا۔۔۔

اور اب۔۔۔؟؟؟

تمہارے پیار نے پتھر دل کو موم کر دیا ہے۔۔۔ ارہان اس کے ہاتھ پر دباؤ ڈالتا ہوا مسکرا کر بولا۔۔۔

ہوں۔۔۔ پتھر دل تو تھے ویسے۔۔۔ ماہی نے اس کی بات میں ہامی بھری تو وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔

ویسے لڑکیوں کے معاملے میں میں تو بہت نرم دل تھا میں۔۔۔

کیا۔۔۔کیا “لڑکیوں” کے معاملے میں۔۔۔ ماہی نے جھٹ سے پوچھا لہجہ تیکھا سا تھا اس کے جیلس ہونے پر ارہان نے ہونٹ دانتوں تلے دبایا۔۔۔

بہت لڑکیاں لائن مارتی تھیں یونیورسٹی میں۔۔۔

کیا۔۔۔ ماہی کہنی کے بل بیٹھتے ہوئے ماہی نے لیمپ آن کیا فوراً سے ارہان کی طرف تیکھی نظروں سے دیکھا۔۔۔

یہی کہ بہت لڑکیاں لائن مارتی تھیں۔۔۔ ارہان نے بھنویں آچکا کر آرام سے کہا تو ماہی جل بھن ہی گئی تھی۔۔۔

اور آپ۔۔۔ آپ کیا کرتے تھے پھر۔۔۔ ماہی کی تجسس بھری آواز سے وہ لطف اٹھا رہا تھا۔۔۔

میں۔۔۔ کچھ نہیں جو آتی تھی اس کو ہاں بول دیتا تھا۔۔۔

کیا۔۔۔ ارہان کی بات پر ماہی کی آنکھیں پھٹ پڑیں۔۔۔

تو اور کیا کرتا دل توڑ دیتا ان سب بیچاریوں کا۔۔۔ ارہان نے بھولا سا منہ بنایا تو ماہی دانت پیسنے لگی۔۔۔

جاؤ پھر جا کر رکھو دل سب کا۔۔۔ وہ لیمپ آف کرتے ہوئے سونے کے انداز میں کمفرٹر سر تک تان گئی ارہان نے بمشکل اپنی ہنسی دباتے ہوئے اس کا ہاتھ پکڑنا چاہا بستر ٹٹولنے سے اسے معلوم ہوا کہ وہ کمفرٹر اوڑھ چکی ہے۔۔۔

ارے مذاق کر رہا تھا ویسے تم کیوں جیلس ہوئی۔۔۔ ارہان کی آواز میں موجود چھیڑ خانی کو وہ پہنچان چکی تھی۔۔۔

ہونہہ جیلس ہوتی میری جوتی مجھے نیند آئی ہے اس لیے سونے لگی ہوں میں اب مجھے تنگ نہ کریں۔۔۔ کمبل کے سے اندر سے اسے جواب دیا۔۔۔

لیکن مجھے نیند نہیں آئی اور ویسے بھی تمہیں پتہ بھی ہے تنگ کرنا کسے کہتے ہیں۔۔۔؟؟؟ لب ہونٹوں تلے دباتے ہوئے سوال کیا۔۔۔

جی ہاں جو آپ ابھی مجھے کر رہے ہو۔۔۔ اس کی تڑخ کر آتی آواز سے ارہان نے بمشکل قہقہ روکا۔۔۔

اسے نہیں کہتے تنگ کرنا وہ تو ابھی کر کے دکھاتا ہوں۔۔۔ وہ آگے بڑھ کر کمبل سمیت ماہی کو اپنے حصار میں باندھ گیا۔۔۔

اممم چھوڑیں مجھے۔۔۔ ماہی کا سانس بند ہونے لگا تھا۔۔۔

تمہیں بتا رہا ہوں تنگ کرنا کسے کہتے ہیں اب چپ کر کے سو جاؤ۔۔۔ وہ ہونٹ دبا کر مسکراتا ہوا بولا

جائیں ان لڑکیوں کو جا کر کریں تنگ مجھے نہیں پسند کوئی مجھے تنگ کرے ہٹیں پیچھے میرا سانس بند ہو رہا ہے۔۔۔ ماہی نے کمبل سے ٹانگ نکال کر گھما کر ارہان کی ٹانگ پر ماری وہ کراہتا ہوا اس سے پیچھے ہوا تھا۔۔۔

میں تو نرم دل کا ہو گیا ہوں پر تم ابھی بھی اتنی ہی لڑاکو ہو۔۔۔ ٹانگ مسلتا ہوا وہ اس سے دور ہوا ماہی دل ہی دل میں اسے چار پانچ سناتی ہوئی خاموش رہی۔۔۔

کچھ دیر ارہان اس کے بولنے کا انتظار کرتا رہا پھر ماہی کی سانسوں کی آواز اس کی سماعت میں پڑی تو اسے معلوم ہوا وہ سو چکی ہے ارہان نے مسکراتے ہوئے اپنی آنکھیں بند کیں کچھ ہی دیر میں وہ بھی نیند کی وادی میں کھو چکا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

رائمہ کی آنکھ کھلی تو اسے اپنے پیٹ پر کچھ بھاری پن محسوس ہو رہا تھا آنکھیں مسلتے ہوئے پیٹ کی طرف دیکھا تو بے ساختہ منہ سے چینخ نکل گئی جسے سن کر عباد بھی گڑبڑا کر اٹھا۔۔۔

رائمہ پھٹی آنکھوں سے کبھی عباد اور کبھی اس کے ہاتھ کی طرف دیکھ رہی تھی عباد کی نظر جیسے ہی اپنے ہاتھ پر پڑی تو خجل ہوتے ہوئے پیچھے کیا اسے معلوم ہی نہیں ہوا تھا وہ کب سو گیا ورنہ اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔

بخار کیسا ہے اب۔۔۔ اس کے ردعمل کو نظر انداز کیے وہ پوچھنے لگا جبکہ دل ہی دل میں خود بھی شرمندہ سا ہو رہا تھا۔۔۔

ٹھ۔۔۔ٹھیک ہوں۔۔۔ رائمہ نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے ہوئے جواب دیا جبکہ وہ یہ سوچ رہی تھی عباد اس کے کمرے میں کیا کر رہا تھا۔۔۔

میں ناشتہ بنواتا ہوں کر کے میڈیسنز لے لینا۔۔۔ بنا اس پہ نظر ڈالتے وہ تیز قدموں سے کمرے سے باہر نکل گیا اپنے کمرے میں آکر وہ بالوں میں ہاتھ پھیرتا بیڈ پر بیٹھا۔۔۔

یہ سوچ سوچ کر خجل سا ہو رہا تھا کہ رات کیسے وہ اس کے پاس سو گیا اپنی حرکت پر اسے شرمندگی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

رائمہ کے بارے میں سوچتے ہوئے وہ کپڑے نکالے واشروم گھس گیا تھا۔۔۔

ناشتہ رائمہ کے کمرے میں بھجوا دیا تھا اس کی طبیعت ابھی مکمل طور پر ٹھیک نہیں ہوئی تھی عباد ناشتے سے فارغ ہو کر ملازمہ کو رائمہ کا خیال رکھنے کے لیے کہتا ہوا آفس کے لیے نکل گیا۔۔۔

رائمہ آج صبح ہونے والے واقعے کے بارے میں سوچ رہی تھی آخر عباد کیوں اس کے کمرے میں اس کے پاس لیٹا تھا۔۔۔

اور میں۔۔۔ میں پوری رات سوئی رہی کتنی بے وقوف ہوں میں۔۔۔ اپنے ہی سر پر تھپکی لگاتے ہوئے وہ گلال سی ہوئی عباد کی قربت کو سوچ سوچ کر سانسیں حلق میں اٹکنے لگی تھیں۔۔۔

وہ اسی سوچ میں گم بیٹھی تھی کہ اس کے موبائل کی گھنٹی بجی موبائل اٹھا کر دیکھا تو عباد کا نمبر سکرین پر جگمگا رہا تھا اچانک رائمہ کے دل کی دھڑکن تیز ہوئی سانسیں پھولنے لگی تھیں۔۔۔

کپکپاتے ہاتھوں سے موبائل کان کو لگایا تو اس کی دلکش آواز کانوں میں رس گھول گئی تھی۔۔۔

طبیعت کیسی ہے اب لنچ کر کے میڈیسنز لے لی ہیں کیا۔۔۔

ن۔۔نہیں و۔۔وہ میرا دل نہیں تھا لنچ کرنے کو۔۔۔ رائمہ سر ایسے جھکا گئی تھی جیسے وہ اس کے سامنے ہی بیٹھا ہو۔۔۔

ابھی لنچ کرو اور میڈیسنز لو ابھی بھی ٹیمپریچر ہے تمہیں معلوم ہے مجھے۔۔۔

رائمہ دل میں سوچنے لگی اس نے کب اسے چھوا جو اسے معلوم ہو کہ اسے ابھی بھی ٹیمپریچر ہے پھر صبح والا واقع یاد کرتے ہوئے گال دہکنے لگے۔۔۔

رائمہ کی خاموشی پر عباد نے زور سے آنکھیں میچ کر کھولیں اور اپنی بات پر غور کیا۔۔۔

اوکے اپنا خیال رکھنا میں جلدی گھر آجاؤں گا۔۔۔ وہ کال منقطع کر گیا تھا جبکہ وہ بت بنی بیٹھی تھی وہ کیوں اس کا اتنا خیال کرنے لگ گیا تھا کیا وہ بھی اسے۔۔۔ نہیں نہیں شاید وہ اپنی اس رات والی غلطی کا ازالہ کرنا چاہتا ہے۔۔۔ دماغ نے دل کی نفی کی تھی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

آپا آپ بھائی کو گھر کیوں کے آئیں ابھی تو ان کا ٹریٹمنٹ جاری تھا۔۔۔ گھر آتے ہی نصار نے سفینہ بیگم سے پوچھا تھا۔۔۔

محمود کا دل گھبرا رہا تھا ہاسپٹل میں اس لیے ڈسچارج لے لیا۔۔۔ سفینہ بیگم نے سخت لہجے میں جواب دیا تو اسے دیکھتا ہی رہ گیا آج سے پہلے اس نے کبھی اس طرح سے بات نہیں کی تھی۔۔۔

اور میڈیسنز لے رہے ہیں وہ وقت پر۔۔۔

نصار کے اس سوال پر سفینہ بیگم کے جبڑے پیوست ہوئے۔۔۔

نہیں ان کا فلحال کوئی بھی میڈیسنز لینے کو دل نہیں کرتا جب کہیں گے تب دیکھی جائے گی۔۔۔

لیکن آپا ایسے تو ان کی طبیعت مزید بگڑ جائے گی۔۔۔

میں نے کہا نا ابھی ان کا دل بھر گیا ہے میڈیسنز سے۔۔۔ سفینہ بیگم کا لہجہ سخت ہوا۔۔۔

کیا ہوا ہے کوئی پریشانی ہے تو مجھے بتائیں۔۔۔ اسے لگا شاید سفینہ بیگم کسی پریشانی کی وجہ سے غصے میں ہیں۔۔۔

نہیں کوئی پریشانی نہیں ہے اللہ ہے سب ٹھیک کر دے گا۔۔۔

جی بلکل۔۔۔ نصار صاحب نے چور نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

ارہان نے ڈاکٹر ارینج کر لیا تھا اور اسے محمود صاحب کے گھر کا پتہ دے کر ان کی طبیعت کے بارے میں پوری تفصیلات بتا دی تھیں ڈاکٹر نے ان کا چیک اپ کرنے کے بعد جو دوا لکھ کر دی تھی اسے کھانے کے بعد محمود صاحب پہلے سے بہتر محسوس کر رہے تھے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ولید نہیں نا بس اور کتنا کھلائیں گے آپ مجھے۔۔۔ وہ منہ بسورے اس کی منتوں پر اتر آئی تھی مگر وہ تھا کہ اس کی بات سننے کو تیار ہی نہیں تھا۔۔۔

بس تھوڑا سا اور کھا لو۔۔۔ سوپ کا باؤل ہاتھ میں لیے چمچ بھر کر اس کے منہ کے آگے کیے ہوئے بڑے لاڈ سے اسے منا رہا تھا۔۔۔

لیکن کیا فایدہ کھانے کا پھر سے وومٹ ہو جائے گی۔۔۔ اس نے منہ پھولایا تھا۔۔۔

کچھ تو اندر جائے گا نہ مجھے کمزور سا چوزے جیسا بے بی نہیں چاہیے مجھے موٹا تگڑا بے بی چاہیے سمجھی۔۔۔ پیار سے اسے دیکھتے ہوئے بولا تو اس نے آنکھیں پھیلائیں۔۔۔

اب میرا نہیں دل کرتا تو کیا کروں پتہ ہے کتنی بڑی فیلنگ آتی ہے جب وومٹ ہوتی ہے تو۔۔۔ وہ روہانسی ہو گئی تھی ولید نے باؤل میز پر رکھتے ہوئے اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیا۔۔۔

نیلم تم میں میری جان بسی ہے تمہیں زرا بھی تکلیف ہو تو مجھے دگنی تکلیف محسوس ہوتی ہے ہم ایک ہی بے بی کے ساتھ پوری زندگی گزاریں گے میں تمہیں بار بار تکلیف میں نہیں دیکھ سکتا۔۔۔ پیار سے کہتے ہوئے اس کی پیشانی پر لب رکھے تو وہ سکون سے آنکھیں موند گئی۔۔۔

مجھے پتہ ہے آپ کتنا پیار کرتے ہیں مجھ سے مجھے کبھی بھی آپ کی محبت پر شک نہیں ہوا ولید۔۔۔ اس کے سینے سے سر ٹکائے محبت سے جواب دیا۔۔۔

ولید بھائی۔۔۔

شازل کی آواز سے وہ ایک دم سے ہوش میں آیا تھا۔۔۔

بھائی کیا ہوا آپ۔۔۔۔۔ ولید کی آنکھوں میں نمی دیکھ کر اس نے فکرہ ادھورا چھوڑا تھا۔۔۔

بھائی بھابھی کو یاد کر رہے ہیں۔۔۔ شازل نے دکھ سے پوچھا۔۔۔

اسے بھولا ہی کب ہوں میں۔۔۔ درد بھری مسکراہٹ ہونٹوں پہ سجاتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

بھائی شادی کر لیں کب تک تنہا رہیں گے۔۔۔ شازل اور ارہان کئی بار ولید کو کہہ چکے تھے لیکن وہ ہر بار انکار کر دیتا تھا۔۔۔

پلیز شازل مجھے شادی کے لیے نہ کہا کرو میں نے شادی کی تھی۔۔۔ ولید کے چہرے پہ چھپا دکھ وہ صاف دیکھ سکتا تھا۔۔۔

بھائی زندگی ایک ہی جگہ نہیں رک جاتی یہ آپ سے بہتر کون جان سکتا ہے کیا کیا نہیں ہوا ہم سب کے ساتھ ہمارا سہارا بننے والے آپ ہی تو تھے اور آج دیکھیں ہم کامیابی کی آخری سیڑھی پر ہیں۔۔۔ شازل نے اس کے کندھے پہ ہاتھ رکھتے ہوئے فخر سے کہا۔۔۔۔

وہ بات اور ہے شازل لیکن محبت صرف ایک بار ہوتی ہے اور میں نیلم کو چاہ کر بھی نہیں بھول سکتا پھر کسی معصوم کو ادھوری زندگی دے کر اس کی زندگی کیوں خراب کروں۔۔۔

بھائی یقین کریں نکاح میں بہت طاقت ہوتی ہے اگر ہم دشمن سے بھی نکاح کریں تو اللہ دونوں کے دلوں میں محبت ڈال ہی دیتا ہے نکاح کے تین لفظ دنیا کے سب سے طاقتور بول ہے۔۔۔

ہممم ٹھیک کہہ رہے ہو تم اور بتاؤ سہانا کو خوش رکھ رہے ہو نا۔۔۔ اس نے شازل بات کو ٹال دیا تھا۔۔۔

ہر بار کی طرح آج بھی آپ نے بات ٹال دی۔۔۔ شازل نے منہ بسورا تو ولید نے اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتے ہوئے اس کے بال بگاڑے۔۔۔

اور فکر نہ کریں سہانا کی آنکھوں میں کبھی آنسو نہیں دیکھیں گے آپ۔۔۔ بڑے مان سے کہا تھا ولید مسکرا کر اس کی طرف دیکھتا ہوا اثبات میں سر ہلانے لگا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *