Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal NovelR50584 Tere Dil K Dar Py (Episode 02)
Rate this Novel
Tere Dil K Dar Py (Episode 02)
Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal
آئس کریم کھانے کے بعد وہ تینوں واپس گاڑی میں آکر بیٹھے تھے۔۔۔
ایک گھنٹہ لیٹ ہو جانے کی وجہ سے رائمہ پریشان تھی،،،
رائمہ کیوں پریشان ہوتی ہو میں ہوں نا انکل آنٹی سے بات کر لوں گی،،،
اگلی نشست پہ بیٹھی ماہی نے گردن موڑ کر رائمہ کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ویسے کل رات منگنی کے فنکشن پر تو رائمہ کافی بول رہی تھی اور اب تو اسے سانپ ہی سونگھ گیا ہے،،،
عباد نے مرر سے اس کی طرف دیکھ کر ہنستے ہوئے کہا۔۔۔
ایسی ہی ہے یہ اپنی مرضی کی مالک ہے اس کا جب دل چاہے زیادہ بولتی ہے جب دل چاہے کم بولتی ہے۔۔۔
مجھے تو سمجھ نہیں آتی اس کی اب کل رات بھی تو میں نے انکل آنٹی کو کال کر کے بتا دیا تھا اور ڈرائیور اسے چھوڑ آیا تھا اور اب دیکھو دن دیہاڑے اسے ڈر لگ رہا ہے،،،
میں ڈر نہیں رہی ہوں ماہی بس اسی لیے پریشان ہوں ایک تو کل میں پہلی بار رات کے وقت اتنی دیر تک باہر رہی اور آج پھر لیٹ میرا یہی حال رہا نا تو امی ابو نے یونیورسٹی آنا بند کروا دینا ہے۔۔۔
اس نے پریشان لہجے میں ماہی کو سمجھانا چاہا۔۔
اوہو نہیں ہوتا تمہارا یونیورسٹی آنا بند اب چپ کر کے آرام سے بیٹھو جب تک میں ہوں پریشان ہونے کی ضرورت نہیں اوکے،،،
ماہی اسے تسلی دیتی ہوئی سامنے کی طرف رخ کر گئی۔۔۔
عباد نے رائمہ کے گھر کے آگے گاڑی روکی چونکہ عباد روز ماہی کو یونیورسٹی سے پِک کرنے آتا تھا اور ماہی ہمیشہ رائمہ کو اپنے ساتھ لے جاتی اور اس کے گھر چھوڑتی اسی لیے عباد کو اس کے گھر کا ایڈریس اب زبانی یاد ہو چکا تھا،،،
وہ دونوں گاڑی سے باہر نکلیں اور گھر میں داخل ہوئیں۔۔۔
رائمہ درمیانے طبقے کے گھرانے سے تعلق رکھتی تھی اس کا گھر بھی اس کی حیثیت کے ہی مطابق تھا،،،
ارے ماہی بیٹا،،،
رائمہ کی امی سیکنہ بیگم نے اٹھ کر ماہی کے سر پر ہاتھ رکھا۔۔۔
کیسی ہیں آپ آنٹی،،،
میں بلکل ٹھیک ہوں بیٹا تم کیسی ہو،،،
وہ نہایت شفقت سے بولیں۔۔۔
جی میں بھی ٹھیک ہوں دراصل میں آپ کو بتانے آئی تھی کہ آج یونی میں ہمارا ایک ایکسٹرا لیکچر تھا اسی لیے رائمہ لیٹ ہو گئی،،،
ماہی نے جھوٹ بولا تو رائمہ نے آنکھیں پھاڑے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
اگلے پل ماہی نے اسے کہنی ماری جس کا مطلب تھا اپنے منہ کا زاویہ درست رکھو،،،
کوئی بات نہیں بیٹا بس میں تھوڑی پریشان ہو رہی تھی لیکن خیر ہے لیکچر تھا تو پڑھنے ہی تو بھیجتے ہیں اسے،،،
جی آنٹی بلکل صحیح کہا آپ نے چلیں اب میں چلتی ہوں عباد میرا ویٹ کر رہا ہے،،،
اتنے دنوں بعد گھر آئی ہو بیٹھو کچھ کھا پی لو،،،
آنٹی ابھی تو چلتی ہوں پہلے ہی لیٹ ہو چکی ہے نیکسٹ ٹائم ضرور کچھ کھاؤں گی،،،
ٹھیک ہے بیٹا فی امان اللہ،،،
انہوں نے پھر سے ماہی کے سر پر ہاتھ رکھا اور ماہی باہر کے دروازے کی طرف چل دی۔۔۔
بہت پیاری بچی ہے اللہ ہمیشہ خوش رکھے اتنے امیر خاندان سے ہو کر بھی ہم غریبوں کو اتنی عزت دیتی ہے ورنہ ایسے گھرانوں میں اس طرح کا سلیقہ کب سیکھایا جاتا ہے،،،
سکینہ بیگم نے رائمہ سے کہا جس پر رائمہ نے بھی اثبات میں سر ہلایا۔۔۔
ماہی جیسے ہی گاڑی میں آکر بیٹھی عباد بولا،،،
جھوٹ بولنے کی کیا ضرورت تھی بتا دیتی کہ آئس کریم کھانے میں دیر ہو گئی،،،
کیا یہ میں آنٹی کو بتاتی تمہیں پتہ تو ہے وہ مڈل کلاس لوگ ہیں ایسی باتوں کو وہ اچھا نہیں سمجھتے کہ ان کی جوان بیٹی ہوں ریسٹورنٹ میں جاتی پھرے اس لیے بہتر تھا جھوٹ ہی بول دوں،،،
اچھا چھوڑو ساری باتیں یہ بتاؤ رات نیند کیسی آئی،،،
نیند کیسی آنی تھی جیسی پہلے آتی تھی ویسی ہی آئی،،،
ماہی نے کندھے اچکاتے ہوئے کہا۔۔۔
کل رات ہمارے لیے سپیشل تھی کل ہماری انگیجمینٹ ہوئی تھی،،،
ہاں تو،،،
ماہی نے حیرت سے اس کی طرف دیکھا جب عباد نے بنا کچھ کہے اس کا ہاتھ اپنی گرفت میں لیا۔۔۔
تو یہ کہ تمہارا شہزادہ تمہارے خواب میں نہیں آیا کیا،،، عباد کا اچانک رومانٹک موڈ ہو جانے پر ماہی کو حیرت کا جھٹکا لگا
ہائے ہائے چھوڑو میرا ہاتھ یہ اچانک تمہیں رومانٹک ہونے کا کونسا شوق چڑھ جاتا ہے،،،
اوہ خدایا میں کیا کروں یہ لڑکی کب سیرئیس ہو گی،،، عباد نے ماتھے پر ہاتھ رکھا۔۔۔
کبھی بھی نہیں۔۔۔
یہ کہتے ہی ماہی نے قہقہ لگایا۔۔۔



محمود آج آپ کا ٹریٹمنٹ ہے نصار بھائی آپ کو پِک کرنے آرہے ہیں،،،
سفینہ بیگم نے محمود صاحب کو چائے کا کپ پکڑاتے ہوئے کہا۔۔۔
نصار میرے لیے اتنا کچھ کر رہا ہے مجھ سے پہلے ہی اس کے احسانوں کا بدلا نہیں چکایا جاتا عباد پہ بھی اس نے ہمارے بزنس کی ساری ذمہ داری ڈال دی ہے،،،
وہ چائے کا کپ پکڑتے ہوئے بولے۔۔۔
بات تو آپ بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں ہر ماہ وہ آپ کو چیک اپ کروانے لے کر جاتا ہے عباد بزنس سمبھال رہا ہے اگر یہ نہ ہوتے تو خدانخواستہ ہمارا کیا ہوتا،،،
سفینہ بیگم اپنا چائے کا کپ پکڑے چئیر پر بیٹھی۔۔۔
بس اللہ ہی وسیلہ بنانے والا ہے وہی کارساز ہے کوئی نہ کوئی راستہ نکال ہی دیتا ہے،،،
محمود صاحب نے آسمان کی طرف دیکھتے ہوئے کہا۔۔۔
ہممم بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں آپ اب بس اللہ آپ کو صحت عطا کر دے اور پہلے کی طرح آپ بزنس سمبھالنے لگ جائیں،،،
آمین،،، محمود صاحب نے کہا
واچ مین نے گیٹ کھولا اور نصار صاحب گاڑی لیے گھر میں داخل ہوئے،،،
السلام علیکم۔۔۔
محمود بھائی چلیں آپ کو ڈاکٹر کے پاس کے کر جانا ہے،،،
وہ ان کے پاس آکر بولے۔۔۔
وعلیکم السلام نصار ایسے کیسے تم بیٹھو تو صحیح میں تمہارے لیے چائے منگواتی ہوں،،،
نہیں آپا چائے کی ضرورت نہیں بس بھائی صاحب کو لینے آیا ہوں،،،
ارے نصار بیٹھو تم اور سفینہ تم ملازمہ سے کہو چائے لے کر آئے،،،
محمود صاحب کے اصرار پر نصار چئیر پر بیٹھے۔۔۔
نصار کیوں تکلف کرتے ہو یہاں اتنے ملازم ہیں میں کسی کو لے کر چلا جاؤں گا ڈاکٹر کے پاس،،،
محمود بھائی یہ تو آپ پراؤں والی باتیں کر رہے ہیں،،،
نہیں نہیں میرا یہ مطلب ہرگز نہیں تھا،،،
محمود صاحب شرمندہ ہوئے۔۔۔
آپ کا جو بھی مطلب تھا اس بار میں آپ کو لے کر جاؤں گا آپ کو تو معلوم ہی ہے چیک اپ کے دوران کچھ مشینوں کا استعمال بھی ہو گا پھر نیکسٹ ٹائم سے گھر میں ہی ڈاکٹر آجایا کرے گا،،،
ملازمہ چائے لے کر آئی اور نصار صاحب کو کپ پکڑایا سفینہ بیگم بھی چئیر پر بیٹھیں،،،
ٹھیک ہے تم چائے پیو پھر چلتے ہیں،،،
محمود صاحب نے کہا تو نصار صاحب نے کپ ہونٹوں سے لگایا۔۔۔



ارہان کمرے میں فرش پر بیٹھا سگریٹس پی رہا تھا کمرے میں چاروں طرف سگریٹ کا دھواں پھیلا ہوا تھا جب ولید کمرے میں داخل ہوا،،،
ارہان،،،
ولید کی آواز سن کر ارہان نے سگریٹ کو دو انگلیوں سے مسلنے لگا
کتنی بار کہا ہے جب سگریٹ پیتے ہو تو ونڈو کھلی رکھا کرو پورے کمرے میں دھواں پھیلا ہوا ہے،،،
اس نے ونڈو کھولتے ہوئے کہا۔۔۔
اور یہ لائٹس کیوں آف رکھتے ہو تم کیسے اندھیرے میں بیٹھے رہتے ہو۔۔۔
اس نے کہتے ہوئے کمرے کی لائٹ جلائی۔۔۔
ارہان کی طرف سے کوئی جواب نہ آیا تو ولید اس کے پاس آکر بیٹھا،،،
کیا ہوا ہے پریشان کیوں ہو،،،
کچھ نہیں ہوا،،،
ارہان ابھی تک ہاتھ میں پکڑی سگریٹ کو مسل رہا تھا۔۔۔
کیوں ہاتھ سے سگریٹ بجھاتے ہو کتنے نشان پڑ چکے ہیں تمہارے ہاتھوں پر،،،
اس نے ارہان کے ہاتھ سے سگریٹ کو پکڑ کر ایک طرف پھینکا۔۔۔
بھائی جلد از جلد اس شخص کے گھر کا پتہ لگواؤ مجھ سے اب اور انتظار نہیں ہوتا،،،
ارہان آنکھوں میں عجیب جنونیت لیے بولا۔۔۔
یہ کام جلد بازی کا نہیں ہے ارہان ہمیں صبر سے کام لینا ہو گا،،،
ولید نے اسے سمجھانا چاہا۔۔۔
اور کتنا صبر کرنا ہو گا دس سال تو ہو گئے صبر کرتے کرتے،،،
تھوڑا اور کر لو کچھ نہیں ہو جائے گا،،،
بس ایک بار مجھے وہ شخص مل جائے اسے اپنے ہاتھوں سے زندہ زمین میں گاڑھ کر ہی مجھے سکون آئے گا،،،
ارہان دانت پیستے ہوئے مٹھیوں کو بھینچ کر بولا وہ اپنے اندر تپتے لاوے کو بمشکل قابو میں رکھے ہوئے تھا۔۔۔
ارہان ہمیں جوش سے نہیں ہوش سے کام لینا ہے تمہاری جلد بازی ہمارے لیے نقصان دہ ہو سکتی ہے،،،
ولید نے اس کے کندھے پر ہاتھ رکھتے ہوئے کہا۔۔۔
مجھے اکیلا چھوڑ دیں،،،
کچھ دیر خاموشی کے بعد ارہان نے کہا۔۔۔
پتہ نہیں کب بات کو سمجھنے لگو گے تم۔۔۔
ولید سر نفی میں ہلاتا ہوا کمرے سے باہر نکل گیا،،،
ارہان نے اپنی شرٹ اتار کر ایک طرف پھینکی۔۔۔
اس کی گردن میں پہنی چین اس کے سینے کے ساتھ لٹک رہی تھی،،،
ڈبیہ سے ایک سگریٹ مزید نکالتے ہوئے منہ میں رکھی۔۔۔
لائٹر سے سگریٹ سلگھا کر وہ ایک ہاتھ دیوار پہ رکھے کھڑکی ہے پاس کھڑا لمبے لمبے کش چھوڑنے لگا۔۔۔



رات کے وقت رائمہ کھڑکی میں کھڑی چاند کو دیکھ رہی تھی کچھ سوچتے ہوئے اس کے لب مسکرائے۔۔۔
وہ آج دن کے وقت میں ہونے والی واقعات کو یاد کر رہی تھی جہاں عباد کبھی اس سے ریسٹورنٹ میں بات کر رہا تھا اور کبھی گاڑی میں شیشے سے اسے دیکھتا ہوا بول رہا تھا۔۔۔
مسکراتے ہوئے اچانک اس کے چہرے پر پریشانی کے اثرات نمودار ہوئے،،،
م۔۔میں یہ کیا سوچ رہی ہوں نہیں ایسا کیسے ہو سکتا ہے وہ ماہی کا منگیتر ہے،،،
اس نے اپنا سر پکڑتے ہوئے خودکلامی کی۔۔۔
کیوں عباد کو میں اتنا سوچنے لگی ہوں وہ کب سے میرے کیے اتنا اہم ہو گیا۔۔۔
پریشانی سے اس نے بال کانوں پیچھے دھکیلے۔۔۔
تمہیں خود کو قابو میں رکھنا ہو گا رائمہ یہ بہت غلط ہے تم کس راہ چلنے کے لیے تیار ہو رہی ہو،،،
کھڑکی بند کرتے ہوئے وہ بستر کی جانب مڑی اور کمفرٹر اوڑھے لیٹ گئی،،،



ماما آج سیٹرڈے ہے اور مجھے شاپنگ پر جانا ہے،،،
ماہی نے ناشتے کی ٹیبل پر ناشتہ کرتے ہوئے کہا۔۔
اوکے بیٹا چلی جانا،،،
سفینہ بیگم نے جواب دیا۔۔۔
لیکن ماما مجھے ڈرائیور کے ساتھ نہیں جانا،،،
کیوں ماہی اکیلی جاو گی کیا،،،
اکیلی نہیں جاؤں گی رائمہ کو ساتھ لے کر جاؤں گی،،،
لیکن ماہی بیٹا ڈرائیور کے ساتھ جانے میں کیا ہرج ہے،،، محمود صاحب بولے
پاپا ویسے ہی اب آپ کے بھلا کون سے دشمن ہیں جو مجھے کڈنیپ کر لیں گے،،،
ماہی کندھے اچکاتے ہوئے بولی۔۔۔
بری بات ماہی ہمیشہ اچھی بات منہ سے نکالتے ہیں قبولیت کے وقت کا کیا پتہ ہوتا ہے،،،
سفینہ بیگم اسے ڈانٹنے لگی۔۔۔
اففف ماما آپ بھی نا،،،
اوکے میں نے ناشتہ کر لیا ہے اب میں اپنے روم میں جا رہی ہوں،،،
وہ جوس کا گلاس ختم کرتے ہوئے وہاں سے اٹھ دی۔۔۔



رائمہ گھر کے کام سے فارغ ہو کر تازہ دم ہو کر بیٹھی تھی جب ماہی کی گاڑی کا ہارن اس کی سماعت میں پڑا،،،
ماہی کی گاڑی اور آج،،،
اس نے خود کلامی کرتے ہوئے کھڑکی سے نیچے کی جانب دیکھا۔۔۔
ماہی ونڈو سے چہرہ باہر نکال کر اسے ہاتھ ہلا رہی تھی،،،
کیا ہوا،،، رائمہ نے ہاتھ کے اشارے سے پوچھا
نیچے آؤ،،، ماہی نے اشارہ کیا اور رائمہ نیچے کی جانب چل دی
کیا ہوا ہے آج کس لیے،،،
میں شاپنگ پر جا رہی ہوں،،،
تو مجھے کیوں بتا رہی ہو جاؤ،،،
رائمہ نے حیرت سے بھنویں اچکائے۔۔۔
اففف احمق لڑکی تمہیں لینے کے لیے آئی ہوں،،،
لیکن مجھے کیوں،،،
میرا دماغ نہیں کھاؤ چلو گاڑی میں بیٹھو،،، ماہی نے اسے گھوری سے نوازہ
ایسے کیسے امی کو بتایا بھی نہیں ہے،،،
تو بتا کر آؤ نا،،،
اچھا یار صبر کرو آرہی ہوں،،،
رائمہ کہتے ہوئے واپس مڑی۔۔۔
کچھ دیر بعد وہ چادر لیے باہر نکلی اور گاڑی میں بیٹھ گئی،،،
ویسے امی کو تم پہ بہت ٹرسٹ ہے ماہی انہوں نے کبھی مجھے تمہارے ساتھ کہیں جانے سے نہیں روکا ورنہ تو کہیں اور جانے ہی نہیں دیتیں،،،
ماہی گاڑی چلا رہی تھی جب رائمہ بولی۔۔۔
وہ نہ بھی جانے دیتیں تو تمہیں میں نے اٹھا کر لے جانا تھا،،،
ماہی کی بات پر رائمہ کا قہقہ لگا۔۔۔
ہاہاہا تم تو ایسے کہہ رہی ہو جیسے گلی کا غنڈا ہو اور مجھ پر دل آگیا ہو،،،
تم چیز ہی ایسی ہو جانِ من دل تو آگیا ہے تم پر،،،
ماہی ایکٹنگ کرتے ہوئے بولی تو ایک بار پھر سے رائمہ کا قہقہ گاڑی میں گونج اٹھا۔۔۔
کچھ دیر میں گپیں لگاتے ہوئے وہ دونوں مارکیٹ میں پینچیں،،،



ارہان سیاہ پینٹ کے اوپر سیاہ ہی ٹی شرٹ پہنے کھڑا تھا۔۔۔
اس کی چین اس کے سینے پر لٹک رہی تھی،،،
ارہان کہیں جا رہے ہو،،،
ولید نے ارہان کو یوں دیکھا تو پوچھ لیا۔۔۔
ہاں کچھ ضروری چیزیں لینی ہیں مارکیٹ جا رہا ہوں،،،
اوکے دھیان سے جانا بائیک بہت تیز چلاتے ہو تم،،،
میں کوئی بچہ نہیں ہوں بھائی اپنا خیال رکھ سکتا ہوں،،،
ارہان کی بات پر ولید حیرت سے اس کی طرف دیکھنے لگا۔۔۔
بڑا ہوں تم سے تم میرے چھوٹے بھائی ہو اسی طرح ہی ٹریٹ کروں گا جس طرح کرنا چاہیے،،،
ولید نے نرمی سے کہا۔۔۔
اوکے اب میں جاؤں،،،
ہاں جاو،،،
ایک منٹ ایک منٹ،،،
سہانا بھاگتی ہوئی لاؤنج مہیں آئی۔۔۔
تم مارکیٹ جا رہے ہو ارہان،،،
سہانا نے اس کے پاس آکر پوچھا اور ادھر شازل بھی اپنے کمرے سے باہر نکلا۔۔۔
ہاں تو،،، ارہان نے سوالیہ نظروں سے اس کی طرف دیکھا۔۔۔
مجھے بھی کچھ شاپنگ کرنی ہے میں تمہارے ساتھ چلوں،،،
نہیں تم شازل کے ساتھ چلی جانا،،، ارہان نے شازل کو دیکھ چکا تھا ویسے بھی وہ سہانا کو شاپنگ کروانے میں کوئی دلچسپی نہیں رکھتا تھا۔۔۔
ہاں سہانا تمہیں میں لے چلوں گا،،، شازل نے فوراً کہا
لیکن مجھے ابھی جانا ہے اور تم ریڈی ہونے میں وقت لگاؤ گے پلیز ولید بھائی ارہان سے کہیں مجھے ساتھ لے چلے،،،
سہانا نے امید بھری نظروں سے ولید کی طرف دیکھ کر کہا کیوں کہ ایک وہی تھا جس کی بات ارہان ٹالتا نہیں تھا۔۔۔
لے چلو ارہان ضد کر رہی ہے،،، ولید نے کہا تو ارہان نے سہانا کی طرف دیکھ کر برداشت کرتے ہوئے ہونٹ بھینچے۔۔۔
وہ بنا کچھ کہے مڑا اور سہانا اپنی مسکراہت پر قابو پاتے ہوئے اس کے پیچھے چل دی،،،
ارہان سہانا کو ساتھ لے جا رہے ہو تو میری گاڑی لے جانا۔۔۔
پیچھے سے ولید کی آواز آئی۔۔۔
شازل نے اپنے کمرے میں آکر زور سے دروازہ بند کیا اور بیڈ پر بیٹھا اپنی مٹھیاں بھینچنے لگا،،،



ماہی اور رائمہ شاپنگ کر رہی تھیں وہ کبھی ایک دکان میں جا رہی تھیں تو کبھی دوسری میں،،،
ماہی نے زبردستی رائمہ کو بھی بہت سی شاپنگ کروا دی تھی،،،
اور کتنا کچھ لو گی ماہی اب بس بھی کرو میں تھک چکی ہوں،،،
رائمہ کے چہرے پر تھکن کے اثرات واضح تھے۔۔۔
او ہو کیا ہو گیا ہے ابھی صرف دو گھنٹے ہی تو ہوئے ہیں اور تم تھک بھی گئی ہو،،،
ماہی نے اسے آنکھیں دکھائیں اس کا کوئی ارادہ نہیں تھا رائمہ پر ترس کھانے کا۔۔۔
تم تو مہارانیوں کی طرح بنا بنایا ناشتہ کر کے آگئی ہو اور میں نے خود ناشتہ بنایا پھر گھر کا سارا کام کیا میں پہلے ہی تھک چکی تھی اوپر سے دو گھنٹے ہو گئے تم نے مشین کی طرح مجھے چلایا ہوا ہے،،، رائمہ نے منہ بسوا
اففف میری جان بس آدھا گھنٹہ اور پھر اچھے سے ریسٹورنٹ میں تمہیں لنچ کرواؤں گی پھر گھر جا کر خوب ریسٹ کرنا اوکے کل بھی تو سنڈے ہے،،،
مجھے تو تم لنچ کروا دو گی اور جو میں نے گھر جا کر بنانا ہے اس کا کیا امی ابو کی کونسی آج بھوک ہڑتال ہے۔۔۔
او ہو پریشان کیوں ہوتی ہو میں ان کے لیے لنچ پیک کروا دوں گی اوکے تا کہ میری پیاری سی دوست گھر جا کر بس ریسٹ کرے۔۔۔
ماہی نے اس کی ٹھوڑی پکڑتے ہوئے پیار سے کہا۔۔۔
رہنے دو تم میں خود بنا لوں گی گھر جا کر تمہارا بس چلے تو مجھے اپنے ساتھ ہی گھر لے جاؤ۔۔۔
اور نہیں تو کیا قسم سے یار میرا کوئی بھائی ہوتا نا تو تمہیں میں نے کنفرم اپنی بھابھی بنانا تھا۔۔۔
ہاں تبھی تمہارا کوئی بھائی نہیں ہے ہم ایسے ہی رہیں گے تبھی ہماری دوستی برقرار رہے گی۔۔۔
ارے ایسی کوئی بات نہیں ضروری نہیں بھابھی نند کی ہمیشہ بنتی نہ ہو۔۔۔
وہ دونوں باتیں کرتی ہوئیں دوسری شاپ کی طرف چلنے لگیں۔۔۔
