Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 24)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

کھڑکی سے چھن کر کے آتی سورج کی چمکتی کرنیں فرش پر لکیریں بنانے لگی تھیں وہ ایک طرف کروٹ لیے لیٹی تھی کھسمساتے ہوئے آنکھیں کھولیں تو رات کا سارا منظر آنکھوں کے سامنے گردش کرنے لگا لجائے سے انداز میں تکیے کے کونے کو ہاتھ میں دبایا وہ اس کے ساتھ لیٹا سو رہا ہے یہ سوچ کر گال پھر سے دہکنے لگے تھے آہستہ آہستہ کروٹ بدلی تو چور نظروں سے اسے دیکھنا چاہا۔۔۔

آنکھوں میں موجود لجا اب حیرت میں بدل گئی تھی وہ تو اس کے ساتھ تھا ہی نہیں۔۔۔ ننگے پاؤں فرش پر رکھے تو پاؤں میں ہلکی ہلکی ٹھنڈک کا احساس ہوا دھیرے سے واشروم کا دروازہ کھولا تو کھلتا ہی چلا گیا وہ وہاں بھی نہیں تھا شاید لاؤنچ میں ہو گا۔۔۔ یہ سوچتے ہوئے اس نے دوپٹہ کندھوں پر اوڑھا اور کمرے کا دروازہ کھولے باہر نکل گئی۔۔۔

گہرا سناٹا تھا کسی ذی روح کا احساس نہیں تھا دونوں ملازم تو کل رات ہی چلے گئے تھے لیکن عباد یوں بنا بتائے۔۔۔ وہ گہری سوچ میں پڑ گئی تھی بے یقینی کے عالم میں پورا گھر چھان مارا لیکن وہ کہیں نہیں تھا ماتھے پہ پریشانی کی شکنیں نمودار ہوئیں خشک ہونٹوں کو زبان پھیر کر تر کرتے ہویے دل پہ ہاتھ رکھا۔۔۔

کل رات جو بھی ہوا تھا وہ یوں اچانک ہوا کہ اسے بھی کچھ سمجھ نہیں آئی اسے اپنے کمرے میں روکنے والی تو وہ خود ہی تھی لیکن اس کا ایسا کوئی ارادہ نہیں تھا لیکن عباد۔۔۔ وہ تو خود اس کے قریب آیا تھا پھر اب اس نے رخی کی وجہ کیا تھی۔۔۔ وہ پھر سے کمرے میں آ بیٹھی تھی۔۔۔

رات کا منظر آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چل رہا تھا پریشانی سے لب دانتوں سے کچلتے ہوئے اس نے موبائل کی طرف دیکھا دل میں خیال آیا اسے فون کر کے پوچھے وہ بنا بتائے کیوں گیا آج تو ان کی نئی زندگی کی پہلی صبح تھی پھر یہ بے اعتنائی کیوں۔۔۔

موبائل اٹھاتے ہوئے ہاتھ کپکپانے لگے تھے نہ جانے کیوں ہمت زیر ہو گئی تھی موبائل ایک طرف رکھتے ہوئے گیٹ پہ بجنے والی گھنٹی اس کی سماعت میں پڑی تو تیزی سے اٹھ کھڑی ہوئی شاید ہو کہیں باہر گیا تھا۔۔۔

گلابی ہونٹوں پہ پھر سے مسکان کے رنگ بکھر گئے تھے گال پھر سے دہکنے لگے تھے بھاگنے کے انداز میں گیٹ کھولا لیکن سامنے کھڑے انسان کو دیکھ کر ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی۔۔۔

سلام بیگم صاحبہ۔۔۔ ملازمہ گیٹ کے پار کھڑی سلام کر رہی تھی۔۔۔

وہ یوں ہی سکتے کی حالت میں کھڑی تھی جب ملازمہ نے ہچکچاتے ہوئے اندر آنے کا اشارہ کیا تو وہ ایک طرف ہوئی۔۔۔

آپ کو ناشتہ بنا کر دینا تھا اس لیے میں جلدی آگئی آپ کی نیند تو خراب نہیں ہوئی نا۔۔۔ ملازمہ نے ہچکچاتے ہوئے پوچھا پہلے وہ جس گھر میں کام کرتی تھی اس کی مالکن کافی سخت مزاج کی تھی۔۔۔

ن۔۔نہیں۔۔۔ رائمہ نے کھوئے سے انداز میں جواب دیا پھر اپنے کمرے کی طرف جانے لگی کہ قدم رکے۔۔۔

سنو تمہارا تمہارے صاحب کے ساتھ کوئی رابطہ ہوا ہے۔۔۔

اس نے کچن کی طرف بڑھتی ملازمہ سے پوچھا تو وہ رکی۔۔۔

نہیں بیگم صاحبہ کل رات کے بعد صاحب سے کوئی رابطہ نہیں ہوا۔۔۔

ہوں۔۔۔۔ اور بیٹا کیسا اب تمہارا۔۔۔ رائمہ نے پرسوچ انداز میں پوچھا۔۔۔

بہت بہتر ہے جی اللہ کا کرم ہے۔۔۔ ملازمہ گہری مسکرا کے ساتھ بولی وہ کافی خوش دکھائی دے رہی تھی رائمہ اثبات میں سر ہلاتی واپس اپنے کمرے میں آ گئی عجیب پریشانی میں مبتلا کر گیا تھا وہ جانے کہاں چلا گیا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

اپنی ضرورت کا سامان رکھ لو ہم یہ گھر چھوڑ رہے ہیں۔۔۔

ماہی ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی بالوں میں برش کر رہی تھی جب ارہان اس کے قریب آکر بولا۔۔۔

کیا۔۔۔ ہم کہاں جارہے ہیں۔۔۔ اس نے برش ٹیبل پر رکھتے حیرت سے پوچھا۔۔۔

جب چلو گی تب دیکھ لینا ابھی کچھ نہ پوچھو۔۔۔ اس نے وہی برش اٹھا کر اپنے بالوں میں پھیرنا شروع کیا۔۔۔

لیکن ارہان کچھ تو بتاؤ یوں سسپینس نہ کریٹ کرو۔۔۔ ماہی نے بیچارہ سا منہ بنائے اسے دیکھا اسے واقع ہی بہت تجسس ہو رہا تھا۔۔۔

ارہان نے اپنی مسکراہٹ دبائی برش رکھتے ہوئے اس کی طرف رخ کیا۔۔۔

آج ہی جا رہے ہیں اب اتنا سا سسپینس تو بنتا ہے نہ اپنی آنکھوں سے دیکھ لینا سب۔۔۔

ارہااان۔۔۔ ماہی نے منہ بسورے اسے دیکھا

آپ کو پتہ ہے میں سسپینس فل مووی آج تک نہیں دیکھی مجھے چڑ ہونے لگتی ہے اس سسپینس کے چکر میں دماغ کا دہی بن جاتا ہے۔۔۔ اس نے ناک پھلائے ارہان کو گھورا اسے دیکھ کر ارہان کا قہقہ لگا۔۔۔

لیکن میں تو نہیں بتانے والا جا کر ہی دیکھنا۔۔۔ وہ اس کی ناک کو چھوتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گیا اور وہ حیرت سے اس کی پشت کو گھورتی رہی گئی۔۔۔

ولید بھائی کتنے گھنٹوں میں نکلنا ہے۔۔۔ وہ لاؤنچ میں موجود صوفے پر بیٹھے ولید کے پاس آکر بیٹھا۔۔۔

بس جیسے ہی پینٹنگ مکمل ہوتی ہے نکل جائیں گے۔۔۔ ولید نے مصروف سے انداز میں جواب دیا نظریں موبائل پر ٹکی تھیں۔۔۔

کیا ہوا بھائی کوئی پریشانی ہے کیا۔۔۔ ارہان نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔

ارے نہیں دراصل میرا سیکریٹری بتا رہا ہے کہ نصار اور اس کا جو بیٹا ہے عباد۔۔۔ وہ مسلسل اصرار کر رہے ہیں ہمارے ساتھ میٹنگ کرنے کے لیے۔۔۔

ہممم یہ بے چینی تو ان کی بنتی ہے آخر کچھ ہفتوں میں سڑک پر جو آنے والے ہیں۔۔۔ ارہان نے طنزیہ مسکراتے ہوئے کہا

ان شاءاللہ۔۔۔ عباد نے ساتھ اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

ماہی جو لاؤنچ میں آرہی تھی ارہان اور عباد کی باتیں سن کر قدم وہیں جم گئے تھے آخر یہ سب کیا ہے وہ انکل اور عباد کے ساتھ یہ سب کیوں کر رہے ہیں۔۔۔ ماہی نے پریشانی سے سوچا اور واپس کمرے کی طرف بڑھ گئی۔۔۔

دو گھنٹوں میں وہ سب گھر سے نکلنے کے لیے تیار تھے سامان ڈگی میں رکھنے کے بعد شازل اور سہانا ولید کے ساتھ گاڑی میں بیٹھ گئے جب کہ ارہان نے ماہی کو اپنے ساتھ بائیک پر بیٹھنے کا کہا وہ خاموشی سے اس کے ساتھ بیٹھ گئی تھی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

نصار کو کاشف کے ہاں نوکری کرتے ایک سال ہونے کو تھا اس عرصے میں نصار نے کافی رقم بچا کر محفوظ کر رکھی تھی اس کا ارادہ کاشف کے ساتھ بزنس میں پارٹنر شپ کرنے کا تھا لیکن اس عرصے میں کاشف کا بزنس بھی دگنی ترقی کر چکا تھا۔۔۔

کاشف مجھے تم سے کچھ بات کرنی ہے۔۔۔ نصار آفس روم میں اس کے سامنے کرسی پر بیٹھا۔۔۔

ہاں کہو کیا بات ہے۔۔۔ کاشف فائل ایک طرف رکھتا ہوا اس کی طرف پوری طرح متوجہ ہوا۔۔۔

میں نے ان دس ماہ میں پیسے پھونک پھونک کر استعمال کیے ہیں اور اب تک میرے پاس کچھ رقم جمع ہو گئی ہے اور میں اپنا گھر بیچ کر تمہارے ساتھ بزنس میں پارٹنر شپ کرنا چاہتا ہوں میرے پاس اتنے پیسے تو ہیں کہ میں بزنس میں چالیس پرسنٹ کا پارٹنر بن سکوں۔۔۔ نصار نے ہچکچاتے ہوئے کہا کہ کہیں کاشف انکار ہی نہ کر دے۔۔۔

اچھااا۔۔۔ مجھے بہت خوشی ہو گی یار اگر ایسے ہو گیا تو میں تو تیری خوشی میں ہمیشہ سے ہی خوش ہوں۔۔۔ کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا تو نصار ایک لمحہ اسے دیکھتا ہی رہ گیا۔۔۔۔

اگلے لمحے وہ فوراً بازو پھیلاتا ہوا اٹھا اور کاشف بھی کرسی چھوڑ کر اس کے ساتھ بغل گیر ہوا۔۔۔

تھینک یو سو مچ یار مجھے فخر ہے میرے پاس تیرے جیسا دوست ہے۔۔۔ نصار نے گرم جوشی سے کہا تو کاشف ہنسنے لگا۔۔۔

چل بس اب زیادہ تعریف نہ کر ورنہ مجھ میں غرور آ جائے گا۔۔۔ کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا تو نصار کا قہقہ لگا۔۔۔

گھر بیچ دو گے تو رہائش کہاں کرو گے۔۔۔ کاشف نے تجسس سے پوچھا۔۔۔

جب تک نیا گھر لینے کے قابل نہیں ہو جاتا تب تک کرائے کے مکان میں فیملی رکھوں گا خواب تو بہت دیکھے ہیں میں نے اچھا گھر اور ایک گاڑی میرے بیٹے کا اچھا مستقبل بس اللہ پورے کر دے۔۔۔

آمین کیوں نہیں اللہ پہ یقین رکھو تو ہر خواہش پوری ہوتی ہے۔۔۔ کاشف نے مسکراتے ہوئے کہا

♥️
♥️
♥️

ارہان نے بائیک ایک بہت خوبصورت گھر کے سامنے روکی تھی گھر تین منزلہ تھا جس وجہ سے اس کی عمارت کافی اونچی دکھائی دے رہی تھی گیٹ کھلتے جیسے ہی وہ اندر داخل ہوئے تو درمیان میں پتھر سے بنی سڑک تھی جس کے ایک طرف وسیع لان تھا جس میں گھاس اور دیواروں کے پاس چھوٹے بڑے خوبصورت پودے تھے ایک طرف خوبصورت جھولہ اور دوسری طرف پتھر سے بنی میز اور کرسیاں موجود تھیں۔۔۔

سڑک کے دوسری طرف بھی لان موجود تھا رنگ برنگے پھولوں سے لدی خوبصورت بیلیں اس حصے کی دیواروں کو ڈھانپے ہوئے تھیں درمیان میں چار پلرز کے اوپر چھتری نما پتھر سے کمرہ تھا جو چاروں طرف سے کھلا تھا درمیاں میں پلاسٹک کی میز اور کرسیاں موجود تھیں۔۔۔

گھر کے بائیں جانب بہت بڑا سوئمنگ پول تھا جس کے پاس دو ریلیکسنگ چیئرز پڑی تھیں یہاں سلاخوں کا چھوٹا سا گیٹ لگا تھا جس کے پار سوئمنگ پول تھا۔۔۔

پسند آیا ہمارا گھر۔۔۔

ماہی سوئمنگ پول دیکھنے میں مگن تھی جب کان میں عباد کی سرگوشی نما آواز پر ایک دم سے اسے دیکھا۔۔۔

ہ۔۔ہاں بہت خوبصورت ہے۔۔۔

تمہارے گھر سے زیادہ ہے نا۔۔۔ ارہان نے مسکراتے ہوئے کہا جبکہ ماہی نے بھی مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

چلو اندر چلیں۔۔۔ وہ اس کا ہاتھ تھامے گھر کا اندرونی دروازہ عبور کر گیا۔۔۔

ان کے سامنے وسیع لاؤنج تھا دیوار میں بہت بڑی ایل۔ای۔ڈی نسب کی گئی تھی درمیان میں بیش قیمتی صوفہ سیٹ تھا جس کے درمیاں شیشے کی میز پر خوبصورت پھولوں سے سجا چھوٹا سا گلدان پڑا تھا۔ لاونج سے ایک دروازہ دوسرے لاؤنج کی طرف نکلتا تھا جو اس لاؤنج کی نسبت قدرے چھوٹا تھا لیکن ہر قسم کی سجاوٹ سے بھرپور تھا۔۔۔

ایک دیوار میں مکمل شیشہ نسب کیا گیا تھا جو سوئمنگ پول کا منظر دکھاتا تھا۔۔۔

چلو اپنا کمرہ دیکھیں۔۔۔ وہ اسے سیڑھیوں پر لے آیا تھا جو گول گول گھومتے ہوئے دوسری منزل پہ آ رکی تھیں سامنے کے کمرے کا دروازہ کھولتے وہ دونوں اندر داخل ہوئے وسیع کمرہ تھا جس کی ایک دیوار میں مکمل شیشہ نسب تھا فرنیچر ٹی۔وی شو پیس ہر طرح کی خوبصورتی میں نہلایا ہوا پرفیکٹ کمرہ تھا کوئی بھی دیکھتا تو تعریف پر مجبور ہو جاتا۔۔۔

کیسا لگا۔۔۔ ارہان نے اسے پیچھے سے اپنے حصار میں لیتے ہوئے پوچھا۔۔۔

ب۔۔بہت خوبصورت ہے۔۔۔ ارہان کے حصار میں آتے ہی وہ جھنپ گئی تھی۔۔۔

اور بیڈ کیسا لگا۔۔۔ ارہان نے بلکل اس کے کان کے قریب سرگوشی میں معنی خیز کہا تو ماہی کا چہرہ گلال ہونے لگا۔۔۔

آج رات کا کوئی پروگرام بنا لیں پھر۔۔۔ اس نے کہتے ہوئے بازوؤں کے حصار جو تھوڑا تنگ کیا۔۔۔

ک۔۔کیا مطلب ہے آپ کا۔۔۔ ارہان کی بات کا مطلب وہ خوب سمجھ گئی تھی تبھی زبان لڑکھڑا گئی تھی ارہان نے اس کی ادا پہ لب دانتوں تلے دبایا۔۔۔

اب کیا ایسے ہی زندگی گزارنی ہے ہم نے سوکھے پر۔۔۔ اس نے شرارت سے کہا تو ماہی اس کے بازو کھولتے ہوئے اس کے سامنے کھڑی ہوئی۔۔۔

سوکھے پر تھوڑی گزاریں گے سہانا سے کہتی ہوں ابھی کچھ چٹ پٹا سا کھانے کے لیے بنائے۔۔۔ وہ مسکراہٹ دباتی ہوئی وہاں سے کھسکنے لگی کہ ارہان نے اس کا ہاتھ پکڑا۔۔۔

ملازمہ پہنچنے والی ہے اب وہ بنایا کرے گی کھانا۔۔۔ اسے کمر سے پکڑتے ہوئے خود سے لگایا۔۔۔

و۔۔ویسے ارہان ایک بات پوچھوں آپ سے۔۔۔ وہ اب سنجیدگی سے بولی تھی۔۔۔

ہاں پوچھو کیا بات ہے۔۔۔

آ۔۔آپ کے پاس اتنے پیسے کہاں سے آئے اتنا اچھا گھر خریدنے کے لیے۔۔۔۔

ماہی کی بات پر ارہان کے ہونٹوں سے مسکراہٹ غائب ہوئی تھی وہ بھی اب سنجیدہ سا ہو گیا تھا۔۔۔

اس بات کا جواب وہ تمام حقیقت ہے جس سے ابھی تک تم نا واقف ہو۔۔۔ اسے چھوڑتے ہوئے وہ بیڈ پر بیٹھا ماہی بھی چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے ساتھ جا بیٹھی تھی۔۔۔

میں حقیقت جاننا چاہتی ہوں ارہان کیا آپ کو مجھ پر اتنا یقین نہیں کہ آپ کے راز کو راز رکھوں۔۔۔ اس کی طرف دیکھتے ہوئے روہانسی سی ہو گئی تھی آج ہی اس کے ذہن میں یہ بات امڈی تھی کہ ارہان نے ابھی تک اسے کچھ نہیں بتایا تو کیا وہ اس پہ بھروسہ نہیں کرتا۔۔۔

ایسی کوئی بات نہیں ہے جیسا تم سمجھ رہی ہو اگر تم پہ بھروسہ نہ ہوتا تو بھلا تمہیں تمہارے ماں باپ سے ملوانے لے کر جاتا وہ بھی ولید بھائی سے چھپ کر۔۔۔ اس نے ماہی کے ہاتھ کو اپنے مظبوط ہاتھ کی گرفت میں لے کر کہا۔۔۔

تو پھر بتا کیوں نہیں دیتے وہ کیا سچ ہے جو میں نہیں جانتی۔۔۔

ارہان اٹھ کر شیشے کی دیوار کے پاس کھڑا ہوا شاید وہ اس کے سامنے اپنی کمزوری ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا جو کہ حقیقت بیان کرتے وقت اس کے چہرے سے چھلکنی تھی۔۔۔

آج سے دس سال پہلے کی بات ہے تمہارے انکل۔۔۔ نصار۔۔۔ وہ میرے پاپا کے دوست تھے بلکہ یوں کہنا بہتر ہو گا کہ دوست کی کھال میں آستین کا سانپ تھا۔۔۔

ارہان کے لفظوں پر بے ساختہ ماہی کھڑی ہوئی تھی دھیرے دھیرے سے قدم ارہان کی طرف اٹھ رہے تھے اس کی نظریں ہنوز اس کی پشت پر ٹکی تھیں۔۔۔

ایک سال پاپا کے ہاں جاب کرنے کے بعد وہ بزنس میں پارٹنر شپ کر کے چالیس پرسنٹ کا حصہ دار ہو گیا تھا لیکن شاید اس سے میرے پاپا کی بڑھتی ہوئی ترقی ہضم نہیں ہوتی تھی پھر ایک دن۔۔۔

کاشف کاشف۔۔۔ سدرہ اونچی آواز میں پکارتی سٹڈی روم میں داخل ہوئی تھی۔۔۔

کیا ہوا سدرہ خیر تو ہے پریشان کیوں ہو۔۔۔ کاشف فائل ایک طرف رکھتا کھڑا ہوا۔۔۔

نیلم کی طبیعت بگڑ رہی ہے اور ولید گھر پہ نہیں ہے اسے کال بھی ملائی ہے اس کا فون بند جا رہا ہے نیلم کو ہاسپٹل لے کر جانا ہے ابھی۔۔۔ سدرہ تیزی سے بول رہی تھی۔۔۔

تم اسے لان تک لے کر آؤ میں گاڑی نکالتا ہوں۔۔۔ کاشف نے تیزی سے قدم گراج کی طرف بڑھائے جہاں سے گاڑی نکالے وہ سدرہ کا انتظار کر رہا تھا۔۔۔

ماما کہاں جا رہی ہیں۔۔۔ پندرہ سالہ ارہان نے پریشان سی سدرہ کو دیکھ کر پوچھا۔۔۔

تمہاری بھابھی کی طبیعت ٹھیک نہیں ہے ہاسپٹل لے کر جا رہی ہوں عباد کا فون بند ہے وہ آئے تو اسے بتا دینا ٹھیک ہے۔۔۔ سدرہ اسے سمجھاتی ہوئی نیلم کے کمرے کی طرف بڑھی۔۔۔

کیا ہوا بھابھی کو۔۔۔ ارہان سدرہ اور نیلم کی طرف دیکھ رہا تھا جب دس سالہ سہانا ہاتھ میں بڑی سی گڑیا پکڑے بھاگتی ہوئی آئی۔۔۔

ننھا مہمان آنے والا ہے۔۔۔ ارہان بھنویں اچکائے مسکرا کر سہانا کو بتانے لگا جبکہ سہانا اس کی بات سن کر خوشی سے اچھلنے لگی تھی۔۔۔

سدرہ نیلم کو پکڑے لان تک لے کر آئی انیس سالہ نیلم پیٹ پہ ہاتھ رکھے تڑپ رہی تھی اسے گاڑی میں بیٹھاتے ہوئے کاشف ہاسپٹل کی طرف روانہ ہوا۔۔۔

ان کے جانے کے پندرہ منٹ بعد عباد گھر میں داخل ہوا لان میں ارہان شازل اور سہانا کو کرکٹ کھیلتے دیکھا وہ آگے بڑھنے لگا تھا جب ارہان ہاتھ میں بلا پکڑے بھاگا ہوا اس کے پاس آیا۔۔۔

بھائی ماما اور پاپا بھابھی کو ہاسپٹل لے کر گئے ہیں ماما نے کہا تھا بھائی آئے تو اسے بتا دینا۔۔۔ وہ اپنی بات مکمل کرنے کے بعد بھاگتا ہوا پھر شازل اور سہانا کے ساتھ کھیلنے لگا تھا۔۔۔

عباد نے فوراً موبائل نکال کر فون ملایا پریشانی سے ماتھے پر شکنیں بننے لگی تھیں۔۔۔

ہیلو چچی کس ہاسپٹل میں ہیں آپ میں بھی آرہا ہوں۔۔۔

عباد ٹریفک کی وجہ سے کافی دیر لگ گئی ہمیں نیلم کی طبیعت بہت بگڑ رہی ہے اب جا کر ٹریفک سے نکلے ہیں جہاں سے ہر ماہ نیلم کا چیک اپ ہوا ہے اسی ہاسپٹل جا رہے ہیں تم بھی آجاؤ بیٹا۔۔۔ سدرہ پریشانی سے بولی

اوکے میں ابھی آرہا ہوں نیلم کو کہیں کہ حوصلہ رکھے۔۔۔ نیلم کی کراہنے کی آوازوں سے ولید کا دل بیٹھے جا رہا تھا وہ ابھی سدرہ کے جواب کا انتظار ہی کر رہا تھا کہ اچانک ایک چینخ کی آواز کے ساتھ موبائل کہیں گرا تھا پھر ایک دھماکے کی آواز آئی جسے سن کر ولید کا جسم ٹھنڈا پڑنے لگا تھا جسم کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے کانوں میں سائیں سائیں ہونے لگی تھی۔۔۔

ہ۔۔ہیلو چچی ہیلو۔۔۔ ولید چینخ رہا تھا لیکن کال تو کب سے منقطع ہو چکی تھی۔۔۔

گھر میں ارہان سہانا اور شازل کے رونے کی آواز گونج رہی تھی جبکہ وہ بت بنا بیٹھا تھا کچھ دیر پہلے ہی وہ کفن میں لپٹے گوشت کے چند ٹکڑوں کو دفنا کر آ رہا تھا جس سے کسی کی بھی شناخت نہیں کی جا سکتی تھی۔۔۔

مجھے ماما کے پاس جانا ہے۔۔۔ سہانا نے روتے ہوئے کہا وہ چھوٹی ہونے کی وجہ سے سدرہ کو ماما کہتی تھی البتہ رشتے میں سدرہ اس کی چچی لگتی تھی۔۔۔

ولید نے اپنے سامنے بیٹھے روتے ہوئے تین بچوں کو دیکھا جس کا اللہ کے سوا ولید ہی سہارا تھا ولید کا والد کینسر کے باعث چھ ماہ پہلے ہی دنیا سے جا چکا تھا جبکہ اس کی ماں سہانا کی پیدائش پر اللہ کو پیاری ہو گئی تھی۔ ولید اس وقت چوبیس سال کا تھا اس نے شادی اپنی پسند سے کی تھی نیلم اس کی کلاس فیلو ہوا کرتی تھی پھر ان کی دوستی پیار میں بدل گئی تھی اس کی زندگی میں نیلم کا شامل ہونا تمام زخموں پر مرحم جیسا تھا وہ کتنا خوش رہنے لگا تھا۔۔۔

وہ ابھی گم سم سا بیٹھا تھا جب اچانک کچھ آدمی چہرے پہ سیاہ ماسک چڑھائے جو ان کے سر کو بھی ڈھانپے ہوئے تھا لاؤنج میں داخل ہوئے۔۔۔

پکڑو سب کو جلدی کرو۔۔۔ ان میں سے ایک آدمی بولا اور باقی کے آدمی تیزی سے ان چاروں کی طرف بڑھے تھے ارہان شازل اور سہانا کو انہوں نے با آسانی بے ہوش کر لیا تھا لیکن ولید ان کا مقابلہ کر رہا تھا۔۔۔

وہ اکیلا تھا جبکہ وہ چار سے پانچ آدمی تھے کچھ دیر میں ہی انہوں نے ولید کی ناک پر رومال رکھ کر اسے بھی بے ہوش کر لیا تھا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *