Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 19,20)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

پاپا میں یہاں رہا تو رائمہ کا وہاں اکیلے رہنا نہ ممکن ہے پلیز آپ اسے قبول کر لیں یقین مانیں وہ بہت معصوم ہے۔۔۔

عباد کو نصار صاحب نے فون کر کے واپس گھر بلا لیا تھا اب عباد انہیں سمجھانے کی کوشش کر رہا تھا۔۔۔

عباد تم ہمارے بیٹے ہو تمہارے بغیر ہماری زندگی ادھوری ہے لیکن اس کا مطلب ہرگز یہ نہیں کہ ہم اس لڑکی کو یہاں آنے کی اجازت دیں۔۔۔ نصار صاحب سنجیدگی سے بولے

بلکل ٹھیک کہہ رہے ہیں تمہارے پاپا اسے ہم چاہ کر بھی قبول نہیں کر سکتے۔۔۔ شمیم بیگم نے جواب دیا

ٹھیک ہے رات ہو رہی ہے میں چلتا ہوں اسے اکیلے میں ڈر لگتا ہے۔۔۔

وہ صوفے سے کھڑا ہوا جبکہ شمیم اور نصار صاحب اسے گھورنے لگے۔۔۔

تم اس کے ماں باپ سے کہو کہ اس کے ساتھ رہ لیں لیکن تم یہیں رہو ہمارے ساتھ۔۔۔ شمیم بیگم نے کہا تو عباد ان کی بات سے سوچ میں پڑا۔۔۔

ٹھیک ہے میں بات کروں گا ابھی مجھے اجازت دیں۔۔۔

وہ گھر سے نکل کر گاڑی میں بیٹھا بیس پچیس منٹ کی مسافت کے بعد اس نے پرانے گھر کے سامنے گاڑی روکی۔۔۔

ہارن کی آواز پر رائمہ نے بھاگتے ہوئے گیٹ کھولا عباد گاڑی پارک کر کے باہر نکلا۔۔۔

ڈر تو نہیں لگا۔۔۔

اس نے ایک نظر رائمہ کو دیکھا جو سفید شلوار قمیض پہنے نکھری نکھری سے دکھائی دے رہی تھی شاید وہ کچھ دیر پہلے ہی نہائی تھی۔۔۔

بس تھوڑا سا۔۔۔

مت ڈرا کرو۔۔۔ وہ چلتا ہوا لاؤنچ کے صوفے پر بیٹھا۔۔۔

چائے بنا دوں آپ کے لیے۔۔۔

بھوک لگی ہے مجھے۔۔۔ عباد نے جواب دیا

لیکن۔۔۔ آپ نے ہی کہا تھا آپ کے لیے کھانا نہ بنایا کروں۔۔۔ وہ نظریں جھکائے بولی

عباد کو اپنی بات یاد آئی پھر آج وہ کیسے باہر سے کھانا کھانا بھول گیا تھا اسے خود پر حیرت ہوئی اس نے تو سوچ رکھا تھا رائمہ کے ساتھ کم سے کم وقت گزارے گا۔۔۔

اوہ میں آڈر کرتا ہوں۔۔۔

نہیں اس کی ضرورت نہیں میں نے آپ کے لیے بھی کھانا بنایا ہے۔۔۔

رائمہ کی بات پر اس نے حیرت سے اسے دیکھا پھر جلد نظریں جھکا گیا۔۔۔

کھانا کھاتے ہوئے اس کی آنکھیں بار بار رائمہ کو ہی دیکھ رہی تھیں سفید سوٹ میں وہ بہت معصوم اور خوبصورت دکھائی دے رہی تھی۔۔۔

رائمہ کی نظر اچانک عباد پر پڑی تو عباد نے فوراً اپنی پلیٹ پر سر جھکایا لیکن رائمہ اس سوچ میں پڑ گئی کہ وہ اسے دیکھ کیوں رہا تھا۔۔۔

انکل آنٹی سے بات ہوئی تمہاری۔۔۔ کچھ دیر بعد عباد نے پوچھا۔۔۔

جی بات ہوتی رہتی ہے۔۔۔

کیا ایسے نہیں ہو سکتا کہ انکل آنٹی تمہارے ساتھ یہاں رہ لیں میرے خیال میں اس طرح زیادہ مناسب رہے گا۔۔۔

کیا۔۔۔لیکن مجھے نہیں لگتا کہ وہ مانیں گے۔۔۔ رائمہ اس کی بات پر حیران ہوئی اور یہ بھی سمجھ گئی کہ وہ اس کے ساتھ اکیلا یہاں نہیں رہنا چاہتا۔۔۔

پوچھنے میں کیا ہرج ہے صبح کال کر کے پوچھ لینا۔۔۔

جی ٹھیک ہے۔۔۔ رائمہ نے سر جھکائے جواب دیا

عباد فارغ ہو کر اپنے کمرے میں آکر دروازہ بند کر گیا جبکہ رائمہ نے کرسی سے پشت ٹکائی وہ عباد کی بات پر پریشان ہو گئی تھی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

شازل کی آنکھ کھلی تو اپنے پہلو میں سہانا کو سوتے ہوئے پایا وہ اس کے بازو پہ سر رکھے سکون کی نیند سو رہی تھی شازل نے آگے بڑھ کر اس کے سر پر ہونٹ رکھے۔۔۔

سہانا ہلکا سا کھسمسائی شازل مسکراتے ہوئے اسے دیکھنے لگا۔۔۔

سہانا نے آنکھیں کھولیں تو سامنے شازل کا مسکراتا چہرہ تھا وہ شازل کو دیکھتے ہی شرما کر اس کے سینے میں چہرہ چھپا گئی۔۔۔

شازل نے ہنستے ہوئے اس کے گرد بازوؤں کا گھیرا کیا۔۔۔

چھوڑیں مجھے فریش ہونا ہے۔۔۔

چھوڑنے کے لیے نہیں پکڑا تمہیں۔۔۔ اس نے سہانا کے کان میں معنی خیز سی سرگوشی کی۔۔۔

شازل۔۔۔ سہانا نے اس کے سینے پر پنچ مارا جس پر وہ ہنسنے لگا۔۔۔

سہانا اٹھتی ہوئی واش روم گھس گئی جبکہ شازل اپنے دل کے سکون کو آنکھیں موندے محسوس کرنے لگا۔۔۔

اس نے تو خواب میں بھی نہیں سوچا تھا کہ اس کی دلی مراد یوں پوری ہو جائے گی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

چلو تمہیں تمہارے پاپا سے ملوا دوں۔۔۔

ارہان کی آواز پر ماہی حیرت سے اسے دیکھنے لگی۔۔۔

ک۔۔کیا کہا۔۔۔؟؟؟ ماہی کو اپنی سماعت پر یقین نہیں ہو رہا تھا۔۔۔

تمہیں تمہارے پاپا سے ملوا دیتا ہوں۔۔۔ وہ دھیرے سے مسکراتا ہوا بولا۔۔۔

س۔۔سچ کیا ابھی جائیں گے ہم۔۔۔ اس کا چہرہ خوشی سے کھل اٹھا تھا۔۔۔

ہاں ابھی چلیں گے۔۔۔ وہ اطمینان سے بولا ماہی کو تو یقین نہیں ہو رہا تھا آج وہ اپنے گھر جا رہی تھی اپنے پاپا اور ماما سے ملنے آج ارہان نے اسے بہت بڑی خوشی دی تھی۔۔۔

سنو گھر میں کسی کو نہ بتانا میں نے یہی کہا ہے کہ میں تمہیں گھمانے کے لیے لے جا رہا ہوں۔۔۔

ماہی آئینے کے سامنے کھڑی تیاری کر رہی تھی جب ارہان کی آواز پر پلٹی۔۔۔

باقی سب راضی نہیں ہیں آخر اس کے پیچھے کیا وجہ ہے۔۔۔ ماہی نے پریشانی سے پوچھا۔۔۔

صحیح وقت آنے پر تمہیں سب بتا دوں گا ابھی چلو ہم لیٹ ہو رہے ہیں۔۔۔

وہ ارہان کی بات پر سر جھکا گئی۔۔۔

چادر اوڑھ لو میں نہیں چاہتا تمہیں کوئی اور دیکھے اور ہاں اپنے ماما اور پاپا سے بھی کہہ دینا کہ وہ کسی نہ بتائیں میں تمہیں ان سے ملوانے کا رسک تو لے رہا ہوں لیکن پریشان بھی ہوں۔۔۔

ارہان۔۔۔ ماہی نے بے ساختہ اس کا ہاتھ پکڑا ارہان نے ایک نظر ہاتھ پہ ڈالتے ہوئے اس کے چہرے کی طرف دیکھا۔۔۔

ٹرسٹ می میں ماما پاپا کو سمجھا دوں گی کہ وہ کسی کو میرے ملنے کا نہ بتائیں۔۔۔

ارہان نے اس کی آنکھوں میں سچائی دیکھی تھی وہ اثبات میں سر ہلانے لگا۔۔۔

لیکن چادر تو نہیں ہے میرے پاس۔۔۔ ماہی نے پریشانی سے مسئلہ بتایا۔۔۔

یہ لو سہانا سے لے کر آیا ہوں۔۔۔ اس نے دوسرے ہاتھ میں پکڑی چادر ماہی کی طرف بڑھائی ماہی چادر اوڑھتے ہوئے اس کے ساتھ بائیک پر بیٹھ گئی۔۔۔

گھر سے نکلنے کے کچھ ہی دیر بعد بائیک آسمانوں سے باتیں کرنے لگی تھی ماہی نے زور سے ارہان کے پیٹ پر بازو باندھے جنہیں دیکھ کر وہ ہلکا سا مسکرایا۔۔۔

رات کے دس بج رہے تھے ماہی نے بائیک سے اترتے ہوئے ایک نظر اپنے گھر پہ ڈالی جسے وہ پورے ایک ماہ بعد دیکھ رہی تھی۔۔۔

ارہان اسے پہلے ہی بتا چکا تھا کہ وہ اکیلی اندر جائے گی وہ بائیک کو ایک طرف لگائے کھڑا تھا۔۔۔

ماہی نے پرجوشی سے گیٹ کی گھنٹی بجائی تو گارڈ نے دروازہ کھولا۔۔۔

ماہی بی آپ۔۔۔ اس کا منہ حیرت سے کھلا رہ گیا۔۔۔

جی چچا پیچھے ہٹیے مجھے پاپا سے ملنا ہے۔۔۔

لیکن ماہی بی وہ تو یہاں نہیں ہیں۔۔۔ گارڈ نے پریشان سے لہجے میں بتایا تو ماہی کا دل دھڑکا جیسے گارڈ کوئی بری خبر سنانے والا تھا۔۔۔

کیوں کہاں ہیں میرے پاپا۔۔۔

آپ کے لا پتہ ہونے کی خبر بڑی بیگم صاحبہ نے ان سے چھپا کر رکھی تھی لیکن کل صاحب جی نے غصے سے بول رہے تھے کہ آپ کہاں ہیں تو نصار صاحب نے آکر انہیں بتا دیا کہ آپ اغوہ ہو چکی ہیں بس تب ہی ان کے دل میں ایسا درد اٹھا کہ فوراً ایمبولینس کو بلوایا گیا ڈاکٹر نے بتایا کہ دل کا دورہ پڑا ہے اور اب وہ پہلے سے بھی زیادہ لاغر ہو چکے ہیں۔۔۔۔ گارڈ نے اسے تفصیل سے بتا رہا تھا جبکہ ماہی ہونق بنی اس کی باتیں سن رہی تھی۔۔۔

وہ الٹے قدموں ارہان کی طرف بھاگی اسے زمین گھومتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔۔۔

ماہی کیا ہوا پریشان کیوں ہو۔۔۔ ارہان نے پریشانی سے اسے پوچھا۔۔۔

ا۔۔رہان پاپا کو ہارٹ اٹیک ہوا ہے وہ ہاسپٹل میں ہیں پلیز مجھے ان کے پاس لے چلو پلیز ارہان۔۔۔

وہ روتی ہوئی اس کی منتوں پہ اتر آئی تھی جبکہ ارہان بھی یہ بری خبر سن کر کافی پریشان ہو گیا تھا۔۔۔

تم بیٹھو میں لے کر چلتا ہوں۔۔۔

ارہان نے اس کے آنسو صاف کرتے ہوئے کہا تو وہ اس کے پیچھے بیٹھ گئی بیس منٹ میں وہ ہاسپٹل پہنچ آئے تھے ماہی جانتی تھی اس کے پاپا کا علاج ہمیشہ اسی ہاسپٹل سے ہوتا ہے ریسیپشن پہ اس نے اپنے پاپا کا نام بتا کر کمرہ نمبر معلوم کیا ارہان چہرے پہ ماسک پہنے اس کے ساتھ ہی تھا جبکہ ماہی نے ارہان کے کہنے پر نقاب کر رکھا تھا۔۔۔

پاپا۔۔۔ ماہی دروازہ کھولتے ہوئے اندر داخل ہوئی تو سامنے محمود صاحب کو بستر پہ لیٹے پایا ماہی کی آواز سنتے ہی سفینہ بیگم اور محمود صاحب دونوں چونکے۔۔۔

ماہی۔۔۔ بے ساختہ ان دونوں کے منہ سے نکلا تھا اور ماہی بھاگتی ہوئی اپنے باپ کے سینے پہ سر رکھ کر رونے لگی۔۔۔

ماہی کہاں تھی تم میری بچی۔۔۔ محمود صاحب نے پریشانی سے پوچھا جبکہ سفینہ بیگم ابھی بھی بے یقینی سے اسے دیکھ رہی تھیں۔۔۔

پاپا آپ ٹھیک ہیں نا آپ کو کچھ ہو گا تو نہیں نا۔۔۔ وہ روتے ہوئے ان کے چہرے کو دیکھتے ہوئے بولی۔۔۔

ماہی کہاں تھی تم۔۔۔ سفینہ بیگم نے ہوش میں آتے ہی پوچھا۔۔۔

ماما پلیز کسی کو مت بتائیے گا کہ میں آپ سے ملنے آئی ہوں میں سب آپ کو بتا دوں گی لیکن ابھی مجھے آپ دونوں سے جی بھر کے ملنا ہے۔۔۔ وہ آگے بڑھتے ان کے گلے سے لپٹی۔۔۔

لیکن ماہی تم تھی کہاں کیا تم خود گھر چھوڑ کر گئی تھی۔۔۔ سفینہ بیگم نے ماہی کا اطمینان دیکھ کر پریشانی سے پوچھا۔۔۔

ماما آپ ایسا سوچ بھی کیسے سکتی ہیں کہ آپ کی ماہی اپنے ماں باپ کی عزت کو یوں رسوا کرے گی۔۔۔

تو پھر کیا بات ہے بتاؤ بیٹا۔۔۔ محمود صاحب کی کپکپاتی آواز پر وہ ان کی طرف متوجہ ہوئی۔۔۔

پاپا مجھے کڈنیپ کیا گیا تھا لیکن وہ لوگ کوئی غنڈے نہیں ہیں ایک اچھی اور شریف فیملی ہے۔۔۔ ماہی محمود صاحب کو تسلی دیتے ہوئے بتانے لگی۔۔۔

شریف فیملی نے پھر تمہیں اغوہ کیوں کیا ماہی۔۔۔ سفینہ بیگم نے پوچھا۔۔۔

ماما ان کا اپنا کوئی مقصد تھا جس میں میں گھس آئی ابھی مجھے خود کچھ نہیں معلوم لیکن پاپا آپ پلیز مجھے کے کر پریشان مت ہوں مجھے وہاں کوئی بھی نقصان نہیں پہنچاتا پلیز اپنی صحت پر توجہ دیں آپ۔۔۔

لیکن ماہی کچھ تو ایسا بتاؤ کہ ہمارے دل کو تسلی ہو یوں آدھی ادھوری باتیں کیوں کر رہی ہو بیٹا۔۔۔ سفینہ بیگم اب کی بار پھر سے رو دیں۔۔۔

ماما آپ بھی۔۔۔ اب پاپا کو کون سنبھالے کا پلیز سٹرانگ بنے جیسے آپ نے شروع سے اپنی بیٹی کو سٹرانگ بنایا۔۔۔

ماہی نے ان کے آنسو صاف کرتے کہا۔۔۔

مجھے اب جانا ہو گا ماما پلیز کسی کو کچھ مت بتائے گا آنی انکل اور عباد کو تو بلکل بھی نہیں۔۔۔

عباد کا نام سنتے ہی سفینہ بیگم کو اس کے نکاح والی بات یاد آئی تھی۔۔۔

ماہی عباد نے نکاح کر لیا ہے۔۔۔ سفینہ بیگم کی آواز پر ماہی کو حیرت کا جھٹکا لگا تھا اس کے ساتھ محبت کے دعوے کرنے والا شخص اس کے جاتے ہی کہیں اور نکاح کر بیٹھا تھا۔۔۔

رائمہ کے ساتھ۔۔۔

سفینہ بیگم کی اگلی بات نے ماہی کے سر پر بمب پھوڑا تھا۔۔۔۔

اس سے پہلے کے وہ بولنے کے لیے منہ کھولتی کمرے کے دروازے پر کسی نے ہلکی سی دستک دی ماہی سمجھ گئی تھی وہ ارہان ہے۔۔۔

بہت جلد ملیں گے ماما۔۔۔ پاپا۔۔۔ پلیز اپنا خیال رکھیے گا میں خوش ہوں۔۔۔ وہ کہتی ہوئی الٹے قدموں سے وہاں سے نکل آئی باہر آتے ہی اس نے نقاب کیا اور ارہان کے ساتھ چلنے لگی سفینہ بیگم نے دروازہ کھول کر دیکھا تو ماہی کے ساتھ کسی لڑکے کو دیکھ کر وہ پریشان ہوئیں۔۔۔

♥️
♥️
♥️

آج رات پھر سے عباد کو رائمہ کے پاس جانا پڑا تھا۔۔۔

تم نے بات کی نہیں انکل آنٹی سے۔۔۔

رائمہ ٹی۔وی کے چینل بدل رہی تھی جب عباد کی آواز پر چونک کر اسے دیکھا۔۔۔

امی ابو نہیں مان رہے میں نے بہت کوشش کی ان کو منانے کی لیکن انہیں یہ کسی صورت مناسب نہیں لگا کہ وہ یوں داماد کے دیے گھر میں آکر رہیں۔۔۔

رائمہ نے پریشان سی نظریں ٹی۔وی پر جمائے جواب دیا۔۔۔

آ۔۔آپ کو زیادہ مشکل ہوتی ہے تو آپ نہ آیا کریں۔۔۔ میں رہ لوں گی۔۔۔

دل میں اٹھتی تکلیف پر قابو پاتے ہوئے وہ بہت بڑی بات کہہ گئی تھی ورنہ تو وہ دن میں بھی اس اکیلے گھر میں ڈر جاتی تھی۔۔۔

آر یو شؤر تم رہ لو گی۔۔۔؟؟؟ عباد نے بات پر زور دیتے پوچھا۔۔۔

ج۔۔جی رہ لوں گی۔۔۔

رائمہ نے مصنوعی تسلی سے کہا جس پر عباد پر سکون ہوا۔۔۔

ٹھیک ہے دن ٹائم میں روز آتا جاتا رہوں گا ابھی میں چلتا ہوں پاپا نے کال کی ہے کوئی ضروری بات ہے۔۔۔

عباد کے یوں جانے پر رائمہ نے آنکھیں پھیلائیں وہ تو سچ میں اسے اکیلا چھوڑ کر جا رہا تھا دن بہ دن ظالم ہوتا جا رہا تھا وہ۔۔۔ رائمہ نے دل میں سوچا۔۔۔

یہ گھر شہر سے تھوڑا فاصلے پر ہے اس لیے یہاں لائٹ آتی جاتی رہتی ہے میں نے یو پی ایس لگوا دیا ہے ڈرنا مت۔۔۔

جی۔۔۔ رائمہ نے اثبات میں سر ہلایا۔۔۔

وہ پینٹ کی جیب میں ہاتھ ڈالے وہاں سے نکل گیا تھا جبکہ وہ بت بنی پورے گھر کو گھور رہی تھی۔۔۔

اس کے جاتے ہی شدید تنہائی کے احساس نے آگھیرا تھا یہ کیسا بندھن تھا نہ ہونے کے برابر جیسا وہ اس کے پاس ہو کر بھی کتنا دور ہوتا تھا لیکن پھر بھی اس کا پاس ہونا رائمہ کو تحفظ کا یقین دلاتا تھا۔۔۔

ٹی وی بند کرتے ہوئے وہ اپنے کمرے میں آکر دوپٹہ ایک طرف رکھتے ہوئے بستر پر لیٹ گئی دل میں شدید خوفزدہ ہو رہی تھی لیکن دماغ اسے تسلیاں دینے پر اترا ہوا تھا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

عباد آخر یہ ہو کیا رہا ہے آخر یہ M.K کمپنی کس کی ہے اس کی وجہ سے ہمارے بزنس میں صرف ایک ماہ میں پچیس کروڑ کا گھاٹا پڑا ہے۔۔۔

نصار صاحب دانت پیستے ہوئے کہہ رہے تھے۔۔۔

یہی تو مجھے حیرانگی ہو رہی ہے پاپا آخر ان کی کمپنی کا ہر کام ہماری کمپنی کے خلاف کیوں ہوتا ہے کیوں ہمیں ہی نقصان پہنچ رہا ہے ٹینڈر انہیں مل رہے ہیں ہمارے سیلیکٹ کیے گئے پراجیکٹ پر ہم سے پہلے شیئرز وہ بیچ رہے ہیں آخر یہ ہیں کون۔۔۔

عباد پتہ لگواؤ کون ہے یہ اور ان سے ملنے کی کوشش کرو کوئی آفر پیش کرو کہہ دو کہ ہمیں بزنس میں پارٹنر شپ کرنی ہے۔۔۔

کیا لیکن پاپا ہم ان کے ساتھ پارٹنر شپ کیوں کریں گے۔۔

عباد نے حیرت سے پوچھا۔۔۔

جسٹ ان سے ملنا ہے انہیں دیکھنا ہے آخر کون لوگ ہیں وہ۔۔۔

وہ تو ٹھیک ہے لیکن آپ کی کونسا کسی کے ساتھ کوئی ذاتی دشمنی ہے جو آپ اس طرح پیش آرہے ہیں جیسے کوئی تجسس ہو۔۔۔ عباد نے بات کو کریدا

عباد فضول بحث نہ کرو جو کہا ہے وہ کرو اگر ایسے ہی چلتا رہا تو اگلے دو ماہ میں ہم سڑک پر آجائیں گے۔۔۔

اس بار ان کی بات پر عباد واقع ہی پریشان ہوا تھا ایک ماہ میں پچیس کروڑ کا نقصان آخر کوئی چھوٹا تو ہرگز نہ تھا۔۔۔

ٹھیک ہے میں کوشش کرتا ہوں کہ کسی طرح ان کے ساتھ میٹنگ رکھی جائے۔۔۔ عباد نے سوچتے ہوئے کہا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ماہی رو مت سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔

وہ جب سے گھر آئی تھی یوں ہی روئے جا رہی تھی ارہان کب سے اسے چپ کروانے کی کوشش میں لگا تھا۔۔۔

لیکن وہ تھی کہ اس کی ایک سننے کو تیار نہیں تھی رو رو کر آنکھوں کے ساتھ گال اور ناک بھی لال ٹماٹر کر رکھے تھے۔۔۔

ماہی۔۔۔ ارہان نے ٹھوڑی سے پکڑتے ہوئے اس کا چہرہ اوپر کیا ماہی نے سو سو کرتے اسے دیکھا۔۔۔

بھیگی پلکوں کے ساتھ موٹی بڑی آنکھیں سرخ پڑتا چہرہ اور رونے کے باعث باریک ہونٹ سوزش زدہ سے دکھائی دے رہے تھے۔۔۔

اب چپ بھی کر جاؤ نا مت رو سب ٹھیک ہو جائے گا۔۔۔ اس کے حسین سراپے سے نظریں چراتے وہ اس کے دونوں گال انگلی کی پوروں سے صاف کرتا ہوا بولا۔۔۔

ماہی کے رونے میں ابھی بھی کمی نہیں آئی تھی ارہان نے ماتھا پیٹا ایک تو وہ پچھلے ایک گھنٹے سے اسے چپ کروانے کی کوشش میں لگا تھا دوسرا اس کا حسن اس کے دل پر مسلسل وار کر رہا تھا۔۔۔

ارہان بے ساختہ اس کا چہرہ ہاتھوں کے پیالے میں لیے اس پر جھکا۔۔۔

ماہی جو آنکھیں سکیڑے رو رہی تھی اس کی اس حرکت پر اس کی آنکھیں پوری کی پوری کھل گئی تھیں دل زوروں سے دھڑکنے لگا تھا جسم میں سنسنی دوڑ گئی تھی کچھ لمحوں میں پلکیں لرزنے لگی ارہان کی شرٹ کو مٹھی میں بھینچتے ہوئے اس نے زور سے آنکھوں کو میچ لیا تھا۔۔۔

کچھ دیر بعد وہ اس سے الگ ہوا تو وہ لمبے لمبے سانس لیتی خود کو پرسکون کرنے کی کوشش کر رہی تھی چہرہ مزید سرخ ہو چکا تھا جس سے چھلکتے گھبراہٹ اور شرم کے تاثرات ارہان سے چھپے نہ رہ سکے تھے۔۔۔

لیکن ارہان کو اسے چپ کروانے کا کوئی اور طریقہ سمجھ نہ آیا تھا وہ بھی یک ٹک اس پہ نظریں جمائے ہنوز اسے دیکھ رہا تھا اس کی نظروں کی تاب نہ لاتے ہوئے وہ بھاگتے ہوئے کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

کتنی ہی دیر وہ یوں ہی دیواروں کو تکتی لیٹی رہی تھی دل میں بار بار عباد کے آنے کی امید ابھر رہی تھی لیکن وہ سنگدل اسے اس سنسان گھر میں اکیلا چھوڑ گیا تھا رائمہ نے خوف کے مارے گھر کی سبھی لائٹس آن ہی رکھی تھیں اب جا کر بڑی بمشکل سے رائمہ کو نیند آئی تھی کہ اچانک کھڑکی پر ہونے والے شور نے ایک دم سے اسے اٹھنے پر مجبور کر دیا۔۔۔

وہ تیزی سے اٹھ کر بیٹھی دھڑکتے دل سے کھڑکی کی طرف دیکھنے لگی کہ ایک بار پھر سے وہی شور ہوا رائمہ کا دل اس کے حلق میں آنے کو تھا۔۔۔

دونوں ہاتھ منہ پہ رکھے وہ بہت ڈر رہی تھی جسم کا پور پور کانپ رہا تھا اگلے پل کھڑکی پر ہونے والی دستک نے رائمہ کے اوسان خطا کیے تھے۔۔۔

وہ اچھل کر بیڈ سے نیچے اتری اور دیوار کے ساتھ چپک کر کھڑی ہو گئی پھر کھڑکی پر ہونے والی دستک بڑھتی ہی جا رہی تھی ڈر کے مارے اس سے ایک قدم بھی نہیں اٹھایا جا رہا تھا۔۔۔

ٹھک کر کے آتی آواز سے اس نے صحن کی طرف دیکھا یقیناً کوئی صحن میں کودا تھا۔۔۔

لڑکھڑاتے قدموں سے بھاگتے ہوئے اس نے دروازے کو لاک کیا اور پھر سے دیوار کے ساتھ چپک گئی تھی۔۔۔

اچانک کمرے کے دروازے پر دستک ہوئی تو رائمہ کو لگا باہر جو کوئی بھی ہے دروازہ توڑ کر اندر داخل ہو جائے گا منہ پہ سختی سے ہاتھ رکھے وہ بے آواز رو رہی تھی۔۔۔

دروازے پہ دستک بڑھتی جا رہی تھی اس نے عباد کو کال کرنے کا سوچ کر موبائل اٹھایا لیکن پھر دل میں خیال آیا اگر اس سنگدل کو اس کی اتنی ہی فکر ہوتی تو وہ یوں رات اسے اس گھر میں اکیلا نہ چھوڑ کر جاتا۔۔۔

گھٹنوں کے بل زمین پر بیٹھی وہ بے آواز مگر پھوٹ پھوٹ کر رو رہی تھی۔۔۔

اب اسے باہر سے مردانہ آواز میں سرگوشیاں سنائی دیں تو دل دھک سے رہ گیا۔۔۔

واش روم کی طرف بھاگتے ہوئے اس نے خود کو واش روم میں بند کر لیا تھا وہ جو سب کے سامنے اس کا محافظ بنا تھا جس نے اپنے ماں باپ کے خلاف چل کر اسے چھت دی تھی آج وہ شخص کتنا پرایا لگ رہا تھا۔۔۔

اسے اپنا دل بری طرح سے دکھتا محسوس ہو رہا تھا جس نے اسے اپنی عزت بنایا تھا آج اسی عزت کو کوئی نوچنا چاہتا تھا۔۔۔

وہ گھٹنوں میں چہرہ چھپائے اللہ سے مدد طلب کرنے لگی تھی۔۔۔

عباد ناشتے سے فارغ ہونے کے بعد رائمہ کے پاس جانے کا ارادہ کیا تا کہ اس کی خیریت معلوم کر کے آفس کا کام دیکھ سکے آج اسے M.K کمپنی سے میٹنگ بھی کرنی تھی۔۔۔

گھر داخل ہوتے ہی اس نے صحن میں موجود مردانہ جوتوں نے نشان دیکھے جوتے گرد آلود ہونے کی وجہ سے اپنے نشان چھوڑ گئے تھے عباد نے گھبراتے ہوئے اندر کا رخ کیا۔۔۔

رائمہ کے کمرے کا دروازہ کھولنے کے لیے ہینڈل پر ہاتھ رکھا تو ہینڈل سرے سے غائب تھا کسی نے لاک توڑنے کے لیے ہینڈل کو بھی توڑ ڈالا تھا۔۔۔

رائمہ۔۔۔

گھبراہٹ کے باعث اس کی زبان لڑکھڑا گئی تھی کمرے کی ہر چیز بکھری پڑی تھی جیسے کوئی کچھ ڈھونڈ رہا تھا۔۔۔

رائمہ کو کمرے میں نہ پا کر اس کے پیروں تلے سے زمین نکلی سر پر جیسے آسمان ٹوٹ پڑا تھا۔۔۔

واش روم کے دروازے پر نظر پڑی تو بے ساختہ قدم بڑھائے جیسے ہی دروازہ کھولنے لگا تو معلوم ہوا دروازہ اندر سے بند ہے۔۔۔

رائمہ۔۔۔ عباد نے دروازہ کھٹکھٹاتے ہوئے آواز لگائی۔۔۔

رائمہ کیا تم اندر ہو۔۔۔ عباد نے خشک ہونٹوں پہ زبان پھیرتے ایک بار پھر سے آواز لگائی لیکن اندر سے کوئی جواب نہیں آیا تھا۔۔۔

وہ بھاگتے ہوئے سٹور روم کی طرف بڑھا جہاں موجود الماری میں پورے گھر کی باقی چابیاں موجود تھیں۔۔۔

کپکپاتے ہاتھوں سے اس نے واش روم کا لاک کھولا تو رائمہ کو زمین پہ بے ہوش دیکھ کر اس کے رونگٹے کھڑے ہو گئے تھے۔۔۔

رائمہ کل رات اپنے کمرے کا دروازا کھلنے پر بہت زیادہ ڈر گئی تھی اسی ڈر کی وجہ سے اس کا سر چکرانے لگا تھا اور وہ ہوش کی دنیا سے بے گانہ ہو گئی تھی۔۔۔

رائمہ کو جب ہوش آیا تو وہ بستر پر لیٹی تھی کمرے میں موجود عباد ڈاکٹر کی ہدایات سن رہا تھا ڈاکٹر کے جانے کے بعد عباد نے جیسے ہی رائمہ کی طرف دیکھا فوراً اس کی طرف لپکا۔۔۔

تم ٹھیک ہو۔۔۔

عباد کی بات پر رائمہ کا دل شدت سے چاہا کہ اس سے پوچھے جو رات کے وقت اسے گھر میں اکیلا چھوڑ گیا تھا یہ جانتے ہوئے بھی وہ کتنا ڈرتی تھی اکیلے رہنے سے اور اب اتنا سب کچھ ہو جانے پر اس سے خیریت دریافت کر رہا تھا۔۔۔

اس نے بنا کچھ کہے چہرے کا رخ دوسری طرف کیا نہ چاہتے ہوئے بھی آنکھوں سے آنسو نکل کر کن پٹی پر بہنے لگے وہ اس کے سامنے خود کو بے بس ظاہر نہیں کرنا چاہتی تھی لیکن افسوس وہ اپنے آنسوؤں پر قابو نہیں پا سکی تھی۔۔۔

اس کے آنسوؤں نے عباد کے دل کو تڑپا کر رکھ دیا تھا اسے شدت سے اپنی ندامت کا احساس ہو رہا تھا وہ ایک لڑکی ساتھ ایسے کیسے کر سکتا تھا۔۔۔

“لڑکی نہیں اپنی بیوی کے ساتھ” اس نے دل نے کہا تھا۔۔۔

رائمہ سوری۔۔۔ ندامت بھری آواز میں کہا

مجھے اکیلا چھوڑ دیں۔۔۔ اس نے چہرے پہ سختی سجائے کہا رخ ہنوز دوسری طرف تھا جبکہ دل شدت سے چاہ رہا تھا اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر روئے اور رات ہونے والا سارا واقع سنائے۔۔۔

رائمہ اب تمہیں کبھی اکیلا نہیں چھوڑوں گا۔۔۔ خفت سے نظریں جھکائے کہا۔۔۔

رائمہ نے بنا ردعمل دیے آنکھوں پہ بازو رکھا جس کا مطلب تھا وہ مزید اس سے کوئی بات نہیں کرنا چاہتی۔۔۔

عباد شرمندگی اٹھائے کمرے سے نکل گیا اس کے جانے کے بعد وہ پھوٹ پھوٹ کر روتی دل کی تکلیف کم کرنے کی کوشش کر رہی تھی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

سہانا ڈریسنگ ٹیبل کے سامنے کھڑی ہلکا ہلکا میک اپ کر رہی تھی جب شازل نے پیچھے سے آکر اسے گھیرے میں لیا سہانا نے ہڑبڑا کر اسے دیکھا۔۔۔

کیا کر رہے ہیں ہٹیں پیچھے۔۔۔ شیشے سے اسے دیکھتی ہوئی بولی۔۔۔

نہیں ہٹوں گا کیا کر لو گی۔۔۔ شازل نے اس کے کندھے پہ ٹھوڑی ٹکائے شرارت سے کہا تو سہانا اسے گھور کر رہ گئی۔۔۔

تیار ہونے دیں مجھے۔۔۔ سہانا کے ہاتھ میں لپسٹک تھی جسے وہ ابھی لگانے ہی والی تھی کہ شازل آ ٹپکا تھا۔۔۔

بنا میک اپ کے ہی اس دل پر اتنا غضب ڈھاتی ہو سج سنور کر لڑکے کی جان لو گی کیا۔۔۔

اس کے کان میں خمار آلود آواز سے سرگوشی کی تو سہانا کے گال دہکنے لگے۔۔۔

شازل کیا ہے۔۔۔ اس نے مصنوعی گھوری سے نوازہ

تم سے محبت۔۔۔ اس کے کان کی لو کو چومتے ہوئے بولا تو سہانا بے ساختہ نظریں جھکا گئی۔۔۔

تم بھی کہو نا۔۔۔

کیا۔۔۔ سہانا انجان بنی۔۔۔

کہ تمہیں بھی مجھ سے محبت ہے۔۔۔ وہ اسے اپنے حصار میں لیے دھیرے دھیرے دائیں بائیں جھول رہا تھا۔۔۔

نہیں تو آپ سے کس نے کہا مجھے آپ سے محبت ہے۔۔۔ اس نے حیرت کا اظہار کرتے کہا۔۔۔

کیا مطلب تمہیں مجھ سے محبت نہیں ہے۔۔۔ شازل نے اسے موڑ کر اس کا رخ اپنی طرف کیا۔۔۔

اس کی قربت سے سہانا کے پھر سے گال سرخ ہونے لگے تھے۔۔۔

نہیں تو۔۔۔

اچھا تو پھر ان گالوں پہ لالی کیسی۔۔۔ شازل نے اس کی چوری پکڑی تو وہ گڑبڑا گئی۔۔۔

ی۔۔یہ تو میں نے بلش لگایا ہے۔۔۔ اس نے جلدی سے دلیل پیش کی جس پر وہ مسکرا کر رہ گیا۔۔۔

اچھا اب میں ایک جادو کروں گا جس سے ان گالوں پہ لگا بلش ڈبل ہو جائے گا۔۔۔

وہ کیا۔۔۔ سہانا نے آنکھیں بڑی کرتے حیرت سے پوچھا پھر شازل اس پہ جھک گیا تھا۔۔۔

کچھ دیر بعد جب سہانا کا ہاتھ اسے سینے سے پیچھے دھکیل رہا تھا شازل اس کے چہرے سے پیچھے ہوا۔۔۔

سہانا اپنی سانسیں ہموار کر رہی تھی شازل نے اس کا رخ ڈریسنگ ٹیبل کی طرف موڑا۔۔۔

دیکھو میرے جادو کا کمال۔۔۔

سہانا نے جب آئینے میں خود کو دیکھا تو گال لال ٹماٹر ہو رہے تھے شرم سے بے ساختہ نظریں جھکائے مسکرائی تو شازل بھی ہنس دیا۔۔۔

♥️
♥️
♥️

ماہی کل سے ارہان سے چھپتی پھر رہی تھی اس کا سامنا کرنے کی اس میں ہمت ہی نہیں ہو رہی تھی لیکن دل اسے دیکھنے کے لیے بے چین تھا۔۔۔

ارہان کمرے میں اسے دیکھنے جاتا تو وہ پہلے سے کچن میں گھسی ہوتی وہ کچن میں جاتا تو وہ اس کا ارادہ بھانپتے لان میں بیٹھی ہوتی وہ لان میں آتا تو وہ کمرے میں ہوتی عجیب لکا چھپی کا کھیل چل رہا تھا دونوں میں۔۔۔

ارہان کو معلوم ہو گیا تھا کہ میڈم اس کے ساتھ کھیل کھیل رہی ہے وہ جان بوجھ کر کچن کی طرف بڑھا ماہی تیزی سے کمرے میں گھس چکی تھی ارہان نے کچن میں۔ قدم رکھے بغیر کمرے کی طرف قدم بڑھائے ماہی نے دروازے کی تاک سے اسے اندر آتا دیکھا تو دل اچھل کر حلق میں آگیا۔۔۔

جیسے ہی وہ نزدیک آیا وہ بھاگتی ہوئی واش روم گھس گئی ارہان نے اندر آکر واش روم کا بند دروازہ دیکھا تو اس کے ہونٹ دھیرے سے مسکرائے۔۔۔

اسے واش روم میں پانچ منٹ ہو چکے تھے وہ باہر آنے کا نام نہیں لے رہی تھی ارہان نے جان بوجھ کر قدم اٹھا اٹھا کر زمین پر رکھے اور دروازہ کھول کر بند کیا جس سے ماہی کو لگا وہ باہر جا چکا ہے۔۔۔

اس نے دروازہ کھول کر ارہان کو دیکھنے کے لیے سر باہر نکالا جب ارہان نے اس کندھے سے پکڑ کر دیوار کے ساتھ لگایا۔۔۔

ماہی آنکھیں پھاڑے اسے دیکھنے لگی دل کی دھڑکن عروج پر پہنچ چکی تھی۔۔۔

چھپ کیوں رہی ہو مجھ سے۔۔۔ ارہان نے مدعے کی بات کی۔۔۔

ن۔۔نہیں تو بھلا میں کیوں چھپوں گی۔۔۔ خود کو سچا ثابت کرنے کیے عزم سے کہا۔۔۔

اچھا ایسی بات ہے تو بستر پہ چلو مجھے کچھ کام ہے تم سے۔۔۔ ارہان کی بات پر اس کے اوسان خطا ہوئے آنکھیں مزید پھیل گئیں۔۔۔

ک۔۔کیا کہنا ہے یہیں کہہ دیں۔۔۔

یہاں نہیں بیڈ پہ چلتے ہیں۔۔۔ وہ معنی خیز سے لہجے میں گویا ہوا تو ماہی کا مصنوعی عزم بھی جاتا رہا۔۔۔

و۔۔وہ مجھے کچن میں کام ہے۔۔۔ اس نے فٹ سے جھوٹ گھڑا۔۔۔

کھانا تو تمہیں بنانا آتا نہیں پھر کیا کام ہے۔۔۔ ارہان نے دیوار پہ دائیں بائیں ہاتھ رکھا۔۔۔

اس کی بات سن پر ماہی نے آنکھیں بند کیں ارہان اس کی ان اداؤں سے محظوظ ہو رہا تھا۔۔۔

مجھے بھوک لگی ہے۔۔۔ فوراً جواب دیا

بھوک تو مجھے بھی بہت لگی ہے کیوں نا آج کھانا کمرے میں کھائیں۔۔۔ ارہان کی بات پر وہ گڑبڑائی۔۔۔

کیوں بھئی سب کے ساتھ کھاتے ہیں پہلے بھی اور آج بھی وہیں کھائیں گے۔۔۔ جلدی سے جواز پیش کیا۔۔۔

ہممم چلو پھر۔۔۔

کھانا کھانے کے بعد آنا تو کمرے میں ہی ہے۔۔۔ ارہان نے دل میں سوچا جبکہ ماہی کی پھرتی دیکھ کر وہ ہنسا تھا ایک لمحے میں وہ کچن میں بھی پہنچ گئی تھی۔۔۔

کھانا کھانے کے دروان ارہان کی معنی خیز سی نظروں سے وہ گھبرا رہی تھی بلا جواز کبھی بالوں کو کان پیچھے کرتی اور کبھی دوپٹہ سیٹ کرتی۔۔۔

اس کی گھبراہٹ سے لطف اٹھاتا وہ کبھی پلیٹ اور کبھی اس کی طرف دیکھ رہا تھا۔۔۔

ارہان کھانا ختم کر چکا تھا جبکہ ماہی چڑیا کی طرح تھوڑا تھوڑا کھاتی ابھی بھی پلیٹ پہ سر جھکائے بیٹھی تھی شاید میڈم کا کمرے میں جانے کا کوئی ارادہ نہیں تھا۔۔۔

سب کھانے سے فارغ ہو کر اپنے اپنے کمروں میں چلے گئے تھے ارہان اس کے اٹھنے کا انتظار کرنے لگا۔۔۔

بھوک نہیں ہے تو نہ کھاؤ۔۔۔ ارہان کی آواز پر ماہی نے سر اٹھا کر اسے دیکھا۔۔۔

بھوک ہے اسی لیے کھا رہی ہوں۔۔۔ جھٹ سے جواب دیا۔۔۔

میں نے تمہاری پلیٹ میں مری ہوئی مکھی دیکھی تھی جو تم نے ابھی ابھی کھائی ہے۔۔۔

ارہان کی بات سن کر ماہی کا چلتا ہوا منہ رکا اس کے چہرے کے بگڑتے زاویے دیکھ کر ارہان نے بمشکل اپنی ہنسی پر قابو پایا تھا۔۔۔

ایک سیکنڈ ضائع کیے بغیر وہ کمرے کی طرف بھاگی اس کے جاتے ہی ارہان نے قہقہ لگایا وہ کمرے میں آیا تو وہ واش روم گھسی کلی کر رہی تھی۔۔۔

مجھے پہلے کیوں نہیں بتایا آپ نے۔۔۔ باہر نکلتے ہی وہ ارہان پر بھڑک اٹھی۔۔۔

آج اتنے دن بعد ارہان اپنی بیوی کو شیرنی کے روپ میں دیکھ کر لطف اندوز ہو رہا تھا۔۔۔

تم اتنے مزے سے کھا رہی تھی تو میں تمہارا مزہ خراب نہیں کرنا چاہتا تھا۔۔۔

ارہان نے ہونٹ دانتوں تلے دباتے ہوئے کہا تو ماہی نے تکیہ اٹھا کر اسے مارنا شروع کیا وہ جو کبھی ہنستا نہیں تھا اب اس کے قہقے کمرے میں گونج رہے تھے کتنی حسین ہو گئی تھی زندگی جب سے ماہی اس کی زندگی میں آئی تھی۔۔۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *