Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 28)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

عباد کو غائب ہوئے آج پورا ایک ہفتہ گزر چکا تھا اس میں اتنی ہمت بھی نہ تھی کہ اسے ایک بار فون کر کے یوں اچانک چلے جانے کی وجہ پوچھ سکے۔۔۔

کیا وہ اس کے ساتھ خوش نہیں تھا؟؟؟ کیا وہ اس رات بہک گیا تھا؟؟؟ طرح طرح کے سوالات اس کے دماغ میں ابھر رہے تھے دل عجیب طرح سے گھبرا رہا تھا۔۔۔

آج رات بھی وہ بستر پہ لیٹی اسی کے خیالوں میں گم سم تھی کہ اس کی سماعت میں ولید کی آواز پڑی وہ ایک جھٹکے سے اٹھ کر بیٹھی تھی تیزی سے دروازے کی طرف لپکی وہ ملازمہ کے ساتھ بات کرتا ہوا لاؤنچ میں کھڑا دکھائی دیا۔۔۔

رائمہ ہونقوں کی طرح اسے دیکھ رہی تھی کیا کچھ نہیں تھا اس کی آنکھوں میں حیرت، گھبراہٹ، اور محبت جسے اب وہ اس سے چھپا نہیں سکتی تھی۔۔۔

دروازہ کھلنے کی آواز پر عباد کی نظر اچانک اس طرف اٹھی اس سے نظریں مل جانے پر وہ مجرموں کی طرح نظروں کا رخ بدل گیا اس بات نے رائمہ کو مزید پریشان کر دیا تھا۔۔۔

ظالم ایک ہفتے بعد گھر آیا تھا اور اس سے حال تک پوچھنا بھی گوارہ نہیں کیا سیدھا اپنے کمرے میں جا کر ٹھک سے دروازہ بند کر گیا تھا۔۔۔

وہ وہیں مجسم بنی کھڑی تھی پھر کچھ سوچتے ہوئے ملازمہ کی طرف چلنے لگی۔۔۔

ک۔۔کیا کہہ رہے تھے عباد۔۔۔

کمرے میں کھانا بھیجنے کا کہا ہے اور کچھ نہیں کہا۔۔۔ ملازمہ اسے جواب دے کر ہاتھ باندھے کھڑی ہوئی رائمہ نے اسے ہاتھ سے اپنا کام کرنے کا اشارہ کیا تو وہ سر جھکائے کچن کی طرف چلنے لگی۔۔۔

سنو کھانا تیار کر لو تو مجھے بتانا میں ان کے کمرے میں لے جاؤں گی۔۔۔

رائمہ کی بات پر ملازمہ سر ہلا گئی اور رائمہ وہیں لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھی عباد کے کمرے کے دروازے پر ٹکٹکی باندھے دیکھنے لگی تھی۔۔۔

عباد فریش ہو کر نکلا وہ صرف ایک ٹراؤزر میں ملبوس تھا تولیے سے بال صاف کرتا ہوا بیڈ کے نزدیک کھڑا ہوا جب رائمہ بنا دستک دیے کھانے کی ٹرے ہاتھ میں اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی۔۔۔

عباد کو یوں دیکھ کر اسے شدت سے ندامت کا احساس ہوا وہ دستک دینا کیسے بھول گئی تھی۔ عباد تولیہ ایک طرف رکھتے ہوئے شرٹ اٹھا کر پہنے لگا رائمہ نے ٹرے میز پر رکھی اور وہ شرٹ کے بٹن بند کرتا ہوا صوفے پر بیٹھا۔۔۔

اس نے خاموشی سے کھانا شروع کیا جبکہ وہ یوں ہی انگلیاں چٹختی اس کے سر پر کھڑی تھی عباد نے بھی پوچھنے کی زحمت نہ کی۔۔۔

آپ۔۔۔ ایک ہفتے سے۔۔۔ نہیں آئے۔۔۔

اسے اپنے سامنے بیٹھا دیکھ کر دل زوروں سے دھڑک رہا تھا وہ ہمت جمع کرتے ہوئے اٹک اٹک کر بولنے لگی تھی۔۔۔

