Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 21)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

کل ارہان کی کی گئی جسارت پر ماہی صدمے سے سب کچھ ہی بھول بیٹھی تھی لیکن آج اسے سفینہ بیگم کی بات یاد آئی تو حیرت سے سوچ میں پڑ گئی۔۔۔

“عباد نے نکاح کر لیا ہے” “رائمہ کے ساتھ”۔۔۔

سفینہ بیگم کے کہے گئے الفاظ اس کے دماغ میں بارہا دوہرائے جا رہے تھے وہ پریشان تھی کہ ان دونوں کے نکاح کیوں کیا کہیں اس کی پیٹھ پیچھے وہ دونوں۔۔۔ اس کے دماغ نے سوال کیا۔۔۔

نہیں نہیں عباد ایسا نہیں کر سکتا اور رائمہ اسے تو میں بچپن سے جانتی ہوں وہ ایسی ہرگز نہیں ہو سکتی وہ تو بہت مخلص تھی میرے ساتھ عباد کی طرف تو اس نے کبھی آنکھ اٹھا کر دیکھا بھی نہ تھا نہ ہی کبھی اس سے زیادہ بات کی تھی۔۔۔۔

اس کا دل اسے تسلیاں دینے پر اتر آیا تھا لیکن ایک الجھن تھی جو ہنوز باقی تھی۔۔۔

وہ انہیں خیالوں میں گم بیٹھی تھی جب اس کی آنکھوں کے آگے ارہان نے چٹکی بجائی وہ ایک دم سے ہوش میں آئی تھی۔۔۔

کہاں گم ہو کب سے روم میں آیا ہوا ہوں۔۔۔ ارہان نے ساتھ بیٹھتے پوچھا۔۔۔

اوہ سوری۔۔۔ وہ میں ماما پاپا کے بارے میں سوچ رہی تھی۔۔۔

اچھاااا۔۔۔ ویسے ان کو یاد کر کے اگر رونا ہے تو رو سکتی ہو۔۔۔

ارہان کی معنی خیز بات پر اس کی آنکھوں کے گرد کل رات والا منظر گردش کر گیا ماہی نے گھما کر اس کے کندھے پر تھپڑ رسید کیا اور چہرہ گلال ہو گیا جسے ارہان قہقہ لگاتے ہوئے پرشوق نگاہوں سے دیکھنے لگا۔۔۔

آہ۔۔ہ۔۔ اچانک ارہان نے اپنا بازو پکڑا۔۔۔

کیا ہوا۔۔ اوہ۔۔۔ سو سوری زخم دکھ گیا ہے کیا۔۔۔ ماہی نے شدید پریشانی سے پوچھا۔۔۔

ہاں بہت دکھ رہا ہے۔۔۔۔ وہ منہ کے زاویے بگاڑتے ہوئے اداکاری کرنے لگا اور دل ہی دل میں ماہی کے بدھو بن جانے پر قہقے لگا رہا تھا۔۔۔

سوری ارہان مجھے بھول گیا تھا کہ آپ کے بازو پر ابھی زخم بھرا نہیں ہے۔۔۔ وہ خشمگیں نگاہوں سے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔

بازو پر درد نہیں ہو رہا۔۔۔ ارہان ہنوز اداکاری کر رہا تھا۔۔۔

تو پھر کہاں ہو رہا ہے۔۔۔ ماہی نے آنکھیں پھیلاتے حیرت سے پوچھا۔۔

یہاں۔۔۔ ارہان نے اپنے دل پر ہاتھ رکھا اور ماہی نے بے ساختہ ایک اور تھپڑ رسید کیا لیکن دوسرے بازو پر ارہان قہقہ لگانے لگا جبکہ وہ خفگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

بہت برے ہیں آپ۔۔۔ لاڈ سے ناراض ہوتے کہا تو ارہان کو اس کی اس ادا پر رہ رہ کر پیار آنے لگا۔۔۔

اتنا بھی برا نہیں ہوں ابھی تک اپنا حق نہیں لیا میں۔۔۔ اس کے قریب ہو کر اس کے کان میں سرگوشی کی تو ماہی کے گال دہکنے لگے اور پلکیں گالوں پہ بچھ گئی تھیں۔۔۔

اس کا یہ گلال ہوتا روپ دیکھ کر ارہان کا دل فرمائشوں پہ اتر آیا تھا اسے خود کے قریب آتا دیکھ کر ماہی نے فوراً تیور بدلے۔۔۔

چلیں اپنی جگہ پر۔۔۔ ایک ہاتھ اس کے سینے پہ رکھ کر اسے روکا اور دوسرے ہاتھ سے بستر کی دوسری طرف انگلی سے اشارہ کرتے ہوئے حکم صادر کیا اس کا یہ انداز دیکھ کر وہ عش عش کر اٹھا۔۔۔

حکم ایسے دے رہی ہو جیسے کسی ریاست کی ملکہ ہو۔۔۔ ارہان منہ بسورتے ہوئے دوسرے طرف جا بیٹھا جبکہ ماہی اپنی ہنسی دبانے کی کوشش میں لگ گئی۔۔۔

ویسے ایک ریاست کی ملکہ تو تم ہو ہی۔۔۔ ارہان کی بات پر ماہی حیران ہوئی۔۔۔

میرے دل کی ریاست۔۔۔ ارہان کے جواب پر وہ چہرے پہ شرم لیے خفیف سا ہنسنے لگی تو ارہان بھی اسے آنکھیں بھر بھر کے دیکھنے لگا۔۔۔

ارہان پاپا ٹھیک ہو جائیں گے نا۔۔۔ ماہی نے سنجیدگی سے پوچھا۔۔۔

اللہ پر بھروسہ رکھو وہ ٹھیک ہو جائیں گے۔۔۔ ارہان بھی سنجیدہ ہو کر اسے تسلی دینے لگا۔۔۔

پتہ ہے میں نے بچپن سے کے کر بڑے ہوتے تک پاپا کو کبھی بیمار ہوتے بھی نہیں دیکھا لیکن پچھلے چند ماہ سے پاپا اچانک بیمار رہنے لگے پھر آہستہ آہستہ وہ اتنے کمزور ہو گئے کہ وہ اپنے پاؤں پر چل بھی نہیں سکتے تھے اس لیے انہیں ویل چیئر کا استعمال کرنا پڑا جانے کس کی نظر کھا گئی میرے پاپا کو۔۔۔

وہ تکیے پہ ٹیک لگائے دکھی دل سے اسے بتانے لگی جبکہ ارہان کے دماغ میں اب کچھ چلنے لگا تھا۔۔۔

ماہی۔۔۔

جی۔۔۔ ماہی نے اس کی طرف بنا دیکھے جواب دیا۔۔۔

نصار تمہارے انکل ہونے سے پہلے کیا لگتے تھے۔۔۔

عباد کے سوال پر ماہی نے حیرت سے گردن موڑے اسے دیکھا آخر اس بات کو جان کر اس نے کیا کرنا تھا۔۔۔

انکل اور آنٹی کی لوّ میرج تھی وہ ہمارے کچھ نہیں لگتے تھے۔۔۔۔ آپ کیوں پوچھ رہے ہیں۔۔۔؟؟ ماہی نے حیرت سے پوچھا

نہیں بس یوں ہی۔۔۔ ارہان نے بات کو ٹال دیا جس پر ماہی آنکھیں گھما کر رہ گئی۔۔۔

تمہارا کوئی بھائی تو ہے نہیں تمہارے پاپا کا چیک اپ وغیرہ کون کرواتا ہے۔۔۔ ارہان نے یوں ہی سوال کیا

انکل ہی کرواتے ہیں ہر ماہ انہیں ہاسپٹل لے کر جاتے تھے بہت خیال رکھتے ہیں میرے پاپا کا انکل بہت اچھے ہیں۔۔۔ ماہی جیسے جیسے اسے بتا رہی تھی ویسے ویسے ارہان کے دماغ میں شک پیدا ہو رہا تھا۔۔۔

جو ڈاکٹر تمہارے پاپا کا چیک اپ کرتا ہے اس کا نام جانتی ہو۔۔۔؟؟؟

لیکن ارہان تم یہ سب جان کیا کرو گے۔۔۔ ماہی کو شدید حیرت ہوئی۔۔۔

ماہی جو پوچھا ہے صرف اس کا جواب دو۔۔۔ ارہان اب کچھ زیادہ ہی سنجیدہ ہو گیا تھا۔۔۔

ہاں ڈاکٹر شمس الدین۔۔۔۔

یہ لو موبائل اور اپنی ماما کو کال کر کے کہو کہ انکل کو گھر لے آئیں۔۔۔ ارہان نے پینٹ کی جیب سے اسے موبائل نکال کر تھمایا۔۔۔

لیکن ارہان پاپا کی کنڈیشن نہیں ہے کہ انہیں گھر لایا جائے وہ بہت لاغر ہو چکے ہیں ان کی آواز تک کانپ رہی تھی۔۔۔

ماہی جو کہا ہے وہ کرو میں بعد میں تمہیں سب بتا دوں گا نا اب کال کرو جلدی۔۔۔

وہ پریشانی سے بولا تو ماہی بھی پریشان ہونے لگی یہ سوچ کر کہ جانے اس کے دماغ میں کیا چل رہا تھا۔۔۔

ہیلو ماما۔۔۔

ماہی تم۔۔۔ سفینہ بیگم کی آواز خوشی سے چہک اٹھی تھی وہ تو سمجھ رہی تھیں جانے اب اپنی بیٹی سے جب بات کریں گی جب ملاقات ہو گی اور ماہی نے آج انہیں فون بھی کر لیا تھا۔۔۔

ماما مجھے آپ سے کچھ ضروری بات کرنی ہے پلیز وجہ پوچھے بغیر میری بات پر عمل کریں۔۔۔ وہ ارہان کی طرف دیکھتی ہوئی براہِ راست مدعے پر آئی۔۔۔

ہ۔۔ہاں کہو کیا بات ہے۔۔۔ سفینہ بیگم نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔

ماما پاپا کو ہاسپٹل سے ڈسچارج کروا کے گھر لے آئیں۔۔۔

کیا لیکن ماہی ان کی کنڈیشن نہیں ہے کہ ڈسچارج لیا جائے وہ بہت بیمار ہیں بیٹا اور تم یہ کیوں کہہ رہی ہو۔۔۔

سفینہ بیگم شدید حیران تھیں ماہی کی اس بے تکی بات پر۔۔۔

ماما میں ان کی بھلائی کے لیے ہی کہہ رہی ہوں پلیز آپ انہیں گھر کے آئیں۔۔۔ ماہی نے ارہان کی بات دوہرائی جو اسے اشارے سے کہہ رہا تھا۔۔۔

پلیز ماما کوئی سوال نہ کریں جو کہا ہے صرف وہ کریں میں ان کی بیٹی ہوں ان کا برا کبھی نہیں چاہ سکتی آج شام وہ گھر آجانے چاہیے۔۔۔

وہ۔۔تو۔۔ٹھیک ہے لیکن۔۔۔ سفینہ بیگم کشمکش کا شکار ہوئیں۔۔۔

اور آپ نے کسی کو بتایا تو نہیں کہ میں آپ سے ملنے آئی تھی۔۔۔

نہیں بیٹا میں نے کسی کو نہیں بتایا دل تو بہت چاہ رہا تھا کہ شمیم کو بتاؤں کہ تم مل گئی ہو لیکن پھر تم سے کیے وعدے کا خیال رکھتے ہوئے نہیں بتایا۔۔۔۔

ٹھیک ہے ماما اور اس کال کا بھی نہیں بتایا آپ نے ابھی میں فون رکھتی ہوں جلد بات کروں گی۔۔۔

سفینہ ابھی کشمکش میں ہی تھی کہ ماہی کال منقطع کر گئی۔۔۔

ارہان تم نے ایسا کہنے کے لیے کیوں کہا مجھ سے۔۔۔ اسے موبائل واپس دیتے ہوئے پریشانی سے پوچھا۔۔۔

تم میری بات کا یقین نہیں کرو گی اس لیے تمہیں بتانے کا کوئی فایدہ نہیں ہے۔۔۔ وہ موبائل ساتھ والے میز پر رکھ چکا تھا۔۔۔

میں بھلا کیوں یقین نہیں کروں گی تمہاری بات پر مجھے بتاؤ تو صحیح کیا بات ہے۔۔۔ ماہی تجسس کا شکار ہو رہی تھی آخر ارہان نے یہ سب اسے کہنے کو کیوں کہا۔۔۔

میں تمہیں بتاؤں گا نہیں ماہی بلکہ دکھاؤں گا پھر تمہیں میری بات پر یقین بھی ہو گا۔۔۔ ارہان نے اٹل لہجے میں کہا تو وہ حیرانگی سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

اگر تمہاری ماما انکل کو گھر لے آئیں آج رات ہی تمہارے گھر لے کر جاؤں گا تمہیں۔۔۔

کیا سچ۔۔۔ ماہی نے خوشی سے چہکتے ہوئے اسے دیکھا۔۔۔

ارہان جو کہ پریشان بیٹھا تھا اس کا کھلتا چہرہ دیکھ کر بے ساختہ مسکراتے ہوئے اثبات میں سر ہلانے لگا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

عباد صبح سے رائمہ کے پاس تھا اپنی حرکت پر وہ شدت سے نادم تھا اسے خود پر ہی یقین نہیں آرہا تھا کہ وہ ایسا کیسے کر گیا تھا۔ گھر میں ایک ملازمہ کا اور ایک گارڈ کا بندوبست بھی کر دیا تھا۔ رائمہ کے ساتھ اچانک نکاح ہو جانے پر اس کا دماغ بلکل بند ہو گیا تھا تبھی اس کے ذہن میں نہیں آیا کہ وہ خود ہو نہ ہو لیکن گارڈ اور ملازمہ گھر کے لیے ارینج کروا لے۔۔۔

ملازمہ ابھی ابھی رائمہ کے لیے مشروب کا گلاس رکھ کر گئی تھی جسے رائمہ نے ابھی تک ہاتھ بھی نہیں لگایا تھا طبیعت بوجھل ہونے کی وجہ سے اس کا کچھ کھانے پینے کو دل نہیں چاہ رہا تھا۔۔۔

اٹھو جوس پی لو۔۔۔ عباد نے اس کے پاس آکر کہا تو وہ حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

میرا دل نہیں چاہ رہا پی لوں گی جب دل کیا۔۔۔ رائمہ نے نظروں کا رخ بدلا۔۔۔

ایک انگلی سے پیشانی کھجاتے ہوئے وہ اس کے ساتھ بیٹھا رائمہ نے فوراً کھسک کر اس سے فاصلہ بنایا عباد مشروب ہاتھ میں پکڑ چکا تھا اب رائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے وہ آنکھوں سے اسے اٹھنے کا اشارہ کر رہا تھا۔۔۔

مجھے نہیں پینا بتایا تو ہے ابھی دل نہیں کر رہا۔۔۔

رائمہ ابھی اٹھو۔۔۔ عباد کے حکمیہ لہجے پر اسے مزید غصہ آنے لگا وہ اپنی جگہ سے ٹس سے مس نہ ہوئی۔۔۔

عباد نے اس کا ہاتھ پکڑ کر جھٹکے سے اسے کھینچا تو بے ساختہ وہ اٹھ کر بیٹھی اس کا چہرہ عباد کے چہرے کے بلکل قریب تھا اس نے نگاہیں اٹھا کر اسے دیکھا تو وہ بھی اسی کی طرف دیکھ رہا تھا رائمہ نے فوراً نظریں جھکا لیں۔۔۔

عباد نے اس کی طرف مشروب بڑھایا تو وہ خاموشی سے پکڑ کر پینے لگی جبکہ عباد کی نظریں اس کے چہرے کا ایکسرے کرنے میں مصروف تھیں۔۔۔

آج وہ اسے کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی تھی یا شاید آج عباد کی نظروں میں کچھ اور تھا جسے وہ خود بھی جان نہیں پایا تھا۔ رائمہ نے مشروب ختم کرنے کے بعد گلاس ہونٹوں سے ہٹایا تو اس کے نچلے ہونٹ پر ٹھہرے مشروب کے ایک قطرے پر عباد کی نظر پڑی اس نے بے ساختہ اس کے ہونٹ پر انگوٹھا پھیر کر مشروب کا قطرہ صاف کیا جبکہ رائمہ نے ایک دم سے سانس روک لیا اور پھٹی آنکھوں سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

رائمہ کو دیکھتا پا کر عباد کو اپنی ہی حرکت پر افسوس کے ساتھ حیرت ہوئی آخر وہ ایسا کیسے کر گیا۔۔۔ شرمندگی مٹانے کے لیے وہ صوفے پر بیٹھ کر لیپ ٹاپ اٹھائے بلاجواز مصروف ہونے کی اداکاری کرنے لگا جبکہ وہ چور نظروں سے اسے بارہا دیکھتی رہی۔۔۔

کچھ دیر بعد عباد کی اس پر نظر پڑی تو وہ سو چکی تھی دوائیوں کے زیرِ اثر اسے زیادہ نیند آتی تھی۔۔۔

لیپ ٹاپ پر چلتی عباد کی انگلیاں رکیں اور وہ صوفے سے پشت ٹکائے اسے دیکھنے لگا یہ جو بھی ہوا تھا اس میں رائمہ کا بھلا کیا قصور تھا اگر عباد اس رات رائمہ کو ڈھونڈنے کے لیے نہ جاتا تو وہ اسے سڑک پر بیٹھی نہ ملتی نہ ہی وہ اس کے گھر چھوڑنے جاتا نہ ہی ان دونوں پر الزامات لگتے جس کے باعث ان دونوں کا نکاح ہوا تھا ان سب میں آخر اس کا کیا قصور تھا پھر وہ اسے سزا کیوں دے رہا تھا۔۔۔

اچانک دل کی فرمائش پر اس نے لیپ ٹاپ میز پر رکھا اور بستر پر دوسری طرف بیٹھ گیا۔۔۔

اس کی طرف رخ کیے وہ کتنی ہی دیر اسے دیکھتا رہا وہ اس کے دل کو اتنا کیوں لبھا رہی تھی عباد نے حیرت سے خود سے سوال کیا۔۔۔

اتنی سی دوری سے دیکھنے پر بھی اس کا دل نہ بھرا تو وہ مزید نزدیک ہوا۔۔۔

اس کا معصوم سا چہرہ دیکھتے اپنی کل والی حرکت یاد آئی تو شدید شرمندگی نے آگھیرا اس نے کیسے کانٹوں پر رات گزاری ہو گی پہلے ہی کمزور سے دل کی ہے عباد کو سوچتے ہوئے بھی تکلیف ہوئی تھی۔۔۔

تکیہ اس کے پاس کھینچتے ہوئے وہ لیٹ گیا اور یک ٹک اسے دیکھتا رہا پھر کب اسے نیند نے آگھیرا اسے معلوم نہیں ہوا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ارہان نے گاڑی روکی تو ماہی پرجوشی سے باہر نکلی۔۔۔

رکو ماہی میں بھی جاؤں گا۔۔۔ ارہان کی آواز پر وہ رکی

ماما پریشان نہ ہوں تمہیں دیکھ کر وہ بہت سوال کریں گی۔۔۔ ماہی نے پریشانی سے کہا

تو بتا دینا تمہارا ہسبینڈ ہوں۔۔۔ ارہان نے آنکھ کا ایک کونہ دباتے ہوئے کہا جس پر ماہی نے اسے گھورا۔۔۔

ابھی نہیں بتاؤں گی انہیں دکھ ہو گا پہلے ہی پاپا کو لے کر بہت پریشان رہتی ہیں وہ۔۔۔

اچھا ٹھیک ہے جب دل کرے بتا دینا۔۔۔ ارہان نے محبت سے اسے دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

سفینہ بیگم کو وہ فون کر کے اپنی آمد کا بتا چکی تھیں وہ بے صبری سے اس کا انتظار کر رہی تھیں جب گیٹ سے ماہی کے ساتھ ایک غیر لڑکے کو اندر آتے دیکھا۔۔۔

ماہی بھاگتے ہوئے ان کے گلے سے لپٹی سفینہ بیگم نے پیار سے اس کی پیشانی پر بوسہ دیا۔۔۔

السلام علیکم۔۔۔

وعلیکم السلام۔۔۔ سفینہ بیگم نے حیرت سے ارہان کے سلام کا جواب دیا ماہی ان کی حیرت اور پریشانی دیکھتے ہوئے نظریں جھکا گئی۔۔۔

یہ کون ہے ماہی۔۔۔

ماما بعد میں یہ باتیں کریں گے ابھی ہمیں پاپا کے پاس جانا ہے۔۔۔ ماہی نے بات ٹالتے ہوئے کہا۔۔۔

سفینہ بیگم خاموش ہوئیں ان کی سمجھ سے سب باہر تھا آخر یہ سب ہو کیا رہا تھا۔۔۔

وہ تینوں محمود صاحب کے کمرے میں آگئے تھے محمود صاحب کل سے بھی زیادہ کمزور دکھائی دے رہے تھے ماہی تڑپ کر آگے بڑھی اور ان کا ہاتھ پکڑا۔۔۔

کسی کا لمس محسوس کرتے ہوئے محمود صاحب نے دھیرے سے آنکھیں کھولیں ان کی لاڈلی بیٹی پیار سے انہیں دیکھ رہی تھی جبکہ آنکھیں موتیوں سے بھری تھیں محمود صاحب نے کپکپاتا ہاتھ اس کے سر پر رکھا۔۔۔

مجھے انکل کی میڈیسنز دکھائیں۔۔۔ ارہان کی آواز پر محمود صاحب نے گردن موڑ کر دیکھا تو ایک غیر لڑکے کو یوں دیکھ کر حیران ہوئے۔۔۔

ان کا کیا کرنا ہے ارہان۔۔۔ ماہی نے حیرت سے سوال کیا

وہ بتاؤں گا ابھی مجھے میڈیسنز دو۔۔۔ ارہان نے سنجیدگی سے جواب دیا تو ماہی نے سفینہ بیگم سے میڈیسنز کا کہا جو اگلے لمحے ارہان کو تھما چکی تھیں۔۔۔

ارہان ادویات کا نام پڑھتے ہوئے ساتھ گوگل پر سرچ کرنے لگا جبکہ کمرے میں موجود باقی لوگ حیرت سے اسے دیکھ رہے تھے۔۔۔

آخر وہی ہوا تھا جس کا ارہان کو شک تھا وہ لمبے لمبے ڈنگ بھرتا چھ قدموں کا فاصلہ دو قدموں میں طے کرتے ماہی تک پہنچا اور موبائل اس کی نظروں کے سامنے کیا۔۔۔

تمہارے پاپا کو جو میڈیسنز دی جا رہی ہیں وہ ان کی بہتری کے لیے نہیں ہیں بلکہ یہ وہ میڈیسنز ہیں کو آہستہ آہستہ انسان کو اندر سے کھوکھلا کر دیتی ہیں انسان اتنا کمزور ہو جاتا ہے کہ ایک دن اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھتا ہے۔۔۔

ماہی پھٹی آنکھوں سے موبائل کی سکرین پر ان ادویات کی معلومات پڑھ رہی تھی جبکہ سفینہ بیگم اور محمود صاحب کو اپنی سماعت پر یقین نہیں آرہا تھا۔۔۔

یہ کیا کہہ رہے ہو تم۔۔۔ سفینہ بیگم نے ارہان سے پوچھا آواز بے ساختہ اونچی ہو گئی تھی۔۔۔

جی سچ کہہ رہا ہوں ان تمام میڈیسنز کی معلومات گوگل پر موجود ہیں چاہیں تو آپ بھی سرچ کر سکتی ہیں یہ میڈیسنز نہیں زہر ہے جو آہستہ آہستہ اپنا کام دکھاتا ہے۔۔۔ ارہان نے جواب دیا تو سفینہ بیگم محمود صاحب کی جانب دیکھنے لگیں۔۔۔

ماہی کیا یہ سچ ہے۔۔۔ سفینہ بیگم کو ابھی بھی یقین نہیں ہو رہا تھا ماہی نے ہونقوں کی طرح اپنی ماں کو دیکھتے ہوئے اثبات میں سر ہلایا اسے اپنا سر بہت بھاری محسوس ہو رہا تھا۔۔۔

لیکن یہ کون کرے گا۔۔۔ سفینہ بیگم نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

ماہی کے انکل نصار اور کون۔۔۔ ارہان کے جواب پر وہ سب چونک گئے تھے۔۔۔

کیا کہہ رہے ہو تم نصار ایسا کیوں کرے گا بھلا وہ ہمارا دشمن نہیں ہمارا خیر خواہ ہے۔۔۔ سفینہ بیگم حقیقت جھٹلانے کی سعی میں تھیں۔۔۔

ڈاکٹر کو کیا ملے گا آپ کے شوہر کو یہ میڈیسنز دے کر آخر کوئی تو ہے اس سب کے پیچھے اور ماہی کے کہنے کے مطابق ہر ماہ نصار ہی انکل کا چیک اپ کرواتے ہیں تو پھر اس سب کے پیچھے کس کا ہاتھ ہو سکتا ہے سوائے ان کے۔۔۔

ارہان کی بات سن کر سفینہ بیگم کو اپنا سر چکراتا ہوا محسوس ہونے لگا وہ گرنے ہی لگی تھیں کہ ماہی نے آگے بڑھ کر انہیں سہارا دیا اور صوفے پر بیٹھایا۔۔۔

نصار ایسا نہیں کر سکتا وہ تو میرے چھوٹے بھائی کی طرح ہے۔۔۔ محمود صاحب کپکپاتی آواز میں بولے

دولت کے آگے سبھی رشتے پھیکے پڑ جاتے ہیں اور وہ انہی لوگوں میں سے ہے جو رشتوں کو پیچھے اور دولت کو آگے رکھتا ہے ماہی کی منگنی بھی تو کروائی تھی نا اپنے بیٹے سے تا کہ ساری دولت انہیں مل سکے۔۔۔ ارہان نے کڑوی حقیقت سامنے رکھی تھی۔۔۔

سفینہ بیگم با آواز رونے لگی تھیں انہیں یقین نہیں ہو رہا تھا کہ نصار جو اسے آپا اور محمود کو بھائی کہتا ہے وہ آستیں کا سانپ بن کر یوں انہیں ڈسے گا جبکہ محمود صاحب ابھی بھی اس حقیقت کو ماننے سے انکار کر رہے تھے وہ یہی سوچ کر دل کو تسلیاں دے رہے تھے کہ ضرور ڈاکٹر ہی غلط ہے نصار ایسا نہیں ہو سکتا۔۔۔

جاری ہے

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *