Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 01)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

وہ ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی گول گول گھوم رہی تھی۔۔۔

وہ سنہری رنگ کی قیمتی فراک جو اس کے پاوں کے ٹخنوں تک آتی تھی پہنے خود کو ایک شہزادی تصور کر رہی تھی،،،

گول چہرہ موٹی کالی آنکھیں پتلی ناک اور گلاب کی پنکھڑی کی مانند باریک ہونٹ، کمر تک آتے لمبے بالوں کا جوڑا بنا کر سنہری دوپٹے کو نفاست سے اٹکایا گیا تھا،،،

دونوں ہاتھوں میں کانچ کی سنہری چھ چھ چوڑیاں اور لمبی ہرن جیسی گردن میں ڈائمنڈ کا خوبصورت نیکلیس پہنے وہ نہایت خوبصورت لگ رہی تھی، اس نے ایک ہاتھ سے اپنے کان میں پہنے ڈائمنڈ کے ائیر رنگ کو ہلایا اور مسکرانے لگی،،،

ماہی۔۔۔

ماہی۔۔۔

رائمہ اسے پکارتی ہوئی کمرے میں داخل ہوئی،،،

ہاں ہاں کیوں شور مچا رکھا ہے ادھر ہی ہوں،،، ماہی نے اسے گھور کر کہا جس کے ردعمل میں رائمہ نے بھنویں اچکائے۔۔۔

پورے پانچ گھنٹے لگا کر میڈم اگر تیار ہو ہی گئی ہیں اب اگلے پانچ گھنٹوں سے ان کا مرر کے آگے سے ہٹنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے،،،

ارے ارے تم تب سے ٹائم نوٹ کر رہی تھی کیا بھئی کیوں نا دیکھوں خود کو آج میری منگنی ہے کوئی عام دن تھوڑی ہے میں چاہتی ہوں جب میں سٹیج پر جاؤں تو سب اپنی نظریں مجھ سے ہٹا نہ پائیں کچھ لوگ میری تعریفوں کے پل باندھ دیں اور کچھ حسد سے جل بھن کر کالے ہو جائیں،،،

وہ مرر میں اپنے حسین سراپے کو دیکھتے ہوئے بولی ۔۔۔۔

ماہی کچھ خدا کا خوف کرو آج کے دن تو کچھ اچھا بول لو،،، رائمہ نے اسے ٹوکا

تم ہو نا سگھڑ عورت پھر مجھے بننے کی کیا ضرورت ہے،،،

وہ ہنستے ہوئے بولی جس پر رائمہ کمر پر ہاتھ ٹکائے اسے دیکھنے لگی

رائمہ تم بھی اندر جا کر بیٹھ ہی گئی لے آؤ ماہی کو نیچے ورنہ وہ صبح تک مرر کے آگے سے نہیں ہٹے گی،،، سفینہ بیگم کی آواز آنے پر رائمہ تیزی سے ماہی کی طرف لپکی

چلو بہت دیکھ لیا خود کو پتہ ہے بہت خوبصورت لگ رہی ہو اب اگر دو منٹ کے اندر اندر میں تمہیں نیچے نہ لے کر گئی تو آنٹی نے مجھے نہیں چھوڑنا،،،

وہ زبردستی اس کا ہاتھ پکڑے چلنے لگی۔۔۔

ارے لیکن دیکھو کچھ رہ تو نہیں گیا نا میں کچھ بھول تو نہیں رہی مجھے ایک بار چیک تو کر لینے دو کوئی تمہیں کچھ نہیں کہے گا اس بات کی گارنٹی میں تمہیں دیتی ہوں بس ایک منٹ رک جاؤ پلیز،،،

ماہی سب کچھ ٹھیک ہے تم پرفیکٹ لگ رہی ہو خدا کا واسطہ ہے اب مزید کچھ مت کرو ورنہ سب کچھ خراب کر لو گی چلو ابھی میرے ساتھ،،،

وہ زبردستی اسے کمرے سے باہر لے آئی۔۔۔

سیڑھیاں اتر کر لاؤنج سے گزرتے ہوئے وہ دونوں گھر کے اندرونی دروازے پر پہنچیں جہاں قیمتی لباس میں ملبوس سفینہ بیگم کھڑی ان کا انتظار کر رہی تھیں جب ان کی نظر ماہی پر پڑی تو بے ساختہ بولیں،،،

ماشاءاللّٰه‎ کتنی پیاری لگ رہی ہے میری بچی بلکل شہزادی کی طرح،،،

انہوں نے ماہی کی پیشانی پر بوسہ لیا۔۔۔

اللہ نظرِ بد سے بچائے،،،

سفینہ بیگم نے کہا تو رائمہ نے آمین کہا اور ماہی اپنی تعریف پر بتیسی نکال کر مسکرانے لگی

چلو اب باہر سب انتظار کر رہے ہیں،،،

وہ ماہی کا ہاتھ پکڑے اور دوسری طرف رائمہ اس کا ہاتھ پکڑے باہر لان میں داخل ہوئیں ماہی کو دیکھ کر وہاں بیٹھے سبھی لوگ دل ہی دل میں اس کی تعریف کر رہے تھے۔۔۔

دو سیڑھیاں چڑھ کر وہ ماہی کو صوفے کی طرف لے جانے لگیں جہاں وہ ایک شہزادے کی طرح کھڑا اس کا انتظار کر رہا تھا،،،

لمبا قد، چوڑا سینہ، سفید رنگت، بالوں کو پیچھے کی طرف سیٹ کیے وہ ایک خوش شکل اور بارعب لڑکا تھا،،،

ماہی نے مسکراتے ہوئے کن انکھیوں سے اس کی طرف دیکھا تو وہ اسی کی طرف ہی دیکھ رہا تھا جس پر ماہی مسکراتے ہوئے نظریں جھکا گئی،،،

کیا کر رہے ہیں آپ کہیں نہیں جا رہی ہے آپ کی ماہی بعد میں دیکھ لیجیے گا اس کی ابھی مہمانوں کا لیحاظ تو کر لیں،،،

رائمہ مسکراتے ہوئے بولی تو عباد کے دلکش چہرے پر مسکراہٹ ابھری،،،،،

تم مہمان نوازی کرو جا کر باڈیگارڈ بن کر ہمارے سر پہ کھڑے ہونے کی ضرورت نہیں ہے،،،

عباد نے رائمہ کو بھگانے کے لیے کہا تا کہ ماہی سے بات کر سکے،،،،،

میں تو خود مہمان ہوں دوسروں کی مہمان نوازی کیا کروں گی خیر اگر آپ کو کوئی پرسنل بات کرنی ہے تو میں چلی جاتی ہوں،،،،

وہ مسکراتے ہوئے سٹیج سے اتر گئی اور عباد نے ایک بار پھر ماہی کے حسین سراپے کو دیکھا ۔۔۔

بہت خوبصورت لگ رہی ہو بلکل پری،،،

عباد نے سرگوشی نما کہا تو ماہی کا دل زور زور سے دھڑکنے لگا

میں کیسا لگ رہا ہوں یہ تو بتایا نہیں تم نے،،،

وہ مہمانوں کی طرف دیکھ کر مسکراتے ہوئے سرگوشی میں بولا

بہت اچھے لگ رہے ہیں آپ،،،

وہ نظریں جھکائے بولی

تھینک یو،،، عباد نے مسکراتے ہوئے کہا

کچھ وقت گزرنے کے بعد ماہی اور عباد کے اہلِ خانہ ان کے پاس آئے اب رسم پوری کرنے کا وقت آچکا تھا،،،

عباد کی طرف اس کے والدین شمیم بیگم اور نصار صاحب کھڑے تھے اور ماہی کی طرف اس کے والدین سفینہ بیگم اور محمود صاحب کھڑے تھے،،،

محمود صاحب پچھلے پانچ سالوں سے بیمار تھے اب ان کے لیے اپنے پاؤں پر چلنا بھی مشکل ہو چکا تھا جس وجہ سے وہ ویل چئیر کا استعمال کرنے لگے تھے۔۔۔

نصار صاحب وقت پر ان کا ٹریٹمینٹ کرواتے رہتے تھے،،،

شمیم بیگم نے ہیرے کی انگوٹھی نکال کر عباد کو دی عباد نے ماہی کی طرف ہاتھ بڑھایا اور ماہی نے مسکراتے ہوئے اپنا نازک ہاتھ اس کے مظبوت ہاتھ کی گرفت میں دیا،،،

اگلے لمحے عباد اسے انگوٹھی پہنا چکا تھا ماہی کے خوبصورت ہاتھ میں انگوٹھی کی قیمت دگنی ہو چکی تھی،،،

پھر یہی رسم ماہی کی طرف سے ادا کی گئی پورا گھر تالیوں سے گونجنے لگا،،،

♥️
♥️
♥️

اللہ کے کرم سے آج ماہی کی منگنی تو ہو گئی اب اس کا فرض بھی جلد ہی ادا کر دیں گے،،،

ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے سفینہ بیگم اپنی قیمتی جیولری اتارتی ہوئی بولی۔۔۔

کیا کرنا ہے اتنی جلدی اس کی شادی کر کے ابھی عمر ہی کیا ہے ہماری بچی کی،،، محمود صاحب نے کہا

پورے اکیس سال کی تو ہو گئی ہے میں تو کہتی ہوں ایک سال بعد بیاہ دیں گے،،،

اچھا وقت آنے پر دیکھا جائے گا ابھی تم ذرا ملازمہ سے کہو مجھے ایک کپ چائے کا بھیج دے طبیعت بہت بوجھل سی ہو رہی ہے،،،

وہ اپنے کندھوں کو دباتے ہوئے بولے۔۔۔

طبیعت زیادہ خراب ہو رہی ہے تو پین کِلر دوں آپ کو،،،

ہاں دے دو،،، محمود صاحب نے کہا تو سفینہ بیگم نے پین کِلر نکال کر ان کو دی ساتھ پانی کا گلاس پکڑایا،،،

سفینہ بیگم نے انٹر کام دبایا تو ملازمہ بھاگتی ہوئی دروازے پر پہنچی،،،

جی بیگم صاحبہ،،،

دو کپ چائے کے دے جاؤ،،،

جی ابھی لاتی ہوں،،،

ملازمہ کہہ کر واپس چل دی ۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ماہی فریش ہو کر کمرے سے باہر نکلی جب اس کے موبائل کی گھنٹی بجنے لگی ،،،

لمبے بالوں سے ٹپکتے پانی کے قطروں کو ٹاول کی گرفت میں لیتے ہوئے اس نے موبائل اٹھا کر دیکھا تو عباد کا نام جگمگا رہا تھا،،،

ہیلو،،، عباد کی مسکراتی ہوئی آواز ماہی کے کانوں میں پڑی

ہائے،،، ماہی بھی جوابیہ مسکرائی

کیا کر رہی ہو،،،

کچھ نہیں فریش ہو کر آئی ہوں،،،

اچھا پھر تو جناب کچھ زیادہ ہی خوبصورت لگ رہی ہو گی،،،

ہاں وہ تو میں ہوں ہی،،، ماہی نے فخر سے کہا

کیوں نا وڈیو کال ہو جائے،،،

کیا لیکن اس کی کیا ضرورت ہے ابھی کچھ دیر پہلے تو ہم ساتھ تھے،،،

تمہیں جتنا بھی دیکھ لوں یہ کمبخت دل کب بھرتا ہے،،،

وہ شرارت بھرے لہجے میں بولا۔۔۔

ہاں خوبصورتی سے بھلا کس کا دل بھرتا ہے،،،

ماہی خود کو مرر میں دیکھتی ہوئی شوخ لہجے میں بولی۔۔۔

میں کال وڈیو میں کنورٹ کر رہا ہوں۔۔۔،

یہ کہہ کر عباد نے کال وڈیو میں کنورٹ کی اور ماہی نے موبائل اپنے مقابل کیا،،،

ہائے کیا چیز ہو تم ماہی ہر روپ میں غضب ڈھاتی ہو،،،

اچھا اچھا اب زیادہ رمانٹنک ہونے کی ضرورت نہیں ہے،،،

تو بتا دو یہ بندۂ ناچیز کس وقت رومانٹک ہو،،،

وہ چِھچھور پن سے بولا

عباد تم بھی نا کوئی اور بات کر سکتے ہو،،، ماہی اسے ٹوکتے ہوئے بولی

ہاں ایک ہے اور بات جو ابھی کر سکتا ہوں،،،

اچھا اور وہ کیا ہے،،،

وہ یہ کہ ہماری شادی کب ہو گی قسم سے اب اور انتظار نہیں ہوتا مجھ سے میرا تو دل کر رہا تھا یہ انگیجمینٹ کی رِنگ پہنانے کی بجائے سیدھا مولوی صاحب کو لے آتا،،،

ہاہاہا اففف عباد کیا جوک تھا،،،

کمرے میں ماہی کا قہقہ گونج اٹھا

یہ جوک نہیں تھا اگر میں چاہتا تو مولوی صاحب کو لا بھی سکتا تھا،،،

اچھاااا پھر لائے کیوں نہیں،،،

بس انکل اور آنٹی کا لیحاظ کر گیا،،،

عباد نے کہا تو ماہی کا پھر سے قہقہ لگا

تم بھی نا مذاق اچھا کر لیتے ہو چلو اب میں فون رکھ رہی ہوں صبح یونیورسٹی بھی جانا ہے،،،

ایک تو تمہاری یونیورسٹی بھی دل کر رہا ہے آگ لگا دوں،،،

ارے ارے وہ بات کرو ہی نا جو پوری نہ کر سکو چلو مسٹر مجنو میں موبائل رکھ رہی ہوں،،،

لیکن سنو تو ماہی،،، عباد بول ہی رہا تھا جب ماہی نے کال کاٹ دی

مجنو کہیں کا،،، وہ مسکراتے ہوئے بیڈ پر لیٹ کر آنکھیں موند گئی

♥️
♥️
♥️

عباد آج آفس میں بہت امپورٹنٹ میٹنگ ہے ٹائم پر آجانا،،،

کھانے کی میز پر سب ناشتہ کر رہے تھے جب نصار صاحب عباد سے مخاطب ہوئے

بے فکر رہیں پاپا میں آجاؤں گا ٹائم پر،،،

عباد نے کہہ کر نوالہ منہ میں رکھا

اور ہاں میٹنگ کے بعد اپنے انکل کے آفس میں چلے جانا ان کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہے آفس ورک تم دیکھ لیا کرو،،،

اوکے وہاں بھی چلا جاؤں گا،،،

اپنے انکل آنٹی کو بیٹے کی کمی محسوس مت ہونے دیا کرو اب تم ہی ان کے بیٹے ہو،،،

شمیم بیگم جگ سے اورنج مشروب کا گلاس منہ سے لگاتی ہوئی بولیں

ماما آپ کو تو معلوم ہے میں نے شروع سے ہی انکل کا کتنا خیال رکھا ہے بہت فکر ہے مجھے ان کی،،،

بہت اچھا کرتے ہو آگے اور بھی اچھا کرنا،،،

شمیم بیگم جوس کا گھونٹ لیتے ہوئے بولی۔۔۔

اوکے میں آفس جا رہا ہوں عباد تم دس بجے آفس آجانا،،، نصار صاحب ٹشو سے ہاتھ صاف کرتے ہوئے کھڑے ہوئے

آپ چلیں پاپا میں آ جاؤں گا،،، عباد نے کہا تو نصار صاحب اثبات میں سر ہلاتے ہوئے باہر کی جانب چل دیے

♥️
♥️
♥️

آخری لیکچر ختم ہونے کے بعد ماہی اور رائمہ کلاس روم سے باہر نکلی،،،

اففف بہت ٹف ہے یہ کیمسٹری،،، ماہی نے لمبی سانس بھرتے ہوئے کہا

جب تمہارا کوئی انٹرسٹ ہی نہیں ہے ٹف تو لگے گی تمہیں تو بس سجنے سنورنے کا شوق ہے،،، رائمہ نے میٹھا طنز کہا

ایکسکیوز می جہاں تک مجھے یاد ہے پچھلے سمیسٹر میں میرے مارکس تم سے زیادہ تھے،،،

ہ۔۔۔ہاں زیادہ تو تھے لیکن اتنے بھی نہیں،،،

ہاں ہاں اب تم تو ایسے ہی کہو گی نا ڈھیٹ بننے کے لیے،،، ماہی نے کہا تو رائمہ ہنسنے لگی

آج بھی عباد تمہیں پِک کرنے آئے گا کیا،،، رائمہ نے پوچھا

روز وہی آتا ہے آج بھی وہی آئے گا،،، ماہی کندھے اچکاتے ہوئے بولی

میں نے تو بہت بار اسے کہا تھا کہ ہمارے گھر ملازموں کی کونسا کمی ہے تم یہ ڈرائیور کی ڈیوٹی اپنے سر نہ لو۔۔۔

لیکن اس نے فورس کیا کہ نہیں میں تمہیں کسی ایرے غیرے ملازم کے حوالے نہیں کر سکتا تو میں نے بھی کہا ٹھیک ہے جیسے تمہاری مرضی،،،

آخری بات کے ساتھ ماہی نے کندھے اچکائے۔۔۔

ویسے تم بہت خوش قسمت ہو ماہی جسے اتنا اچھا لائف پارٹنر ملا،،،

تم فکر مت کرو تمہیں بھی بہت اچھا ملے گا،،، ماہی نے مسکراتے ہوئے کہا

ہم غریبوں کی قسمت میں کہاں ایسے شہزادے،،، رائمہ لمبی سانس چھوڑتے ہوئے بولی

اوں ہونہہ کتنی بار کہا ہے مایوسی نہیں کیا کرو تم سے صبر نہیں ہوتا میں ہوں نا میں نے تم سے پرامس کیا ہے کہ تمہارے لیے لڑکا ڈھونڈنا میری زمہ داری ہے تو پریشان کیوں ہوتی ہو،،،

وہ تو مجھے یاد ہے لیکن تم کب ڈھونڈ کر دو گی جب میں بوڑھی ہو جاؤں گی،،، رائمہ نے منہ بسورا

اللہ کتنی بے صبری ہے یہ لڑکی،،، ماہی نے کانوں کو ہاتھ لگائے

باتیں کرتے کرتے وہ دونوں گیٹ پر پہنچیں اور ادھر عباد کا نمبر ماہی کے موبائل پر جگمگانے لگا جس کا مطلب تھا وہ باہر پہنچ چکا ہے،،،

چلو عباد آگیا ہے،،،

وہ دونوں گیٹ سے باہر نکلیں اور ایک طرف سیاہ رنگ کی مہنگی گاڑی کی طرف چلنے لگیں،،،

ماہی انگلی نشست پر بیٹھ گئی اور رائمہ پچھلی نشست پر،،،

عباد نے سیاہ چشمہ اتارا اور گاڑی سٹارٹ کی،،،

کیسا رہا یونی میں آج کا دن،،، گاڑی میں بیٹھی خاموشی کو عباد نے باہر بھگایا

اچھا گزر گیا اور تمہارا آفس میں کیسا رہا،،،

ماہی نے جواب دے کر سوال کیا

ہاں اچھا تھا ورک کافی زیادہ تھا اب تمہیں ڈراپ کرنے کے بعد انکل کے آفس جا کر سب چیک کروں گا کیسا چل رہا ہے،،،

ضرور کیوں کہ کچھ دنوں سے پاپا کی طبیعت کچھ زیادہ ہی خراب ہو گئی ہے پہلے تو وہ چئیر پر بیٹھے فائلز وغیرہ دیکھ لیتے تھے اب بہت تھک جاتے ہیں،،،

تو انہیں روکا کرو نا کام نہ کیا کریں میں ہوں نا سمبھال لوں گا،،،

تھینک یو سو مچ عباد تم ہمارے لیے اتنا کچھ کر رہے ہو اپنا آفس بھی دیکھتے ہو پھر پاپا کا بھی،،،

تھینکس کی کوئی ضرورت نہیں میں نہ پہلے پرایا تھا اور نہ اب ہوں انکل میرے خالو ہیں میں ان کے بیٹوں جیسا ہوں ان حالات میں اگر میں ان کا ساتھ نہیں دوں گا تو اور کون دے گا،،،

تم بہت اچھے ہو عباد رائمہ ٹھیک کہتی ہے کہ میں خوش قسمت ہوں جو مجھے تم جیسا لائف پارٹنر ملا،،، ماہی مسکراتے ہوئے بولی

تھینک یو رائمہ اگر تم نہ کہتی تو ماہی کے منہ سے یہ الفاظ سننے کو نہ ملتے،،،

عباد نے سامنے لگے چھوٹے شیشے سے پیچھے بیٹھی رائمہ کو دیکھ کر کہا۔۔۔

اس میں تھینکس والی کیا بات ہے آپ واقع ہی بہت اچھے ہیں اس لیے میں نے ماہی سے کہہ دیا،،،

چلو پھر تھینکس کے بدلے میں تم دونوں کو آئس کریم کھلاتا ہوں بتاؤ گرلز آفر منظور ہے کیا،،،

آئس کریم۔۔۔ بہت مزہ آئے گا منظور ہے اور میرے فیوریٹ ریسٹورنٹ میں لے کر چلو گے،،،

ہاں ہاں جانتا ہوں وہیں لے کر جاؤں گا میڈم کو لیکن اپنی دوست سے تو پوچھ لو،،،

عباد مسکراتے ہوئے بولا تو ماہی نے پیچھے مڑ کر رائمہ کی طرف دیکھا جو پریشان نظروں سے اس کی طرف دیکھ رہی تھی

تمہیں کیا ہوا،،،

ماہی مجھے گھر سے لیٹ ہو جائے گی امی ابو پریشان ہوں گے،،، رائمہ فکر سے بولی

تمہیں گھر چھوڑتے وقت میں خود ان کو بتا دوں گی ٹھیک ہے انکار کی کوئی گنجائش نہیں ہے،،،

لیکن۔۔۔

لیکن ویکن کچھ نہیں تم ہمارے ساتھ چل رہی ہو بس کہہ دیا میں نے،،، ماہی نے کہا تو رائمہ خاموش ہو گئی

عباد نے ماہی کے فیوریٹ ریسٹورنٹ کے آگے گاڑی روکی وہ تینوں گاڑی سے باہر نکلے،،،

اتنا بڑا اور شاندار ریسٹورنٹ رائمہ نے پہلی بار دیکھا تھا،،،

ماہی نے اس کا ہاتھ پکڑا اور وہ تینوں اندر داخل ہو گئے،،،

♥️
♥️
♥️

ارہان ارہان چھوڑو اس کو تمہارا دماغ خراب ہو گیا ہے کیا مر جائے گا وہ،،، شازل نے چلاتے ہوئے کہا

ہاں دماغ خراب ہو گیا ہے میرا،،، اس نے سرخ آنکھوں سے شازل کی طرف دیکھا

گھنی پلکوں کے نیچے بڑی خوبصورت آنکھیں، سفید چکمتی رنگت، بھرا ہوا چہرہ جس پر ہلکی سے بڑھی شیو تھی، ہلکی سی تیکھی تھوڑی کے اوپر ہلکے سرخ ہونٹ، ماتھے پر بکھرے بالوں کو اس کے ایک ہاتھ سے پیچھے کیا،،،

اس کی وحشت بھری آنکھیں دیکھ کر ایک پل کے لیے تو شازل کو بھی اس سے خوف آنے لگا،،،

خود پر قابو پایا کرو کسی دن تمہارے کیے کا ہمیں بھی نقصان اٹھانا پڑے گا،،، شازل نے تلخ لہجے میں کہا

کیا کہا میرے کیے کا نقصان اٹھانا پڑے گا،،،

ارہان نے غصے سے کہا

اور نہیں تو کیا آئے دن تم کسی نا کسی کا گریبان پکڑ کر کھڑے ہوتے ہو۔۔۔

شازل نے اونچی آواز میں چلّاتے ہوئے ارہان کو سینے سے دھکیلا۔۔۔

ولید جو کہ موبائل کان کو لگائے ضروری بات کرنے میں مصروف تھا اس نے جب یہ منظر دیکھا تو بھاگتا ہوا ان کے پاس پہنچا،،،

شازل کیا کر رہے ہو تم بڑا بھائی ہے تمہارا۔۔۔

بڑا بھائی ہے تو اسے بتائیں بڑے کیسے ہوتے ہیں۔۔۔

شازل تم چپ کرو اور ارہان تم کمرے میں جاؤ،،، ولید نے نرمی سے کہا

یہ میرا بھائی ہے اس لیے میں اس کا لیحاظ کر رہا ہوں اس کو سمجھا دیں آئندہ میرے ساتھ کس طرح بات کرنی ہے کہیں یہ نہ ہو کسی دن میں اپنا ضبط کھو بیٹھوں،،،

ارہان نے ایک ایک لفظ چباتے ہوئے کہا۔۔۔

ہاں ہاں جس طرح اس معصوم پر تم نے اپنا غصہ نکالا ہے۔۔۔

شازل نے فوراً جواب دیا۔۔۔

شازل تم چپ کرو۔۔۔ ولید نے اس کی بات ٹوکتے ہوئے کہا

ولید نے زمین پر بیٹھے کھانستے ہوئے لڑکے کی طرف دیکھا۔۔۔

ارہان تم جاؤ اس سے میں بات کرتا ہوں،،،

ارہان غصے سے شازل کی طرف دیکھتے ہوئے وہاں سے چل دیا اور ولید نے نیچے جھک کر ملازم کو کھڑا کیا،،،

تمہیں سمجھایا تو تھا ارہان ٹیڑھے دماغ کا مالک ہے اس سے کس طرح بات کرنی ہے،،،

میری قسمت خراب تھی صاحب جو بھول گیا وہ بحث کر رہے تھے تو مجھے بھی تھوڑا غصہ آگیا اور ان کے آگے تھوڑی اونچی آواز میں بول بیٹھا،،،

اس نے ناک سے خون صاف کرتے ہوئے بولا۔۔۔

تم جاؤ اور آئندہ کام پر مت آنا،،، اس نے کچھ پیسے نکال کر ملازم کو دیے

لیکن ولید بھائی،،، شازل بولنے لگا جب ولید نے ہاتھ ہوا میں کھڑا کیا شازل کا منہ وہیں بند ہو گیا۔۔۔

تم جانتے تو ہو ارہان کو اس نے دوبارہ اسے یہاں دیکھا تو اس کا کیا حال کرے گا اس لیے بہتر یہی ہے کہ ہم کوئی اور ملازم رکھ لیں،،،

ولید کی بات پر شازل خاموش ہوا اور وہ ملازم جس کا آج پہلا ہی دن تھا بیچارہ سر جھکاتا ہوا گھر سے باہر نکل گیا،،،

بھائی آپ ارہان کی ہر بات مانتے ہیں حالانکہ آپ جانتے ہیں وہ غلطی پر ہوتا ہے۔۔۔

شازل نے شکوہ بھری نظروں سے ولید کو دیکھا۔۔۔

شازل ارہان کبھی بھی ناحق کسی پر ہاتھ نہیں اٹھاتا یہ تم بھی جانتے ہو اور وہ غصے کا تھوڑا تیز ہے آہستہ آہستہ اپنے غصے پر قابو پا لے گا۔۔۔

پا ہی نا لے غصے پر قابو۔۔۔

شازل زیرِلب بڑبڑایا۔۔۔

کچھ کہا تم نے۔۔۔

ولید نے پوچھا۔۔۔

نہیں بھائی کچھ نہیں کہا۔۔۔

اس کے جواب پر ولید نے اثبات میں سر ہلایا اور پھر سے موبائل کان کو لگائے مصروف ہو گیا۔۔۔

♥️
♥️
♥️
♥️

وہ لمبے لمبے ڈگ بھرتا ہوا جیسے ہی گھر کے اندرونی حصے میں داخل ہوا وہ بری طرح اس سے ٹکرائی تھی،،،

کتنی بار کہا ہے تمہیں میرے راستے میں مت آیا کرو،،،

ارہان نے اس کے نازک کندھوں کو اپنے سخت ہاتھوں کی گرفت میں لیتے ہوئے تلخی سے کہا۔۔۔

میں کب آتی ہوں یہ تو قسمت ہے جو بار بار ہمیں ایک دوسرے کے سامنے لے آتی ہے،،،

وہ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے ڈیٹھائی سے بولی۔۔۔

سہانا،،، ارہان پہلے ہی غصے سے بھرا ہوا آرہا تھا اس نے دانت پیستے ہوئے اس کا نام لیا

ہائے کتنا پیارا لگتا ہے تمہارے ان ظالم ہونٹوں سے میرا نام ایک بار پھر لو نا،،،

وہ ہونٹ دانتوں تلے دباتی ہوئی بولی۔۔۔

اس سے پہلے کہ ارہان اسے جواب دیتا شازل اندر داخل ہوا،،،

سہانا تم کیا کر رہی ہو یہاں،،،

شازل نے ترچھی نظروں سے اسے دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

کیوں مجھے کمرے سے باہر نکلنے لے لیے کسی کی اجازت کی ضرورت ہے،،،

اس نے سوالیہ نظروں سے شازل کو دیکھا

نہیں میرا مطلب یہ نہیں تھا،،،

شازل کی نظروں کا مرکز اب ارہان تھا۔۔۔

اس کی نظروں میں چھپا مطلب سمجھتے ہوئے ارہان نے کمرے کی جانب رخ کیا اور سہانا اس کی پشت کو دیکھنے لگی۔۔۔

تمہیں پتہ تو ہے ارہان کس دماغ کا مالک ہے کیوں الجھتی ہو اس سے،،،

شازل نے دو قدم سہانا کی طرف بڑھائے

کیا کروں وہ ہر موڈ میں مجھے اچھا لگتا ہے،،، وہ مسکراتے ہوہے کہہ کر چل دی جبکہ شازل وہیں کھڑا اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *