Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 25)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 25)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
ولید نے بوجھل پلکوں کو آنکھوں سے اٹھایا تھا تین چار بار پلکیں جھپکنے کے بعد وہ بمشکل اپنی آنکھوں کو کھلا رکھنے میں کامیاب ہوا تھا نڈھال ہوتے جسم کو قوت سے اٹھاتے ہوئے وہ اٹھ کر بیٹھا آس پاس نظر دوڑائی تو آنکھیں پھٹنے کو تھیں اس کے سامنے ارہان شازل اور سہانا بے ہوش پڑے تھے۔۔۔
آہستہ آہستہ کچھ گھنٹے پہلے ہونے والا سارا منظر آنکھوں کے گرد فلم کی طرح چلنے لگا تھا۔۔۔
ارہان۔۔۔ شازل۔۔۔ ولید انہیں پکارتا ہوا زمین پر کھسکتا ہوا ان کے پاس جا رہا تھا ہاتھ پیچھے کی جانب بندھے تھے اور دونوں پاؤں کو جوڑ کر باندھا گیا تھا۔۔۔
ارہان۔۔۔ گھٹنے سے ارہان کو ہلاتے ہوئے اسے جگانے کی کوشش کرنے لگا۔۔۔۔
کمرے میں اوپر سے لے کر نیچے تک نظر دوڑائی شاید یہ کوئی خستہ حال سا مکان تھا جس کے ایک کمرے میں وہ چاروں موجود تھے چھتوں پر گز گز لمبے جالے نیچے کی طرف لٹک رہے تھے فرش بھی دھول مٹی سے بھرا تھا۔۔۔
ارہان ہلکا سا کھسمسایا کہ ولید نے اسے پھر سے پکارنا شروع کیا اس ڈر سے کہ وہ پھر سے بے ہوش نہ ہو جائے۔۔۔
ارہان کو اپنے سر میں شدت سے اٹھتا درد محسوس ہو رہا تھا سر پکڑنے کے لیے اس نے ہاتھ آگے بڑھانا چاہا مگر ہاتھ پیچھے کمر پہ بندھے ہونے کی وجہ سے ناکام رہا۔۔۔
آنکھیں کھولے بائیں جانب شازل اور سہانا پر نظر پڑی تو چہرہ زرد پڑ گیا خوف کے مارے اس نے حلق تر کیا لیکن جیسے ہی اپنی دائیں جانب ولید کو جاگتا دیکھا تو کچھ سکون محسوس ہوا تھا۔۔۔
بھ۔۔بھائی ہم کہاں۔۔۔ ارہان نے خوف سے نظریں کمرے میں دوڑائیں۔۔۔
پتہ نہیں مجھے خود نہیں معلوم ہمیں کون لوگ اغوہ کر لائے ہیں۔۔۔ ولید بھی ڈرا ہوا تھا وہ اکیلا ہوتا تو یہاں سے بھاگنا شاید اس کے لیے آسان ہوتا لیکن اس کے ساتھ اس وقت تین بچے تھے جن کے ہمراہ یہاں سے بھاگنا آسان نہ تھا اسے خود سے زیادہ ان تینوں کی فکر ہو رہی تھی۔۔۔
بھائی مجھے گھر جانا ہے۔۔۔ ارہان کی آنکھوں میں آنسو بھر آئے تھے جنہیں ولید نے بے چینی سے دیکھا۔۔۔
تم رو نہیں ارہان ہم یہاں سے نکل جائیں گے۔۔۔ ولید نے اسے حوصلہ دیا پھر دھاڑ کی آواز سے کمرے کا دروازہ کھلا دو آدمی اندر داخل ہوئے تھے۔۔۔
باس کو خبر کر دو انہیں ہوش آگیا ہے۔۔۔ ایک آدمی نے دوسرے آدمی سے کہا جو اثبات میں سر ہلاتا جینز کی جیب سے موبائل نکال کر اب نمبر ڈائل کر رہا تھا۔۔۔