بیزی تھا آفس میں۔۔۔ اس نے سرسرہ سا جواب دیا جس پر وہ مطمئن نہیں ہونے والی تھی۔۔۔

مجھ سے۔۔۔ کوئی غلطی ہو گئی ہے کیا۔۔۔

اس کے الفاظ پر عباد کا نوالہ پکڑا ہوا ہاتھ ہوا میں معلق رہ گیا ایک نظر رائمہ کی طرف دیکھا جو ابھی رو دینے والی صورت لیے کھڑی تھی۔۔۔

نہیں۔۔۔ پھر سے نوالہ منہ میں رکھا۔۔۔

رائمہ کو عجیب الجھن ہو رہی تھی وہ سیدھے سے بات کیوں نہیں کر رہا تھا کچھ دیر ویسے ہی کھڑی رہی عباد کی طرف سے کوئی ردعمل نہ آیا تو اپنے کمرے میں واپس آ گئی تھی تکیے میں چہرہ چھپائے بے آواز رونے لگی۔۔۔

وہ روتے روتے جانے کب یوں ہی سو گئی تھی عباد نے دھیرے سے اس کے کمرے کا دروازہ کھولا اور اس کی طرف قدم بڑھائے۔۔۔

وہ تکیے پہ سر رکھے سمٹ کر لیٹی تھی اس کی ایک رخسار تکیے میں چھپی تھی جبکہ دوسری رخسار دکھائی دے رہی تھی جس پہ آنسوؤں کے نشان ابھی بھی موجود تھے۔۔۔

عباد اس کے پاس بیٹھتا ہوا یوں ہی اسے دیکھتا رہا عجیب کشمکش کا شکار ہو گیا تھا وہ۔۔۔

وہ نیند میں بھی اس کی نظروں کی تاب نہ لا سکی تھی دھیرے سے آنکھیں کھولیں تو اسے اپنے پاس بیٹھے پایا دونوں ہاتھ بستر پہ رکھتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھ گئی تھی۔۔۔

دونوں بنا کچھ کہے ایک دوسرے کی آنکھوں میں دیکھ رہے تھے رائمہ کی آنکھیں سرخ ہو رہی تھیں جبکہ وہ عباد کی آنکھوں میں کچھ ایسا دیکھ رہی تھی جو آج سے پہلے اس نے کبھی نہ دیکھا تھا۔۔۔

عباد نے آگے بڑھتے ہوئے اس کے ہاتھ کو اپنے مضبوط ہاتھ کی گرفت میں لیا۔۔۔

آئم سوری اتنے دن تمہیں تکلیف میں رکھنے کے لیے۔۔۔ دوسرے ہاتھ سے اس کی گال کو سہلاتے ہوئے بولا اس کے لمس سے رائمہ تو جیسے مجسم ہو گئی تھی۔۔۔

سات دن خود سے لڑتا رہا ہوں یہی سوچتا رہا کہ اس رات بے خودی کے عالم میں وہ سب کچھ کر بیٹھا کیونکہ محبت تو ماہی سے کرتا ہوں لیکن اب۔۔۔ اب جانے کیوں مزید تم سے دور نہیں رہا جاتا سات دنوں میں ایک پل بھی ایسا نہیں گزرا کہ تمہاری یاد نہ آئی ہو شاید ماہی سے دل لگی تھی اور اصلی محبت تو اب ہوئی ہے اور تم سے ہوئی ہے۔۔۔

ہنوز اس کی گال سہلاتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھ کر بولا رائمہ تیزی سے اس کے سینے میں چہرہ چھپائے رونے لگی عباد نے اسے خود میں بھینچ لیا تھا۔۔۔

آ۔۔آپ پھر تو چھوڑ کر نہیں جائیں گے نا۔۔۔ اس نے روتے ہوئے پوچھا

نہیں کبھی ایسے نہیں کروں گا کبھی چھوڑ کر نہیں جاؤں گا میرا وعدہ ہے تم سے۔۔۔ اس کے سر پر بوسہ دیتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔

رائمہ نے سکون سے آنکھیں بند کیں اس کے وعدے پر اس کے آنسو تھمے تھے اس انسان پر وہ خود سے بھی زیادہ بھروسہ کرتی تھی۔۔۔

عباد نے اسے خود سے الگ کرتے ہوئے چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں بھرا اور اس کے ایک ایک نقش پر اپنے ہونٹ رکھنے لگا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

کیا؟؟؟ تم نے شادی کر لی۔۔۔؟؟؟

سفینہ بیگم پھٹی آنکھوں سے ماہی کو دیکھ رہی تھیں جو سر جھکائے ان کے پاس بیٹھی تھی۔۔۔

ماما میں آپ کو پوری بات بتا تو چکی ہوں میں نے یہ شادی اپنی مرضی سے نہیں کی تھی لیکن۔۔۔ ارہان بہت اچھا ہے اور اب میں اس کے ساتھ خوش ہوں۔۔۔

اس نے جھچکتے ہوئے کہا۔۔۔

لیکن ماہی تم نے ہمیں بتانا بھی گوارہ نہیں کیا دو ہفتوں سے تمہارا ہمارے ساتھ رابطہ ہے اتنی بڑی بات تم نے ہم سے چھپائی رکھی۔۔۔

ماما آپ کو میں نے ارہان کے بارے میں سب کچھ بتا دیا ہے یہ سب باتیں مجھے خود پہلے معلوم نہیں تھیں اسی لیے ارہان نے مجھے آپ کو بتانے سے منع کیا تھا اسے معلوم تھا آپ اور پاپا اس رشتے کو قبول نہیں کریں گے اور میں آپ کو پہلے بھی بتا چکی ہوں میری ہی کم عقلی کی وجہ سے نوبت نکاح تک پہنچی تھی۔۔۔

تمہارے پاپا کو معلوم ہو گا تو کیا ری ایکٹ کو گا ان کا کہیں انہیں پھر سے ہارٹ اٹیک۔۔۔

اللہ نہ کرے کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ پاپا کو کچھ نہیں ہو گا ارہان کیسا ہے یہ وہ دیکھ چکے ہیں آج پاپا چلنے کے قابل ہوئے ہیں تو صرف ارہان کی وجہ سے اگر وہ میڈیسنز نہ دیکھتا تو ہم نے تو پاپا کو وہی میڈیسنز کھلا کھلا کے جانے کس سٹیج تک پہنچا دینا تھا۔۔۔

اس کی بات پر سفینہ بیگم خاموش ہوئیں کہہ تو وہ ٹھیک ہی رہی تھی ارہان انہیں کسی بھی طرح سے برا نہیں لگا تھا۔۔۔

ارہان بہت اچھا ہے ماما ہم نے نیا گھر لیا ہے اور میں اور ارہان آپ دونوں کو لینے آئے ہیں تا کہ آپ ہمارے گھر آکر ہمیں ڈھیر ساری دعائیں دیں۔۔۔ ماہی نے ان کا ہاتھ پکڑ کر محبت سے کہا۔۔۔

اور تمہارے پاپا۔۔۔ سفینہ بیگم نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

میں ارہان کے پاس جا رہی ہوں لاؤنچ میں آپ پاپا کے پاس جائیں اور انہیں سب بتائیں مجھے یقین ہے پاپا کو بھی ارہان سے کوئی مسئلہ نہیں ہو گا۔۔۔ ماہی نے اعتماد سے کہا تو سفینہ بیگم بھی اثبات میں سر ہلا گئیں لیکن اچانک اس رشتے کو وہ دماغی طور پر قبول نہیں کر پا رہی تھیں۔۔۔

ماہی لاونچ میں ارہان کے پاس آکر بیٹھی مسکراتے ہوہے اسے دیکھنے لگی ارہان چائے کا کپ میز پر رکھتا ہوا نظروں سے اسے سفینہ بیگم کا ردعمل پوچھنے لگا۔۔۔

ماما نے غصہ نہیں کیا اب پاپا کو بتانے گئی ہیں مجھے معلوم ہے پاپا بھی غصہ نہیں کریں گے آخر ان کے داماد نے ان کا اعتماد جو جیت لیا ہے۔۔۔ نچلا ہونٹ دانتوں تلے دباتے ہوئے مسکرا کر کہا۔۔۔

یہ نہ ہو گھر سے دھکے دے کے نکال دیں۔۔۔ ارہان نے بھی مسکرا کر شرارت سے کہا تو ماہی نے اسے گھوری سے نوازہ۔۔۔

ایسے نہیں ہیں میرے پاپا بہت نرم دل ہیں وہ۔۔۔

اچھا جی وہ تو ابھی معلوم ہو گا کیا ری ایکشن ہو گا ان کا۔۔۔ ویسے اگر انہوں نے مجھے دھکے دے کر نکال دیا تو یہ نہ ہو تمہیں اپنے پاس ہی رکھ لیں۔۔۔ ارہان نے مصنوعی ڈرتے ہوئے کہا۔۔۔

ایسے رکھ لیں گے میں تو جاؤں گی آپ کے ساتھ ہی اپنی گھر۔۔۔ وہ جھٹ سے بولی۔۔۔

اتنی جلدی ہے شوہر کے ساتھ گھر جانے کی۔۔۔ معنی خیز کہا کہتے ہوئے مسکرایا تو ماہی نے زور سے اس کے پاؤں پہ اپنا پاؤں مارا ارہان اسے گھور کر رہ گیا۔۔۔

تبھی محمود صاحب سفینہ بیگم کے ساتھ لاونج میں داخل ہوتے دکھائی دیے وہ دونوں جھٹ سے سیدھے ہو کر بیٹھے چہرے کے تاثرات بھی سنجیدہ ہو چکے تھے۔۔۔

محمود صاحب نے سخت نظروں سے ان دونوں کی طرف دیکھا ماہی کی سانس حلق میں ہی اٹک گئی تھی جبکہ ارہان نظریں جھکا گیا تھا۔۔۔

محمود صاحب نے آگے بڑھتے ہوئے مسکرا کر ماہی کے سر پر ہاتھ رکھا تو اس کی اٹکی ہوئی سانسیں بحال ہوئیں فوراً اٹھ کر ان کے سینے سے سر ٹکا دیا۔۔۔

میری بیٹی کبھی غلط نہیں کر سکتی لیکن میرے داماد نے بہت غلط کیا۔۔۔ محبت سے ماہی کو کہہ کر خفگی سے ارہان کو دیکھا جو اب آنکھیں کھولے انہیں دیکھ رہا تھا۔۔۔

ایسے زبردستی تو غنڈے کرتے ہیں دکھنے میں تو اچھے بھلے لگتے ہو۔۔۔ وہ صوفے پر بیٹھے ماہی بھی ان سے چپکتے ہوئی بیٹھ گئی۔۔۔

اہم۔۔اہم۔۔۔ وہ۔۔ انکل ماہی تو میرا سکیچ بنوا کر پولیس کو دینے کی باتیں کر رہی تھی۔۔۔

ارہان نے ہچکچاتے ہوئے انہیں وجہ بتائی جس پر محمود صاحب نے حیرت سے ماہی کی طرف دیکھا۔۔۔

صحیح وقت پر عقل کا استعمال کرتے ہیں اب ارہان کی جگہ کوئی اور ہوتا تو۔۔۔ زندگی بھر پچھتاوا رہنا تھا۔۔۔ محمود صاحب نے ماہی کو ڈپٹنے کے انداز میں کہا جس پر وہ منہ بسور گئی۔۔۔

سفینہ بیگم محمود صاحب کے ردعمل پر مطمئن ہو گئی تھیں اب وہ ماہی اور ارہان کو یوں خوش دیکھ کر دل سے دعا دے رہی تھیں۔۔۔

چلو اب اپنا گھر دکھاؤ ہمیں۔۔۔ انہوں نے مسکراتے ہوئے ماہی اور ارہان دونوں کو مخاطب کیا جس پر وہ دونوں ہی چمکتی آنکھوں سے ایک دوسرے کو دیکھنے لگے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

آج نصار صاحب نے اپنا گھر بیچنا تھا بزنس کے لیے انہوں نے بڑے پیمانے پر قرضہ لے لیا تھا کہ وہ پیسے بھی ڈوب چکے تھے اب نہیں گھر بیچ کر قرضہ چکتا کرنا تھا۔۔۔

شمیم نے رو رو کر حالت خراب کر رکھی تھی جبکہ نصار صاحب بیمار پڑ گئے تھے۔۔۔

گھر بیچنے کا سن کر عباد کے تو ہوش ہی اڑ گئے تھے وہ سر پکڑے بیٹھا تھا۔۔۔

نصار اور شمیم نے محمود اور سفینہ کو کئی بار فون کیا لیکن ان کی کسی کال پر کوئی ردعمل نہیں مل رہا تھا وہ ایک ماہ سے نوٹ کر رہے تھے محمود اور سفینہ انہیں نظر انداز کر رہے تھے۔۔۔

گھر بیچنے کے بعد عباد انہیں اس گھر لے آیا جہاں اس نے رائمہ کو رکھا تھا۔۔۔

آنٹی مت روئیں اللہ سب بہتر کرے گا۔۔۔ رائمہ ان کی طرف پانی کا گلاس بڑھاتی ہوئی بولی۔۔۔

شمیم بیگم نے پانی کا گلاس پکڑ کر دو گھونٹ حلق سے نیچے اتارے اور گلاس واپس اسے پکڑایا۔۔۔

سب کچھ برباد ہو گیا کچھ نہیں رہا ہمارے پاس گھر تک بک گیا۔۔۔ رونے کی وجہ سے ان کی آواز بھاری ہو رہی تھی۔۔۔

رائمہ بھی پریشان ہو گئی تھی آخر یہ بات کوئی چھوٹی تو نہ تھی۔۔۔

عباد نے نصار صاحب کو دوا کھلا کر سلا دیا تھا ان کی طبیعت کافی ناساز ہو چکی تھی۔۔۔

ماما سب پہلے جیسا ہو جائے گا میں ہوں نا آپ کے ساتھ پلیز رونا بند کریں مجھے تکلیف ہوتی ہے۔۔۔

وہ ان کے پاس بیٹھ کر ان کے ہاتھ پکڑتا ہوا بولا تو شمیم بیگم کے رونے میں اور تیزی آ گئی تھی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ماہی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی چہرے پہ لوشن لگا رہی تھی اس کے والدین کچھ دیر پہلے ہی گئے تھے وہ ارہان کی فیملی سے ملنے کے بعد بلکل مطمئن ہو گئے تھے۔۔۔

ارہان فریش ہو کر نکلا تو بے ساختہ اس پر نگاہیں اٹھیں۔۔۔

ہلکے جامنی رنگ کے نائٹ سوٹ میں ملبوس وہ ریشم سے بالوں کو شانو پہ ڈھلکائے رات کے ملکہِ حسن ہی لگ رہی تھی۔۔۔

ارہان کے قدم بے خودی کے عالم میں اس کی طرف بڑھنے لگے وہ ہاتھوں پہ نظر جمائے لوشن سے مساج کر رہی تھی جب ارہان نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیا ماہی کو جیسے ارتھ لگا تھا جھٹ سے شیشے میں ارہان کو دیکھا جو آنکھیں بند کیے اس کے کندھے پہ لب رکھ چکا تھا۔۔۔

ارہان۔۔۔ گھبراہٹ سے اس کا نام پکارا دھڑکن آسمانوں سے باتیں کرنے لگی تھیں۔۔۔

ہممم۔۔۔ بھاری آواز میں اس کے کان میں سرگوشی کی پھر کان کی لو پر لب رکھے۔۔۔

مجھے۔۔۔ سونا ہے ارہان۔۔۔

وہ گھبراتی ہوئی خود کو اس کی گرفت سے نکالنے لگی کہ ارہان نے گرفت کو مضبوط کیا۔۔۔

آج نہیں سونا۔۔۔

وہ گھمبیر آواز میں بولا ماہی کو چودہ طبق روشن ہوتے دکھائی دینے لگے تھے۔۔۔

ک۔۔کیوں نہیں سونا مجھے نیند آئی ہے۔۔۔

اس نے تیزی سے رخ موڑ کر ارہان کی طرف دیکھا اسے دیکھتے ہی وہ ساکت ہوئی۔۔۔

ارہان کی ایسی خمار آلود آنکھیں اس نے آج پہلی بار دیکھی تھیں اس نے فوراً نظریں جھکا لیں وہ اس کی آنکھوں میں مزید نہیں دیکھ سکتی تھی۔۔۔

ارہان نے ٹھوڑی سے پکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کیا ماہی نے آنکھیں سختی سے بند کیں۔۔۔

آنکھیں کھولو۔۔۔

ارہان کی بھاری آواز پر اس نے زور زور سے نفی میں سر ہلایا۔۔۔

ماہی۔۔۔ آنکھیں کھولو۔۔۔

اس کے دوسری بار کہنے پہ ماہی نے جیسے ہی آنکھیں کھولیں وہ اس کے چہرے کو ہاتھوں میں لیتے ہوئے جھک گیا۔۔۔

ماہی نے زور سے آنکھیں میچ لیں ڈریسنگ ٹیبل کا سہارا لیتے ہوئے اس نے خود کو گرنے سے بچایا تھا۔۔۔

وہ اسے باہوں میں بھرتا ہوا بیڈ کی طرف لے گیا پھر کمرے میں ملگجا سا اندھیرا چھا گیا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *