Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 30)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

ملگجا سا اندھیرا کیے وہ بستر پہ اوندھے منہ لیٹی ہوئی بے آواز رو رہی تھی شازل اندر داخل ہوا تو اندھیرا دیکھ کر جیسے کچھ ہمت بڑھی تھی کیونکہ وہ خود کو اس سے نظریں ملانے کے قابل نہیں بنا پا رہا تھا۔۔۔

بیڈ کے دوسری طرف لیٹتے ہوئے وہ سہانا کو دیکھنے لگا اس کے ریشم سے بال تکیے پہ بکھرے ہوئے تھے شازل نے ہاتھ بڑھا کر انہیں چھوا۔۔۔

اس کا لمس محسوس کرتے ہی وہ ایک جھٹکے سے اٹھی تھی آنکھیں لال ہو چکی تھیں جنہیں وہ ملگجے اندھیرے میں مدھم سا دیکھ پایا تھا۔۔۔

سہانا۔۔۔ پشیمان سے لہجے میں اسے پکارا۔۔۔

مجھے آپ سے کوئی بات نہیں کرنی سونا دیں مجھے۔۔۔ اس کے لہجے کی تلخی شازل کو اندر تک جھنجھوڑ گئی تھی لیکن قصور تو اسی کا تھا پھر سزا بھی اسی کو ملنی تھی لمبی سانس چھوڑتے ہوئے ہونٹوں پر زبان پھیری۔۔۔

سہانا صوفے پہ لیٹ چکی تھی جب تک وہ کمرے میں نہیں آیا تھا وہ روتی رہی تھی لیکن اب اس کے آنے سے اسے غصہ آنے لگا تھا آخر سمجھتا کیا ہے تھا خود کو۔۔۔ سہانا نے ضبط سے لب بھینچ لیے۔۔۔

شازل اٹھ کر صوفے کے قریب سہانا کے پاؤں والی جگہ پر جھک کر بیٹھا اور اس کے پاؤں پر دونوں ہاتھ رکھ دیے۔۔۔

اس کا دل کٹ گیا تھا چاہے وہ کتنی ہی بڑی کیوں نہ کر دیتا لیکن اپنے پاؤں چھو کر اسے معافی مانگنے کی اجازت وہ کبھی نہ دیتی۔۔۔

ک۔۔کیا کر رہے ہیں آپ چھوڑیں۔۔۔ جھٹ سے اٹھ کر بیٹھی اور اپنے پاؤں سمیٹنے کی کوشش کی لیکن شازل اپنے ہاتھوں کی گرفت سخت کر چکا تھا جس سے وہ اپنی کوشش میں ناکام ہو چکی تھی۔۔۔

مجھے معاف کر دو۔۔۔ شازل نے نادم سا ہو کر کہا۔۔۔

کر دیا ہے معاف پلیز پاؤں چھوڑیں میرے۔۔۔

اس نے پاؤں چھڑوانے کے لیے تیزی سے جواب دیا۔۔۔

نہیں ابھی معاف نہیں کیا تم نے میں جانتا ہوں۔۔۔ غلطی ہو گئی مجھ سے غصے میں آ گیا تھا پتہ نہیں کیا کہہ بیٹھا معافی چاہتا ہوں پلیز دل سے معاف کرنا میں ہمارا رشتہ کمزور نہیں ہونے دینا چاہتا۔۔۔

سہانا پہ نظریں جمائے اس نے کرب سے کہا جبکہ سہانا کی اب پھر سے آنکھیں بھرنے لگی تھیں۔۔۔

کیا لگا تھا آپ کو ہاں۔۔۔ کہ میں ابھی بھی ارہان کے لیے اپنے دل میں جذبات رکھتی ہوں کیا آپ کو میری وہ محبت نظر نہیں آئی جو پچھلے ایک ماہ سے میں آپ سے کرتی آرہی ہوں۔۔۔ کیا اتنا کمزور ہے ہمارا رشتہ کہ آپ نے مجھے ارہان کے ساتھ دیکھا اور خود سے ہی سب سمجھ لیا۔۔۔

اس نے ہچکی بھرتے ہوئے کہا آنکھوں سے ہنوز آنسو جاری تھے۔۔۔

شازل کی شرمندگی سے نظریں جھکیں انجانے میں کتنی بڑی غلطی کر بیٹھا تھا وہ یہ احساس اب ہو رہا تھا۔۔۔

بچپن سے آپ کے ساتھ ہوں میں کیا آپ مجھے نہیں جانتے۔۔؟؟؟ مجھے تو آپ کو کبھی اپنی صفائی میں کچھ کہنے کی ضرورت ہی نہیں پڑنی چاہیے تھی لیکن افسوس ہوا آپ کی سوچ پر شازل۔۔۔

سہانا پلیز معاف کر دو یہ پہلی اور آخری بار تھا آئندہ ایسا نہیں ہو گا آئی پرامس۔۔۔ اس نے کرب سے سہانا کے پاؤں پر گرفت سخت کی۔۔۔

اتنا آسان نہیں ہوتا ہے شازل جتنا آپ سمجھ رہے ہیں کر دوں گی آپ کو معاف جب مجھے لگا آپ کو معاف کرنا چاہیے پلیز میرے پاؤں چھوڑیں اب اور سونے دیں مجھے۔۔۔

وہ جھنجھلا کر بولی جبکہ شازل کا معافی نہ ملنے پر دل ٹوٹ سا گیا تھا۔۔۔

سہانا کا زخم ابھی تازہ تھا وہ اسے معافی پر مجبور نہیں کرنا چاہتا تھا وہ ٹھیک ہی تو کہہ رہی تھی کر دے گی معاف جب اسے لگا کہ معافی کا وقت آگیا ہے اس کے پاؤں چھوڑتا ہوا وہ کھڑا ہوا۔۔۔

تم بیڈ پر سو جاؤ میں گیسٹ ہاؤس میں سو جاتا ہوں۔۔۔

شازل کی بات پر سہانا نے کوئی ردعمل نہیں دیا تھا۔۔۔

تم نے مجھے جو سزا دینی ہے دو لیکن اب میں بھی خود کو سزا دوں گا اور میرے لیے تمہاری دوری سے بڑھ کر اور سزا کیا ہو سکتی ہے۔۔۔

اس کا لہجہ بھرایا ہوا تھا سہانا نے ایک نظر اس پر ڈالی جیسے وہ دیکھنا چاہ رہی ہو کیا وہ رو رہا ہے لیکن اس سے پہلے کہ وہ اس کی آنکھیں دیکھ پاتی وہ تیز قدموں سے کمرے سے نکل گیا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

پیشنٹ ابھی بے ہوش ہیں تھوڑی دیر تک ہوش آجائے گا انہیں کوئی بڑا صدمہ بھی لگا ہے۔۔۔

ہاسپٹل کے کوریڈور میں وہ سب اکٹھا تھے جب ڈاکٹر نے انہیں بتایا۔۔۔

صدمے کی بات پر شمیم نے دکھ بھری نظروں سے سفینہ کی طرف دیکھا سفینہ نظریں جھکا گئی تھیں۔۔۔

کوشش کریں کہ ان سے دوبارہ کوئی بھی پریشانی والی بات نہ کی جائے۔۔۔

ڈاکٹر وہاں سے چل دیا تھا رائمہ اور عباد بھاگنے کے انداز میں چلتے ہوئے ان کے پاس پہنچے تھے۔۔۔

کیسے ہوا ایکسیڈنٹ اور کیا کہا ڈاکٹر نے۔۔۔ عباد نے ہانپتے ہوئے پوچھا۔۔۔

محمود صاحب بھی وہاں موجود تھے بینچ پر بیٹھے وہ خاموشی اختیار کیے ہوئے تھے۔۔۔

عباد دیکھو سفینہ کیا کہہ رہی ہے کہ تمہارے پاپا نے کچھ لوگوں کا قتل کیا ہے اور محمود بھائی کے بیمار ہونے کی وجہ بھی وہی ہیں۔۔۔ شمیم نے روتے ہوئے عباد کو بتایا جبکہ عباد کے چہرے کا رنگ فق ہو چکا تھا۔۔۔

ک۔۔کیا آنٹی یہ کیا کہہ رہی ہیں آپ پاپا ہرگز ایسا نہیں کر سکتے آپ لوگوں کے ساتھ ہماری پوری عمر گزری ہے آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں اور انکل آپ۔۔۔ آپ نے کیسا سوچ لیا ایسے۔۔۔

وہ پریشانی سے بول رہا تھا جبکہ سفینہ بیگم اور محمود صاحب نے اسے کوئی جواب دینا گوارہ نہیں کیا تھا۔۔۔

چلو سفینہ گھر چلیں۔۔۔ محمود صاحب نے بینچ سے اٹھتے ہوئے پاس کھڑی سفینہ سے کہا۔۔۔

لیکن ایسے کیسے آپ جا سکتے ہیں پاپا کو ابھی ہوش نہیں آیا ہے۔۔۔

عباد حیرت سے انہیں دیکھ رہا تھا ان کے اپنے آج کتنے پرائے ہو گئے تھے۔۔۔

رائمہ بھی ہونق بنی یہ سارا ماجرہ دیکھ رہی تھی۔۔۔

ہوش میں نہیں آئے لیکن خطرے سے باہر ہیں اس لیے ہمارا رکنا یہاں بنتا نہیں ویسے بھی ہم انسانیت کی خاطر اسے ہاسپٹل لائے تھے وہی انسانیت جو نصار میں نہیں۔۔۔

محمود صاحب تلخ لہجے میں کہتے ہویے سفینہ کو لیے وہاں سے نکل گئے جبکہ باقی لوگ حیرت سے ان کی پشت کو گھورتے رہ گئے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

کچھ پوچھو گی نہیں۔۔۔

ارہان کی آواز پر ماہی نے بھنویں اچکا کر اسے دیکھا جیسے کہہ رہی ہو کیا پوچھوں۔۔۔

مطلب میں اور سہانا۔۔۔ وہ چپ ہوا

کیا مطلب آپ اور سہانا۔۔۔ اس نے آنکھیں پھیلائیں

مطلب تم نے بھی شک کیا ہو گا نا اب کچھ کہہ کیوں نہیں رہی۔۔۔

آپ سے کس نے کہا میں نے شک کیا آپ پر۔۔۔

ماہی کی بات پر ارہان نے حیرت سے اسے دیکھا تو کیا اس نے ان دونوں پر شک نہیں کیا تھا۔۔۔

وہ۔۔۔ شازل تو۔۔۔

شازل شازل ہے ماہی نہیں۔۔۔

ماہی نے مسکراتے ہوئے ارہان کے کندھے پر سر رکھا ارہان کے لیے اس کا یہ اعتماد حیران کن تھا۔۔۔

کبھی سوچیے گا بھی مت کہ میں آپ پر شک کروں گی ایسا کبھی نہیں ہو سکتا۔۔۔ اس نے ارہان کی ہاتھ کی انگلیوں میں اپنی مخروطی انگلیاں پھنسائیں۔۔۔

جن سے محبت کی جائے ان پہ شک ہو ہی نہیں سکتا۔۔۔

اس کی باتیں ارہان کے روم روم میں سکون اتار رہی تھیں۔۔۔

اچھا پھر شازل نے شک کیوں کیا سہانا پر۔۔۔ اس نے اب ماہی کی انگلیوں کو مظبوطی سے اپنی انگلیوں میں جکڑ لیا تھا۔۔۔

کیونکہ وہ ابھی تک یہی سوچتا آرہا تھا کہ اس کی محبت یک طرفہ ہے۔۔۔

ماہی کے جواب پر ارہان نے حیرت سے اسے دیکھا۔۔۔

تو مطلب یک طرفہ محبت کمزور ہوتی ہے میں نے تو سنا تھا یک طرفہ محبت جیسی طاقتور کوئی محبت نہیں ہوتی۔۔۔ اس نے ماہی کی طرف چہرے کا رخ کیا تو اس کے بالوں سے اٹھنے والی مہک اس کے نتھنوں میں داخل ہوئی۔۔۔

وہ محبت جو تا عمر یک طرفہ رہ جائے درحقیقت وہ محبت ہی نہیں ہوتی اصلی محبت تو وہ ہے کہ جس سے کی جائے اس کی محبت آپ کی محبت کے آگے گھٹنے ٹیکنے پر مجبور ہو جائے۔۔۔

واہ اتنی سمجھدار کب سے ہوئی۔۔۔ ارہان نے شرارتاً کہا

شروع سے ہی۔۔۔ ماہی فخریہ انداز میں کہتی ہوئی مسکرائی۔۔۔

ویسے شازل کی محبت تو اصلی ہی ہے نا دیکھو سہانا بھی اس سے کتنی محبت کرتی ہے اب۔۔۔ ارہان نے کچھ سوچتے ہوئے کہا

شازل کی محبت آج اصلی محبت ثابت ہوئی ہے کیونکہ آج اس کی محبت کو سہانا کی محبت پر یقین آگیا ہے اب تاعمر ان دونوں کی محبت میں زرا بھی فرق نہیں آئے گا دیکھ لیجیے گا۔۔۔

ہمم وہ تو دیکھ لوں گا لیکن فلحال مجھے میری بیوی کو دیکھنا ہے جس نے محبت کی باتیں کر کر کہ اپنے شوہر کو گھائل کر دیا ہے۔۔۔

ارہان کی بات پر ماہی قہقہ لگایا۔۔۔

ارہان نے مسکرا کر اس کی پیشانی پر ہونٹ رکھے ماہی بازو پھیلاتی ہوئی اس کے سینے میں چھپ گئی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

میں نے۔۔۔ کسی کا۔۔۔ قتل نہیں کیا۔۔۔

نصار صاحب ہوش میں آنے کے بعد ایک ہی رٹ لگائے ہوئے تھے شمیم کا رو رو کر برا حال ہو رکھا تھا جبکہ عباد اور رائمہ پریشان سے پاس بیٹھے تھے۔۔۔

میں نے۔۔۔ کاشف کا۔۔۔ قتل نہیں کیا۔۔۔

نصار صاحب کی آنکھ سے پانی نکل کر کن پٹی پر بہہ رہا تھا۔۔۔

پاپا ہم جانتے ہیں آپ نے کچھ نہیں کیا پلیز آپ ابھی ریلیکس ہو جائیں ڈاکٹر نے آپ کو ٹینشن لینے سے منع کیا ہے۔۔۔

عباد نے ان کے سر پہ ہاتھ رکھتے ہوئے انہیں پر سکون کرنے کی کوشش کرتے ہوئے کہا۔۔۔

لیکن وہ ہنوز وہی بات دوہرا رہے تھے۔۔۔

عباد نے کرسی پہ بیٹھتے ہوئے سر پکڑا ایک تو سب کچھ لٹ چکا تھا اور اب یہ نیا جھمیلا شروع ہو چکا تھا۔۔۔

دھاڑ کی آواز سے دروازہ کھلا اندر داخل ہونے والے تین شخص تھے سب سے پہلے ولید پھر ارہان اور پھر شازل تھا عباد نے سر اٹھائے نا سمجھی سے انہیں دیکھا۔۔۔

کون ہیں آپ۔۔۔ عباد نے سوالیہ نظروں سے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

یہ پہچانیں گے نا۔۔۔ ولید کہتا ہوا نصار صاحب کی طرف بڑھا۔۔۔

پہچانا مجھے کہ بتانے کی ضرورت ہے۔۔۔ ولید نے آگے جھکتے ہوئے طنزیہ لہجے میں کہا نصار صاحب آنکھیں پھیلائے اسے دیکھ رہے تھے یہ چہرہ کچھ جانا پہچانا سا لگ رہا تھا۔۔۔

کون ہو تم اور یہ کیا بدتمیزی ہے پیچھے ہٹیں میرے پاپا سے۔۔۔ عباد بھڑکتے ہوئے اٹھا تو ارہان نے ایک ہی جھٹکے میں اسے قابو کر لیا تھا عباد خود کو چھڑوانے کی کوشش کرنے لگا لیکن ارہان اس کے دونوں ہاتھ کمر سے مظبوطی سے جکڑے ہوئے تھا۔۔۔

چھوڑو مجھے۔۔۔ عباد نے تڑخ کر کہا رائمہ ڈر سے شمیم کے ساتھ جا چپکی تھی۔۔۔

ک۔۔کاشف۔۔۔ کاشف۔۔۔ نصار صاحب نے بولنے کی کوشش کی لیکن طبیعت مزید بگڑتی جا رہی تھی چہرے پہ آکسیجن ماسک لگا تھا۔۔۔

شکر ہے کچھ تو یاد ہے لیکن آگے بھی بولیں نا کہ صرف اتنا ہی یاد ہے چلیں چھوڑیں میں خود ہی بتا دیتا ہوں میں ہوں کاشف کا بھتیجا اور ہم ہیں ایم۔کے کمپنی کت مالک۔۔۔ ولید کی بات پر عباد نے آنکھیں پھاڑے اسے دیکھا۔۔۔

وہی کاشف جس کا آپ نے ایکسیڈنٹ کروایا تھا۔۔۔ ولید نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا۔۔۔

نصار صاحب کی آنکھیں پھٹنے کو تھیں جبکہ عباد نے خود کو چھڑوانے کی کوشش اب ترک کر دی تھی وہ بھی پھٹی آنکھوں سے ولید کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

میں۔۔۔ نے کاشف کا۔۔۔ ایکسیڈنٹ نہیں کروایا۔۔۔ نصار صاحب نے نفی میں سر ہلاتے ہوئے کہا آنکھوں سے آنسو نکل کر کن پٹی پر بہنے لگے تھے۔۔۔

ان کی بات پر ولید طنزیہ مسکرایا۔۔۔

کتنا آسان ہے یہ کہنا ہے نا۔۔۔ لیکن ہم نے سہا ہے ہم نے دیکھا ہے۔۔۔ میرے باپ جیسا چچا میری ماں جیسی چچی اور میری جان سے پیاری بیوی اور میرا بچا جس نے ابھی دنیا میں آنکھیں بھی نہیں کھولی تھیں اتنی بے دردی سے انہیں مارتے ہوئے آپ کی روح کیوں نہیں کانپی تھی۔۔۔

وہ لب بھینچتے ہوئے کرب سے چلّایا۔۔۔

شمیم اور رائمہ ہونقوں کی طرح اس کی بات سن رہی تھیں کیا وہ سچ کہہ رہا تھا۔۔؟؟ لیکن اس کے چہرے اور لہجے سے صرف سچائی ہی جھلک رہی تھی۔۔۔

نصار صاحب روتے ہوئے مسلسل نفی میں سر ہلا رہے تھے اور بار بار کہہ رہے تھے کہ اس نے کاشف کو نہیں مارا۔۔۔

اور صرف یہی نہیں آپ نے تو حیوانیت کی انتہا کر دی مجھے اور میرے بہن بھائیوں کو اغوہ کروا کے زبردستی ہماری ساری پراپرٹی اپنے نام لگوا لی۔۔۔

وہ کونسی مشکل نہیں ہے جس سے ہم نہیں گزرے۔۔۔ صرف اور صرف آپ کی وجہ سے۔۔۔ ولید کی آنکھوں میں کرب اترنے لگا تھا ارہان اور شازل کا بھی یہی حال تھا۔۔۔

لیکن آج۔۔۔ آج ہم نے اپنا بدلہ پورا کیا اور آپ۔۔۔آپ بنے سڑک چھاپ۔۔۔ وہ طنزیہ ہنسا تھا۔۔۔

اب یہ بوڑھی ہڈیاں بھلا کیا محنت کریں گی۔۔۔ اس نے تمسخرانہ انداز میں کہا۔۔۔

اور رہی بات آپ کی بیوی آپ کے بیٹے اور آپ کی اس بہو کی۔۔۔ بہو ہی ہو نا تم۔۔۔ ولید نے بھنویں اچکائے رائمہ سے پوچھا تو وہ ڈر سے اثبات میں سر ہلانے لگی۔۔۔

ان تینوں کو قتل کر کے ہم اپنا باقی کا حساب کتاب پورا کرتے ہیں کیا خیال ہے۔۔۔ اس نے عام سے لہجے میں کہتے ہویے پینٹ کی جیبوں میں ہاتھ ڈالے۔۔۔

شمیم بیگم اور رائمہ کا حلق خشک ہونے لگا تھا جبکہ محمود صاحب کے دل کی دھڑکن بڑھنے لگی تھی۔۔۔

چپ ہو جاؤ تم دیکھ نہیں رہے ان کی طبیعت بگڑ رہی ہے۔۔۔ عباد اونچی آواز میں چلّایا تھا۔۔۔

ابھی تو صرف طبیعت بگڑی ہے ان کی موت دیکھو گے تو ہماری تکلیف کا احساس ہو گا۔۔۔

ارہان جو اس کے پیچھے اس کے ہاتھوں کو پکڑے ہوئے تھا اس کے کان میں سخت لہجے میں بولا۔۔۔

بکواس بند کرو اپنی۔۔۔ عباد نے تڑخ کر کہا اس سے پہلے کہ وہ مزید بولتا نصار صاحب تیز سانسیں لینے لگے تھے۔۔۔

حوصلہ رکھیں ہم میں انسانیت موجود ہے کچھ نہیں کریں گے آپ کی فیملی کو۔۔۔

ولید نے ایک حقارت بھری نظر ان پہ ڈالتے ہوئے ارہان اور شازل کو چلنے کا اشارہ کیا ارہان نے جیسے ہی عباد کو چھوڑا وہ نصار صاحب کی طرف لپکا جبکہ وہ تینوں وہاں سے نکل چکے تھے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ارہان کہاں چلے گئے تھے تم کب سے کال ملانے کی کوشش کر رہی ہوں نمبر بھی بند تھا تمہارا۔۔۔

وہ ابھی کمرے میں آکر بیٹھا ہی تھا کہ ماہی نے اسے پکارا۔۔۔

نصار کی طرف گئے تھے تمہاری ماما کا فون آیا تھا اس کا ایکسیڈنٹ ہوا ہے۔۔۔

کیا۔۔۔ لیکن ماما نے کب کال کی ان کے پاس تو آپ کا نمبر پہ نہیں ہے۔۔۔

تمہارے موبائل پر ہی کی تھی تم بیزی تھی تو میں نے ریسیو کر لی۔۔۔ وہ بتاتے ہوئے اس کے پاس بیٹھا۔۔۔

انکل کیسے ہیں اب۔۔۔ ماہی نے لب بھینچے وہ جیسا بھی تھا تھا تو اس کا انکل ہی۔۔۔

کافی ناساز حالت میں ہے شاید اب اللہ ان کا امتحان لے رہا ہے۔۔۔

ارہان کی بات پر ماہی صرف دل میں افسوس کر رہی تھی۔۔۔

ماہی۔۔۔ ارہان نے کچھ دیر خاموشی کے بعد اسے پکارا۔۔۔

جی۔۔۔

مجھے نصار کی آنکھوں میں جانے کیوں مجرم نظر نہیں آیا۔۔۔ ارہان نے بے چین سے لہجے میں کہا اس کے چہرے پہ الجھن واضح تھی۔۔۔

کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔ ماہی نے نا سمجھی سے اسے دیکھا۔۔۔

وہ بار بار یہی کہہ رہا تھا کہ میں نے کاشف کو نہیں مارا اور بہت رو بھی رہا تھا ورنہ جس حال میں وہ تھا اسے تو فوراً ہم سے معافی مانگنی چاہیے تھی۔۔۔

آپ کو کیا لگتا ہے ارہان کیا انکل کا اس سب کے پیچھے ہاتھ نہیں تھا۔۔۔ اگر وہ انکل نہیں تھا تو کون تھا۔۔۔

یہ تو میں نہیں جانتا لیکن کچھ تو ہے جو سب کی آنکھوں سے اوجھل ہے۔۔۔ اس نے پر سوچ انداز میں کہا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

نکلو یہاں سے کون ہو تم۔۔۔

وہ کمرے میں کرسی پر بیٹھا اگلے مریض کا انتظار کر رہا تھا جب ایک لڑکا چہرے پہ ماسک پہنے اندر داخل ہوا اور اندر آتے ہی اس نے جیکٹ کی جیب سے پسٹل نکالا تھا۔۔۔

زرا سا بھی چلّانے کی کوشش کی تو چھ کی چھ کھوپڑی میں اتار دوں گا۔۔۔

ارہان نے دانت پیستے ہوئے کہا۔۔۔

نصار صاحب کو دیکھنے کے بعد سے وہ اسی کشمکش کا شکار تھا کہ اگر نصار بے قصور ہے تو اصلی مجرم کون ہے پوری رات سوچنے کے بعد صبح ہوتے ہی اس کے دماغ میں اس ڈاکٹر کا خیال آیا تھا جس کے پاس محمود صاحب کا ٹریٹمنٹ چلتا رہا تھا اب وہ ماہی سے ڈاکٹر کا نام پوچھ کر یہاں پہنچا تھا۔۔۔

کیمرے لگے ہوئے ہیں اگر تم نے کچھ بھی کیا تو سیدھا جیل میں جاؤ گے۔۔۔ ڈاکٹر نے اسے ڈرانے کے لیے کہا جس پر ارہان نے خفیف سا قہقہ لگایا کیونکہ کیمرے تو سبھی شازل نے بند کر رکھے تھے اب ڈاکٹر کے روم میں کیا ہوا یہ بھلا کسے معلوم ہونا تھا۔۔۔

کیمرے سبھی بند ہیں اور فکر نہ کرو تمہیں مارنے نہیں آیا بس ایک سوال کا جواب چاہیے سیدھے سے نہ دیا تو مجھے مجبوراً اس پسٹل کا استعمال کرنا ہی پڑے گا۔۔۔

اس نے پسٹل کو ہاتھ میں گھماتے ہوئے کہا تو ڈاکٹر کا حلق خشک ہونے لگا۔۔۔

ک۔۔کیا پوچھنا ہے تمہیں۔۔۔ اس نے ڈرتے ہوئے کہا

گڈ مین۔۔۔ ارہان مسکرایا

تو بتاؤ محمود انصاری کا ٹریٹمنٹ کس کے کہنے پہ کر رہے تھے۔۔۔ اس نے ڈاکٹر کے سامنے پڑی کانچ کی میز پہ ایک پاؤں رکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

ک۔۔کون محمود انصاری۔۔۔ ڈاکٹر نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

تمہیں معلوم ہے اگر تم ایکٹر ہوتے تو تمہیں سب ڈائریکٹر دھکے دے کر شوٹنگ سے نکال دیتے۔۔۔ اس نے طنزیہ ہنستے ہوئے کہا جس پر ڈاکٹر کا حلق مزید خشک ہونے لگا تھا۔۔۔

ارہان نے اچانک سے اس کی کن پٹی پر پسٹل رکھی تو ڈاکٹر کا خوف سے پورا وجود لرز اٹھا۔۔۔

بت۔۔بتاتا ہوں پلیز ڈونٹ شوٹ می۔۔۔ اس نے دونوں ہاتھ ہوا میں معلق کیے۔۔۔

جلدی بولو زیادہ وقت نہیں دوں گا۔۔۔ ارہان نے دانت پیستے۔۔۔

ع۔۔عباد کے کہنے پہ۔۔۔ نصار انصاری کا بیٹا۔۔۔

ڈاکٹر کی بات پر ارہان مجسم ہوا پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھ رہا تھا۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *