Rate this Novel

Buy me a Coffee

I love bringing stories to life!

Creating features for readers and keeping everything running smoothly takes countless hours of dedication. If you enjoy the reading experience on this site and would like to show your support, you can treat me to a coffee. Your support helps keep the stories flowing!

Tere Dil K Dar Py (Episode 17)

Tere Dil K Dar Py by Mirha Kanwal

سنو ماہی یہ ارہان کے لیے کھانا لے جاؤ اس کی دوا کا وقت ہو گیا ہے۔۔۔

ماہی کچن میں داخل ہوئی تو سہانا دوپہر کا کھانا ٹرے میں رکھ چکی تھی۔۔۔

ماہی نے اثبات میں سر ہلاتے ہوئے ٹرے اٹھائی اس کی اچانک نظر سہانا کے چہرے پر پڑی تو آنکھوں کے کنارے سرخ اور پپوٹے سوزش زدہ تھے۔۔۔

اسے شازل کی بات یاد آئی کہ سہانا کسی اور کو چاہتی ہے وہ چپ چاپ کمرے میں آگئی۔۔۔

ارہان سو رہا تھا ماہی نے ٹرے میز پر رکھی اور اسے جگانے کے لیے ہاتھ بڑھایا۔۔۔

اچانک اس کا ہاتھ رکا اور وہ ارہان کو دیکھنے لگی سوتے میں وہ بہت معصوم لگ رہا تھا ماہی کے ہونٹ دھیرے سے مسکرائے تبھی ارہان نے آنکھیں کھولیں۔۔۔

وہ ہڑبڑا کے پیچھے ہوئی۔۔۔

و۔۔وہ سہانا نے کھانا بھیجا ہے کھا لو پھر میڈیسنز بھی لینی ہیں۔۔۔

ارہان نے ایک نظر ٹیبل پہ رکھے کھانے کی طرف دیکھا پھر اٹھنے کی کوشش کرنے لگا ماہی نے آگے بڑھ کر اس کی مدد کی بازو اگر ہلتا تو زخم پہ اثر ہوتا۔۔۔

ایک ہی رات میں ارہان اس کے بدلے رویے پر واقع ہی حیران تھا۔۔۔

کھا لو۔۔۔ ماہی ارہان کو آرام سے بیٹھا دیکھ کر بولی۔۔۔

بائیں ہاتھ سے کیسے کھاؤں۔۔۔ ارہان نے بیچارہ سا منہ بنا کر کہا۔۔۔

کچھ دیر سوچنے کے بعد ماہی اس کے ساتھ بیٹھی اور نوالا بنا کر اس کے آگے کیا ارہان نے ماہی کی آنکھوں میں دیکھتے ہوئے نوالا منہ میں لیا۔۔۔

پانچ منٹ وہ ایسے ہی ارہان کو کھلانا کھلاتی رہی اور وہ اس کی طرف دیکھتا رہا پھر ارہان نے ہاتھ سے اشارہ کیا مطلب اور نہیں کھایا جاتا۔۔۔

ماہی برتن ٹرے میں رکھ کر کچن میں رکھ آئی واپس آکر وہ ارہان کے لیے ٹیبلیٹس دیکھنے لگی۔۔۔

ٹیبلیٹس نکال کر اس نے ارہان کے آگے کیں ارہان نے منہ کھولا تو اس نے ٹیبلیٹس اس کے منہ میں رکھ کر ساتھ پانی کا گلاس لگایا۔۔۔

اتنی خدمت کی وجہ جان سکتا ہوں۔۔۔

وہ ماہی کی طرف دیکھتا ہوا پوچھنے لگا ماہی کا دل دھڑکنے لگا شازل کی باتوں سے اب اسے یہ بھی احساس ہونے لگا تھا کہ وہ ارہان کو چاہنے لگی ہے۔۔۔

نہیں جان سکتے۔۔۔ وہ اپنی طرف بستر پر آکر بیٹھی اس کے جواب پر وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔

تم نے کل والی بات کا جواب نہیں دیا۔۔۔ اس نے سنجیدگی سے پوچھا اس کا ارادہ ماہی کو تنگ کرنے کا تھا۔۔۔

کونسی بات۔۔۔ ماہی نے اسے سوالیہ نظروں سے اسے دیکھا۔۔۔

یہی کہ ہم اب بھی الگ ہو سکتے ہیں تم جب چاہو کہہ سکتی ہو۔۔۔

ماہی نے دانت پیستے ہوئے اسے گھورا۔۔۔

آپ کو زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں ہے میرا جب دل چاہا میں یہ کام بھی کر لوں گی۔۔۔

لفظ “آپ” سن کر ارہان نے حیرت سے اسے دیکھا غصے سے اس کی چھوٹی سی ناک کے نتھنے پھولے ہوئے تھے جنہیں دیکھ کر اس نے بہت مشکل سے اپنی ہنسی پر قابو پایا۔۔۔

ہمم ٹھیک ہے میں بھی تمہیں یوں قید کر کے نہیں رکھنا چاہتا تبھی کہہ رہا ہوں۔۔۔

اچھا کہا نا زیادہ سوچنے کی ضرورت نہیں جب میرا دل کیا خود اس ٹاپک پر بات کروں گی۔۔۔

ہمم ٹھیک ہے۔۔۔ وہ اب خاموش ہی رہا تھا جبکہ ماہی آٹھ کر کمرے سے باہر نکل گئی۔۔۔

وہ جیسے ہی لاؤنچ میں داخل ہوئی سہانا اپنے آنسو صاف کرتی ہوئی وہاں سے اٹھ گئی۔۔۔

یہ سہانا پہلے تو ٹھیک تھی اب اسے کیا ہوا ہے جو روتی رہتی ہے۔۔۔ ماہی کو تجسس ہوا۔۔۔

کسے پسند کرتی ہے یہ ان کا کہیں آنا جانا تو ہے نہیں اور گھر میں بھی شازل اور ارہان کے سوا کوئی نہیں۔۔۔

ارہان کا نام لیتے ہی اس کے دماغ کی بتی جلی اسے شک ہونے لگا کہ کہیں وہ ارہان تو نہیں جسے سہانا پسند کرتی ہے۔۔۔

♥️
♥️
♥️

آفس سے آنے کے بعد رات کے وقت ولید ارہان کا حال دریافت کرنے کے لیے اس کے کمرے میں آیا تھا۔۔۔

کیسے ہو ارہان کیسا محسوس کر رہے ہو اب۔۔۔

بہتر ہوں بھائی جلد ٹھیک ہو جاؤں گا۔۔۔ ارہان نے مسکرا کر جواب دیا۔۔۔

جی بھائی آپ نے بلایا۔۔۔ سہانا کمرے میں داخل ہوئی تو ارہان کی طرف دیکھے بغیر ولید سے مخاطب ہوئی۔۔۔

ہاں ادھر آکر بیٹھو۔۔۔ ولید کے کہنے پر وہ اس نے ساتھ صوفے پہ جا کر بیٹھ گئی تبھی کمرے میں شازل داخل ہوا ماہی اور ارہان سب گھر والوں کو اچانک اکٹھا دیکھ کر حیران ہوئی۔۔۔۔

جی بھائی۔۔۔ شازل بھی ولید سے مخاطب ہوا

مجھے تم سب کی موجودگی میں ایک فیصلہ کرنا ہے۔۔۔

ولید کی بات پر ماہی نے آنکھیں پھیلائیں کہیں وہ اس کی اور ارہان کی علیحدگی کی بات نا کرنے والا ہو جبکہ ارہان نے تجسس سے ولید کو دیکھا۔۔۔

جی بھائی کیا بات کریں آپ۔۔۔ شازل نے سنجیدگی سے جواب دیا۔۔۔

اس جمعے کو میں سہانا اور شازل کا نکاح کرنا چاہتا ہوں۔۔۔ ولید کی بات نے جیسے سہانا کے سر پر بمب پھوڑا تھا اور شازل کو تو یقین ہی نہیں ہو رہا تھا برسوں سے اس کے دل میں چھپی خواہش کی تکمیل کا وقت آگیا تھا۔۔۔

ماہی نے سکھ کا سانس لیا کہ اب اس کا ارہان ہر قسم کے شر سے محفوظ رہے گا اور ارہان بھی اس فیصلے پر راضی تھا۔۔۔

سہانا تمہیں میں نے بھائی سے زیادہ باپ کا پیار دیا ہے مجھے امید ہے تم میرے فیصلے سے کبھی نہ خوش نہیں ہو گی۔۔۔ ولید اس کے سر پر ہاتھ رکھتا ہوا بولا اس رات جب وہ شازل کے سینے سے لگی اپنا دل ہلکا کر رہی تھی اس رات وہ ایک نہیں دو باتوں سے واقف ہو گیا تھا جن سے وہ آج تک انجان رہا تھا۔۔۔

پہلی یہ کہ سہانا ارہان کو پسند کرتی تھی لیکن اس کا حل اب نہیں نکالا جا سکتا تھا ارہان اور ماہی کا نکاح ہو گیا تھا تب بہت دیر ہو گئی تھی ورنہ ولید اپنے بہن کی خوشی کبھی یوں روندنے نہ دیتا۔۔۔

دوسری بات یہ کہ شازل کی آنکھ سے نکلنے والے آنسو سے وہ جان گیا تھا شازل اسے چاہتا ہے اور جب سے ارہان کا نکاح ہوا تھا اس نے سہانا کی سرخ آنکھوں کو کبھی نظر انداز نہیں کیا تبھی اس نے آج شازل کے ساتھ اس کے نکاح کا فیصلہ کیا تا کہ شازل کی محبت اسے سمبھال سکے اس کے سارے دکھ درد میں اس کا ہمدرد بن سکے اور یہ شازل کے سوا اور کوئی نہیں کر سکتا تھا ولید یہ بات اچھے سے جانتا تھا۔۔۔

کیا تمہیں میرا یہ فیصلہ منظور ہے۔۔۔ ولید نے سہانا کی طرف دیکھتے ہوئے پوچھا تو وہ آنسوؤں پہ بندھ باندھتی ہوئی اثبات میں سر ہلا گئی جبکہ اس کے دل میں ایک طوفان اٹھ رہا تھا لیکن بڑے بھائی کا مان رکھنا وہ بہن جانتی تھی۔۔۔

شازل سے ولید نے پوچھا نہیں تھا اس کی خواہش تو وہ پہلے جان چکا تھا۔۔۔

میں تم دونوں کا نکاح سادگی سے کرنا ہوں ابھی کوئی بھی ریسیپشن ہمارے لیے خطرے کا باعث ہو سکتی ہے مقصد پورا ہونے کے بعد تم دونوں کی کے لیے ایک ریسیپشن رکھیں گے۔۔۔

ٹھیک ہے بھائی جیسے آپ کہیں۔۔۔ شازل کا دل جھوم اٹھا تھا لیکن اپنی خوشی پر وہ اس وقت قابو پائے ہوئے تھا۔۔۔

سہانا آجاؤ کھانا لگاو میں فریش ہو لوں اتنی دیر میں۔۔۔

ولید نشست چھوڑتا ہوا کھڑا ہوا۔۔۔

ج۔۔جی بھائی۔۔۔ سہانا سر جھکائے کمرے سے نکل گئی۔۔۔

♥️
♥️
♥️

رائمہ جانتی تھی عباد ماہی کا ہے اور اسی کا رہے گا لیکن جب سے اس نے علیحدگی کی بات کی تھی تب سے اس کے دل پر بوجھ بڑھ گیا تھا چہرہ کچھ منٹوں میں ہی اتر گیا تھا نہ ہی اس کا دل ٹی۔وی دیکھنے کو تھا نہ ہی یہ نیا مہنگا موبائل استعمال کرنے کو تھا۔۔۔

وہ صبح کا گیا ابھی تک گھر نہیں آیا تھا وہ چاہتے ہوئے بھی اسے کال نہیں کر پائی تھی وہ اس اکیلے گھر میں ڈر رہی تھی۔۔۔

رات کے دس بج رہے تھے اور وہ ابھی تک گھر نہیں آیا تھا نہ ہی اس کے آنے کی کوئی خبر تھی رات کا کھانا اس نے بنا کر رکھ دیا تھا تا کہ عباد کے آنے پر اسے دے سکے لیکن خود کی تو بھوک مر گئی تھی نوالا حلق سے اترنے سے انکاری تھا۔۔۔

یہ گھر بھی کچھ آبادی سے دور تھا اور اتنے سالوں سے بند پڑا تھا رائمہ نے تو پہلے ہی سن رکھا تھا کہ اتنے سالوں سے بند پڑے گھر میں جنات رہائش کر لیتے ہیں اس وجہ سے وہ مزید خوفزدہ ہو رہی تھی۔۔۔

وہ انگلیاں چٹختی ہوئی اپنے کمرے میں چکر کاٹ رہی تھی جب گھر میں ایک دم سے اندھیرا چھا گیا شاید الیکٹریسٹی چلی گئی تھی رائمہ کا دل منہ میں آنے کو تھا وہ جو پہلے ہی ڈر رہی تھی اس پورے گھر میں اکیلے ہونے پر جب الیکٹریسٹی گئی تو اس کا وجود کانپ کر رہ گیا تھا۔۔۔

وہ اندھیرے میں دروازہ کھولتے ہوئے باہر کی طرف بھاگی جب برے طرح کاوچ سے ٹکرائی اس کے منہ سے بے ساختہ چینخ نکل گئی تھی۔۔۔

رائمہ۔۔۔ عباد کی آواز جیسے ہی اس کی سماعت میں پڑی اس نے دیکھا کہ عباد ہاتھ میں موبائل کی ٹارچ آن کیے ہوئے تھا وہ بھاگتی ہوئی اس کے سینے سے لگ کے رونے لگی۔۔۔

عباد جو ابھی اسے دیکھ ہی رہا تھا اس خلافِ توقع عمل پر وہ منجمد ہو گیا وہ شدت سے اس کے سینے میں منہ چھپائے رو رہی تھی جب عباد نے ہمت کرتے ہوئے اپنا ہاتھ بڑھایا۔۔۔

رائمہ کیا ہوا۔۔۔ اس نے کندھے سے پکڑ کر رائمہ کو دور کرنا چاہا رائمہ جیسے ہی اس سے الگ ہوئی تو الیکٹریسٹی آگئی تھی وہ خود کو یوں عباد کے قریب دیکھ کر جی بھر کر شرمندہ ہوئی۔۔۔

و۔۔وہ میں بہت ڈر گئی تھی۔۔۔ اس نے نظریں جھکائے شرمندگی سے کہا۔۔۔

سوری مجھے آنے میں لیٹ ہو گئی تم مجھے کال کر کے بتا دیتی کہ تمہیں ڈر لگ رہا ہے میں جلدی آجاتا۔۔۔

اس کی بات وہ رائمہ نے خاموشی سے سر جھکایا۔۔۔

اور موبائل کہاں ہے تمہارا لائٹ گئی تھی تو ٹارچ آن کر لیتی۔۔۔

و۔۔وہ کمرے میں رہ گیا۔۔۔

پاگل ہو تم بھی ڈرنے کی کیا ضرورت ہے دن کے وقت جب بھوت کچھ نہیں کہتے تو رات کے وقت کیوں کچھ کہیں گے۔۔۔

وہ کوٹ اتارتے ہوئے صوفے پر بیٹھا۔۔۔

ک۔۔کیا بھ۔۔بھوت۔۔۔ رائمہ خشک حلق تر کرتے ہوئے بمشکل بولی۔۔۔

اس کے ردعمل پر وہ بے ساختہ مسکرا دیا۔۔۔

مذاق کر رہا ہوں کچھ نہیں ہے یہاں بس دماغ کا فتور ہوتا ہے۔۔۔ رائمہ نے اس کی بات پر سکھ کا سانس لیا۔۔۔

کھانا لگاؤں آپ کے لیے۔۔۔

رائمہ کی آواز پر عباد نے ایک نظر اسے دیکھا رائمہ کو لگا وہ انکار کر دے گا لیکن اگلے لمحے وہ بولا۔۔۔

لگا دو۔۔۔

رائمہ اثبات میں سر ہلاتی کچن کی طرف بڑھی کچھ دیر میں عباد آکر جرسی کھینچتے ہوئے بیٹھا۔۔۔

تم نے کھا لیا۔۔۔ اس نے پانی کا گھونٹ بھرتے ہوئے پوچھا۔۔۔

نہیں۔۔۔ مجھے بھوک نہیں ہے۔۔۔

کھا لو ورنہ کمزور پڑ جاؤ گی۔۔۔ وہ کہتا ہوا کھانا کھانے لگا رائمہ نے ایک نظر اسے دیکھنے کے بعد پلیٹ میں بریانی ڈالی اب وہ بھی اس کے ساتھ کھا رہی تھی۔۔۔

میں نے صبح بھی کہا تھا کھانا کھا لیا کرو میرا انتظار نہ کیا کرو میں کھانا کھا کر آیا تھا لیکن جانتا تھا تم نے نہیں کھایا ہو گا تبھی تمہیں کھانا لگانے کو کہا۔۔۔ آدھی پلیٹ ختم کرنے کے بعد وہ رائمہ سے مخاطب ہوا وہ ابھی بھی بے دلی سے کھا رہی تھی۔۔۔

رائمہ نے چمچ پلیٹ میں رکھ کر عباد کی طرف دیکھا۔۔۔

رائمہ انسان اگر کتے کو بھی اپنے گھر رکھ لیں تو اس کی عادت ہو جاتی ہے ہم تو پھر انسان ہوں میں نہیں چاہتا تمہیں میری عادت پڑ جائے۔۔۔

وہ کرسی پیچھے کھینچتے ہوئے اٹھا اور سنجیدگی بولا۔۔۔

آئندہ میں۔۔کھانا وقت پر کھا لوں گی۔۔۔ وہ نظریں جھکائے ٹیبل کو ناخن سے کرید رہی تھی عباد نے ایک نظر اس کے ہاتھ کو دیکھا۔۔۔

اور میں تمہیں بتانا بھول گیا تمہارے لیے کچھ شاپنگ کی ہے میں نے گاڑی میں بیگز ہیں وہ نکال لینا۔۔۔۔

وہ اپنے کمرے کی طرف بڑھ گیا تھا جبکہ رائمہ اس کی پشت کو دیکھتے ہوئے یہ سوچ رہی تھی جب وہ خود اس کا اتنا خیال رکھ رہا تھا اس کے بنا کہے اس کی ضرورت کا ہر سامان لا رہا تھا تو کیا وہ اس کے لیے کھانا بھی نہیں بنا سکتی تھی۔۔۔۔

برتن سمیٹنے کے بعد مردہ قدموں سے اس نے اپنے کمرے کا رخ کیا کمرے میں آتے ہی وہ بستر پر ڈھے گئی تھی دماغ الجھ کر رہ گیا تھا دل بے حد بے چین تھا۔۔۔

رات کے تین بجے کھڑکی پر ہونے والی آواز سے رائمہ کی آنکھ کھلی وہ چونک کر اٹھی لیمپ کی طرف ہاتھ بڑھایا تو وہ آن نہیں ہو رہا تھا اس نے تکیہ ٹٹولتے ہوئے موبائل کی ٹارچ آن کر کے کھڑکی کی طرف دیکھا وہاں کوئی نہیں تھا لیکن جو شور ہوا تھا اس سے وہ بہت خوفزدہ ہو گئی تھی اس نے پھرسے لیمپ آن کرنے کی کوشش کی تو پھر ناکام رہی جیسے ہی اسے معلوم ہوا کہ یہاں کی الیکٹریسٹی پھر سے چلی گئی ہے وہ بھاگتی ہوئی کمرے سے باہر نکلی۔۔۔

عباد۔۔۔ وہ عباد کے کمرے کا دروازہ کھٹکھٹانے لگی تھی۔۔۔

عباد اس کی آواز پر گہری نیند سے جاگا اس نے لائٹ آن کرنی چاہی تو معلوم ہوا الیکٹریسٹی نہیں ہے پھر دروازہ کھول کر گھبرائی ہوئی رائمہ کی طرف دیکھا۔۔۔

کیا ہوا اتنی گھبرائی ہوئی کیوں ہو۔۔۔ اس نے آنکھیں مسلتے ہوئے پوچھا۔۔۔

و۔۔وہ میرے کمرے کی کھڑکی پہ کچھ آواز آئی تھی۔۔۔ وہ ڈرتے ہوئے اسے بتانے لگی۔۔۔

آواز لیکن کیسی آواز۔۔۔

پتہ نہیں مجھے بہت ڈر لگ رہا ہے۔۔۔

ڈرنے کی کونسی بات ہے تم اب اکیلی تو نہیں ہو چلو میں دیکھتا ہوں۔۔۔

وہ اس کے ساتھ اس کے کمرے میں آیا کھڑکی کھول کر دیکھا تو کوئی نہیں تھا۔۔۔

کوئی نہیں ہے باہر ایسے ہی ڈر رہی ہو تم ہوا سے کھڑکی ہلی ہو گی۔۔۔ عباد اسے سمجھانے والے انداز میں بولا۔۔۔

ل۔۔لیکن مجھے ڈر لگ رہا ہے۔۔۔

اپنے گھر تم اکیلی نہیں سوتی تھی کیا۔۔۔

اکیلی سوتی تھی لیکن جب بھی ڈر لگتا تھا امی میرے ساتھ سوتی تھیں۔۔۔ وہ پریشانی سے اسے اپنے مسئلے کا حل بتانے لگی جبکہ عباد اسے دیکھنے لگا کہ اب اسے کیا کرنا ہے کیا وہ رائمہ کے ساتھ سوئے گا تو اس کا ڈر ختم ہو گا۔۔۔؟؟؟

سوری میں نے آپ کی نیند خراب کر دی۔۔۔ رائمہ نے عباد کو اپنی طرف یوں دیکھتے پایا تو شرمندگی سے بولی۔۔۔

نہیں کوئی بات نہیں تم سو جاؤ میں نے نیند پوری کر لی ہے میں ویسے بیٹھ جاتا ہوں یہاں۔۔۔

ل۔۔لیکن آپ کیسے۔۔۔

میں نے کہا نا میں سو چکا ہوں تم سو جاؤ میں چیئر پہ بیٹھ جاتا ہوں۔۔۔

رائمہ خاموشی سے بستر پر لیٹ گئی اور عباد کرسی پر بیٹھ گیا اس گھر میں صرف ایک ہی صوفہ سیٹ تھا اور وہ لاؤنچ میں پڑا تھا کمروں میں موجود فرنیچر میں صوفہ سیٹ نہیں تھا۔۔۔

اسے بیٹھے سبھی پندرہ منٹ ہی ہوئی تھے کہ اچانک پورا کمرہ روشنی سے جگمگا گیا رائمہ نے لیمپ کا بٹن چھوڑا ہوا تھا اور اب الیکٹریسٹی آنے پر لیمپ آن ہو گیا تھا۔۔۔

عباد کی نظر اچانک رائمہ پر پڑی جو کندھوں تک کمفرٹر اوڑھے سکون کی نیند سو رہی تھی وہ لیمپ آف کرنے کے لیے آگے بڑھا جب اس کی نظر رائمہ کے چہرے پہ لپٹی اس کے بالوں کی لٹ پر پڑی بے ساختہ اس کا ہاتھ آگے بڑھا اور اس نے لٹ کو کان کے پیچھے کر دیا رائمہ کا معصوم اور بھولا سا چہرہ وہ بہت غور سے دیکھ رہا تھا۔۔۔

وہ ہلکا سا کھسمسائی کہ اس نے تیزی سے لیمپ آف کیا اور پھر سے کرسی پر آبیٹھا وہ اپنی اس حرکت پر شرمندہ سا ہو گیا تھا اگر رائمہ جاگ جاتی تو اسے کیا جواب دیتا یہ سوچتے ہوئے اس نے شکر ادا کیا کہ وہ وقت پر پیچھے ہٹ گیا۔۔۔

کچھ دیر یوں ہی بیٹھے رہنے کے بعد اسے جب احساس ہوا کہ وہ گہری نیند سو چکی ہے اسے اب خود بھی نیند آرہی تھی اور کرسی پہ بیٹھ کر وہ تھک بھی گیا تھا وہ چپکے سے اٹھتا ہوا اس کے کمرے سے باہر نکل گیا۔۔

Leave a Reply

Your email address will not be published. Required fields are marked *