ارہان نے ان دونوں آدمیوں کے ہاتھ میں پکڑی گنز دیکھ کر تھوک نگلا وہ ان دونوں سے بے حد خوف کھا رہا تھا۔۔۔
کون ہو تم لوگ ہمیں کیوں لائے ہو یہاں۔۔۔ ولید نے اس آدمی سے پوچھا جو ہاتھ میں گن گھمائے انہیں گھور رہا تھا۔۔۔
پتہ چل جائے گا ابھی تم دونوں اپنی زبان بند ہی رکھو زیادہ سوال جواب کیے تو یہیں کھوپڑی میں چھ گولیاں اتار دوں گا۔۔۔ آدمی نے ناک پھلائے غصے سے کہا
ارہان کی تو جان پر بن آئی تھی اس کی آنکھوں سے خوف صاف دکھائی دے رہا تھا۔۔۔
ولید نے دوبارہ بولنے کے لیے منہ کھولا ہی تھا کہ ارہان نے تیزی سے اسے چپ رہنے کا اشارہ کیا جس پر ولید نے خاموش رہنا مناسب سمجھا اسے اس وقت ارہان کی فکر زیادہ ہو رہی تھی چھوٹا ہونے کے باعث وہ ان آدمیوں سے کچھ زیادہ ہی ڈر رہا تھا۔۔۔
دوسرا آدمی کال پہ اپنے باس کو انفارم کرنے کے بعد ان تینوں کی طرف مڑا۔۔۔
سہانا اور شازل کو بھی اب دھیرے دھیرے ہوش آرہا تھا لیکن وہ مکمل طور پر ہوش میں نہیں آئے تھے۔۔۔
کھانا دو ان سب کو دو دنوں سے بے ہوش تھے۔۔۔ ارہان اور ولید کے پاس کھڑے آدمی نے دوسرے آدمی پر حکم صادر کیا اور کمرے سے باہر نکل گیا جبکہ ولید اور ارہان اس بات پر حیران تھے کہ وہ دو دنوں سے بے ہوش تھے۔۔۔
اگلے لمحے وہ آدمی بھی ان چاروں پر گہری نظر ڈالتا کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ آدمی ایک ہاتھ میں تھال اٹھائے جس میں چاول تھے اور دوسرے ہاتھ میں پانی کا جگ لیے ان کے پاس آیا۔۔۔
زیادہ ہوشیاری کی نہ تو گولیوں سے بھون دوں گا۔۔۔ وہ اب ولید کے ہاتھ کھول رہا تھا کمرے ایک آدمی مزید داخل ہوا گن ہوا میں اٹھائے وہ ربوٹ کی طرح ان کے سروں پر کھڑا ہو چکا تھا۔۔۔
آدمی نے چاروں کے ہاتھ کھول دیے تھے ارہان پانی کی طرف لپکا جبکہ سہانا نے رونا شروع کر دیا تھا وہ ابھی گیارہ سال کی تھی اور دو غنڈوں کو اپنے سر کھڑا دیکھ کر رونے لگی تھی۔۔۔
اےےےے چپ۔۔۔ آدمی غصے سے پھنکارا اسے سہانا روتی ہوئی زہر لگ رہی تھی۔۔۔
ولید نے لپک کر سہانا کو خود سے لگایا وہ ان آدمیوں سے بچنے کے لیے چہرہ ولید کے سینے میں چھپا گئی وہ ابھی بھی رو رہی تھی۔۔۔
ولید اسے خود سے لگائے چپ کروانے کی کوشش کر رہا تھا اور کن اکھیوں سے ان آدمیوں کی طرف بھی دیکھ رہا تھا کہیں وہ سہانا کو کوئی تکلیف نہ پہنچا دیں۔۔۔
جلدی کھاؤ پانج منٹ ہیں تم سب کے پاس۔۔۔ آدمی نے اونچی آواز میں کہا جس سے ارہان اور شازل سہم کر تھال کی طرف بڑھے تھے بھوک کی شدت بڑھ گئی تھی آخر دو دنوں سے پیٹ میں کچھ نہ گیا تھا۔۔۔
ولید سہانا کو بہلا کر اسے چپ تو نہیں کروا سکا تھا لیکن اس کے رونے میں کمی آچکی تھی وہ تیزی سے چاول سہانا کو کھلا رہا تھا نہ جانے وہ دوبارہ کھانا کب دیتے اور سہانا کو تو بھوک بھی بہت لگتی تھی۔۔۔
سر پلیز کچھ تو بتا دیں ہمیں یہاں لانے کا کیا مقصد ہے۔۔۔
کھانے سے فارغ ہو کر ایک آدمی اس کے ہاتھ باندھ رہا تھا جب ولید نے التجائیہ لہجہ اپنانے ہوئے اپنے سامنے کھڑے آدمی سے پوچھا تو آدمی نے گھور کر اسے دیکھا۔۔۔
کہا نا آہستہ آہستہ سب پتہ چل جائے گا ابھی تم سب چپ ہی رہو گے سمجھے۔۔۔ آدمی نے غصے سے گھورتے ہوئے کہا جس پر ولید خاموش رہ گیا۔۔۔
آدمی نے سہانا کو ولید کی گود سے نکالا تو اس نے پھر سے رونا شروع کر دیا تھا وہ آدمی غصے سے اسے گھورتے ہوئے اس کے ہاتھ باندھ رہا تھا جبکہ ولید پیار سے اسے چپ رہنے کے لیے کہہ رہا تھا۔۔۔
ان سب کو باندھنے کے بعد وہ دونوں آدمی کمرے سے باہر نکل گئے تھے کمرہ شاید باہر سے لاک کیا تھا۔۔۔
بھ۔۔بھائی یہ سب۔۔ کیا ہو رہا ہے۔۔۔ شازل نے ڈرتے ہوئے پوچھا۔۔۔
مجھے خود نہیں معلوم لیکن کچھ دیر میں معلوم ہو جائے گا ہمیں اغوہ کرنے کا کیا مقصد ہے۔۔۔ ولید نے پریشانی سے ادھر ادھر دیکھتے کہا۔۔۔



پانچ سے چھ گھنٹے بعد کمرے کا دروازہ پھر سے کھلا تھا ولید جھٹ سے سیدھا ہو کر بیٹھا۔۔۔
ایک آدمی آگے تھا اور پیچھے وہی دو آدمی تھے شاید آگے والا آدمی ان کے اوپر کام کرتا تھا۔۔۔
یہاں سائن کرنے ہیں تم تینوں کو۔۔۔ اس آدمی نے کچھ کاغذات ان کے سامنے رکھے جسے ولید نے شدید حیرت سے دیکھا۔۔۔
ک۔۔کیا ہے یہ۔۔۔ ولید نے خشک ہونٹوں پر زبان پھیرتے پوچھا۔۔۔
جو کہا ہے وہی کرنا ہے آگے سوال کرنے کی ضرورت نہیں۔۔۔۔ آدمی غصے سے پھنکارا۔۔۔
اس نے پیچھے کھڑے آدمی کو اشارہ کیا اس نے آگے بڑھ کر ولید کے ہاتھوں کو کھولنا شروع کیا۔۔۔
یہ لو اور کرو سائن۔۔۔ اس نے پین آگے بڑھاتے ہوئے کہا۔۔۔
ولید نے کاغذات اٹھا کر انہیں ٹٹول کر دیکھا تو حیرت سے منہ کھل گیا۔۔۔
ی۔۔یہ تو ہماری پراپرٹی کے کاغذات ہیں۔۔۔ ولید نے آنکھوں میں شدید حیرت لیے آدمی سے سوال کیا۔۔۔
ہاں تو۔۔۔؟؟ جو کہا ہے وہ کرو۔۔۔ آدمی نے گھورتے ہوئے جواب دیا۔۔۔
ل۔۔لیکن کیوں آخر کون ہماری پراپرٹی ہتھیانا چاہتا ہے۔۔۔
زیادہ سوال کرنے کی ضرورت نہیں کہا نا۔۔۔ آدمی نے آگے بڑھ کر سختی سے اسے جبڑوں سے پکڑا تھا۔۔۔
ن۔۔نہیں کروں گا سائن ہمارے پاس رہنے کے لیے چھت بھی نہیں رہے گی۔۔۔ ولید کی آنکھوں میں سب چھن جانے کا خوف تھا۔۔۔
سائن کرو ورنہ تم جانتے ہو کیا ہو گا۔۔۔ اس آدمی نے ولید کے سر پر گن رکھی۔۔۔
بھائی پ۔۔پلیز سائن کر دیں۔۔۔ ارہان نے ڈرتے ہوئے کہا اگر ولید کو کچھ ہو جاتا تو ان کا کیا ہوتا اب ولید ہی تو تھا جس کے ساتھ ہونے پر وہ خود کو محفوظ محسوس کر سکتے تھے۔۔۔
نہیں ارہان ہماری پراپرٹی ہے یہ انکل نے اتنی محنت سے یہ سب حاصل کیا اور اتنی آسانی سے ان کے حوالے کیسے کر دوں۔۔۔ ولید نے تڑپ کر جواب دیا۔۔۔
سائن کرو ورنہ میں گولی چلا دوں گا۔۔۔ آدمی نے ایک بار پھر ڈرانا چاہا۔۔۔
تم گولی نہیں چلا سکتے کیونکہ تمہیں ان کاغذات پر میرے سائن کی ضرورت ہے۔۔۔ ولید نے اب کی بات غصے سے جواب دیا تھا۔۔۔
چلو ٹھیک ہے سائن کی ضرورت تو تم تینوں کی ہے لیکن اس کی تو نہیں نا۔۔۔ ایک ایک قدم اٹھاتا وہ آدمی سہانا کی طرف بڑھا ولید نے لپک کر سہانا کو پکڑنا چاہا مگر دوسرے آدمی نے اسے بازوؤں سے پکڑ لیا۔۔۔
میری بہن کو کچھ مت کرنا۔۔۔ ولید کی آنکھوں میں اسے کھو دینے کا خوف تھا۔۔۔
بھائی۔۔۔ سہانا اونچی آواز میں رونے لگی تھی۔۔۔
ولید بھائی سائن کر دیں۔۔۔ شازل اور ارہان نے تڑپ کر کہا ولید نے بے بسی سے آنکھیں موند کر کھولیں پھر قلم اٹھائے جہاں جہاں وہ آدمی انگلی رکھ رہا تھا سائن کیا ولید کے بعد ارہان پھر ارہان کے بعد شازل ان تینوں نے سائن کر دیے تھے۔۔۔
آدمی سہانا سے دور ہوا اور آگے بڑھ کر کاغذات اٹھائے ولید تیزی سے سہانا کو خود میں بھینچ گیا تھا وہ اب زورو سے رو رہی تھی۔۔۔
وہ آدمی کمرے سے نکلنے لگے تھے کہ ولید بولا۔۔۔
اب تو ہمیں چھوڑ دو تم لوگوں کو جو چاہیے تھا وہ مل گیا ہے۔۔۔
اس کی بات سن کر آدمی کے ہونٹوں پر طنزیہ مسکراہٹ ابھری پھر دھاڑ کی آواز سے دروازہ پھر سے بند ہوا۔۔۔
ان کے جاتے ہی شازل بھی رونے لگا تھا جبکہ ارہان پریشان آنکھوں سے ولید کی طرف دیکھ رہا تھا ان کے سر سے ماں باپ کا سایہ اور چھت دونوں ہی چھن چکے تھے۔۔۔



انہیں یہاں دو ہفتے ہو چکے تھے وہ لوگ صرف تب باہر لے کر جاتے تھے جب انہیں واشروم جانے کی ضرورت پڑتی تھی ولید نے کئی بار واشروم جانے کے بہانے یہاں سے بھاگنے کا راستہ تلاشنا چاہا تھا لیکن ہر بار ناکام رہتا تھا۔۔۔
کمرے سے باہر نکلتے برآمدہ تھا آگے کھلا صحن تھا جس سے کھلا آسمان دکھائی دیتا تھا مکان کی دیواریں آسمان کو چھوتی تھیں ایک طرف واشروم تھا جبکہ گھر کے دروازے والا حصہ وہ نہیں دیکھ پایا تھا۔۔۔
دو ہفتے مزید یوں ہی گزر چکے تھے ان کے کپڑوں کی حالت بھی بہت خراب ہو چکی تھی ایک ماہ سے ان کو نہانے کی بھی اجازت نہیں دی تھی ولید کی تو شیو بڑھ گئی تھی جسم پر جمی دھول مٹی سے چاروں کا برا حال تھا۔۔۔
آج ایک آدمی ان کے لیے ایک ایک سوٹ لے آیا تھا اور انہیں نہانے کا بھی کہا تھا۔۔۔
ولید تیزی سے کپڑوں کی طرف لپکا تھا کچھ دیر میں وہ نہا کر پر سکون محسوس کر رہا تھا ارہان شازل اور سہانا بھی نہا چکے تھے چاروں کو آج کچھ ہوش آیا تھا۔۔۔
ایک ماہ بعد فرق بس اتنا آیا تھا کہ ان کے ہاتھ باندھنا ان لوگوں نے چھوڑ دیے تھے۔۔۔
کمرے میں کسی قسم کی کھڑکی نہ تھی صرف ایک ہی فولادی دروازہ تھا جس کے باہر بڑا سا تالا لٹکا تھا۔۔۔
کاغذات پر دستخط کرتے ہوئے ولید اتنا تو دیکھ چکا تھا کہ ان کی پراپرٹی کس کے نام کی جا رہی ہے اور وہ کوئی اور نہیں بلکہ اس کے انکل کا دوست “نصار” ہی تھا۔۔۔
تو نصار نے محض پراپرٹی کی خاطر اپنے دوست اس کی بیوی اور ان کی بہو بیٹی جیسی لڑکی کی جان لے لی تھی ولید کی آنکھوں میں انتقام کی آگ جل رہی تھی اور یہی آگ اب پندرہ سالہ ارہان کے دل میں بھی بھڑک چکی تھی۔۔۔



ان کو یہاں رہتے دو ماہ ہو چکے تھے اس عرصے میں انہوں نے ایک بار بھی بھاگنے کی کوشش نہیں کی تھی اور ان کی ہر بات وہ پہلی بار کہنے پر ہی مان جاتے تھے ایسا ولید نے ان تینوں کو بھی کرنے کو کہا تھا وہ ان کا اعتماد حاصل کرنا چاہتا تھا کہ وہ اس بات پر یقین کر لیں کہ یہ لوگ کبھی یہاں سے بھاگنے کی کوشش نہیں کر سکتے۔۔۔
پھر ایک رات کے کسی پہر ولید کی آنکھ کسی شور سے کھلی تھی شاید یہ کچھ لڑکیوں کی آوازیں تھیں جو قہقے لگا رہی تھی ساتھ ہی ان تین آدمیوں کی آواز آرہی تھی جنہیں وہ دو ماہ یہاں دیکھتے آ رہے تھے۔۔۔
وہ بے ہودہ قدم کی باتیں کر رہے تھے ولید اتنا جان چکا تھا وہ لڑکیاں بازاری ہیں اور یہ آدمی انہیں محض اپنی عیاشی کے لیے یہاں لے کر آئے ہیں۔۔۔
دس منٹ بعد باہر سے ہر قسم کا شور ختم ہو چکا تھا شاید وہ ان لڑکیوں کو کمروں میں لے جا چکے تھے۔۔۔
ولید ہنوز مجسم بنا بیٹھا تھا دو ماہ کے عرصے میں وہ ایک بار بھی یہاں سے بھاگنے کے لیے کوئی راستہ تلاش نہیں کر پایا تھا دن رات وہ یہاں سے بھاگنے کے پلین بناتا لیکن ایک بھی کامیاب ہوتا دکھائی نہ دیتا تھا۔۔۔
دو گھنٹے گزر چکے تھے ولید سر کے نیچے کہنی ٹکائے زمین پر لیٹ گیا آنکھوں سے نیند کوسوں دور تھی پھر اچانک اسے کمرے کے دروازے سے کھٹ پٹ کی آواز سنائی دی یہ آواز تالا کھولنے کی تھی لیکن اس وقت ان لوگوں کو ان سے کیا کام تھا بھلا۔۔۔؟؟؟ ولید اٹھ کر بیٹھا تھا کہ دروازہ کھلا اور سامنے نازیبا لباس میں ایک لڑکی کھڑی تھی جسے دیکھ کر ولید ایک دم سے چونکا۔۔۔
