Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 03)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

اب بس کرو اتنے پیسے نہیں ہیں میرے پاس کہ تمہاری ہاتھ لگائی ہوئی سبھی چیزیں خریدتا پھروں،،،

ارہان نے بے زاری سے کہا۔۔۔

تو کوئی بات نہیں ہیرو میرے پاس بھی ہیں پیسے ہم مینیج کر لیں گے،،،

سہانا نے مسکراتے ہوئے کہنے لگی۔۔۔

کوئی ضرورت نہیں چلو اب گھر چلیں بہت ٹائم ہو گیا ہے،،،

ارہان کی بات پر سہانا نے منہ بسورا۔۔۔

ارہان پلیز آج ریسٹورنٹ میں مجھے لنچ کروا دو،،،

کیا لنچ؟ اور تمہیں؟ وہ بھی ریسٹورنٹ میں؟ کس خوشی میں،،،؟؟؟

ارہان نے حیرت سے بھنویں اچکائے۔۔۔

لنچ ہی تو کرنا ہے کونسا ڈانس کرنا ہے پلیز مان جاؤ پلیز پلیز،،،

سہانا اس کا بازو پکڑتے ہوئے اس کی منتیں کرنے لگی۔۔۔

کیا پاگل ہو گئی ہے دور رہو مجھ سے،،،

ارہان نے غصے سے اس کا ہاتھ جھٹکا۔۔۔

تو کیا تم میری چھوٹی سی خواہش پوری نہیں کر سکتے،،،

ایک سیکنڈ میں سہانا کا موڈ خراب ہو گیا تھا اس کے چہرے کی ساری خوشی ہوا میں گھل چکی تھی۔۔۔

ارہان نے دو انگلیوں سے پیشانی کو مسلتے ہوئے خود پر قابو پایا،،،

چلو،،،

جیسے ہی ارہان نے ہامی بھری سہانا کا چہرہ پھر سے کھل اٹھا،،،

لیکن ایک بات یاد رکھنا یہ فرسٹ اینڈ لاسٹ ٹائم ہے اوکے،،،

اس نے انگلی دکھاتے ہوئے سنجیدگی سے کہا۔۔۔

اوکے اوکے منظور ہے ابھی تو چلو۔۔۔ بعد کی بھی دیکھی جائے گی،،،،

دوسری بات سہانا نے دل میں کہی تھی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ماہی اور رائمہ ایک میز کے ساتھ بیٹھی کھانا کھا رہی تھیں۔۔۔

تبھی ارہان اور سہانا ریسٹورنٹ میں داخل ہوئے،،،

سہانا خوشی سے پھولے نہیں سما رہی تھی وہ دونوں ایک میز کی طرف بڑھے،،،

آئم سو ہیپی ارہان یو آر سو کئیرنگ،،،

سہانا نے مسکراتے ہوئے کہا جس پر ارہان بے زاری سے آنکھیں گھما کر رہ گیا۔۔۔

ان کے ساتھ والے ٹیبل پر تین لڑکے بیٹھے تھے جو سہانا کی طرف دیکھنے لگے۔۔۔

سہانا کی نظر ان پر پڑی تو نظرانداز کرنے لگی،،،

ارہان نے کھانا آرڈر کیا کچھ دیر میں کھانا میز پر لگ چکا تھا۔۔۔

اب وہ دونوں کھانا کھانے میں مصروف ہو گئے تھے،،،

سہانا مسلسل خود کو ان لڑکوں کی نظروں میں محسوس کر رہی تھی۔۔۔

اس کے لیے اب یہاں بیٹھنا مشکل ہو گیا تھا وہ لڑکے کب سے اسے دیکھ کر آپس میں کمینٹس پاس کر رہے تھے لیکن ان کی آواز سہانا تک نہیں پہنچ پا رہی تھی،،،

اس نے خاموشی سے پلیٹ پر گردن جھکائی لیکن بے چینی ابھی بھی ختم نہ ہوئی تھی،،،

ارہان چلو گھر چلیں،،،

سہانا نے کہا تو ارہان نے حیرت سے اسے دیکھا کیوں کہ جتنی منتیں کرنے کے بعد وہ اسے یہاں لائی تھی اب کھانا ختم کیے بغیر جانے کی بات کر رہی تھی۔۔۔

وہ اثبات میں سر ہلاتا خاموشی سے کھڑا ہوا۔۔۔

کاؤنٹر پر بل دینے کے بعد اس نے چہرے پر سیاہ ماسک پہنا اور باہر کی طرف چل دیا،،،

سہانا نے محسوس کیا جیسے وہ لڑکے بھی اس کے پیچھے آرہے ہوں اس نے پیچھے مڑ کر دیکھا تو واقع ہی وہ تینوں مسکراتے ہوئے اس کے پیچھے آرہے تھے،،،

ماہی اور رائمہ بھی لنچ کر کے باہر نکلیں اب ان کا ارادہ گھر جانے کا تھا،،،

گاڑی میں بیٹھو،،، ارہان نے رائمہ سے کہا

جیسے ہی رائمہ گاڑی میں بیٹھی ارہان ان تین لڑکوں کی طرف بڑھا اور بنا کچھ کہے ایک ایک کر کے ان کے منہ پر زور دار مکے رسید کرنے لگا،،،

گاڑی میں بیٹھی سہانا نے جیسے ہی یہ منظر دیکھا فوراً گاڑی سے باہر نکلی۔۔۔

وہ بھاگتی ہوئی ارہان کی طرف بڑھی،،،

ارہان،،،

سہانا نے چلاتے ہوئے اسے پکارا تبھی ماہی نے گردن موڑ کر ارہان کی طرف دیکھا۔۔۔

ارہان چھوڑو ان کو،،، سہانا چلّائی

ماہی دلچسپی سے اس لڑکے کی طرف دیکھنے لگی جو اکیلا تین تین لڑکوں کو پیٹ رہا تھا۔۔۔

ارہان کے چہرے پر ماسک ہونے کی وجہ سے وہ اس کا چہرہ نہیں دیکھ پائی تھی لیکن اس کی گھنی پلکوں تلے بڑی خوبصورت آنکھیں وہ بخوبی دیکھ سکتی تھی،،،

اس شور نے رائمہ کی بھی توجہ لی تبھی اس نے یہ منظر دیکھا،،،

ماہی چلو یہاں سے،،،

یار دیکھو کیا کمال لڑکا ہے اکیلا تین تین لڑکوں سے لڑ رہا ہے،،،

ماہی کے چہرے کے تاثرات اسے داد دینے والے تھے،،،

اچھا ابھی چلو یہاں سے اچھا نہیں لگتا ہے ہم لڑکیاں سڑک پہ کھڑے ہو کہ ایسی مار پیٹ شوق سے دیکھیں،،،

وہ ماہی کا ہاتھ پکڑتی ہوئی گاڑی تک لے آئی ماہی کی نظریں ابھی تک وہیں جمی ہوئی تھیں۔۔۔

ارہان نے ان تینوں کو اچھا سبق سکھا دیا تھا سہانا پریشانی سے سر پکڑے کھڑی تھی،،،

لوگ اکٹھا ہوئے اور انہوں نے ارہان سے ان تینوں کو چھڑوایا،،،

ارہان چلو،،، سہانا نے کہا اور ارہان اپنی شرٹ سیدھی کرتا ہوا گاڑی میں بیٹھ گیا

♥️
♥️
♥️

ماہی رائمہ کو گھر چھوڑ کر اپنے گھر آئی۔۔۔

تازہ دم ہو کر وہ بیڈ پر لیٹی تھی کہ اس آنکھوں کے گرد وہ منظر چلنے لگا جب ارہان لڑکوں کو پیٹتا ہوا ہیرو لگ رہا تھا،،،

وہ اسی سوچ میں تھی جب اس کے موبائل پر بجنے والی گھنٹی نے اس کی توجہ لی۔۔۔

اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو عباد کا نام سکرین پر تھا،،،

ہائے،،، ماہی نے کال اٹھاتے ہی کہا

کیسے ہیں جناب،،،

ٹھیک ہوں تم کیسے ہو،،،

میں بھی ٹھیک ہوں کیا کر رہی تھی،،،

کچھ نہیں آج شاپنگ کرنے گئی تھی اب فریش ہو کر لیٹی ہوں،،،

آہاں تو میرے لیے کیا لیا،،،

عباد نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

کس خوشی میں،،، ماہی نے کہا تو عباد نفی میں سر ہلاتا ہوا ہنسنے لگا

اچھا عباد ایک بات تو بتاؤ،،،

ماہی سیدھی ہو کر بیٹھی جیسے کہ بہت سنجیدہ بات کرنے لگی ہو۔۔۔

ہاں پوچھو،،،

کیا تم اکیلے تین تین لڑکوں کو پیٹ سکتے ہو،،،

ماہی کے سوال پر عباد کو حیرت ہوئی،،،

یہ کیسا سوال ہے،،،

او ہو تم آگے سے سوال مت کرو بس جواب دو،،،

میں کونسا گلی کا غنڈا ہوں جو اکیلا تین تین لڑکوں کو پیٹوں گا میں ایک بزنس مین ہوں یہ سب مجھے زیب نہیں دیتا،،،

عباد کے جواب پر ماہی نے برا سا منہ بنایا،،،

فرض کرو مجھے تین لڑکے تنگ کر رہے ہیں تو تم کیا کرو گے،،،

جان نکال دوں گا اس کی جو میری جان کو بری نظر سے دیکھے گا،،،

عباد کو اس کی بات فرض کرنے پر ہی غصہ آگیا تھا۔۔۔

ماہی مسکراتے ہوئے بیڈ پر لیٹی اور تکیے سینے پر رکھا جیسے بہت تسلی مل گئی ہو،،،

اب بتاؤ کیوں پوچھ رہی تھی،،،

نہیں بس ایسے ہی اوکے میں بعد میں بات کرتی ہوں،،،

لیکن ماہی،،،

ماہی نے اس کی سنے بغیر کال کاٹ دی اور ارہان کی جگہ عباد کو رکھ کر سوچنے لگی،،،

♥️
♥️
♥️

ارے شمیم تم کب آئی،،، سفینہ بیگم لاؤنج میں بیٹھی ٹی وی دیکھ رہی تھی جب شمیم بیگم اندر داخل ہوئی۔۔۔

آپا میں نے سوچا آپ سے بھی مل لوں اور بھائی کا بھی حال پوچھ آؤں ویسے بھی گھر پر تو فارغ ہی ہوتی ہوں،،، شمیم بیگم صوفے پر بیٹھتی ہوئی بولی

ارے یہ تو بہت ہی اچھا کیا تم نے میں بھی بہت بور ہو رہی تھی چلو اب تم آگئی ہو تو وقت اچھا گزر جائے گا،،، سفینہ بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا

ماہی کیسی ہے آپا،،،

وہ بھی ٹھیک ہے اپنے کمرے میں ریسٹ کر رہی ہے میں اسے بلواتی ہوں،،،

نہیں آپا رہنے دیں اسے ریسٹ کرنے دیں بعد میں مل لوں گی اس سے،،، شمیم بیگم نے اسے روکا

ریسٹ تو پھر بھی کرتی ہی رہے گی پہلے تم سے ملنا اس کا ضروری ہے،،،

سفینہ بیگم نے کہہ کر پاس کھڑی ملازمہ کو اشارہ کیا جو اثبات میں سر ہلاتے ہوئے اوپر کی طرف چل دی۔۔۔

بھائی کیسے ہیں طبیعت ان کی اب بہتر ہے نا،،،

بس دعا کرو کہ جلدی سے محمود ٹھیک ہو جائے میں تو بہت پریشان ہوں،،،

آپا آپ پریشان مت ہوں اللہ سب ٹھیک کر دے گا،،،

آمین،،، سفینہ بیگم نے کہا

آنی کیسی ہیں آپ،،، ماہی تیز قدموں سے شمیم بیگم کی طرف بڑھی تو وہ کھڑی ہو گئیں

بلکل ٹھیک آنی کی جان کیسی ہے،،،

انہوں نے گلے ملتے ہوئے کہا۔۔۔

میں بھی بلکل ٹھیک ہوں آپ آج اچانک،،،

کیوں تمہیں میرا اچانک آنا اچھا نہیں لگا،،،

ارے آنی کیسی باتیں کر رہی ہیں بھلا مجھے بھی کبھی آپ کا آنا برا لگا ہے،،،،

میری بچی مذاق کر رہی تھی میں،،،

شمیم بیگم نے پیار سے اس کی تھوڑی کو پکڑتے ہوئے کہا تو ماہی مسکرانے لگی

اچھا اب یہ بتاو ہمیشہ ہمیشہ کے لیے آنی کے پاس کب آنے کا ارادہ ہے،،،

ان کے سوال پر ماہی نے مسکراتے ہوئے نظریں جھکائیں،،،

آنی پہلے میری سٹڈی تو کمپلیٹ ہونے دیں پھر آجاؤں گی آپ کے پاس بھی،،،

لو سٹڈی کا کیا ہے وہ تو تم میرے پاس آکر بھی کر سکتی ہو،،،

آنی پھر بھی شادی کے بعد کچھ ذمہ داریاں بھی پڑ جاتی ہیں نا،،،

ارے بے وقوف ذمہ داریاں کیسی ہم نے کیا تم سے چولہا چوکھٹ کروانا ہے،،،

شمیم بیگم نے ہنستے ہوئے کہا اور سفینہ بیگم بھی ماہی کی بات پر ہنسنے لگیں۔۔۔

آنی نہیں نا بس ڈیڑھ سال ہی تو رہ گیا ہے میری سٹڈی کمپلیٹ ہو جائے گی پھر جیسا آپ کہیں گی بلکل ویسا ہی ہو گا،،،

وہ شمیم بیگم کے گلے لگتے ہوئے پیار سے بولی۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے میری لاڈلی جیسے تم چاہو،،،

شمیم بیگم نے مسکراتے ہوئے کہا۔۔۔

♥️
♥️
♥️
♥️

رات کے وقت ارہان اپنے کمرے میں آنکھیں موندے لیٹا ہوا تھا جب اس کے کمرے کا دروازہ کھٹکا،،،

آ جاؤ،،، اس نے کہا لیکن آنکھیں ابھی تک نہیں کھولیں تھیں

سہانا فرسٹ ایڈ باکس اٹھائے کمرے میں داخل ہوئی لڑائی کے دوران ارہان کے بھی جسم کے کچھ کچھ حصوں پر چوٹیں آئی تھیں اسی لیے سہانا اب فرسٹ ایڈ باکس لے کر اس کے سامنے موجود تھی،،،

چھوٹے چھوٹے قدموں کی آواز سن کر ارہان نے آنکھیں کھولیں،،،

تم۔۔۔ تم کیا کرنے آئی ہو یہاں،،،

اس نے سہانا کو گھورتے ہوئے کہا۔۔۔

کیوں میں نہیں آسکتی،،،

نہیں،،، ارہان نے بنا لیحاظ کیے جواب دیا

وہ۔۔۔ ارہان تمہیں چوٹ آئی ہے اس لیے میں فرسٹ ایڈ باکس لائی ہوں،،،

سہانا ہچکچاتے ہوئے بولی کیوں کہ وہ رات کے وقت پہلی بار ارہان کے کمرے میں آئی تھی۔۔۔

ارہان نے ایک بار اس کی طرف دیکھا پھر اس کے ہاتھ میں موجود فرسٹ ایڈ باکس کو دیکھا،،،

رکھ دو یہاں اور جاتے ہوئے دروازہ بند کر دینا،،،

وہ کہہ کر آنکھیں موند گیا۔۔۔

نہیں میں خود کروں گی تمہاری بینڈیج،،،

سہانا نے ضد بھرے لہجے میں کہا تو ارہان غصے سے کھڑا ہوا۔۔۔

میں نے کہا نا میں خود کر لوں گا،،،

اس نے اس کے ہاتھ سے فرسٹ ایڈ باکس پکڑنا چاہا جس پر سہانا اپنی گرفت سخت کر گئی۔۔۔

میں اتنی ہی بری لگتی ہوں تو میری خاطر ان لڑکوں سے لڑائی کیوں کی،،،

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔

میں نے کیا کیا یا کیا نہیں اس سے تمہارا کوئی لینا دینا نہیں ہے،،،

لینا دینا ہے تم سیدھے منہ مجھ سے بات نہیں کرتے اور میری خاطر ان لڑکوں سے لڑائی کی آخر کیوں ارہان،،،

اس نے بھی جواب لینے کی آج ٹھان لی تھی۔ ۔۔

اگر تم سوچتی ہو کہ میں نے تمہاری وجہ سے کچھ کیا تو اپنی اس خوش فہمی کو دل سے نکال دو تم ولید بھائی کی بہن ہو اور ان کی عزت پر کوئی بری نظر ڈالے گا تو میں ایسا ہی کروں گا جواب سن لیا ہے تو اب جا سکتی ہو تم،،،

ارہان اس کی آنکھوں میں دیکھتا ہوا جواب دے گیا تھا اور سہانا کے لیے اس کا جواب یقیناً تکلیف دہ تھا وہ تو سمجھ بیٹھی تھی ارہان بھی اسے چاہنے لگا ہے لیکن اپنے احساسات اسےمحسوس نہیں کروانا چاہتا مگر یہاں تو بات ہی کچھ اور تھی،،،

وہ بنا کچھ کہے الٹے پاؤں کمرے سے باہر نکلی اور بھاگتے ہوئے اپنے کمرے میں آکر دروازہ بند کر کے رونے لگی،،،

ارہان کے ہاتھ میں فرسٹ ایڈ باکس تھا جو اس نے بیڈ کے ایک طرف میز پر رکھا اور دروازہ بند کیے لیٹ گیا،،،

♥️
♥️
♥️

رائمہ۔۔۔

رائمہ۔۔۔

رائمہ کی امی دھیمی سی آواز میں اسے پکار رہی تھی،،،

امی کیا ہوا آپ کو،،، رائمہ ان کے کمرے میں آئی

میری طبیعت ٹھیک نہیں ہے تمہارے ابو کام سے دوسرے شہر گئے ہیں ورنہ ان کے ساتھ ڈاکٹر کے پاس چلی جاتی،،،

امی آپ کی طبیعت اچانک کیسے خراب ہو گئی،،،

رائمہ نے ان کی پیشانی پر ہاتھ رکھا۔۔۔

آپ کو تو بہت تیز بخار ہے اٹھیں میں آپ کو ڈاکٹر کے پاس لے جاؤں،،،

نہیں پورا جسم درد سے ٹوٹ رہا ہے میں تمہارے ساتھ نہیں جا سکتی،،،

پھر کیا آپ ابو کے آنے کا انتظار کریں گی وہ نہ جانے کب آئیں گے شام بھی ہو سکتی ہے،،،

تم مجھے بخار کی دوا لا دو میڈیکل سٹور سے وہ کھا لیتی ہوں خود ہی ٹھیک ہو جاؤں گی،،،

ایسے کیسے امی آپ کو چیک اپ کی ضرورت ہے،،،

اگر آرام نہ آیا تو تمہارے ابو کے ساتھ چلی جاؤں گی ابھی تم مجھے فلحال کے لیے دوا لا دو،،،

ٹھیک ہے میں جاتی ہوں آپ اپنا خیال رکھیے گا،،،

رائمہ نے اپنے کمرے میں آکر سیاہ چادر اوڑھی اور پرس اٹھائے گھر سے باہر نکل گئی،،،

رکشے میں بیٹھ کر وہ میڈیکل سٹور پر پہنچی بخار کی دوا لینے کے بعد وہ سٹور سے باہر نکل رہی تھی،،،

نظریں جھکانے کی وجہ سے وہ بری طرح کسی سے ٹکرائی تھی اور اگلے پل اس کے ہاتھ سے مڈیسن کا

شوپر نیچے گرا جس میں موجود کانچ کی بوتل ٹوٹ گئی،،،

رائمہ۔۔۔

وہ سکتے کی حالت میں کھڑی نیچے دیکھ رہی تھی جب سامنے والے کے منہ سے اپنا نام سن کر اس نے نظریں اٹھائیں،،،

آئم سو سوری یہ میری غلطی ہے میرا دھیان موبائل میں تھا،،، عباد نے شرمندگی سے کہا

آپ۔۔۔ نہیں آپ پلیز سوری مت کریں میری بھی غلطی ہے میں نے سامنے نہیں دیکھا،،،

تمہاری ساری میڈیسنز ضائع ہو گئیں،،، عباد نے افسوس سے نیچے گری دوا کو دیکھتے ہوئے کہا

کوئی بات نہیں میں اور لے لیتی ہوں،،،

ایسے کیسے میری وجہ سے میڈیسنز ضائع ہوئی ہیں اب میں ہی لے کر دوں گا،،،

نہیں اس کی ضرورت نہیں ہے میں لے لیتی ہوں،،،

مجھے یہ بتاؤ میڈینسز کس چیز کی تھیں،،،

میں کہہ رہی ہوں نا میں لے لوں گی،،،

رائمہ،،، عباد نے اسے مصنوعی گھوری سے نوازہ

بخار کی تھیں،،،

کیا ہوا تمہاری طبیعت ٹھیک ہے،،،

ج۔۔۔جی میں ٹھیک ہوں امی کو بخار ہے،،،

عباد کے یوں فکر مندی سے پوچھے پر رائمہ کا دل دھڑکنے لگا۔۔۔

اوکے تم گاڑی میں بیٹھو میں لے کر آتا ہوں،،،

لیکن عباد آپ،،، رائمہ کے الفاظ اس کے منہ میں ہی رہ گئے کہ عباد سٹور کی طرف بڑھ گیا

کچھ دیر بعد وہ واپس آیا تو رائمہ ابھی تک وہیں کھڑی تھی،،،

تم ابھی تک یہیں کھڑی ہو گاڑی میں کیوں نہیں بیٹھی،،،

آپ نے ایسے ہی تکلف کیا میں خود لے لیتی،،، رائمہ نے شرمندگی سے کہا

یہ میرے سوال کا جواب نہیں ہے،،،

رائمہ خاموش رہی،،،

میرے ساتھ اکیلے جانے میں کوئی پرابلم ہے تو بتا دو میں ہرگز فورس نہیں کروں گا،،،

نہیں نہیں ایسی کوئی بات نہیں ہے آپ سوچ بھی کیسے سکتے ہیں مجھے آپ سے کسی قسم کی کوئی پرابلم نہیں میں چلوں گی ساتھ آپ کے،،،

رائمہ جھٹ سے بولی اگلے پل یوں اچانک بول جانے پر اسے شرمندگی ہوئی۔۔۔

اوکے بیٹھو،،، وہ چلتا ہوا گاڑی کے دوسری طرف گیا اور رائمہ خاموشی سے گاڑی کی پچھلی نشست پر بیٹھنے لگی۔۔۔

آگے بیٹھ جاؤ،،، عباد کی آواز اس کی سماعت میں پڑی تو اس کا دل پہلے سے بھی مزید تیز دھڑکنے لگا

وہ چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی اس کے ساتھ اگلی نشست پر بیٹھ گئی،،،

وہ عباد کے برابر بیٹھی تھی اسے اپنا آپ اعلیٰ سا محسوس ہونے لگا تھا،،،

کچھ دیر گاڑی میں پھیلی خاموشی کو عباد کی آواز نے توڑا،،،

تم پہلے تو اچھا خاصہ بولتی تھی کچھ دنوں سے کافی خاموش ہو خیر ہے،،،

عباد نے سٹیرنگ گھماتا ہوئے پوچھا۔۔۔

اس کے اچانک سوال پر وہ ہچکچائی۔۔۔

نہیں تو ایسی کوئی بات نہیں،،،

تو پھر کیسی بات ہے،،، عباد نے ایک نظر اس کی طرف دیکھا

رائمہ سے اپنے دل کی دھڑکن سمبھالی نہیں جا رہی تھی وہ اسے جواب کیا دیتی،،،

کوئی بات نہیں ہے،،، وہ دھیمی سی آواز میں بولی

اس کے بعد عباد نے بھی اس سے کوئی بات نہیں کی اور کچھ دیر میں رائمہ کا گھر آگیا،،،

اللہ حافظ اور تھینکس مجھے ڈراپ کرنے کے لیے،،،وہ گاڑی سے نکلتے وقت بولی

ویلکم لیکن میں نے یہ پہلی بار نہیں کیا،،، وہ مسکراتا ہوا بولا رائمہ کو اس وقت وہ دنیا کا سب سے خوبصورت لڑکا لگ رہا تھا،،،

اس نے تیزی سے نظریں جھکائیں اور گھر میں داخل ہو گئی،،،

عباد نے گاڑی واپس لی اور اپنے گھر کی طرف رواں دواں ہو گیا،،،،

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *