Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 27)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

میں تمہاری مدد کرنے کے لیے تیار ہوں لیکن کیا تم میری ایک بات مانو گے۔۔۔

پوری رات ولید کی بات پر سوچ بچار کرنے کے بعد ماہ پارہ نے بالآخر اس کی مدد کا فیصلہ کر لیا تھا اب اس کے بلانے پر ولید اس کے کمرے میں آیا تو وہ سنگھار دان کے قریب کھڑی سبز چوڑیاں پہن رہی تھی اس کی بات پر ولید نے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

تم۔۔۔تم۔۔۔ مجھ سے۔۔۔ نکاح کرو گے۔۔۔؟؟؟

اس سے نظریں چراتے ہوئے وہ اپنی بات کہہ گئی تھی جبکہ ولید کے سر پر جیسے کسی نے پہاڑ توڑ دیا تھا وہ ہونق بنا اسے دیکھ رہا تھا۔۔۔

دیکھو میں یہاں سب میں سے تمہارے قریب میں ہوں اگر میں نے تم لوگوں کو یہاں سے بھگانے میں مدد کر دی تو یہ لوگ مجھے جان سے مار دیں گے اور میں ابھی مرنا نہیں چاہتی زندگی میں پہلی بار جینے کی خواہش کی ہے۔۔۔ میں جینا چاہتی ہوں۔۔۔

اس کی طرف پیٹھ موڑے کھڑکی کی طرف دیکھتے ہوئے وہ کسی غیر مرئی نقطے کو دیکھے بول رہی تھی جبکہ ولید اس بات پر حیران تھا کہ اس نے ایسی شرط رکھی جسے پورا کرنے کا وہ سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔

میں دس سال کی تھی جب میرے شرابی باپ نے مجھے یہاں بیچ دیا تھا بہت روتی تھی میں۔۔۔ روز اسی امید پہ سوتی تھی کہ صبح اماں مجھے لینے آئے گی لیکن آج تک وہ صبح نہ آسکی۔۔۔ تیرہ سال پھانسی کے پھندے پہ لٹکے مجرم کی طرح یہاں گزارے اور پھر تھک کر میں نے اس حقیقت کو تسلیم کر لیا کہ اب آخری دم تک یہی میرا ٹھکانہ ہے۔۔۔

خاموشی۔۔۔

لیکن جب سے تم میری زندگی میں آئے۔۔۔ جانے کیوں دل بہت سی خواہشیں کرنے لگا ہے جب جب تمہارے پاس ہوتی ہوں ایک عجیب سا سکون ملتا ہے دل چاہتا ہے یوں ہی عمر بھر تمہارے پہلو میں گزار دوں۔۔۔

خاموشی۔۔۔

کیا۔۔۔تم مجھ سے نکاح کرو گے ولید۔۔۔؟؟؟

آنکھوں میں امید کی چمک لیے گردن موڑ کر اس کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا جو ہنوز اسی انداز میں پریشان کھڑا تھا۔۔۔

م۔۔میں یہ نہیں کر سکتا۔۔۔

ولید نے دو ٹوک جواب دیا وہ یہاں سے نکلنے کے لیے اس سے کوئی جھوٹا وعدہ نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

اس کا جواب سن کر ماہ پارہ کی آنکھوں میں آنسو آنے میں دیر نہیں لگی تھی ظاہر ہے جب جب سینے میں تکلیف اٹھتی ہے تب تب آنکھ سے آنسو نکلتا ہے۔۔۔

وہ خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتی ہوئی اس کے قریب آئی۔۔۔

کیوں نہیں کر سکتے کیا میں اچھی نہیں لگتی تمہیں۔۔۔؟؟؟

آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ہمت سے سوال کیا جبکہ آواز رندھائی ہوئی تھی۔۔۔

ایسی بات نہیں ہے ماہ پارہ تم بھلا مجھے بری کیوں لگو گی۔۔۔ اس نے فوراً اس کی بات کی نفی کی وہ واقع ہی اسے کبھی بری نہیں لگی تھی جیسے یہاں کی باقی لڑکیاں لگتی تھیں۔۔۔

تو پھر کیوں نہیں کر سکتے نکاح بتاؤ۔۔۔ اس کی آنکھوں سے آنسو نکل کر گال پہ پھسلنے لگا تھا ولید نے کرب سے اسے دیکھا۔۔۔

میں نیلم سے محبت کرتا ہوں تمہیں بتا تو چکا ہوں میں۔۔۔

لیکن وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے کیا تم ساری عمر یوں ہی اس کی یاد میں گزار دو گے۔۔۔؟؟؟ کبھی تو تمہیں شادی کرنی ہو گی نا ولید تو پھر میں کیوں نہیں۔۔۔

ولید کی طرف دیکھتے ہوئے بیچارگی سے پوچھا۔۔۔

دیکھو ماہ پارہ جو تم سوچ رہی ہو یہ۔۔۔ یہ نا ممکن ہے۔۔۔

ایک ہاتھ کمر پہ ٹکائے دوسرے ہاتھ سے بالوں کو ماتھے سے پیچھے دھکیلتے ہوئے پریشانی سے بولا۔۔۔

کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے تم چاہو تو بہت آسان ہے ولید۔۔۔ مجھ میں جینے کی جو خواہش دس سال بعد پیدا ہوئی ہے پلیز اسے پھر سے مرنے مت دینا۔۔۔

اس نے ولید کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا آنسوؤں کی روانگی میں تیزی آچکی تھی۔۔۔

پلیز بس کرو اگر تمہیں مجھے یہاں سے نکلوانے کے لیے یہ شرط پوری کروانی ہے تو مت کرو میری مدد میں خود ہی کبھی نہ کبھی یہاں سے نکل ہی جاؤں گا۔۔۔

ولید کو اب اس کی باتوں سے کوفت ہونے لگی تھی۔۔۔

اس کی بات سن کر ماہ پارہ نے آنسوؤں سے رندھا ہلکا سا قہقہ لگایا گالوں کو ہاتھ کی پشت سے صاف کیا آنکھیں ہنوز اسی کا طواف کر رہی تھیں۔۔۔

میں جانتی ہوں تم کیوں نہیں مان رہے۔۔۔ میری جگہ اگر کوئی عام لڑکی ہوتی تو تم کبھی انکار نہ کرتے اور میں ٹھہری ایک رن۔۔۔

پلیز چپ ہو جاؤ۔۔۔ اس کا لفظ مکمل ہونے سے پہلے ولید نے جھنجھلا کر اسے ٹوکا۔۔۔

ماہ پارہ نے دونوں ہاتھوں سے آنسو صاف کیے کاجل آنکھوں میں پھیل چکا تھا۔۔۔

آج رات میں تمہیں اور تمہارے بہن بھائیوں کو یہاں سے نکلوا دوں گی تین بجے تیار رہنا۔۔۔

ولید نے ایک نظر اس کے چہرے پہ ڈالی جو اس وقت کسی قسم کے جذبات سے عاری تھا پھر اثبات میں سر ہلاتا کمرے سے باہر نکل گیا۔۔۔

اپنے کمرے میں آکر وہ بستر پر ڈھنے کے انداز میں لیٹا تھا ارہان اور شازل ایک دوسرے کے ساتھ کھیلنے میں مصروف تھے اور اسلم کا بستر ایک طرف بستر لگا تھا یہ اسلم کا ہی کمرہ تھا جہاں وہ تینوں اس کے ساتھ رہ رہے تھے۔۔۔

سہانا کو وہ بتا آیا تھا کہ رات وہ سوئے گی نہیں اور دو بجے کمرے سے باہر نکلے گی وہ بھی یہاں موجود لڑکیوں میں سے کسی ایک کے کمرے میں سوتی تھی۔۔۔

اسے نیلم کی شدت سے یاد آرہی تھی پھر ذہن میں ماہ پارہ کی باتیں گھومنے لگیں۔۔۔

“لیکن وہ اب اس دنیا میں نہیں ہے کیا تم ساری عمر یوں ہی اس کی یاد میں گزار دو گے۔۔۔”

سر میں درد کا احساس ہونے لگا تھا۔۔۔

“میں جانتی ہوں تم کیوں نہیں مان رہے۔۔۔ میری جگہ اگر کوئی عام لڑکی ہوتی تو تم کبھی انکار نہ کرتے اور میں ٹھہری ایک رن۔۔۔”

ولید نے دونوں ہاتھوں میں چہرہ چھپایا یہ بات سچ تھی کہ اس کے منہ سے نکاح کا لفظ سن کر اس کے زہن میں سب سے پہلے یہی بات آئی تھی اتنے مردوں کے ہاتھوں استعمال ہونے والی لڑکی سے تو وہ نکاح کا سوچ بھی نہیں سکتا تھا۔۔۔

اس نے اسے یہاں سے بھاگنے میں مدد کا فیصلہ تو کر لیا تھا لیکن اس کے بعد وہ کسی مشکل میں پھنس سکتی تھی تو کیا اسے یہاں چھوڑنا مناسب تھا۔۔۔؟؟؟

اگر ساتھ لے کر گیا تو پھر کیا کروں گا ایک نامحرم کو اپنے گھر میں کیسے رکھوں گا۔۔۔؟؟؟

ذہن میں سو سوالات اٹھ رہے تھے آخر اسے کیا کرنا چاہیے سب سمجھ سے باہر ہو رہا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

رات کے تین بجے ولید نے دھیرے سے ارہان اور شازل کو جگایا وہ تو جیسے پہلے سے ہی اٹھنے کو تیار بیٹھے تھے یہاں سے نکلنے کی خوشی میں وہ ٹھیک سے سو بھی نہ سکے تھے۔۔۔

دبے پاؤں وہ تینوں کمرے سے باہر نکلے تو ماہ پارہ کو سہانا کے ساتھ اپنی طرف آتے دیکھا اس کی آنکھیں سرخ اور سوزش زدہ تھیں شاید وہ سوئی نہیں تھی اور اس وقت تک روتی رہی تھی۔۔۔

ولید نے اس کی آنکھوں سے نظریں ہٹائیں احساس ایسا تھا کہ جیسے خود مجرم ہو۔۔۔

میں نے سب کی چائے میں نیند کی گولیاں ملائی تھیں اب تک سب سو چکے ہوں گے۔۔۔

چونکہ کوٹھے کے لوگ پوری پوری رات جاگتے تھے اور صبح دیر تک سوتے تھے اسی لیے اس نے چائے میں نیند کی گولیاں ملا دی تھیں دن کے وقت یہاں سے بھاگنا مشکل تھا۔۔۔

وہ تینوں گیٹ تک آئے تو گیٹ پر موجود کوٹھے کے چوکیدار کو سوتے پایا ماہ پارہ نے گیٹ کے تالے میں چابی گھسا کر اسے کھولا دروازہ کھول کر اس نے ولید کی طرف جانے کا اشارہ کیا۔۔۔

ارہان شازل اور سہانا بھاگنے کے انداز میں باہر نکلے جبکہ ولید وہیں کھڑا ماہ پارہ کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

ان دونوں کی نظریں آپس میں ملیں ماہ پارہ اسے آخری بار جی بھر کر دیکھ رہی تھی دل تڑپ رہا تھا اس شخص کے ساتھ کے لیے جس سے وہ محبت کر بیٹھی تھی لیکن وہ خود کو مظبوط کیے یہاں کھڑی تھی۔۔۔

تمہارا یہ احسان کبھی نہیں بھولوں گا۔۔۔ اس کے قریب آکر سرگوشی میں کہا اور دہلیز کو پار کر گیا۔۔۔

ماہ پارہ نے آخری بار اس کی پشت پہ نظر ڈالی دروازہ بند کر کے مردہ قدموں سے واپس اپنے کمرے میں یا شاید اپنی جیل کی طرف بڑھنے لگی آنکھوں سے آنسو رواں ہونے لگے تھے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

اس رات کوٹھے سے بھاگنے کے بعد وہ اپنا گھر دیکھنے گیا تو معلوم ہوا گھر کو پانچ ماہ پہلے ہی بیچ دیا گیا تھا۔۔۔

وہ کراچی سے حیدرآباد آگیا تھا کراچی رہنا انہیں خطرے میں ڈال سکتا تھا یہاں آکر ایک چھوٹا سا فلیٹ کرائے پہ لیا تھا۔۔۔

یہاں پانچ چھ ماہ سے وہ مزدوری ہی کر رہا تھا اس کی ڈگری اور ڈاکومنٹس وغیرہ تو اس کے اپنے گھر ہی رہ گئے تھے اب تک تو وہ کوڑے دان میں بھی گل سڑ چکے ہوں گے۔۔۔

مزدوری کرنے کی اسے عادت نہ تھی دھوپ کے باعث جسم پہ سرخ دانے بننے لگے تھے اور کمزوری کی وجہ سے آنکھوں کے گرد ہلکے بن گئے تھے۔۔۔

شازل اور سہانا چھوٹے ہونے کے باعث کم عقل بھی تھے وہ اکثر ولید سے کبھی چاکلیٹ اور کبھی آئس کریم اور اس طرح کی مزید کھانے کی چیزوں کی فرمائش کرتے جنہیں وہ پورا نہیں کر سکتا تھا اور دل برداشتہ ہو جاتا۔۔۔

ارہان سولہ سال کا ہو گیا تھا وہ سب دیکھ اور سمجھ رہا تھا ولید کے روکنے کے باوجود اس نے ولید کے ساتھ کام پہ جانا شروع کر دیا تھا پھر ایک دن کندھوں پہ بوجھ زیادہ ہونے کی وجہ سے اس کے بازو کی ہڈی کریک ہو گئی جس کے علاج کے لیے ولید کو کچھ لوگوں سے قرضہ لینا پڑا۔ قرضہ اتارنے کے ساتھ ساتھ وہ گھر کا خرچ بھی چلا رہا تھا حالات غریبوں سے بھی بدتر ہو چکے تھے۔۔۔

دو سال بعد وہ تھوڑے تھوڑے کر کے کچھ رقم جوڑ چکا تھا جس سے اس نے بورڈ سے اپنے ڈاکومنٹس نکلوائے پھر اچھی پوسٹ پہ ایک کمپنی میں ملازمت مل گئی۔ اللہ اللہ کر کے حالات میں بہتری پیدا ہوئی۔

کمپنی میں کارکردگی اچھی ہونے کے باعث اس کا عہدہ بڑھ گیا تھا تنخواہ کی ساتھ اکثر بونس بھی ملتا رہتا تھا پھر کچھ سالوں میں اس نے نوکری چھوڑ کر اپنا بزنس شروع کیا۔۔

اس نے اپنی کمپنی کا نام ایم۔کے رکھا تھا جس کا مطلب تھا “محمد کاشف” یعنی اس کے چچا اور ارہان کے والد کا نام۔۔۔

نو سال گزر چکے تھے اور اب ولید کو لگا تھا کہ اس کا وقت آگیا ہے اپنا سب کچھ واپس حاصل کرنے کا۔۔۔

آج دس سال بعد وہ نصار کی معلومات کے لیے کراچی آیا تھا یہاں آتے ہی سب سے پہلا خیال اس کے ذہن میں ماہ پارہ کا آیا تھا۔۔۔

شروع شروع میں وہ بہت شرمندہ ہوتا تھا کہ وہ اس کے احسان کا بدلہ نہیں چکا سکا پھر کام میں اس قدر مصروف رہنے کے باعث وہ اسے بلکل بھول چکا تھا۔۔۔

چہرے پہ ماسک پہن کر کوٹھے کی جانب گاڑی کا رخ موڑا۔۔۔

دس سال بعد اسے پہچاننا آسان نہ تھا کہاں وہ چوبیس سال کی عمر میں یہاں آیا تھا دبلا پتلا سا ہونے کے ساتھ تب وہ کلین شیو تھا اب تو جسم بھر چکا تھا بال اور داڑھی ایک بزنس میں کی طرح رکھ لی تھی۔۔۔

رات کے گیارہ بج رہے تھے کوٹھے میں چہل پہل کسی میلے کی طرح لگی تھی بہت سی لڑکیاں شوخ لباس پہنے میلے کی رنگینیوں میں مگن تھیں۔۔۔

پہلی بار آئے لگتے ہو۔۔۔

یہ شبانہ تھی جو آج بھی تخت پہ بیٹھی منہ میں پان لیے ہونٹوں کو باہر نکال کر بول رہی تھی اب تو سر کے سارے بال سفید ہونے کو تھے ہاتھ کپکپا رہے تھے۔۔۔

ایک بار پہلے بھی آچکا ہوں۔۔۔۔ وہ ابھی بھی ماسک پہنے ہوئے تھا۔۔۔

یہ منہ سے تو ہٹا چہرہ کیوں چھپا رہا ہے شریفوں کی طرح۔۔۔ وہ ہنسی تھی اس کے لال دانتوں کی نمائش ہوئی۔۔۔

نہیں میں بھیڑ میں ہمیشہ ماسک پہنتا ہوں وبائیں بہت ہو رہی ہیں۔۔۔ ولید نے بھی ہلکا سا مسکرا کر جواب دیا اس کی مسکراہٹ اس کی آنکھوں سے جھلک رہی تھی۔۔۔

اچھا اچھا۔۔۔ یہ لڑکیاں ہیں کون سی چاہیے دیکھ لے۔۔۔

ولید نے لڑکیوں کی قطار میں ہر ایک لڑکی کو بڑے غور سے دیکھا سبھی اسے مسکرا مسکرا کر دیکھتی ہوئیں اس کا دل لبھانے کی کوشش کر رہی تھیں جس سے وہ بے نیاز تھا۔۔۔

آخری لڑکی دیکھنے کے بعد اسے مایوسی ہوئی ان میں کوئی بھی ماہ پارہ نہیں تھی اور وہ تو ماہ پارہ سے ملنے آیا تھا۔۔۔

کیا ہوا کوئی لڑکی پسند نہیں آئی۔۔۔؟؟؟ ارے ایک سے بڑھ کر ایک تو ہے ہمارے پاس۔۔۔

شبانہ نے ولید کا اترا چہرہ دیکھ لیا تھا اب وہ اسے مائل کرنے کے لیے لڑکیوں کی تعریفوں پر اتر آئی تھی۔۔۔

ولید نے ایک بار پھر لڑکیوں کو دیکھا ان میں سے ایک لڑکی تیس سال کے قریب تھی اور اس کا چہرہ بھی اسے جانا پہچانا لگ رہا تھا شاید جب وہ یہاں دو ماہ رہا تھا تب وہ بھی یہیں تھی پھر یہ ماہ پارہ کے بارے میں ضرور جانتی ہو گی۔۔۔

شبانہ سے براہِ راست ماہ پارہ کے بارے میں پوچھنے کی اس نے غلطی بھی نہیں کرنی تھی کیوں کہ وہ نہیں جانتا تھا اس کے جانے کے بعد پیچھے کیا ہوا تھا۔۔۔

یہ والی چاہیے مجھے۔۔۔ اس نے اس لڑکی کی طرف انگلی سے اشارہ کیا تو شبانہ کی باچھیں کھل اٹھیں۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ دونوں ایک کمرے میں موجود تھے ولید نے ماسک اتارا نہیں تھا لڑکی نے اس کے قریب آتے ہوئے دوپٹہ اتار کر ایک طرف رکھا۔۔۔

دوپٹہ اوڑھ لو۔۔۔

ولید کی بات پر اسے حیرت کا جھٹکا لگا تھا ناسمجھی کی نظروں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ماہ پارہ کہاں ہے۔۔۔

اس کے اگلا سوال لڑکی کے لیے دوسرا بڑا جھٹکا تھا۔۔۔

کون ہو آپ۔۔۔ آنکھوں میں حیرت لیے سوال پوچھا۔۔۔

کوئی نہیں بس ایک بار یہاں آیا تھا تو وہ تھی میرے ساتھ لیکن آج نظر نہیں آئی تبھی اس کا پوچھ رہا ہوں۔۔۔

اوہ اچھا۔۔۔ لڑکی کو جیسے سکون آیا تھا۔۔۔

کہاں ہے وہ اور کیسی ہے۔۔۔ ولید نے بے چینی سے پوچھا۔۔۔

اس نے تو دس سال پہلے خود کشی کر لی تھی نس کاٹی تھی اپنی۔ پتہ ہے کیوں۔۔؟؟؟ کچھ لوگوں کو بھگانے میں ہاتھ تھا اس کا اس کو پتہ تھا اس کا انجام بہت بھیانک ہونے والا ہے اس لیے خود ہی اپنے ہاتھوں سے اپنی جان لینا مناسب سمجھا۔۔۔

وہ لڑکی عام سے لہجے میں بول رہی تھی جبکہ ولید کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے آنکھیں پھٹنے کی حد تک کھلی تھیں کانوں میں سائرن بج رہا تھا۔۔۔

اس رات کا منظر آنکھوں کے سامنے فلم کی طرح چلنے لگا تھا۔۔۔

“دیکھو میں یہاں سب میں سے تمہارے قریب میں ہوں اگر میں نے تم لوگوں کو یہاں سے بھگانے میں مدد کر دی تو یہ لوگ مجھے جان سے مار دیں گے اور میں ابھی مرنا نہیں چاہتی زندگی میں پہلی بار جینے کی خواہش کی ہے۔۔۔ میں جینا چاہتی ہوں”

“کچھ بھی نا ممکن نہیں ہے تم چاہو تو بہت آسان ہے ولید۔۔۔ مجھ میں جینے کی جو خواہش دس سال بعد پیدا ہوئی ہے پلیز اسے پھر سے مرنے مت دینا”۔۔۔

اس کی سبھی باتیں اسے اپنی سماعت میں پڑتی سنائی دے رہی تھیں پھر اس رات دروازے پہ اس نے آخری بار اسے دیکھا تھا کتنا دکھ تھا اس کی آنکھوں میں وہ یہ آج سمجھ پایا تھا۔۔۔

کیا ہوا صاحب آپ تو کھو ہی گئے کہیں۔۔۔ لڑکی نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجائی تو وہ ہوش کی دنیا میں واپس آیا۔۔۔

فوراً کھڑا ہوا تیز تیز قدم چلتے کوٹھے سے نکل گیا جبکہ وہ لڑکی منہ کھولے اس کی پشت کو گھور رہی تھی۔۔۔

آج پہلی بار وہ اتنی تیز رفتاری سے گاڑی چلا رہا تھا۔۔۔

اگر تم اس رات اسے اپنے ساتھ لے آتے تو آج وہ زندہ ہوتی۔۔۔

اسے اپنے ضمیر کی آواز سنائی دی تھی اسٹیرنگ پہ ہاتھ کی گرفت سخت ہو گئی تھی۔۔۔

تم نے یہ کیا کیا اپنے محسن کے ساتھ؟ تم احسان فراموش پہلے تو کبھی نہ ہوئے تھے۔۔۔

کیا تھا اگر وہ طوائف تھی دل تو اس کے سینے میں بھی تھا ہو گئی تھی مجھ سے محبت تو اس کا قصور نہ تھا ویسے بھی وہ کونسا زندگی اپنی مرضی سے گزار رہی تھی۔۔۔

کئی سوالات اس کے دماغ میں اٹھ رہے تھے اب تو سر بھی پھٹنے لگا تھا۔۔۔

ایک رات ہوٹل میں گزارنے کے بعد اگلے دن نصار کی معلومات لی تو معلوم ہوا وہ لاہور شفٹ ہو چکا ہے واپس حیدرآباد آکر اس نے سب کو لاہور شفٹ ہونے کا کہہ دیا تھا۔۔۔

ارہان نے ولید کی بے چینی دیکھ کر اس سے وجہ پوچھی ولید بھی اپنے دل کا بوجھ ہلکا کرنا چاہتا تھا اس نے ارہان کو ماہ پارہ نے بارے میں سب کچھ بتا دیا تھا۔۔۔

لاہور میں آکر اس نے اپنا گھر لیا اور یہاں بھی اپنی کمپنی چلانے میں کامیاب ہو گیا تھا۔۔۔

اب ان کا مقصد نصار سے بدلہ تھا اور اپنی چھینی ہوئی جائیداد واپس حاصل کرنا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ماہی سر پکڑے بیٹھی تھی اس کا انکل نصار اور کتنے لوگوں کے ظلم ڈھا چکا تھا کتنے گھر برباد کر چکا تھا وہ اب اس سوچ میں گم تھی۔۔۔

آدھے سے زیادہ وصول کر چکے ہیں ہم باقی کا بھی جلد کریں گے۔۔۔

ارہان کہتے ہوئے بیڈ پر بیٹھا ماضی کو یاد کر کے اس کے چہرے پہ تلخیاں واضح ہو رہی تھیں۔۔۔

ماہی نے جیسے ہی اس کی طرف دیکھا فوراً سے اس کی طرف لپک کر سر اس کے سینے سے ٹکا دیا۔۔۔

اس کے ایسا کرنے پر ارہان کو یوں محسوس ہوا جیسے کسی نے زخم پر مرہم رکھ دیا ہو اس نے ماہی کی گرد بازو باندھ لیے۔۔۔

آئے ایم سو سوری ارہان میرے انکل کی وجہ سے تم سب کو اتنا سب کچھ برداشت کرنا پڑا۔۔۔ اس کی آواز میں ندامت تھی جیسے وہ خود ہی مجرم ہو۔۔۔

پاگل ہو تم کیوں سوری بول رہی ہو تمہارا کونسا کوئی قصور ہے۔۔۔ ارہان نے اس کے بال سہلاتے ہوئے کہا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *