Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 26)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

تئیس چوبیس سالہ وہ لڑکی خوبصورت چہرے کے ساتھ سڈول پرکشش جسم بھی رکھتی تھی۔۔۔

اس کے چہرے پر حیرت تھی آگے بڑھتے ہوئے اس نے کسی کو آواز دی تھی۔۔۔

نازش۔۔۔

جیسے جیسے وہ لڑکی ولید کے قریب آرہی تھی ولید نے بے ساختہ نظروں کا رخ بدلا جس قسم کے لباس میں وہ اس کے سامنے موجود تھی وہ مزید اسے دیکھ نہیں سکتا تھا اس کے یوں منہ پھیر لینے پر لڑکی کے ہونٹ مسکرائے تھے۔۔۔

ہاں ماہ پارہ کچھ ملا کیا۔۔۔

دوسری نسوانی آواز پر ولید نے آنکھیں اٹھا کر اسے دیکھا وہ دونوں لڑکیاں اسے مشکوک لگی تھیں یعنی باکردار لڑکی اس طرح کے لباس نہیں پہن سکتی تھی اب اسے ان لڑکیوں کے یہاں آنے کا مقصد معلوم ہو چکا تھا۔۔۔

یہ کون ہیں بھلا۔۔۔ نازش نے ٹھوڑی پر شہادت کی انگلی ٹکائے آنکھوں میں حیرت سے سوال پوچھا۔۔۔

معلوم نہیں باہر تالا لگا تھا کلموہے کی جیب سے پیسہ نکالتے ہوئے چابیاں ملیں تو سوچا کوئی خاص خزانہ ہی چھپا رکھا ہو گا۔۔۔

ماہ پارہ نے ولید کی طرف معنی خیز سا دیکھتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔

ویسے خزانے سے کم بھی نہیں ہے۔۔۔ نازش نے ہونٹ دانتوں تلے دباتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

ارہان اور شازل کی آنکھ کھل چکی تھی وہ حیرت سے اپنے سامنے کھڑی لڑکیوں کو دیکھ رہے تھے۔۔۔

تم دونوں کہاں رہ گئی ہو میں باہر انتظار کر رہی۔۔۔ اس کے الفاظ اس کے منہ میں ہی دب گئے تھے جب اس نے کچھ انجان لوگوں کو یوں کمرے میں بند دیکھا تھا بھرے ہوئے جسم کے ساتھ وہ تیس بتیس سالہ لڑکی تھی۔۔۔

یہاں کچھ مال ملا ہے زیبا دیکھ زرا۔۔۔ ماہ پارہ نے ولید کی طرف دیکھتے ہوئے زیبا سے کہا۔۔۔

ارے یہ کون لوگ ہیں ان کلموہوں نے تو کہا تھا وہ تین اکیلے ہوں گے گھر میں۔۔۔

زیبا نے حیرت سے انہیں دیکھتے ہوئے سوال داغا۔۔۔

اوئے بتا کیا زبردستی رکھا گیا ہے یہاں۔۔۔ ماہ پارہ نے ولید کے قریب جھکتے ہوئے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے پوچھا اس کے گلے کی گہرائی ہونے کے باعث ولید نے فوراً نظریں جھکائیں۔۔۔

بتا نا کیا زبان کاٹ رکھی ہے۔۔۔ زیبا نے آگے بڑھتے تلخ لہجے میں پوچھا۔۔۔

اغوہ کیا ہوا ہے ان لوگوں نے۔۔۔ ولید نے زیبا کی طرف دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

ہائے اللہ دیکھو تو بھلا کلموہے شکل سے تو ایسے دکھائی نہ دیتے تھے۔۔۔

ماہ پارہ نے بھنویں اچکاتے تھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے حیرت سے کہا۔۔۔

اسلم کو بلا اندر ان کا بھی کچھ کرتے ہیں۔۔۔ زیبا نے نازش کی طرف اشارہ کیا جو مسکرا کر اثبات میں سر ہلاتی کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

ویسے۔۔۔ اغوہ کیوں کیا تمہیں۔۔۔ ماہ پارہ ہنوز اسی انداز میں بیٹھی تھی ولید کو اس سے کوفت ہونے لگی تھی۔۔۔

آپ لوگوں نے کیا کیا ان آدمیوں کے ساتھ ہمیں یہاں سے جانا ہے ابھی۔۔۔ ولید کو ان پر شک ہونے لگا تھا وہ تیزی سے کھڑا ہوا۔۔۔

ارے گھبراؤ نہیں یہاں سے ضرور نکلو گے لیکن جاؤ گے ہمارے ساتھ۔۔۔ نازش نے آگے بڑھتے ہوئے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔

ہاں بھئی کیا مسئلہ ہے۔۔۔ بڑی مونچھوں کے ساتھ لمبا قد چوڑا سینہ یہ ایک ادھیڑ عمر آدمی تھا ہاتھ میں گن پکڑے وہ اندر داخل ہوا تھا۔۔۔

تین لونڈے اور ایک لونڈی ہے انہیں ساتھ لے کر چل بے بے سے اچھا انعام وصول ہو گا آج۔۔۔ زیبا نے ہنس کر کہا

ہمیں جانے دیں پلیز ان لوگوں نے پہلے ہی ہمیں اغوہ کر کے بہت ظلم کیا ہے میرے چھوٹے بہن بھائی ہیں وہ مزید ڈر جائیں گے۔۔۔

ولید نے زیبا کی طرف دیکھتے ہوئے التجائیہ لہجے میں کہا جو اس کی بات کان پیچھے دھرتے ہوئے پھر سے اسلم کو اشارہ کر گئی تھی ماہ پارہ نے ایک بار پھر ولید کو مسکرا کر دیکھا اور زیبا کے پیچھے ہو لی۔۔۔

وہ چاروں گاڑی سے نکلے تھے سہانا ولید کے ساتھ چپکی ہوئی تھی ولید نے آس پاس نظر دوڑائی شاید یہ کوئی کوٹھا تھا کسی طرف سے موسیقی کی آوازیں آتی سنائی دے رہی تھیں کسی طرف سے رقص کرتے پاؤں سے گھنگروؤں کی چھنکار گونج رہی تھی۔۔۔

ماہ پارہ بڑے ناز سے کمر لچکا کر چلتی ہوئی آگے بڑھی اور شہادت کی انگلی سے ولید کو اندر آنے کا اشارہ کیا۔۔۔

وہ خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتا سہانا کو لیے اندرونی دروازہ عبور کر گیا ارہان اور شازل ڈری سی نظروں سے آس پاس دیکھ رہے تھے۔۔۔

بے بے دیکھو نا کیسا مال لوٹ کر لائیں ہیں اس بار۔۔۔ زیبا اونچی آواز میں کہنے لگی ولید نے لاؤنچ میں نظر دوڑائی تو ایک طرف پڑے تخت کے اوپر ادھیڑ عمر عورت کو بیٹھے پایا جو اپنی عمر سے کہیں زیادہ سنگھار کیے ہوئے تھی۔۔۔

انہیں دیکھ کر عورت کی باچھیں کھل گئی تھیں جھریوں زدہ مہندی سے سجا پاؤں فرش پہ رکھتے ہوئے وہ تخت سے اٹھی گہری نظروں سے انہیں دیکھتی وہ ان کی طرف بڑھ رہی تھی۔۔۔

لڑکی تو بہت خوبصورت ہے۔۔۔ سہانا کی تھوڑی پر ہاتھ رکھتے ہوئے اس نے چہرہ اوپر کیا ولید نے فوراً اس کا ہاتھ جھٹک کر سہانا کو خود سے لگایا۔۔۔

اس لڑکے کے تو بہت تیور ہیں اسلم اس کی ٹریننگ تمہارے زمے ہے۔۔۔ شاطرانہ مسکراہٹ مسکراتے ہوئے اسلم سے کہا۔۔۔

جی بے بے فکر ہی نہ کریں بہت اچھی ٹریننگ کروں گا اس کی۔۔۔ اسلم نے ہنستے ہوئے جواب دیا ولید کو کچھ بھی ٹھیک نہیں لگ رہا تھا وہ ارہان شازل اور سہانا کی وجہ بے بس محسوس کر رہا تھا وہ اپنی چھوٹی سی بھی غلطی پر بہت بڑا نقصان اٹھا سکتا تھا۔۔۔

نہ بے بے اس کی ٹریننگ کا کام مجھے سونپ دیں نا۔۔۔ ماہ پارہ چہرے پہ بلا کی معصومیت سجائے شبانہ سے کہنے لگی۔۔۔

ارے ہٹ تو زنانی ہے تو کیا سکھائے گی اس کو۔۔۔ شبانہ نے خفگی سے ماہ پارہ سے کہا۔۔۔

ماں قسم سب سیکھا دوں گی آپ کو یقین بھی نہیں ہو گا اسلم سے زیادہ اچھا سیکھاؤں گی اس کو۔۔۔ ماہ پارہ نے اپنی خوبصورت بڑی آنکھوں کو مزید بڑا کرتے ہوئے شبانہ کو یقین دلانا چاہا۔۔۔

بے بے کر دے اس لونڈے کو اس کے حوالے جب سے دیکھا ہے مر گئی ہے اس پہ۔۔۔ نازش نے ہنستے ہوئے منہ پہ ہاتھ رکھا تو شبانہ نے بھنویں اچکائے جبکہ ولید منہ کھولے سب کو دیکھ رہا تھا۔۔۔

چل تو رکھ اس کو اچھے سے سب سیکھائیو۔۔۔ شبانہ نے جیسے ہی ہامی بھری خوشی سے ماہ پارہ کے موتیوں جیسے دانت چمکنے لگے جبکہ ولید کی جان پر بن آئی تھی۔۔۔

نام کیا ہے تیرا۔۔۔ شبانہ مہندی سے سجا ہاتھ ہوا میں اٹھاتے ہوئے ولید سے مخاطب ہوئیں۔۔۔

ولید۔۔۔ ولید کے جواب دینے پر ماہ پارہ نے زیرِلب اس کا نام بڑبڑایا۔۔۔۔

اور اس کا کیا نام ہے۔۔۔ اس نے ولید کے ساتھ چپکی سہانا کی طرف ہاتھ سے اشارہ کیا۔۔۔

پلیز ہمیں جانے دیں یہاں سے پہلے ان لوگوں نے ہمیں اغوہ کر رکھا تھا آپ تو کچھ رحم کریں۔۔۔

ولید نے شبانہ کے آگے ہاتھ جوڑتے ہوئے کہا۔۔۔

ہمارا لوٹا ہوا مال ہمارے پاس ہی رہتا ہے اسے صرف ہم استعمال کر سکتے ہیں سمجھے لونڈے۔۔۔ شبانہ نے ایک سخت نظر اس پہ ڈالتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

زیبا اس لڑکی کا نام آج سے چندہ ہے لے جا اس کو اور گھنگرو پہنا آج سے یہ تیری زمہ داری ہے۔۔۔

وہ کہتی ہوئی پھر سے اپنے تخت پر جا بیٹھی۔۔۔

بچی ہے یہ کیسی باتیں کر رہی ہیں آپ۔۔۔ ولید نے دانت پیستے ہوئے کہا اسے اس عورت پہ شدید غصہ آرہا تھا۔۔۔

ابھی سے سیکھے گی تو چھ سات سال تک پیسے کمانے کے قابل ہو گی۔۔۔

شبانہ نے پان کے ڈبے سے پان نکال کر منہ میں رکھا۔۔۔

ولید کی سمجھ سے سب باہر ہو رہا تھا ایک دلدل سے نکل کر وہ دوسری دلدل میں پھنس چکے تھے۔۔۔

اور ان دو چھوٹے لونڈوں کا کیا کرنا ہے۔۔۔ زیبا نے ارہان اور شازل کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا۔۔۔

ان کو فلحال چھوٹے موٹے کام کاج سیکھاؤ بڑے کام تو کر نہیں سکتے۔۔۔

شبانہ منہ میں پان لیے ہونٹوں کو باہر نکالے بول رہی تھی۔۔۔

ارہان اور شازل نے سہمے ہوئے ولید کی طرف دیکھا ولید نے آنکھوں سے انہیں چپ رہنے کا اشارہ کیا۔۔۔

زیبا چندہ کو لے جا اچھے سے تیار کر کے رقص سیکھا۔۔۔ شبانہ کی آواز پر زیبا نے رنگ برنگی چوڑیوں بھرے ہاتھ سہانا کی طرف بڑھائے۔۔۔

بھائی مجھے نہیں جانا۔۔۔ سہانا روتے ہوئے ولید کے پیچھے چھپنے لگی۔۔۔

پلیز اسے ابھی میرے ساتھ رہنے دیں بچی ڈری ہوئی ہے۔۔۔ ولید نے شبانہ کی طرف دیکھتے ہوئے التجا کی۔۔۔

چل رہنے دے آج یہ بھی کیا یاد رکھے گا اور ہاں ان چاروں کو کھانا کھلا پہلے حلیہ بھی درست کروا دے کہا حال ہو رکھا ہے۔۔۔ شبانہ نے ہاتھ سے اشارہ کرتے ہوئے زیبا سے کہا۔۔۔

بے بے ان کے کھانے کا میں انتظام کرتی ہوں۔۔۔ ماہ پارہ آگے بڑھی۔۔۔

اچھا کر لے جا۔۔۔ شبانہ نے ماہ پارہ کی بے چینی دیکھ کر ہنستے ہوئے جواب دیا تو پان سے رنگے اس کے لال دانتوں کی نمائش ہوئی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ان کو یہاں رہتے ایک ماہ بیت چکا تھا ولید نے سہانا ارہان اور شازل کو سمجھا رکھا تھا کہ انہیں یہاں سے بھاگنا ہے اس لیے سب سے پہلے ان لوگوں کا اعتبار جیتنا ہو گا جو وہ کہیں گے وہ کرنا ہو گا کسی بات سے انکار نہیں کرنا ان تینوں نے ولید کی بات پر عمل کیا وہ سب بظاہر ان کے رنگ میں ڈھل چکے تھے۔۔۔

ولید کو یہاں نرم دل رکھنے والی صرف ماہ پارہ ہی لگی تھی لیکن بات بات پر اس کا ولید کے قریب آنے کی کوشش کرنا اور اس کی معنی خیز سی باتیں اسے زہر لگتی تھیں فلحال ولید کو اپنا مطلب نکالنا تھا اس لیے وہ اپنے اندر کے غصے کو اس پہ ظاہر نہیں کرنا چاہتا تھا تبھی وہ ماہ پارہ سے کچھ حد تک دوستی بھی کر چکا تھا۔۔۔

میں نازش اور زیبا اکثر رات کو مختلف جگہوں پر کھڑے ہوتے تھے پھر جو آدمی ہمیں اپنے ساتھ لے کر جاتا ہے اسے بے ہوشی کی دوا پلا کر جتنا مال ہوتا ہے سب اٹھا لاتے ہیں لیکن اس بار دیکھو ہائےےےے میری قسمت میں تم تھے۔۔۔

وسیع کمرے کے فرش پر سرخ رنگ کا کالین بچھا ہوا تھا نفاست سے تکیوں کو سیٹ کیے ہوئے کونوں پر پھولوں کے بڑے گلدان تھے جن سے اٹھتی مہک پورے کمرے کو خوشبو سے نہلائے ہوئے تھی۔۔۔

وہ تکیے پر سر رکھے لیٹی تھی ریشمی بال تکیے سے نیچے دور تک پھیلے ہوئے تھے اور وہ کچھ فاصلہ بنائے اس کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔

ولید اس کی بات پر خاموش رہا یہاں تک کہ اس کے چہرے پر بھی کسی قسم کا تاثر نہیں تھا۔۔۔

جانتی ہوں تم خوش نہیں ہو لیکن تمہیں عادت ہو جائے گی یہاں رہنے کی اور خاص کر میری۔۔۔ دلکش انداز میں وہ مسکرائی تھی۔۔۔

اس کی مسکراہٹ دیکھ کر ولید کی آنکھوں کے سامنے نیلم کا مسکراتا چہرہ گردش کرنے لگا نہ چاہتے ہوئے بھی اس کی آنکھوں میں نمی آگئی تھی جسے وہ ماہ پارہ سے چھپا نہ سکا تھا۔۔۔

کیا ہوا تم رو رہے ہو۔۔۔ ماہ پارہ دل پہ ہاتھ رکھتے اٹھ کر بیٹھی تو چوڑیوں کی کھنک پورے کمرے میں گونج گئی بال سمٹتے ہوئے اس کی کمر پر آبشار کی طرح بچھ گئے اس نے پریشان نظروں سے ولید کی آنکھوں میں دیکھا۔۔۔

نہیں آنکھ میں کچھ پڑ گیا ہے شاید۔۔۔ ولید نے آنکھوں کے کنارے صاف کیے اور تیزی سے وہاں سے کھڑا ہو کر باہر نکل گیا۔۔۔

ماہ پارہ نے اس کی پشت کو بڑے غور سے دیکھا تھا اتنا تو وہ جانتی تھی کہ وہ یہاں خوش نہیں ہے لیکن اپنے دل کے ہاتھوں وہ مجبور تھی ولید کو دیکھ دیکھ کر دل باغ باغ ہو جاتا تھا جب سے وہ آیا تھا وہ رات باہر گزارنا بھی چھوڑ گئی تھی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ارہان اور شازل کبھی صفائی کرتے دکھائی دیتے تھے اور کبھی پودوں کی کانٹ چھانٹ اور کبھی چھوٹے موٹے کاموں کے لیے انہیں آس پاس سے آوازیں پڑ رہی ہوتی تھیں لیکن ایک ماہ میں اب تک ان میں سے کسی کو بھی باہر جانے کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔۔۔

ولید بھائی۔۔۔ ارہان نے روتے ہوئے ولید کو پکارا تھا پودوں کی کٹائی کرتے ہوئے اس کے ہاتھ پر قینچی چل گئی تھی۔۔۔

ولید نے ارہان کے ہاتھ سے خون بہتا دیکھا تو دل کٹ گیا تھا بھاگتا ہوا اس کے پاس آیا اس کے ہاتھ کو پکڑے جیب سے رومال نکال کر اس کے ہاتھ پر باندھا ارہان ہنوز رو رہا تھا جبکہ شازل اسے دیکھ کر ہی رونے لگا تھا۔۔۔

ماہ پارہ ارہان کے ہاتھ پر پٹی کر رہی تھی اور ولید ارہان کو پیار سے بہلا رہا تھا تا کہ اس کا ذہن درد سے ہٹ سکے وہ کبھی اس کے بالوں میں ہاتھ پھیرتا اور کبھی اس کے ماتھے پر بوسہ دیتا ماہ پارہ غور سے ولید کی سبھی حرکات کو نوٹ کر رہی تھی۔۔۔

رات کو ارہان کو سلانے کے بعد ولید لاؤنج میں موجود جھولے پر بیٹھا کسی گہری سوچ میں مبتلا تھا جب کسی نے اس کی آنکھوں کے سامنے چٹکی بجاتے ہوئے اسے خیالوں کی دنیا سے باہر نکالا۔۔۔

ولید نے دیکھا وہ ماہ پارہ تھی دلکش انداز میں مسکراتے ہوئے اس کے پاس بیٹھی۔۔۔

کس کی یادوں میں اتنا مگن بیٹھے ہو۔۔۔ اس کے بیٹھنے سے جھولا ہلکا ہلکا آگے پیچھے جھولنے لگا تھا۔۔۔

ماہ پارہ۔۔۔ کچھ دیر خاموشی کے بعد ولید نے اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے اسے پکارا۔۔۔

ہائے میں صدقے تمہارے منہ سے آج پہلی بار اپنا نام سنا ہے ایک بار پھر سے کہو نا۔۔۔

سرخ رنگ سے سجے نازک لب دانتوں تلے دباتی ہوئی دلکش انداز میں کہنے لگی۔۔۔

ولید نے آنکھوں کو بند کر کے پھر سے کھولا جو وہ کہنا چاہتا تھا اس کے لیے ہمت اکٹھا کی۔۔۔

ماہ پارہ مجھے تم سے کچھ کہنا ہے۔۔۔

میں قربان بس یوں ہی مجھے پکارو جو کہو گے اسی پل مانوں گی۔۔۔ اس کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے جواب دیا۔۔۔

کیا تم وہ مان لو گی جو بھی میں کہوں گا۔۔۔؟؟؟

کہو تو کیا کہنا ہے ماہ پارہ کے بس میں ہوا تو خدا قسم کبھی پیچھے نہیں ہٹے گی۔۔۔

اس نے ولید کے ہاتھ پر اپنا ہاتھ رکھا آج ولید نے اپنا ہاتھ کھینچا نہیں تھا اور ماہ پارہ نے یہ بات نوٹ کی تھی ورنہ اس نے بہت بار ولید کے قریب آنے کی کوشش کی تھی ہر بار وہ کسی بہانے سے وہاں سے نکل جاتا تھا۔۔۔

تم اکثر پوچھتی ہو نا کہ میرے ناخوش ہونے کی کیا وجہ ہے۔۔۔ اس نے ماہ پارہ کے رائی جیسے سفید اور ملائم ہاتھ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔

ہاں لیکن تم ہی نہیں بتاتے۔۔۔ وہ ہونٹوں کو باہر نکالے منہ بسورنے لگی۔۔۔

آج بتاؤں گا وہ سبھی باتیں جن کی وجہ سے میں پچھلے تین ماہ سے ہنسنا بھول گیا ہوں۔۔۔

ماہ پارہ نے اس کی بات پر حیرت سے اسےدیکھا پھر ولید اسے اپنی اور نیلم کی کہانی سنانے لگا تھا۔۔۔

پہلی ملاقات سے ملن تک پھر ملن سے جدائی تک سبھی باتیں اسے بتاتے ہوئے اس کی آنکھیں بھر آئی تھیں آج پھر اپنی پیاری بیوی کی یاد شدت سے آئی تھی آج وہ کسی سے اس کی تمام باتیں کہہ رہا تھا۔۔۔

وہ خاموش ہو چکا تھا لیکن آنسوؤں میں پھنسی اٹک اٹک کر آتی سانسیں ماہ پارہ کے دل کو تکلیف میں مبتلا کر رہی تھیں۔۔۔

مجھے جانا ہے۔۔۔ مجھے اس آدمی سے بدلا لینا ہے۔۔۔ اس نے آنسوؤں سے تک آنکھیں ماہ پارہ کی آنکھوں سے ملائیں۔۔۔

اگر میں یہ نہ کر سکا تو زندگی بھر خود کو معاف نہیں کر سکوں گا۔۔۔

میری مدد کرو ماہ پارہ۔۔۔ تڑپ کر اسے کہا ماہ پارہ نے ایک ہاتھ آگے بڑھا کر اس کی رخساروں سے آنسو صاف کیے پھر دھیرے سے مسکرائی۔۔۔

یہاں سے بھاگنے والوں کا انجام موت ہے۔۔۔

لیکن ضروری تو نہیں کہ بھاگنے والا پکڑا جائے بچ بھی تو سکتا ہے اور مجھے اللہ پر پورا بھروسہ ہے وہ میرا ساتھ ضرور دے گا۔۔۔ ولید نے پریقین لہجے میں کہا ماہ پارہ یہ یقین اس کی آنکھوں میں دیکھ سکتی تھی۔۔۔

مجھے سوچنے کے لیے وقت دو یہ اتنا آسان نہیں ہے جتنا سوچ رہے ہو بے بے نے دس بندے لگائے ہیں پہرے کے لیے۔۔۔

لیکن تم قابلِ اعتبار ہو تم پر کوئی شک نہیں کر سکتا تم ہمیں یہاں سے نکلوا سکتی ہو۔۔۔ ولید کی بات پر وہ ہنسی تھی لیکن اس کی ہنسی میں کہیں کرب شامل تھا۔۔۔

میں قابلِ اعتبار کیسے ہو سکتی ہوں بھلا۔۔۔ اس نے داہنا پاؤں اٹھاتے ہوئے شرارے کو ہلکا سا اوپر کھسکا تو ٹخنوں سے تھوڑا اوپر گہرے نشان تھے۔۔۔

دس سال کی تھی جب قسمت یہاں لے آئی پھر بھاگنے کی کوشش کی تھی انجام تمہارے سامنے ہے پورے چھ ماہ تک پاوں میں بیڑی ڈالی تھی پھر تو ایسی توبہ کی کہ دوبارہ بھاگنے کا تصور بھی نہیں کیا۔۔۔

اسے بتاتے ہوئے وہ ہنوز مسکرا رہی تھی جبکہ ولید کا دل دہل اٹھا تھا۔۔۔

میں تمہیں کسی مشکل میں نہیں ڈالوں گا لیکن میں یہ سب سوچ سوچ کر مر جاؤں گا۔۔۔ اس نے بے بسی سے کہا

ماہ پارہ نے تیزی سے اس کے ہونٹوں پر مخروطی انگلیاں رکھیں۔۔۔

اللہ نہ کرے ایسا ہو۔۔۔ گھور کر اسے دیکھا پھر ولید نے اس کی طرف دیکھا۔۔۔

مجھے وقت چاہیے سوچنے کے لیے۔۔۔ کچھ دیر یوں ہی اسے دیکھنے کے بعد وہ فوراً کھڑی ہوئی اور اپنے کمرے میں چلی گئی جبکہ ولید وہیں بیٹھا سوچ رہا تھا وہ اس کی مدد کرے گی یا نہیں ماہ پارہ پہ اسے دل سے یقین سا ہو گیا تھا لیکن وہ یہ بھی نہیں چاہتا تھا کہ اسے پھر سے ایسی بھیانک سزا ملے جس کا زمے دار وہ خود ہو۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *